حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی یادیں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍جولائی 2003ء میں مکرم سید ساجد احمد صاحب کا مضمون شائع ہوا ہے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ خلیفہ بننے سے کچھ عرصہ قبل حضورؒ امریکہ تشریف لائے تو چند روزہ معیت میں ایک یہ بات آپؒ سے سیکھی کہ سفر وغیرہ سے واپسی پر نماز کو دوسرے کاموں پر ترجیح دیتے ہوئے جلدی سے ادا نہ فرماتے۔ بلکہ پہلے اُن کاموں سے فارغ ہولیتے جو نماز میں پوری توجہ دینے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہوں پھر محویت کے ساتھ نماز میں مصروف ہوجاتے۔
خلیفہ بننے سے قبل ایک بار آپؒ سے دفتر وقف جدید میں ملاقات ہوئی تو آپؒ نے بہت سے معاملات پر گفتگو فرمائی مثلاً انقلاب ایران میں آڈیو ٹیپس کا کردار اور اس حوالہ سے دعوت الی اللہ کے لئے ٹیپس کا استعمال۔ چنانچہ خلیفہ بننے کے بعد آپؒ نے اس حوالہ سے انقلابی اقدامات فرمائے۔ اسی طرح آپؒ کو احمدیوں کی فلاح و بہبود کا بھی بہت خیال تھا۔ آپؒ ایسی صنعتوں کا علم احمدیوں کو مہیا کرنے پر توجہ دے رہے تھے جن میں کم سرمایہ لگاکر اچھا منافع کمایا جاسکتا ہے اور اس کام کے لئے دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم احمدی سائنسدانوں اور تاجروں کے باہمی رابطوں اور تعاون کے لئے بھی نصائح فرماتے رہتے تھے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/Hd7ok]

اپنا تبصرہ بھیجیں