ربوہ میں فری ہومیوپیتھک ڈسپنسریاں

حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے منصب خلافت پر فائز ہونے سے قبل ہی ہومیو پیتھی میں مہارت حاصل کرنے کے بعد ربوہ میں پہلی مرتبہ ہومیوپیتھی کی ادویہ مفت دینے کا سلسلہ جاری فرمایا اور ایک ڈسپنسری سن ساٹھ کی دہائی میں پہلے حضرت مرزا طاہر احمد صاحب نے اپنے گھر میں اور پھر اپنی بڑی ہمشیرہ محترمہ صاحبزادی امۃالحکیم بیگم صاحبہ کے گھر پر قائم کی اور بعد ازاں 1968ء میں یہ دفتر وقف جدید میں منتقل کردی گئی- ابتداء میں حضور انور کے ساتھ ڈسپنسری کے کاموں میں مدد دینے والے مکرم صوبیدار شرافت صاحب تھے- پھر مکرم صوفی عبدالغفور صاحب نے کام کیا- وہ بیان کرتے ہیں کہ پہلے پہل روزانہ مریضوں کی تعداد 40 کے لگ بھگ تھی لیکن پھر بہت اضافہ ہوگیا اور ایک دن میں سو سو مریض بھی حضور دیکھ لیا کرتے تھے- حضور نے 1966ء میں باقاعدہ طور پر ہومیوپیتھی کا امتحان سرگودھا جاکر پاس کیا تھا اور آپ کے ساتھ ایک سو کے قریب معلّمین وقف جدید بھی تھے جو سارے پاس ہوکر رجسٹرڈ ہوگئے-
مکرم مرزا خلیل احمد قمر صاحب کو بھی کچھ عرصہ ڈسپنسری میں خدمت بجالانے کی توفیق ملی- وہ بیان کرتے ہیں کہ حضور فرمایا کرتے تھے کہ میں مریض کی شکل و صورت اور چال ڈھال دیکھ کر جان لیتا ہوں کہ اس کو کیا بیماری ہے اس لئے اکثر مریض کو تفصیلی بات کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی- آجکل اس ڈسپنسری میں مکرم عبدالباری صاحب بطور ہومیو پیتھ ڈاکٹر اور مکرم منظور صاحب بطور ڈسپنسر کام کررہے ہیں- روزانہ چار گھنٹے یہ کلینک کُھلتا ہے اور ایک سو سے ڈیڑھ سو تک مریض روزانہ استفادہ کرتے ہیں-
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26؍جون 1998ء میں ربوہ میں قائم نو (9) فری ہومیوپیتھک ڈسپنسریوں کا تعارف کرواتے ہوئے مکرم یوسف سہیل شوق صاحب مزید لکھتے ہیں کہ چند سال قبل دارالعلوم غربی کی مسجد صادق میں مکرم ڈاکٹر وقار منظور بسرا صاحب نے ڈسپنسری کا آغاز کیا اور اب اُن کے شاگردوں کے ذریعہ مزید چار مفت مراکز ربوہ میں اور ایک راولپنڈی میں کام کر رہا ہے- مکرم بسرا صاحب ایم-اے (انگریزی) واقف زندگی اور جامعہ احمدیہ میں شعبہ انگریزی کے سربراہ ہیں- انہوں نے ایک جامع کمپیوٹر پروگرام بھی تیار کیا ہے تاکہ باقاعدہ تحقیقی انداز میں کام کیا جاسکے- نیز اپنی ذاتی لائبریری میں 200 سال کے عرصہ میں شائع ہونے والا ہومیو پیتھی کا اہم لٹریچر جمع کیا ہے-
مسجد صادق کے علاوہ مسجد ناصر رحمت غربی، طاہر آباد، بیوت الحمد اور خلافت لائبریری میں بھی فری ڈسپنسریاں قائم ہیں- جن میں مقبول احمد صاحب، داؤد احمد صاحب، داؤد جاوید صاحب، وسیم مہار صاحب اور راجہ رشید احمد صاحب مریضوں کو دوائیں دیتے ہیں- ان ڈسپنسریوں سے مجموعی طور پر روزانہ دو سو سے زیادہ مریض استفادہ کر رہے ہیں-
لجنہ کلینک میں عامرہ عطیہ صاحبہ کی زیر نگرانی پندرہ خواتین خدمت کرتی ہیں- یہاں سے روزانہ قریباً 75 خواتین دوا حاصل کرتی ہیں- ہفتہ میں ایک دن حضرت سیدہ آپا طاہرہ صدیقہ ناصر صاحبہ صدر لجنہ ربوہ، بھی تشریف لاکر دوا دیتی ہیں- علم الابدان کے بارے میں ایک لائبریری بھی یہاں قائم کی گئی ہے-
ایک ڈسپنسری مسجد محمود میں قائم ہے جہاں سے اوسطا تیس پینتیس مریض روزانہ استفادہ کرتے ہیں اور یہاں ناصر احمد طاہر صاحب، کریم احمد صاحب اور نصیر احمد شاد صاحب خدمت کرتے ہیں جبکہ انتظامی امور کی نگرانی مکرم حمید احمد خالد صاحب کرتے ہیں-

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/huZz0]

اپنا تبصرہ بھیجیں