حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍اگست 2009ء میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒکے حالات زندگی مکرم نذیر احمد سانول صاحب نے بیان کئے ہیں۔
آپؒ کا اصل نام حسن تھا اور ’’معین الدین‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔آپؒ کے والد کا اسم گرامی خواجہ غیاث الدین تھا۔ نسب پاک بارہویں پشت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ملتا ہے۔ آپؒ 9جمادی الآخر 523ھ بروز پنجشنبہ بوقت مغرب بمقام سنجر پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا بیان ہے کہ آپؒ کی ولادت ہوئی تو میرا تمام گھر نور سے بھر گیاتھا۔
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ لکھتے ہیں: اصل وطن قصبہ سنجرستان ہے۔ آپ کی پیدائش اصفہان میں ہوئی اور تعلیم و تربیت خراسان میں ہوئی۔ آپ کی عمر گیارہ برس ہوئی تو آپ کے والد ماجد کا انتقال ہو گیا۔ تین بھائی تھے۔ آپ سمرقند تشریف لے آئے۔ یہاں قرآن پاک حفظ کیا اور دیگر علوم حاصل کرنے میں مشغول ہوئے۔ بعدہٗ عراق کا سفر اختیار کیا یہاں بھی دینی علوم کے اکتساب کا سلسلہ جاری رہا۔ پھر قصبہ ہارون ضلع نیشاپور میں حضرت خواجہ عثمان ہارونی ؒ کی بیعت سے مشرف ہوئے۔
حضرت خواجہ معین الدین ؒ علوم ظاہری و باطنی کے حصول کے بعد دربار نبوی میں حاضری کے لئے مدینہ تشریف لے گئے۔ وہیں خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف ملاقات حاصل ہوا اور ارشاد ملا: معین الدین! ہم نے تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا و منشاء سے سلطان الہند مقرر کیا ہے۔
دربار رسالتؐ سے حکم عطا ہونے پر آپؒ نے ہندوستان میں ہجرت کی۔ ہندوستان پہنچ کر سب سے پہلے حضرت داتا گنج بخش ہجویری ؒ کے مزار پر چلّہ کشی کی اور پھر ملتان تشریف لے گئے جو اُن دنوں ہندوستان میں علم و ادب کا گہوارہ تھا۔ آپؒ نے وہاں ہندوستان میں بولی جانے والی معروف زبانیں سیکھیں۔ کچھ عرصہ کے بعد دلّی تشریف لے گئے۔ پھر اجمیر کا رخ کیا ۔
اہل ہند کو شرک، بدرسوم اور توہمات سے نجات دلانے کے لئے آپؒ نے توحید کا پرچار شروع کیا اور اپنے اخلاق کریمانہ اور اسلام کی پُر کشش و دلنشین تعلیم سے اہل ہند کے دل جیت لئے۔ آپؒ کے ذریعہ پچاس سال کے عرصہ میں لاکھوں انسان مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آپؒ نے یہ بھی محسوس کیا کہ یہاں کے لوگ راگ رنگ کے دیوانے ہیں تو آپؒ نے بھی موسیقی کی مدد سے تبلیغ کا کام سرانجام دینے کے لئے محفل سماع کی بنیاد ڈالی۔ یہی محفل آہستہ آہستہ قوالی کی شکل اختیار کر گئی۔
خواجہ صاحبؒ کے شاگرد ہزاروں کی تعداد میں تھے تاہم آپؒ کے خاص شاگرد حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ جب آپؒ عرب سے ہندوستان آرہے تھے تو راستہ میں اصفہان ٹھہرے جہاں پر حضرت بختیار کاکی ؒ نے آپ کی بیعت کی۔ کچھ عرصہ بعد انہیں صحبت فیض کا خیال آیا تو وہ اصفہان سے ہجرت کرکے دہلی آ گئے اور یہاں سے آپ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ حضرت خواجہ صاحبؒ نے پیغام بھیجا کہ تم وہیں بیٹھ کر دعوت الی اللہ کا فریضہ ادا کرو، ملاقات کا بھی اللہ تعالیٰ کوئی اَور موقع پیدا کر دے گا۔ انہوں نے بھی لبیک کہا اور اس مجاہدہ کو پیر کی صحبت سے زیادہ اہم گردانا۔ بعد میں خود حضرت معین الدینؒ کسی غرض سے دہلی تشریف لائے تو پیر و مرید کی آنکھیں ایک دوسرے کو دیکھ کر ٹھنڈی ہوئیں۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کو ساتویں صدی ہجری کا مجدد کہا جاتا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: ’’حضرت معین الدین چشتیؒ کو ہی دیکھ لو وہ اس حال میں ہندوستان آئے کہ ابھی کوئی اور مسلمان یہاں نہیں آیا تھا۔ انہوں نے ہندوستان کو اسلام کا پیغام پہنچانا شروع کیا او ر بالآخر ایک مسلم جماعت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ظاہر ہے کہ یہ ان کا ذاتی فعل تھا جو انہوںنے باطنی عزم اور جرأت کی بدولت خود ہی انجام دیا‘‘۔
مزید فرمایا : ’’خواجہ معین الدین (علیہ الرحمۃ) نے سینکڑوں آدمی تبلیغ اسلام کے لئے تیار کئے جنہوں نے ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کی‘‘۔
خواجہ صاحبؒ نے ماہ رجب 633ھ پیر کے دن سلطان شہاب الدین التمش کے زمانۂ حکومت میں انتقال فرمایا اور اجمیر شریف میں دفن ہوئے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/4hUaV]

اپنا تبصرہ بھیجیں