’’ارضِ بلال۔ میری یادیں‘‘

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/Vopc0]

تعارف کتاب (تبصرہ: عبادہ عبداللطیف)

(مطبوعہ انصارالدین جنوری فروری 2016ء)

اس عالمِ رنگ و بو میں حُسنِ ازل کے ساتھ عشق حقیقی کی بے شمار داستانیں رقم ہوئیں۔ انہی میں سے (رونگٹے کھڑی کردینے والی) ایک وہ داستان بھی ہے جو عرب کے تپتے ہوئے صحراؤں میں ننگے بدن گھسیٹے جانے والے حضرت بلالؓ بن رباح نے رقم کی۔
مکّہ کی وادی میں جب بے بس و بیکس حبشی غلام سیّدنا بلالؓ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبّیک کہتے ہوئے معبود حقیقی کے سامنے اپنا سرتسلیم خَم کیا تو پھر ہرظلم و سفّاکی کا نشانہ اُس معصوم کی ذات کو بنایا جانے لگا۔ لیکن اپنے سیاہ رنگ کے جسم پر توڑے جانے والے ہر ستم پر ایک ہی آواز اُس کے نورانی دل سے بلند ہوئی اور ایک ہی کلمۂ عشق اُس کی زبان سے سنائی دیا: ’’اَحَد۔ اَحَد‘‘۔ اپنے ربّ سے عشق کا یہ کیا ہی پیارا انداز تھا جس پر اُس قادر مطلق نے نہ صرف بلالؓ کی ظاہری غلامی کی طنابیں کاٹ کر رکھ دیں بلکہ اُسے حقیقی معنی میں غلام صادق قرار دے کر وہ روحانی مقام بھی عطا فرمادیا کہ خلیفۃالرسولؐ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی ’’سیّدنا بلال‘‘ کہہ کر انہیں مخاطب فرمایا کرتے تھے۔ بلکہ ایک خطۂ ارض کو عالمِ اسلام میں ہمیشہ کے لئے صرف اس لئے محبت و احترام کی نظر سے دیکھا جانے لگا کہ وہ اُس حبشی غلام بلالؓ سے منسوب اور شاہ حبشہ اصمحہ نجاشیؓ کی سرزمین تھا۔ یہی وہ سرزمین تھی جس نے مکّہ کے مہاجر مسلمانوں کو اُس وقت پناہ دی تھی جب اُن کے اپنے وطن میں اُن پر زمین تنگ کردی گئی تھی۔ چنانچہ قیصروکسریٰ کے محلّات کو زمیں بوس کردینے والے مسلم سپہ سالار جب اپنی جفاکش سپاہ کے ساتھ برّاعظم افریقہ کے مختلف علاقوں کا رُخ کرتے اور دُھول اُڑاتے ہوئے افریقہ کے صحراؤں سے گزرتے تو بھی حبشہ کی سرزمین اُن کے گھوڑوں کے سمّوں تلے کبھی روندی نہیں گئی۔ بلکہ اپنے مظلوم مہاجر بھائیوں پر کئے جانے والے احسانات کو یاد رکھتے ہوئے انہوں نے حبشہ کی سرزمین کو ہمیشہ امن کا پروانہ عطا کیا اور اس کے عوام کی خوشحالی کے متمنّی رہے۔
عشق و محبت کی یہ داستانیں سینکڑوں سال پرانی سہی لیکن آج بھی اُمّت مسلمہ کے دلوں کے ساتھ دھڑکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند ماہ قبل اشاعت کے مراحل سے گزرنے والی ایک دلچسپ کتاب کا نام بھی اسی حوالہ سے رکھا گیا ہے یعنی: ’’ارضِ بلالؓ۔ میری یادیں‘‘۔
یہ ایک ایسے داعی الی اللہ اور مبلغ اسلام و احمدیت کے قلم سے نکلنے والے ایمان افروز واقعات کا مجموعہ ہے جنہیں قریباً بیس سال تک افریقہ کی سرزمین پر واقع پانچ ممالک میں پیغام حق پہنچانے کی مقبول اور ثمرآور مساعی کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ مکرم منور احمد خورشید صاحب 1950ء میں پیدا ہوئے۔ 1975ء میں جامعہ احمدیہ ربوہ سے شاہد کی ڈگری حاصل کی۔ پاکستان میں مختلف مقامات پر متعین رہنے کے بعد 1983ء میں گیمبیا بھجوائے گئے۔ بعد ازاں سینیگال، گنی بساؤ، موریطانیہ اور کیپ ورڈے میں بھی تبلیغی مساعی میں مصروف رہے۔ ان تمام ممالک میں امارت کی ذمہ داری بھی ادا کی۔ بعد ازاں چار سال تک جامعہ احمدیہ انگلستان میں بھی خدمت کی توفیق پائی۔ اور خدمت کا یہ سلسلہ 2012ء تک چلتا رہا۔
ایک احمدی داعی الی اللہ کے لئے اس سے بڑھ کر سعادت کوئی اَور نہیں ہوسکتی کہ خدائے واحدویگانہ سے ناآشنا بھٹکی ہوئی رُوحیں اُس کے ذریعہ سے نور ہدایت پاجائیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر فِدا ہونے کے لئے تیار ہوں اور دل کی گہرائیوں سے آپؐ پر درود بھیجنے والوں میں اُن کا شمار ہونے لگے۔ اس کٹھن راستہ میں ایک احمدی داعی الی اللہ اپنی جان، مال، وقت اور عزّت بھی داؤ پر لگادیتا ہے۔ اَنجانی راہوں پر چلتے ہوئے وہ ہر خطرہ مول لینے کے لئے قدم آگے بڑھاتا چلا جاتا ہے لیکن وہ پاک ذات جس پر اُس کا کامل توکّل ہوتا ہے وہ قدم قدم پر یہ احساس دلاتی چلی جاتی ہے کہ اُس کے دین کی خدمت کرنے والے کبھی ضائع نہیں کئے جاتے۔ چنانچہ آسمانی نشانات کا گواہ بنتے ہوئے اور اپنی کم مائیگی و محدود وسائل کا احساس کرتے ہوئے جب پورے توکّل اور انکساری کے ساتھ ایک داعی الی اللہ، خلیفۂ وقت کی اطاعت میں، اَن دیکھی راہوں پر اپنا سفر جاری رکھتا ہے تو پھر کامیابیوں کی منازل اُس کے قدموں تلے سمٹتی چلی جاتی ہیں اور انجامکار لازوال کامرانیاں اُس کا مقدّر بننے لگتی ہیں۔
A5 سائز کے سوا تین صد صفحات پر مشتمل اس کتاب کو Soft Cover کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ رنگین سرورق براعظم افریقہ کے نقشہ سے مزیّن ہے جس میں مختلف ممالک کی نشاندہی اُن کے قومی پرچموں سے کی گئی ہے۔ جبکہ پس منظر میں ابھرتا ہوا آفتاب، پھیلی ہوئی تاریکیوں کو کافور کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ کتاب کا انتساب ارضِ بلال کے اُن سادہ دل اور پاک فطرت احمدی بھائیوں اور بہنوں کے نام کیا گیا ہے جو سیّدنا حضرت امام الزمان علیہ السلام کی ذات بابرکات پر بِن دیکھے ہی ایمان لے آئے اور پھر سو جان سے اُس ذات اقدسؑ اور آپؑ کے خلفاء عظام کے عاشق اور فریفتہ ہوگئے۔ تہی دامن ہوتے ہوئے بھی مبلّغین کے لئے اپنے گھروں اور دلوں کے دروازے کھول دیئے اور پھر اشاعت دین کے فریضہ میں شب و روز، نشیب و فراز، عسرویسر کی ہر گھڑی میں کمال پیار ومحبت اور اخلاص کے ساتھ ممدو معاون اور مونس و غمخوار بنے رہے۔
؎ ’’خدا رحمت کندایں عاشقانِ پاک طینت را‘‘
کتاب کے اٹھارہ ابواب ہیں۔ پہلے چار ابواب اُن ممالک سے متعلق تفصیلی تعارف، دلچسپ معلومات اور منفرد مشاہدات پر مشتمل ہیں جہاں مصنّف کو خدمت کی سعادت عطا ہوتی رہی۔ ایک باب میں دشمنانِ احمدیت کی ناکامی اور تباہی کے واقعات درج ہیں۔ ایک باب قبولِ احمدیت کی ایمان افروز روایات پر مبنی ہے۔ اسی طرح ارضِ بلالؓ کے نواحمدیوں کا عبادات میں شغف، انفاق فی سبیل اللہ کے لئے ذوق و شوق، حضرت مسیح موعودؑ اور خلفاء عظام سے بے پناہ عشق کا اظہار، امامِ وقت کی بے لوث اطاعت کا جذبہ اور قبولیتِ دعا کے روح پرور نظارے بھی اس کتاب کا حصہ ہیں۔ ایک باب حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کی ذات گرامی سے معنون ہے۔ اور آخر میں مصنّف نے اپنی زندگی کے ذاتی اور خاندانی حالات پر روشنی ڈالی ہے۔
بہت سی تاریخی تصاویر اور چند جغرافیائی نقشے بھی کتاب کی زینت ہیں۔ لکھائی (ٹائپنگ)، سیٹنگ اور ڈیزائننگ صاف اور عمدہ ہے۔ ظاہری خوبصورتی کے ساتھ مواد کا انتخاب اور ترتیب بہت اعلیٰ ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ٹائپنگ کی معمولی اغلاط کی طرف خیال اس لئے نہیں جاتا کہ قاری اس کتاب کے منفرد واقعات کی دلچسپی میں اتنا کھو جاتا ہے کہ گویا وہ خود ان حالات کا حصّہ ہے۔ ان حقیقی واقعات میں بعض دفعہ غیریقینی صورتحال کی وجہ سے تجسّس کا جو عنصر جنم لیتا ہے وہ تحریر میں قاری کی دلچسپی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ تلخ اور مشکل حالات میں خدا تعالیٰ کی تائید ونصرت جب کامیابیوں کی راہیں وا کرتی چلی جاتی ہے تو قاری کا ایمان بھی ترقیات کے زینے طے کرتا چلا جاتا ہے۔ پس لطف کی بات یہ بھی ہے کہ ایسے رُوح پرور واقعات نہ صرف قاری کی علمی استعداد کو بڑھاتے ہیں بلکہ روحانی ترقیات کے حصول کیلئے بھی گرانقدر رہنمائی مہیا کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ کتاب جماعت احمدیہ کے قیمتی لٹریچر میں ایک بیش قیمت اضافہ ہے اور اس میں بیان کردہ واقعات داعیان الی اللہ کے لئے خصوصاً نہایت سبق آموز ہیں کیونکہ مختلف فرقوں کے عقائد، غیراسلامی مذہبی گروپوں کے رسوم اور افریقہ میں موجود بعض معاشرتی گروہوں کے رواج سے متعلق بھی اہم اور مفید معلومات جابجا ملتی ہیں۔ غیرمذاہب کے بے شمار پیروکاروں اور لامذہبوں کی طرف سے اسلام احمدیت کی صداقت کے اقرار اور اس کے نتیجہ میں اُن پر خداتعالیٰ کے لامتناہی افضال و انعامات کی بارش کا بیان بھی اس خوبصورت کتاب کا حصہ ہے۔ گویا یہ کتاب تاریخی اور تبلیغی اہمیت کی حامل کتب میں ایک عمدہ اضافہ ہے جو میدان عمل میں مصروف مبلغین اور داعیان الی اللہ کے علم میں اضافہ، دلائل میں مضبوطی اور راہ عمل کو روشن کرنے کا باعث بنے گی۔
مزید یہ کہ تحریر بے ساختہ اور عام فہم، نیز اندازِبیان سادہ، سلیس، روانی سے بھرپور اور چاشنی سے لبریز ہونے کی وجہ سے قاری کے ذہن میں ایک ایسی تصویر کے نقش و نگار اُبھرنے لگتے ہیں جن میں رنگ بھرے بِنا کتاب چھوڑنے کو دل ہی نہیں کرتا۔ اور امرواقعہ یہی ہے کہ ذہن میں اُبھرنے والی ایسی تصاویر اِس کتاب کے ہرورق پر فروزاں ہیں۔ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے دلی محبت و عقیدت سے اُٹھنے والی قاری کی نگاہوںمیں اُن سرفروشوں کی قدرومنزلت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے جنہوں نے روحِ بلالی سے سرشار ہوکر خلیفۂ وقت کی آواز پر لبّیک کہا اور اُس پاک وجود کے ایک اشارہ پر سمندر پار پہنچ کر ایسے علاقوں میں جاڈیرے ڈالے جہاں سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی ذات اُن کی پُرسان حال نہ تھی۔ خدا تعالیٰ ان سب کو ان کی خدمات کی بہترین جزا عطا فرمائے۔ آمین
یہ کتاب لندن کے احمدیہ بُک سٹال پر دستیاب ہے اور ہر طبقۂ فکر میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ایک سال کے اندر ہی اس کا دوسرا ایڈیشن تیاری کے مراحل میں ہے۔

پرنٹ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں