خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 24؍دسمبر 2004ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
معاشرہ کا کام ہے کہ شادی کے قابل بیواؤں اور لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاں کروانے کی طرف توجہ دے۔
احمدی لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاں آپس میں کی جائیں تا کہ آئندہ نسلیں دین پرقائم رہنے والی نسلیں ہوں۔
(بیواؤں اور شادی کے قابل لڑکے، لڑکیوں کی شادیاں کروانے سے متعلق قرآن مجید،احادیث نبویہ اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ا رشادات کے حوالہ سے نہایت اہم تاکیدی نصائح)
خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
24؍دسمبر 2004ء بمقام مسجد بیت السلام۔ پیرس۔ فرانس

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّا کَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
وَاَنْکِحُوْا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ وَالصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَآئِکُمْ۔ اِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآء یُغْنِھِمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ۔ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ- (سورۃ النور آیت 33)

آجکل شادی بیاہ کے بہت سے مسائل سامنے آتے ہیں- روزانہ خطوں میں ان کا ذکر ہوتا ہے۔ لڑکیوں کی طرف سے عورتوں کی طرف سے بچیوں کے رشتوں کے مسائل ہیں- جو کم مالی حیثیت رکھنے والے ہیں ان کے رشتوں کے مسائل ہیں لڑکا ہو یا لڑکی۔ بیواؤں کے رشتوں کے مسائل ہیں- ایسی بعض بیوائیں ہوتی ہیں جو شادی کی عمر کے قابل ہوتی ہیں یا بعض ایسی جو اپنے تحفظ کے لئے شادی کروانا چاہتی ہیں ان کے رشتوں کے مسائل ہیں- لیکن ایسی بیوائیں بعض دفعہ معاشرے کی نظروں کی وجہ سے ڈر جاتی ہیں اور باوجود یہ سمجھنے کے کہ ہمیں شادی کی ضرورت ہے،وہ شادی نہیں کرواتیں- تو بہرحال مختلف طبقوں کے اپنے اپنے مسائل ہیں ہمارے بعض مشرقی ممالک میں، بیواؤں کے ضمن میں بات کروں گا، اس بات کو بہت برا سمجھا جاتا ہے بلکہ گناہ سمجھا جاتا ہے کہ عورت اگر بیوہ ہو جائے تو دوسری شادی کرے۔ اور بعض بیچاری عورتیں جو اپنے حالات کی وجہ سے شادی کرنا چاہتی ہیں ان کے بعض دفعہ رشتے بھی طے ہو جاتے ہیں لیکن ان کے عزیز رشتہ دار اس بات کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں جیسا کہ مَیں نے کہا۔ اور اس طرح ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اور بیچاری عورت کو اتنا عاجز کردیتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی سے ہی بیزار ہوجاتی ہے۔ اور حیرت اس بات کی ہے کہ یہاں یورپ میں آکر جہاں اور دوسرے معاملات میں روشن خیالی کا نام دے کر بہت سارے معاملات میں ملوث ہوجاتے ہیں جن میں سے بعض کی اسلام اجازت بھی نہیں دیتا لیکن یہ جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ بیواؤں کی شادی کرو اس بارے میں بڑی غیرت دکھا رہے ہوتے ہیں-
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ یہ جو مَیں نے آیت تلاوت کی ہے کہ تمہارے درمیان جو بیوائیں ہیں ان کی بھی شادیاں کراؤ۔ اور اسی طرح تمہارے درمیان جو تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے نیک چلن ہوں ان کی بھی شادیاں کراؤ۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی بنا دے گا۔ اور اللہ بہت وسعت عطا کرنے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔
یہ ہے اللہ تعالیٰ کا حکم جس پر ہر ایک کو عمل کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ تو بڑا واضح طور پر کھل کر فرماتا ہے کہ معاشرے میں اگر نیکیوں کو فروغ دینا ہے تو معاشرے میں جو شادیوں کے قابل بیوائیں ہیں ان کی بھی شادیاں کرانے کی کوشش کرو بلکہ یہاں تک کہ اُس زمانے میں جو غلام تھے اور لونڈیاں تھیں ان میں سے بھی جو نیک فطرت ہیں ان کی بھی شادیاں کروا دو تا کہ برائی نہ پھیلے۔ یہ قوم بھی جو غریب لوگ ہیں یہ بھی مایوسی کا شکار نہ ہوں- تو یہ حکم شادی کی پابندی کا ہے۔ اس زمانے میں غلام تو نہیں ہیں لیکن بہت سے ممالک میں غربت ہے اور غربت کی وجہ سے شادی نہیں ہوتی تو جماعت ان لوگوں کی مدد بھی کرتی ہے۔ اس لئے انفرادی طور پر بعض لوگ مدد کرتے ہیں اور کرنی بھی چاہئے۔ تو فرمایا یہ نہ سمجھو کہ ان کی غربت ہے اس لئے شادی نہ کراؤ۔ اگر مرد کام نہیں کرتا یا ملازمت اس کے پاس نہیں ہے یا کوئی کمائی کا ایسا بڑا ذریعہ نہیں ہے تو ان کی شادیاں بھی کرواؤ اور پھر جماعت میں جو ایک نظام رائج ہے ایسے لوگوں کی ملازمت یا کاروبار کی کوشش بھی کی جاتی ہے اور کرنی بھی چاہئے۔ تو الّا ماشاء اللہ جب ایسی کوشش ہوتی ہے تو سوائے چند ایک کے شادی کے بعد احساس بھی پیدا ہوجاتا ہے کہ انہوں نے اپنے بیوی بچوں کو سنبھالنا ہے اس لئے کوئی کام کریں، کوئی کاروبار کریں، کوئی نوکری کریں،کوئی ملازمت کریں- پھر اکثر بیوی بھی اپنے خاوند کے لئے کوئی کام کرنے کے لئے یا ملازمت حاصل کرنے کے لئے ترغیب دلانے کا باعث بن جاتی ہے۔ بیوی بھی اس پر دباؤ ڈالتی ہے تو اس سے بھی توجہ پیدا ہوتی ہے۔ اور کئی مثالیں ایسی ہیں کہ شادی کے بعد ایسے غریبوں کے حالات بہتر ہو گئے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ وہ علم رکھتا ہے کہ کس کے کیا حالات ہونے ہیں- معاشرے کا یہ کام ہے کہ چاہے وہ بیوائیں ہوں،چاہے وہ غریب لوگ ہوں ان کی شادیاں کروانے کی کوشش کرو۔ اس طرح معاشرہ بہت سی قباحتوں سے پاک ہو جائے گا، محفوظ ہو جائے گا۔ بیواؤں میں سے بھی اکثر جو ایسی ہیں جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کہ شادی کرانے کی خواہش رکھتی ہوں، ضرورت مند ہوں اور ان میں سے ایسی بھی بہت ساری تعداد ہوتی ہے جو خاوند کی وفات کے بعد معاشی مسائل سے دوچار ہو جاتی ہے۔ معاشرے کے بعض مسائل ہیں جن سے دوچار ہوتی ہے تو ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کو کوئی ٹھکانہ ملے۔ ان کو تحفظ ملے بجائے اس کے کہ وہ مستقل تکلیف اٹھاتی رہے۔ اس لئے فرمایا کہ پاک معاشرہ کے لئے بھی اور ان کے ذاتی مسائل کے حل کے لئے بھی پوری کوشش کرو کہ ان کی شادیاں کروادو۔ تو یہ ہے حکم اللہ تعالیٰ کا جبکہ جیسا کہ مَیں نے کہا بعض معاشرے اس کو ناپسند کرتے ہیں- اسلامی اور احمدی معاشرہ کہلاتے ہوئے بعض لوگ ناپسند کرتے ہیں- تو ہر احمدی کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مقابلے میں ہماری روایات یعنی وہ جھوٹی روایات جو دوسرے مذاہب یا غیر مسلموں کے بگڑے ہوئے مذہب کا حصہ بن کر ہمارے اندر جڑ پکڑ رہی ہیں، ہمارے اند رداخل ہو رہی ہیں ان کو نکالنا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ تو بیوگان کو یہ اجازت دیتا ہے کہ بیوہ ہونے کے بعد اگر کسی کا خاوند فوت ہو جائے تو اس کے بعد جو عدت کا عرصہ ہے،چار مہینے دس دن کا،وہ پوراکرکے اگر تم اپنی مرضی سے کوئی رشتہ کرلو اور شادی کرلو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ کوئی ضرورت نہیں ہے کسی سے فیصلہ لینے کی یا کسی بڑے سے پوچھنے کی۔ لیکن شرط یہ ہے کہ معروف کے مطابق رشتے طے کرو۔ معاشرے کو پتہ ہو کہ یہ شادی ہو رہی ہے تو پھر کوئی حرج نہیں- تو بیواؤں کو تو اپنے متعلق اپنے مستقبل کے متعلق فیصلہ کرنے کا خود اختیار دے دیا گیا ہے یا اجازت ہے اور لوگوں کو یہ کہا ہے کہ تم بلا وجہ اس میں روکیں ڈالنے کی کوشش نہ کرو اور اپنے رشتوں کا حوالہ دینے کی کوشش نہ کرو۔ اگر یہ بیواؤں کے رشتے جائز اور معروف طور پر ہورہے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی اجازت دیتا ہے۔ تم پر اس کا کوئی گناہ نہیں ہے۔ تم اپنے آپ کو خاندان کا بڑا سمجھ کر یا بڑے رشتے کا حوالہ دے کر روک نہ ڈالو کہ یہ رشتہ ٹھیک نہیں ہے، نہیں ہونا چاہئے یا مناسب نہیں ہے۔ بیوہ کو خود فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔ تم کسی بھی قسم کی ذمہ داری سے آزاد ہو۔ اللہ تمہارے دل کا بھی حال جانتا ہے۔ اگر تم کسی وجہ سے نیک نیتی سے یہ روک ڈالنے یا سمجھانے کی کوشش کررہے ہو کہ یہ رشتہ نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ جو تمہارے دل میں ہے ظاہر کردو اس کو بتا دو اور اس کے بعد پیچھے ہٹ جاؤ اور فیصلے کا اختیار اس بیوہ کے پاس رہنے دو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دل کا حال جانتا ہے اس کو تمہاری نیت کا پتہ ہے تمہارے سے بہر حال باز پرس نہیں ہوگی۔ اگر نیک نیت ہے تو نیک نیتی کا ثواب مل جائے گا۔ اس بارے میں فرماتا ہے

وَالَّذِیْنَ یَتَوَ فَّونَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّعَشْرًا۔ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْٓ اَنْفُسِھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۔ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ (البقرۃ: 235)

یعنی تم میں سے وہ لوگ جو وفات دیئے جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں چار مہینے اور دس دن تک اپنے آپ کو روکے رکھیں- پس جب وہ اپنی مقررہ مدت کو پہنچ جائیں تو پھر وہ عورتیں اپنے متعلق معروف کے مطابق جو بھی کریں اس بارے میں تم پر کوئی گناہ نہیں اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ:’’بیوہ کے نکاح کا حکم اسی طرح ہے جس طرح کہ باکرہ کے نکاح کا حکم ہے۔ چونکہ بعض قومیں بیوہ عورت کا نکاح خلاف عزت خیال کرتے ہیں اور یہ بدرسم بہت پھیلی ہوئی ہے۔ اس واسطے بیوہ کے نکاح کے واسطے حکم ہوا ہے۔ لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ ہر بیوہ کا نکاح کیا جائے۔ نکاح تو اسی کا ہوگا جو نکاح کے لائق ہے اور جس کے واسطے نکاح ضروری ہے۔ بعض عورتیں بوڑھی ہو کر بیوہ ہوتی ہیں- بعض کے متعلق دوسرے حالات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ نکاح کے لائق نہیں ہوتیں- مثلاً کسی کو ایسا مرض لاحق ہے کہ وہ قابل نکاح ہی نہیں یا ایک کافی اولاد اور تعلقات کی وجہ سے ایسی حالت میں ہے کہ اس کا دل پسند ہی نہیں کرسکتا کہ وہ اب دوسرا خاوند کرے۔ ایسی صورتوں میں مجبوری نہیں کہ عورت کو خواہ مخواہ جکڑ کر خاوند کرایا جائے۔ ہاں اس بدرسم کو مٹا دینا چاہئے کہ بیوہ عورت کو ساری عمر بغیر خاوند کے جبراً رکھا جاتا ہے۔ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 320 جدید ایڈیشن)
آپؑ نے اس کی وضاحت فرمادی، مزید کھول کر بیان فرما دیا کہ پہلی بات تو معاشرے اور عزیز رشتے داروں کو یہ حکم ہے کہ اگر کوئی شادی کی عمر میں بیوہ ہو جاتی ہے تو تم لوگ اس کے رشتے کی بھی اسی طرح کوشش کرو جیسے باکرہ یا کنواری لڑکی نوجوان لڑکی کے رشتے کے لئے کوشش کرتے ہو۔ یہ تمہاری بے عزتی نہیں ہے بلکہ تمہاری عزت اسی میں ہے۔ دوسری بات کہ اگر کوئی عمر کی زیادتی کی وجہ سے یا بچوں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے یا اپنے بعض اور حالات کی وجہ سے یا کسی بیماری کی وجہ سے شادی نہ کرنا چاہے تو یہ فیصلہ کرنا بھی اس کا اپنا کام ہے۔ تم ایک تجویز دے کے اس کے بعد پیچھے ہٹ جاؤ۔ رشتہ کروانے کے لئے، نہ کہ رشتہ روکنے کے لئے۔ رشتہ کرنا یا نہ کرنا یہ اس کا اپنا فیصلہ ہوگا۔ اس کا اپنا حق ہے اس کو بہر حال مجبور نہ کیا جائے۔ پھر یہ کہ معاشرے کو رشتہ داروں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ زبردستی کسی بیوہ کو ساری عمر بیوہ ہی رکھیں یا اس کو کہیں کہ تم ساری عمر بیوہ رہو۔ اگر خود اپنی مرضی سے کوئی شادی کرنا چاہتی ہے تو قرآنی حکم کے مطابق اسے شادی کرنے دو۔ کسی بیوہ کو شادی سے روکنا بھی بڑی بیہودہ اور گندی رسم ہے اور اس کو اپنے اندر سے ختم کرو۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت علیؓ بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو تین مرتبہ فرمایا۔ اے علی! جب نماز کا وقت ہو جائے تو دیر نہ کرو۔ اور اسی طرح جب جنازہ حاضر ہو یا عورت بیوہ ہو اور اس کا ہم کفو مل جائے تو اس میں بھی دیر نہ کرو۔ (ترمذی۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب فی الوقت الاوّل)
تو اس میں آپؐ نے دو باتوں کو جو انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں عبادت کے ساتھ رکھا ہے۔ نماز جو اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنا ہے اس کی عبادت کرنا ایک فرض ہے اور عبادت کی غرض سے ہی انسان کوپیدا کیا گیا ہے اس کو وقت پہ ادا کرنے کا حکم ہے اور جب وقت آجائے تو اس میں دیر نہیں ہونی چاہئے اسی میں ہماری بھلائی ہے۔ اور پاک معاشرے کے قیام کی ضمانت بھی اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو عبادت کے وقت مقرر کئے ہیں اس وقت میں ادائیگی کی جائے۔ تو اس کے بعد فرمایا کہ جنازہ ہے اگر کوئی فوت ہوجائے تو اس کو دفنانے میں بھی جلدی کرنی چاہئے۔ وفات شدہ کی عزت بھی اسی میں ہے۔ پھر بعض خاندانوں میں دیر تک جنازہ رکھنے سے بعض مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں اس لئے جلدی دفنا دو۔ پھر فرمایا کہ عورت اگر بیوہ ہوجائے اور شادی کے قابل ہو اور اس کا ہم کفو مل جائے، مناسب رشتہ مل جائے، معاشرے میں جو اس عورت کا مقام ہے اس کے مطابق ہو خاندانی لحاظ سے اپنے رہن سہن کے لحاظ سے ہم مزاج ہو عورت کو پسند بھی ہو تو پھر رشتہ دار اس سلسلہ میں روکیں نہ ڈالیں بلکہ مناسب یہ ہے کہ اس کو جلد از جلد بیاہ دو۔ اس سے بھی پاک معاشرے کا قیام ہوگا۔ اور عورت بھی بہت سی باتوں سے جو بیوہ ہونے کی وجہ سے اس کو معاشرے کی سہنی پڑتی ہیں بچ جائے گی۔ پھر بیوہ کو خود بھی اختیار دیا گیا ہے کہ خود بھی وہ جائز طور پر رشتہ کرسکتی ہے جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے۔ یہ بھی اس لئے ہے کہ وہ اپنے آپ کو تحفظ دے سکے۔
اس اختیار کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح وضاحت فرمائی ہے کہ ایک روایت میں آتا ہے۔ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شادی کے معاملہ میں بیوہ اپنے بارے میں فیصلہ کرنے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے۔ اور کنواری سے اجازت لی جائے گی اور اس کا خاموش رہنا اجازت تصور کیا جائے گا۔ (سنن الدارمی۔ کتاب النکاح۔ باب استئمار البکر والثیب)
تو وضاحت ہوگئی کہ بیوہ کاحق بہر حال فائق ہے لیکن کنواری لڑکی کے بارے میں یہ شرط ہے کہ اس کا ولی اس کے بارے میں فیصلہ کرے اور وہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات تو اصل میں معاشرے میں بھلائی اور امن پیدا کرنے کے لئے ہیں- تو بیوہ کیونکہ دنیا کے تجربے سے گزر چکی ہوتی ہے دنیا کی اونچ نیچ دیکھ چکی ہوتی ہے اور الاماشاء اللہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرسکتی ہے اس لئے اس کو یہ اختیار دے دیا۔ لیکن کنواری لڑکی بعض دفعہ بھول پنے میں غلط فیصلے بھی کرلیتی ہے اس لئے اس کے رشتے کا اختیار اس کے ولی کو دیا گیا ہے۔ لیکن پھر بھی اس کویہ حق دیا گیا کہ اگر وہ اپنے ولی یا باپ کے فیصلے سے اختلاف رکھتی ہو، اس پر راضی نہ ہو تو نظام جماعت کو بتائے اور فیصلے کروالے لیکن خود عملی قدم اٹھانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس سے بھی معاشرے میں نیکی اور بھلائی کی بجائے فتنہ ا ور فساد پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ چنانچہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ بعض لڑکیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عرض کی کہ باپ فلاں رشتہ کرنا چاہتا ہے اور آپؐ نے لڑکیوں کے حق میں فیصلہ دیا۔ بعض دفعہ یہ ہوا کہ لڑکی نے کہا میں نہیں چاہتی۔ چنانچہ ایک دفعہ اسی طرح ایک لڑکی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ ہم عورتوں کو رشتوں کے معاملہ میں کوئی حق نہیں ہے؟ آپؐ نے فرمایا بالکل ہے۔ تو اس نے کہا کہ میرا باپ میرا رشتہ فلاں بوڑھے شخص سے کرنا چاہتا ہے، یا کررہا ہے یا کردیا ہے۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ تمہیں اجازت ہے۔ لیکن اس نیک فطرت بچی نے کہا کہ میں صرف عورت کا حق قائم کرنا چاہتی تھی اپنے باپ کا دل توڑنا نہیں چاہتی۔ مجھے اپنے باپ سے بہت پیار ہے۔ میں اس رشتے پر بھی راضی ہوں لیکن حق بہر حال عورت کا قائم ہونا چاہئے ا س کے لئے میں حاضر ہوئی تھی۔
پھر ایک دفعہ آپؐ نے ایک لڑکی کے باپ کا طے کیا ہوا رشتہ (جو لڑکی کی مرضی کے خلاف تھا) تڑوادیا۔ چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا۔ اس کا اس سے ایک بچہ بھی تھا۔ بچے کے چچا نے عورت کے والد سے اس بیوہ کا رشتہ مانگا۔ عورت نے بھی رضامندی کا اظہار کیا۔ لیکن لڑکی کے والد نے اس کا رشتہ اس کی رضامندی کے بغیر کسی اور جگہ کردیا۔ اس پر وہ لڑکی حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور شکایت کی۔ حضور نے اس کے والد کو بلا کر دریافت کیا۔ اس کے والد نے کہا اس کے دیور سے بہتر آدمی کے ساتھ مَیں نے اس کا رشتہ کیا ہے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے باپ کے کئے ہوئے رشتے کو توڑ کر بچے کے چچا یعنی عورت کے دیور سے اس کا رشتہ کردیا۔ (مسند الاما م الاعظم۔ کتاب ا لنکاح)
اب یہاں بیوہ کا حق فائق تھا اور دوسرے عورت (لڑکی) کی مرضی بھی دیکھنی تھی۔ لیکن یہ جماعت احمدیہ میں بہرحال دیکھا جائے گا کہ لڑکی جہاں رشتہ کررہی ہے یا جہاں رشتے کی خواہش رکھتی ہے وہ لڑکا بہرحال احمدی ہو۔ کیونکہ ان تمام باتوں کا مقصد پاک معاشرے کا قیام ہے۔ نیکیوں کو قائم کرنا ہے اور نیک اولاد کا حصول ہے۔ اگر احمدی لڑکے احمدی لڑکیوں کو چھوڑ کر اور احمدی لڑکیاں احمدی لڑکوں کو چھوڑ کر دوسروں سے شادی کریں گے تو معاشرے میں، خاندان میں فساد پیدا ہونے کا خطرہ ہوگا۔ نئی نسل کے دین سے ہٹنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ اس لئے دین کا کفو دیکھنا بھی اس طرح ضروری ہے جس طرح دنیا کا۔ ہمارے لڑکوں اورلڑکیوں کو بعضوں کو بڑا رجحان ہوتا ہے غیروں میں رشتے کرنے کا۔ اس طرف توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے۔ خاص طور پر اس آزاد معاشرے میں- نظام کی بھی فکر اس لئے بڑھ گئی ہے کہ ایسے معاملات اب کافی زیادہ ہونے لگ گئے ہیں کہ اپنی مرضی سے غیروں میں، دوسرے مذاہب میں رشتے کرنے لگ جاتے ہیں-
ایک روایت میں آتا ہے، حضرت ابو حاتم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس کوئی ایسا شخص کوئی رشتہ لے کر آئے جس کی دینداری اور اخلاق تمہیں پسند ہوں تو اسے رشتہ دے دیا کرو۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ و فساد پیدا ہو گا۔ سوال کرنے والے نے سوال کرنا چاہا لیکن آپؐ نے تین دفعہ یہی فرمایا کہ اگر تمہارے پاس کوئی شخص رشتہ لے کر آئے جس کی دینداری اور اخلاق تمہیں پسند ہوں تو اسے رشتہ دے دیا کرو۔ (ترمذی۔ کتاب النکاح)
تو آپؐ نے اس طرف توجہ دلائی کہ دیندار لڑکے سے رشتہ کرلیا کرو۔ مالی کمزوری بھی اگر ہوتو یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ دین پر قائم ہے تو اللہ تعالیٰ مالی حالات بھی درست فرمادے گا۔ اس لئے جب بچیوں کے رشتے آتے ہیں تو زیادہ لٹکانا نہیں چاہئے بلکہ اگر دیند اری کی تسلی ہو گئی ہے تو رشتہ کردینا چاہئے۔ اس طرح لڑکوں کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ رشتے کرتے وقت لڑکی کی ظاہری اور دنیاوی حالت کو نہ دیکھو۔ اس حیثیت کو نہ دیکھا کرو بلکہ یہ دیکھو کہ اس میں نیکی کتنی ہے۔
چنانچہ حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کسی عورت سے نکاح کرنے کی چار ہی بنیادیں ہو سکتی ہیں- یا تو اس کے مال کی وجہ سے یا اس کے خاندان کی وجہ سے یا اس کے حسن وجمال کی وجہ سے یا اس کی دینداری کی وجہ سے۔ لیکن توُ دیندار عورت کو ترجیح دے۔ اللہ تیرا بھلا کرے اور تجھے دیندار عورت حاصل ہو۔ (بخاری۔ کتاب النکاح باب الاکفاء فی الدین)
تو اس طرف توجہ دلا کر آئندہ نسلوں کے دیندار ہونے کے ظاہری سامان کی طرف اصل میں توجہ دلائی ہے۔ اپنے گھریلو ماحول کو پر سکون بنانے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ کیونکہ اگر ماں نیک اور دیندار ہو گی تو عموماً اولاد بھی دیندار ہوتی ہے۔ اور نیک اور دیندار اولاد سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں ہے جو انسان کو سکون پہنچا سکے۔ ایک مومن کے لئے معاشرے میں عزت کاباعث نیک اور دیندار اولاد ہی بن سکتی ہے۔ تو اس طرف ہر احمدی کو توجہ دینی چاہئے۔ یہ شکایتیں اب بڑی عام ہونے لگ گئی ہیں کہ بچی نیک ہے، شریف ہے، بااخلاق ہے، پڑھی لکھی ہے، جماعتی کاموں میں حصہ بھی لیتی ہے، لیکن شکل ذرا کم ہے یاقد اس کا دیکھنے والوں کے معیار کے مطابق نہیں ہے۔ تو لوگ آتے ہیں دیکھتے ہیں اور چلے جاتے ہیں- اس بارے میں پہلے بھی ایک دفعہ توجہ دلا چکا ہوں کہ شکل اور قد کاٹھ تو تصویر اور معلومات کے ذریعہ سے بھی پتہ لگ سکتا ہے۔ پھر گھر جا کر بچیوں کو دیکھنا اور ان کو تنگ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس لئے یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ان چیزوں کو نہ دیکھو، دینداری کو دیکھو۔ اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنی نسلوں کو سنبھالنا ہے تو دینداری دیکھا کرو۔ اگر بچیوں کی دینداری دیکھیں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کے وارث بھی بنیں گے اور اپنی نسل کو بھی دین پر چلتا ہوا دیکھنے والے ہوں گے۔
بعض لوگ تو رشتے کے وقت لڑکیوں کو اس طرح ٹٹول کر دیکھ رہے ہوتے ہیں جس طرح قربانی کے بکرے کو ٹٹولا جاتا ہے۔ شادی تو ایک معاہدہ ہے۔ ایک فریق کی قربانی کا نام نہیں ہے۔ بلکہ دونوں فریقوں کی ایک دوسرے کی خاطر قربانی کا نام ہے۔ یہ ایسا بندھن ہے۔
حضرت عبداللہؓ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ دنیا تو سامان زیست ہے اور نیک عورت سے بڑھ کر اور کوئی سامان زیست نہیں ہے۔ (ابن ماجہ ابواب النکاح۔ باب افضل النساء)
پس ان لوگوں کے لئے جو ہر چیز کو دنیا کے پیمانے سے ناپتے ہیں- ان کوبھی یہ حدیث ذہن میں رکھنی چاہئے کہ نیک عورت سے بڑھ کر تمہارے لئے کوئی زندگی کا اور دنیاوی سامان نہیں ہے۔ نیک عورت تمہارے گھر کو بھی سنبھال کے رکھے گی اور تمہاری اولاد کی بھی اعلیٰ تربیت کرے گی۔ نتیجتاً تم دین و دنیا کی بھلائیاں حاصل کرنے والے ہوگے۔
پھر ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ صالح مرد اور صالح عورتوں کی شادی کروایا کرو۔ (سنن الدارمی۔ کتاب النکاح۔ باب فی النکاح الصالحین)
تو اس میں بھی نیک لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کی طرف اشارہ ہے۔ اور یہ نیک کام معاشرے کو فساد سے بچانے کاذریعہ ہے۔ اس لئے اس میں جلدی بھی کرنی چاہئے۔ لیکن آج کل تو بعض دفعہ دیکھا ہے ایسے لوگ کافی تعداد میں ہیں ماں باپ کے ساتھ لڑکے آتے ہیں 35-34سال کی عمر ہوتی ہے لیکن ان کو اپنے ساتھ چمٹائے رکھا ہوا ہے۔ ان کی ابھی تک شادیاں نہیں کروائیں- شادی کی طرف توجہ نہیں دیتے۔
بعض لوگ ایسے ہیں جو بیٹیوں کی کمائی کھانے کے لئے اس طرح کر رہے ہوتے ہیں- بعض بیٹوں کی کمائی کھانے کے لئے اس طرح کر رہے ہوتے ہیں- اور جو بیٹیوں کی کمائی کھانے والے ہیں وہ صرف اس لئے کہ گھر کے جو لڑکے ہیں وہ نکمے ہیں، کوئی کام نہیں کر رہے پڑھے لکھے نہیں اس لئے گھر بیٹیوں کی کمائی پر چل رہا ہے اور اگر شادی کر بھی دی تو کوشش یہ ہوتی ہے کہ داماد، گھر داماد بن کر رہے،گھر میں ہی موجود رہے جو اکثر ناممکن ہوتا ہے۔ جس سے جھگڑے پیدا ہوتے ہیں- اس لئے شادی کرنے کے بعد اگر میاں بیوی علیحدہ رہنا چاہتے ہیں اور ان کو توفیق ہے اور والدین عمر کے اس آخری حصے میں نہیں پہنچے ہوتے جہاں ان کو کسی کی مدد کی ضرورت ہو اور کوئی بچہ ان کے پاس نہ ہو، پھر تو ایک اور بات ہے قربانی کرنی پڑتی ہے۔ وہ بھی لڑکوں کا کام ہے۔ اگر کسی کے لڑکا نہ ہو تو پھر لڑکی کی مجبوری ہے۔ لیکن عموماً لڑکی بیاہ کر جب دوسرے گھر میں بھیج دی تو اس کو اپنا گھر بسانے دینا چاہئے۔ اور اس طرف جماعتی نظام کے ساتھ ہماری تینوں ذیلی تنظیمیں لجنہ، خدام، انصار، ان کو بھی توجہ دینی چاہئے۔ ان کو بھی اپنے طور پر تربیت کے تحت سمجھاتے رہنا چاہئے۔ انصار والدین کو سمجھائیں، لجنہ والدین کو، لڑکیوں کو اور خدام لڑکوں کو سمجھائیں-
پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت مغیرہؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک جگہ منگنی کا پیغام دیا تو آپؐ نے فرمایا کہ اس لڑکی کو دیکھ لو کیونکہ اس طرح دیکھنے سے تمہارے اور اس کے درمیان موافقت اور الفت کا امکان زیادہ ہے۔ (ترمذی کتاب النکاح۔ باب فی النظر الی المخطوبۃ)
اس اجازت کو بھی آج کل کے معاشرے میں بعض لوگوں نے غلط سمجھ لیا ہے۔ اور یہ مطلب لے لیا ہے کہ ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے ہر وقت علیحدہ بیٹھے رہیں، علیحدہ سیریں کرتے رہیں- دوسر ے شہروں میں چلے جائیں تو کوئی حرج نہیں، گھروں میں بھی گھنٹوں علیحدہ بیٹھے رہیں تو یہ چیز بھی غلط ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آمنے سامنے آکر شکل دیکھ کر ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ بعض حرکات کا باتیں کرتے ہوئے پتہ لگ جاتا ہے۔ پھر آجکل کے زمانے میں گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ کھانا کھاتے ہوئے بھی ایک دوسرے کی بہت سی حرکات وعادات ظاہر ہو جاتی ہیں- اور اگر کوئی بات ناپسندیدہ لگے تو بہتر ہے کہ پہلے پتہ لگ جائے اور بعد میں جھگڑے نہ ہوں- اور اگر اچھی باتیں ہیں تو موافقت اور الفت اس رشتے کے ساتھ اور بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ یا رشتے کے پیغام کے ساتھ۔ تو ایک تعلق شادی سے پہلے ہو جائے گا۔ دوسرے لوگ بعض دفعہ ان کا کردار یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی کا رشتہ ہو گیا ہے تو اس کو تڑوانے کی کوشش کریں- ان کو آمنے سامنے ملنے سے موقع نہیں ملے گا۔ ایک دوسرے کی حرکات دیکھنے سے کیونکہ ایک دوسرے کو جانتے ہوں گے۔ لیکن بعض لوگ دوسری طرف بھی انتہا کو چلے گئے ہیں ان کو یہ بھی برداشت نہیں کہ لڑکا لڑکی شادی سے پہلے یا پیغام کے وقت ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ بھی سکیں اس کو غیرت کا نام دیا جاتا ہے۔ تو اسلام کی تعلیم ایک سموئی ہوئی تعلیم ہے۔ نہ افراط نہ تفریط۔ نہ ایک انتہا نہ دوسری انتہا۔ اور اسی پر عمل ہونا چاہئے۔ اسی سے معاشرہ امن میں رہے گا اور معاشرے سے فساد دور ہو گا۔
پھر ایک روایت ہے حضرت معقلؓ بن یسار بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا تم ایسی عورتوں سے شادی کرو جو محبت کرنا جانتی ہوں اور جن سے زیادہ اولاد پیدا ہو تا کہ میں کثرت افراد کی وجہ سے سابقہ امتوں پر فخر کر سکوں- (ابو داؤد۔ کتاب النکاح۔ باب تزویج الابکار)
تو زیادہ بچوں والی عورت کو آپ نے یہ بھی مقام دیا کہ ان کا بچوں کی کثرت کی وجہ سے ایک مقام ہے۔ کیونکہ یہ میری امت میں اضافے کاسبب بن سکتی ہیں- یہاں آپ کی مراد صرف یہ نہیں ہے کہ گنتی بڑھا لو، افراد زیادہ ہو جائیں- بلکہ ایسی اولاد ہو جو نیکیوں میں بڑھنے والی بھی ہو۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے والی بھی ہو تبھی وہ آپ کے لئے باعث فخر ہے۔ پس اس میں عورتوں پر یہ ذمہ داری بھی ڈالی ہے کہ صرف اولاد پر فخر نہ کریں بلکہ نیکیوں پر چلنے والی اولاد بنانے کی کوشش کریں- جو آپؐ کی امت کہلانے میں فخر محسوس کرے اور آپؐ جس طرح فرما رہے ہیں کہ مجھے بھی ان عورتوں پر فخر ہوگا جن کی اولادیں زیادہ ہوں گی اور نیکیوں پر قائم بھی ہوں گی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی صحابہ کو شادی کی اکثر تلقین فرماتے رہتے تھے بلکہ بار بار توجہ دلاتے رہتے تھے۔ اور بعض دفعہ جب کسی کا رشتہ طے کرواتے تو خود بھی بڑی دلچسپی لے کر ذاتی طور پر انتظامات فرماتے۔ اسی طرح کی ایک روایت حضرت ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ (لمبی روایت ہے) مسند احمد بن حنبل میں آئی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ (حضرت ربیعہ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے ایک دفعہ رسول کریمؐ نے فرمایا ربیعہ ! شادی نہیں کرو گے۔ تو انہوں نے عرض کی نہیں پھر کچھ عرصے بعد آپؐ نے فرمایا ربیعہ !شادی نہیں کرو گے تو انہوں نے کہا نہیں- ربیعہ نے خود ہی سوچا کہ میرا برا بھلا چاہنے والے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں- آپؐ جانتے ہیں کہ کیا بھلا ہے کیا برا ہے۔ اگر اب مجھ سے پوچھا تو مَیں ہاں میں جواب دوں گا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری دفعہ پوچھا توانہوں نے ہاں میں جواب دیا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار کے فلاں خاندان کی طرف جاؤ اور ان کو میرا پیغام دو کہ فلاں لڑکی سے تمہاری شادی کر دیں- چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام پر اس نے فوراً تسلیم کر لیا اور ان کی شادی اس لڑکی سے ہوگئی۔ اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم نے ولیمہ کا انتظام بھی سارا خود فرمایا اور خود ولیمے میں شامل بھی ہوئے اور دعا بھی کروائی۔ (مسند احمد بن حنبل۔ مسند المدینین)
ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ جب کسی شخص کے پاس کوئی یتیم لڑکی ہوتی تو وہ اس پر ایک کپڑا ڈال دیتا تھا۔ جب وہ کپڑا ڈال دیتا تھا تو کسی کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ کوئی اس لڑکی سے نکاح کر سکے۔ اگر تو وہ خوبصورت اور صاحب مال ہوتی تو وہ خود اس سے نکاح کر لیتا اور اس کا مال کھا جاتا۔ اور شکل و صورت زیادہ اچھی نہ ہوتی اور مالدار ہوتی تو وہ شخص اس کو ساری عمر اپنے پاس روک لیتا یہاں تک کہ وہ مر جاتی۔ جب وہ مر جاتی تو اس کے مال و متاع کا وہ مالک بن جاتا۔
توعرب کے یہ حالات تھے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بیواؤں اور یتیموں کی شادیوں کی طرف توجہ دلائی۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمنے بھی خاص دلچسپی لے کر اپنے صحابہ اور صحابیات کی شادیاں کروائیں اور اس حکم پر عمل کروایا اور تلقین فرمائی کہ بلوغت کی عمر کو پہنچنے پر عورت و مرد کی شادی کر دو۔ بیوائیں بھی اگر جوانی کی عمر میں ہیں یا شادی کی خواہش مند ہیں تو ان کی شادیاں کرو۔ اور صرف ذاتی دنیاوی فائدے اٹھانے کے لئے گھروں میں لڑکیوں کو بٹھائے نہ رکھو۔ اور نہ ہی لڑکوں کی اس لئے شادیوں میں تاخیر کرو۔ تویہ اب پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ قابل شادی لوگوں کی شادیاں کروانے کی طرف توجہ دے۔
اس زمانے میں بڑی فکر کے ساتھ قرآن او ر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنے کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے کوشش فرمائی ہے۔ او رخاص طور پر یہ کوشش اور توجہ فرمائی کہ احمدی لڑکیوں اور لڑکوں کے رشتے جماعت میں ہی ہوں تاکہ آئندہ نسلیں دین پر قائم رہنے والی نسلیں ہوں- آپؑ نے جماعت میں رشتے کرنے کے بارے میں آپس میں بڑی تلقین فرمائی ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو غیروں میں رشتے کرتے ہیں- یہ ان کے لئے ہے۔
آپؑ فرماتے ہیں کہ’’چونکہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم اس کی بزرگ عنایات سے ہماری جماعت کی تعداد میں بہت ترقی ہو رہی ہے اور اب ہزاروں تک اس کی نوبت پہنچ گئی اور عنقریب بفضلہ تعالیٰ لاکھوں تک پہنچنے والی ہے‘‘۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے کروڑوں تک پہنچی ہوئی ہے۔ ‘’اس لئے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ ان کے باہمی اتحاد کے بڑھانے کے لئے اور نیز ان کو اہل اقارب کے بداثر اور بدنتائج سے بچانے کے لئے لڑکیوں اور لڑکوں کے نکاح کے بارے میں کوئی احسن انتظام کیا جائے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جو لوگ مخالف مولویوں کے زیر سایہ ہو کر متعصب اور عناد اور بخل اور عداوت کے پورے درجہ تک پہنچ گئے ہیں ان سے ہماری جماعت کے نئے رشتے غیر ممکن ہو گئے ہیں جب تک کہ وہ توبہ کر کے اسی جماعت میں داخل نہ ہوں- اور اب یہ جماعت کسی بات میں ان کی محتاج نہیں- مال میں، دولت میں، علم میں،فضیلت میں، خاندان میں، پرہیز گاری میں، خدا ترسی میں سبقت رکھنے والے اس جماعت میں بکثرت موجود ہیں- اور ہر ایک اسلامی قوم کے لوگ اس جماعت میں پائے جاتے ہیں تو پھر اس صورت میں کچھ بھی ضرورت نہیں کہ ایسے لوگوں سے ہماری جماعت نئے تعلق پید اکرے جو ہمیں کافر کہتے ہیں اور ہمارا نام دجال رکھتے یا خود تو نہیں مگر ایسے لوگوں کے ثنا خوان اور تابع ہیں’‘۔ یعنی اگر خود نہیں کہتے لیکن جو لوگ کہنے والے ہیں ان کی تعریف کرتے ہیں- اور ’’یاد رہے کہ جو شخص ایسے لوگوں کو چھوڑ نہیں سکتا وہ ہماری جماعت میں داخل ہونے کے لائق نہیں- جب تک پاکی اور سچائی کے لئے ایک بھائی بھائی کو نہیں چھوڑے گااور ایک باپ بیٹے سے علیحدہ نہیں ہوگاتب تک وہ ہم میں سے نہیں- سو تمام جماعت توجہ سے سن لے کہ راست باز کے لئے ان شرائط پر پابندہونا ضروری ہے۔ اس لئے مَیں نے انتظام کیا ہے کہ آئندہ خاص میرے ہاتھ میں مستور اور مخفی طور پر‘‘ یعنی Confidentialہو گا ’’ایک کتاب رہے جس میں اس جماعت کی لڑکیوں اور لڑکوں کے نام لکھے رہیں- اور اگر کسی لڑکی کے والدین اپنے کنبہ میں ایسی شرائط کا لڑکا نہ پاویں جو اپنی جماعت کے لوگوں میں سے ہو اور نیک چلن اور نیز ان کے اطمینان کے موافق لائق ہو۔ ایسا ہی اگر ایسی لڑکی نہ پاویں تو اس صورت میں ان پر لازم ہوگا کہ و ہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اس جماعت میں سے تلاش کریں- اور ہر ایک کوتسلی رکھنی چاہئے کہ ہم والدین کے سچے ہمدرد اور غمخوار کی طرح تلاش کریں گے اور حتی الوسع یہ خیال رہے گا کہ وہ لڑکا یا لڑکی جو تلاش کئے جائیں اہل رشتہ کے ہم قوم ہوں- اور یا اگر یہ نہیں تو ایسی قوم میں سے ہوں جو عرف عام کے لحاظ سے باہم رشتہ داریاں کر لیتے ہوں- اور سب سے زیادہ یہ خیال رہے گا کہ وہ لڑکا یا لڑکی نیک چلن اور لائق بھی ہوں اور نیک بختی کے آثار ظاہر ہوں- یہ کتاب پوشیدہ طور پر رکھی جائے گی اور وقتًا فوقتاً جیسی صورتیں پیش آئیں گی اطلاع دی جائے گی اورکسی لڑکے یا لڑکی کی نسبت کوئی رائے ظاہر نہیں کی جائے گی جب تک اس کی لیاقت اور نیک چلنی ثابت نہ ہو جائے‘‘۔ بعض لوگ ویسے بھی پوچھ لیتے ہیں آ کے پہلے بتاؤ۔ ‘’اس لئے ہمارے مخلصوں پر لازم ہے کہ اپنی اولاد کی ایک فہرست اسماء (ناموں کی ایک فہرست)بقید عمرو قومیت بھیج دیں تا وہ کتاب میں درج ہو جائے’‘۔ (مجموعہ اشتہارات۔ جلد سوم۔ صفحہ 51,50)
یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے ایک اعلان تھا۔ اسی کے تحت اب یہ شعبہ رشتہ ناطہ مرکز میں بھی قائم ہے، تمام دنیا میں بھی قائم ہے، بعض انفرادی طور پر بھی لوگ دلچسپی رکھتے ہیں- ان کے سپرد بھی یہ کام جماعتی طورپر کیا گیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے رشتے طے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی بعض مشکلات ہیں- اللہ تعالیٰ وہ بھی دور فرمائے لیکن اس میں ان لوگوں کا تسلی بخش جواب بھی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ باہر ہمیں رشتے کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ فرمایا کہ اگر خود ایسے لوگ کافر نہیں کہتے یا فتوے نہیں لگاتے لیکن ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، ان کی ہاں میں ہاں ملا تے ہیں- خوف کی وجہ سے کچھ کہہ نہیں سکتے ان کی مسجدوں میں جاتے ہیں ان کی باتیں سنتے ہیں تو وہ انہی لوگوں میں شامل ہیں اور ایسے لوگوں سے رشتہ داریاں نہیں کرنی چاہئیں- پھر آپؑ نے فرمایا کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے نام بھیجیں- اب ہمارا یہ شعبہ رشتہ ناطہ ہے جیسا کہ میں نے کہا جماعت میں ہر جگہ قائم ہے ان کے خلاف عموماً یہ شکایات ہوتی ہیں کہ لڑکیوں کے رشتے نہیں کرواتے۔ اس کی ایک تو یہ دقت ہے کہ ماں باپ لڑکیوں کے نام بھجوادیتے ہیں لیکن لڑکوں کے نام نہیں بھجواتے۔ اگر لڑکے بھی فہرست میں ہوں تو پھر ہی رشتے کروانے میں سہولت بھی ہوگی۔ عموماً لڑکیوں کی تعداد نسبتًا لڑکوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ ٹھیک ہے۔ لیکن نسبت اتنی زیادہ ہی ہے کہ اگر 52-51لڑکیاں ہیں تو 48،49لڑکے ہوں گے۔ لیکن جو جماعت کے پاس کوائف آتے ہیں اس میں اگر7۔ 8لڑکیوں کے کوائف ہوتے ہیں تو ایک لڑکے کے کوائف ہوتے ہیں- اس طرح تو پھر رشتے ملانے بہت مشکل ہو جاتے ہیں- اگر دونوں طرف کے مکمل کوائف آئیں تو رشتے کروانے میں سہولت ہوگی۔ لڑکوں کے رشتے بعض دفعہ ماں باپ دونوں ہی بلکہ اکثر خود کروانے کی کوشش کرتے ہیں- سوائے قریبی رشتہ داریوں کے یا عزیز داریوں کے، لڑکوں کے رشتوں کے لئے بھی نام اور فہرست اور کوائف نظام جماعت کو مہیا ہونے چاہئیں- تبھی پھر لڑکیوں کے رشتے بھی ہو سکتے ہیں تاکہ آپس میں دیکھ کے طے کئے جا سکیں- اس لئے والدین کے علاوہ لڑکوں کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ ایک تو جماعت کے اندر لڑکیوں کا رشتہ طے کرنے کی کوشش کریں اور اگر اپنے عزیز رشتہ داروں میں نہیں ملتا تو جماعتی نظام کے تحت طے کرنے کی کوشش کریں- اور پھر بعض لوگ خاندانوں اور ذاتوں اور شکلوں وغیرہ کے مسئلے میں الجھ جاتے ہیں- تھوڑا سامَیں نے پہلے بھی بتایا تھا اور پھر انکار کر دیتے ہیں- پھر ان مسئلوں میں اس طرح الجھتے ہیں توپھر لڑکیوں کے رشتے طے کرنے میں دقت پیش آتی ہے۔ تو یہ ذاتیں وغیرہ بھی اب چھوڑنی چاہئیں-
اس بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ’’یہ جو مختلف ذاتیں ہیں یہ کوئی وجہ شرافت نہیں- خدا تعالیٰ نے محض عرف کے لئے یہ ذاتیں بنائی ہیں اور آجکل تو صرف بعد چار پشتوں کے حقیقی پتہ لگاناہی مشکل ہے۔ متقی کی شان نہیں کہ ذاتوں کے جھگڑے میں پڑے۔ جب اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا کہ میرے نزدیک ذات کی کوئی سند نہیں- حقیقی مکرمت اور عظمت کا باعث فقط تقویٰ ہے‘‘۔ تو پھر ان چیزوں کے چکر میں نہیں پڑنا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو تقویٰ پر چلتے ہوئے رشتے قائم کرنے کی توفیق دے۔ بچوں کے رشتے کروانے کی توفیق دے اور قرآنی حکم کے مطابق یتیموں، بیواؤں ہر ایک کے رشتے کروانے کی توفیق دے نظام جماعت کو بھی اور لوگوں کو بھی معاشرے کو بھی۔ اور سب بچیاں جن کے والدین پریشان ہیں ان سب کی پریشانیاں دور فرمائے۔ آمین

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/iNFz5]

اپنا تبصرہ بھیجیں