ہڑپہ کے آثارِ قدیمہ

ایک ماہر آثار قدیمہ جوناتھن مارک کی تحقیق کے مطابق ہڑپائی تہذیب بلوچستان کے بالائی علاقوں سے شروع ہوکر مغرب تک اور شمالی پاکستان، افغانستان اور انڈیا سے جنوب مغرب اور شمال تک پھیلی ہوئی تھی اور دو بڑے دریا سندھ اور گھاگر اسے سیراب کرتے تھے- یہ تہذیب قدیم مصری تہذیب موسوپوٹامیہ (عراق) کی …مزید پڑھیں

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/yJDHk]

ہرن مینار شیخوپورہ

لاہور سے پچیس میل کے فاصلہ پر شیخوپورہ کا شہر آباد ہے جسے مغلیہ دور میں جہانگیر پور اور جہانگیر آباد بھی کہا جاتا تھا- یہ جہانگیر کی محبوب ترین شکارگاہ تھی اور یہاں اُس نے اپنے ایک منس راج نامی محبوب ہرن کی قبر پر ایک مینار تعمیر کروایا تھا اور ہرن کا شکار …مزید پڑھیں

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/1G0UX]

قلعہ بالا حصار پشاور

بالاحصار فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے اونچی جگہ یا بلند قلعہ- روایت ہے کہ یہ نام اس افغان بادشاہ تیمور نے دیا تھا جسے سکھوں نے سمیرگڑھ سے بدل دیا لیکن اِس نام نے شہرت نہ پائی- یہ قلعہ دو سے اڑہائی ہزار سال پرانا ہے اور اس کی ابتدائی تاریخ …مزید پڑھیں

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/WEQfQ]

موتی مسجد

موتی مسجد لاہور اگرچہ رقبہ کے لحاظ سے چھوٹی ہے لیکن خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے- اسے 1753ء میں نواب میر سید بھکاری خان نے تعمیر کروایا تھا جو لاہور کے وائسرائے میر منو کے درباری تھے اور پھر پنجاب کے نائب صوبیدار بنائے گئے- وہ ایک دیندار، سخی، عالم فاضل اور فقیر دوست …مزید پڑھیں

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/Cw60S]

مقبرہ نور جہاں لاہور

ایک ایرانی نژاد مرزا غیاث بیگ نے افلاس سے تنگ آکر ایران سے ہجرت کی اور ہندوستان آکر دربارِ اکبری سے وابستہ ہوگیا- اُس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام مہرالنساء تھا جس نے تاریخ میں نورجہاں کے نام سے شہرت پائی- اُس کی پہلی شادی ایک ایرانی باشندے شیرافگن سے ہوئی جس کا …مزید پڑھیں

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/uBP4c]

شاہی قلعہ لاہور

لاہور کا شاہی قلعہ پاکستان میں موجود مغلیہ دور کے آثار میں سے ایک عظیم الشان یادگار ہے- اس کا طول 1500؍ فُٹ اور عرض 1200؍ فُٹ ہے- اس بارے میں ایک مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 19؍ اگست 1998ء میں مکرم شمشاد احمد قمر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے- اس قلعے کی بنیاد …مزید پڑھیں

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/WhXhZ]

مقبرہ جہانگیر لاہور

مغل بادشاہ جہانگیر کا اصل نام سلیم تھا جو 1564ء میں شہنشاہ اکبر اعظم کے ہاں راجپوت رانی مریم الزمانی کے بطن سے پیدا ہوا- 1605ء میں تخت نشین ہوا اور قریباً ساڑھے اکیس سال نہایت شان سے حکومت کرکے 8؍نومبر 1627ء کو کشمیر سے لاہور واپس آتے ہوئے راجوری کے مقام پر فوت ہوا- …مزید پڑھیں

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/0ze0M]

مسجد وزیرخان لاہور

اپنی بے پناہ خوبصورتی، وسعت اور نقش و نگار کے باعث فنّی اعتبار سے نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھی جانے والی مسجد وزیر خان لاہور کی بنیاد چنیوٹ کے رہنے والے شیخ علیم الدین نے رکھی تھی جو ایک طبیب تھے اور شاہجہان کے دربار میں رفتہ رفتہ وزیر کے عہدے تک جا پہنچے …مزید پڑھیں

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/JvsFy]

بادشاہی مسجد لاہور

برصغیر میں مسلمانوں کی تعمیراتی تاریخ میں اہم اور پرشکوہ عمارات سب سے پہلے بھنبھور میں تعمیر ہوئیں جو محمد بن قاسم کی آمد سے مرکز اسلام بنا تھا۔ بعد ازاں یہ سلسلہ جاری رہا۔ 1674ء میں مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے لاہور میں بادشاہی مسجد تعمیر کروائی جسے ماہرینِ تعمیرات برصغیر میں مساجد …مزید پڑھیں

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/EPXly]

گھانا میں غلاموں کی تجارت

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 14 دسمبر 2018ء) روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ24؍اکتوبر 2012ء میں مکرم فرید احمد نوید صاحب کے قلم سے ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں گزشتہ صدیوں میں گھانا سے غلاموں کی تجارت کی دلخراش داستان بیان کی گئی ہے۔ گھانا کی ساحلی پٹی جو آج خوبصورت ریستورانوں اور resorts سے بھری ہوئی ہے …مزید پڑھیں

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/GlVrt]

ایک صحرائی سفر

پاکستان کے صوبہ سندھ کے طویل صحراؤں میں دین اور انسانیت کی محبت میں سفر کرنے والی ایک خاتون مکرمہ سلمیٰ خالد صاحبہ کی آپ بیتی مکرمہ امۃالباری ناصر صاحبہ کے قلم سے (ماہنامہ مصباح کی ایک اشاعت کے حوالہ سے) روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم جنوری 1998ء کی زینت ہے۔ وہ اپنے سفر کا حال …مزید پڑھیں

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/RmhnE]

عظیم نہر سویز کی عظیم تاریخ

نہر سویز کے بارے میں جرمن مصنف پال ہرمن کی کتاب کے انگریزی ترجمہ سے اخذ کردہ بعض دلچسپ تاریخی معلومات روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍جولائی 1997ء میں محترم سید محمود احمد صاحب ناصر نے پیش کی ہیں۔ 825ء میں یوروپین بادشاہ شارلمین کے دربار میں ایک آئرش جغرافیہ دان ڈی سوئی لس نے ایک راہب …مزید پڑھیں

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/y9r7b]

ایفل ٹاور پیرس

1889ء میں فرانسیسی انقلاب کی پہلی صدی کو شاندار طریقے سے منانے کیلئے حکومت فرانس نے ایک یادگار کی تعمیر کا فیصلہ کیا تو ایک انگریز انجینئر نے ٹاور کی تعمیر کی تجویز پیش کی۔ پھر ایک عالمی مقابلہ کے نتیجہ میں جس میں 700 ماہرین نے حصہ لیا، فرانس کے انجینئر گستو ایفل کا …مزید پڑھیں

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/MZS9D]

ابن بطوطہ

محمد بن عبداللہ المعروف ابن بطوطہ 24؍فروری 1304ء کو طنجہ (مراکش) میں پیدا ہوئے۔ 22 برس کی عمر میں والدین کی اجازت سے حج کے لئے روانہ ہوئے اور الجزائر، تیونس اور ٹریپولی سے ہوتے ہوئے اسکندریہ پہنچے جو نہایت خوبصورت بندرگاہ تھی اور یہاں ایک Light House بھی موجود تھا۔ یہاں کئی علماء سے …مزید پڑھیں

یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/xozjN]