خدمت خلق کے موضوع پر روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کا سالانہ نمبر 2011ء

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کا سالانہ نمبر 2011ء خدمت خلق کے حوالہ سے خاص نمبر کے طور پر شائع کیا گیا ہے۔ 120 صفحات پر مشتمل یہ خصوصی اشاعت بنیادی طور پر تین حصوں میں منقسم ہے۔ پہلے میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں قرآن و حدیث کے ارشادات نیز حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے کرام کے فرمودات کو پیش کیا گیا ہے۔ دوسرے میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور صحابہ کرام کے پاکیزہ نمونے شامل ہیں ۔ جبکہ تیسرے حصہ میں جماعت احمدیہ اور اس کی ذیلی تنظیموں نیز ہیومینیٹی فرسٹ سمیت چند دیگر عالمی اداروں کی خدمتِ انسانیت کے حوالہ سے کی جانے والی کاوشوں پر اعدادوشمار کے ساتھ مضامین شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ متعدد نظمیں اور بہت سی تاریخی تصاویر بھی اس ضخیم اشاعت کا حصّہ ہیں ۔
قرآن کریم میں خدمت خلق کا عالمی منشور بیان کرتے ہوئے خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ: تم بہترین امت ہو جو تمام انسانوں کے فائدہ کے لئے نکالی گئی ہو۔ تم اچھی باتوں کا حکم دیتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔ (آل عمران: 111)
قرآن کریم میں بنی نوع انسان کے تمام طبقات سے ہمدردی کرنے کی تلقین کرتے ہوئے اخوت کی تعلیم دی گئی ہے۔ لوگوں کے قصور معاف کرنے کا ارشاد ہے۔ والدین اور رحمی رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے۔ کمزوروں کی مدد کرنے کی تلقین ہے۔ یتامیٰ اور بیوگان کے حقوق کا بیان ہے اور اس مقصد کے لئے انفاق فی سبیل اللہ پر بھی زور دیا گیا ہے۔ خصوصی اشاعت میں شامل آیاتِ قرآنی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ اور آپؐ کے قیمتی ارشادات جو اس حوالہ سے مسلمانوں کی واضح رہنمائی کرتے ہیں اس خصوصی اشاعت کا حصہ ہیں ۔
= آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد حضرت عائشہؓ سے مروی ہے: اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی عیال ہیں اور اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوقات میں سے وہ شخص بہت پسند ہے جو اس کی عیال یعنی مخلوق کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتاؤں کہ آگ کس پر حرام ہے؟ وہ حرام ہے ہر اُس شخص پر جو (اللہ اور اس کے بندوں سے) قریب ہے، اُن سے نرم سلوک کرتا ہے، ملائمت رکھتا ہے اور ان کے لئے سہولت مہیا کرتا ہے۔
اسی طرح حضرت جابرؓبیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں اہلِ جنت کے متعلق خبر نہ دوں ؟ پھر فرمایا کہ ہر آسانی پیدا کرنے والا، نرم خُو، نرم دل اور لوگوں کے قریب رہنے والا اہل جنت میں شامل ہے۔
= حضرت مسیح موعودؑ شرائط بیعت میں سے نویں شرط بیعت میں فرماتے ہیں : ’’عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض للہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا‘‘۔
حضور علیہ السلام مزید فرماتے ہیں کہ ’’دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔ میں بنی نوع انسان سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر۔ مَیں صرف ان باطل عقائد کا دشمن ہوں جن سے سچائی کا خون ہوتا ہے۔ انسان کی ہمدردی میرا فرض ہے اور جھوٹ اور شرک اور ظلم اور ہر ایک بدعملی اور ناانصافی اور بداخلاقی سے بیزاری میرا اصول‘‘۔
(اربعین۔ روحانی خزائن جلد17 صفحہ 344)
= حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ فرماتے ہیں : ’’قرآن کریم میں لباس اور مکان دینے کی تاکید نہیں آئی جس قدر کھانا کھلانے کی آئی ہے۔ اُن لوگوں کو خدا نے کافر کہا ہے جو بھوکے کو کہہ دیتے ہیں کہ میاں ! تم کو خدا ہی دے دیتا اگر دینا منظور ہوتا۔
قرآن کریم کے دل سورۃ یٰسین میں ایسا لکھا ہے

قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا لِلَّذِیْنَ آمَنُوا أَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَاء ُ اللہُ أَطْعَمَہُ…۔

آجکل چونکہ قحط ہورہا ہے انسان اس نصیحت کو یاد رکھے اور دوسرے بھوکوں کی خبر لینے کو بقدر وسعت تیار رہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے لئے یتیموں ، مسکینوں اور پابندِ بلا کو کھانا دیتا رہے۔ مگر صرف اللہ کے لئے دے۔ یہ تو جسمانی کھانا ہے۔ روحانی کھانا، ایمان کی باتیں ، رضاء الٰہی اور قرب کی باتیں یہاں تک کہ مکالمہ الٰہیہ تک پہنچا دینا اسی رنگ میں رنگین ہوتا ہے۔ یہ بھی طعام ہے۔ وہ جسم کی غذا ہے یہ روح کی غذا۔ منشاء یہ ہو کہ اس لئے کھانا پہنچاتے ہیں کہ

إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا یَوْماً عَبُوْساً قَمْطَرِیْراً۔

کہ ہم اپنے ربّ سے ایک دن سے جو عبوس اور قمطریر ہے ڈرتے ہیں ۔ عبوس تنگی کو کہتے ہیں ۔ قمطریر دراز یعنی قیامت کا دن تنگی کا ہوگا اور لمبا ہوگا۔ بھوکوں کی مدد کرنے سے خداتعالیٰ قحط کی تنگی اور درازی سے بھی نجات دے دیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے

فَوَقَاہُمُ اللہُ شَرَّ ذٰلِکَ الْیَوْمِ وَلَقّٰہُمْ نَضْرَۃً وَسُرُوْراً۔

خداتعالیٰ اس دن کے شر سے بچالیتا ہے اور یہ بچانا بھی سرور اور تازگی سے ہوتا ہے۔ مَیں پھر کہتا ہوں کہ یاد رکھو آجکل کے ایام میں مسکینوں اور بھوکوں کی مدد کرنے سے قحط سالی کے ایام کی تنگیوں سے بچ جاؤ گے۔‘‘
(حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ 290 تا 291)
= حضرت مصلح موعودؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ہم آپؐ کی زندگی کے اخلاقی پہلو اور غربا کی امداد کو لیتے ہیں تو اس میں بھی آپ کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا۔ مکہ کے بعض اشخاص نے مل کر ایک ایسی جماعت بنائی جو غریب لوگوں کے حقوق کی حفاظت کرے اور چونکہ اس کے بانیوں میں سے اکثر کے نام میں فضل آتا تھا اس لئے اسے حلف الفضول کہا جاتا ہے۔ اس میں آپؐ بھی شامل ہوئے۔ یہ نبوت سے پہلے کی بات ہے بعد میں صحابہؓ نے ایک دفعہ دریافت کیا کہ یہ کیا تھی؟ آپ سمجھ گئے کہ ان کا مطلب یہ ہے کہ آپ تو نبی ہونے والے تھے۔ آپؐ ایک انجمن کے ممبر کس طرح ہوگئے جس میں دوسروں کے ماتحت ہو کر کام کرنا پڑتا تھا۔ آپؐ نے فرمایا یہ تحریک مجھے ایسی پیاری تھی کہ اگر آج بھی کوئی اس کی طرف بلائے تو میں شامل ہونے کو تیار ہوں ۔ گویا غربا کی مدد کے لئے دوسروں کی ماتحتی سے بھی آپؐ کو عار نہیں تھی۔
ایک غریب شخص نے ابوجہل سے کچھ قرضہ لینا تھا اور وہ غریب سمجھ کے ادا نہیں کرتا تھا وہ حلف الفضول کے لیڈروں کے پاس گیا کہ دلوا دو۔ مگر ابوجہل سے کہنے کی کوئی جرأت نہ کرتا تھا۔ آخر وہ شخص ان ایام میں جب آپ نبوت کے مقام پر فائز ہوچکے تھے آپؐ کے پاس آیا کہ آپ بھی حلف الفضول کے ممبروں میں سے ہیں ، ابوجہل سے میرا قرضہ دلوادیں ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ابوجہل آپؐ کے قتل کا فتویٰ دے چکا تھا اور مکّہ کا ہر شخص آپ کا جانی دشمن تھا آپ فوراً ساتھ چل پڑے اور جا کر ابوجہل کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس نے پوچھا کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا محمدؐ۔ وہ گھبرا گیا کہ کیا معاملہ ہے۔ فوراً آکر دروازہ کھولا اور پوچھا کیا بات ہے؟ آپؐ نے فرمایا اس غریب کا روپیہ کیوں نہیں دیتے۔ اس نے کہا ٹھہریے ابھی لاتا ہوں اور اندر سے روپیہ لا کر فوراً دے دیا۔ لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کر دیا کہ یہ ڈر گیا ہے۔ مگر اس نے کہا میں تمہیں کیا بتاؤں کہ کیا ہوا۔ جب میں نے دروازہ کھولا تو ایسا معلوم ہو اکہ محمدؐکے دائیں اور بائیں دو دیوانے اونٹ کھڑے ہیں جو مجھے نوچ کر کھا جائیں گے۔ کوئی تعجب نہیں یہ معجزہ ہے۔ مگر اس میں بھی شک نہیں کہ صداقت کا بھی ایک رعب ہوتا ہے۔ غرضیکہ ایک غریب کا حق دلوانے کے لئے آپؐ نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا۔‘‘
(نبی کریمؐ کے عظیم الشان اوصاف۔ انوارالعلوم جلد12 صفحہ360)
= حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے ایک بار باہمی اخوّت اور خدمت خلق کا جوش پیدا کرنے کے حوالہ سے فرمایا کہ ’’اس دنیا میں جب بھائی بھائی کا خیال نہیں رکھتا اور ایک قوم کی اکثریت اس مرض میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ تو اس قوم پر ایک دن انقلاب کا بھی چڑھ آتا ہے۔ جس میں بہت سے بڑے اور امیر لوگ چھوٹے اور غریب کر دئیے جاتے ہیں ۔ وہ دن ان کے پچھتانے کا ہوتا ہے۔ جس قوم کے ہر فرد کو اس کی ضروریات میسر آتی رہیں اور ان کے دل مطمئن اور تسلی یافتہ ہوں ۔ اس قوم میں اس قسم کا انقلاب بپا نہیں ہوا کرتا۔ انقلابات اور ریوولیوشنز انہی ملکوں اور قوموں میں ہوتی ہیں جن کے ایک بڑے حصہ کو دھتکارا جاتا ہے اور ان کی ضروریات کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ دیکھو خدا تعالیٰ نے ایک ضرورت مند کو اور اس کے ساتھ نیکی کرنے کو کتنا بڑا مقام دیا ہے۔ آخرت کے دن خداتعالیٰ فرمائے گا: مَیں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا کھلایا۔ یا بعض دوسروں سے کہے گا کہ مَیں بھوکا تھا تم نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔
پہلے فریق کو وہ فرمائے گا کہ میں تم سے خوش ہوں اور تمہیں اپنی رضا کے عطر سے ممسوح کرتا ہوں اور دوسروں کو کہے گا کہ میں بھوکا تھا تم نے میرا خیال نہیں کیا۔ اس لئے میں تمہیں جہنم میں دھکیلتا ہوں ۔
کتنے زور اور تاکید سے ہمیں توجہ دلائی گئی ہے کہ ہم بھوکے کو کھانا کھلائیں اور ضرورتمند کو ضروریاتِ زندگی مہیا کریں ۔’’ (خطبات ناصر جلد1 صفحہ47)
= حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے، جن کے کارہائے نمایاں (ہومیوپیتھی میں خدمت، بیوت الحمد سکیم، سیّدنا بلال فنڈ اور مریم شادی فنڈ جیسی سکیموں کی وجہ سے) ہمیشہ سنہری حروف سے لکھے جاتے رہیں گے، پانچ اہم بنیادی اخلاق بچوں میں پیدا کرنے کی تحریک فرمائی تھی۔ ان میں سے چوتھے خلق کو بیان کرتے ہوئے آپؒ فرماتے ہیں : ’’چوتھی بات غریب کی ہمدردی اور دکھ دور کرنے کی عادت ہے۔ یہ بھی بچپن ہی سے پیدا کرنی چاہئے۔ جن بچوں کو نرم مزاج مائیں غریب کی ہمدردی کی باتیں سناتی ہیں اور غریب کی ہمدردی کا رجحان ان کی طبیعتوں میں پیدا کرتی ہیں وہ خداتعالیٰ کے فضل کے ساتھ مستقبل میں ایک عظیم الشان قوم پیدا کررہی ہوتی ہیں ۔ … لیکن وہ مائیں جو خودغرضانہ رویہ رکھتی ہیں اور اپنے بچوں کو ان کے اپنے دکھوں کا احساس تو دلاتی رہتی ہیں غیر کے دکھ کا احساس نہیں دلاتیں وہ ایک خود غرض قوم پیدا کرتی ہیں جو لوگوں کے لئے مصیبت بن جاتی ہیں ۔ اس لئے انسانی ہمدردی پیدا کرنا نہ صرف نہایت ضروری ہے بلکہ اس کے بغیر آپ اپنے اس اعلیٰ مقصد کوپا نہیں سکتے جس کیلئے آپ کو پیدا کیا گیا ہے۔‘‘
(خطبات طاہر جلد8 صفحہ764)
= حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خصوصیت سے مختلف ذیلی تنظیموں اور جماعت میں قائم ایسوسی ایشنوں کو غریب ممالک میں صحت اور تعلیم کے حوالہ سے خدمت بجالانے سے متعلق کئی منصوبے جاری فرمائے نیز عام احمدیوں کو بھی بارہا خدمت خلق کے مختلف میدانوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ چنانچہ ایک موقع پر بعض جماعتی خدمات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ’’جماعتی سطح پر یہ خدمت انسانیت حسب توفیق ہو رہی ہے۔ مخلصین جماعت کو خدمت خلق کی غرض سے اللہ تعالیٰ توفیق دیتا ہے، وہ بڑی بڑی رقوم بھی دیتے ہیں جن سے خدمت انسانیت کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے افریقہ میں بھی اور ربوہ اور قادیان میں بھی واقفین ڈاکٹر اور اساتذہ خدمت بجا لا رہے ہیں ۔ لیکن میں ہر احمدی ڈاکٹر ، ہر احمدی ٹیچر اور ہر احمدی وکیل اور ہر وہ احمدی جو اپنے پیشے کے لحاظ سے کسی بھی رنگ میں خدمت انسانیت کر سکتا ہے ، غریبوں اور ضرورت مندوں کے کام آسکتا ہے ، ان سے یہ کہتا ہوں کہ وہ ضرور غریبوں اور ضرورت مندوں کے کام آنے کی کوشش کریں ۔ تو اللہ تعالیٰ آپ کے اموال و نفوس میں پہلے سے بڑھ کر برکت عطا فرمائے گا انشاء اللہ۔ اگر آپ سب اس نیت سے یہ خدمت سر انجام دے رہے ہوں کہ ہم نے زمانہ کے امام کے ساتھ ایک عہد بیعت باندھا ہے جس کو پورا کرنا ہم پر فرض ہے تو پھر دیکھیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور برکتوں کی کس قدر بارش ہوتی ہے جس کو آپ سنبھال بھی نہیں سکیں گے۔
(خطبہ جمعہ 12 ستمبر 2003ء)

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/CHFtN]

اپنا تبصرہ بھیجیں