ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒکےچند اوصاف)

جماعت احمدیہ برطانیہ کے سیدنا طاہر نمبر میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒکے اوصافِ کریمانہ پر مبنی ایک مضمون ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح (مرتّبہ: محمود احمد ملک) سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی پاکیزہ حیات جہد مسلسل سے عبارت ہے اور اس حیات جاوداں کا احاطہ چند خصوصی …مزید پڑھیں

محترم ماسٹر فضل الرحمن بسمل صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2؍اپریل 2011ء میں مکرمہ ا۔ق۔صبا صاحبہ کے قلم سے اُن کے دادا محترم ماسٹر فضل الرحمن صاحب بھیروی کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔ محترم ماسٹر فضل الرحمن بسمل صاحب 1909ء میں بھیرہ میں حضرت حاجی عبدالرحمن صاحبؓ کے ہاں پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے والد حضرت میاں اللہ دین صاحبؓ کے ہمراہ …مزید پڑھیں

مکرم پروفیسر حبیب اللہ خان صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 6جون 2011ء میں مکرمہ م۔ جاوید صاحبہ نے ایک مضمون میں اپنے والد محترم پروفیسر حبیب اللہ خان صاحب کا ذکرخیر کیا ہے۔ حضرت مولانا ذوالفقار علی خان گوہرؓ کے بیٹے مکرم پروفیسر حبیب اللہ خان صاحب کا نام حضرت مسیح موعودؑ نے تجویز فرمایا تھا۔ پھر آپ کے والد صاحب نے …مزید پڑھیں

درویش صحابہ کرام:حضرت بھائی شیر محمد صاحبؓ دکاندار

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان (درویش نمبر 2011ء) میں مکرم تنویر احمد ناصر صاحب کے قلم سے اُن 26 صحابہ کرام کا مختصر ذکرخیر شامل اشاعت ہے جنہیں قادیان میں بطور درویش خدمت کی سعادت عطا ہوئی۔ حضرت بھائی شیر محمد صاحبؓ کے والد مکرم شیخ میراں بخش صاحب آف دھرم کوٹ رندھاوا تھے۔ آپؓ نے …مزید پڑھیں

درویش صحابہ کرام: حضرت بابا سلطان احمد صاحبؓ

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان (درویش نمبر 2011ء) میں مکرم تنویر احمد ناصر صاحب کے قلم سے اُن 26 صحابہ کرام کا مختصر ذکرخیر شامل اشاعت ہے جنہیں قادیان میں بطور درویش خدمت کی سعادت عطا ہوئی۔ حضرت بابا سلطان احمد صاحبؓ ولد چودھری نورعلی صاحب ساکن بہادر نواں پنڈ متصل گورداسپور نے بیعت کی سعادت …مزید پڑھیں

درویش صحابہ کرام:حضرت بابا شیر محمد صاحبؓ

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان (درویش نمبر 2011ء) میں مکرم تنویر احمد ناصر صاحب کے قلم سے اُن 26 صحابہ کرام کا مختصر ذکرخیر شامل اشاعت ہے جنہیں قادیان میں بطور درویش خدمت کی سعادت عطا ہوئی۔ حضرت بابا شیر محمد صاحبؓ ولد مکرم دتّہ خان صاحب ساکن خان فتح ضلع گورداسپور 1947ء میں پاکستان چلے …مزید پڑھیں

محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب درویش قادیان

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان (درویش نمبر 2011ء) میں وفات یافتہ درویشان کے ضمن میں محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کا تفصیلی ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔ قبل ازیں ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 9؍مئی 2008ء، 28؍جون 2013ء اور 31؍اکتوبر 2014ء میں محترم صاحبزادہ صاحب کی سیرت پر مضامین شائع کئے جاچکے ہیں ۔ ذیل میں صرف اضافی امور …مزید پڑھیں

محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب درویش صفت درویش

مکرم مولانا محمد انعام غوری صاحب (ناظر اعلیٰ قادیان) اپنے مضمون میں رقمطراز ہیں کہ صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب مرحوم و مغفور ایک درویش صفت انسان تھے۔ کسی مجلس میں نمایاں جگہ بیٹھنے کی بجائے دوسروں کے ساتھ مل جُل کر بیٹھنا پسند کرتے۔ نو عمر خدام بھی سفر یا پکنک وغیرہ کے دوران …مزید پڑھیں

محترم مولانا محمد ابراہیم صاحب فاضل قادیانی درویش

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان (درویش نمبر 2011ء) میں محترم مولانا محمد ابراہیم صاحب فاضل قادیانی کا ذکرخیر بھی شامل اشاعت ہے۔ آپ 4دسمبر1906ء کو حضرت میاں مہرالدین صاحبؓ (ابن حضرت مہر حامد علی صاحبؓ) کے ہاں قادیان میں پیدا ہوئے ۔ آپ کاخاندانی گھر مسجد مبارک کے قریب تھا۔ یعنی مسجد فضل کے متصل ۔ …مزید پڑھیں

محترم عطاء اللہ خان صاحب درویش

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان (درویش نمبر 2011ء) میں محترم عطاء اللہ خان صاحب کی خودنوشت داستانِ حیات شامل اشاعت ہے۔ آپ 1909میں گاؤں ’نوراں والی‘ ضلع سرگودھا کے کاشتکار شیر محمد صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ ایک سکول میں عارضی ملازم تھے جب ایک احمدی مولوی عبدالمجید صاحب کی تبلیغ کے نتیجہ میں 1936ء …مزید پڑھیں

محترم غلام حسین صاحب درویش

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان (درویش نمبر 2011ء) میں مکرم فیاض احمد صاحب نے اپنے والد محترم غلام حسین صاحب درویش کا ذکرخیر کیا ہے۔ محترم غلام حسین صاحب ابن مکرم نظام دین صاحب قادیان میں پیدا ہوئے۔آپ اپنے چار بھائیوں میں سب سے بڑے تھے ۔ گو آپ کو اسکول جانے کا موقعہ نہیں ملا …مزید پڑھیں

فلک نے علم و حکمت کا زمیں پر اِک جہاں دیکھا – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 18جنوری 2012ء میں محترم سیّد عبدالحئی شاہ صاحب کی یاد میں کہی گئی مکرم طاہر محمود احمد صاحب کی ایک نظم شائع ہوئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں : فلک نے علم و حکمت کا زمیں پر اِک جہاں دیکھا سمندر کی طرح خاموش بحرِ بیکراں دیکھا خلافت کے …مزید پڑھیں

محترم ملک محمد عبداللہ صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30 ستمبر 2010ء میں شامل اشاعت مکرم ملک محمد اکرم طاہر صاحب نے اپنے مضمون میں اپنے والد محترم ملک محمد عبداللہ صاحب کا ذکرخیر کیا ہے۔ محترم ملک محمد عبداللہ صاحب 20؍اگست 1904ء کو سرگودھا کے گاؤں کالرہ میں ایک سنی العقیدہ بریلوی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والدین کا رجحان عرس، …مزید پڑھیں

محترم صاحبزادہ مرزاوسیم احمد صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20اکتوبر 2010ء میں محترمہ سیدہ امۃ القدوس بیگم صاحبہ کا مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے اپنے خاوند محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کے اخلاق حسنہ پر روشنی ڈالی ہے۔ قبل ازیں محترم صاحبزادہ کا ذکرخیر الفضل انٹرنیشنل 9؍مئی 2008ء اور 28 جون 2013ء کے اسی کالم میں کیا …مزید پڑھیں

مکرم ماسٹر عطاء اللہ خانصاحب آف کاٹھگڑھ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 29 ستمبر 2010ء میں مکرم رانا عبدالرزاق صاحب آف کاٹھگڑھ کا مضمون شائع ہوا ہے جس میں مکرم ماسٹر عطاء اللہ خانصاحب کا ذکرخیر کیا گیا ہے۔ محترم ماسٹر عطاء اللہ خان صاحب 1901ء میں کاٹھگڑھ میں حضرت چوہدری خواجہ خان صاحبؓ ولد حضرت چوہدری بلند خان صاحبؓ کے ہاں پیدا ہوئے۔ …مزید پڑھیں

پارٹیشن کے زمانہ کی چند یادداشتیں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26 اگست 2010ء کے شمارہ سے تین اقساط میں محترم سید میر محمد احمد صاحب کا ایک طویل مضمون شائع ہوا ہے جس میں جماعت احمدیہ کے اُن ہوائی جہازوں کی مختصر تاریخ بیان کی گئی ہے جو قیام پاکستان کے وقت مختلف خدمات کو بجالانے کے لئے استعمال کئے گئے تھے۔ …مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی قبولیتِ دعا کا معجزہ

حضرت سیّد غلام حسین شاہ صاحبؓ بھیرہ ضلع شاہ پور کے رہنے والے تھے۔ 1896ء میں آپ کو وٹرنری کالج لاہور میں داخلہ ملا۔ لیکن کالج کے طلباء اور پروفیسر آپؓ کے شدید معاند ہوگئے۔ ان حالات میں خداتعالیٰ نے اپنی قادرانہ تجلّی اور نصرت کا زبردست نشان ظاہر فرمایا جس کی تفصیل تعلیم الاسلام …مزید پڑھیں

اطاعت خلافت کے نمونے

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8 دسمبر 2010ء میں مکرم نصیر احمد انجم صاحب کا مضمون شائع ہوا ہے جس میں اطاعتِ خلافت کی قابل تقلید مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ ٭ خلفاء کرام کا اپنا نمونہ تو یہ ہے کہ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل کے متعلق حضرت مسیح موعودؑنے فرمایا تھا: ’’وہ ہر امر میں میری اس …مزید پڑھیں

محترم چودھری محمدانور حسین صاحب کی خلافت احمدیہ کے ساتھ والہانہ عقیدت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15؍اپریل 2010ء میں مکرم محمود مجیب اصغر صاحب کے قلم سے محترم چودھری محمد انور حسین صاحب سابق امیر ضلع شیخوپورہ کی خلافت احمدیہ سے والہانہ محبت کے بارہ میں ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔ محترم چوہدری محمد انور حسین صاحب ربوہ تو اکثر آتے جاتے تھے لیکن خلیفۂ وقت جہاںبھی تشریف …مزید پڑھیں

حضرت طلحہ بن براء انصاریؓ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15؍اپریل 2010ء میں حضرت طلحہ بن براہ انصاریؓ کی سیرۃ و سوانح پر ایک مختصر مضمون مکرم حافظ مظفر احمد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ حضرت طلحہ ؓ بن براء انصاری بنی عمرو بن عوف کے حلیف تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو …مزید پڑھیں

حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22 مارچ 2010ء میں مکرم ماجد احمد خان صاحب نے ایک مضمون میں اپنے ماموں اور سسر حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کا ذکرخیر کیا ہے۔ مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ 29 اور 30 اپریل 2007ء کی درمیانی شب حضرت میاں صاحب کی وفات ہوئی۔ قادیان میں لوگوں کا ہجوم …مزید پڑھیں

تمباکونوشی ترک کرنے کی روشن مثالیں

اطاعت مومن کا خاص جوہر ہے۔ خصوصاً وہ اطاعت جو طبیعت اور عادت کے خلاف ہو اور جس حکم کی تعمیل کرنے میں تکلیف محسوس ہو اور دراصل اطاعت یہی ہے جس میں انسان نفس کو مار کر محبوب کی رضا کو حاصل کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ اور آپ کے خلفاء نے حقہ کو …مزید پڑھیں

محترم چوہدری عبد اللہ خانصاحب کاٹھگڑھی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20اگست 2009ء میں مکرم رانا منیب احمد خان صاحب نے اپنے نانا محترم چودھری عبداللہ خانصاحب کاٹھگڑھی کا ذکرخیر کیا ہے۔ محترم چوہدری عبداللہ خاں کاٹھگڑھی ولد محترم چوہدری خواجہ خاں صاحب کاٹھگڑھی 1910ء میں ضلع ہوشیارپور کے قصبہ کاٹھگڑھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا خاندان 1900ء میں احمدی ہوا تھا۔ آپ …مزید پڑھیں

تُم امامت ہی امامت سر تاپا – نظم

روزنامہ ’’الفضل ‘‘ربوہ 9؍ ستمبر 2009ء میں شامل اشاعت مکرمہ ارشاد عرشی ملک صاحبہ کی ایک بہت طویل نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے: تُم امامت ہی امامت سر تاپا ہم اطاعت ہی اطاعت سرتاپا اُس طرف ندرت ہی ندرت سر تا پا اِس طرف حیرت ہی حیرت سر تا پا کھولنے کا لب مجھے …مزید پڑھیں

حضرت مولانا ظہور حسین صاحب بخارا

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ر بوہ 12نومبر 2012ء میں مکرم عبدالہادی ناصر صاحب نے حضرت مولانا ظہور حسین صاحب بخارا کی بحیثیت استاد تصویرکشی کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ مَیں 1954ء کی ایک صبح کو جامعہ احمدیہ (احمدنگر) میں داخلہ کے لئے حاضر ہوا۔ میرا احمد نگر جانے کا یہ …مزید پڑھیں