ایک تھی گمنام بستی ، ہے انوکھا یہ نشاں – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24مئی 2011ء میں مکرم انور ندیم علوی صاحب کی ایک نظم ’’یہ سائبان‘‘ شائع ہوئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: ایک تھی گمنام بستی ، ہے انوکھا یہ نشاں گونجتی ہے ساری دنیا میں صدائے قادیاں اس کے کوچے میں مسیحائے زماں کے نقش پا آسماں سے ہے …مزید پڑھیں

محترم میاں محمد صدیق صاحب بانی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10 جون 2010ء میں مکرم شریف احمد بانی صاحب نے اپنے والد محترم میاں محمد صدیق صاحب بانی کی سیرت پر روشنی ڈالی ہے۔ قبل ازیں آپ کا ذکر خیر 13 اکتوبر 1995ء، 2 فروری 1996ء، 4 اپریل 2003ء اور 3ستمبر 2010ء کے شماروں میں اسی کالم کی زینت بن چکا ہے۔ …مزید پڑھیں

مکرم نیاز علی صاحب شہید

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9 جون 2010ء میں مکرم لئیق احمد ناصر صاحب نے اپنے ماموں مکرم نیاز علی صاحب کا تفصیلی ذکر خیر کیا ہے جنہیں 1947ء میں حفاظت مرکز قادیان کے دوران شہید کردیا گیا تھا۔ چھ فٹ قد کا ایک باریش سجیلانوجوان، اپنے آقا کی آوازپرلبیک کہتا ہوا گھر سے نکلا اور چند …مزید پڑھیں

تاریخ کے اوراق میں ہے روشنی کا باب بھی – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 14؍اپریل 2009ء میں مکرم ڈاکٹر عبدالکریم خالد صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم سے انتخاب پیش ہے: تاریخ کے اوراق میں ہے روشنی کا باب بھی تم غور سے دیکھو اگر یہ زندگی کا باب بھی خوش قسمتی لائی مجھے اس لمحۂ موجود میں تو دل نے فوراً کہہ …مزید پڑھیں

محترم سردار محمود احمد صاحب عارف مرحوم

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ اپریل 2010ء میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں مکرم نصیر احمد صاحب عارف کارکن نظارت امورعامہ قادیان نے اپنے واقف زندگی والد محترم سردار محمود احمد صاحب عارف درویش کا ذکرخیر کیا ہے۔ محترم سردار محمود احمد صاحب عارف درویش ولد مکرم سردار شیر محمد صاحب مرحوم 16دسمبر1925ء کو موضع نواں …مزید پڑھیں

حضرت مرزا ناصر احمدؒ بہ حیثیت پرنسپل

مکرم پروفیسر ڈاکٹر پرویز پروازی صاحب کا ایک مضمون ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا مئی و جون 2009ء کی زینت ہے جس میں سیدنا حضرت مرزا ناصر احمد صاحبؒ کی بحیثیت پرنسپل مقبولیت اور شاندار کارناموں کا مختصر تذکرہ کیا گیا ہے۔ مکرم پروازی صاحب 1954 ء میں بہ حیثیت طالب علم کالج میں داخل ہوئے …مزید پڑھیں

انٹرویو: امّ مسرور حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ مد ظلھا العالی

سہ ماہی ’’النساء‘‘ کینیڈا اپریل تا جون 2008ء میں حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ مد ظلھا العالی بنت حضرت مصلح موعودؓ کا ایک انٹرویو شائع ہوا ہے جو آپ نے چند سال قبل MTA کیلئے ریکارڈ کروایا تھا۔ اس انٹرویو سے بعض دلچسپ تاریخی و تربیتی امور اختصار سے ہدیۂ قارئین کئے جارہے ہیں۔ سیدنا …مزید پڑھیں

محترم فتح محمد صاحب کا قبول احمدیت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10نومبر 2008ء میں مکرمہ ر۔ شکور صاحبہ اپنے دادا محترم فتح محمد صاحب کی قبول احمدیت کی داستان بیان کرتی ہیں۔ محترم فتح محمد صاحب 8جنوری 1993ء کو وفات پاگئے۔ آپ کے دو بیٹے جوانی میں ہی وفات پاگئے تھے اور اس صد مہ نے آپ کو نابینا کردیا تھا۔ پھر بھی …مزید پڑھیں

محترم قریشی محمدعبداللہ صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍مئی2008ء میں مکرم ڈاکٹر احسان اللہ قریشی صاحب نے اپنے والد محترم قریشی محمد عبداللہ صاحب کا ذکرخیر کیا ہے۔ محترم قریشی محمد عبداللہ صاحب قادیان کے قدیمی رہائشی حضرت قریشی شیخ محمد صاحبؓ کے ہاں 1913ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کی پیدائش سے پہلے جو اولاد ہوتی تھی وہ جلد فوت …مزید پڑھیں

جامعہ احمدیہ قادیان۔ چند یادیں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8؍مارچ 2008ء میں محترم مولانا منیر احمد خادم صاحب سابق پرنسپل جامعہ احمدیہ قادیان کے قلم سے جامعہ احمدیہ قادیان سے متعلق چند یادیں شائع ہوئی ہیں۔ اگرچہ جامعہ احمدیہ میں داخلہ سے قبل اس کی اہمیت کا اتنا احساس نہیں تھا مگر بعض بزرگوں کی تحریک اور والد محترم مولانا بشیر …مزید پڑھیں

جلسہ قادیان دارالامان کی یادیں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5؍مارچ2008ء میں مکرم نذیر احمد سانول صاحب جلسہ سالانہ قادیان 2007 ء کے حوالہ سے اپنی یادیں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قادیان کے احمدیوں کا نیک اثر مقامی ہندوؤں اور سکھوں پر بڑا گہرا نظر آیا۔ میرا قیام سرائے طاہر میں تھا۔ تقسیم طعام کے وقت ایک پچاس سالہ شخص …مزید پڑھیں

میرے زمانۂ درویشی کی یادیں – محترم رائے ظہور احمد ناصر صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16؍جون 2007ء میں محترم رائے ظہور احمد ناصر صاحب سابق درویش قادیان نے ایک مضمون میں اپنی یادداشتوں کو پیش کیا جو آپ کے قادیان میں تین سالہ قیام ( 1947ء تا 1950ء) کے دوران آپ کے ذہن پر نقش ہوگئیں۔ اس عرصہ میں ہم بھوکے بھی رہے، گندم کی گھگھنیاں کھا …مزید پڑھیں

ریل گاڑی۔ آخری زمانہ کی اہم علامت

آنحضرت ﷺ نے آخری زمانہ کے متعلق خبر دی تھی کہ اونٹنی کی سواری موقوف ہو جائے گی۔ گویا یہ اشارہ تھا کہ ایسی نئی ایجادات کی جائیں گی جن کی موجودگی میں اونٹنی کا کام ختم ہوجائے گا۔ چنانچہ ریل بھی ایسی ہی ایجاد ہے جس نے مذکورہ پیشگوئی کو پورا کیا۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ …مزید پڑھیں

خلفاء احمدیت کے ذریعہ قادیان کی ترقی

جماعت احمدیہ بھارت کے خلافت سوونیئر میں شامل مکرم مولانا برہان احمد صاحب ظفرؔ کے ایک مضمون میں خلفاء احمدیت کے ذریعہ قادیان میں ہونے والی ترقیات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ قادیان کاذکر گزشتہ زمانوں کے نوشتوں میں ملتا ہے۔ اس کی بنیاد قریباً ساڑھے پانچ سو سال پہلے پڑی تھی جس …مزید پڑھیں

خلافت اور ہندوستان میں جماعتی ترقی

جماعت احمدیہ بھارت کے خلافت سوونیئر میں شامل مکرم مولانا سلطان احمد صاحب ظفرؔ کا ایک مضمون خلافت احمدیہ کے ذریعہ ہندوستان میں جماعت احمدیہ کی ترقی پر روشنی ڈالتا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ کے انتخاب پر جب بعض اکابرین جماعت نے علیحدگی اختیار کرلی تو تاریخ شاہد ہے کہ سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کے …مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کا بھوکوں کو کھانا کھلانے کا الہام پورا ہونے کی گواہی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20؍مارچ 2007ء میں حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحبؓ کے قلم سے ایک مضمون شامل اشاعت ہے جس میں آپؓ نے بطور گواہ یہ چشمدید شہادت بیان کی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کو ہونے والے ایک الہام کے نتیجہ میں آدھی رات کو لنگر خانہ کھول کر بھوکوں کو کھانا کھلایا گیا۔ …مزید پڑھیں

تعلیم الاسلام کالج ۔ ایک تاریخ

انگریزی سہ ماہی رسالہ ’’النحل‘‘ امریکہ (شمارہ اوّل 2006ئ) میں مکرم ڈاکٹر محمد شریف خانصاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے جس میں تفصیل سے تعلیم الاسلام کالج کے اجراء اور اس کے مختلف ادوار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تعلیم الاسلام کالج کا قادیان میں قیام اس بناء پر ہوا کہ جو طالبعلم مدرسہ …مزید پڑھیں

سُوئے منزل ہو گئے ہیں کل رواں مرزا وسیم – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30؍مئی 2007ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی یاد میں مکرم فاروق محمود صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: سُوئے منزل ہو گئے ہیں کل رواں مرزا وسیم بارگاہِ ایزدی میں دے کے جاں مرزا وسیم دے رہے ہیں یہ گواہی وہ …مزید پڑھیں

حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی وفات

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پوتے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے فرزند (ناظر اعلیٰ و امیر مقامی قادیان) حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب مورخہ 29؍اپریل 2007ء امرتسر ہسپتال میں بعمر 80 سال وفات پاگئے۔ محترم میاں صاحب نے 21 سال کی عمر میں درویشانہ زندگی کا آغاز کیا اور …مزید پڑھیں

کچھ بے کلی بھی دل کی چھپائی نہ جاسکی – قادیان

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27 مارچ 2006ء میں شائع ہونے والی مکرم ضیاء اللہ مبشر صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے۔ یہ نظم حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے دورۂ قادیان کے موقع پر کہی گئی۔ کچھ بے کلی بھی دل کی چھپائی نہ جاسکی کچھ لب پہ دل کی بات بھی …مزید پڑھیں

بہت ارمان تھا دل میں کہ ہم دارالاماں جاتے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10 اپریل 2006ء میں شائع ہونے والی مکرمہ ڈاکٹر فہمیدہ منیر صاحبہ کی ایک طویل خوبصورت نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے۔ یہ نظم حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دورۂ قادیان کے موقع پر کہی گئی۔ بہت ارمان تھا دل میں کہ ہم دارالاماں جاتے اجازت ہم کو …مزید پڑھیں

مکرم میجر ڈاکٹر محمود احمد شہید

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 19؍اگست 2006ء میں محترم میجر ڈاکٹر محمود احمد صاحب شہید کے بارہ میں مکرم ڈاکٹر منور احمد صاحب کا مضمون شائع ہوا ہے۔ مکرم میجر ڈاکٹر محمود احمد صاحب مئی 1916ء میں محترم قاضی محمد شریف صاحب (ایگزیکٹو انجینئر محکمہ انہار) کے ہاں پیدا ہوئے۔ حضرت ڈاکٹر کرم الٰہی صاحبؓ آپ کے …مزید پڑھیں

محترم کیپٹن ڈاکٹربشیر احمد صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17 ؍جولائی 2006ء میں مکرمہ بشریٰ مظفر صاحبہ نے اپنے مضمون میں اپنے والد محترم کیپٹن ڈاکٹر بشیر احمد صاحب کا ذکرخیر کیا ہے۔ محترم ڈاکٹر بشیر احمد صاحب 27؍جولائی 1906ء کو سیالکوٹ کے گاؤں بوبک متراں میں پیدا ہوئے۔ پیدائشی احمدی تھے۔ 21 سال کی عمر میں ڈاکٹری کا کورس پاس …مزید پڑھیں

عجب دلکش سماں دارالاماں میں – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 18 مارچ 2006ء میں شائع ہونے والی مکرم ضیاء اللہ مبشر صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے۔ یہ نظم حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے دورۂ قادیان کے موقع پر کہی گئی۔ عجب دلکش سماں دارالاماں میں گھرا ہو چاند جیسے کہکشاں میں زمیں والو! نہ سمجھے جس …مزید پڑھیں

جاکر کہے کوئی در و دیوارِ یار سے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم مارچ 2006ء میں ’’انتظار‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی مکرم عبدالمنان ناہید صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے۔ یہ نظم حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے دورۂ قادیان کے موقع پر کہی گئی۔ جاکر کہے کوئی در و دیوارِ یار سے دن ہم بھی گن رہے …مزید پڑھیں