باب اُلفت ہے کُھلا ، کن کے لیے! انؐ کے لیے – نعتیہ کلام

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ دسمبر 2011ء میں شامل اشاعت مکرم منور احمد کنڈے صاحب کا نعتیہ کلام ہدیۂ قارئین ہے:

باب اُلفت ہے کُھلا ، کن کے لیے! انؐ کے لیے
دشت ہے گلشن بنا ، کن کے لیے! انؐ کے لیے
شبنمی ماحول میں ہے نیم شب کو آسماں
چاند تاروں سے سجا ، کن کے لیے! انؐ کے لیے
بُوئے گُل میں ہے ازل سے ہی محمدؐ کی مہک
رقص کرتی ہے صبا ، کن کے لیے! انؐ کے لیے
ناز پہ انداز پہ قربان انؐ کے ہے جہاں
لمحہ لمحہ جاں فِدا ، کن کے لیے! انؐ کے لیے
ہے نمودِ حُسنِ عالَم اُنؐ کی زُلفوں کے طفیل
جب برستی ہے گھٹا ، کن کے لیے! انؐ کے لیے
وہ ہی رہتے ہیں خیالوں میں منورؔ دم بدم
آنکھ کے نُور و ضیا ، کن کے لیے! انؐ کے لیے

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/j6HCa]

اپنا تبصرہ بھیجیں