انسان کی طبی ترقیات میں جانوروں کا کردار – جدید تحقیق کی روشنی میں

انسان کی طبی ترقیات میں جانوروں کا کردار – جدید تحقیق کی روشنی میں (فرخ‌سلطان محمود) زکام کا شکار ہوسکنے والے چوہے کی پیدائش بہت سی اقسام کے زکام کا باعث بننے والے وائرس کی دریافت قریباً پچاس برس قبل کی گئی تھی لیکن کسی غیرانسانی مخلوق پر اس کے اثرات اور علاج کا مطالعہ …مزید پڑھیں

موٹاپے کے مسائل – جدید تحقیق کی روشنی میں

موٹاپے کا خوف اور نقصانات – جدید تحقیق کی روشنی میں (فرخ سلطان محمود) اس دور میں وزن کی زیادتی نے کئی جسمانی اور نفسیاتی مسائل کو جنم دیا ہے- اور اسی نسبت سے وزن میں کمی کے لئے سینکڑوں ریاضتیں اور علاج کئے جارہے ہیں- دراصل یہ ایک ایسا بزنس بن چکا ہے جس …مزید پڑھیں

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؓ کی جانوروں اور پرندوں سے شفقت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16 دسمبر 2011ء میں مکرم محمد افضل متین صاحب کے قلم سے جانوروں اور پرندوں سے شفقت اور رحم کے سلوک کے بارہ میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؓ کے چند واقعات پیش کئے گئے ہیں ۔ ٭ مکرم احسان اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب حضورؓبیمار تھے ان ایام میں ایک کمزور …مزید پڑھیں

بِھڑ کی ساخت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 14نومبر 2009ء میں مکرم ڈاکٹر ملک نسیم اللہ خان صاحب کے قلم سے بِھڑ کی ساخت کے بارہ میں ایک مختصر معلوماتی مضمون شائع ہوا ہے۔ اگر کبھی آپ کو بِھڑ کاٹ لے تو فوراً اس جگہ پر شہد، پھٹکڑی یا چونا لگالیں اس سے تکلیف فوراً کم ہوجاتی ہے۔ بِھڑ بھی …مزید پڑھیں

اونٹ

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ اگست 2008ء میں مکرم راشد احمد باجوہ صاحب کا اونٹ کے بارہ میں ایک معلوماتی مضمون شائع ہوا ہے۔ اونٹ کی دو قسمیں ہیں۔ یعنی ایک کوہان والا اور دو کوہانوں والا۔ اس کی اوسط عمر 50 سے 60 سال تک ہوتی ہے۔ بار برداری،گوشت اور دودھ کے حصول کی وجہ سے …مزید پڑھیں

محترم چوہدری اللہ داد صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍جولائی 2007ء میں جماعت کے دیرینہ خادم، ماہر گھوڑ سوار اور نیزہ باز محترم چوہدری اللہ داد صاحب کی یاد میں ایک مضمون مکرم ملک پرویز احمد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ محترم چوہدری اللہ داد صاحب ابن چوہدری ولی داد صاحب 1920ء میں گجرات کے گاؤں اسماعیلہ میں پیدا …مزید پڑھیں

شہد کے چھتہ کی ملکہ مکھی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16؍جون 2007ء میں مکرم خالد سیف اللہ خانصاحب کے قلم سے شہد کی ملکہ مکھی کے بارہ میں ایک معلوماتی مضمون شامل اشاعت ہے۔ سڈنی یونیورسٹی کے شعبہ بیالوجی نے شہدکی مکھیوں کے چھتے پر تحقیق کرتے ہوئے معلوم کیا ہے کہ مکھیاں اپنی ملکہ کی سختی سے اطاعت کرتی ہیں اور …مزید پڑھیں

محترمہ امۃالحفیظ صاحبہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7؍جولائی 2006ء میں مکرم محمد فہیم ملک صاحب اپنی اہلیہ مکرمہ امۃالحفیظ صاحبہ (مس قاضی) کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتے کہ مرحومہ مکرم قاضی عبدالمجید صاحب کی بیٹی تھیں۔ 1956ء میں پنجاب یونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم۔اے کرکے ایک سال کنیئرڈ کالج لاہور میں پڑھایا اور پھر 1969ء تک جامعہ نصرت …مزید پڑھیں

چیونٹیاں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 25؍اگست 2006ء میں ایک مضمون میں چیونٹیوں کے حوالہ سے دلچسپ معلومات پیش کی گئی ہیں۔ چیونٹی کی 8800 اقسام ہیں۔ یہ قریباً دس کروڑ سال پہلے کرۂ ارض پر نمودار ہوئیں۔ خیال ہے کہ ان کی جدامجد بھڑ ہے جو ان سے بھی چند کروڑ سال پہلے پیدا ہوئی تھی۔ دونوں …مزید پڑھیں

جانوروں کی دنیا – ہومیوپیتھی کلاس سے

روزنامہ ’’الفضل‘‘ 23 جون 2006ء میں ایک مضمون ہومیو ڈاکٹر مقبول احمد صدیقی صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے جس میں جانوروں کی دنیا سے وہ دلچسپ حقائق بیان کئے گئے ہیں جن کا ذکر حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی ہومیوپیتھی کلاسز میں کیا گیا تھا۔ چمگادڑ ’’کان کی حس کے لحاظ سے سب سے …مزید پڑھیں

پالتو جانوروں کی شناخت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5؍مئی 2006ء میں مکرم بریگیڈیئر(ر) سید ممتاز احمد صاحب کا ایک مختصر مضمون شائع ہوا ہے جس میں پالتو جانوروں کی شناخت سے متعلق قیمتی معلومات بیان کی گئی ہیں۔ مالک کے لئے اپنے مویشی کی پہچان بہت اہم ہے اور اس کی قانونی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے۔ بھیڑ بکریوں اور …مزید پڑھیں

وفادار کتّے اور ان کا استعمال

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍مارچ 2006ء میں مکرم بریگیڈیئر (ر) سید ممتاز احمد صاحب وفادار کتّوں کے استعمال سے متعلق اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ کتا خونخوار ہونے کے ساتھ ساتھ وفادار بھی ہے۔ چنانچہ خونخوار ہونے کی وجہ سے اس کو حفاظتی کاموں میں بہترین سمجھا جاتا ہے۔ اپنی عقل اور قوّت شامہ کی …مزید پڑھیں

گھوڑوں کی اعلیٰ اقسام

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍جنوری 2007ء میں بریگیڈیئر (ر) سید ممتاز احمد صاحب کا ایک معلوماتی مضمون شائع ہوا ہے جس میں اعلیٰ قسم کے گھوڑوں کی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اٹھارہویں صدی میں برطانیہ میں اعلیٰ جانور پالنے کا شوق شروع ہوا۔ اُس زمانہ میں یہاں گھوڑوں کی کئی نسلیں تھیں جو خوبصورت …مزید پڑھیں

کچھوا

کچھوا ایک لمبی عمر پانے والا جانور ہے جس کی اوسط طبعی عمر ڈیڑھ سو سال ریکارڈ کی گئی ہے۔ جون 2006ء میں آسٹریلیا میں ایک کچھوا مرا ہے جس کے بارہ میں DNA Test کے نتیجہ میں علم ہوا تھا کہ اُس کی پیدائش 1830ء میں ہوئی تھی۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17جون 2005ء میں …مزید پڑھیں

چمگادڑ

دنیا بھر میں چمگادڑ کی آٹھ سو سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ چھوٹی چمگادڑ کا سائز ایک بھنورے جتنا ہوتا ہے جبکہ بڑی کے پروں کی لمبائی پانچ فٹ تک جا پہنچتی ہے۔ ان کی شکلیں بے شمار ہوتی ہیں اور بعض اتنی خوفناک ہوتی ہیں کہ لوگوں نے ان سے توہمات وابستہ کر …مزید پڑھیں

ڈولفن اور وھیل

جسامت کے لحاظ سے وھیل کی بہت سی اقسام ہیں۔ ’’سپرم وھیل‘‘ (Sperm Whale) کی لمبائی ساٹھ فٹ ہوتی ہے۔ یہ تیز دانتوں سے شکار کو پکڑتی اور پھر سالم ہی نگل جاتی ہے۔ ’’بلیو وھیل‘‘ (Blue Whale) دنیا کا سب سے بڑا جانور ہے۔ اس کی لمبائی ایک سو فٹ تک اور وزن دو …مزید پڑھیں

لال بیگ (کاکروچ)

لال بیگ ایک چھوٹا سا کیڑا ہونے کے باوجود عالمی سطح پر اپنی شناخت کا مالک ہے اور دنیا میں تقریباً ہر جگہ موجود ہے۔ یہ اتنا سخت جان ہے کہ کیڑے مارنے کی معمولی ادویات کو خاطر میں نہیں لاتا حتی کہ بعض دفعہ اس کو بظاہر مرا ہوا چھوڑ کر جب آپ پیچھے …مزید پڑھیں

مکڑی

مکڑی ایسا کیڑا ہے جو نہ صرف فنّ تعمیر میں ماہر ہے بلکہ تعمیری مواد پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے- اس کی تقریباً بتیس ہزار اقسام دنیا میں پائی جاتی ہیں- روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17؍ستمبر 1998ء میں ایک معلوماتی مضمون مکرم طارق محمود سدھو صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے- مکڑی کی …مزید پڑھیں

سِیل (SEAL)

پانی میں رہنے والا نرم و ملائم اور نہایت چکنے جسم اور کالے رنگ کا جانورسِیل کہلاتا ہے۔ اس کا جسم لمبا اور درمیان سے موٹا ہوتا ہے اور منہ پر لمبی مونچھیں ہوتی ہیں۔ یہ خشکی پر بھی آ جاتاہے اور جب خشکی پر لیٹتا ہے تو اپنے پاؤں جسم کے نیچے چھپا لیتا …مزید پڑھیں

اُلو (OWL)

اُلو دنیا کے ہر علاقے میں پائے جاتے ہیں اور ان کے بارے میں بہت سی باتیں لوگوں میں مشہور ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جانور خود کو ماحول میں ڈھالنے کا نہایت عمدہ سلیقہ رکھتے ہیں۔ دنیا میں ان کی 133؍اقسام پائی جاتی ہیں۔ کسی زمانہ میں یہ غلط فہمی تھی کہ یہ …مزید پڑھیں

گلہری اور اس کی اقسام

گلہری کا خاندان بہت بڑا ہے اور یہ آسٹریلیا، جنوبی امریکہ اور مڈغاسکر کے علاوہ ساری دنیا میں پائی جاتی ہیں۔ ان کا ایک گروہ درختوں پر بسیرا کرتا ہے۔ اس گروہ میں گلہریوں کی دو سو اقسام ہیں۔ یہ درختوں کے کھوکھلے تنوں میں اپنا گھر بناتی ہیں یا پرندوں کی طرح سوکھی ٹہنیوں …مزید پڑھیں

شارک

سمندر کی دنیا کا سب سے خطرناک جانور شارک مچھلی ہے جو ایک میل دور سے بھی خون کی بو محسوس کرلیتی ہے۔ یہ انسان کو زندہ بھی نگل سکتی ہے۔ اس کا وجود تقریباً ہر آبی ماحول میں ملتا ہے حتیٰ کہ بعض جھیلوں اور دریاؤں میں بھی ، سمندر کے اندر بارہ ہزار …مزید پڑھیں

کنگرو

ماہرین نے کنگروکے ڈیڑھ کروڑ سال پرانے آثار دریافت کئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اُس زمانہ کا کنگرو آجکل کے خرگوش کی طرح چھوٹا سا ہوتا تھا لیکن اس میں کنگرو کی تمام خصوصیات موجود تھیں۔ اگرچہ دنیا کے بہت سے لوگوں کو اس جانور کے بارہ میں اس وقت معلوم ہوا …مزید پڑھیں

ڈالفن

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ڈالفن دراصل مینڈک کے خواص اور چیتے کی جسامت کا جانور تھا جو رہتا تو خشکی پر تھا لیکن خوراک پانی سے لیتا تھا۔ حالات نے اسے مستقلاً پانی میں دھکیل دیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی ٹانگیں ختم ہوگئیں اور ان کی جگہ دو پروں نے لے …مزید پڑھیں