مکرم ڈاکٹر چوہدری محمد نواز صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 6؍نومبر 2008ء میں مکرمہ ث۔ حمید صاحبہ اپنے والد محترم ڈاکٹر چوہدری محمد نواز صاحب سابق امیر ضلع اوکاڑہ کا ذکرخیر کرتی ہیں جو 27 مئی2008 ء کو لندن میں وفات پاگئے۔
محترم ڈاکٹر نواز صاحب 1936ء میں محترم چوہدری بشیر احمد بھُلر صاحب (حوالدار پولیس) کے گھر موضع للیانی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا محترم چوہدری صمند خان صاحب للیانی کے ایک رئیس اور گاؤں کی پنچائت کے ممبر تھے۔وہ اپنی شرافت، دیانتداری اور لیاقت کی وجہ سے علاقہ میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ پاکستان بننے کے وقت اُن کو ایک بھاری خزانہ ملا جسے انہوں نے حکومت پاکستان کے حوالہ کر دیا۔
محترم ڈاکٹر نواز صاحب چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ ابتدائی تعلیم للیانی میں حاصل کی اور F.A. کرنے کے بعد ڈسپنسر کا امتحان پاس کیا اور بطور ڈسپنسر قصور کے مختلف دیہات میں سرکاری ملازم رہے۔ آپ کو دین سے لگائو اور مطالعہ کا شوق تھا ۔ اکثر کوئی نہ کوئی کتاب آپ کے زیر مطالعہ رہتی تھی۔جب آپ بطور ڈسپنسر فتح پور نزد قصور میں ملازم تھے تو محترم چو ہدری حبیب اللہ صاحب سیال شہید اور چوہدری امان اللہ سیال صاحب کے ذریعہ آپ کو جماعت کا تعارف ہوا۔ آپ نے جماعتی لڑیچر کا مطالعہ شروع کر دیا اور دونوں بزرگوں سے گفت و شنید بھی جاری رہتی۔ حضرت مسیح موعودؑ کی کتابیں پڑھ کر یہ فیصلہ تو ہوگیا کہ یہ الفاظ کسی جھوٹے کے نہیں ہو سکتے لیکن دوسری طرف مخالفین کی باتیں بھی ذہن میں آتیں۔ چنانچہ آپ نے دعا شروع کر دی۔ ایک روز خواب دیکھ کر تمام شکوک دُور ہوگئے اور آپ نے بیعت کرلی۔ جب خاندان والوں کو یہ معلوم ہوا تو مخالفت کا ایک طوفان کھڑا ہوگیا اور آپ کا مکمل بائیکاٹ کر دیا گیا۔ ملازمت میں بھی تنگیاں پیدا کی گئیں چنانچہ آپ نے استعفیٰ دیدیا لیکن احمدیت پر ثابت قدم رہے۔
پھر مخالفت کے باوجود آپ نے خاندان میں تبلیغ شروع کردی۔ پہلے آپ کے مخالف چچا چوہدری محمد صدیق صاحب نے آپ کی تبلیغ کے نتیجہ میں دعا کی اور ایک خواب دیکھ کر احمدیت قبول کرلی۔ کچھ عرصہ بعد آپ کی ایک بہن آپ کے ہاں آئیں تو ایک رسالہ پر حضرت مسیح موعودؑ کی تصویر دیکھ کر بتایا کہ یہ بزرگ تو میں نے خواب میں دیکھے ہیں کہ یہ امام مہدی ہیں۔ اس طرح وہ بھی احمدیت کی آغوش میں آگئیں۔
1971ء میں آپ موضع حویلی لکھاضلع اوکاڑہ میں شفٹ ہو گئے اوروہاں بحیثیت صدر جماعت خدمات بجالائے۔ پھر نائب امیر ضلع اوکاڑہ اور 1984ء میں امیر ضلع اوکاڑہ منتخب ہوئے۔ 1984ء کے نازک حالات میں غیرمعمولی خدمت بجالانے کی توفیق پائی۔ اوکاڑہ میں کئی احمدی اسیرراہ مولیٰ رہے۔ آپ اُن کو حوصلہ دیتے اور جماعتی ترقی کے اقدامات کرتے۔ 1987ء میں آپ کو جلسہ سالانہ انگلستان میں شمولیت کی توفیق بھی ملی۔
جلسہ سالانہ پر پابندی کے نتیجہ میں مرکزی فیصلہ کے مطابق آپ کے دور امارت میں 1986ء میں ضلع اوکاڑہ کا پہلا دو روزہ جلسہ موضع سنتوکھ داس میں منعقد ہوا جس میں 75 مردوخواتین شریک ہوئے۔ شروع میں آپ اپنی جیب سے ہی ان جلسوں کا انتظام کرتے رہے اور پھر باقاعدہ جماعتی طور پر بجٹ مہیا ہوگیا اور یہ کامیاب جلسے بڑی شان سے منعقد ہوتے رہے۔ 1998ء میں اس جلسہ پر بھی پابندی لگا ئی گئی۔ اُس وقت جلسہ کی حاضری 1100 سے زائد ہو چکی تھی۔
محترم ڈاکٹر صاحب بڑی پُراثر تقریر کیا کرتے تھے۔ جب آپ امیر ضلع تھے تو مرکزی ہدایت پر دیگر اضلاع میں جا کر بھی تربیتی پروگرام کرتے۔ پھر آپ نے حویلی لکھا میں اپنی ڈسپنسری کھول لی۔ یہاں آپ اکیلے احمدی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ میں غیرمعمولی شفا رکھی تھی اور لوگ دُور دُور سے علاج کے لئے آیا کرتے تھے۔ آپ خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار تھے۔ اگر کوئی مریض رات نماز عشاء کے بعد آتا تو اس سے فیس نہیں لیتے تھے۔ اسی طرح مریض سے ایک دفعہ ہی فیس لیتے تو جب تک وہ شفا نہیں پا جاتا تھا اس وقت تک اس کا علاج جاری رکھتے۔ آپ کی دلی خواہش تھی کہ حویلی لکھا میں احمدیہ مسجد بھی بن جائے۔ چنانچہ اس کے لئے آپ نے ایک پلاٹ بھی خریدا ۔
1999ء میں آپ نے موضع حویلی لکھا کے وسط میں ایک پلاٹ خریدا تاکہ وہاں پہ ذاتی مکان کو مزید وسیع کیا جائے اور اس سے جماعتی ضروریات بھی پوری ہوسکیں۔ جب مکان کی تعمیر شروع ہوئی تو مخالفین نے فساد برپا کردیا اور جلوس نے نیا تعمیر شدہ رہائشی مکان اور ڈسپنسری لُوٹ کر نذر آتش کردی۔ آپ نے فساد کے اندیشہ سے گھر کی خواتین کو پہلے ہی باہر بھجوادیا تھا۔ فسادی آئے تو آپ کو اپنے بیٹوں کے ساتھ دیوار پھلانگ کر ہمسایہ کے ہاں پناہ لینا پڑی۔ اس موقعے پر آپ نے نہایت صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کیا اور اپنے دونوں نوجوان بیٹوں کو نصیحت کی کہ اگر تمہارے سامنے میری یا میرے سامنے تمہاری جان لیں تو شیروں کی طرح حوصلہ دکھاتے ہوئے جان دینی ہے۔
فساد کی شام مجسٹریٹ آیا اور اُلٹا آپ اور آپ کے بیٹوں پر نقض امن کا مقدمہ بناکر انہیں گرفتار کرلیا۔ رات حوالات میں گزاری اور اگلے دن ساہیوال جیل بھیج دیا گیا جہاں انہیں خطرناک مجرموں والی قصوری چکی سات نمبر بلاک میں قید کر دیا گیا۔ یہ جیل کے اندر جیل ہوتی ہے۔ تین دن وہاں رہنے کے بعد نسبتاً اچھی جگہ پر اور پھر Bکلاس میں قید کر دیا گیا۔ اسیری کے دوران افراد جماعت نے بہت خدمت کی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور حضورؒ کی دعاؤں سے آٹھ دن بعد ضمانت پر رہائی ہوئی۔ چونکہ گھر جل چکا تھا اس لئے اہل خانہ مختلف رشتہ داروں کے پاس رہائش پذیر رہے اور پھر 2003ء میں کوارٹر بیوت الحمد میں رہائش اختیار کرلی۔ ستمبر 2004ء میں آپ اپنی فیملی کے چند افراد کے ساتھ انگلستان آگئے۔ یہاں لندن میں دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں ڈاک کے شعبہ میں تا دمِ آخر خدمت سرانجام دیتے رہے۔
محترم ڈاکٹر صاحب کو خلافت احمدیہ سے عشق کی حد تک پیار تھا۔ حضور انور کی دعاؤں سے ہر کام غیرمعمولی طور پر جلد اور بخیریت ہوتا چلا گیا۔ ایک بار ایسے بیمار ہوئے کہ ہسپتال میں داخل ہوگئے لیکن ڈاکٹروں کو بیماری کی کچھ سمجھ نہ آتی تھی۔ حضور انور نے دعا بھی کی اور ہومیو پیتھی کی ایک دوائی بھجوائی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے صحت عطا فرمادی۔ کچھ عرصہ بعد دوبارہ بیمار ہوئے اور آخر 27مئی کی صبح وفات پائی۔ حضور انور ایدہ اللہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ جسد خاکی ربوہ لایا گیا اور بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/nSh7O]

اپنا تبصرہ بھیجیں