یسوع، یوزو نام کا سکّہ

یسوع، یوزو نام کا ایک سکّہ دریافت ہوا ہے اور اس حوالہ سے ماہنامہ ’’النور‘‘ جولائی، اگست 2009ء میں مکرمہ عاتکہ صدیقہ صاحبہ کے قلم سے ایک معلوماتی مضمون شامل اشاعت ہے۔ قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں فرمایا گیا ہے کہ دنیا میں بھی مسیح کو اس کی زندگی میں …مزید پڑھیں

لدّاخ سے دریافت ہونے والی تبتی انجیل

ماہنامہ ’’انصاراللہ‘‘ ربوہ جنوری اور مارچ 2009ء کے شماروں میں مکرم عبدالرحمن صاحب کے قلم سے ایک معلوماتی تاریخی مضمون شامل ہے جس میں لدّاخ کے علاقہ سے دریافت ہونے والی تبّتی انجیل پر مزید تحقیق کی ضرورت بیان کی گئی ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی کتب میں حضرت عیسیٰؑ کے ہندوستان کی …مزید پڑھیں

عراق کی قدیم تہذیب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 23؍اگست 2007ء میں مکرمہ ن۔رفیق فوزی صاحبہ کا ایک مضمون بعنوان ’’عراق کی قدیم تہذیب‘‘ شامل ہے۔ حضرت نوح کے سیلاب کا واقعہ قریباً پانچ ہزار سال قبل یعنی قریباً 3ہزار قبل مسیح رونما ہوا۔ سیلاب کے بعد حضرت نوح کے تینوں بیٹوں، سام ، حسام اور یافث کے ذریعے دنیا میں …مزید پڑھیں

اہرام مصر

ماہنامہ ’’خالد‘‘ جون 2007ء میں اہرام مصر (Pyramids) کے بارہ میں ایک معلوماتی مضمون مکرم اطہر الزمان فاروقی صاحب کے قلم سے شائع ہوا ہے۔ قبل ازیں اسی موضوع پر ایک مضمون 27؍اپریل 2007ء کے الفضل ڈائجسٹ میں طبع ہوچکا ہے۔ اہرام مصر کا شمار دنیا کے سات پُرانے عجائبات میں ہوتا ہے جو پانچ …مزید پڑھیں

اہرام مصر

ماہنامہ ’’خالد‘‘ فروری 2006ء میں اہرام مصر کے بارہ میں ایک تفصیلی معلوماتی مضمون مکرم آر۔ایس بھٹی صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ پانچ ہزار سال قبل مصر کے شہنشاہوں کی چوتھی نسل بہت ترقی یافتہ تھی۔ بادشاہ کو فرعون کہا جاتا تھا اور انہیں خدا کا درجہ حاصل تھا۔ ویسے فرعون کا بنیادی …مزید پڑھیں

پمپائے (Pompeii)

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق پمپائے کا شمار اہم ترین آثار قدیمہ میں ہوتا ہے۔قریباً دو ہزار سال پہلے 79ء میں ایک آتش فشاں کی زد میں آکر مٹی میں دب کر منجمد ہونے سے قبل ایک کامیاب شہر تھا۔ پمپائے کی بنیاد روم سے ڈیڑھ سو میل جنوب مغرب میں آٹھویں صدی قبل مسیح …مزید پڑھیں

پُر اسرار مصری ممیاں

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ فروری 2005ء میں مکرم عزیز احمد صاحب کا مصری ممیوں کے بارہ میں ایک معلوماتی مضمون شامل اشاعت ہے۔ مسالہ جات اور دواؤں کے ذریعے محفوظ کرنے کا عمل، حنوط کاری یا Mummificationکہلاتا ہے۔ عام حالات میں مرنے کے بعد انسانی جسم میں گلنے سڑنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے جس کی …مزید پڑھیں

پیسا کا مینار

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ اپریل 2005ء میں ایک مختصر معلوماتی مضمون (مرسلہ: صادقہ سلام) میں اٹلی کے پیسا مینار سے متعلق دلچسپ معلومات پیش کی گئی ہیں۔ اٹلی کے ایک شہر کا نام پیسا ہے جس کی شہرت اُس مینار کی وجہ سے ہے جو ایک طرف کو جھکا ہوا ہے۔ اس مینار کی بنیاد جس …مزید پڑھیں

کولمبس سے پہلے امریکہ میں مسلمان

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ نومبر و دسمبر 2002ء میں مکرم محمد زکریا ورک صاحب کے قلم سے ایک مضمون شامل اشاعت ہے جس میں امریکہ میں مسلمانوں کی آمد سے متعلق تاریخی شواہد بیان کئے گئے ہیں۔ شمالی امریکہ میں انسان آج سے دس ہزار سال قبل ایشیا سے نارتھ پول کے راستے پیدل سفر کرتے …مزید پڑھیں

دنیا کی بلند ترین قبر

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26؍جولائی 1999ء میں مکرم منصور احمد صاحب اپنے معلوماتی مضمون میں رقمطراز ہیں کہ 1935ء میں سر ایڈمنڈ ہیلری نے ماؤنٹ ایورسٹ کو جنوبی طرف سے پہلی مرتبہ سر کیا لیکن اس سے پہلے 1924ء میں دو کوہ پیما چارج میلوری اور اینڈریو ارون شمال مشرقی سمت سے چوٹی کو سر کرتے …مزید پڑھیں

حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کا احمدی انجینئرز سے خطاب

ٹیکنیکل میگزین 1999ء کے اردو حصہ کا آغاز سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے اُس خطاب سے ہوتا ہے جو آپؒ نے 30؍اکتوبر 1980ء کو ایسوسی ایشن کے اجتماع سے فرمایا تھا۔ حضورؒ نے اس میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں جو مختلف قوانین جاری کئے ہیں ان میں سے بعض کو لے …مزید پڑھیں

موئن جو دڑو

موئن جو دڑو سندھی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’’مُردوں کا ٹیلہ‘‘۔ اس کی دریافت سے قبل خیال تھا کہ اس خطہ میں آریہ قوم نے اعلیٰ تہذیب کی داغ بیل ڈالی۔ لیکن 1922ء میں آر جی بینرجی اور دوسرے ماہرین لاڑکانہ میں بدھ کے دَور کے ایک اسٹوپا کی تلاش میں …مزید پڑھیں

قرآن کریم کی صداقت کا روشن ثبوت — ارم شہر کی دریافت

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ 25 جنوری 2019ء) ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ جنوری 2012ء میں مکرم محمدزکریاورک صاحب کے قلم سے قرآن کریم کی صداقت کا ایک بیّن ثبوت یعنی اِرَمؔ شہر کی دریافت سے متعلق ایک معلوماتی مضمون شامل اشاعت ہے۔ عمان میں مدفون ایک شہر ارمؔ کا ذکر سورۃ الفجر میں ہؤا ہے جس میں عاد …مزید پڑھیں

ہڑپہ کے آثارِ قدیمہ

ایک ماہر آثار قدیمہ جوناتھن مارک کی تحقیق کے مطابق ہڑپائی تہذیب بلوچستان کے بالائی علاقوں سے شروع ہوکر مغرب تک اور شمالی پاکستان، افغانستان اور انڈیا سے جنوب مغرب اور شمال تک پھیلی ہوئی تھی اور دو بڑے دریا سندھ اور گھاگر اسے سیراب کرتے تھے- یہ تہذیب قدیم مصری تہذیب موسوپوٹامیہ (عراق) کی …مزید پڑھیں

ہرن مینار شیخوپورہ

لاہور سے پچیس میل کے فاصلہ پر شیخوپورہ کا شہر آباد ہے جسے مغلیہ دور میں جہانگیر پور اور جہانگیر آباد بھی کہا جاتا تھا- یہ جہانگیر کی محبوب ترین شکارگاہ تھی اور یہاں اُس نے اپنے ایک منس راج نامی محبوب ہرن کی قبر پر ایک مینار تعمیر کروایا تھا اور ہرن کا شکار …مزید پڑھیں

قلعہ بالا حصار پشاور

بالاحصار فارسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے اونچی جگہ یا بلند قلعہ- روایت ہے کہ یہ نام اس افغان بادشاہ تیمور نے دیا تھا جسے سکھوں نے سمیرگڑھ سے بدل دیا لیکن اِس نام نے شہرت نہ پائی- یہ قلعہ دو سے اڑہائی ہزار سال پرانا ہے اور اس کی ابتدائی تاریخ …مزید پڑھیں

موتی مسجد

موتی مسجد لاہور اگرچہ رقبہ کے لحاظ سے چھوٹی ہے لیکن خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے- اسے 1753ء میں نواب میر سید بھکاری خان نے تعمیر کروایا تھا جو لاہور کے وائسرائے میر منو کے درباری تھے اور پھر پنجاب کے نائب صوبیدار بنائے گئے- وہ ایک دیندار، سخی، عالم فاضل اور فقیر دوست …مزید پڑھیں

مقبرہ نور جہاں لاہور

ایک ایرانی نژاد مرزا غیاث بیگ نے افلاس سے تنگ آکر ایران سے ہجرت کی اور ہندوستان آکر دربارِ اکبری سے وابستہ ہوگیا- اُس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام مہرالنساء تھا جس نے تاریخ میں نورجہاں کے نام سے شہرت پائی- اُس کی پہلی شادی ایک ایرانی باشندے شیرافگن سے ہوئی جس کا …مزید پڑھیں

شاہی قلعہ لاہور

لاہور کا شاہی قلعہ پاکستان میں موجود مغلیہ دور کے آثار میں سے ایک عظیم الشان یادگار ہے- اس کا طول 1500؍ فُٹ اور عرض 1200؍ فُٹ ہے- اس بارے میں ایک مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 19؍ اگست 1998ء میں مکرم شمشاد احمد قمر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے- اس قلعے کی بنیاد …مزید پڑھیں

مقبرہ جہانگیر لاہور

مغل بادشاہ جہانگیر کا اصل نام سلیم تھا جو 1564ء میں شہنشاہ اکبر اعظم کے ہاں راجپوت رانی مریم الزمانی کے بطن سے پیدا ہوا- 1605ء میں تخت نشین ہوا اور قریباً ساڑھے اکیس سال نہایت شان سے حکومت کرکے 8؍نومبر 1627ء کو کشمیر سے لاہور واپس آتے ہوئے راجوری کے مقام پر فوت ہوا- …مزید پڑھیں

مسجد وزیرخان لاہور

اپنی بے پناہ خوبصورتی، وسعت اور نقش و نگار کے باعث فنّی اعتبار سے نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھی جانے والی مسجد وزیر خان لاہور کی بنیاد چنیوٹ کے رہنے والے شیخ علیم الدین نے رکھی تھی جو ایک طبیب تھے اور شاہجہان کے دربار میں رفتہ رفتہ وزیر کے عہدے تک جا پہنچے …مزید پڑھیں

بادشاہی مسجد لاہور

برصغیر میں مسلمانوں کی تعمیراتی تاریخ میں اہم اور پرشکوہ عمارات سب سے پہلے بھنبھور میں تعمیر ہوئیں جو محمد بن قاسم کی آمد سے مرکز اسلام بنا تھا۔ بعد ازاں یہ سلسلہ جاری رہا۔ 1674ء میں مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے لاہور میں بادشاہی مسجد تعمیر کروائی جسے ماہرینِ تعمیرات برصغیر میں مساجد …مزید پڑھیں

گھانا میں غلاموں کی تجارت

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 14 دسمبر 2018ء) روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ24؍اکتوبر 2012ء میں مکرم فرید احمد نوید صاحب کے قلم سے ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں گزشتہ صدیوں میں گھانا سے غلاموں کی تجارت کی دلخراش داستان بیان کی گئی ہے۔ گھانا کی ساحلی پٹی جو آج خوبصورت ریستورانوں اور resorts سے بھری ہوئی ہے …مزید پڑھیں