محترمہ امۃالحفیظ صاحبہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7؍جولائی 2006ء میں مکرم محمد فہیم ملک صاحب اپنی اہلیہ مکرمہ امۃالحفیظ صاحبہ (مس قاضی) کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتے کہ مرحومہ مکرم قاضی عبدالمجید صاحب کی بیٹی تھیں۔ 1956ء میں پنجاب یونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم۔اے کرکے ایک سال کنیئرڈ کالج لاہور میں پڑھایا اور پھر 1969ء تک جامعہ نصرت …مزید پڑھیں

چیونٹیاں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍اگست 2006ء میں ایک مضمون میں چیونٹیوں کے حوالہ سے دلچسپ معلومات پیش کی گئی ہیں۔ چیونٹی کی 8800 اقسام ہیں۔ یہ قریباً دس کروڑ سال پہلے کرۂ ارض پر نمودار ہوئیں۔ خیال ہے کہ ان کی جدامجد بھڑ ہے جو ان سے بھی چند کروڑ سال پہلے پیدا ہوئی تھی۔ دونوں …مزید پڑھیں

جانوروں کی دنیا – ہومیوپیتھی کلاس سے

روزنامہ ’’الفضل‘‘ 23 جون 2006ء میں ایک مضمون ہومیو ڈاکٹر مقبول احمد صدیقی صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے جس میں جانوروں کی دنیا سے وہ دلچسپ حقائق بیان کئے گئے ہیں جن کا ذکر حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی ہومیوپیتھی کلاسز میں کیا گیا تھا۔ چمگادڑ ’’کان کی حس کے لحاظ سے سب سے …مزید پڑھیں

پالتو جانوروں کی شناخت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5؍مئی 2006ء میں مکرم بریگیڈیئر(ر) سید ممتاز احمد صاحب کا ایک مختصر مضمون شائع ہوا ہے جس میں پالتو جانوروں کی شناخت سے متعلق قیمتی معلومات بیان کی گئی ہیں۔ مالک کے لئے اپنے مویشی کی پہچان بہت اہم ہے اور اس کی قانونی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے۔ بھیڑ بکریوں اور …مزید پڑھیں

وفادار کتّے اور ان کا استعمال

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍مارچ 2006ء میں مکرم بریگیڈیئر (ر) سید ممتاز احمد صاحب وفادار کتّوں کے استعمال سے متعلق اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ کتا خونخوار ہونے کے ساتھ ساتھ وفادار بھی ہے۔ چنانچہ خونخوار ہونے کی وجہ سے اس کو حفاظتی کاموں میں بہترین سمجھا جاتا ہے۔ اپنی عقل اور قوّت شامہ کی …مزید پڑھیں

گھوڑوں کی اعلیٰ اقسام

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍جنوری 2007ء میں بریگیڈیئر (ر) سید ممتاز احمد صاحب کا ایک معلوماتی مضمون شائع ہوا ہے جس میں اعلیٰ قسم کے گھوڑوں کی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اٹھارہویں صدی میں برطانیہ میں اعلیٰ جانور پالنے کا شوق شروع ہوا۔ اُس زمانہ میں یہاں گھوڑوں کی کئی نسلیں تھیں جو خوبصورت …مزید پڑھیں

کچھوا

کچھوا ایک لمبی عمر پانے والا جانور ہے جس کی اوسط طبعی عمر ڈیڑھ سو سال ریکارڈ کی گئی ہے۔ جون 2006ء میں آسٹریلیا میں ایک کچھوا مرا ہے جس کے بارہ میں DNA Test کے نتیجہ میں علم ہوا تھا کہ اُس کی پیدائش 1830ء میں ہوئی تھی۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17جون 2005ء میں …مزید پڑھیں

چمگادڑ

دنیا بھر میں چمگادڑ کی آٹھ سو سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ چھوٹی چمگادڑ کا سائز ایک بھنورے جتنا ہوتا ہے جبکہ بڑی کے پروں کی لمبائی پانچ فٹ تک جا پہنچتی ہے۔ ان کی شکلیں بے شمار ہوتی ہیں اور بعض اتنی خوفناک ہوتی ہیں کہ لوگوں نے ان سے توہمات وابستہ کر …مزید پڑھیں

ڈولفن اور وھیل

جسامت کے لحاظ سے وھیل کی بہت سی اقسام ہیں۔ ’’سپرم وھیل‘‘ (Sperm Whale) کی لمبائی ساٹھ فٹ ہوتی ہے۔ یہ تیز دانتوں سے شکار کو پکڑتی اور پھر سالم ہی نگل جاتی ہے۔ ’’بلیو وھیل‘‘ (Blue Whale) دنیا کا سب سے بڑا جانور ہے۔ اس کی لمبائی ایک سو فٹ تک اور وزن دو …مزید پڑھیں

لال بیگ (کاکروچ)

لال بیگ ایک چھوٹا سا کیڑا ہونے کے باوجود عالمی سطح پر اپنی شناخت کا مالک ہے اور دنیا میں تقریباً ہر جگہ موجود ہے۔ یہ اتنا سخت جان ہے کہ کیڑے مارنے کی معمولی ادویات کو خاطر میں نہیں لاتا حتی کہ بعض دفعہ اس کو بظاہر مرا ہوا چھوڑ کر جب آپ پیچھے …مزید پڑھیں