خاصۂ عشق رازداری ہے اور تری ہاؤہو زیادہ ہے – نظم

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ نومبرودسمبر 2012ء میں مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس ناصحانہ نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: خاصۂ عشق رازداری ہے اور تری ہاؤہو زیادہ ہے تیری آہ و بُکا کے پردے میں خودنمائی کی بُو زیادہ ہے اپنی حالت کی فکر کر عرشیؔ آپ اپنا …مزید پڑھیں

خلوصِ دل سے جو خالی ہو دوستی کیا ہے – نظم

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ اکتوبر 2012ء میں مکرم عطاء المجیب راشد صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: خلوصِ دل سے جو خالی ہو دوستی کیا ہے دلوں کو نُور نہ بخشے وہ روشنی کیا ہے ہجومِ یاس میں بس اِک وہی سہارا ہے اگر وہ تھام لے مجھ …مزید پڑھیں

ہونٹوں پہ دعا آنکھ میں اشکوں کی لڑی تھی – نظم

جماعت احمدیہ برطانیہ کے سیدنا طاہر نمبر میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی یاد میں مکرم مبارک صدیقی صاحب کی شائع ہونے والی نظم پیش ہے- اس نظم کا پس منظر بیان کرتے ہوئے وہ رقمطراز ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کی وفات پر آپؒ کے جسدِ اطہر کے اردگرد برف رکھنے کی ذمہ …مزید پڑھیں

صبر کے بول بہت دل کو سنائے مَیں نے – نظم

جماعت احمدیہ برطانیہ کے سیدنا طاہر نمبر میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی یاد میں مکرم قریشی داؤد احمد ساجد صاحب کا درج ذیل منظموم کلام شامل اشاعت ہے: صبر کے بول بہت دل کو سنائے مَیں نے مدّتوں پہلو میں غم تیرے چھپائے مَیں نے دردِ دل اور تیرے درد سے اشکوں کا ہجوم عید …مزید پڑھیں

اے مِرے پیارے ، مرے پیارے خدا – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 14 دسمبر 2011ء میں مکرم ناصر احمد سید صاحب کا دعائیہ کلام شائع ہوا ہے۔ اس کلام میں سے انتخاب ذیل میں پیش ہے: اے مِرے پیارے ، مرے پیارے خدا اے مرے مالک ، مرے مشکل کشا تیرے بِن تو کچھ نہیں کچھ بھی نہیں کچھ نہیں ، کچھ بھی نہیں …مزید پڑھیں

قندیلِ حرم تو روشن ہے کیوں آتے نہیں کچھ پروانے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22؍جولائی 2011ء میں مکرم چودھری شبیر احمد صاحب کی ایک نظم بعنوان ’’دعوتِ فکر‘‘ شائع ہوئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے: قندیلِ حرم تو روشن ہے کیوں آتے نہیں کچھ پروانے خواہش تھی جنہیں مر مٹنے کی وہ آج ہوئے کیوں فرزانے تہذیب کے دورِ حاضر میں ناقابلِ فہم …مزید پڑھیں

’’جس طرف دیکھو وہی نور نظر آتا ہے‘‘ – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12 دسمبر 2011ء میں مکرمہ شگفتہ عزیز شاہ صاحبہ کا حمدیہ کلام شامل اشاعت ہے۔ اس خوبصورت نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: یہ گھنی رات میں پُر نور ستاروں کی چمک مست کرتی ہوئی گلرنگ بہاروں کی مہک کُھبتی جاتی ہے ان آنکھوں میں یہ جنت کی جھلک وجد میں …مزید پڑھیں

ہم عبث گھومے پھرے شہرِ یقیں سے پہلے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10 دسمبر 2011ء میں مکرم عبدالکریم قدسی ؔصاحب کی غزل شائع ہوئی ہے۔ اس غزل میں سے انتخاب ذیل میں پیش ہے: ہم عبث گھومے پھرے شہرِ یقیں سے پہلے کن سے ہم ملتے رہے ایسے حسیں سے پہلے خامشی ظلم پہ جب حد سے گزر جاتی ہے آسماں بولنے لگتا ہے …مزید پڑھیں

میرا دین و ایماں خلافت میں پنہاں – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24 دسمبر 2011ء میں مکرم محمود انور صاحب کا کلام شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: میرا دین و ایماں خلافت میں پنہاں ہے تمکینِ دیں اس صداقت میں پنہاں ہے اِس دورِ نخوت ہوا و ہوس میں اک آبِ حیات اس حلاوت میں پنہاں کروں پیش …مزید پڑھیں

اُٹھی تھی اک صدا جو کبھی قادیان سے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10 دسمبر 2011ء میں مکرم مرزا محمد افضل صاحب کی ایک غزل شائع ہوئی ہے جس میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: اُٹھی تھی اک صدا جو کبھی قادیان سے اُتری تھی کائنات میں وہ آسمان سے سانسوں میں جس نے پھونک دی ہے زندگی نئی مجھ کو عزیز تر وہی سارے …مزید پڑھیں

خوں میں نہلائے رہے سو سال میں – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍جولائی 2011ء میں مکرم عبدالکریم قدسی صاحب کی ایک نظم شائع ہوئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: خوں میں نہلائے رہے سو سال میں صابر و شاکر رہے ہر حال میں ذلّت و رسوائی ہے لکھی گئی قاتلوں کے نامۂ اعمال میں اپنا جینا اور مرنا ہے یہاں …مزید پڑھیں

کون سا فیض ہے جاری جو سدا رہتا ہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27؍جون 2011ء میں مکرم چودھری شبیر احمد صاحب کی ایک نظم ’’دائمی منبع فیض‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: کون سا فیض ہے جاری جو سدا رہتا ہے وہ تو بس مولا کا دَر ہے جو کھُلا رہتا ہے للہ الحمد کہ ہم …مزید پڑھیں

مبارک مبارک خلافت مبارک – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 14 دسمبر 2011ء میں خلافت کے حوالہ سے شائع ہونے والی مکرم سید طاہر احمد زاہد صاحب کی ایک نظم میں سے انتخاب پیش ہے: مبارک مبارک خلافت مبارک یہ تجدیدِ عہد و محبت مبارک مسرت ہے دل میں مگر آنکھ نم ہے مرے آنسوؤں کی عقیدت مبارک یہ سر سجدے میں …مزید پڑھیں

وہ ایک شخص جو تازہ ہواؤں جیسا تھا – نظم

جماعت احمدیہ امریکہ کے ماہنامہ ’’النور‘‘ دسمبر 2010ء میں مکرم مرزا محمد افضل صاحب کی ایک غزل شائع ہوئی ہے جس میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: وہ ایک شخص جو تازہ ہواؤں جیسا تھا مہک رہا تھا معطّر فضاؤں جیسا تھا ہزاروں درد سے بے چین غم زدوں کے لئے حصار امن ، محبت …مزید پڑھیں

جس گھڑی معبدوں کو سجا کے چلے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24؍جون 2011ء میں مکرم اطہر حفیظ فراز صاحب کی ایک نظم لاہور میں ہونے والی دہشتگردی کے حوالہ سے شائع ہوئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: جس گھڑی معبدوں کو سجا کے چلے کتنی شدّت سے جھونکے ہوا کے چلے ان کے لب پہ ترانے تھے توحید کے …مزید پڑھیں

ہدف گولیوں کے نہتّے نمازی – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ10؍نومبر 2011ء میں لاہور میں ہونے والی دہشتگردی کے حوالہ سے مکرم عبدالمنان ناہیدؔ صاحب کی نظم بعنوان ’’ظلم‘‘ شائع ہوئی ہے۔ اس کلام میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: ہدف گولیوں کے نہتّے نمازی بجز ظلم کے اس کا عنوان کیا ہے مجھے مار کر کیا مٹا دو گے مجھ کو یہ …مزید پڑھیں

عبادت کا مرکز خدا کا نشاں ہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍نومبر 2011ء میں جماعت احمدیہ ناروے کی نئی مسجد بیت النصر کے حوالہ سے مکرم خواجہ عبدالمومن صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے عبادت کا مرکز خدا کا نشاں ہے خدا کی عنایت کا یہ سائباں ہے ہماری دعاؤں کا قربانیوں کا صلہ دینے …مزید پڑھیں

نہ کوئی موج ہے نہ میلہ ہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم دسمبر 2011ء میں مکرم ناصر احمد سید صاحب کی ایک غزل شائع ہوئی ہے۔ اس غزل میں سے انتخاب پیش ہے: نہ کوئی موج ہے نہ میلہ ہے آدمی کس قدر اکیلا ہے ہر کوئی کھیلنے میں ہے مصروف کھیل کیا زندگی نے کھیلا ہے رُوح نہ ہو تو جسم ہے …مزید پڑھیں

دل کش بہت ہے گرچہ ہر کاغذی گلاب – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍نومبر 2011ء میں مکرم خالد ہدایت بھٹی صاحب کی ایک غزل شائع ہوئی ہے۔ اس غزل میں سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں : دل کش بہت ہے گرچہ ہر کاغذی گلاب خوشبو ہی گر نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں جناب پہلی تھیں جو کتابیں متروک ہو چکی ہیں اب تا ابد رہے …مزید پڑھیں

مجھ کو تُو صاحبِ ایمان بنا دے یا ربّ! – قطعہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍نومبر 2011ء میں مکرم ڈاکٹر حنیف احمد قمر صاحب کا درج ذیل دعائیہ قطعہ شائع ہوا ہے: مجھ کو تُو صاحبِ ایمان بنا دے یا ربّ! یعنی اک عاشقِ قرآن بنا دے یا ربّ! مرحلہ موت کا آسان بنا دے یا ربّ! اور بخشش کا بھی سامان بنا دے یا ربّ! Share …مزید پڑھیں

ہاتھ اٹھاؤ نہ ناتوانوں پر – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم دسمبر 2011ء میں مکرم عبدالمنان ناہید صاحب کی ایک غزل شامل اشاعت ہے۔ لاہور میں ہونے والی دہشتگردی کے پس منظر میں کہی گئی اس غزل میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: ہاتھ اٹھاؤ نہ ناتوانوں پر نہ کرو ظلم اپنی جانوں پر آندھیوں زلزلوں کی زد میں ہیں آپ بیٹھے …مزید پڑھیں

زمینِ عشق پہ جب پیار کی نمو پھیلی – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍ نومبر 2011ء میں مکرم عبدالصمد قریشی صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے: زمینِ عشق پہ جب پیار کی نمو پھیلی تو دل میں خواب بسانے کی آرزُو پھیلی شہر میں سب ہی تھے اس کی نظر کے دیوانے ہر ایک دل میں فقط …مزید پڑھیں

کچھ رہے باقی نہ کچھ اس کے سوا باقی رہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30 ستمبر 2011ء میں محترمہ ڈاکٹر فہمیدہ منیر صاحبہ کی ایک غز ل شائع ہوئی ہے۔ اس غزل میں سے انتخاب پیش ہے: کچھ رہے باقی نہ کچھ اس کے سوا باقی رہے حوصلہ افکار کا ، احساس کا باقی رہے میں قفس میں مر بھی جاؤں اس کی کچھ پرواہ نہیں …مزید پڑھیں

ہمارے گِرد سنہری ہوا چلا دی ہے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 14جنوری 2012ء میں مکرم ناصر احمد سید صاحب کی ایک غزل شائع ہوئی ہے۔ اس غزل میں سے انتخاب پیش ہے: ہمارے گِرد سنہری ہوا چلا دی ہے کسی بزرگ نے ہم کو بڑی دعا دی ہے مٹا ہی ڈالا ہے اس نے جواز ظلمت کا نجات ظلمتِ شب سے ہمیں دلا …مزید پڑھیں

راہِ وفا میں جان کے نذرانے لے چلے – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2جنوری 2012ء میں سانگھڑ کے پانچ شہداء کی یاد میں مکرم ابن کریم صاحب کی ایک نظم شائع ہوئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں : راہِ وفا میں جان کے نذرانے لے چلے یہ جو سیاہ رات کے افسانے لے چلے سانگھڑ کی سرزمین کے یہ پانچوں جاں نثار …مزید پڑھیں