مکرم شیخ مبارک احمد صاحب

مکرم شیخ مبارک احمد صاحب 10؍اکتوبر 1910ء کو شجاع آباد ضلع ملتان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد حضرت شیخ محمد دین صاحبؓ پٹواری نے 1905ء میں اپنے خاندان میں سب سے پہلے بیعت کی سعادت پائی تھی لیکن کسی نے مخالفت نہیں کی بلکہ پہلے سے بڑھ کر احترام کیا۔ 1918ء میں وہ ہجرت کرکے قادیان آگئے جہاں مکرم شیخ صاحب کو چوتھی جماعت پاس کرواکے مدرسہ احمدیہ میں داخل کروادیا گیا۔ مدرسہ احمدیہ پاس کرنے کے بعد مکرم شیخ صاحب نے جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کی اور مولوی فاضل بھی کیا اور اپنی زندگی خود وقف کردی۔
1933ء میں بطور مربّی مکرم شیخ صاحب کا تقرر لدھیانہ میں ہوا۔ نومبر 1934ء میں آپ کو مشرقی افریقہ بھجوایا گیا جہاں 28 سال تک خدمت کی توفیق پائی اور اس دوران سات مساجد تعمیر کروائیں اور قرآن کریم اور کئی دیگر متعدد کتب کا سواحیلی زبان میں ترجمہ کیا۔ 1962ء سے 1979ء تک آپ ربوہ میں رہے اور اس دوران نائب ناظر اصلاح و ارشاد، سیکرٹری حدیقۃالمبشرین، سیکرٹری فضل عمر فاؤنڈیشن نیز افتاء، قضاء، صد سالہ جوبلی اور گندم کمیٹیوں کے رُکن رہے۔ سترہ سال تک جامعہ احمدیہ کے ممتحن بھی رہے۔ نومبر 1989ء میں آپ کا تقرر امریکہ میں ہوا جہاں آپ کی امارت میں گیارہ مشن ہاؤسز قائم ہوئے اورجماعت امریکہ کے چندوں میں آٹھ گُنا سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔ باقاعدہ ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی آپ نے خدمت جاری رکھی اور احادیث کی کتاب ’’ریاض الصالحین‘‘ کا سواحیلی زبان میں ترجمہ کیا۔
ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ جون 1998ء میں شامل اشاعت مکرم شیخ صاحب کا انٹرویو مکرم ناصر فاروق سندھو و مکرم انیس احمد ندیم صاحبان نے قلمبند کیا ہے۔
۔…٭…٭…٭…۔
روزنامہ ’’الفضل‘‘ کے پوسٹل انٹرویوز کے سلسلہ میں مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب سابق امیر و مشنری انچارچ امریکہ کا انٹرویو 15؍دسمبر 1997ء میں شامل اشاعت ہے۔
مکرم شیخ صاحب اپنی ریٹائرمنٹ (مئی 1991ء) کے بعد سے جماعت احمدیہ امریکہ کے سیکرٹری مساجد فنڈ، افریقہ فنڈ و انڈیا فنڈ کے طور پر خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ مسجد بیت الرحمٰن واشنگٹن کی تعمیر کے لئے فنڈز اکٹھے کرنے کی خاص توفیق بھی آپ نے پائی۔ نیز ریٹائرمنٹ کے بعد کئی اہم کتب کا سواحیلی ترجمہ کرنے کی سعادت بھی آپ نے پائی جس میں حدیث کی مشہور کتاب ’’ریاض الصالحین‘‘ از حضرت امام نووی بھی شامل ہے جو سواحیلی میں ترجمہ ہونے والی حدیث کی پہلی کتاب ہے۔ دیگر تصانیف کے علاوہ آپ کو مشہور محقق اور مستشرق ٹائن بی کی تیرہ جلدوں پر مشتمل کتاب A Study of History میں اسلام پر کی جانے والی تنقید کا مدلل تاریخی حقائق کی روشنی میں جواب لکھنے کی بھی توفیق ملی ہے۔نیز اخبارات و رسائل کیلئے بھی آپ نے بے شمار مضامین لکھے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/LaWeD]

اپنا تبصرہ بھیجیں