یورپ کے سب سے پہلے جامعہ احمدیہ کا بابرکت افتتاح

لندن(برطانیہ )میں براعظم یورپ کے سب سے پہلے جامعہ احمدیہ کا بابرکت افتتاح
انشاء اللہ ایک دن آئے گاکہ ہر ملک میں جامعہ احمدیہ کھولنا پڑے گا۔ یہ ایک ایساادارہ ہے جو جماعت احمدیہ کا خالص دینی تعلیم سکھانے والا ادارہ ہے۔ خالص وہ لو گ یہاں داخل ہوںگے جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کی ہیں۔
آپ خوش قسمت ہیں کہ خداتعالیٰ نے آپ کو ایسے ماں باپ عطا کئے جو اپنے بچوں کو خدا کی راہ میں پیش کرنے کے لئے ،دین کی خاطر وقف کرنے کے لئے ،خوشی سے تیار ہوگئے۔
ہمیشہ ذہن میں رہے کہ مَیں واقف زندگی ہوں ۔اب میرا اپنا کچھ بھی نہیں ۔ میری ذات اب خداکے لئے اور خدا کے مسیحؑ کی جماعت کے لئے ہے۔
(سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا طلباء جامعہ احمدیہ لندن سے نہایت اہم نصائح پر مشتمل افتتاحی خطاب)

(رپورٹ: فرخ سلطان)

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل لندن 28 اکتوبر 2005ء)

(لندن): ہفتہ یکم اکتوبر 2005ء وہ تاریخی دن ہے جب سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جامعہ احمدیہ برطانیہ کا افتتاح فرمایا۔ یہ براعظم یورپ کا پہلا جامعہ احمدیہ ہے جس میں یورپ بھر سے واقفین زندگی منتخب طلباء کوداخلے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔
حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ جب یکم اکتوبر کی شام پانچ بج کر دس منٹ پر جامعہ احمدیہ کی عمارت میں تشریف لائے تو مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ اور جامعہ احمدیہ سے متعلقہ مختلف افراد نے حضور انور کا استقبال کیا۔ سب سے پہلے حضور انور نے جامعہ کے احاطہ میں ایک زیتون کا پودا لگایا اور دعا کروائی۔ جس کے بعد جامعہ احمدیہ کی نئی عمارت کی تزئین کے لئے خدمت کی سعادت پانے والوں کو مصافحہ کا شرف عطا فرمایا۔ اور پھر جامعہ کی عمارت کا معائنہ فرمایا۔ حضور انور تمام طلبہ کے رہائشی کمروں کو دیکھنے بھی تشریف لے گئے جہاں طلبہ نے اپنے آقا سے مصافحہ کا شرف حاصل کیا اور اپنا تعارف کروایا۔ اس کے بعد حضور انور نے یادگاری تختی کی نقاب کشائی فرمائی اور پھر ایک پُروقار تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔
تقریب افتتاح
تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو عزیزم مرتضیٰ احمد (یوکے) نے کی۔ آیات کریمہ کا ترجمہ عزیزم طارق احمد ظفر (جرمنی) نے پڑھا۔ پھر حضرت مسیح موعودؑ کا پاکیزہ کلام مکرم سید سلمان شاہ صاحب (یوکے) نے پیش کیا۔ جس کے بعد حضور انور نے مختصر خطاب فرمایا۔
حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تشہد، تعوذ اور سورۃالفاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ الحمدللہ، آج UK کے جامعہ احمدیہ کا آغاز ہورہا ہے۔ ویسے تو دو دن سے باقاعدہ طلباء آچکے ہیں لیکن Formal Opening آج ہو رہی ہے۔
فی الحال تو یہ جامعہ صرف یوکے کا جامعہ نہیں ہے بلکہ تمام یورپین ممالک کا جامعہ ہے۔ کیونکہ اس میں مختلف ممالک سے آکر طلبہ داخل ہوئے ہیں۔ اور جب تک کسی اور یورپین ملک میں جامعہ شروع نہیں ہوجاتا یہ ایک لحاظ سے جامعہ احمدیہ پورے یورپ کے لئے ہی ہے۔ کیونکہ اس جامعہ احمدیہ نے ہی اس علاقہ کے واقفینِ نو نوجوانوں کو جنہوں نے اپنے آپ کو مبلغ بننے کے لئے پیش کیا ہے، ان کو سنبھالنا ہے۔ سوائے جرمنی کے باقی یورپین ممالک میں تو جماعت کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ اور اگر اس کے بعد کبھی جامعہ کھلا تو ہو سکتا ہے کہ جرمنی کا نمبر ہی دوسرا ہو کیونکہ واقفینِ نو کی تعداد کے لحاظ سے اور وسائل کے لحاظ سے بھی وہی اس قابل ہے کہ جو جامعہ چلا سکتا ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ جب جرمنی میں جامعہ کھل جائے تو یورپ کے جو اُس کے قریب کے بہت سارے ممالک کے طلباء ہیں وہ وہاں جاکر داخلے لیں۔
حضور انور نے فرمایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے جب وقفِ نو کی تحریک فرمائی تھی تو فرمایا تھا کہ ہمیں لاکھوں واقفینِ نوچاہئیں۔ اب تک تو واقفینِ نو کی تعداد ہزاروں میں ہے لیکن جس طرح جماعت کی تعداد بڑھ رہی ہے اور جس طرح والدین کی اس طرف توجہ پیدا ہورہی ہے، انشاء اللہ تعالیٰ لاکھوں کی تعداد ہوجائے گی۔ اور پھر ظاہر ہے کہ ہر ملک میں جامعہ احمدیہ کھولنا پڑے گا۔ اور یہ انشااللہ تعالیٰ ایک دن ہوگا۔
حضور انور نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ جو طلباء مختلف ممالک سے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یہاں آئے ہیں، اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے تحت آئے ہیں کہ دین کا علم حاصل کرو۔آپ اس گروہ میں شامل ہوئے ہیں جنہوں نے دوسروں کو دین سکھانے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام دنیا میں پہنچانے کا عہد کیا ہے، اس کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا ہے۔ دنیا میں بہت سے مسلمان فرقوں اور حکومتوں نے دینی علم سکھانے کے لئے مدارس کھولے ہوئے ہیں جن کو بہت زیادہ فنڈز بھی مہیا ہوتے ہیں، بہت ساری سہولتیں بھی میسّر ہیں جو جماعت احمدیہ کے لحاظ سے جہاں بھی جامعہ احمدیہ ہیں وہاں مہیا نہیں کی جاسکتیں ۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہاں جہاں بھی یہ دینی علم دیاجاتا ہے ان کو کافی علم ہوتا ہے۔ جو بھی علم ہے حضرت مسیح موعودؑ کی آمد سے پہلے تفسیر کا، حدیث کا، فقہ کا، وہ سب ان کے پاس ہے۔ ہندوستان میں بھی ایک مدرسہ قائم ہے دارالعلوم دیوبند میں۔ بڑے بڑے علماء وہاں سے نکلے ۔ پھر الازھر یونیورسٹی ہے۔ جامعۃالازھر بھی ایک بہت بڑا ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ تمام ادارے اور ان میں تعلیم حاصل کرکے باہر آنے والے باوجود اس کے کہ وہ سب دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اس لحاظ سے بے علم اور بدقسمت ہیں کہ وہ اس زمانے کے امام کو نہیں پہچان سکے۔ آنحضرتﷺ کے ارشاد کو سمجھنے کا اُن کو فہم و ادراک حاصل نہیں ہوسکا۔ بجائے اس کے کہ علم ان کے دل و دماغ کو روشن کرتا،ان میں عاجزی پیدا کرتا، اس علم نے ان میں تکبر پیدا کیا جس کی وجہ سے انہوں نے نہ صرف یہ کہ زمانے کے امام کو پہچانا نہیں بلکہ اکثریت نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بڑی غلیظ زبان بھی استعمال کی اور اپنے آپ کو علمی لحاظ سے بہت بلند سمجھا۔ اس زمانے کے حکم اور عدل کو، آنحضرتﷺ کے روحانی فرزند کو ماننے سے انکار کیا۔ لیکن آپ لوگ ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جن کے والدین کو آبا ؤاجداد کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کی توفیق ملی۔ اور پھر اس پر یقین میں اس حد تک بڑھے کہ خلیفۂ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے بچوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں پیش کردیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے حضور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے نیک اولاد کی دعا کی تاکہ اسے اللہ کے حضور پیش کر سکیں۔ بہت سی مائوں نے حضرت مریم علیہالسلام کی یہ دعا کی کہ جو کچھ بھی میرے پیٹ میں ہے، اے اللہ! اسے میں تجھے پیش کرتی ہوں۔ اور یہ بھی صرف اسی وجہ سے ہے کہ ان کو حضرت مسیح موعودؑ سے ایک سچا تعلق ہے۔ اسی لئے اُن میں اپنے بچوں کو وقفِ نو میں پیش کرنے کی خواہش پیدا ہوئی اور اکثر جو خط آتے ہیں وقفِ نو کی اولاد کے لئے کہ ہمارے بچوں کو وقفِ نو میں شامل کریں، اکثریت ان میں سے احمدی مائوں کے خط ہوتے ہیں۔ تویہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس زمانے میں کہ جب مائیں چاہتی ہیں کہ بچے ہوں اور ان کے ذریعے سے دنیاوی خواہشیں پوری ہوں۔ (احمدی مائیں) انہیں دین کی خاطر وقف کرتی ہیں۔
حضور انور نے طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ پس آپ خوش قسمت ہیں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو ایسے ماں باپ عطا کئے جو اپنے بچوں کو خدا کی راہ میں پیش کرنے کے لئے، دین کی خاطر وقف کرنے کے لئے، خوشی سے تیار ہوگئے۔ پس جہاں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اپنے ماں باپ کے لئے بھی دعا کریں کہ

رَبِّ ا رْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِی صَغِیْرًا

یعنی ان دونوں پر بھی رحم کر جس طرح ان دونوں نے بچپن میں میری تربیت کی، اور میں باوجود دنیا کی چکا چوند کے، اس معاشرے میں رہتے ہوئے جہاں ہر طرف غلاظتیں ہیں بلوغت کی عمر کو پہنچ کر، اس تربیت اور دعا کی وجہ سے جو میرے والدین نے کی، اے اللہ! آج میں تیرے دین کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے اس ادارے میں داخل ہو رہا ہوں۔ ہمیشہ یہ دعا کریں کہ اے اللہ ہمیشہ مجھے اپنے والدین کا بھی عہد پوراکرنے کی توفیق دے اور مجھے اپنا عہد پورا کرنے کی بھی توفیق دے اور ہر موقع پر، ہر تکلیف میں، ہر امتحان میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ہی جواب دینے والے ہوں کہ تُو مجھے انشاء اللہ صبر کرنے والوں اور ایمان پر قائم رہنے والوں میں سے پائے گا۔ اگر آپ اس طرح اپنے عہد نبھاتے رہے تو تب ہی آپ وقف کے میدان میں کامیاب اور اللہ کا پیار حاصل کرنے والے ہوں گے۔ اور اس طرح اللہ کی رضا حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگی گزارنے والے ہوںگے۔ اور ہر موقعہ پر اللہ تعالیٰ خود آپ کو اپنا ہاتھ رکھ کر ہر مشکل سے نکالے گا۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر آپ پر ہوگی۔ لیکن ہر قربانی کے لئے تیار ہونا اور ہر قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو اس روح کو قائم رکھتے ہوئے اپنے ماں باپ کا اور اپنا عہد پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
حضور انور نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہاں جو چند سال آپ نے گزارنے ہیں (تقریباً سات سال) ان میں ہر دن آپ میں انقلاب لانے والا دن ثابت ہونا چاہئے۔ اپنے عہد کا پاس کرنے والا دن نظر آنا چاہئے۔ آپ کے اساتذہ کو بھی، آپ کے گھر والوں کو بھی، آپ کے ماحول کو بھی اور آپ کو خود بھی اپنے اندر ہر روز ایک نئی اور پاک تبدیلی پیدا ہوتی نظر آنی چاہئے۔ آپ کا
اللہ تعالیٰ سے تعلق روز بروز بڑھنا چاہئے۔ ہمیشہ یہ ذہن میں رہے کہ میں واقفِ زندگی ہوں۔ اب میرا اپنا کچھ بھی نہیں، میری ذات اب خدا کے لئے اور خدا کے مسیح کی جماعت کے لئے ہے۔ جامعہ کے ان سالوںمیں مکمل طور پر پڑھائی کی طرف توجہ دیں۔ بعض مضمون آپ کو مشکل لگیں گے۔ دعا کے ساتھ محنت کرتے ہوئے اپنے اساتذہ کی رہنمائی میں ان کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ چھوٹی موٹی تکلیفوں اور بیماریوں کی کبھی پرواہ نہ کریں، وہ تو آتی رہتی ہیں۔ بعض بچے بڑے نازک ہوتے ہیں، ذرا سی بھی سردرد ہوئی تو لیٹ جاتے ہیں۔ تو اپنے آپ کو سخت جانی کی عادت ڈالیں، ایک ایک لمحہ آپ کا قیمتی ہے۔ رات کو سوتے ہوئے اپنا جائزہ لینے کی عادت ڈالیں کہ دن کے دوران کوئی لمحہ بھی ایسا تو نہیں جو میں نے ضائع کیا ہو۔ جب آپ اسی طرح اپنا جائزہ لے رہے ہونگے تو ابھی سے آپ کو اپنے وقت کی قدر کا احساس بھی پیدا ہوجائے گا، وقت کے صحیح استعمال کی عادت بھی پڑ جائے گی۔ جب یہاں سے فارغ ہوں گے، مربی بن کر، مبلغ بن کر نکلیں گے تو اپنی زندگی ہر لمحہ اور ہر سیکنڈ دین کی خاطر گزارنے والے ہوں گے۔ اور جب اس طرح وقت گزاریں گے تو تبھی آپ اپنے عہد کو پورا کرنے والے کہلا سکیں گے۔
حضور انور نے طلبہ کو روزمرہ کے پروگرام کے حوالہ سے بھی اہم نصائح فرمائیں۔ چنانچہ فرمایا کہ ایک بات اَور یاد رکھیں کہ یہاں جو بھی کلاسوں میں پڑھیںجامعہ کے وقت کے بعد اُس کی دُہرائی ضرور کریں۔ جب اپنے کمروں میں جائیں جو روز پڑھا ہو، روز کا روز دُہرا لیا کریں تاکہ جو بھی پڑھا ہے وہ آپ کے ذہن میں بیٹھ جائے۔ اس کے علاوہ بعض آپ میں سے ایسے بھی ہوں گے جن کو اُردو پڑھنی نہیں آتی تو جب تک اُردو پڑھنی نہیں آتی اُس وقت تک حضرت مسیح موعود ؑ کی کوئی بھی کتاب جس کا انگلش میں ترجمہ ہوچکا ہوکیونکہ انگلش تو تقریباً ساروں کو آتی ہے، اُس کو پڑھیں یا بعض حصوں کے ترجمے ہوچکے ہیں اُن کو روزانہ پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ پھر اُس کو سمجھنے کی عادت ڈالیں اور یاد رکھیں کہ ہر صورت میں آپ نے زائد مطالعہ کرنا ہے۔ (یعنی) جو جامعہ کا پڑھنا ہے اُس کی دہرائی کرنی ہے اور اُس کے علاوہ زائد مطالعہ بھی کرنا ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت روزانہ کرنا آپ کی تعلیم کا حصہ ہے اور پابندی ہوگی ہوسٹل میں رہنے والوں کے لئے کہ نماز کے بعد تلاوت کیا کریں۔ لیکن اس کی تلاوت اوراس کو سمجھنا اس لئے بھی اپنے اوپر لازم کرلیں کہ ہم نے اپنی زندگی پر اس تعلیم کو لاگو کرنا ہے۔ اس پر عمل کرنا ہے۔ اُن علماء کی طرح نہیں ہونا جو دوسروں کے لئے تو علم سیکھ لیتے ہیں لیکن اپنے پر عمل کرنے کی ان کو توفیق نہیں ہوتی۔ جب وقت آئے تو سو بہانے تراشتے ہیں۔
حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روزانہ اخبار کا مطالعہ بھی ہونا چاہیے۔ دوسرے رسالوں کا مطالعہ بھی ہونا چاہئے۔ پھر کھیلیں ہیں اُس میں بھی آپ کو ضرور حصہ لینا چاہیے۔ اس بات کو اپنے پر فرض کرلیں کہ سوائے ان چھ سات گھنٹے کے جو آپ نے سونا ہے، باقی وقت بالکل مصروف رہنا چاہیے۔ یاد رکھیں کہ آپ کو اس جامعہ کا ابتدائی طالب علم بننے کا موقعہ مل رہا ہے۔ یہ بہت بڑا اعزاز ہے اور ایک ذمہ داری بھی ہے۔ طلباء کا بھی اپنا ایک مزاج ہوتا ہے جو پھر اُس ادارے کا مزاج بن جاتا ہے اور پھر آئندہ آنے والے بھی عموماً اُسی پر چلتے ہیں۔ اگر پہلے طلباء اچھے ہوں تو انتظامیہ کو بعد کے طلباء پر بھی زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی اور طلباء کے اچھے ہونے کی وجہ سے ہی ادارہ مشہور ہوتا ہے۔ بعض دفعہ اچھی لاٹ آجاتی ہے طلباء کی، وہ کالج اُن کی وجہ سے بڑا مشہور ہوجاتا ہے حالانکہ پروفیسر یا ٹیچر یا پڑھانے والے اُسی طرح محنت کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لئے آپ لوگوں نے خود بھی خاص طور پر توجہ سے اچھا بننا ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ جامعہ احمدیہ کا اپنا ایک تقدس بھی ہے۔ اگر آپ اُس پر پورا نہیں اتریں گے تو ہوسکتا ہے کہ انتظامیہ ایسے طلباء کے خلاف کوئی کارروائی بھی کرے جو اس تقدس اور معیار کا خیال نہیں رکھ رہے کیونکہ بُری مثالیں تو بہرحال اس ادارہ میں قائم نہیں کرنی۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو جماعت احمدیہ کا خالص دینی تعلیم سکھانے والاادارہ ہے۔ خالص وہ لوگ یہاں داخل ہونگے جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کی ہیں۔ تو اس لحاظ سے بہرحال پھر انتظامیہ کو دیکھنا بھی پڑتا ہے۔ لیکن آپ لوگوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ اگر آپ جو طلباء آئے ہیں، ہر لحاظ سے اعلیٰ مثالیں قائم کرلیں تو جامعہ کی تاریخ میں آپ کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ہمیشہ آپ کو اس نام سے یاد کیا جائے گا کہ یہ ایسے طلباء تھے جن سے بعد میں آنے والوں نے بھی راہنمائی حاصل کی۔ کیونکہ لمبی کلاسیں چلنی ہیں، ہر سال داخلے ہوں گے تو ظاہر ہے وہ آپ کے نمونے بھی دیکھ رہے ہوں گے۔
آخر میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کے ساتھ اپنا خطاب مکمل فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے، نیکیوں میں بڑھتے چلے جانے اور اپنے وقف کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیشہ آپ کو اس بات پر فخر رہے اور یہ فخر عاجزی میں بڑھائے کہ ہم خدا کے مسیح کی فوج کے سپاہی ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو تمام دنیا میں گاڑنا ہے۔ انشاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔
اس کے بعد حضور ایدہ للہ تعالیٰ نے دعا کروائی۔
بعدازاں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ چائے نوش فرمائی۔ دیگر مہمانوں کے لئے علیحدہ کمرے میں انتظام کیا گیا تھا۔ اس موقع پر طلبہ کے والدین اور بہت سے دیگر مہمان مدعو تھے۔ لجنات کی نمائندہ خواتین اور بچوں کی ماؤں نے پردہ کی رعایت سےاسی عمارت کے ایک الگ کمرہ میں بیٹھ کراس تاریخی تقریب میں شمولیت کی سعادت حاصل کی۔حضور انور کی حرم محترمہ سیدہ امتہ السبوح صاحبہ مدظلہا بھی آخر وقت تک خواتین کے ساتھ تقریب میں شامل رہیں۔ قریباً سات بجے شام حضور انور واپس تشریف لے گئے۔
جامعہ احمدیہ کی مختصر تاریخ
آج سے سو سال پہلے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اگرچہ اپنی وفات سے کئی سال قبل یہ ارادہ فرمایا تھا کہ مسلمان بچوں کی دینی تعلیم کے لئے ایک مدرسہ جاری کیا جانا چاہئے اور اس سلسلہ میں 15؍ستمبر 1897ء کو ایک تحریک بھی فرمائی تھی۔ آپؑ کا ارادہ تھا کہ اس سکول میں روزمرہ کی درسی تعلیم کے علاوہ ایسی کتب بچوں کو پڑھائی جائیں گی جو مَیں اُن کے لئے لکھوں گا۔ اس سے اسلام کی خوبی سورج کی طرح ظاہر ہوگی اور دوسرے مذاہب کی کمزوریاں انہیں معلوم ہوجائیں گی جن سے ان کا باطل ہونا اُن پر کھل جائے گا۔ حضور؈ نے اس مقصد کے لئے ایک کمیٹی بھی قائم فرمائی جس کے صدر حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحبؓ تھے اور دیگر اراکین میں محترم خواجہ کمال الدین صاحب (سیکرٹری)، حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ (محاسب) اور حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ (جائنٹ سیکرٹری) شامل تھے۔ اس کمیٹی کا پہلا اجلاس 27؍دسمبر 1897ء کو ہوا جس میں کمیٹی نے سفارش کی کہ مدرسہ کا آغاز یکم جنوری 1898ء سے کردیا جائے۔ چنانچہ مدرسہ تعلیم الاسلام کا افتتاح 3؍جنوری 1898ء کو عمل میں آگیا۔
1905ء میں جماعت احمدیہ کے بہت سے جیّد علماء وفات پاگئے جن میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ اور حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمیؓ شامل تھے- حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے اس خلاء کو محسوس فرمایا اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 6؍دسمبر1905ء کو فرمایا کہ افسوس کہ جو مرتے ہیں ان کا جانشین ہم کو کوئی نظر نہیں آتا- پھر فرمایا مجھے مدرسہ کی طرف سے بھی رنج ہی پہنچتا ہے کہ جو کچھ ہم چاہتے تھے وہ بات اس سے حاصل نہیں ہوئی- اگر یہاں سے بھی طالبعلم نکل کر دنیا کے طالب ہی بننے تھے تو ہمیں اسکے قائم کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ دین کیلئے خادم پیدا ہوں-
اس کے بعد حضور علیہ السلام نے بہت سے احباب کو بلاکر اُن کے سامنے یہ امر پیش فرمایا کہ مدرسہ (تعلیم الاسلام) میں ایسی اصلاح ہونی چاہئے کہ یہاں سے واعظ اور علماء پیدا ہوں- اس ضمن میں حضورؑ نے مدرسہ میں ایک ’’شاخِ دینیات‘‘ کے قیام کا فیصلہ صادر فرمایا۔ چنانچہ جنوری 1906ء میں اس شاخ دینیات کا اجراء کردیا گیا جس کے ابتدائی اساتذہ حضرت قاضی سید امیر حسین شاہ صاحبؓ اور حضرت مولوی فضل دین صاحبؓ (آف کھاریاں) مقرر ہوئے۔ بعد میں حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحبؓ بھی اساتذہ میں شامل کردیئے گئے۔ پہلے سال میں 9 اور دوسرے سال میں 5 طلبہ اس کلاس میں داخل ہوئے۔
بعد ازاں یہی شاخ (دینیات کلاس) یکم مارچ 1909ء کو مدرسہ احمدیہ میں تبدیل ہوگئی۔ اس کا نیا نام حضرت مولانا شیر علی صاحبؓ نے تجویز فرمایا اور اس کے پہلے ہیڈماسٹر حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحبؓ مقرر ہوئے۔ اس مدرسہ کا نصاب سات سال پر مشتمل تھا۔ حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحبؓ ستمبر 1910ء میں اس مدرسہ کے نگران اعلیٰ مقرر ہوئے اور مسند خلافت پر فائز ہونے تک یہ ذمہ داری ادا فرماتے رہے۔ آپؓ کی زیرنگرانی مدرسہ میں بہت ترقی ہوئی اور آپؓ نے طلبہ میں بلند ہمتی پیدا کرنے کے لئے کئی پروگرام ترتیب دیئے۔ طلبہ کو نیچے بیٹھ کر پڑھنے سے منع فرمادیا، صفائی کا خاص اہتمام کیا گیا، روزانہ کھیل لازمی قرار پائی۔ فن خطابت سکھانے کی طرف توجہ کی گئی، ایک لائبریری قائم فرمائی جس کے لئے قیمتی کتب کا ایک بڑا مجموعہ مرحمت فرمایا۔ حضورؓ نے اوائل 1912ء میں ہندوستان کے مختلف مشہور مدارس (سہارنپور، ندوہ، دیوبند وغیرہ) کا اپنے خرچ پر دَورہ کیا اور وہاں کے انتظام کے مطابق اپنے مدرسہ میں اہم تبدیلیاں فرمائیں۔ بعد ازاں آپؓ حج کی ادائیگی کے لئے بلاد عرب میں تشریف لے گئے اور وہاں عربی مدارس بھی دیکھنے کا موقع آپؓ کو ملا۔ 1913ء میں آپؓ ہی کے مشورہ پر حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب اور شیخ عبدالرحمن صاحب کو مصر میں بغرض تعلیم بھجوایا گیا۔ نیز طلبہ کو انگریزی کی تعلیم بھی دی جانے لگی اور وہ مولوی فاضل کے امتحان میں بھی شامل ہونے لگے۔ ایک دو سالہ طبّی کورس بھی آپؓ نے جاری فرمایا۔ پرائمری سے کم تعلیم رکھنے والے طلبہ کے لئے ایک علیحدہ کلاس یکم مارچ 1911ء سے جاری فرمائی۔
جب حضرت مصلح موعودؓ مسند خلافت پر فائز ہوئے تو مدرسہ احمدیہ کا انتظام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے سپرد کردیا گیا۔ بعد ازاں شیخ عبدالرحمن صاحب مصری ہیڈماسٹر مقرر ہوئے۔ 1919ء میں حضورؓ نے ایک کمیٹی نامزد فرمائی جس نے جماعت کی تبلیغی ضروریات کے حوالہ سے مدرسہ احمدیہ کی سکیم پر نظرثانی کی۔ اس کے نتیجہ میں 20؍مئی 1928ء کو جامعہ احمدیہ کا قیام عمل میں آگیا۔ وسط 1937ء میں حضرت میر محمد اسحق صاحبؓ جامعہ احمدیہ کے ہیڈماسٹر مقرر ہوئے تو ادارہ میں بہت سی اہم اصلاحات کی گئیں۔ علمی مجالس کا قیام ہوا اور تبلیغ کے لئے قادیان سے باہر جاکر تقاریر کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔
قیام پاکستان کے بعد مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کو ضم کرکے پہلے لاہور میں 13؍نومبر1947ء کو جاری کیا گیا۔ چند دن بعد پہلے چنیوٹ اور پھر احمدنگر میں اسے منتقل کردیا گیا۔ دسمبر 1949ء میں جامعۃالمبشرین کا بھی اجراء ہوا تاکہ جامعہ احمدیہ کے فارغ التحصیل طلبہ کو تبلیغ کی خصوصی تربیت دی جائے۔ لیکن 7؍جولائی 1957ء کو مدرسہ احمدیہ، جامعہ احمدیہ اور جامعۃالمبشرین (تینوں ادارے) ایک ہی درسگاہ ’’جامعہ احمدیہ‘‘ میں مدغم کردیئے گئے جس کے پرنسپل حضرت میر داؤد احمد صاحب مقرر ہوئے۔
اب تک قادیان اور ربوہ کے علاوہ غانا، نائیجیریا، تنزانیہ ، انڈونیشیا اور کینیڈا وغیرہ میں جامعہ احمدیہ کا قیام عمل میں آچکا ہے۔ اور اب لندن (برطانیہ) کا یہ جامعہ بھی اُسی مقدس درخت کا ایک اور شیریں پھل ہے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھوں لگایا گیاتھا۔

جامعہ احمدیہ برطانیہ کے حوالہ سے مکرم لئیق احمد صاحب طاہر(پرنسپل) نے بتایا کہ پہلے سال29 طلبہ کو جامعہ میں داخل ہونے کی سعادت حاصل ہوئی ہے جن کا انتخاب ایک سو سے زائد امیدواروں کے انٹرویو لینے کے بعد کیا گیا ہے۔ ان خوش نصیب بچوں میں دو کا تعلق بیلجئم، تین کا ہالینڈ، چھ کا جرمنی، ایک کا سویڈن، پانچ کا ناروے اور بارہ کا برطانیہ سے ہے۔ تدریس کے لئے ان کے دو سیکشن بنائے گئے ہیں۔ پہلے دو سال میں ان کے نصاب میں تین زبانوں یعنی اردو، عربی اور انگریزی کا سیکھنا ہے نیز قرآن کریم ناظرہ اور آخری سمسٹر میں ترجمہ قرآن بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ تاریخ احمدیت اور تاریخ اسلام کے مضامین بھی شروع کئے گئے ہیں۔ حدیث بھی ہے جس میں پہلے آنحضرتﷺ کی قریباً پچاس دعائیں زبانی سکھائی جارہی ہیں۔ اسی طرح قریباً دو پارے پہلے سال میں حفظ کروائے جائیں گے۔ تعلیم صبح آٹھ بجے سے دوپہر دو بجے تک جاری رہے گی۔ روزانہ عصر کے بعد ایک علمی لیکچر کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ کھیل کا بھی باقاعدہ انتظام ہے۔ تیسرے سال سے تفسیر، منطق، صرف و نحو، کلام، فقہ اور حدیث وغیرہ کا باقاعدہ نصاب شروع ہوگا۔
مکرم پرنسپل صاحب نے مزید بتایا کہ جامعہ کی لائبریری کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں مختلف موضوعات پر کتابیں اکٹھی کی گئی ہیں۔ تفاسیر قرآن اور احادیث کے مجموعوں کے علاوہ ادب، شاعری کی کتب بھی رکھی گئی ہیں۔ پاکیزہ ناول بھی موجود ہیں۔ ہزاروں پاؤنڈ کی کتب خریدی گئی ہیں اور بہت سی کتب تحفۃً بھی ملی ہیں۔ مکرم دین محمد صاحب آف ٹوٹنگ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مکمل سیٹ تحفۃً دیا ہے۔ طلبہ کے لئے لائبریری کا ایک پیریڈ لازمی ہے جو کسی استاد کی زیرنگرانی ہوتا ہے۔ جامعہ میں تدریسی کتب کے علاوہ تعلیم اور کھانا بھی مفت ہے۔ طلبہ کو جیب خرچ بھی دیا جائے گا۔ طلبہ کے لئے دو Language Lab تیار کرنے کے بارے میں ریڈنگ یونیوسٹی سے بھی رابطہ ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ جامعہ میں واقفین نو بچوں کے علاوہ ایسے بچے بھی داخل کئے جائیں گے جو ازخود اپنی زندگیاں وقف کریں گے۔

مکرم سلیم ملک صاحب چیف ایڈمنسٹریٹرجامعہ احمدیہ نے بتایا کہ 1996ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے انٹرنیشنل مجلس شوریٰ کی تجویز پر ایک کمیٹی مقرر فرمائی جس کے چیئرمین مکرم چودھری حمیداللہ صاحب وکیل اعلیٰ تحریک جدید ربوہ تھے۔ اس کمیٹی کا ایک رُکن مَیں بھی تھا۔ مکرم چودھری صاحب کے ربوہ تشریف لے جانے کے بعد مکرم امیر صاحب جماعت یوکے اس کمیٹی کے صدر مقرر کئے گئے اور یہی طریق اب بھی جاری ہے۔ اس کمیٹی نے متعلقہ تجویز کے تمام پہلوؤں پر بار بار غور کیا۔ مختلف جگہیں اس مقصد کے لئے دیکھی گئیں۔ چونکہ حضورؒ کا ارشاد تھا کہ وہ طلبہ کو اپنی نگرانی میں تعلیم دینا چاہتے ہیں اس لئے جامعہ کا فاصلہ مسجد فضل لندن سے بیس میل سے زیادہ نہ ہو، چنانچہ اس پہلو کو بھی پیش نظر رکھا گیا۔ تاہم وسائل کی کمی کی وجہ سے اسلام آباد کا بھی کئی بار جائزہ لیا گیا۔ آخر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ایک ایسی عمارت دستیاب ہوگئی جو مکرم شیخ سعید صاحب سے جماعت نے خریدلی۔ یہ عمارت 8-South Gardens , Colleirs Wood London, SW19 2NT میںواقع ہے۔یہ جگہ مسجد بیت الفتوح سے قریباً دو میل اور مسجد فضل لندن سے قریباًتین میل کے فاصلہ پرہے۔ بس اور انڈرگرائونڈ ریلوے اسٹیشن جامعہ سے چند منٹ کے پیدل فاصلے پرہیں۔یہ ایک پرانا پرائمری سکول تھا جس کی تزئین نو مکرم ناصر خانصاحب کی زیرنگرانی کروائی گئی اور اس میں ہیٹنگ سسٹم اور PA سسٹم وغیرہ نصب کئے گئے۔ طلبہ کے لئے انتیس کمرے بنائے گئے جن میں انہیں بستر کے علاوہ میز، کرسی اور الماری کی سہولت بھی مہیا کی گئی۔
مکرم ملک صاحب نے مزید بتایا کہ دو سال کی تدریس اس عمارت میں مکمل کی جائے گی اور اس مقصد کے لئے ایک نیا Phase بھی تعمیر کیا جائے گا جس کی منظوری کونسل سے مل چکی ہے اور اس کی تعمیر کا آغاز آئندہ سال مارچ میں کردیا جائے گا۔ اس فیز میں طلبہ کی رہائش کے لئے تیس مزید کمرے اور بعض دیگر ضروریات کے لئے چند تعمیرات بھی کی جائیں گی۔ تاہم تیسرے سال کی تعلیم کے لئے مزید عمارت درکار ہوگی اور اس بارہ میں مختلف تجاویز زیرغور ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس ادارہ کا قیام ہر پہلو سے بابرکت فرمائے اور احمدیت کے ایسے مجاہد یہاں سے پیدا ہوں جو اپنے علم اور پاکیزہ عمل سے اسلام کی فوقیت دیگر ادیان پر ثابت کرنے والے ہوں۔ آمین

پرنٹ
The short URL of the present article is: http://mahmoodmalik.zindgi.uk/0QJD6

اپنا تبصرہ بھیجیں