کنگرو

ماہرین نے کنگروکے ڈیڑھ کروڑ سال پرانے آثار دریافت کئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اُس زمانہ کا کنگرو آجکل کے خرگوش کی طرح چھوٹا سا ہوتا تھا لیکن اس میں کنگرو کی تمام خصوصیات موجود تھیں۔ اگرچہ دنیا کے بہت سے لوگوں کو اس جانور کے بارہ میں اس وقت معلوم ہوا جب مشہور جہاز ران کپتان جیمزکک نے 1770ء میں اپنی رپورٹ میں اس کا ذکر کیا۔
کنگرو آسٹریلیا اور نیو گنی میں پائے جاتے ہیں اور اس کی تقریباً 60؍اقسام ہیں۔
ماہرین صرف بڑے کنگرو کو ہی ’’کنگرو‘‘ کہتے ہیں جبکہ ایسے کنگرو کو جس کی پچھلی ٹانگوں کی لمبائی دس انچ سے کم ہوتی ہے، اسے ’’ولابی‘‘ کہتے ہیں۔ صرف بڑے کنگرو ہی چھلانگیں مارتے ہیں جب کہ چھوٹی نسل کا کنگرو تو اپنی دو ٹانگوں پر اچھل بھی نہیں سکتا۔
درختوں پر بسیرا کرنے والے کنگروؤں کی بعض اقسام تو اپنی اچھل کود کی عادت ہی بھول چکے ہیں۔ البتہ وہ اونچائی سے چھلانگ لگا سکتے ہیں۔
کنگرو عام طور پر رات کو کھانا پسند کرتا ہے۔ دن بھر آرام سے پڑا سوتا ہے یا ادھر ادھر گھومتا پھرتا ہے۔ پانی کے بغیر بھی لمبے عرصہ تک زندہ رہ سکتا ہے اور اگر پانی مل جائے تو خوب پیتا ہے۔ خیال ہے کہ یہ ریگستانی علاقہ کا جانور ہے۔ خوب پیٹ بھر کر جگالی بھی کرتا ہے۔
کنگرو کا سب سے بڑا دشمن ایک جنگلی قسم کا کتا ’’ڈنگو‘‘ ہے۔
کنگرو کا بچہ پیدائش کے وقت ایک اونس کا صرف 35واں حصہ ہوتا ہے۔ یعنی ایک گرام کے قریب۔ 8ماہ بعد اس کا وزن 10؍پونڈ ہو جاتا ہے اور پھر یہ مستقل طور پر ماں کی تھیلی سے باہر نکل آتا ہے اور بھاگنے دوڑنے لگتا ہے لیکن مزید 6ماہ تک ماں کا دودھ ہی پیتا ہے۔
یہ مضمون مکرمہ عفت مسعود صاحبہ کے قلم سے ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ اکتوبر 1996ء میں شامل اشاعت ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/evTYM]

اپنا تبصرہ بھیجیں