ہومیو پیتھی اور جماعت احمدیہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2؍جنوری 1998ء میں شامل اشاعت ایک مضمون میں ہومیو پیتھک ڈاکٹرمکرم وقار منظور بسرا صاحب ہومیو پیتھی اور اس کے بانی ہانیمن کا تعارف کروانے کے بعد بیان کرتے ہیں کہ ہومیو پیتھی کو عروج حضرت مسیح موعودؑ کی حیات مبارکہ میں نصیب ہوا اور تمام بنیادی کام مکمل ہوا۔ جس میں ڈاکٹر ایلن کا بارہ جِلدوں کا انسائیکلوپیڈیا (1874ء)، ہیرنگ کا دس جِلدوں کا میٹیریا میڈیکا (1879ء)، ڈاکٹر ہیل کی دل کے امراض پر کتاب (1875ء)، ڈاکٹر ریو کی بچوں کی امراض کی مستند تصنیف (1906ء)، ڈاکٹر ہنری کی عورتوں کی امراض کے بارے میں کتاب بھی اسی دور میں لکھی گئی، پیٹ کی تکالیف پر جیمز بیل کی کتاب (1869ء)، مختلف بخاروں پر ڈاکٹر ایلن کی مستند ترین کتاب (1879ء)، ڈاکٹر کینٹ کا میٹیریا میڈیکا (1904ء) شامل ہیں۔
گزشتہ صدی میں ہومیو پیتھی میں ہونے والا تقریباً تمام کام عیسائیوں کے ایک فرقہ ’’سویڈن بورجینز‘‘ نے کیا۔ یہ فرقہ روحانیت کی طرف رجحان رکھتا تھا اور الہام کا قائل تھا اس لئے اسے ہومیوپیتھک فلسفہ سمجھنے میں زیادہ دقّت پیش نہ آئی۔
حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے بعد ہومیوپیتھی پر بھی زوال شروع ہوگیا اور پھر وہ وقت بھی آیا جب امریکہ میں (جو ہائنمن کی وفات کے بعد ہومیوپیتھی کا مرکز بن چکا تھا) کوئی ہومیوپیتھی ہسپتال یا کالج نہ رہا۔ … لیکن اب چند سالوں سے ایک انقلاب کی سی کیفیت پیدا ہو رہی ہے۔ یہ بھی خوشکن اتفاق ہے کہ ہائنمن کی بنیادی تصنیف آرکینن اور میڈیسن کے آخری ایڈیشن کا مکمل انگریزی ترجمہ پہلی مرتبہ 1982ء میں شائع ہوا یعنی اسی سال جب حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/fdMJU]

اپنا تبصرہ بھیجیں