مادام کیوری

مادام کیوری کے بارہ میں ایک مختصر مضمون ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ جولائی 1999ء میں شامل اشاعت ہے۔ آپ سائنس کے ایک پروفیسر کی صاحبزادی تھیں جو وارسا (پولینڈ) میں سائنس کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ چھوٹی عمر میں ہی آپ کی والدہ کا انتقال ہوگیا اور آپ کے والد آپ کو اپنے ہمراہ تجربہ گاہ میں لے جانے لگے جہاں وہ اپنے شاگردوں کو تعلیم دیا کرتے تھے۔ کیوری بھی اپنے والد کے لیکچرز کو بڑے غور سے سنتیں۔ جب وہ بڑی ہوئیں تو اعلیٰ تعلیم کے لئے پیرس گئیں اور پیرس یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کی تجربہ گاہ کی دیکھ بھال پر ملازم ہوگئیں جہاں آپ کی تحقیق میں دلچسپی پروفیسر کے ساتھ آپ کی شادی پر منتج ہوئی۔
مادام کیوری نے یورینیم کے خواص معلوم کرنے کے لئے تحقیق شروع کی اور خام یورینیم کے لئے آسٹریلیا کی حکومت سے درخواست کی جہاں سے آپ کو ایک ٹن خام یورینیم بھیج دیا گیا۔ ایک روز آپ کو معلوم ہوا کہ آپ کی انگلیوں سے ایسی برقی لہریں نکل رہی ہیں جن سے لکڑی اور پتھر کے اندرونی حصے بھی نظر آ رہے ہیں۔ مادام کیوری نے اس نئی قوت کا نام اپنے وطن پولینڈ کے نام پر پلاٹونیم رکھا۔ پھر آپ نے دیکھا کہ یورینیم سے پلاٹونیم نکالنے کے بعد جو کچھ باقی بچا ہے اُس میں بھی ایک طاقت موجود ہے۔ چنانچہ آپ دوبارہ تحقیق میں مصروف ہوگئیں اور کئی سال کے بعد ایک ٹن خام یورینیم سے ایک مٹھی بھر چیز حاصل کرلی جو دراصل ریڈیم تھا۔ ریڈیم کو اگر اندھیرے میں رکھا جائے تو اس سے روشنی کی شعاعیں نکلتی رہتی ہیں اور جس چیز پر اسے لگادیا جائے وہ اندھیرے میں بھی نظر آتی ہے۔چنانچہ اسے گھڑی کی سوئیوں اور کارخانوں وغیرہ میں مختلف اہم بٹنوں پر لگایا جاتا ہے۔
مادام کیوری کا رہن سہن بہت سادہ تھا۔ ریڈیم کی ایجاد نے بہت سے لوگوں کو امیر بنادیا لیکن مادام کیوری نے اس سے پیسہ نہیں کمایا۔ بعض لوگوں نے انہیں اپنی تحقیق کو رجسٹرڈ کروانے کا مشورہ بھی دیا لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ریڈیم دنیا کا ایک عنصر ہے جس میں تمام انسان برابر کے شریک ہیں۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/f7iw8]

اپنا تبصرہ بھیجیں