تبصرہ کتاب : ’’صحیفۂ عشق‘‘

تعارف کتاب: ’’صحیفۂ عشق‘‘
(از محمود احمد ملک ایڈیٹر ماہنامہ ’’اخبار احمدیہ‘‘ لندن)

’’صحیفۂ عشق‘‘ چند ماہ پہلے ہی منظر عام پر آیا ہے اور ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ہے۔ ایسی داستانِ عشق میں دیگر داستانوں کی طرح نمایاں پہلو تو یقینا محبوب اور معشوق کے تذکرہ کا ہی ہوا کرتا ہے۔ لیکن اگر کسی کا محبوب دنیا کے ہر خطہ میں بسنے والے لاکھوں کروڑوں افراد کا بھی محبوب بن کر اُن کے دلوں میں بس رہا ہو تو اُس کی محبت میں کہے جانے والے کلام کو آفاقیت نصیب ہوجانا کوئی عجیب بات نہیں۔
مَیں خود شاعر نہیں ہوں اور نہ ہی مجھے شاعری کے لوازمات کا پوری طرح سے علم ہے لیکن شعراء کی صحبت نے مجھے شاعری کی دو بنیادی اقسام سے روشناس کروایا ہے۔ ایک وہ نظم ہے جو کسی خاص تقریب یا واقعہ یا موقع کے حوالہ سے قرطاس کی زینت بنائی جاتی ہے۔ دوسرا وہ کلام ہے جس میں کسی مخصوص حوالہ سے بات نہیں ہوتی لیکن اُس کلام کا کچھ نہ کچھ حصہ ہر شخص کی ذات کا پرتَو نظر آتا ہے۔ پڑھنے والا کسی نہ کسی شعر میں اپنی ذات کو محسوس کرتا رہتا ہے اور یوں ہر ہر مرحلے پر اُس کا شاعر سے غیرمعروف رشتہ اُستوار ہوتا جاتا ہے۔ یہ دوسری قسم کا کلام ہی ’’صحیفۂ عشق‘‘ کی نمایاں خصوصیت ہے۔ اس کتاب کے صفحات میں سے گزرتے ہوئے بار بار آپ چونک جائیں گے کہ یہ شعر تو آپ کے دل کی بھی آواز ہے۔ بے شک جب انفرادی آوازیں ایک ہی رُخ پر اپنا سفر شروع کردیں تو اُن کی بہتی ہوئی اجتماعی طاقت کی رَو میں ذہنی انقلابات کا برپا ہوجانا کچھ عجب بھی نہیں ہے۔
جس طرح تجریدی آرٹ پر غور کرنے والے تمام لوگ اپنی ذات کے حوالہ سے اُس تصویر کو دیکھتے ہیں، اپنی انفرادی سوچ کے پس منظر میں اُس کی تشریح کرتے ہیں اور کسی خاص زاویہ پر سے نظر ڈالتے ہوئے تصویر میں اپنی جگہ متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح شعر پڑھنے والے بھی ایسے ہی کلام سے زیادہ لطف اٹھاتے ہیں جو اپنی وسعت کے باوجود اُن کی اپنی ذات سے بھی وابستہ نظر آئے۔ چنانچہ اس کتاب میں شامل کلام کا بہت سا حصہ چونکہ اپنے آقا کی یادوں کے حوالہ سے کہا گیا ہے اور اُنہی کے نام سے معنون ہے، اس لئے پڑھنے والے پر بھی عشق کی وہی کیفیت طاری ہونا ممکن ہے جس میں ڈوب کر شاعر نے اپنے ہنر کا منفرد اظہار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔مثلاً:

مرا مُرشد سب سے جدا مُرشد
مرا مُرشد مردِ خدا مُرشد
میری روح بیمار شفا پائے
میری نبض پہ ہاتھ لگا مُرشد

پھر اس مجموعہ کلام میں کچھ ایسی بھی نظمیں ملتی ہیں جن میں نصائح کا رُخ بظاہر شاعر کی اپنی ذات کی طرف ہے لیکن کوئی بھی اپنی زندگی کا لائحہ عمل متعین کرنا چاہے تو ان کی روشنی میں اُس کا سفر آسان ہوسکتا ہے مثلاً

ہمیں تو وہ پسند ہی نہیں ردائے مصلحت
جو باعثِ حجاب ہو صداقتوں کے درمیاں

اور اسی طرح

ضمیر بیچ کر کوئی خوشی قبول نہیں
یہ خودکُشی ہمیں قیمت کسی قبول نہیں
وہ مصلحت جو حمیت سے بے نیاز کرے
مرے جنوں کو وہ فرزانگی قبول نہیں
جو آگہی درِ باطل پہ سجدہ ریز کرے
مرے غرور کو وہ بندگی قبول نہیں

اور اس مجموعہ کلام کی پہلی نظم، جو حمد ہے، اس کا آخری شعر

وہ ظفرؔ کے آنگنِ دل میں ایک چراغ جو ہے جَلا ہوا
اسے دے جِلا کبھی نُور کی تو مَیں اس کی لَو کو اُبھار لوں

اس شعر میں دعا کا مقصود غالباً یہی چراغ ہے جس کی حدت سے الفاظ کلام میں ڈھل کر سینے سے نکلتے ہیں اور صفحۂ کتاب پر بکھر کر عشق کی لازوال داستانیں رقم کرجاتے ہیں۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/LW69J]

اپنا تبصرہ بھیجیں