محترم فتح محمد صاحب کا قبول احمدیت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10نومبر 2008ء میں مکرمہ ر۔ شکور صاحبہ اپنے دادا محترم فتح محمد صاحب کی قبول احمدیت کی داستان بیان کرتی ہیں۔
محترم فتح محمد صاحب 8جنوری 1993ء کو وفات پاگئے۔ آپ کے دو بیٹے جوانی میں ہی وفات پاگئے تھے اور اس صد مہ نے آپ کو نابینا کردیا تھا۔ پھر بھی آپ ہاتھ سے کما کر کھانے کو ترجیح دیتے تھے۔ ہجرت کرکے پاکستان آئے تو ربوہ کے پاس چھنیاں میں مقیم ہوئے۔ آپ کے قبول احمدیت کا واقعہ یوں ہوا کہ آپ ضلع سرہند کے گاؤں خانپور میں رہتے تھے۔ 15بہن بھائی تھے جو کہ دو ماؤں کی اولاد تھے، بہت سی زمین تھی۔ والد گاؤں کے بڑے چودھری تھے۔ بھائیوں میں آپ کا دوسرا نمبر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فہم و فراست سے بھی نوازا تھا۔ تاہم گاؤں کے واحد احمدی گھرانہ کے بڑے مخالف آپ ہی تھے۔
آپ بیان کرتے ہیں کہ اکثر میرا احمدی بزرگ سے سامنا ہوتا تو مَیں اُنہیں مارتا اور برا بھلا کہتا۔ وہ بے چارہ خاموشی سے آنسو پی کر رہ جاتا۔ رعب ہونے کی وجہ سے کوئی روکتا بھی نہیں تھا۔ ایسا کئی بار ہوا کہ ایک رات مَیں نے خواب دیکھا کہ ایک دریا کے کنارے چلتے چلتے ایک گاؤں میں پہنچا ہوں جہاں ایک گھر میں کولہو لگا ہوا تھا۔ اس کو لہو کے مالک نے دروازہ کے پاس کھڑے ہوکر اس گھر کی چابیاں اصرار کرکے مجھے دیدیں۔ آگے چلا تو شام ہونے کو ہے … میں کبھی اندر دیکھتا ہوں تو کبھی باہر، کہ اتنے میں ایک حضرت باہر آ کر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ لڑکے کیا کام ہے؟ میں عرض کرتا ہوں کہ عصر کی نماز پڑھنی ہے۔ انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا جلدی پڑھ لو، ابھی ٹائم ہے۔ اس کے بعد میں میری آنکھ کھل گئی۔
اگلے روز میں گھر سے نکلا تو احمدی بزرگ مجھے پھر مل گئے۔ اُن کو میں نے دھکا دیا تو انہوں نے اٹھتے ہی میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھ سے اتنی نفرت کی وجہ پوچھی۔ میں نے غصہ سے جواب دیا تم اپنے آپ کو مرزائی جو کہتے ہو۔ وہ بڑے پیار سے بولے کہ کچھ دن کے بعد ہمارے خلیفہ سرہند ریلوے سٹیشن سے گزر رہے ہیں، تم دیکھنا تو سہی کہ آخر اس شخص میں برائی کیا ہے جس کو ہم خلیفہ مانتے ہیں۔ لیکن میں غصہ سے بولا: چل اوئے بڈھے اپناراستہ لے، میں نے نہیں دیکھنا تمہارا خلیفہ۔ یہ کہہ کر میں گھر چلا گیا۔ رات کوجیسے ہی بستر پر لیٹا تو اس بزرگ کی آواز بار بار کانوں میں سنائی دینے لگی کہ تم ایک دفعہ ہمارے خلیفہ کو دیکھ تو لو۔ میں جیسے ہی کروٹ بدلتا تو وہ احمدی بزرگ میرے سامنے آ جاتے۔ ساری رات تقریباً اسی کشمکش میں گزر گئی۔ آخر صبح کی اذان کی آواز جب کانوں میں پڑی تو میں یہ سوچ کے اٹھا کہ دیکھنے میں آخر کیا حرج ہے۔ میں دور کھڑا ہو کر دیکھ لوں گا۔ انہوں نے آخر مجھے کہنا ہی کیا ہے۔
جب دوبارہ وہ احمدی بزرگ مجھے ملے تو میں نے بڑے رعب کے ساتھ کہا کہ کب آ رہا ہے تیرا خلیفہ؟ جب تیرا خلیفہ آئے تو مجھے بھی ذرا لے کر جانا، میں دیکھ تو لوں وہ کیا چیز ہے۔
ایک شام اس احمدی بزرگ نے گھر آکر بتایا کہ کل ہمارے خلیفہ سٹیشن سے گزریں گے۔ میں نے اچھا کہہ کر دروازہ بند کر دیا۔ اور اگلے روز کسی کو بتائے بغیر اُن بزرگ کے ساتھ سٹیشن پر جاکر ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ تھوڑی دیرکے بعد ٹرین آئی تو مخالفین نے سٹیشن پر نہ کھڑی ہونے دی۔ وہاں موجود احمدی لوگوں نے ٹرین کے ساتھ ساتھ بھاگنا شروع کر دیا۔ میں بھی اُن کے ساتھ ساتھ بھاگتا گیا۔ جونہی ٹرین سگنل کراس کرکے آگے رُکی۔ تو میں نے نظر اٹھا کر دیکھا اور میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کہ یہ تووہی شخص تھا جس نے خواب میں آسمان کی طرف دیکھ کر کہا تھا کہ ابھی نماز کا ٹائم ہے جلدی پڑھ لو۔ میں اسی خواب میں کھو گیا اور میرا جسم پسینہ میں شرابو ر ہوگیا۔ میں سوچنے لگا کہ یہ تو ضرور خداتعالیٰ کا نیک بندہ ہے، اس کو ماننے والے کیونکر نیک نہ ہوں گے۔ مجھے رہ رہ کر اپنی زیادیتوں کا احساس ہونے لگا جو میں نے اس بزرگ کے ساتھ کی تھیں۔ اتنے میں ٹرین چلی گئی تو میں احمدی بزرگ کے ساتھ واپس گاؤں آگیا۔ لیکن اب مجھ میں زمین آسمان کا فرق پڑ چکا تھا۔ میں نے اس احمدی بزرگ کو تنگ کرنا چھوڑ دیا بلکہ اس کی بہت عزت کرنا شروع کر دی اور آہستہ آہستہ اس سے قادیان کا پتہ پوچھ لیا۔
ایک دن بغیر بتائے میں قادیان کے لئے چلا۔ سٹیشن پر پہنچ کر پتہ چلا کہ فلاں سٹیشن سے قادیان کی ٹرین ملے گی۔ چنانچہ وہاں پہنچا اور ٹکٹ لینے کے لئے قطار میں لگ گیا۔ جب میں نے قادیان کا ٹکٹ مانگا تو ایک طرف کھڑے تین مولویوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ایک طرف لے کر کہا کہ تم نے قادیان جا کر کیا کرنا ہے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا کہ میں نے قادیان دیکھنا ہے۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود کے متعلق بہت غلط الفاظ استعمال کئے اور کہنے لگے۔ تم واپس گھر جاؤ۔ تمہارا قادیان جانا ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی جیب سے مجھے واپسی کا ٹکٹ لے کر دیا۔ ٹرین آئی تو مجھے اس میں بٹھا دیا اور خود اتنی دیر تک ٹرین سے نہ اترے جب تک ٹرین چل نہ پڑی۔
میرے دل میں قادیان جانے کا اتنا شوق تھا کہ مَیں اگلے سٹیشن پر اترگیا اور قادیان کا ٹکٹ خرید کر وہاں سے ٹرین میں بیٹھا۔ یہ خیال بھی رکھا کہ وہ مولوی کہیں دوبارہ نہ دیکھ لیں۔ آخر قادیان سٹیشن پر اترا تو یہ سمجھ نہ آئے کہ کہاں جاؤں؟ ابھی اسی سوچ میں تھا کہ سٹیشن پر کھڑے خدام مجھے پریشان دیکھ کر میری طر ف آئے اور السلام علیکم کہا۔ میں سلام کا جواب دے کر خاموش ہو گیا۔ انہوں نے پوچھا کیا آپ مہمان ہیں؟ میں دیہاتی اور اَن پڑھ ہونے کی وجہ سے یہ بھی نہ جانتا تھا کہ مہمان کس کو کہتے ہیں۔ میں نے جواب دیا نہیں۔ وہ دوبارہ بولے کہ آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں؟ میں نے کہا سرہند سے۔ پھر وہ بڑی محبت سے مہمان خانہ میں لے گئے اور کہا کہ عصر کی نماز حضرت مصلح موعودؓ پڑھانے آئیں گے تو بعد اس کے آپ کی ملاقات ہو گی۔ اتنے میں، میں نے قادیان کے بہت سے مبارک مقامات کی زیارت کرلی۔ پھر مسجد پہنچ کر نماز عصر ادا کی۔ حضور سے ملاقات ہوئی تو میرا دل پکار پکار کرکہنے لگا کہ فوراً بیعت کر لو۔ یہ جماعت سچی ہے۔ میں نے اس ارادے کا اظہار کیا تو حضورؓ نے جواب دیا: نہیں ، بہتر ہے کہ آپ ابھی ہماری کچھ کتابیں لے جائیں اور پڑھیں اور بعد میں بیعت کرلیں۔ مگر میں اصرار کرتا رہا کہ آج اور ابھی بیعت کروں گا۔ اس طرح میں خداتعالیٰ کو گواہ بنا کر اس جماعت میں داخل ہوگیا۔ دوسرے دن جب میں نے واپسی کی اجازت چاہی تو مجھے کہا گیا کہ کل حضرت مرزا ناصر احمد صاحبؒ کا ولیمہ ہے، آپ بھی لازماً شرکت کریں۔ اس طرح میں ایک دن اَور رُک گیا۔ جب تین دن بعد واپس گھر پہنچا تو والد صاحب نے بڑے غصے سے پوچھا کہ کہاں گئے تھے؟ میں نے بغیر کسی خوف کے سارا واقعہ سنا دیا۔ اس پر والد صاحب کا ڈنڈا اور میرا یہ جسم۔ نہ پوچھئے کہ والد صاحب نے کس طرح میرے پر ظلم ڈھائے۔
میری شادی کو کچھ عرصہ ہی ہوا تھا۔ سسرال والے اپنی بیٹی لینے آ گئے مگر میری بیوی نے اپنے والدین کو کہہ دیا کہ آپ ایک دفعہ مجھے رخصت کر چکے ہیں اب میرے میاں کا مجھ پر زیادہ حق ہے۔ میں انہیں چھوڑ کر آپ کے ساتھ نہ جاؤں گی۔
میری والدہ نے مجھے الگ بٹھا کر سمجھانا چاہا کہ احمدیت نہیں چھوڑنی تو دل میں رکھو مگر اپنے والد کا غصہ دُور کرنے کیلئے صرف ایک دفعہ ایسے ہی کہہ دو کہ میں احمدی نہیں ہوں۔ میں نے صاف انکار کیا تو میری ماں غصہ سے مجھے کوسنے لگی۔ جیسے میں روزانہ اس احمدی بزرگ کی جو گاؤں میں رہتا تھا پٹائی کرتا تھا۔ اب اس طرح میرے والد میری پٹائی کیا کرتے تھے۔ پہلے گھر پر میری حکومت چلتی تھی اب میری حیثیت ایک نوکر کی طرح سی رہ گئی۔ لیکن میں نے احمدیت قبول کرنے کے بعد قرآن سیکھا اور کئی دعائیں سیکھیں خداتعالیٰ نے میرے اندر بہت حلیمی پیدا کر دی۔ کچھ عرصہ کے بعد میری بیوی بھی احمدی ہوگئی۔ پھر پاکستان بن گیا اور ہم سب ہجرت کرکے پاکستان آ گئے۔ جہاں پہلے ہم گوجرانوالہ ٹھہرے۔ وہاں میری والدہ اور سارے بہن بھائی احمدی ہو گئے۔ پھر ہم ربوہ آ گئے۔ اسی طرح میں نے خواب میں جو گاؤں دیکھا تھا جس میں کولہو والا مجھے چابی دے رہا تھا وہ خواب پورا ہو گیا۔ کیونکہ پورا گھر احمدی ہوگیا اور ہم اُس گاؤں میں ہجرت کرکے آئے جو کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا اور جس گھر میں ہم آئے وہاں اتفاقاً کولہو والا بھی رہتا تھا۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/c7YBq]

اپنا تبصرہ بھیجیں