حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍اپریل 2000ء میں مکرم مسعود احمد خان دہلوی صاحب حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی عالی ظرفی کے آئینہ دار ایک مناظرہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اپنے مخصوص اوصاف کا سامعین پر نہایت نیک اثر چھوڑنے میں حضرت مولوی صاحب کو یدطولیٰ حاصل تھا۔ آپ کی کوشش ہوتی کہ مدمقابل ہی لاجواب نہ ہو بلکہ سامعین، اسلام کے حق میں نیک اثر قبول کرلیں۔ گزشتہ صدی عیسوی کی تیسری دہائی کے اواخر میں آریہ سماج دہلی کا سالانہ اجتماع دیوان ہال میں منعقد ہوا جس میں انہوں نے جملہ مذاہب کو مناظرے کا چیلنج دیا۔ جماعت احمدیہ دہلی کی درخواست پر مرکز سے حضرت مولوی صاحب اور محترم مہاشہ محمد عمر صاحب کو بھجوادیا گیا۔ آریوں کی طرف سے مہاشہ رامچندر دہلوی کے علاوہ پیامی نام کے ایک پنجابی مناظرہ کر رہے تھے۔ مہاشہ رامچندر کو قرآنی آیات ازبر تھیں اور اُن کا عقلی استدلال بھی بہت پختہ ہوتا تھا اس لئے بسااوقات وہ مجمع پر چھا جاتے تھے لیکن پیامی نامی آریہ کا انداز تمسخرانہ تھا اور وہ مدمقابل کو لایعنی باتوں میں الجھانے کا ماہر تھا۔
احمدیوں کے ساتھ مناظرہ تیسرے دن ہونا تھا۔ اُس روز سارا ہال مردوں سے اور ایک مخصوص حصہ عورتوں سے بھرا ہوا تھا۔ پیامی نامی دریدہ دہن کو آریوں نے مناظر مقرر کیا اور اُس نے حضرت مولوی صاحب کو لایعنی باتوں میں الجھانے کی کوشش کی لیکن آپ نے اُس پر ایسے تابڑتوڑ حملے کئے کہ وہ بوکھلا اٹھا اور بعض کتابوں کی عبارتیں پڑھ کر ایسی متبذل باتوں پر اتر آیا کہ جن کا بیان قطعاً مناسب نہ تھا۔ حضرت مولانا نے کمال متانت اور وقار سے اپنے دلائل جاری رکھے اور پیامی جی کی لچر باتوں کا ایک کتاب لہراتے ہوئے صرف اتنا جواب دیا کہ:
’’آریہ صاحبان کی یہ کتاب میرے پاس موجود ہے۔ مَیں اگر جواب دینا چاہوں تو مَیں اس میں سے بہت ہی لچر قسم کی ایسی باتیں پڑھ کر سناسکتا ہوں کہ جنہیں سن کر آریہ صاحبوں کے ہوش اُڑ جائیں گے۔ لیکن وہ خاطر جمع رکھیں، مَیں ایسا نہیں کروں گا۔ ظاہر ہے پیامی جی کو اپنی ماؤں بہنوں کی بھی کوئی شرم نہیں ہے ورنہ وہ ایسی باتیں یہاں بیان کرکے بے حیائی کا مظاہرہ نہ کرتے‘‘۔
پھر آپ نے ہال کے ایک طرف بیٹھی ہوئی عورتوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا:
’’یہ میری بھی مائیں بہنیں ہیں اور ان کا میرے دل میں بڑا احترام ہے۔ لہٰذا مَیں ایسی کوئی غیرشائستہ بات زبان پر نہیں لاؤں گا اور نہ مَیں کبھی ایسی باتیں زبان پر لاسکتا ہوں جن کا زبان پر لانا شرعاً اور اخلاقاً سراسر نامناسب اور ناجائز ہے۔‘‘
حضرت مولوی صاحب کے اس اعلان سے آریہ شرفاء کی زبانوں پر بے ساختہ تحسین کے کلمات آئے بغیر نہ رہے اور آریوں کے صدر مہاشہ رامچندر نے اپنے مناظر کی غیرشائستہ حرکت پر حاضرین سے معافی مانگی اور اپنے مناظر کو کہا کہ آئندہ کوئی غیرشائستہ بات وہ زبان پر نہ لائیں ورنہ وہ مناظرہ ختم کرنے کا اعلان کردیں گے۔ اس کے ساتھ ہی آریہ مناظر کی جم کر مناظرہ کرنے کی سکت باقی نہ رہی اور حضرت مولانا آخر تک مناظرے پر چھائے رہے۔ مناظرہ کے اختتام پر مسلمان اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے دیوان ہال سے باہر آئے اور مولانا کے پیچھے جلوس کی شکل میں چلنے لگے۔ وہ باہم باتیں کرتے ہوئے آپؓ کے علم کی وسعت، خطابت کے منفرد انداز اور قوت استدلال کی تعریف کرتے جارہے تھے کہ ایک مولوی صاحب کہنے لگے:
’’بے شک مولوی اللہ دتہ (یعنی حضرت مولوی ابوالعطاء صاحب) بہت بڑے عالم اور منجھے ہوئے مناظر ہیں لیکن قادیانیوں کا سب سے بڑا عالم مولوی راجیکی ہے، عربی دانی میں ہندوستان بھر میں کوئی عالم اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا‘‘۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/Vd41a]

اپنا تبصرہ بھیجیں