محترم مولانا محمد ابراہیم بھامبڑی صاحب

محترم مولانا محمد ابراہیم صاحب بھامبڑی کا ایک انٹرویو مکرم غلام مصطفی صاحب کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23 و 24؍جولائی 1997ء میں شاملِ اشاعت ہے۔
آپ جون 1914ء میں بھامبڑی گاؤں میں پیدا ہوئے جو قادیان سے 5 میل کے فاصلہ پر تھا۔ آپ کے والد محترم چودھری عبدالکریم صاحب بھامبڑی کے زمیندار تھے اور اپنی زمین ٹھیکہ پر دیا کرتے تھے۔ 1917ء میں ان کی بینائی بہت کمزور ہوگئی اور وہ آپریشن کروانے کے لئے نور ہسپتال قادیان میں داخل ہوئے۔ وہاں پر ہی احمدیت کے بارے میں تحقیق کا موقعہ ملا اور 1918ء میں انہوں نے احمدیت قبول کرنے کی سعادت حاصل کی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ قادیان میں مجھے جسمانی اور روحانی دونوں قسم کا نور ملا ہے۔ چونکہ گاؤں میں اثر و رسوخ والے تھے اس لئے مخالفت میں تشدد نہیں ہوا۔ 1931ء میں ان کا انتقال ہوا۔
محترم مولانا صاحب 1926ء میں مدرسہ احمدیہ قادیان میں داخل ہوئے۔ 7 سال مدرسہ احمدیہ اور 2 سال جامعہ احمدیہ میں زیر تعلیم رہے۔ اپنے بعض اساتذہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے بتایا کہ’’ حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ بڑی سادہ مگر پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ جو اچکن وہ پہنے ہوئے ہیں کندھے کے قریب ایک پیوند کا رنگ اچکن کے رنگ سے مختلف تھا۔ … ایک بار بیماری میں ڈاکٹر نے مجھے دس روز کیلئے بکری کا شوربہ تجویز کیا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے حضرت میر صاحبؓ جو ناظر ضیافت تھے، کو بتایا تو آپؓ نے فوراً متعلقہ آدمی کو بلاکر ہدایت کی اور فرمایا کہ اگر ابراہیم وقت پر حاضر نہ ہوسکے تو اس کے لئے بکری کا شوربہ رکھ لیا کرو‘‘۔
جامعہ احمدیہ میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد آپ نے کچھ عرصہ زمینداری کا کام سیکھا اور پھر حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کی بطور PA خدمت کی سعادت 1941ء سے 1944ء تک حاصل ہوئی۔ حضرت میاں صاحبؓ کی مہربان شخصیت سے آپ نے بہت کچھ سیکھا۔ جب کبھی میاں صاحبؓ نیا پین استعمال فرماتے تو سب سے پہلے ’’ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‘‘ لکھا کرتے۔
محترم مولانا صاحب نے حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری ؓ کے حوالے سے یہ ایمان افروز واقعہ سنایا کہ لمبے عرصے تک اولاد سے محرومی کے بعد ایک دن انکی اہلیہ حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور دعا کیلئے عرض کیا۔ حضورؑ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا اللہ فضل کرے گا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مولوی قدرت اللہ سنوری صاحبؓ کو چودہ بچے عطا فرمائے۔
1944ء میں محترم بھامبڑی صاحب کی دفتر مال میں تقرری ہوئی اور 1947ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں مدرس مقرر ہوئے۔ ہجرت کے بعد پہلے چنیوٹ اور پھر ربوہ آگئے اور 1974ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ سے ریٹائرڈ ہوئے۔ 1976ء میں آپ انسپکٹر ارشاد وقفِ جدید مقرر ہوئے اور 1995ء تک اس خدمت کی سعادت پائی۔ 1952ء سے آپ دارالنصر غربی الف کے صدر کے طور پر خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔
محترم مولانا صاحب کو مطالعہ کا بے حد شوق ہے اور نہ صرف حضرت مسیح موعودؑ کی تصانیف تین سے زائد بار پڑھی ہیں بلکہ عربی ، فارسی اور اردو کے سینکڑوں اشعار بھی آپ کو ازبر ہیں اور قرآن کریم کے آٹھ نو پارے بھی حفظ ہیں۔ آپ کی ایک نمایاں خاص بات یہ ہے کہ زندگی بھر کبھی دفتر یا سکول دیر سے نہیں پہنچے۔ طفل کی عمر سے پگڑی کا استعمال شروع کیا تھا۔ آپ کے روزانہ کے معمولات میں ایک پارے کی تلاوت، چار پانچ میل کی سیر شامل ہیں۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/lUA5k]

اپنا تبصرہ بھیجیں