چمگادڑ

دنیا بھر میں چمگادڑ کی آٹھ سو سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ چھوٹی چمگادڑ کا سائز ایک بھنورے جتنا ہوتا ہے جبکہ بڑی کے پروں کی لمبائی پانچ فٹ تک جا پہنچتی ہے۔ ان کی شکلیں بے شمار ہوتی ہیں اور بعض اتنی خوفناک ہوتی ہیں کہ لوگوں نے ان سے توہمات وابستہ کر …مزید پڑھیں

ڈولفن اور وھیل

جسامت کے لحاظ سے وھیل کی بہت سی اقسام ہیں۔ ’’سپرم وھیل‘‘ (Sperm Whale) کی لمبائی ساٹھ فٹ ہوتی ہے۔ یہ تیز دانتوں سے شکار کو پکڑتی اور پھر سالم ہی نگل جاتی ہے۔ ’’بلیو وھیل‘‘ (Blue Whale) دنیا کا سب سے بڑا جانور ہے۔ اس کی لمبائی ایک سو فٹ تک اور وزن دو …مزید پڑھیں

لال بیگ (کاکروچ)

لال بیگ ایک چھوٹا سا کیڑا ہونے کے باوجود عالمی سطح پر اپنی شناخت کا مالک ہے اور دنیا میں تقریباً ہر جگہ موجود ہے۔ یہ اتنا سخت جان ہے کہ کیڑے مارنے کی معمولی ادویات کو خاطر میں نہیں لاتا حتی کہ بعض دفعہ اس کو بظاہر مرا ہوا چھوڑ کر جب آپ پیچھے …مزید پڑھیں

مکڑی

مکڑی ایسا کیڑا ہے جو نہ صرف فنّ تعمیر میں ماہر ہے بلکہ تعمیری مواد پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے- اس کی تقریباً بتیس ہزار اقسام دنیا میں پائی جاتی ہیں- روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17؍ستمبر 1998ء میں ایک معلوماتی مضمون مکرم طارق محمود سدھو صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے- مکڑی کی …مزید پڑھیں

سِیل (SEAL)

پانی میں رہنے والا نرم و ملائم اور نہایت چکنے جسم اور کالے رنگ کا جانورسِیل کہلاتا ہے۔ اس کا جسم لمبا اور درمیان سے موٹا ہوتا ہے اور منہ پر لمبی مونچھیں ہوتی ہیں۔ یہ خشکی پر بھی آ جاتاہے اور جب خشکی پر لیٹتا ہے تو اپنے پاؤں جسم کے نیچے چھپا لیتا …مزید پڑھیں

اُلو (OWL)

اُلو دنیا کے ہر علاقے میں پائے جاتے ہیں اور ان کے بارے میں بہت سی باتیں لوگوں میں مشہور ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جانور خود کو ماحول میں ڈھالنے کا نہایت عمدہ سلیقہ رکھتے ہیں۔ دنیا میں ان کی 133؍اقسام پائی جاتی ہیں۔ کسی زمانہ میں یہ غلط فہمی تھی کہ یہ …مزید پڑھیں

گلہری اور اس کی اقسام

گلہری کا خاندان بہت بڑا ہے اور یہ آسٹریلیا، جنوبی امریکہ اور مڈغاسکر کے علاوہ ساری دنیا میں پائی جاتی ہیں۔ ان کا ایک گروہ درختوں پر بسیرا کرتا ہے۔ اس گروہ میں گلہریوں کی دو سو اقسام ہیں۔ یہ درختوں کے کھوکھلے تنوں میں اپنا گھر بناتی ہیں یا پرندوں کی طرح سوکھی ٹہنیوں …مزید پڑھیں

شارک

سمندر کی دنیا کا سب سے خطرناک جانور شارک مچھلی ہے جو ایک میل دور سے بھی خون کی بو محسوس کرلیتی ہے۔ یہ انسان کو زندہ بھی نگل سکتی ہے۔ اس کا وجود تقریباً ہر آبی ماحول میں ملتا ہے حتیٰ کہ بعض جھیلوں اور دریاؤں میں بھی ، سمندر کے اندر بارہ ہزار …مزید پڑھیں

کنگرو

ماہرین نے کنگروکے ڈیڑھ کروڑ سال پرانے آثار دریافت کئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اُس زمانہ کا کنگرو آجکل کے خرگوش کی طرح چھوٹا سا ہوتا تھا لیکن اس میں کنگرو کی تمام خصوصیات موجود تھیں۔ اگرچہ دنیا کے بہت سے لوگوں کو اس جانور کے بارہ میں اس وقت معلوم ہوا …مزید پڑھیں

ڈالفن

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ڈالفن دراصل مینڈک کے خواص اور چیتے کی جسامت کا جانور تھا جو رہتا تو خشکی پر تھا لیکن خوراک پانی سے لیتا تھا۔ حالات نے اسے مستقلاً پانی میں دھکیل دیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی ٹانگیں ختم ہوگئیں اور ان کی جگہ دو پروں نے لے …مزید پڑھیں