اس دل کی اُجڑی بستی میں آ بیٹھ ذرا گر تُو چاہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22؍نومبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: اس دل کی اُجڑی بستی میں آ بیٹھ ذرا گر تُو چاہے دیوار و در کو دھو دھو کر میں دوں چمکا گر تُو چاہے میں فرش زمیں کو صاف کروں خود اپنے میلے …مزید پڑھیں

اُجلے اُجلے ماہ کامل نے تڑپایا ساری رات – نظم

رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں محترم حاجی غلام محی الدین صادق صاحب مرحوم کا کلام شائع ہوا ہے۔ اِس نظم سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: اُجلے اُجلے ماہ کامل نے تڑپایا ساری رات روشن روشن صورت نے اک حشر دکھایا ساری رات شام ڈھلے ہی دکھ کے بادل آن سمائے آنکھوں میں جل …مزید پڑھیں

روئے زمیں پہ دین کے سلطان تمہیں تو ہو – نعت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم نومبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم حکیم سید عبدالہادی مونگھیری صاحب کی ایک نعت سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: روئے زمیں پہ دین کے سلطان تمہیں تو ہو شمس و قمر سے بڑھ کے درخشاں تمہیں تو ہو احسان آپ کا ہے ہر اِک جاندار پر خلق خدا میں رحمت یزداں …مزید پڑھیں

اُبھرا افق سے اِک نیا خورشید دیکھنا – نظم

رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں محترم حاجی غلام محی الدین صادق صاحب مرحوم کا کلام شائع ہوا ہے۔ اِس نظم سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: اُبھرا افق سے اِک نیا خورشید دیکھنا کھلنے لگے ہیں نئے روزنِ امید دیکھنا بعث مسیح پاک کی اب دوسری صدی آتی ہے لے کے نصرت و تائید …مزید پڑھیں

وہ شخص کہ ہم سے کیا بچھڑا – نظم

رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں شامل اشاعت مکرم مقصودالحق صاحب کی ایک نظم سے انتخاب پیش ہے: وہ شخص کہ ہم سے کیا بچھڑا اک عہد کا سورج ڈوب گیا وہ شخص ہمارا جیون تھا وہ شخص دلوں کی دھڑکن تھا دھڑکن جو رُکی تو رُک کے چلی اک روپ نئے میں …مزید پڑھیں

کرّوبیاں ہیں سینہ سِپر آپ کے لئے – نظم

رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں محترم حاجی غلام محی الدین صادق صاحب مرحوم کا کلام شائع ہوا ہے۔ اِس نظم سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں: کرّوبیاں ہیں سینہ سِپر آپ کے لئے لکھ دی گئی ہے فتح و ظفر آپ کے لئے سرکار دو جہاں کی غلامی کے فیض سے کھلتے ہیں آسمان …مزید پڑھیں

کتنی تُو خوش نصیب ہے اے ارضِ سیالکوٹ – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍اکتوبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم چودھری شبیر احمد صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے۔ یہ نظم سیالکوٹ میں 1904ء میں حضرت مسیح موعودؑ کے ورود کے حوالہ سے کہی گئی ہے: کتنی تُو خوش نصیب ہے اے ارضِ سیالکوٹ تجھ کو مسیح وقت نے اپنا کہا وطن اس …مزید پڑھیں

تیرے بِن اب تو کچھ بھی نہیں شہر میں – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20؍نومبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم ملک منیر احمد ریحان صابر صاحب کی ایک غزل سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: تیرے بِن اب تو کچھ بھی نہیں شہر میں کہہ رہے ہیں یہ سارے مکیں شہر میں کتنے طائر چمن زار کے خوش لحن ہو گئے ہیں جو گوشہ نشیں شہر میں …مزید پڑھیں

وہ حسن رنگِ سخن لاجواب ہے اُس کا – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍نومبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم عبدالصمد قریشی صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: وہ حسن رنگِ سخن لاجواب ہے اُس کا نگاہ لطف و کرم بے حساب ہے اُس کا وہ بولتا ہے تو خوشبو سی پھیل جاتی ہے ہر ایک لفظ معطر گلاب ہے اُس کا ہیں …مزید پڑھیں

خدائے پاک رحماں کا یہ ہم پہ کتنا احساں ہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 11؍ستمبر 2007ء میں شامل اشاعت مکرم خواجہ عبدالمومن صاحب کی ایک نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: خدائے پاک رحماں کا یہ ہم پہ کتنا احساں ہے عطا کی ہم کو وہ تعلیم جس کا نام قرآں ہے اگر آتا نہ یہ قرآں بھٹک جاتے سبھی انساں ہمارے واسطے لا ریب، یہ …مزید پڑھیں