جس راہ گزر سے ہو گزر آپ کا سائیں – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15؍اگست 2012ء میں مکرم مبارک احمد ظفر صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: جس راہ گزر سے ہو گزر آپ کا سائیں وہ باعث برکت ہو سفر آپ کا سائیں ہر قوم کو ہے آپ سے قائد کی ضرورت ہر ملک ہؤا دستِ نگر …مزید پڑھیں

نئے دن کا نیا سورج یہی پیغام لایا ہے – نظم

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ اگست و ستمبر 2012ء میں مکرمہ عارفہ حلیم صاحبہ کی ایک نظم شامل اشاعت ہے جو حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے دورۂ امریکہ کے پس منظر میں کہی گئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: نئے دن کا نیا سورج یہی پیغام لایا ہے خلیفۂ وقت کو …مزید پڑھیں

جس کا ہر روز رہا فضل کی برسات سے پُر – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25 مئی 2013ء میں مکرم فاروق محمود صاحب کی ایک نظم شائع ہوئی تھی جس میں خلافتِ خامسہ کے عظیم الشّان دَور کی پہلی بابرکت دہائی مکمل ہونے پر اظہارِ جذبات کیا گیا تھا۔ اس خوبصورت نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: جس کا ہر روز رہا فضل کی برسات سے …مزید پڑھیں

اُٹھتے ہیں ہاتھ میرے بارہا اس دعا کے ساتھ – نظم

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ جولائی 2012ء میں مکرم منیر احمد کاہلوں صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے جو حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ کے دورۂ امریکہ کے حوالہ سے کہی گئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے: اُٹھتے ہیں ہاتھ میرے بارہا اس دعا کے ساتھ آمد ہو اُن کی میرے ہاں نئی …مزید پڑھیں

سلام ، عالی مرتبت ، فیض گنجور – نظم

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا جولائی 2012ء میں مکرم چودھری سعید احمد کوکب صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے جو حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کو کینیڈا میں خوش آمدید کہنے کے لئے کہی گئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: سلام ، عالی مرتبت ، فیض گنجور خلیفۂ خامس ، …مزید پڑھیں

سنتے ہیں عنقریب ہے آمد حضور کی – نظم

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا جولائی 2012ء میں مکرم پروفیسر محمد اسلم صابر صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے جو حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کو کینیڈا میں خوش آمدید کہنے کے لئے کہی گئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: سنتے ہیں عنقریب ہے آمد حضور کی اُڑتی سی اِک …مزید پڑھیں

کام جو کرتے ہیں تیری راہ میں ، پاتے ہیں جزا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک شعر کا مصرعہ ہے: ’’کام جو کرتے ہیں تیری راہ میں پاتے ہیں جزا‘‘۔ اس حوالہ سے مکرم ابن کریم صاحب کا ایک مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20؍جون 2011ء میں شائع ہوا ہے جس میں چند خدّامِ دین کے ایسے واقعات شامل اشاعت ہیں جن کی دلی کیفیت …مزید پڑھیں

خدا کے انعامات ، افضال ، رحمت – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20جنوری 2012ء میں مکرمہ امۃالرشید بدر صاحبہ کی ایک نظم شائع ہوئی ہے جو سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی والدہ ماجدہ کی یاد میں کہی گئی ہے۔ اس طویل نظم سے انتخاب پیش ہے: خدا کے انعامات ، افضال ، رحمت چلی ہے سمیٹے ہوئے سُوئے …مزید پڑھیں

کتنے خوش بخت ہیں ہم ، کیسا حسیں ہے یہ نظام – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم جولائی 2011ء میں نظامِ خلافت کے حوالہ سے مکرم چودھری شبیر احمد صاحب کی ایک نظم شائع ہوئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں : کتنے خوش بخت ہیں ہم ، کیسا حسیں ہے یہ نظام جلوہ افروز سدا رہتا ہے اک ماہِ تمام نور و محمود ملے ناصر …مزید پڑھیں

آج میرے دل نے مجھ سے پھر کہا – قطعہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 9اپریل 2012ء میں مکرم عامر احمدی صاحب کا ایک قطعہ شامل اشاعت ہے۔ ملاحظہ فرمائیں : ’’آج میرے دل نے مجھ سے پھر کہا یاد کر پھر سے وہی عہدِ وفا‘‘ جان و دل سے ہیں خلافت پر فدا لاجَرَم ہر ایک دل ہے کہہ رہا حضرتِ مسرور ہیں میرے حضور کس …مزید پڑھیں

چشمِ ویران کو دیدہ ور مل گیا دل کی بے چینیوں کو قرار آ گیا – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 29اگست 2011ء میں مکرم الطاف حسین صاحب کا کلام شامل اشاعت ہے جو اُس وقت کہا گیا جب کئی ماہ کے وقفہ کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی زیارت انہوں نے MTA پر کی۔ چشمِ ویران کو دیدہ ور مل گیا دل کی بے چینیوں کو قرار آ …مزید پڑھیں

وہ بندی تری بس رضا چاہتی تھی – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 14ستمبر 2011ء میں مکرم فاروق محمود صاحب کی ایک نظم بعنوان ’’حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہؒ کے لئے عاجزانہ دعا‘‘ شائع ہوئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے: وہ بندی تری بس رضا چاہتی تھی تجھی سے تجھے مانگنا چاہتی تھی محبت بھی ، رحمت بھی ، بخشش بھی تیری …مزید پڑھیں

گو کہ گل موجود ہیں خوشبو کی ارزانی نہیں – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13ستمبر 2011ء میں مکرم مرزا خلیل احمد یعقوب ؔ کی ایک نظم شائع ہوئی ہے جو حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہؒ کی وفات پر کہی گئی۔ اس نظم میں سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں : گو کہ گل موجود ہیں خوشبو کی ارزانی نہیں مہرباں مادر کا لیکن کوئی بھی ثانی نہیں اس …مزید پڑھیں

دھرتی پہ اس کا لاڈلا ماہِ کمال ہو گیا – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10؍ستمبر 2011ء میں مکرم ناصر احمد سید صاحب کی ایک نظم حضرت سیدہ ناصرہ بیگم صاحبہؒ کے وصال کے حوالہ سے شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے: دھرتی پہ اس کا لاڈلا ماہِ کمال ہو گیا ٹھنڈک یہ آنکھوں میں لئے ماں کا وصال ہو گیا سب کچھ …مزید پڑھیں

اتنے ضبط سے ذکرِ جدائی کون کرے گا – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23اگست 2011ء میں ’’منزلِ ضبط‘‘ کے عنوان سے مکرم عبدالکریم قدسی ؔصاحب کی نظم شائع ہوئی ہے جو انہوں نے حضور انور ایدہ اللہ کا خطبہ جمعہ مورخہ 5؍اگست 2011ء سننے کے بعد کہی۔ اس خطبہ میں حضور انور نے اپنی مرحومہ والدہ ماجدہ کا ذکر خیر فرمایا ہے۔ اس نظم میں …مزید پڑھیں

تھک کے آخر کار جب اُس ماں نے آنکھیں موند لیں – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 14؍نومبر 2011ء میں مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کا حضورِ انور ایدہ اللہ کی والدہ محترمہ کی وفات کے موقع پر کہا جانے والا کلام شامل اشاعت ہے۔ اس طویل نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: تھک کے آخر کار جب اُس ماں نے آنکھیں موند لیں حسرتیں باقی ہیں پر ارماں …مزید پڑھیں

جب خبر رحلت کی آئی تو سبھی کو یوں لگا – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8؍اگست 2011ء میں حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ کی رحلت کے حوالہ سے مکرم عطاء المجیب راشد صاحب کی ایک نظم شائع ہوئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں : جب خبر رحلت کی آئی تو سبھی کو یوں لگا فیض کا سیلِ رواں تھا جو اچانک رُک گیا بارشِ …مزید پڑھیں

آبِ چناب دریا خوشبو سے ہے معطر – نظم

’رود کیؔ‘ فارسی زبان کے اوّلین دَور کا شاعر ہے۔ اس کی وجۂ شہرت اس کے وہ اشعار ہیں جو اس نے اپنے بادشاہ کے حضور پیش کئے، جن سے متأثر ہو کر بادشاہ اپنی راجدھانی کو واپسی کے لئے تیار ہوگیا۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ایک بار مملکت بخارا کا بادشاہ …مزید پڑھیں

عہد خلافت خامسہ میں پوری ہونے والی عظیم پیشگوئیاں اور نشانات

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24مئی 2011ء میں مکرم عبدالسمیع خان صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں خلافت احمدیہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ایمان افروز واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ = زندہ خدا کی قائم کردہ خلافت کی سچائی کا ایک ثبوت یہ بھی ہوتا ہے کہ ماضی میں …مزید پڑھیں

اس کی جب تصویر دیکھی کہہ اٹھا میرا یہ دل – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 30؍دسمبر 2009ء میں شامل اشاعت مکرم مبارک احمد ظفرؔصاحب کے کلام سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: اس کی جب تصویر دیکھی کہہ اٹھا میرا یہ دل وہ سراپا ہے سراسر قلب کی تنویر کا دے دیا اس کو خدا نے یہ ہنر بھی خوب تر اس سے پہلے تو نہ تھا اس میں …مزید پڑھیں

نورِ ایمان سے دنیا میں سویرا کر دے – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 16؍اپریل 2009ء میں شائع ہونے والے مکرم عطاء المجیب راشد صاحب کے منظوم کلام میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: نورِ ایمان سے دنیا میں سویرا کر دے دورِ مسرورؔ میں یا ربّ یہ کرشمہ کر دے وہ جسے تو نے چنا دیں کی امامت کے لئے اس کی تدبیر کو تقدیر …مزید پڑھیں

لوگو! اگر ہو اُلفتِ پُرنور دیکھنا – نظم

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ اکتوبر 2009ء میں مکرم ڈاکٹر محمد عامر خانصاحب کی ایک نظم شائع ہوئی ہے۔ اس میں سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: لوگو! اگر ہو اُلفتِ پُرنور دیکھنا لندن میں جاکے حضرتِ مسرور دیکھنا خطبے میں تیرا لہجۂ شیریں تو یوں لگے جنت میں جیسے خوشۂ انگور دیکھنا جب جب بھی دیکھنا ، رُخِ …مزید پڑھیں

جب مجھے دوبارہ زندگی ملی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17 اگست 2009ء میں مکرم عبد المنان ناہید صاحب کا ایک دلچسپ مضمون شامل اشاعت ہے جس سے خلیفۂ وقت کی دعاؤں کی قبولیت پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ مکرم ناہیدؔ صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ایم ٹی اے کے ایک انٹرویو میں محترم جنرل محمود الحسن نوری صاحب کے ساتھ خاکسار …مزید پڑھیں

نام زباں پر ایک ہی آتا ہے حضرت مسرور – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 10؍دسمبر 2009ء میں شامل اشاعت مکرم ناصر احمد سید صاحب کے کلام سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: آنکھیں ٹھنڈی چھایا ہیں اور چہرہ جس کا نُور سدا بہار تبسم جس پہ رہتا ہے مستور اس کے چاہنے والوں کو راس نہیں کچھ اَور اس کے پیار کا ساغر ہو تو پیاس نہیں کچھ …مزید پڑھیں

معجزہ تھا تیری دعاؤں کا

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍مئی 2010ء میں مکرم رانا مبارک احمدصاحب آف لاہور لکھتے ہیں کہ مورخہ 16مئی 2009ء کو خاکسارکا بیٹا عطاء النور سیڑھیوں سے گرا اور دیوار کے ساتھ ٹکرا گیا جس سے بے تحاشا خون بہہ نکلا۔ فوری طورپر جنرل ہسپتال لاہور کے ایمرجنسی اپریشن روم میں پہنچا دیا اور اُسی رات تین …مزید پڑھیں