تیراؐ مولد ، تیراؐ مسکن ، تیراؐ مدفن دیکھا – نظم

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ اگست و ستمبر 2012ء میں مکرم لطف الرحمن محمود صاحب کا خوبصورت کلام شامل اشاعت ہے جو زیارتِ حرمین الشریفین کے پس منظر میں کہا گیا ہے۔ نظم میں شامل دو مقامات کا تعارف نیچے بیان کیا گیا ہے۔ نظم میں سے انتخاب پیش ہے: تیراؐ مولد ، تیراؐ مسکن ، تیراؐ …مزید پڑھیں

امریکہ کا مجسمۂ آزادی (Statue of Liberty)

دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ جو امریکہ کی آزادی اور جمہوریت کی علامت ہے یعنی مجسمہ آزادی (Statue of Liberty) جزیرہ بڈلوئی میں نصب ہے۔ روزنامہ الفضل ربوہ 14اپریل 2012ء میں اس مجسمہ کا مختصر تعارف شامل اشاعت ہے۔ ا مریکہ نے فرانسیسیوں کی مدد سے برطانیہ کے چنگل سے 4جولائی 1776ء کو آزادی …مزید پڑھیں

ٹوساں (Tucson) اری زونا کی سیر

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا اپریل 2012ء میں مکرمہ فرخ دلدار صاحبہ کے قلم سے امریکہ کے جنوب میں واقع ریاست Arizona کے دوسرے بڑے شہر ٹوساں (Tucson) کی سیر کا احوال شائع ہوا ہے جو کالے پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے۔ Arizona امریکی کاؤبوائز اور Yankees کی سرزمین کہلاتی ہے۔جھاڑیاں اور کیکٹس یہاں کی سوغات …مزید پڑھیں

سیالکوٹ کا شہر

ماہنامہ ’’خالد‘‘ اپریل 2011ء میں مکرم مرزا عرفان بیگ صاحب کے قلم سے حضرت مسیح موعودؑ کے وطن ثانی سیالکوٹ شہر کا تعارف شائع ہوا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں: ’’براہین کی تالیف کے زمانہ کے قریب اسی شہر میں تقریباً سات سال پہلے رہ چکا ہوں۔ … وہ زمانہ میرے لئے نہایت شیریں …مزید پڑھیں

تھرونگرپارکر کا تعارف

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ فروری 2011ء میں ایک معلوماتی مضمون شامل ہے جس میں مکرم محمد عاصم حلیم صاحب (معلّم وقف جدید) نے تھرونگرپارکر کا تعارف کروایا ہے۔ تھرونگرپارکر کا رقبہ ہزاروں میل ہے جس میں کھیتی باڑی کا انحصار بارشوں پر ہے۔ اگر موسم کے مطابق بارشیں ہوجائیں تو ہر طرف سبزہ قابل دید ہوتا …مزید پڑھیں

مسجدحسن الثانی مراکش

ماہنامہ ’’خالد‘‘ جولائی 2010ء میں منفرد طرز کی مسجد حسن الثانی کا تعارف شامل اشاعت ہے جو مسجد ’’بیت الحرام‘‘ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی مسجد ہے۔ یہ مسجد مراکش کے شہر کاسابلانکا میں واقع ہے اور اس کا ڈیزئن فرانسیسی ماہر تعمیرات مائیکل پنیسو نے تیار کیا ہے۔ اس میں ایک لاکھ سے …مزید پڑھیں

کولتار کی جھیل

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ جنوری 2010ء میں شائع ہونے والے ایک مختصر معلوماتی مضمون میں کولتار کی جھیل کا تعارف کروایا گیا ہے جسے 1595ء میں ٹرینیڈاڈ (ویسٹ انڈیز) میں سر والٹر ریلے نے پاریکو کے مقام پر دریافت کیا تھا۔ اس جھیل کا رقبہ 99 ہزار مربع ایکڑ ہے اور اس کی خصوصیت یہ ہے …مزید پڑھیں

کرسٹوفرکولمبس

امریکہ دریافت کرنے والے عظیم جہازراں کرسٹوفر کولمبس (Christopher Columbus) کے بارہ میں ایک معلوماتی مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26 اگست 2010ء میں شامل اشاعت ہے۔ کرسٹوفر کولمبس 26؍اگست 1451ء کو اٹلی کے شہر جینوا میں پیدا ہوا۔ کولمبس ابھی 16 برس کا ہی تھا کہ وہ پرتگال چلا گیا اور دارالحکومت لزبن میں رہائش …مزید پڑھیں

البیرونی… مؤرخ اور جغرافیہ دان

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7؍مئی 2008ء میں شامل اشاعت ایک مضمون میں مکرم محمد زکریا ورک صاحب نے عظیم سائنسدان البیرونی کا تعارف ایک مؤرخ اور جغرافیہ دان کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ البیرونی وہ عظیم سائنسدان ہے جس نے فلسفہ، ہیئت، رمل، جغرافیہ، ارضیات، علم الابدان، اور طب کے موضوع پر بہت کچھ لکھا …مزید پڑھیں

چینل ٹنلChannel Tunnel

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ مئی2008ء میں مکرم طاہر احمد وجاہت صاحب کے قلم سے چینل ٹنل کے بارہ میں ایک معلوماتی مضمون شائع ہوا ہے۔ چینل ٹنل برطانیہ اور فرانس کو انگلش چینل (برطانیہ اور فرانس کے درمیان موجود سمندر) کے نیچے سے ملانے والی ایک 32 میل لمبی ریل سرنگ ہے۔ یہ دنیا کی دوسری …مزید پڑھیں

اہرام مصر

ماہنامہ ’’خالد‘‘ جون 2007ء میں اہرام مصر (Pyramids) کے بارہ میں ایک معلوماتی مضمون مکرم اطہر الزمان فاروقی صاحب کے قلم سے شائع ہوا ہے۔ قبل ازیں اسی موضوع پر ایک مضمون 27؍اپریل 2007ء کے الفضل ڈائجسٹ میں طبع ہوچکا ہے۔ اہرام مصر کا شمار دنیا کے سات پُرانے عجائبات میں ہوتا ہے جو پانچ …مزید پڑھیں

کنسائی ایئرپورٹ جاپان

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم نومبر 2006ء میں جاپان کے کنسائی ایئرپورٹ کے بارہ میں مکرم سرفراز احمد عدیل صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔ کنسائی ائیرپورٹ جاپان کو بلاشبہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ ائیرپورٹ جو سمندر میں بنایا گیا ہے لیکن آہستہ آہستہ سمندر میں ڈوب رہا ہے۔ …مزید پڑھیں

جاپان کا ایک دلچسپ سفر

مجلس انصاراللہ کینیڈا کے جریدہ ’’نحن انصاراللہ‘‘ جولائی تا ستمبر 2006ء میں مکرم کرنل (ر) دلدار احمد صاحب کے قلم سے جاپان کا ایک دلچسپ سفرنامہ شامل ہے۔ 1904ء تک جاپان کی بطورِ ایک عالمی طاقت کوئی اہمیت نہ تھی۔ حضرت مسیح موعودؑ کو29 اپریل 1904ء کو الہام ہوا: ’’کوریا خطرناک حالت میں ہے ۔ …مزید پڑھیں

پمپائے (Pompeii)

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق پمپائے کا شمار اہم ترین آثار قدیمہ میں ہوتا ہے۔قریباً دو ہزار سال پہلے 79ء میں ایک آتش فشاں کی زد میں آکر مٹی میں دب کر منجمد ہونے سے قبل ایک کامیاب شہر تھا۔ پمپائے کی بنیاد روم سے ڈیڑھ سو میل جنوب مغرب میں آٹھویں صدی قبل مسیح …مزید پڑھیں

ملاوی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22؍اگست 2005ء میں وسطی افریقہ کے ملک ملاوی کا تفصیلی تعارف شامل اشاعت ہے۔ ملاوی ایک چھوٹا سا ملک ہے اور سارا سطح مرتفع کہلاتا ہے۔ زمین پتھریلی۔ مٹی کالی اور سرخی مائل ہے۔ اس مٹی میں خوبصورت رنگوں میں پتھر بکھرے پڑے ہیں۔ ملاوی ایک سر سبز وشاداب ملک ہے۔ ہر …مزید پڑھیں

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کا دورۂ انڈونیشیا

جماعت احمدیہ برطانیہ کے ’’سیدنا طاہرؒ سووینئر‘‘ میں مکرم بشیر احمد صاحب کے قلم سے حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے تاریخی دورۂ انڈونیشیا کا حال رقم ہے جو کہ کسی بڑے مسلمان ملک کا کسی خلیفہ وقت کا پہلا دورہ تھا۔ مؤرخہ 19 جون 2000ء کو حضور انوررحمہ اللہ مع قافلہ براستہ ہالینڈ، انڈونیشیا کے لئے …مزید پڑھیں

پیسا کا مینار

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ اپریل 2005ء میں ایک مختصر معلوماتی مضمون (مرسلہ: صادقہ سلام) میں اٹلی کے پیسا مینار سے متعلق دلچسپ معلومات پیش کی گئی ہیں۔ اٹلی کے ایک شہر کا نام پیسا ہے جس کی شہرت اُس مینار کی وجہ سے ہے جو ایک طرف کو جھکا ہوا ہے۔ اس مینار کی بنیاد جس …مزید پڑھیں

قبائل عاد اور ثمود

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا اپریل 2004ء میں مکرم ڈاکٹر میاں محمد طاہر صاحب کا ایک تحقیقی مضمون شامل اشاعت ہے جس میں عاد اور ثمود قوموں کے بارہ میں قرآنی تعلیمات کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔ عاد اور ثمود نامی قوموں کا ذکر قرآن مجید میں متعدد جگہوں پر آیا ہے۔ بعض آیات …مزید پڑھیں

لندن کی سیر

انگریزوں کا دعویٰ ہے کہ آثار قدیمہ کے شواہد بتاتے ہیں کہ لندن قدیم رومی دور میں بھی ایک سرگرم مرکز تھا۔ یہ چھوٹا سا گاؤں صدیوں پہلے دریائے ٹیمز کے کنارے اس طرح بسایا گیا کہ دریا ایک طرف سے اس کی حفاظت کرتا تھا۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30؍جولائی 2004ء میں لندن کے بارہ …مزید پڑھیں

بغداد

اسلامی حکومت کے پانچ سو سال تک مرکز رہنے والے شہر بغداد سے متعلق ایک تفصیلی مضمون مکرم محمد زکریا ورک صاحب کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16 و 17؍اپریل 2003ء میں شامل اشاعت ہے۔ زمانہ قدیم میں عراق کو میسوپوٹیمیا کہا جاتا تھا اور دریائے دجلہ و فرات کے درمیانی علاقہ کو Fertile …مزید پڑھیں

بھیرہ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے کوہستان نمک کے دامن میں دریائے جہلم کے کنارے پر ایک قدیم قصبہ بھیرہ آباد ہے۔ ایک مؤرخ کے مطابق اس کا نام راجہ بھدراسین کے نام پر بھدروی نگر یا بھدرواتی نگر تھا۔ العتبی نے اس کا ذکر بَتْیَہ یا بھدیہ کے نام سے کیا ہے۔ سکندراعظم کے …مزید پڑھیں

کوہستانِ نمک – کھیوڑہ

کوہستان نمک (کھیوڑہ) کی سترہ منزلہ اور 120؍کلومیٹر لمبی کان سطح سمندر سے نو سو فٹ بلند ہے۔ اس میں دنیا کا 80فیصد قدرتی نمک پایا جاتا ہے۔ یہ 260؍کلومیٹر لمبے اور 16؍کلومیٹر چوڑے پہاڑی سلسلے پر مشتمل ہے اور 327؍ق۔م پرانی ہے۔ صدیوں سے یہاں سے نمک کی پیداوار حاصل کی جارہی ہے۔ سکندراعظم …مزید پڑھیں

وادیٔ کیلاش – پاکستان

ہفت روزہ ’’سیرروحانی ‘‘ اگست 2000ء میں پاکستان کے انتہائی شمال میں واقع وادیٔ کیلاش (چترال) کے بارہ میں معلوماتی مضمون مکرم منصور نورالدین صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ اس وادی کو چاروں طرف سے ہندوکش کے عظیم پہاڑی سلسلے نے گھیر رکھا ہے جسے مختلف درّے سوات، گلگت اور دیگر علاقوں سے …مزید پڑھیں

جزیرہ طوالو

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 18؍ستمبر 2000ء میں مکرم قمرداؤد کھوکھر صاحب کے قلم سے جزیرہ طوالو کے بارہ میں ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔ چند چھوٹے چھوٹے جزائر کے مجموعہ کا نام طوالو ہے۔ یہ ملک آسٹریلیا سے آگے بین الاقوامی ڈیٹ لائن کے پاس واقع ہے۔ یہ یکم اکتوبر1978ء کو آزاد ہوا۔ اس کارقبہ 24مربع …مزید پڑھیں

مارکوپولو

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍اگست 1999ء میں مکرم وقاص احمد خان صاحب کے قلم سے مارکو پولو کے بارہ میں ایک مختصر مضمون شائع ہوا ہے۔ مارکوپولو 1254ء میں اٹلی کے شہر وینس میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ نیکولو پولو تاجر تھا جو 1260ء میں اپنے بھائی میفیو پولو کے ساتھ خان اعظم قبلائی خان …مزید پڑھیں