مارکونی – ریڈیو کے موجد

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ ستمبر 2006ء میں ریڈیو کے موجد مارکونی کے بارہ میں ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
گگ لیمومارکونی اٹلی کے شہر بولونیا میں پیدا ہوا۔ اس کا والد امیر آدمی تھا اور اس نے مارکونی کو اچھی تعلیم دلوائی۔ مارکونی کو بجلی کے تجربات کرنے کا بہت شوق تھا۔ اسی زمانہ میں ایک سائنسدان جیمزکلارک میکسویل نے لاسلکی لہریں (Wireless Waves) دریافت کیں۔ مارکونی کی عمر پندرہ سال تھی کہ اُسے ان لہروں کا علم ہوا اور ان پر تجربات شروع کردیئے۔ لوگوں کے تمسخر کے باوجود وہ اپنے تجربات میں مصروف رہا اور ہوا کی لہروں پر اپنا پیغام دو میل کے فاصلہ تک پہنچانے میں کامیاب ہوگیا۔ لیکن اٹلی میں اُس کی مدد کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں تھا۔ چنانچہ وہ لندن چلاگیا اور وہاں بجلی کے محکمہ کے ایک انجینئر کی مدد سے تجربات کرنے لگا۔ جلد ہی اُس کی شہرت ہر طرف پھیل گئی اور اُس کے تجربات کامیابی سے ہمکنار ہونے لگے۔ اس پر اٹلی کی حکومت نے اُسے واپس آنے کے لئے کہا۔ چنانچہ مارکونی واپس چلا گیا اور حکومت کی مدد سے ایک لاسلکی اسٹیشن قائم کرنے میںکامیاب ہوگیا۔ پہلی جنگ عظیم میں اس اسٹیشن سے سمندر میں جنگی بحری جہازوں کو پیغامات بھیجے جاتے۔ ابتداء میں سگنل بارہ میل تک جاتے لیکن مارکونی نے لگاتار کوشش کرکے یہ فاصلہ خاصا بڑھادیا۔ اٹلی کے بادشاہ اور ملکہ نے بھی مارکونی کے تجربات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور محظوظ ہوئے۔ جلد ہی مارکونی کے پیغامات انگلستان تک پہنچنے لگے۔ پھر اس نے کارنوال میں لاسلکی اسٹیشن قائم کیا اور چارسو فٹ اونچے کھمبے اس مقصد کے لئے لگوائے۔
اُسی زمانہ میں فلیمنگ نے والو (Valve) ایجاد کرلیا۔ یہی والو پھر ریڈیو میں لگایا گیا۔ عملاً والو کے بغیر کوئی ریڈیو بھی چل نہیں سکتا۔
پھر مارکونی نے اپنی کمپنی بنائی اور چمسفورڈ میں دنیا کا پہلا ریڈیواسٹیشن قائم کیا۔ اس نے لہروں پر مزید تجربات بھی جاری رکھے اور جلد ہی Short Waves بھی دریافت کرلیں۔ مارکونی نے اپنی ایجاد سے بہت دولت بھی کمائی اور اُسے 1909ء کے نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔ وہ اطالوی پارلیمینٹ کا رُکن بھی بنا۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/rF4fw]

اپنا تبصرہ بھیجیں