محترم شیخ محمد حسن صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍مئی 2006ء میں محترم شیخ محمد حسن صاحب کے بارہ میں ایک مضمون مکرمہ صفیہ بشیر سامی صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
محترم شیخ محمد حسن صاحب 1909ء میں لدھیانہ میں محترم نور محمد صاحب کے ہاں پیدا ہوئے جو بہت خداترس تھے اور غریب یتیم کی پرورش اور امداد میں خاص حصہ لیتے تھے۔ وہ حضرت منشی احمد جان صاحبؓ کے مرید تھے اور اُن کی وصیت کے مطابق ہی آپ نے بھی احمدیت قبول کی تھی۔ آپ کے والد بھی احمدی تھے اور آپ کی اہلیہ محترمہ بھی بہت مخلص خاتون تھیں۔ مسجد فضل لندن کی تعمیر کے لئے انہوں نے اپنی سونے کی بالیاں پیش کردی تھیں۔
جب محترم شیخ محمد حسن صاحب کی عمر صرف دس برس تھی تو آپ کی والدہ کی وفات ہوگئی۔ جس کے بعد گھر کا شیرازہ بکھر گیا اور کوئی سمجھانے والا نہ رہا۔ مختلف عرسوں اور میلوں میں شامل ہونے لگے۔ مجلس احرار نے کشمیر موومنٹ شروع کی تو آپ بھی اُن کے جلوسوں میں شامل ہونے لگے۔ پھر اسلام کی خاطر اپنی گرفتاری بھی پیش کردی اور تین ماہ قید بامشقّت کاٹی۔ لیکن بعد میں اس قربانی کا کسی نے بھی خوشی سے ذکر نہیں کیا تو آپ کا دل بجھ گیا۔ ایک روز آپ قریبی امام باڑہ میں گئے جہاں ایک غیرازجماعت بزرگ نے اپنی خواب سنائی اور آپ کو احمدی ہوجانے کے لئے کہا۔ اُنہی دنوں آپ کے بڑے بھائی جو احمدی تھے، اُن کی دعوت پر آپ قادیان جلسہ سالانہ میں شریک ہونے کے لئے چلے گئے۔ وہاں حضرت مصلح موعودؓ کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔
جب قادیان سے واپس آئے اور آپ کی احمدیت کا علم ہوا تو شدید مخالفت کا آغاز ہوا۔ احمدیوں کا بائیکاٹ کیا گیا۔ آپ کی تایا کی بیٹی سے آپ کی شادی ہونے والی تھی۔ شادی کے دن آپ کے تایا آپ کے پاس آئے اور اپنی پگڑی آپ کے پاؤں میں رکھ کر کہا کہ صرف نکاح کے وقت کہہ دو کہ احمدی نہیں ہو، پھر جو مرضی ہو وہی کرنا۔ لیکن آپ نے جھوٹ بولنے سے انکار کردیا۔ اس پر نہ صرف رشتہ ختم ہوگیا بلکہ ایک فتنہ بھی بپا ہوگیا۔
بعد میں آپ کی شادی حضرت میاں فضل محمد صاحبؓ ہرسیاں والے کی بیٹی سے 1935ء میں ہوگئی۔ اگرچہ آپ کے پاس کوئی دنیاوی دولت نہیں تھی اور لڑکی والے بھی مطمئن نہیں تھے لیکن ایک خواب کی بناء پر رشتہ طے پاگیا جو بعد میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت بابرکت ثابت ہوا۔
پھر آپ مختلف شہروں میں بسلسلہ ملازمت مقیم رہے۔ ممبئی میں سیکرٹری دعوت الی اللہ کے طور پر بھی خدمت کی۔ قیام پاکستان کے بعد فیصل آباد میں آبسے اور دوکان شروع کردی۔ فرقان فورس میں بھی خدمت کی توفیق پائی۔ جلدسازی کے ذریعے لمبا عرصہ خدمت کی سعادت آپ کو عطا ہوتی رہی۔ بے شمار ایمان افروز واقعات آپ کی زندگی میں روشنی بکھیرتے رہے۔ پھر آپ کو کینیا جانے کا موقع مل گیا اور وہاں سے 1969ء میں لندن آگئے۔ ہر جگہ خدمت کا بھرپور موقع ملا۔ بہت عاجز اور فقیرانہ مزاج کے انسان تھے اور خدمت کے ہر کام کو سعادت سمجھتے تھے۔ اخبار احمدیہ، الفضل انٹرنیشنل کا شعبہ ترسیل، ضیافت ٹیم میں سالہاسال خدمات سرانجام دیں۔ ہر سال جلسہ سالانہ کے موقع پر کئی کئی ہفتے اسلام آباد میں قیام کرتے اور مہمانوں کی خدمت کرکے دلی خوشی محسوس کرتے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/UOSik]

اپنا تبصرہ بھیجیں