کیا نہ بندگی کا حق ادا ، تسلیم کرتی ہوں – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍اپریل 2005ء میں محترمہ صاحبزادی امۃ القدوس صاحبہ کی ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم سے انتخاب ملاحظہ کیجئے: کیا نہ بندگی کا حق ادا ، تسلیم کرتی ہوں مرے مولا میں اپنی ہر خطا ، تسلیم کرتی ہوں بہت کمزوریاں ہیں مجھ میں یہ تسلیم کرنے میں سدا مانع رہی …مزید پڑھیں

دل مرا زخموں سے تھا چھلنی ہوا – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13مئی 2005ء کی زینت محترمہ صاحبزادی امۃالقدوس صاحبہ کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: دل مرا زخموں سے تھا چھلنی ہوا سینہ تھا سوزِ نہاں سے تپ رہا کر رہی تھی اس سے عرضِ مدّعا تب ندا آئی مجھے وقتِ دُعا ’’نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز‘‘ میری ساری لغزشوں …مزید پڑھیں

حضرت مصلح موعودؓ کی محبت الٰہی اور عبادات

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15فروری 2005ء میں مکرم عبد الباسط شاہد صاحب کے قلم سے ایک مضمون میں حضرت مصلح موعودؓ کی محبت الٰہی اور عبادات کے بعض واقعات شامل اشاعت ہیں۔ * حضرت شیخ غلام احمد صاحب واعظؓ کا بیان ہے: ’’مرزا محمود احمد صاحب کو باقاعدہ تہجد پڑھتے ہوئے دیکھا اور یہ بھی دیکھا …مزید پڑھیں

نیوٹن کے علمی مجادلے اور اہم ایجادات

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8ستمبر 2004ء میں مکرم محمد زکریا ورک صاحب کے قلم سے عظیم سائنسدان ڈاکٹر سر آئزک نیوٹن (1727-1642ء) کی علمی ترقیات کے حوالہ سے ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ نیوٹن کا نام سنہری الفاظ میں لکھے جانے کی وجہ اُس کے دریافت کردہ قوانین ہیں یعنی قوانین حرکت، کشش ثقل کا آفاقی …مزید پڑھیں

آج کا دن طویل تھا کتنا – نظم

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ ستمبر 2004ء میں شامل اشاعت مکرم چودھری محمد علی صاحب کی ایک نظم سے چند اشعار پیش ہیں: آج کا دن طویل تھا کتنا آج برسوں کے بعد شب کی ہے رنگ لا کر رہے گی بالآخر جو صدا ہم نے زیرِ لب کی ہے کون ہے جو نہیں اسیر اس کا …مزید پڑھیں

محترم صوفی بشارت الرحمٰن صاحب کے دو خواب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 29 جنوری 2005ء میں مکرم انجینئر محمود مجیب اصغر صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں جب میٹرک کر کے 1960ء میں تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں داخل ہوا تو اس وقت محترم صوفی بشارت الرحمٰن صاحب عربی کے پروفیسر اور اپنے شعبہ کے صدر تھے۔ علاوہ ازیں کالج کی ایڈمنسٹریشن کے بھی …مزید پڑھیں

بال، ہاتھ اور دل کے عجائبات

ہمارے جسم کے ہر عضو کی بناوٹ اور صلاحیتیں اپنے اندر خدا تعالیٰ کی قدرت کے عجائبات رکھتی ہیں۔ پھر زمین پر پائے جانے والے چرند پرند، حیوانات ونباتات، ذی روح مخلوق اور بے جان جمادات۔ جس چیز پر بھی نگاہ کریں مجسم حیرت بنے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8؍اپریل 2004ء میں …مزید پڑھیں

رنگوں میں ہے رنگت تیری حرف کے چہرے تیرے ہیں – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7؍فروری 2004ء میں شامل اشاعت مکرم رشید قیصرانی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: رنگوں میں ہے رنگت تیری حرف کے چہرے تیرے ہیں سارے علم اور ساری گنتی ، سارے ہندسے تیرے ہیں مَیں نے اپنی روح پہ جو بھی نقش ابھارے تیرے ہیں سادہ سا مَیں ایک ورق …مزید پڑھیں

شب الم گزار کر سحر کی ہم اماں میں ہیں – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10؍جنوری 2004ء کی زینت مکرم عبدالکریم خالد صاحب کی نظم ’’جذب شوق‘‘ سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: شب الم گزار کر سحر کی ہم اماں میں ہیں مگر یہ دشمنانِ دیں نہ جانے کس گماں میں ہیں دلوں میں جل رہی ہے جو ترے چراغ کی ہے لَو ترے قریب ہو کے …مزید پڑھیں

یہ مہر و ماہ اس کے ستارے اسی کے ہیں – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16؍جنوری میں شامل اشاعت مکرمہ امۃالرشید بدر صاحبہ کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: یہ مہر و ماہ اس کے ستارے اسی کے ہیں یہ جھلملاتے نُور کے دھارے اسی کے ہیں پھولوں میں حسن ، تازگی ، خوشبو اسی کی ہے قوسِ قزح میں رنگ یہ سارے اُسی کے ہیں …مزید پڑھیں