امریکہ میں احمدیہ مشن کی چند یادیں

روزنامہ الفضل ربوہ 5 جنوری 2012ء میں شاملِ اشاعت مکرم مولانا محمد صدیق شاہد صاحب گورداسپوری کے ایک مضمون میں امریکہ میں احمدیہ مشن کی 1973ء کی چند یادیں قلمبند کی گئی ہیں
مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ 1972ء میں سیرالیون سے واپس آیا تو مرکز کے حکم پر 1973ء میں امریکہ چلاگیا۔ پہلا جمعہ آیا تو مکرم چودھری محمد شریف احمد باجوہ صاحب امیرو مبلغ انچارج نے کہا کہ حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ بھی تشریف لائیں گے۔ اُن سے درخواست کروں گا کہ خطبہ جمعہ ارشاد فرمائیں۔ اگر وہ نہ مانے تو پھر تم دے دینا۔
حضرت چودھری صاحب مسجد میں تشریف لائے تو ایک طرف کرسی پر بیٹھ گئے۔ مکرم باجوہ صاحب نے جاکر عرض کی کہ خطبہ جمعہ ارشاد فرمائیں۔ آپؓ نے انکار کردیا۔ دوسری بار عرض کرنے پر بھی انکار میں جواب ملا تو مکرم باجوہ صاحب نے کہا کہ مَیں بحیثیت امام مسجد آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ خطبہ جمعہ دیں۔ یہ سنتے ہی حضرت چودھری صاحبؓ فوراً اٹھے اور محراب میں جاکر خطبہ ارشاد فرمایا۔ نماز خاکسار کو پڑھانے کا موقع ملا۔ پہلی رکعت میں سورۃالاعلیٰ کی تلاوت کی تو ایک چھوٹی سی غلطی ہوگئی۔ نماز کے بعد حضرت چودھری صاحبؓ مجھے لے کر الگ تشریف لے گئے اور آہستہ سے فرمایا کہ تلاوت میں فلاں غلطی تھی اس کو درست کرلیں۔ واقعہ میں آپؓ نہ صرف دینی و دنیاوی لحاظ سے اعلیٰ مقام پر فائز تھے بلکہ اتنے ہی اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔
چند دن بعد مکرم باجوہ صاحب نے مجھے کہا کہ میری تقررّی نیویارک مرکز میں ہوئی ہے لیکن وہاں مبلغ کی رہائش کا انتظام نہیں ہے بلکہ صرف ایک ہال ہے جو کرایہ پر لیا ہوا ہے۔ جبکہ نیویارک کے پاس مکرم ڈاکٹر ماجد احمد صاحب نے ایک مکان خرید کر وقف کیا ہے اور وہاں ہرقسم کی سہولت میسر ہے۔ آپ دونوں جگہیں دیکھ لیں اور فیصلہ کرلیں کہ کہاں رہنا ہے۔
خاکسار نے وہ مکان بھی دیکھا اور پھر اُس ہال میں پہنچا جو سیاہ فام آبادی کے علاقے جمیکا میں ایک ریستوران کے اوپر واقع تھا۔ سیڑھیوں سے اوپر گئے تو دیکھا کہ نہایت خستہ فرنیچر ہال میں بکھرا پڑا تھا۔ ایک چھوٹا سا کمرہ میں ٹوٹا ہوا فرنیچر پڑا تھا۔ کچن اور ٹوائلٹ تو تھا مگر غسل کے لئے باہر جانا پڑتا تھا۔ خاکسار نے اس جگہ پر قیام کرنا پسند کیا کیونکہ یہاں جماعت کی تعداد زیادہ تھی۔ نماز جمعہ کے لئے اور اتوار کے دن میٹنگ میں بہت سے لوگ آیا کرتے تھے۔
خاکسار نیویارک مرکز میں پہنچا تو رات آنے کے ساتھ ہی ایک خوف بھی محسوس ہوا کیونکہ اجنبی اور سیاہ فام لوگوں کی اکثریت والا علاقہ تھا۔ مَیں قالین پر لیٹ گیا لیکن نیند نہیں آرہی تھی۔ اسی اثناء میں کسی کے سیڑھیاں چڑھنے کی آواز آئی۔ پھر بند دروازہ دیکھا تو نووارد نے دستک دی۔ پہلے مَیں خاموش رہا لیکن پھر دروازہ کھول دیا۔ سامنے لمبے قد کا ایک سیاہ فام دوست کھڑا تھا۔ خوف کا احساس ہوا تو وہ بولا کہ مَیں احمدی ہوں، میرا نام بشیر احمد ہے اور مَیں ٹیکسی ڈرائیور ہوں۔ مشن ہاؤس کی ایک چابی میرے پاس ہے اور مَیں اکثر رات کو یہاں آکر آرام کرلیتا ہوں۔ ہم دونوں بہت خوش ہوئے اور مختلف جماعتی امور پر بات چیت ہوتی رہی۔ صبح دونوں نے نماز فجر باجماعت ادا کی پھر ناشتہ اکٹھے کیا اور پھر مل کر وقارعمل کرتے ہوئے ہال اور کمرہ کو صاف کیا۔ وہاں سے ایک چارپائی بھی ملی جسے صاف کرکے بازار سے بستر خرید کر اُس پر بچھالیا۔
کچھ عرصہ بعد بازار میں اچانک میرا رابطہ سیرالیون سے آنے والے ایک احمدی لڑکے سے ہوا جو سیرالیون میں احمدیہ سکول میں پڑھتا رہا تھا۔ اُس نے بتایا کہ وہاں کئی احمدی لڑکے سیرالیون سے آکر تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ چنانچہ ہمارے مشن کی رونق بہت بڑھنے لگی۔
ایک روز دروازہ پر دستک ہوئی۔ مَیں نے دروازہ کھولا تو ایک پولیس والے کو دیکھ کر گھبراگیا۔ اُنہیں اندر بلایا تو وہ کہنے لگے کہ وہ جنوبی افریقہ سے آئے ہیں اور مسلمان ہیں لیکن اُن کی بیوی کیتھولک عیسائی ہے۔ اُس وجہ سے مَیں اسلام کے بارہ میں چند معلومات حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ پھر اُن سے مسلسل رابطہ رہا اور جلد ہی انہوں نے احمدیت قبول کرلی۔ اُن کے اسلام سے تعلق کو دیکھتے ہوئے اُن کی عیسائی بیوی نے علیحدگی لے لی اور دو بچوں کو بھی ساتھ لے گئی۔ پھر ان کی شادی ایک پاکستانی احمدی خاتون سے کروادی گئی اور یہ اُس کے ہمراہ پاکستان بھی آئے اور ربوہ کی زیارت کی۔
کچھ عرصہ بعد خاکسار کی تحریک پر وہاں کی جماعت نے شہر کے ایک اچھے علاقہ بروک لین میں ایک احمدی مسٹر نورالدین الغزالی کے نام پر ایک مکان خریدلیا جس میں وقارعمل کے ذریعہ تہ خانہ میں میٹنگ ہال تیار کیا گیا۔ اوپر ایک کمرہ نمازوں کے لئے تیار کیا گیا۔ اور اوپر کی منزل پر مبلغ کی رہائشگاہ بنائی گئی۔ اس مرکز کا افتتاح 24 مارچ 1974ء کو یوم مسیح موعودؑ کی تقریب کے انعقاد سے کیا گیا جس کے لئے محترم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب واشنگٹن سے تشریف لائے۔ اس تقریب میں جن دوسرے مہمانوں نے خطاب کیا اُن میں UNO میں انڈیا کے نمائندے مکرم سیّد برکات احمد صاحب، مکرم ڈاکٹر خلیل احمد ناصر صاحب سابق امیر و مبلغ انچارج امریکہ اور مکرم چودھری شریف احمد باجوہ صاحب امیر و مبلغ انچارج امریکہ بھی شامل تھے۔
5 مئی 1974ء کو خاکسار کی درخواست پر حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ مشن ہاؤس تشریف لائے اور ایک اجلاس سے خطاب فرمایا۔ آپؓ کا تعارف کرواتے ہوئے خاکسار نے بتایا کہ آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی ہم میں موجود ہیں۔
حضرت چودھری صاحب کی انکساری کا یہ حال تھا کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد جب آپؓ واپس تشریف لے جانے لگے تو مجھے اپنے قریب بلایا اور آہستہ سے فرمایا کہ آپ نے میرا تعارف بطور صحابی حضرت مسیح موعودؑ کرایا ہے مَیں تو ایک نہایت ہی عاجز اور ادنیٰ سا انسان ہوں۔ صحابہ کا مقام تو بہت بلند اور اعلیٰ ہے، مَیں کہاں اُن میں شامل ہوسکتا ہوں۔
خاکسار اس مشن ہاؤس میں قریباً چھ ماہ تک رہا اور پھر میرا تبادلہ واشنگٹن میں بطور امیر و مبلغ انچارج ہوگیا۔ بعد میں جب مکرم شیخ مبارک احمد صاحب امیر و مبلغ انچارج امریکہ بنے تو یہ مشن ہاؤس فروخت کرکے Queens کے علاقہ میں ایک نیا مشن ہاؤس خرید لیا گیا۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/l3HCk]

اپنا تبصرہ بھیجیں