یادوں کی گھٹا

رسالہ ’’نورالدین‘‘ جرمنی کے ’’سیدنا طاہرؒ نمبر‘‘ میں مکرم محمد منور عابد صاحب سابق صدر خدام الاحمدیہ جرمنی بیان کرتے ہیں کہ 1990 ء میں میر ے جر منی آنے کے بعد اسی سا ل جلسہ سالا نہ کے مو قع پر مجھے حضر ت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ ایک گروپ ملاقات میں اپنی باری میں مَیں نے آنسو بہاتے ہوئے عرض کیا کہ حضورؒ میں فرینکفرٹ سے اڑھائی سو کلومیٹر دور ایلوانگن میں رہتا ہوں اور فرینکفر ٹ میں واقع خدام الاحمدیہ کے مرکزی دفتر میں خدمت کرتا ہوں۔ ابھی اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ حضور ؒ نے فرمایا ’’ا گر دور ہے تو واپس چلے جاؤ‘‘۔ تب میری زبان سے یہ الفا ظ نکلے کہ حضورؒ آپ دعا کریں کہ ’’ اللہ میری توفیق بڑھادے۔ ‘‘ میری یہ بات سن کر حضور ؒ کا چہرہ تمتما اٹھا اور فرمایا اچھا- اور پھر اپنی جیب سے ایک سرخ رومال نکالا اور دعائیں پڑھتے ہوئے وہ رومال مجھے عطا فرمایا۔
ایک دفعہ مشرقی جرمنی میں ایک تبلیغی میٹنگ تھی۔ وہاں حضورؒ کی رہائش گاہ پر ڈیوٹی کا موقع ملا۔ جب حضورؒ رہائش گاہ سے میٹنگ کے لئے نکلے تو خاکسار پر بھی نظر پڑی۔ اس وقت خاکسار کا حضورؒ سے کوئی تعارف نہیں تھا۔ جب میٹنگ ختم ہوئی تو ہم ایڈوانس پارٹی میں واپس مسجد نور آ گئے اور میں دوبارہ دروازے پر ڈیوٹی پر موجود تھا۔ میری حیرت کی انتہاء نہ رہی جب حضورؒ اندر تشریف لائے تو فرمایا۔ اچھا! تم میرے سے پہلے پہنچ گئے۔
ایک میٹنگ میں جب حضرت صاحبؒ کو ایک دوست نے بتایا کہ ہم نے نوجوانوں کو بھی شامل کرنا شروع کیا ہے تا کہ یہاں Generation Gap نہ پیدا ہو تو حضورؒ نے فرمایا کہ کونسے Generation gap کی آپ بات کرتے ہیں۔ الٰہی جماعتوں میں کوئی Generation gap نہیں ہوا کرتے۔ حضرت صاحب نے 1994ء یا 1995ء میں اجتماع کے دوران خطبے میں ارشاد فرمایا۔ اب میں یہ سمجھتا ہوں کہ مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی اس قابل ہوگئی ہے کہ ہربوجھ اٹھاسکے۔
سپورٹس سے متعلق حضورانورؒ نے فرمایا کہ ان کا کھیلوں کا معیار ہی اچھا نہیں ہوا بلکہ جو کھلاڑی ہیں ان کا تربیتی معیار بھی بہت اچھا ہوا ہے۔ حضور انورؒ نے فرمایا کہ میں نے نوٹ کیا ہے کہ یہ جب گول کرتے ہیں یا جب مشکل وقت آ جاتا ہے تو اس وقت بے ہودہ حرکات نہیں کرتے۔ اور فرمایا کہ کھیلیں صرف جسمانی ترقی کہ لئے نہیں ہوتیں بلکہ اس کا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو کنٹرول کرنا سیکھے۔ حضورانورؒ کی تاکید تھی کہ اسپورٹس کے دوران ہومیوپیتھک دواؤں میں سے آرنیکا اور برائیونیا ہمیشہ موجود ہونی چاہئیں۔
ایک مرتبہ جب حضوراقدس ؒ ا جتماع میں شمولیت کے لئے جرمنی تشر یف لائے تو مسجد نور پہنچنے پر امیر صاحب اور خاکسار حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ اجتماع کے پروگراموں سے حضور اقد سؒ کو آگاہ کیا جاسکے۔ اس ملا قات کے دوران ایک خادم جوس اور تین گلاس ٹرے میں رکھ کر دے گئے۔ حضوراقدس نے ازخود جوس والا جگ ٹرے سے ا ٹھایا اور ایک گلاس میں جوس ڈال کر محترم امیر صاحب جرمنی کو عطا فرمایا، پھر دوسرے گلاس میں جوس ڈالا اور خود نوش فرمایا۔ میں خاموشی سے آ پؒ کے پہلو میں بیٹھا رہا۔ کچھ د یر بعد حضور ؒ نے ا پنے گلاس میں مزید جوس ڈال کر ازراہ شفقت گلاس مجھے دیا اور فرمایا:’’ا ب یہ جوس تم پی لو۔ ‘‘
مجھے نہیں یاد کہ خد مت کے دوران آپ ؒ نے مجھ سے کسی کا م پر ناراضگی کا اظہار کیا ہو۔ آپ ؒ سے ملنے سے ایک ناقابل بیان سکون ملتا تھا۔ آپ ؒ کے پاس بیٹھنے سے دنیا کے سب خوف دور ہو جاتے تھے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/4z5bK]

اپنا تبصرہ بھیجیں