تلخیص کتاب ’’ہمارا خدا‘‘- تصنیف حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ – ہستی باری تعالیٰ کے عقلی دلائل

مجلس انصاراللہ برطانیہ کی اشاعت کمیٹی کی امسال کی پہلی میٹنگ میں تبلیغی اور تربیتی امور کے حوالہ سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ رسالہ ’’انصارالدین‘‘ کے ذریعے انصار کو خداتعالیٰ کی ہستی کے عقلی دلائل سے لیس کرنے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ایک نہایت عمدہ کتاب ’’ہمارا خدا‘‘ جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کی تصنیف ہے (جو دسمبر 1927ء میں پہلی بار شائع ہوئی) اور اب تک اس کتاب کے تین ایڈیشن (اور منتخب انگریزی ترجمہ بھی) شائع ہوچکے ہیں، اس کتاب سے انتخاب کا سلسلہ قارئین کے استفادہ کے لئے آئندہ بھی شامل اشاعت کیا جاتا رہے گا۔
ذیل میں ’’ہمارا خدا‘‘ کے صفحات 1 تا 68 کی تلخیص ہدیۂ قارئین ہے:

(انتخاب و تلخیص: فرخ سلطان محمود)
(مطبوعہ رسالہ انصارالدین جنوری فروری 2016ء)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ تحریر فرماتے ہیں:
ایک عرصہ سے میرے دل میں یہ خواہش تھی کہ ایک مضمون تحریر کروں جس میں مختصر اور عام فہم طریق پر بعض وہ دلائل بیان کئے جائیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمارا ایک خالق و مالک خدا ہے جس کے ساتھ تعلق پیدا کرنا ہمارے لئے ازبس ضروری ہے اور پھر اس مضمون میں یہ بھی بتایا جائے کہ ہمارے خدا کے یہ یہ صفات ہیں اور اس کے ساتھ تعلق پیدا کرنے میں یہ یہ فوائد ہیں اور نیز یہ کہ اس کے ساتھ کس طرح تعلق پیدا کیا جاسکتا ہے وغیر ذالک۔
اس زمانہ میں ایمان باللہ کی حالت
جتنے مذاہب بھی دنیا میں موجود ہیں وہ سب خدا کے قائل ہیں اور ان مذاہب کی طرف منسوب ہونے والے لوگ بھی باستثناء ایک نہایت قلیل تعداد کے جو ہستی باری تعالیٰ کی برملا منکر ہے خدا پر ایمان لانے کے مدّعی ہیں لیکن اگر نظرِ غور سے دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ یہ ایمان ایک محض رسمی ایمان ہے۔ دراصل خدا کے متعلق ایسا ایمان ہونا جیسا کہ اس دُنیا کی مادی چیزوں کے متعلق انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ یہ ایمان کے درمیانی مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کی حدیث ہے کہ ایمان کے عام مراتب میں سے ایک مرتبہ یہ ہے کہ انسان آگ میں ڈالا جاکر خاک ہوجانا پسند کریگا مگر ایمان کو ہاتھ سے نہیں چھوڑے گا۔
لیکن مَیں کہتا ہوں کہ اگر تم ایمان کے اس مرتبہ سے اپنے آپ کو فروتر پاتے ہو تو کیا تم دیانتداری کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہو کہ تمہارا ایمان ایک زندہ حقیقت کے طور پر تمہاری زندگی پر عملاً اثر انداز ہورہا ہے۔ یعنی کیا تم اپنے دل میں واقعی اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی ناراضگی کا خوف محسوس کرتے ہو اور کیا تمہارا ایمان تمہیں واقعی نیکی کی تحریک کرتا اور بدی سے روکتا ہے؟ اور کیا واقعی تمام اُمور میں تمہارا اصل بھروسہ خدا پر ہوتا ہے اور مادی اسباب پر نہیں ہوتا؟
ایمان باللہ کے دو درجے
چونکہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات وراء الوراء ہے اور بوجہ اپنی کمال لطافت اور غیر محدود ہونے کے انسان کی مادی آنکھوں کے احاطہ سے باہر ہے اور دوسری طرف ایمان کامل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی وہ کوئی زیادہ فائدہ دے سکتا ہے جب تک خدا کے متعلق انسان کم از کم اس درجہ کا یقین نہ پیدا کرے جیسا کہ دُنیا کی مادی چیزوں کے متعلق اُسے حاصل ہے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنی حکیمانہ قدرت سے یہ مقدّر کر رکھا ہے کہ ایک حد تک تو انسان اللہ تعالیٰ کی طرف قدم بڑھائے اور اُس کے بعد خدا خود انسان کی طرف نزول فرما کر اُسے اُوپر اُٹھالے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ایمان کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک وہ ایمان ہے جس تک انسان خود اپنی عقل کی مدد سے پہنچ سکتا ہے اور دوسرے وہ ایمان ہے جس تک مجرّد عقل کی پہنچ نہیں بلکہ اس مقام کے لئے عقل کی امداد کے واسطے آسمان سے بعض اور چیزوں کا نزول ہوتا ہے اور تب جا کر انسان اُس ایمان کو حاصل کر سکتا ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ- وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۔ (الأنعام۔ رکوع 13آیت1-4)

یعنی انسانی بصارت خدا تک پہنچنے اور اس کا علم اور عرفان حاصل کرنے سے عاجز ہے۔ اس لئے خدا نے یہ انتظام کیا ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو انسانی بصارت تک پہنچاتا ہے یعنی خود اپنی طرف سے ایسا انتظام فرماتا ہے کہ انسان خدا کا علم اور عرفان حاصل کر سکے۔ کیونکہ اگر خُدا لطیف ہونے کی وجہ سے انسان کی ظاہری نظر کی پہنچ سے باہر ہے تو وہ خبیر بھی تو ہے۔ جانتا ہے کہ انسان کی روحانی زندگی میرے عرفان کے بغیر ممکن نہیں۔پس وہ خود اپنی طرف سے ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ اس کے لطیف اور پوشیدہ ہونے کے باوجود انسان کو خُدا کا عرفان حاصل ہوسکے۔
پھر قرآن شریف میں بار بار لوگوں کو اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ تم اس کائنات اور زمین و آسمان اور دیگر مخلوقات پر غور کرو اور سوچو کہ کیا یہ سب کارخانۂ عالم مع اپنے حکیمانہ نظام کے محض اتفاق کا نتیجہ ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ سارا نظامِ عالم پُکار پُکار کر بتا رہا ہے کہ ضرور اس کا کوئی پیدا کرنے والا ہونا چاہیے۔
گویا اس طرح قرآن شریف انسان کو بار بار ہستیٔ باری تعالیٰ کے سوال پر غور کرنے اور مخلوق کے مطالعہ سے خالق کی ہستی کا پتہ لگانے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اور یہ طریقِ استدلال ایسا ہے کہ اس کے متعلق محض عقل ہی کافی ہے، کسی آسمانی مؤید کی ضرورت نہیں۔ پس ایمان باللہ دو درجوں میں منقسم ہے۔ ابتدائی درجہ وہ ہے جس کا حصول مجرّد عقل کی امدادسے ممکن ہے اور دوسرا درجہ وہ ہے (اور دراصل شرعی اصطلاح میں ایمان باللہ اسی درجہ کا نام ہے) جس کا حصول مجرّد عقل سے ممکن نہیں بلکہ اس کے واسطے خدا کی طرف سے خود عقل کی مدد کا خاص انتظام ہوتا ہے۔ پہلا درجہ ایمان کا جو عقل سے حاصل ہوسکتا ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ ہم عقلی دلائل سے اس نتیجہ پر پہنچ جائیں کہ اس کائناتِ عالم کا کوئی خالق ومالک ہونا چاہئے۔ اور دوسرا درجہ ایمان کا یہ ہے کہ واقعی وہ خالق ومالک موجود بھی ہے اور اُس کی یہ یہ صفات ہیں اور اس تک انسان اس طرح پہنچ سکتا ہے۔ گویا ایک مرتبہ ’ہونا چاہیے‘ کا ہے اور دوسرا ’ہے‘ کا۔
مجرّد عقل کبھی بھی ہمیں ’’ہے‘‘ کے مرتبہ تک نہیں پہنچا سکتی بلکہ عقل ’’ہونا چاہئے‘‘ کے مقام تک پہنچ کر رُک جاتی ہے۔ اور پھر جب خدا کی طرف سے اُسے ایک خاص عینک عطا کی جائے تو پھر گویا راستہ کے تمام پردے ہٹ جاتے ہیں اور وہی نظر جو اس سے قبل درماندہ ہوکر واپس لَوٹ جاتی تھی اب سیدھی خالق ہستی کے منوّر چہرہ پر پڑنی شروع ہوتی ہے اور جُوں جُوں انسان قریب ہوتا جاتا ہے اس کا یہ منظر زیادہ صاف ہوتا جاتا ہے اور علم اور عرفان ترقی کرتے جاتے ہیں مگر اس قرب کی کوئی حد نہیں اور نہ اس علم و عرفان کی کوئی انتہا ہے کیونکہ خدا غیر محدود ہے اور غیرمحدود کا عرفان بھی محدود نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے

رَبِّ زِدْنِیْ عِلْماً (طٰہٰ:115)

آنحضرت ﷺ کے منہ سے بھی نکلتی تھی جس کے متعلق خدا نے فرمایا کہ

دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْن اَوْاَدْنیٰ (النجم:9-10)

(یعنی ہمارا یہ بندہ ہم سے قریب ہوا اور اتنا قریب ہوا کہ گویا ہم میں نہاں ہوگیا)۔ اللّھم صلّ علیٰ محمّدٍ وبارک وسلّم۔
بلاشبہ ’’ہوناچاہئے‘‘ کا مرتبہ ’’ہے‘‘ کے مرتبہ کے لئے بطور ایک زینہ کے ہے اور عالمِ رُوحانیت میں انسان کو ابتدائی بیداری اسی مقام میں پہنچ کر حاصل ہوتی ہے لیکن اگر اس مقام پر پہنچ کر انسان آگے قدم بڑھانے سے رُک جائے اور اسی کو اپنا منتہیٰ اور مقصود سمجھنے لگ جائے تو بسا اوقات نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان دہریت کے تاریک گڑھے میں گرجاتا ہے اور خُدا کو تلاش کرتا کرتا خدا کا منکر ہوبیٹھتا ہے۔
خدا کی ہستی کے متعلق عقلی دلائل
احتیاطی دلیل

بعض اوقات ہم دنیا میں ایک کام محض احتیاطاً اختیار کرتے ہیں گو ویسے کسی معقول بنا پر ضروری نہ ہو۔ مثلاً اگر ہم رات کے وقت کسی جنگل بیابان میں ڈیرہ لگاتے ہیں تو احتیاطاً پہرہ کا انتظام کر لیتے ہیں۔
اسی اصول کے ماتحت اگر ہم ہستیٔ باری تعالیٰ کو دیکھیں تو ہماری عقل یہی فیصلہ کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایمان لے آنا انکار کر دینے سے بہرحال زیادہ امن اور زیادہ احتیاط کا طریق ہے۔ اگر تو کوئی خدا نہیں اور یہ سارا کارخانۂ عالم محض کسی اتفاق کا نتیجہ ہے تو ظاہر ہے کہ خدا پر ایمان لانا کسی طرح نقصان دہ نہیں ہوسکتا اور اگر کوئی خدا ہے تو ہمارا یہ ایمان لاریب سراسر مفید اور فائدہ مند ہوگا:

فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْن۔ (الأنعام:82)

یعنی ’’سوچو کہ کون گر وہ امن کے زیادہ قریب ہے، انکار کرنے والا یا ایمان لانے والا؟‘‘
کسی نے حضرت علیؓ سے پوچھا تھا کہ خدا کی ہستی کا کیا ثبوت ہے؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ دیکھو تمہارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اگر تو کوئی خدا نہیں ہے تو مان لینے والے اور نہ ماننے والے سب برابر ہیں۔ کسی کا کوئی نقصان نہیں ہے اور اگر خدا ہے تو خوب یاد رکھو کہ انکار کرنے والے کی خیر نہیں۔
فطری دلیل
دراصل ہماری فطرت خود اس سوال کو ہمارے اندر پیدا کررہی ہے کہ آیا کائناتِ عالَم کا کوئی خالق ومالک ہے یا نہیں؟ فطرتِ انسانی یہ سوال پیدا کرکے خاموش نہیں ہوجاتی بلکہ اس کا جواب بھی دیتی ہے اور جو لوگ فطرت کی آواز سُننے کے عادی ہیں وہ اس آواز کو سن سکتے ہیں۔
فطرت ایک عربی لفظ ہے جو فطر سے نکلا ہے اور ’فطرت ان صفات کا نام ہے جو ہر بچے میں اُس کی ابتداء خلقت کے وقت ودیعت کی جاتی ہیں۔‘ چنانچہ فطرتِ انسانی سے وہ صفات وخواص مراد ہونگے جو بیرونی اثرات کے نتیجہ میں نہیں پیدا ہوئے بلکہ خلقی اور طبعی طور پر انسان کے اندر مرکوز کئے گئے ہیں تا وہ ان کے ذریعہ اپنے واسطے ترقیات کا دروازہ کھول سکے۔
گویا ہر چیز بعض ایسے خواص اپنے اندر رکھتی ہے جو اسکے حواسِ طبعی کہلاتے ہیں۔ انہی خواص کا مجموعہ فطرت ہے۔ یہ خواص اور صفات بیرونی اثرات کے ماتحت آکر دَب جاتے ہیں یا چمک جاتے ہیں۔ اور اسی پر کسی ہستی کی ترقی اور تنزّل کا دارومدار ہے اور ہر شخص اپنے اندرغور کر کے اس بات کا پتہ لگاسکتا ہے کہ اس کے فطری خواص کس راستہ پر چل رہے ہیں۔ مثلاً راست گفتاری انسان کا ایک فطری جذبہ ہے یعنی انسان کا یہ فطری خاصہ ہے کہ وہ وہی بات منہ پر لائے جو واقعہ کے مطابق ہے اور ہر بچہ ابتداء ً اسی فطری خاصہ کے مطابق اپنا روّیہ رکھتا ہے۔ لیکن بعض اوقات جب وہ دیکھتا ہے کہ اُس کے کسی فعل پر اُس کے ماں باپ ناراض ہوتے ہیں اور وہ فعل کسی وجہ سے اُسے مرغوب اور پسند خاطر ہوتا ہے تو اس کے دل میں اس فعل کے کرنے کی خواہش زور پکڑتی ہے لیکن وہ اپنے والدین کی ناراضگی سے ڈر کر اُن سے اپنے اس فعل کو چھپانا چاہتا ہے اور یہ پہلا پردہ ہوتا ہے جو اُس کی فطرت پر پڑتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ وہ اس بات کے لئے بھی تیار ہوجاتا ہے کہ کام تو وہی کرتا ہے جو اسے پسند ہوتا ہے لیکن دوسروں سے اُسے نہ صرف چھپاتا ہے بلکہ اُن کے دریافت کرنے پر خلاف واقعہ بیان دے دیتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ وقت آتا ہے کہ جب وہ گویا اپنی فطرت کو بالکل ہی بھول جاتا ہے۔ ایسے ہی موقعہ پر کہتے ہیں کہ فلاں شخص کی فطرت مرچکی ہے حالانکہ دراصل فطرت کبھی نہیں مرتی بلکہ صرف بیرونی اثرات کے نیچے دب کر مستور ومحجوب ہوجاتی ہے۔ اسی طرح دیگر فطری جذبات کا حال ہے۔ مثلاً محبت، نفرت، حلم، غضب، عفو، انتقام، شجاعت، خوف، عفت، شہوت، ترقی کی خواہش، تنزّل سے نفرت وغیرہ۔ یہ فطرتِ انسانی کے اندر طبعی طور پر مرکوز ہیں لیکن بیرونی اثرات ان کو دباتے یا چمکاتے رہتے ہیں۔ یعنی کبھی تو یہ خواص افراط کی طرف مائل ہوجاتے ہیں اور کبھی تفریط کی طرف جھک جاتے ہیں اور کبھی حدِ اعتدال کے اندر اندر رہتے ہیں۔ سوائے اس شخص کے جس کے فطری جذبات اعتدال کی حالت میں ہوں دوسرے لوگ خود اپنی فطرت کے متعلق بھی عموماً دھوکا کھا جاتے ہیں۔
پس راست گفتاری ایک فطری خاصہ ہے جس کا یہ تقاضا ہے کہ جب کوئی موقعہ پیش آئے تو جو بھی واقعہ ہے اُس کے مطابق انسان اپنا بیان دے۔ نہ کوئی بات خلاف کہے اور نہ کوئی بات زیادہ کرے اور یہی تقاضا فطرت کی آواز کہلائے گا۔ اسی فطری آواز کو زندہ رکھنے کے واسطے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَاَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا- فِطْرَتَ اللہِ الَّتِیْ فطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا۔ (الرّوم:31)

یعنی اے انسان ! تو اپنی توجہ اعتدال کی حالت میں رکھ تا کہ تُو اس فطری حالت پر قائم رہ سکے جس پر خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔
اَب ہر شخص اپنے اندر غور کرے کہ کیا اس کی فطرت ہستی باری تعالیٰ کے متعلق کوئی آواز پیدا کر رہی ہے یا نہیں؟ جب وہ اپنے دل سے یہ سوال کرتا ہے کہ کیا میرا وجود محض ایک اتفاق کا نتیجہ ہے یا کہ مجھے کسی بالاہستی نے پیدا کیا ہے تو اُسے اِس سوال کے جواب میں (عقلی دلائل کو سوچے بغیر) کوئی فطری آواز سنائی دیتی ہے یا نہیں؟ قرآن شریف فرماتا ہے:

وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ ٓ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَ اَشْھَدَ ھُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ – اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ – قَالُوْا بَلٰی- شَھِدْنَا- اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ھٰذَا غٰفِلِیْنَ۔ (سورۂ الاعراف:173)

یعنی اللہ تعالیٰ نے جب بنی نوع انسان کی نسل کو چلایا تو خود اُن سے اُن کے نفسوں پر شہادت لی اور پوچھا کہ کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں بیشک تُو ہمارا ربّ ہے۔ اور یہ خدا نے اس لئے کیا کہ تاقیامت کے دن تمہیں یہ عذر نہ رہے کہ ہمیں تو خدا کے متعلق کچھ پتہ ہی نہیں لگا۔
گویا اللہ تعالیٰ نے یہ بات انسانی فطرت میں رکھ دی کہ تیرا ایک خالق و مالک ہے جس سے تجھے غافل نہ رہنا چاہئے۔ چنانچہ بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ ایک دہریہ بھی سخت اور اچانک مصیبت کے وقت میں رام رام یا اللہ اللہ پکارنے لگ جاتا ہے۔ اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلنا فطرت کی آواز کے سوا اور کسی چیز کا نتیجہ نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح جب انسان بوڑھا ہوجاتا ہے تو اُس کی فطرت کی آوازیں زیادہ وضاحت کے ساتھ اس کے کانوں میں سنائی دینے لگتی ہیں۔ اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ جوانی میں عموماً ہزاروں قسم کی غفلتیں انسان کو گھیرے رکھتی ہیں اور دنیاوی کاروبار کی کثرت اور جذبات بھی جوش کی حالت میں ہونے کی وجہ سے عموماً حدِّ اعتدال سے تجاوز کرجاتے ہیں۔ لیکن بڑھاپے میں یہ جوش و خروش ٹھنڈا ہونا شروع ہوجاتا ہے اور دنیاوی کاروبار سے بھی قدرے فرصت ملتی ہے تو فطرت کو پھر موقعہ مل جاتا ہے کہ اپنی آواز انسان کے کانوں تک پہنچا سکے۔
کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ تبدیلی فطرت کی آواز کی وجہ سے نہیں بلکہ موت کے ڈر کی وجہ سے ہوتی ہے اور اس خوف کے نتیجہ میں وہ خدا کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔
مَیں کہتا ہوں کہ یہ دلیل تو ہمارے حق میں ہے۔ کیونکہ موت کا خوف بھی تو ایک فطری آواز ہے۔ ورنہ ایک دہریہ کیا اور موت کا خوف کیا؟ جو شخص اپنی زندگی کو محض اتفاق کا نتیجہ قرار دیتا ہے اس کی نظر میں موت سوائے اس کے اور کوئی حقیقت نہیں رکھ سکتی کہ وہ زندگی جو اتفاق کا نتیجہ تھی اب اتفاق کے نتیجہ میں ہی یا کسی اور وجہ سے اُس کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہورہا ہے، اور بس۔ پس موت کا خوف بھی کسی اندرونی تغیّر کا نتیجہ ہے اور اسی کا نام ہم فطرت کی آواز رکھتے ہیں۔
الغرض فطرتِ انسانی ہستیٔ باری تعالیٰ کا ایک زبردست ثبوت ہے۔ چنانچہ فرمایا:

وَفِیْ ٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ (الذّاریات: 22)

یعنی اے لوگو! تمہیں اِدھر اُدھر جانے کی ضرورت نہیں، تمہارے تو اپنے نفسوں میں خُدائی آیات موجود ہیں۔
کائنات خلق اور نظام عالم کی دلیل
دراصل یہی ایک دلیل ہے جس پر دنیا کے بیشتر حصہ کے ایمان کا دارومدار ہے ۔ یہ دلیل مسبب(Effect) سے سبب (Cause) کی طرف جانے کی دلیل ہے اور اگر علمی طور پر دیکھا جاوے تو یہ دلیل دراصل دو دلیلوں کا مجموعہ ہے۔ ایک دلیل تو وہ عام معروف دلیل ہے جس میں فی الجملہ طور پر مخلوق کے وجود سے خالق کے وجود پر استدلال کیا جاتا ہے اور یہ دلیل سادہ ہونے کی وجہ سے عامۃ الناس کو زیادہ اپیل کرتی ہے۔ دوسری دلیل وہ ہے جس میں اس عالم دنیوی کے حالات اور نظام عالم کا مطالعہ کرکے اس عالم کی پیدا کرنے والی اور اس نظام کی جاری کرنے اور قائم رکھنے والی ہستی کے وجود پر دلیل پکڑی جاتی ہے۔
پہلا حصہ دلیل کا جو مخلوق کے وجود سے خالق کے وجود کی طرف جانے سے تعلق رکھتا ہے اپنی ظاہری صورت میں بہت سادہ ہے۔ مثلاً سامنے میز پر بہت سی چیزیں رکھی ہیں۔ یہ چیزیں خود بخود نہیں بن گئیں بلکہ کسی کاریگر کی محنت کا ثمرہ ہیں۔ عرب کے ایک بدوی سے کسی نے پوچھا تھا کہ تیرے پاس خدا کی کیا دلیل ہے؟ اُس نے جواب دیا: جب کوئی شخص جنگل میں سے گزرتا ہوا ایک اونٹ کی مینگنی دیکھتا ہے تو یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس جگہ سے کسی اونٹ کا گزر ہوا ہے اور جب وہ صحرا کی ریت پر کسی آدمی کے پاؤں کا نشان پاتا ہے تو یقین کرلیتا ہے کہ یہاں سے کوئی مسافر گزرا ہے تو کیا تمہیں یہ زمین مع اپنے وسیع راستوں اور یہ آسمان مع اپنے سورج اور چاند اور ستاروں کے دیکھ کر خیال نہیں آتا کہ ان کا کوئی بنانے والا ہوگا؟
قرآنِ شریف خلق ونظام عالم کے متعلق کئی مقامات پر ارشاد فرماتا ہے۔ خداتعالیٰ آسمانوں اور زمین کی پیدائش، رات اور دن کے ادلنے بدلنے، بحری جہازوں کے سفر، بارش اور اس کے نتیجہ میں مُردہ زمین کا زندہ ہونا، ہواؤں کے چلنے اور بادلوںکو بھی سوچنے والوں کے لئے نشان قرار دیتا ہے۔ (البقرہ:165)۔ پھر آسمان کے ستاروں کے نظام اور زمین میں پہاڑ کھڑے کرنے کی حکمت پر غور کرنے کی تلقین فرماتا ہے۔ (ق:7تا9) ۔ پھر مخلوق کے قوانینِ قدرت کی اطاعت کرنے کا ذکر بھی فرماتا ہے۔ (الرّعد: 16)۔ نیز فرمایا کہ ہر چیز اپنے اپنے دائرہ میں الگ الگ چل رہی ہے اور دوسری چیزوں سے ٹکراتی نہیں ہے۔ (یٰس:41)۔ خداتعالیٰ دودھ دینے والے چوپائیوں اور شفا بخش شہد بنانے والی مکھی پر غور کرنے کی بھی نصیحت فرماتا ہے۔ (النحل:70,69,67) ۔ پھر کئی نشانات بیان کرنے کے بعد انسان کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ: کیا تُو رحمن کی مخلوق میں کوئی نقص پاتا ہے ؟ اپنی نظر کو چاروں طرف دوڑا اور پھر بتا کہ کیا تجھے کوئی فتور نظر آتا ہے؟ پھر دوبارہ سہ بارہ نظر کو چکر دے مگر یاد رکھ کہ تیری نظرتیری طرف ہر دفعہ ذلیل وماندہ ہوکر لَوٹے گی اور خدا کی خلق میں کوئی رخنہ نہ دریافت کرسکے گی۔ (الملک:2تا5)۔ نیز فرمایا: کیا یہ ساری باتیں تجھے خدا کی طرف راستہ نہیں دکھاتیں؟ (النّجم:43)
یہ آیاتِ قرآنی جس فصاحت وبلاغت کے ساتھ کائناتِ خلق اور نظامِ عالم کی طرف توجہ دلا کر ہستیٔ باری تعالیٰ کا نشان دے رہی ہیں وہ محتاجِ تفسیر نہیں۔ انسان جس قدر بھی نظامِ عالم اور خواصِ اشیاء کے مطالعہ میں ترقی کرتا ہے اس کے لئے یہ اشارہ زیادہ واضح اور زیادہ معیّن صورت اختیار کرتا جاتا ہے۔ دُنیا کی چھوٹی سے چھوٹی چیز پر غور کرو۔ وہ حقیر چیز ایک ایسے عظیم الشان اور حکیمانہ قانون کے ماتحت کام کر رہی ہے جس میں ایک ایسی ترتیب اور علّتِ غائی نظر آتی ہے کہ عقل حیران ہوجاتی ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں ؎

بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز
تو پھر کیونکر بنانا نورِ حق کا اس پہ آساں ہے

انسانی جسم کو دیکھ لو۔ دنیا کے بہترین دماغ ہر زمانہ میں لاکھوں کی تعداد میں اس کی بناوٹ کے متعلق تحقیق کرتے چلے آئے ہیں اور اس حکیمانہ قانون کے معلوم کرنے کے پیچھے پڑے رہے ہیں جو مختلف اعضاء یعنی دل و دماغ، گردہ ،پھیپھڑا، جگر، معدہ، آنکھ، کان، ناک وغیرہ میں کام کر رہا ہے لیکن خدا کی اس بظاہر چھوٹی سی کان کا کتنا حصہ ہے جو وہ اس وقت تک دنیا کے سامنے نکال کر پیش کر سکے ہیں؟
ایک پھول کی ننھی ننھی پتیوں میں سینکڑوں رگیں اور نالیاں ایک جال کی طرح پھیلی ہوئی ہوتی ہیں اور یہ ہر رگ اور ہر نالی اپنے کام اور اپنے قانون کے لحاظ سے ایک عالَم کا حکم رکھتی ہے۔ پھر ایک مٹھی میں لاکھوں کی تعداد میں وہ حقیر تخم سما سکتا ہے لیکن جب وہ زمین میں ڈالا جاتا ہے تو ایک عظیم الشان درخت بن جاتا ہے جس کے سایہ کے نیچے ہزاروں انسان آرام کر سکتے ہیں۔
اور ایک وقت تھا کہ انسان ایک ایسے حقیر خوردبینی کیڑے کی شکل میں اپنے باپ کے جسم کا حصّہ تھا کہ شاید کوئی نازک مزاج شخص اُسے دیکھنا بھی گوارا نہ کرتا، لیکن آج وہی ایک خوبصورت، دلکش اور دل و دماغ کی اعلیٰ ترین طاقتوں سے آراستہ وجود بنا بیٹھا ہے۔
پھر آسمان میں سورج، یہ چاند، یہ ستارے کیا منظر پیش کرتے ہیں۔ سورج ہی کو لے لو۔ اس کا قطر آٹھ لاکھ پینسٹھ ہزار میل ہے لیکن آسمان میں بہت سے ستارے ایسے ہیں جن کے سامنے یہ سورج اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتا جیسے کہ ایک عقاب کے مقابلہ میں پدی کی حیثیت ہے۔
اگر اس عظیم الشان نظام کا مطالعہ کیا جائے جس کے ماتحت یہ لاکھوں کروڑوں عالم فضائِ آسمانی میں چکّر لگارہے ہیں تو عقلِ انسانی خود چکّر میں آنے لگتی ہے اور پھر کمال یہ ہے کہ ہر ستارہ اپنے اپنے دائرہ کے اندر اپنے اپنے قواعد کے ماتحت چکّر لگا رہا ہے اور کیا مجال ہے کہ ایک ستارہ کسی دوسرے سے ٹکرا جاوے یا اپنے دائرہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے دائرہ کے اندر جاداخل ہو اور یہ قاعدہ صرف اجرامِ سماوی ہی کے متعلق نہیں بلکہ زمین پر بھی ہر چیز اپنے اپنے حلقہ کے اندر محصور ہے اور یہ کسی کو طاقت نہیں کہ اپنے حلقہ سے آزاد ہو کر دوسرے حلقے میں داخل ہوسکے۔ آگ کا کام ہے کہ جلاوے۔ پانی کا کام ہے کہ بُجھاوے۔ درخت کا کام ہے کہ زمین میں ایک جگہ استادہ کھڑا رہے۔ پرندہ کا کام ہے کہ ہوا میں اُڑتا پھرے۔ انسان کا کام ہے کہ زمین پر چلے۔ مچھلی کا کام ہے کہ پانی میں تیرے۔ گائے کا کام ہے کہ گھاس کھائے۔ شیر کا کام ہے کہ دوسرے جانوروں کو اپنی خوراک بنائے۔ یہ موٹی موٹی مثالیں ہیں ورنہ ہر چیز اپنے خواص اور اپنی طاقتوں اور اپنے کام کے لحاظ سے اپنے اپنے حلقہ کے اندر محصور ہے اور اپنے حلقہ سے باہر نکل جانے کی کسی کو طاقت نہیں اور پھر ہر چیز ایک خاص غرض و مقصد کو پورا کر رہی ہے۔
پس کیا تم دیانتداری کے ساتھ کہہ سکتے ہو کہ یہ زمین یہ آسمان یہ حیوانات یہ نباتات یہ جمادات یہ اجرامِ سماوی یہ طبقاتِ ارضی محض اتفاق کا نتیجہ ہیں؟ کیا یہ عظیم الشان نظام جس نے دنیا کی اربوں چیزوں کو ایک لڑی میں پرو رکھا ہے بغیر کسی خالق اور متصرّف کے خود بخود چل رہا ہے ؟
جب ہم کسی ایک چیز کے مختلف حصوں کے آپس کے تعلقات پر نظر ڈالتے ہیں یا مختلف چیزوں کے باہمی تعلقات کا مطالعہ کرتے ہیں تو پھر خداتعالیٰ کی حکمت اَور بھی زیادہ روشن ہوکر ہمارے سامنے ظاہر ہوتی ہے۔ مثلاً ہم اونٹ کو لیتے ہیں اور بالفرض یہ مان لیتے ہیں کہ قانون قدرت کے کسی مخفی اور غیر معلوم قاعدہ کے ماتحت اس کو لمبی ٹانگیں مل گئیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس اندھے قانون کو یہ کیسے پتہ لگ گیا کہ اب جو میں نے اسے لمبی ٹانگیں دی ہیں تو اس کی گردن بھی لمبی بنانی چاہئے تا کہ اس کا منہ آسانی کے ساتھ زمین تک پہنچ سکے۔ اور پھر صرف اونٹ میں ہی نہیں بلکہ ہر جانور میں یہی حکیمانہ قاعدہ جاری کردیا کہ جہاں کسی مصلحت سے ٹانگیں لمبی دی جائیں وہاں گردن بھی لمبی ہو اور جہاں ٹانگیں چھوٹی ہوں وہاں گردن بھی چھوٹی ہو۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہ لمبے عرصہ کے حالات کا طبعی نتیجہ ہے۔ مگر یہ اعتراض درست نہیں کیونکہ دُنیا میں حیاتِ حیوانی کی تاریخ اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرتی کہ لمبی ٹانگوں والے جانوروں کی گردنیں پہلے چھوٹی ہوا کرتی تھیں اور پھر بعد میں آہستہ آہستہ لمبی ہوگئیں۔ اور پھر اس بات کا بھی کیا جواب ہے کہ لمبی ٹانگوں والے جانور شروع میں جبکہ اُن کی گردنیں چھوٹی ہوتی تھیں کس طرح گزارہ کرتے تھے؟ بہر حال یہ صرف ایک موٹی مثال ہے ورنہ غور کیا جائے تو دُنیا میں ہر چیز کے مختلف حصّے اس تناسب اور موزونیت کے ساتھ باہم جوڑے گئے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
پھر قانونِ قدرت کے کسی اتفاقی کرشمہ نے مرد کی پُشت میں نسلِ انسانی کے کیڑے پیدا کر دیئے۔ اور مرد اور عورت کے اندر یہ خواہش پیدا کردی کہ وہ ایک جگہ جمع ہوں اور اُسی نے ہی مرد کی پُشت کے وہ کیڑے عورت کے تاریک وتار رحم میں پہنچا دئیے اور پھر اسی قانون نے ہی نو ماہ تک اُن میں سے ایک کیڑے کو منتخب کر کے اس کی تربیت کی اور اُسے ایک دل و دماغ رکھنے والا خوبصورت شکل کا بچہ بنا دیا اور پھر اُسی نے ہی اُس بچے کو ماں کے پیٹ سے باہرنکالا۔ مگر خدارا مجھے یہ سمجھادو کہ اس اندھے قانون کو کہاں سے سوجھی کہ جب وہ بچہ ماں کے رحم سے باہر آنے والا ہوا تو اُس نے اُس کی خوراک کے واسطے ماں کی چھاتیوں میں دودھ پیدا کردیا۔ سبحان اللّٰہ ، مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ۔ (الحج:75)
پھر اور سنو۔ زمین خود بخود پیدا ہوگئی۔ اُس پر چلنے پھرنے والی چیزیں بھی خودبخود پیدا ہوگئیں۔ انسان بھی اپنے آپ نیست سے ہست میں آگیا۔ اُس کے ناک کان آنکھ سب خود بخود ظاہر ہوگئے۔ الغرض یہ سب کچھ کسی اتفاقی قانون کے نتیجے میں ہوگیا، لیکن یہ کس طرح ہوا کہ آنکھوں میں جو دیکھنے کی طاقت تھی اُس کے ظاہر کرنے کے لئے اس قانون نے نوکروڑ میل کے فاصلہ پر ایک عظیم الشان چراغ بھی روشن کردیا تا کہ اس کی روشنی زمین پر پہنچے اور پھر انسانی آنکھ اپنی قوت بینائی کو استعمال کر سکے۔ درخت تو زمین پر اُگ آیا۔ اس کے تخم بھی پیدا ہوگئے اور تخم زمین پر گرا کر بوئے بھی گئے لیکن یہ کس نے سوچا کہ ان تخموں کے اُگنے کے واسطے پانی کی بھی ضرورت ہے۔ اور پھر یہ کس نے انتظام کیا کہ سمندر پر سورج کی شعاعیں گرائیں اور وہاں سے کروڑوں ٹن پانی اُٹھاکر ہواؤں کے ذریعہ زمین کے جھلستے ہوئے میدانوں تک پہنچا دیا اور پھر وہاں ان ہواؤں کو بادل کی صورت میں لا کر بارشیں برسادیں۔ اگر یہ سب کچھ اسی اتفاقی قانون نے کیا اور یہی قانون وہ ہستی ہے جو خالق ہے، مالک ہے، ربّ ہے، علیم ہے، قدیر ہے، حکیم ہے، متصّرف ہے، مہیمن ہے جو غور کرتی اور سوچتی ہے، جو حالات کی مناسبت کا خیال رکھتی ہے۔وہی ہمارا خدا ہے اور اسی کے سامنے ہم محبت و عبودیت کا سجدہ بجالاتے ہیں۔ کائنات اور اس کا حکیمانہ نظام ایک ایسی ہستی کی طرف اشارہ کررہا ہے جو خالق ہے، مالک ہے، حکیم ہے، علیم ہے، قدیر ہے، متصرف ہے، غرض ان تمام صفات سے متصف ہے جو مذہب خدا کی طرف منسوب کرتا ہے۔…… (باقی آئندہ۔ انشاء اللہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین مارچ اپریل 2016ء)

انصار کو خداتعالیٰ کی ہستی کے عقلی دلائل سے لیس کرنے کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ کی تصنیف لطیف ’’ہمارا خدا‘‘ کے منتخب مضامین کا سلسلہ گزشتہ شمارہ سے شامل اشاعت کیا جارہا ہے۔
ذیل میں صفحات 68 تا 96 کی تلخیص ہدیۂ قارئین ہے:
(انتخاب و تلخیص: عبادہ عبداللّطیف)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ تحریر فرماتے ہیں:
مغربی محققین اور خُدا کا عقیدہ
مغربی محقّقین ہربات کو سائنس وفلسفہ کی روشنی میں دیکھنے کے عادی ہیں اور جو لوگ ہستی باری تعالیٰ کے منکر ہوئے ہیں وہ عموماً جدید علوم کے نظریات سے استدلال کرتے ہیں۔ اُن کا بیان ہے کہ یہ مادی دُنیا ارتقائی عمل کے ماتحت اس شکل تک پہنچی ہے۔ مثلاً انسان کسی زمانہ میں نہایت ہی ادنیٰ قسم کی چیز تھا جس نے ارتقاء کے بعد موجودہ صورت اختیار کی ہے۔ اِسی طرح دُنیا کی دوسری چیزیں جو اپنی ابتدائی حالت میں بالکل ادنیٰ تھیں مگر بعد میں قانونِ ارتقاء کے ماتحت مختلف جنسوں، صورتوں اور خواص میں نظر آتی ہیں۔ چونکہ یہ سب کچھ طبعی طور پر ظہور پذیر ہوا ہے اس لئے کائنات کے حکیمانہ نظام کو کسی بیرونی صانع کی ضرورت نہیں۔
مغربی محققین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ دُنیا اور اس کی چیزیں ہمیشہ سے ایک خاص معین قانون کے ماتحت کام کرتی چلی آئی ہیں اور ہم روزبروز قانونِ نیچر اور خواص الاشیاء اور تعلقات مابین الاشیاء کی حقیقت تک پہنچتے جاتے ہیں۔ بے شمار سربستہ راز ایک منکشف شدہ حقیقت کے طور پر ہمارے سامنے آگئے ہیں اور لاعلمی کے نتیجہ میں ہمارے جو غلط خیالات تھے اَب نئے علوم کی روشنی میں دُور ہوتے جاتے ہیں اور جن باتوں کو انسان پہلے اپنی عقل وفہم سے بالا سمجھ کر کسی بالاہستی کی طرف منسوب کر دیتا تھا اب ہم انہی باتوں کو کسی معیّن قانونِ قدرت کا نتیجہ ثابت کرسکتے ہیں۔
دراصل یہ ایک بالکل بودا اعتراض ہے۔ کیونکہ مسئلہ ارتقاء کائنات کے حقیقی آغاز کے متعلق کوئی روشنی نہیں ڈالتا۔ سوال یہ ہے کہ وہ ابتدائی ادنیٰ حالت کی چیزیں کہاں سے آئیں؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کے جواب کے بغیر محض مسئلہ ارتقاء کو خدا کے انکار کے ثبوت میں پیش کرنا قطعاً کوئی اثر نہیں رکھتا۔ اس سے یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ اس دُنیا کا پیدا کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ بلکہ ابتدائی سادہ چیزوں کے اندر ایسے خواص کا پایا جانا کہ وہ ترقی کرتے کرتے ایک عجیب و غریب کائنات کی صورت اختیار کر لیںاور نہایت پُرحکمت قانون کے تابع ہوجائیں، خود سب عجوبوں سے بڑھ کر عجوبہ ہے ۔ کیونکہ وہ سادہ حالت (اگر واقعی تھی تو) موجودہ دُنیا کیلئے بطور تخم کے تھی اور تخم درخت کی نسبت زیادہ عجیب و غریب اور زیادہ پُرحکمت چیز ہوتا ہے کیونکہ اس کے اندر وہ تمام خواص اور کمالات بالقوّۃ طور پر مخفی ہوتے ہیں جو بعد میں درخت کے اندر بالفعل رونما ہوتے ہیں۔ پس مسئلہ ارتقاء سے خداتعالیٰ کی پُرحکمت قدرتوں اور بے نظیر صنعت پر ہی روشنی پڑتی ہے۔
یہ اعتراض بھی لغو ہے کہ ہر اِک چیز ایک خاص قانون قدرت کے ماتحت ہے اس لئے خدا وغیرہ کوئی نہیں۔ اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ یہ تمام کارخانۂ عالم ایک نہایت درجہ حکیمانہ قانون اور باریک در باریک سلسلۂ اسباب کے ماتحت کام کر رہا ہے اور یہ ہستیٔ باری تعالیٰ کی ہی دلیل ہے۔ کیونکہ سوال یہ ہے کہ یہ کامل و مکمل قانون کہاں سے آیا؟ مثلاً سائنسدان کہتے ہیں کہ نیچر کا یہ قانون ہے کہ زمین سورج کے گرد چکر لگاتی ہے جو نتیجہ ہے نیچر کے ایک اور قانون کا کہ جب ایک چیز پر دو یا دو سے زیادہ مختلف الجہت طاقتیں اثر ڈالتی ہیں تو وہ چیز ایک تیسری جہت میں جو اُن مختلف الجہت طاقتوں کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور جسے Resultant کہتے ہیں حرکت کرنے لگ جاتی ہے۔ ہم اس بات کو اصولاً مانتے ہیں۔ لیکن ہمارا سوال اسی طرح قائم ہے کہ ہر چیز کے اندر یہ اثر ڈالنے والی طاقتیں کہاں سے آئی ہیں؟
پس درمیانی قوانین اور درمیانی تغیّرات کو پیش کر کے خدا کے وجود سے انکار کی راہ تلاش کرنا ایک دھوکے کا طریق ہے۔ ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ جوں جوں علمی تحقیقات میں ترقی کے نتیجہ میں قانونِ نیچر کے مخفی حقائق منکشف ہوتے جاتے ہیں، ہمارا دل عقلی طور پر زیادہ سے زیادہ بصیرت کے ساتھ اس ایمان پر قائم ہوتا جاتا ہے کہ یہ کارخانۂ عالم مع اپنے نہایت درجہ حکیمانہ قانون کے ضرور کسی خالق و مالک، علیم و حکیم، قدیر و متصرف ہستی کے ماتحت چل رہا ہے۔ اگر ایک معمولی چیز کو دیکھ کر ہم اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ وہ کسی صانع کی پیدا کردہ ہے تو ایک عجیب و غریب پُرحکمت چیز کو دیکھ کر بدرجۂ اولیٰ ہمارے اندر یہ ایمان پیدا ہونا چاہیے کہ وہ کسی بالا ہستی کی قدرت نمائی کا کرشمہ ہے۔ نئے علوم اور نئی تحقیقات سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ دُنیا ومافیہا کا قانون اس سے بہت بڑھ چڑھ کر مفصّل اور حکیمانہ ہے جو پہلے سمجھا جاتا تھا اور اس سے ہمارے خدا کی حکیمانہ قدرتوں کے کرشموں کا بیش از پیش اظہار ہوتا چلا جاتا ہے۔ اگرچہ اُصولی طور پر یہ انکشاف قرآن شریف نے ہی فرمادیا تھا کہ: ’’کیا لوگ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طرف نہیں دیکھتے کہ کس طرح دُنیا کی ہر چیز خدا کے حکم کے ماتحت مطیع وفرمانبردار ہوکر اپنے دائیں اور بائیں اثر ڈال رہی ہے اور جو کچھ کہ زمین و آسمان میں ہے وہ سب خدا کے مقرر کردہ قانون کے ماتحت چل رہا ہے۔‘‘ (النحل:49،50)۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ’’ہم نے زمین وآسمان کو اور جو کچھ کہ اُن میں ہے محض تفریح کے طور پر بلا مقصد نہیں پیدا کیا بلکہ ایک خاص مقصد کے ماتحت پیدا کیا ہے۔‘‘ (الأنبیاء:17)
پس مغربی محققین کا ایک طبقہ جو خدا پر ایمان لاتا ہے وہ جدید تحقیقات کو دہریت کے خلاف بطور ایک حربہ کے استعمال کرتا ہے۔ پس علوم جدیدہ کا سوائے اس کے اَور کوئی اثر نہیں کہ دنیا پر یہ بات علم الیقین کے طور پر ثابت ہوتی چلی جارہی ہے کہ زمین وآسمان میں جو کچھ ہے وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ انسان کے فائدہ کے لئے ہے جیسا کہ قرآن شریف فرماچکا ہے کہ: ’’جو کچھ دُنیا میں ہے خواہ زمین میں یا آسمانوں میں وہ سب تمہارے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے‘‘ (البقرۃ:30)۔ نیز فرمایا: ’’اور اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کر رکھا ہے تاکہ تم اُن کے حقائق سے آگاہ ہو کراُن سے فائدہ اُٹھاؤ۔‘‘(الجاثیہ:14)
افسوس انسان پر کہ جن چیزوں کو اُن کے آقا و مالک نے اُس کی ہدایت اور ترقی کے لئے پیدا کیا تھا انہی کو اُس نے اپنی گمراہی اور ہلاکت کا سبب بنا لیا۔
دراصل یہ سوال کہ کوئی خدا موجود ہے یا نہیں، سائنس کے حقیقی دائرہ عمل سے باہر ہے اور کوئی سائنسدان اس بحث میں نہیں پڑ سکتا۔ کیونکہ سائنس مادیات کے خواص اور قوانین کے دریافت کرنے کا علم ہے اور غیر مادی اشیاء یا ماوراء المادیات (Metaphysics)کی بحث کم از کم سائنس کے موجودہ دائرہ عمل سے باہر ہے۔ علاوہ ازیں سائنس کو بالعموم اس بات سے تعلق نہیں کہ کونسی چیز نہیں ہے بلکہ اُسے زیادہ تر اس بات سے سروکار ہے کہ کونسی چیز ہے اور پھر یہ کہ جو چیز ہے وہ کیا ہے اور کس قانون کے ماتحت ہے۔ پس یہ حقیقت کہ خدا نہیں ہے کم از کم موجودہ سائنس کی بحث سے خارج ہے۔ ہاں البتہ یہ بحث سائنس کے دائرہ عمل میں آسکتی ہے کہ یہ دُنیا اور اس کی چیزیں کس طرح عالم وجود میں آئی ہیں اور حیات کا آغاز کس طرح ہوا ہے۔
علاوہ ازیں لوگ سائنس کے متعلق عموماً ایک خطرناک غلطی میں مبتلا ہیں۔ یعنی وہ سائنسدانوں کے قیاسات اور سائنس کے ثابت شدہ حقائق میں تمیز نہیں کرتے۔ سائنسدانوں کے اعلانات تین اقسام کے ہیں: اوّل: سائنسدانوں کے قیاسات۔ دوم: سائنس کے نامکمل تجربات ۔ سوم: سائنس کے ثابت شدہ حقائق۔
یہ تینوں الگ الگ حیثیت اور درجہ رکھتے ہیں۔ مگر ناواقف لوگ ہر ایک بات کو جو سائنس دانوں کے منہ سے نکلتی ہے سائنس کے ثابت شدہ حقائق قرار دے کر اپنی جہالت سے سائنسدانوں کی شخصی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی نئی بات سائنس کے تجربات کی رُو سے عملی مشاہدہ میں آکر دریافت ہوتی ہے اور پھر مختلف لوگوں کے بار بار تجربات سے جو مختلف حالات کے ماتحت کئے جاتے ہیں وہ پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے اور علمی طور پر بھی اس کے کسی پہلو کے متعلق تاریکی نہیں رہتی تو تب جاکر وہ ثابت شدہ حقیقت سمجھی جاتی ہے۔ اور پھر سائنسدان اِس جدید تحقیق کی روشنی میں مختلف تھیوریاں قائم کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ناواقف لوگ سائنس کے لفظ سے مرعوب ہو کر یا کسی اور وجہ سے اس سارے رطب ویا بس کے مجموعہ کو ہی سائنس کی ثابت شدہ حقیقت قرار دینے لگ جاتے ہیں۔ حالانکہ اصل ثابت شدہ حقیقت بہت تھوڑی ہوتی ہے۔
جب کوئی سائنسی حقیقت ثابت ہوجاتی ہے تو سائنسدان متفق ہوکر اُسے تسلیم کرلیتے ہیں اور پھر کوئی اس کا انکار نہیں کرتا۔ بلکہ اختلاف صرف انہی باتوں میں ہے جو یا تو ابھی پوری طرح ثابت نہیں ہوئیں اور یا پھر بعض سائنسدانوں کے قیاسات ہیں جو انہوں نے ثابت شدہ حقائق کی بِنا پر عقلی استدلال کر کرکے پیش کئے ہیں۔ چنانچہ بہت سے سائنسدان خدا کے قائل ہیں بلکہ دراصل بہت تھوڑے ایسے ہیں کہ جو خُدا کا انکار کرتے ہیں۔ پس ثابت ہؤا کہ سائنس کی کوئی ثابت شدہ حقیقت ایسی نہیں ہے کہ جس سے یہ یقینی استدلال ہوسکے کہ یہ کارخانۂ عالم خود بخود بغیر کسی خالق و مالک کے چل رہا ہے ورنہ سائنسدانوں میں یہ اختلاف نہ ہوتا اور وہ سب خدا کے وجود پر متفق ہوتے یا خدا کے انکار پر متفق ہوتے ۔
سائنس کے حقائق کی پختگی صرف اس بِنا پر تسلیم کی جاتی ہے کہ اس میں علاوہ علمی اور عقلی دلائل کے تجربہ اور مشاہدہ پر بنا ہوتی ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جن دلائل کے ساتھ اس دنیا میں خدا کا وجود ثابت ہوتا ہے وہ بھی اسی سائنسی طریق پر مبنی ہیں بلکہ یہ تجربہ اور مشاہدہ اپنی کمیّت اور کیفیت میں سائنس کے حقائق سے بہت بڑھا ہؤا ہے۔ عقل کی پہنچ تو صرف اس حد تک ہے کہ یہ ثابت کرے کہ کوئی خدا ’ہونا چاہئے‘ اور یہ مقام کہ واقعی ’خُدا موجود‘ ہے تجربہ اور مشاہدہ کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے اور اس تجربہ اور مشاہدہ کا سامان خود خدا تعالیٰ کی طرف سے پیدا کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ’’خدا تک انسان کی آنکھ نہیں پہنچ سکتی (یعنی صرف عقلی دلائل سے خُدا کا عرفان حاصل نہیں ہوسکتا) لیکن خُدا خود انسانی آنکھ تک پہنچتا ہے۔‘‘ (الأنعام:104)
یعنی اپنی طرف سے وہ ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ انسان کو خُدا کا مشاہدہ ہوسکے تا اُس کا عرفان ناقص نہ رہے ۔ جس طرح کسی درخت کا پھل چکھنے کے بعد کوئی شخص درخت کی شناخت میں شبہ نہیں کرسکتا ۔ اسی طرح رُوحانی پھل کے ذائقہ کرنے کے بعد خدا کا وجود بھی روز روشن کی طرح ثابت ہوجاتا ہے۔
پس اگر بفرض محال سائنس کی کوئی ایسی تحقیق ثابت بھی ہو جو ہستی باری تعالیٰ کے خلاف نظر آئے تو پھر بھی ہم خدا کا انکار نہیں کرینگے بلکہ پھر ہم اس جدید تحقیق کے متعلق غور کریں گے کہ وہ کہاں تک درست اور قابلِ قبول ہے ۔ اور ہمارے نزدیک اس غور کا نتیجہ سوائے اس کے اَور کوئی نہیں ہوسکتا کہ یہ بات ثابت ہو کہ خدا کا وجودبرحق ہے اور سائنس کی یہ نام نہاد تحقیق جو اس کے خلاف نظر آتی ہے وہ یا تو درحقیقت اس کے خلاف نہیں ہے اور یا پھر کسی ناقص مشاہدہ پر مبنی ہو کر غلط طور پر ثابت شدہ حقیقت قرار دے لی گئی ہے۔
لیکن اس بات میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ اس وقت تک سائنس کی کوئی ثابت شدہ حقیقت ایسی نہیں ہے جو معقولی طور پر ہستی باری تعالیٰ کے خلاف پیش کی جاسکے۔ اور حق یہی ہے اور یہی رہے گا کہ یہ دُنیا مع اپنی بے شمار مختلف الصورت عجیب و غریب چیزوں کے اور مع اپنے اس نہایت درجہ حکیمانہ قانون کے جو اس کی ہر چیز میں کام کرتا ہوا نظر آتا ہے اور مع اپنے اس حیرت انگیز نظام کے جس نے اس کی بے شمار مختلف الخواص چیزوں کو ایک واحد لڑی میں پرو رکھا ہے اور جس کی وجہ سے دُنیا کی ہرچھوٹی سے چھوٹی چیز کی ضروریات کے مہیّا کرنے کے لئے لاکھوں یا کروڑوں میل کے فاصلہ پربے شمار قدرتی کارخانے دن رات کا م میں لگے ہوئے نظر آتے ہیں اس بات کا ایک زبردست ثبوت ہے کہ اس دنیا کے اوپر ایک حکیم و علیم وقدیر ومتصرف ہستی کام کر رہی ہے جس کے قبضۂ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں۔
فلسفہ ٔ جدید کیوں ٹھوکر کا موجب بن رہا ہے؟
بعض سائنسدانوں کے قیاسات نے دو وجہ سے لوگوں کو غلطی میں ڈالا ہے۔ پہلی وجہ تو مادہ کی ارتقاء کی خاصیّت کو بیان کرکے جس سے یہ اظہار کیا جانے لگا کہ گویا مادہ کے اندرونی خواص کے نتیجے میں ہی یہ سارا کارخانہ (ایک مشین کی طرح) چلتا چلا جارہا ہو۔ حالانکہ یہ فلسفہ ایک بالا خالق و مالک ہستی کے وجود کو چاہتا ہے جس نے اس نہایت حکیمانہ قانون کو مادہ میں ودیعت کر رکھا ہے۔ اور پھر دنیا میں صرف میکینزم (Mechanism) ہی نہیں ہے بلکہ ایک خاص ترتیب یعنی ڈیزائن اور ایک علّتِ غائی یعنی ٹیلی آلوجی (Teleology) بھی پائی جاتی ہے اور یہ سب باتیں ایک مستقل مدرک بالارادہ خالق ومالک ہستی کی طرف اشارہ کر رہی ہیں ۔
دوسری بات جس کی وجہ سے یورپ کا جدید فلسفہ بعض لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بن گیا ہے یہ ہے کہ مسئلۂ ارتقاء نے خلقِ عالم اور خصوصاً خلقِ انسان کو ایسے رنگ میں پیش کیا ہے جو اس زمانہ کے معروف الہامی مذاہب کی عرفی تعلیم کے خلاف نظر آتا ہے اور یہ طبعی امر ہے کہ جب کسی الہامی مذہب پر کوئی ایسا حملہ ہو جو اُس کی صحت کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کر دے اور انسان اُس کے جواب اور حل کی طاقت نہ رکھتا ہوتو طبعاً وہ خدا کی ہستی کے متعلق شکوک وشبہات میں مبتلا ہونے لگتا ہے اور بزعمِ خود یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جب وہ بات بھی جو خدا کی طرف منسوب کی جاتی تھی غلط نکلی تو پھر یہ سب کارخانہ مذہب کا باطل ہے اور خدا بھی ایک خیال موہوم کے سوا کچھ نہیں۔ بعینہٖ یہی صورت مسئلۂ ارتقاء کے متعلق اس زمانہ کے لوگوں کو پیش آئی ہے۔ مسیحی لوگ اپنے پادریوں سے اور مسلمان اپنے مولویوں سے اور ہندو اپنے پنڈتوں سے اور دوسرے لوگ اپنے دینی علماء سے یہ سُنتے تھے کہ پہلے سب دھوآں یا پانی تھا اور اس دھوئیں یا پانی سے خدا نے یہ گونا گوں چیزیں پیدا کیں اور یہ کہ خدا نے یہ زمین اور آسمان اور ان کے درمیان کی چیزیں چوبیس گھنٹے والے چھ دنوں میں پیدا کیں اور پھر اُس نے ایک مٹی کا بُت بنا کر اُس کے اندر پُھونک ماری تو حضرت آدمؑ پیدا ہوگئے اور اُن کی پسلی سے حضرت حوّا نکل آئیں اور پھر ان دونوں کی نسل آگے چلنی شروع ہوگئی اور یہ سلسلہ انسانی نسل کا سات ہزار سال سے جاری ہے اور پھر بعض کے نزدیک یہ کہ ابتداء ً خدا کے ماتحت مادہ نے انڈے کی صورت اختیار کی۔ اور یہ انڈا پھٹ کر دو حصّوں میں ہوگیا جس سے ایک طرف زمین بن گئی اور دوسری طرف آسمان بن گیا۔ اور یہ کہ مردو عورت خدا کے وجود سے نکل کر ظاہر ہوگئے ۔ یا یہ کہ خدا کو پسینہ آیا اور پسینے کے قطروں سے یہ سارا عالم پیدا ہوگیا وغیر ذالک۔ اس قسم کی باتیں لوگ اپنے پادریوں اور مولویوں اور پنڈتوں وغیرہ سے سُن رہے تھے کہ اچانک اُن کے کانوں میں یہ آواز پڑی کہ سائنس کی تحقیقات سے یہ سارے قصّے جھوٹے ثابت ہوگئے ہیں اور حق یہ ہے کہ یہ سارا عجائب خانۂ عالَم مادہ کے ارتقائی خواص سے ظہور میں آیا ہے اور لاکھوں اور کروڑوں سال کے عرصہ میں ہر ایک چیز ادنیٰ حالت سے ترقی کر کر کے اعلیٰ حالت کو پہنچی ہے اور انسان بھی اسی ارتقاء کا کرشمہ ہے وغیر ذالک۔ بس پھر کیا تھا لوگ مذہب کی طرف سے بدظن ہوگئے اور سائنس کی نئی روشنی نے ان کی آنکھوں کو خیرہ کرنا شروع کردیا اور وہ ایسے بدحواس ہوکر بھاگے کہ خدا کا عقیدہ بھی اپنے پیچھے چھوڑ گئے۔
مذہب کی اس شرمناک ہزیمت کی سب سے زیادہ ذمہ داری مغرب کے مسیحی پادریوں پر ہے کیونکہ جدید فلسفہ و سائنس کی آواز سب سے پہلے اُنہی کے کانوں میں پہنچی اور ہزاروں لاکھوں انسانوں نے پادریوں کی حالت کو دیکھ کر اور اپنے آپ کو بھی بے بس پاکر دہریت کا راستہ اختیار کر لیا۔ حالانکہ بات نہایت معمولی تھی کیونکہ اوّل تو بہت سے خیالات جو اس وقت مختلف مذاہب کے متبعین میں خلقِ عالم اور خلقِ آدم کے متعلق پائے جاتے ہیں وہ دراصل بعد کے علماء کے اپنے حواشی ہیں اور ان مذاہب کی اصل الہامی کتب یا دیگر مستند کتابوں میں ان کا کوئی پتہ نہیں چلتا اور ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ان کے غلط ثابت ہونے سے ہرگز کوئی اعتراض مذہب پر وارد نہیں ہوسکتا۔ دوسرے یہ کہ پیدائش عالم کے متعلق بعض خیالات ایسے بھی ہیں جو بعد کی دست بُرد سے یا بعض صورتوں میں غیرزبانوں میں تراجم کی غلطی کی وجہ سے مذہبی کتب کا حصہ بن گئے مگر درحقیقت اصل الہامی کتب میں وہ پائے نہیں جاتے تھے۔ اور ایسی صورت میں بھی مذہب کی تعلیم پر حقیقتاً کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ اور تیسرے یہ کہ ان خیالات میں سے بعض واقعی اصل الہامی کُتب میں پائے جاتے ہیں مگر ان کا مطلب سمجھنے میں اکثر لوگوں نے غلطی کھائی ہے اور اس غلط تشریح کی وجہ سے جدید محققین کو اعتراض کا موقعہ مل گیا ہے۔
مثلاً قرآن شریف میں یہ واقعی بیان ہوا ہے کہ خدا نے زمین وآسمان کو چھ ایّام میں پیدا کیا ہے۔ لیکن بعض لوگوں نے یہ غلطی کھائی ہے کہ ایام سے یہ چوبیس گھنٹے والے دن مراد لے لئے ہیں حالانکہ یومؔ کا لفظ عربی زبان میں جہاں دن کے معنوں میں آتا ہے وہاں اس کے معنے زمانے کے بھی ہوتے ہیں اور جاہلیت کے عرب شعراء میں کثرت کے ساتھ یوم کا لفظ اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے لیکن بعض لوگوں نے سادگی یا کم علمی سے اس کے معنے چھ دن کر دئیے ۔ اور پھر آگے سمجھنے والوں نے دن سے چوبیس گھنٹے مراد لے لئے۔ حالانکہ خود آیت ظاہر کر رہی ہے کہ یہاں معروف دن مراد نہیں ہے کیونکہ یہ معروف دن تو سورج کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور زمین کے چکر کے نتیجہ میں قائم ہوتا ہے۔ مگر جس زمانہ کا اس آیت میں ذکر ہے وہ سورج اور زمین کے وجود سے پہلے کا ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے زمین و آسمان اور سورج اور چاند اور ستاروں کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے۔ پس لامحالہ یہاں دن سے مراد وہ دن لیا جائے گا جو اِن شمسی دنوں سے پہلے موجود تھا اور وہ عام زمانہ اور وقت ہے۔اور یہ وہ دعویٰ ہے جس کے متعلق سائنس کی رُو سے کوئی اعتراض نہیں پڑتا بلکہ خود سائنسدان اس بات کو مانتے ہیں کہ یہ عالم آہستہ آہستہ مختلف درجوں اور دَوروں سے گزر کر موجودہ حالت کو پہنچا ہے۔
اِسی طرح مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ دُنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے اور یہ کہ آدم کو آنحضرت ﷺ سے پانچ ہزار سال پہلے پیدا کیا گیا تھا۔ اور اس کے معنے بعض لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھ لئے ہیں کہ گویا نسلِ انسانی کا آغاز صرف چند ہزار سال سے ہؤا ہے۔ حالانکہ اسلام کی طرف اس خیال کو منسوب کرنا سراسر جہالت اور نادانی ہے۔ اسلام کا تو یہ عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی کوئی صفت بھی کسی زمانہ میں مستقل طور پر معطّل نہیں ہوتی اور ہر زمانہ میں اس کی ہر صفت کسی نہ کسی رنگ میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔ پس چونکہ خلق کرنا بھی اس کی صفات میں سے ایک صفت ہے لہٰذا یہ عقیدہ سراسر اسلام کے خلاف ہوگا اگر یہ سمجھا جائے کہ گویا صرف پا نچ یا چھ یا سات ہزار سال سے ہی مخلوقات کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور اس سے پہلے کچھ نہیں تھا۔ اس سے ثابت ہؤا کہ حدیث مذکورہ بالاکے یہ معنے نہیں ہوسکتے کہ دُنیا کی عمر صرف چند ہزار سال کی ہے۔ بلکہ جیسا کہ خود اکابراِسلام نے لکھا ہے اور موجودہ زمانہ کے مامور ومصلح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مفصّل تشریح فرمائی ہے۔ (الحکم 30مئی 1908ء و چشمۂ معرفت صفحہ160)
اس حدیث کے معنے ہیں کہ دُنیا پر مختلف دَور آتے رہے ہیں اور موجودہ نسل کا دَور چند ہزار سال سے ہے اور نمعلوم ایسے کتنے دَور اس دنیا پر آئے ہیں۔ چنانچہ ایک مشہور عالم اور صوفی حضرت محی الدین ابن عربی ؒ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے عالمِ کشف میں دکھایا گیا کہ اس دُنیا میں لاکھوں آدم گزرے ہیں اور جب ایک آدم کی نسل کا دَور ختم ہوتا ہے تو دوسرے آدم کا دَور شروع ہوجاتا ہے اور اس بات کا علم خدا کے پاس ہے کہ دُنیا پر کتنے دَور آئے ہیں۔ (فتوحاتِ مکیّہ باب حدوث الدنیا جلد3)
اسی طرح قرآن شریف میں آتا ہے کہ ہم نے آدم کو مٹی سے بنا کر پھر اپنے حکم سے اُس کے اندر جان ڈالی۔ اور اس سے بعض لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ گویا
نسلِ انسانی کا آغاز اس طرح پر ہوا ہے کہ خُدا نے ایک مٹی کا بُت بنایا اور پھر اس میں پُھونک مار کر جان ڈال دی اور اس کے بعد نسلِ انسانی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ حالانکہ آیت قرآنی کا صرف اتنا مطلب ہے کہ آدم کی خلقت میں اجزائے ارضی کا خمیر ہے جس کی وجہ سے وہ مادیات کی طرف جلد مائل ہوجاتا ہے اور اسی لئے خدا نے اُس کی بناوٹ میں رُوحانی عنصر کا چھینٹا دے دیا ہے تا کہ اس کے مادی عناصر اُس کی رُوحانی ترقی میں روک نہ ہوجائیں۔ گویا ایک نہایت لطیف مضمون کو (جسے قرآن شریف نے حسب عادت استعارہ کے رنگ میں ادا کیا تھا) مادی معنوں میں لے کر اعتراض کا نشانہ بنا لیا گیا ہے۔ اگرچہ اس آیت کے ظاہری معنے لئے جاویں تو پھر بھی کوئی اعتراض نہیں پڑسکتا کیونکہ قرآن شریف پیدائشِ عالم کی تفصیلی ماہیّت بیان کرنے کے لئے نازل نہیں ہوا بلکہ اس کا کام دنیا کی اخلاقی اور رُوحانی اصلا ح ہے اور اس نے دوسرے مضامین کا صرف اس حد تک ذکر کیا ہے جس حد تک کہ اس کی اس غرض کے لئے ضروری تھا اور باقی باتوں کو چھوڑ دیا ہے۔ مثلاً قوانین طِبّ کا بیان کرنا قرآن شریف کا کام نہیں کیونکہ قرآن شریف طِبّ کی کتاب نہیں ہے لیکن چونکہ انسان کی صحتِ عامہ کا اس کے اخلاق اور دین پر اثر پڑتا ہے اس لئے کہیں کہیں ضروری سمجھ کر شریعت اسلامی نے ایسی اُصولی باتوں کی طرف بھی توجہ دلادی ہے جو حفظانِ صحت کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں ۔ لیکن صرف اُسی حد تک اپنے بیان کو محدود رکھا ہے جہاں تک کہ اُس کی اپنی غرض و غایت کے ماتحت ضروری تھا۔ اس اصول کے ماتحت اگر مذکورہ بالا قرآنی آیت کے معنے کئے جائیں تو کوئی اعتراض نہیں رہتا۔ قرآن صرف یہ کہتا ہے کہ خدا نے آدم کو آواز دینے والی تیار شدہ مٹی سے پیدا کیا اور پھر اُس کے اندر اپنے حکم سے جان ڈالی (الحجر:34)۔ جس کا یہ مطلب ہے کہ انسان ایک حیوانِ ناطق ہے جو دوسرے حیوانوں سے ممتاز طور پر صفتِ نطق کے ذریعہ ترقی کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور دوسرے یہ کہ اس کا جسم اور اُس کی روح دونوں خدا کی مخلوق ہیں جو ایک خاص طریق عمل کے مطابق عالمِ وجود میں آئے ہیں، لیکن اس بات کے متعلق قرآنِ شریف خاموش ہے کہ مٹی سے کونسی مٹی مراد ہے کیونکہ سارے کیمیاوی سالٹ مٹی ہی کا حصہ ہیں۔ اور پھر اس بات کے متعلق بھی خاموش ہے کہ خدا نے انسان کو مٹی سے کس طرح بنایا ،کتنے عرصہ میں بنایا ،کتنے درجوں اور کس قسم کے درجوں میں سے گزار کر موجودہ حالت کو پہنچایا وغیر ذالک ۔ اسی طرح خدا نے اس کے اندر جان ڈالی تو کہاں سے ڈالی ،کس طرح ڈالی ،کتنے درجوں اور کس قسم کے درجوں میں ڈالی اور اس کا نشو ونما کیسے کیا؟ ان سوالات کی تفصیل بیان کرنا قرآن شریف نے اپنی غرض وغایت سے لاتعلق سمجھا اس لئے خاموشی اختیار کی۔ پس کوئی سائنسدان قرآن شریف کے بیان پر اعتراض نہیں کر سکتا کیونکہ اس میں خلقِ انسان کی ایک ایسی اجمالی اور صحیح کیفیت بیان کی گئی ہے جو سائنس کی کسی ثابت شدہ حقیقت کے خلاف نہیں بلکہ خود سائنس کے لئے ایک اصولی شمع ہدایت کا کام دیتی ہے۔ اور اگر کوئی شخص قرآن شریف کے اس بیان پر اپنی طرف سے حاشیے چڑھا کر اُسے سائنس کے کسی مسئلہ کے مقابل پر لاتا ہے تو اُس کا ذمہ وار وہ خود ہے اسلام پر اس کی وجہ سے کوئی حرف گیری نہیں کی جاسکتی۔
اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ حضرت حوّا کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ مگر بعض لوگوں نے اس کے یہ معنے سمجھ لئے کہ آدم کے جسم کو پھاڑ کر اس کی پسلی کی ہڈی سے حوّا کا وجود پیدا کیا گیا ۔ حالانکہ جیسا کہ الہامی کتب کا عام طریق ہے یہ الفاظ استعارے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں اور اس حدیث کے معنے یہ ہیں کہ عورت مرد کے پہلو بہ پہلو رہنے کے لئے پیدا کی گئی ہے اور وہ مرد کی زندگی کا لازمی حصّہ اور اس کی رفیقِ حیات ہے۔ لیکن مرد کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ جس طرح پسلی کی ہڈی ٹیڑھی ہوتی ہے عورت میں بعض مصالح کے ماتحت بعض فطری کمزوریاں رکھی گئی ہیں اور مرد کو اس کے ساتھ معاملہ کرنے میں اُس کی فطری کمزوریوں کا خیال رکھتے ہوئے ملاطفت اور عفو کا طریق اختیار کرنا چاہئے۔ چنانچہ دوسری جگہ حدیث میں آنحضرتﷺ نے عورت کے متعلق یہی الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ عورت ایک ٹیڑھی پسلی کی طرح ہے اور یہی ٹیڑھا پن جنسِ نسوانی کا حسن ہے۔ پس مردوں کو چاہئے کہ عورت کی اس فطری کجی کا خیال رکھیں اور اس کو اس قدر سیدھا کرنے کی کوشش نہ کریں کہ وہ ٹوٹ ہی جائے اور اپنے جنسی حسن کو کھو بیٹھے۔
الغرض قرآن شریف یا صحیح احادیث میں جو پیدائشِ عالم یا پیدائشِ آدم کے متعلق الفاظ استعمال کئے گئے ان پر غور کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ ان کے متعلق ہرگز کسی قسم کا اعتراض نہیں ہوسکتا۔ اور جن لوگوں نے اعتراض کیا ہے یا ان کو قابل اعتراض سمجھا ہے وہ ان لوگوں کی اپنی ناواقفیت یا کم علمی ہے۔اسی طرح دوسری الہامی کتب کی جو تعلیمات قابل اعتراض سمجھی گئی ہیں اُن میں سے بھی اکثر کے متعلق غلط فہمی پیدا ہوئی ہے اور ان کے صحیح معنوں کو سمجھا نہیں گیا اور اگر کسی جگہ کوئی اعتراض پیدا بھی ہوتا ہے تو وہ یقینا بعد کی دست بُرد کا نتیجہ ہے جس سے بدقسمتی سے سوائے قرآن شریف کے کوئی الہامی کتاب نہیں بچی۔ ہاں چونکہ خدا کے فضل سے قرآن مجید ہر طرح محفوظ ہے اور سخت سے سخت مخالف بھی اس کے متعلق شہادت دیتے ہیں کہ وہ تحریف سے بالکل پاک رہا ہے اسلئے ہم قرآن شریف کے متعلق یہ بات دعویٰ کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی کوئی بات ایسی نہیں کہ جس پر کوئی معقول اعتراض ہوسکتا ہو۔ اور سائنس کی کوئی صداقت قرآن شریف کی کسی تعلیم کے خلاف نہیں اور ایسا ہونا بھی ناممکن ہے کیونکہ قرآن شریف خدا کا قول ہے اور نیچر جس کی مفسّر سائنس ہے خدا کا فعل ہے اور خدکا قول اور فعل آپس میں ٹکرا نہیں سکتے۔
ڈارون کا نظریۂ ارتقاء ابھی تک صرف ایک قیاس یعنی تھیوری کی حد تک ہے اور سائنس کے ثابت شدہ حقائق میں داخل نہیں بلکہ بہت سے سائنسدانوں نے اسے سختی کے ساتھ ردّ کیا ہے۔ چنانچہ مشہور سائنسدان سرجان امبروزفلیمنگ کی وفات پر جو تار اخباروں میں چھپی تھی اس میں لکھا تھا کہ: ’’گو سرجان ایک نہایت نامور سائنسدان تھا مگر وہ معجزات کا منکر نہیں تھا… اور ڈارون کی ارتقائی تھیوری کو ایک محض دماغی تخیّل خیال کرتا تھا۔‘‘ (سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور۔ مؤرخہ 22؍اپریل 1945ء)
پس اس مسئلہ کی بِنا پر خدا کی ذات کے متعلق اعتراض کرنا ہرگز دانائی کا رستہ نہیں سمجھا جاسکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین مئی جون 2016ء)

انصار کو خداتعالیٰ کی ہستی کے عقلی دلائل سے لیس کرنے کے لئے ایک نہایت عمدہ کتاب ’’ہمارا خدا‘‘ (جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کی تصنیف ہے) کے منتخب مضامین سے تلخیص کا سلسلہ گزشتہ دو شماروں سے شامل اشاعت کیا جارہا ہے۔
ذیل میں اس کتاب کے صفحات 96 تا 129 کی تلخیص ہدیۂ قارئین ہے:
(انتخاب و تلخیص: محمود احمد ملک)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ تحریر فرماتے ہیں:
خدا غیر مخلوق ہے
بعض دلوں میں یہ شُبہ پیدا ہؤا کرتا ہے کہ اگر اس دُنیا کو خُدا نے پیدا کیا ہے تو خدا کو کس نے پیدا کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ جو ہستی اس دُنیا کی خالق و مالک ہے اُسے کسی اَور بالاہستی نے پیدا کیا ہے تو پھر بھی کوئی حرج لازم نہیں آتا کیونکہ اس صورت میں ہم اُس بالاہستی ہی کا نام خدا رکھیں گے اور ماتحت ہستی کو مخلوقات میں سے ایک مخلوق قرار دینگے۔ اور اگر کوئی یہ سوال کرے کہ پھر اس بالا ہستی کا خالق و مالک کون ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ اگر یہ بالاہستی بھی کسی بالادر بالا ہستی کی مخلوق ہے تو پھر یہ بالا در بالاہستی ہی خدا کہلائے گی اور اس کے نیچے کی تمام ہستیاں مخلوقات کا حصّہ سمجھی جائیں گی۔ الغرض جس ہستی پر بھی اس سلسلہ کو ختم قرار دیا جائے اُسی کا نام ہم خُدا رکھتے ہیں اور اس کے سوا باقی سب کو مخلوقات کا حصّہ قرار دیتے ہیں۔
یہ بات عقلاً ناممکن ہے کہ اس سلسلہ کی کوئی ابتدائی ہستی نہ ہو کیونکہ اگر کوئی ابتدائی ہستی (خالق) تسلیم نہ کی جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نیچے کی تمام ہستیوں (مخلوقات) کے وجود سے بھی انکار کرنا پڑتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ دُنیا و مافیہا صرف وہم ہی وہم ہے ورنہ دراصل نہ کوئی زمین ہے اور نہ کوئی آسمان ہے اور نہ کوئی اَور مخلوق۔ لہٰذا ہم مجبور ہیں کہ اس سلسلہ کی کوئی ابتدائی کڑی قرار دیں جس کے یہ معنے ہیں کہ ہم کسی ایسی ہستی پر ایمان لائیں جس کے اوپر کوئی اَور ہستی نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ ایسی ہستی وہی ہوسکتی ہے جو غیر مخلوق ہو اور اسی کا نام ہم خدا رکھتے ہیں۔ اور اس کے ماتحت جتنی بھی ہستیاں ہیں خواہ وہ ایک دوسرے سے اپنے طبعی قویٰ اور فطری طاقتوں میں کیسی ہی اعلیٰ اور اشرف ہوں سب کی سب بلا استثناء مخلوقات کا حصہ اور خدائے واحد کے قبضۂ تصرف کے نیچے ہیں۔
دراصل خالق اور مخلوق کے مفہوم ایک ہستی میں اکٹھے ہی نہیں ہوسکتے۔ یہ بات عقلاً ناممکن ہے کیونکہ جہاں خدائیت کا مفہوم اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ صرف اس ہستی کا نام خدا رکھا جائے جو سب سے بالا ہے وہاں مخلوقیت کا مفہوم اس بات کا متقاضی ہے کہ مخلوق کے اوپر کوئی اَور ہستی بھی ہو۔
پھر یہ بھی کہ اگر ہم خدا کو مخلوق فرض کرلیں تو ظاہر ہے کہ ہر ایک چیز اپنے اندر بعض مخصوص صفات رکھتی ہے اور انہی خواص کی وجہ سے وہ دوسری چیزوں سے ممتاز نظر آتی ہے۔ مثلاً پانی اپنے اندر ایسے خواص رکھتا ہے جو ہوا اور پتھر میں نہیں پائے جاتے۔ اگر پانی کے ان خواص کو پانی سے الگ کر لیا جائے تو پھر پانی پانی نہیں رہ سکتا۔ پس خواص کسی چیز کی ہستی کو قائم رکھنے والے اور دوسری چیزوں سے اس کے امتیاز کا موجب ہوتے ہیں۔ اب جب ہم ایک ہستی کے متعلق خدا کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو ہماری عقل اس کے لئے بعض ایسی صفات تجویز کرتی ہے کہ جن کی وجہ سے یہ ہستی خدا کا نام پانے کی حقدار ہوتی اور دوسری چیزوں سے الگ اور ممتاز نظر آتی ہے۔ مثلاً خدا ہمیشہ سے موجود ہونا چاہئے۔ وہ غیر فانی ہونا چاہئے یعنی وہ ہمیشہ رہنا چاہئے۔ وہ قائم بالذات ہونا چاہئے یعنی وہ بغیر کسی دوسری ہستی کے سہارے کے خود اپنی ذات میں قائم ہونا چاہئے۔ وہ قادر مطلق ہونا چاہئے یعنی اس کے کاموں میں کسی کو دخل انداز ہونے کی طاقت نہ ہونی چاہئے۔ وہ احد ہونا چاہئے یعنی وہ واحد ویکتا ہونا چاہئے اور اس کے مقابل میں کوئی ایسی ہستی موجود نہ ہونی چاہئے جو اس کی ہمسری کا دعوی کر سکے۔ وہ اپنی تمام صفات میں مستقل اور آزاد ہونا چاہئے یعنی اُس کی تمام صفات اس کے اندر بالا ستقلال پائی جانی چاہئیں نہ کہ اس کی صفات کا قیام کسی دوسری ہستی کی مرضی پر موقوف ہو۔
اگر خدا کو مخلوق مانیں تو اس کی مذکورہ بالا تمام صفات سے انکار کرنا پڑتا ہے۔ پس خواہ کسی جہت سے بھی دیکھا جائے خدائیت اور مخلوقیت کا مفہوم اس طرح ایک دوسرے کے مقابل اور ضد میں واقع ہوا ہے کہ کسی طرح بھی ایک وجود میں جمع نہیں ہوسکتا۔ پس ضروری ہے کہ جس ہستی کو ہم خدا قرار دیں اُسے غیر مخلوق سمجھیں اور جسے مخلوق سمجھیں اس کا نام خدا نہ رکھیں۔
کیوں نہ اس دُنیا کو ہی غیر مخلوق سمجھ لیا جائے؟
ایک اور شُبہ دہریوں کی طرف سے عموماً پیش کیا جاتا ہے کہ کیوں نہ اس دُنیا کو ہی قائم بالذّات اور غیر مخلوق قرار دے لیا جائے تا کہ خالق اور مخلوق کی ساری بحث کا یہیں خاتمہ ہوجائے۔ لیکن یہ شبہ سراسر قلّتِ تدبرّ پر مبنی ہے اور محض عامیانہ تخیّل کا نتیجہ ہے۔ اور اس کی بنیاد اس خیال پر ہے کہ چونکہ خدا کو غیرمخلوق مانا جاتا ہے اس لئے ثابت ہؤا کہ کسی بھی چیز کا خود بخود اپنے آپ سے ہونا ممکن ہے۔
دراصل ہم نے دُنیا کو اس بِنا پر مخلوق نہیں مانا کہ چونکہ ہر چیز کا مخلوق ہونا ضروری ہے اس لئے دُنیا بھی مخلوق ہونی چاہئے بلکہ دُنیا کے حالات اسے مخلوق ثابت کر رہے ہیں۔ اگر ہم یہ اصول قائم کرتے کہ بلا استثناء ہر ایک چیز کا مخلوق ہونا ضروری ہے خواہ اس کے حالات کیسے ہی ہوں تو پھر بیشک یہ اعتراض ہوسکتا تھا کہ یا تو خدا کو بھی مخلوق مانا جائے اور یا پھر دُنیا کے غیر مخلوق ہونے کے امکان کو تسلیم کیا جائے۔ پس یہ اعتراض غلط ہے کہ چونکہ خدا کو غیر مخلوق ماننا پڑتا ہے اس لئے کوئی حرج نہیں کہ دُنیا کو ہی غیر مخلوق سمجھ لیا جائے۔ کیونکہ دونوں کی صفات اُنہیں الگ الگ جگہ دکھارہی ہیں۔ مخلوق کی صفات دنیا میں وہی رہتی ہیں جو کہ ہمیں معلوم ہیں۔ لیکن اگر خُدا کو مخلوق قرار دیں تو اس کی تمام وہ صفات باطل چلی جاتی ہیں جو اس کی خدائیت کے لئے بطور ستون کے ہیں اور خدا خدا نہیں رہتا۔
مزید یہ کہ دنیا میں کثرت ہے۔ یعنی دنیا بے شمار چیزوں کے مجموعہ کا نام ہے جن کے حصر پر انسان آج تک قادر نہیں ہو سکا اور نہ کبھی ہو سکے گا۔ یہ بات تقاضا کررہی ہے کہ دنیا کا کوئی خالق ومالک ہونا چاہئے جو ان کثیر التعداد افواج کو ایک واحد نظام کے ماتحت جمع رکھ سکے۔ لیکن اس کے مقابلہ میں خدا کا وجود مذہباً بھی اور عقلاً بھی واحد بلکہ احد مانا جاتا ہے جس کے اوپر کسی منظم ہستی کی ضرورت نہیں۔
نیز دنیا میں اختلاف ہے یعنی دنیا کسی ایک قسم کی چیزوں کے مجموعہ کا نام نہیں بلکہ بیشمار مختلف الصورت اور مختلف الجنس چیزوں پر مشتمل ہے جن میں سے ہر ایک الگ الگ خواص رکھتی اور الگ الگ قانون کے ماتحت ہیں۔ پس یہ اختلاف بھی ایک خالق ومالک، قدیر ومتصرف ہستی کی ضرورت کو ثابت کر رہا ہے جو اِن لاتعداد مختلف چیزوں کو ایک مجموعی قانون کی لڑی میں پرو سکے۔ مگر خُدا کی ذات کے متعلق بوجہ ایک ہونے کے اختلاف کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔
پھر دنیا کی ہر چیز کو زوال اور تغیّر لاحق ہے۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ دنیا خودبخود نہیں بلکہ کسی بالا ہستی کے قبضہ وتصرف کے ماتحت ہے، لیکن خدا کا وجود غیرمتغیّر اور زمانہ کے اثر سے بالا ہے اور بالا ہونا چاہئے۔
اسی طرح دُنیا کی ہر چیز اپنی طاقتوں اور اپنے طبعی قویٰ اور اپنے دائرۂ عمل میں محدود اور مقیّد ہے۔ اور کسی چیز کی کوئی ایک صفت بھی ایسے درجۂ کمال تک پہنچی ہوئی ہو کہ حدود وقیود سے آزاد ہوجائے۔ پس خواص و صفات کی یہ حد بندی بھی کسی ایسی حد مقرر کرنے والی ہستی پر دال ہے جو خود ہر قید و بند سے آزاد ہے۔
پھر دُنیا کی کوئی چیز قائم بالذّات نہیں بلکہ اپنے قیام کے واسطے دوسروں کے سہارے کی محتاج ہے ۔ یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دُنیا خود بخود اپنے آپ سے نہیں بلکہ کسی بالا ہستی کے سہارے پر قائم ہے جس نے ایک حکیمانہ نظام میں ہراک چیز کو اپنی اپنی جگہ میں قائم کر رکھا ہے۔
نیز دُنیا میں ایک خاص ڈیزائن یعنی ترتیب پائی جاتی ہے جو ایک مُدرک بالارادہ مرتّب ہستی کو چاہتی ہے۔
اسی طرح دنیا کی ہر چیز ایک خاص غرض ومقصد کے ماتحت چلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اور یہ اس بات کو چاہتی ہے کہ اس عالم کے پیچھے ایک اَور ہستی ہو جو خود پسِ پردہ رہ کر نظامِ عالَم کی غیر مرئی تاروں کو ہر وقت اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے اور ایک معیّن پروگرام کے ماتحت اس دُنیا کو ایک خاص مقصد و منتہیٰ کی طرف لے جارہی ہے ۔ لیکن خُدا کے وجود کے متعلق قطعاً کوئی علّتِ غائی کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ وہ اپنی ذات میں واحد و اَحَد۔ اوّل وآخر۔ قائم وصمد اور جامع و جمیع کمالات مانا جاتا ہے۔
الغرض دُنیا کے حالات مجبور کر رہے ہیں کہ ہم اسے مخلوق ومملوک قرار دیں مگر اس کے مقابل میں خدا کی صفات اس کے مخلوق ہونے کے متقاضی نہیں۔ بلکہ خدائیت اور مخلوقیت کا مفہوم اس طرح ایک دوسرے کی ضد میں واقع ہوا ہے کہ کبھی بھی ایک وجود میں جمع نہیں ہوسکتا۔
آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے کہ تم ہر چیز کے متعلق یہ پوچھ سکتے ہو کہ اُسے کس نے پیدا کیا ہے لیکن جب خدا پر پہنچو تو پھر اس سوال کو بند کر دو۔ کوئی نادان خیال کرتا ہوگا کہ آپؐ نے اپنے متبعین کیلئے آزادانہ تحقیق کا راستہ بند کرنا چاہا ہے اور گویا شکوک سے بچانے کیلئے ان کو اس علمی سوال میں پڑنے سے ہی روک دیا ہے۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ کا یہ منشاء ہے کہ ہر چیز کے متعلق مخلوق ہونے کا سوال پیدا ہو سکتا ہے مگر خُدا کے متعلق یہ سوال پیدا نہیں ہوسکتا۔ اور اگر کوئی شخص یہ سوال اُٹھاتا ہے تو یہ اس کی اپنی جہالت کا ثبوت ہے۔ پس آنحضرت ﷺ نے علم کا دروازہ بند نہیں کیا بلکہ جہالت کا دروازہ بند کیا ہے۔ تحقیق کے رستہ میں روک نہیں ڈالی بلکہ تو ہم پرستی میں پڑنے سے منع فرمایا ہے۔ اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ۔
حضرت مسیح موعودؑاپنی ایک طویل نظم میں فرماتے ہیں:

کِس قدر ظاہر ہے نُور اس مبداء الانوار کا
بن رہا ہے سارا عالَم آئینہ ابصار کا
ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف
جس طرف دیکھیں وہی راہ ہے ترے دیدار کا
چشمِ مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تُجھے
ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا

نیکی بدی کے شعور کی دلیل
ہستی ٔ باری تعالیٰ کے متعلق ایک عقلی دلیل وہ اخلاقی قانون ہے جو ہر انسان کی فطرت میں مرکوز ہے یعنی نیکی بدی کا شعور انسان کی فطرت کے اندر مرکوز ہے۔ بیشک یہ ممکن ہے کہ کسی انسان کی فطرت بیرونی اثرات کے نتیجہ میں کمزور ہوجائے لیکن پھر بھی وہ کسی نہ کسی رنگ میں اور کسی نہ کسی موقع پر ظاہر ہوئے بغیر نہیں رہتی۔
ہر انسان خواہ اس کی اپنی حالت کیسی ہی بری ہو فطرۃً نیکی کو پسند کرتا اور بدی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات جب ایک چور بڑھاپے میں قدم رکھتا ہے تو وہ چوری کی زندگی کو ترک کر کے اپنے ضمیر سے صلح کرنے کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ اور اگر بظاہر کسی کے اندر نیکی بدی کا شعور بالکل ہی مفقود نظر آئے تو پھر بھی نظرِ غائر سے دیکھنے والوں پر یہ بات مخفی نہیں رہے گی کیونکہ ایسا شخص گو دوسروں کے ساتھ معاملہ کرنے میں بالکل مُردہ فطرت نظر آتا ہے لیکن جب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اُس کے ساتھ دوسرے لوگ کس طرح معاملہ کریں تو اُس کی دبی ہوئی فطرت تمام پَردوں کو پھاڑ کر باہر نکل آتی ہے اور وہ اس بات کے لئے ہر گز تیار نہیں ہوتا کہ اپنا چھوٹے سے چھوٹا حق بھی (جو وہ نیکی بدی کے شعور کے ماتحت سمجھتا ہے کہ اُسے حاصل ہے) ترک کر دے۔
الغرض نیکی بدی کا شعور اس بات کی ایک زبردست دلیل ہے کہ انسان خودبخود کسی اتفاق کا ثمرہ نہیں اور نہ کسی اندھے قانون کا نتیجہ ہے بلکہ ایک علیم و حکیم ہستی نے اسے ایک خاص غرض کے ماتحت پیدا کیا ہے اور وہ غرض یہی ہے کہ انسان اپنے اِس فطری شعور کو جو بطور ایک تخم کے اس کے اندر رکھا گیا ہے نشو ونما دے کر اپنے لئے اعلیٰ ترقیات کے دروازے کھولے۔
انسان کا فطرۃً نیکی کو پسند کرنا اور حالات کے مناسب رحم کھانا اور محبت دکھانا یا عفو سے کام لینا یا مصیبت زدہ کی امداد کرنا یا قربانی اور ایثار دکھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کی زندگی خود بخود مشین کے طور پر کام نہیں کر رہی بلکہ کسی بالا ہستی نے یہ جذبات ایک خاص غرض وغایت کے ماتحت اس کی فطرت میں مرکوز کئے ہیں؟
اگر یہ کہا جائے کہ نیکی اور بدی کے جذبات انسانی روایات اور حالات کی وجہ سے جنم لیتے ہیں تو دیکھنا چاہئے کہ دنیا کے ہر خطّے میں روایات اور شعور مختلف ہونے کے باوجود نیکی اور بدی کی تقسیم تقریباً ایک ہی طرح سے کیوں کی جاتی ہے۔ بلکہ یہ شعور بعض صورتوں میں قومی روایات کے خلاف بھی ظاہر ہوجاتا ہے۔ اسی لئے قرآن شریف فرماتا ہے: ’’خدا نے ہر انسان کی فطرت میں بدی اور نیکی کا شعور رکھ دیا ہؤا ہے اور اُسے اس کی فطرت کے ذریعے بتادیا ہے کہ یہ راستہ بُرا ہے اور یہ راستہ اچھاہے۔‘‘ (الشمس:9)۔ دوسری جگہ فرمایا: ’’ہم نے انسان کو نیکی اور بدی ہر دو کے رستے (اس کی فطرت کے ذریعہ) دکھا دئیے ہوئے ہیں۔‘‘۔(البلد:11)
قبولیّتِ عامہ کی ایک دلیل
قرآن شریف فرماتا ہے: ’’جو چیز لوگوں کے واسطے حقیقی طور پر مفید اور نفع بخش ہوتی ہے وہی دُنیا میں مستقل طور پر قائم رہتی ہے اور فضول اور بے نفع چیز کو یہ ثبات کبھی حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ (الرّعد:18)
سائنس کا ایک اصل ہے: Survival of the fittest ۔
ہمارا مشاہدہ بھی ہمیں یہی بتاتا ہے کہ دُنیا میں حقیقی اور دائمی ثبات صرف نفع بخش چیز کو حاصل ہوتا ہے اور ایک ضرر رساں باطل یا غیر مفید چیز کبھی بھی مستقل اور عالمگیر فروغ حاصل نہیں کر سکتی بلکہ ایسی چیز کا قیام عارضی اور محدود ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایمان باللہ کے عقیدہ سے کسی عقلمند انسان کو انکار نہیں ہوسکتا۔ دنیا کی ہر قوم میں، خواہ وہ متمدّن ہیں یا غیر متمدّن، خواہ افریقہ میں ہیں یا آسٹریلیا میں، امریکہ کے ریڈانڈین ہیں یا اسکیمو، سب میں ایک جماعت اِس بات میں متفق ہیں کہ دُنیا و مافیہا خود بخود نہیں ہے بلکہ اس کا کوئی خالق و مالک ہے۔ اگرچہ اس بالاہستی کی صفات میں کافی اختلاف ہے۔ لیکن تمام اقوام کے دین کا مرکزی نقطہ یہی ہے کہ یہ دنیا ومافیہا خود بخود نہیں بلکہ کسی بالاہستی کی قدرت نمائی کا کرشمہ ہے۔
کسی عقیدہ کو اس قدر مقبولیت حاصل ہوجانا کہ وہ تمام دُنیا کا عقیدہ بن جائے اور تمام قومیں اس کو اپنے دین و مذہب کا مرکزی نقطہ قرار دیں اور کوئی ایک مثال بھی ایسی نظر نہ آئے کہ کوئی قوم بحیثیت قوم ہونے کے اس عقیدہ سے قطعی طور پر منکر ہوئی ہو۔ دوسری طرف دہریت کا وجود کبھی بھی کسی قوم میں قومی عقیدہ کے طور پر بالاستقلال قائم نہیں ہوا اور نہ کبھی دہریت کا سلسلہ دُنیا میں ایک مستقل اور مستحکم سلسلہ کے طور پر جاری ہؤا ہے اور اس سے زیادہ وقعت اس عقیدہ کو کبھی حاصل نہیں ہوئی کہ چند آدمیوں کے دل و دماغ پر اس کی عارضی حکومت قائم ہوئی اور بس۔
کیا خُدا کا عقیدہ تو ہم پرستی کا نتیجہ ہے؟
اگرچہ کئی مغربی مصنفین نے لکھا ہے کہ دُنیا میں بعض قومیں ایسی بھی گزری ہیں جو بحیثیت قوم خدا کے عقیدہ سے بے بہرہ رہی ہیں۔ لیکن دراصل یہ ان مصنفین کو دھوکا لگا ہے اور انہوں نے پوری تحقیق سے کام نہیں لیا۔ اور انہوں نے بعض قدیم مشرک قوموں کے مشرکانہ عقائد کو محض خوف اور جہالت اور توہم پرستی کی طرف منسوب کر دیا ہے اور غلط طور پر یہ سمجھ لیا ہے کہ خدائے واحد کا عقیدہ کبھی بھی ان کے اندر پایا نہیں گیا۔ حالانکہ حق یہ ہے کہ شرک کا عقیدہ گو وہ جہالت کا نتیجہ ہی ہوتا ہے مگر مشرکانہ عقائد ہمیشہ ایمان باللہ کی بگڑی ہوئی حالت کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں اور ایسا نہیں ہوتا کہ خدا کا عقیدہ بالکل مفقود ہونے کی صورت میں بھی شرک کے عقائد پیدا ہوجائیں۔ چنانچہ تاریخِ عالم میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ایک قوم پہلے خدا کے عقیدے پر قائم نظر آتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ اس میں مشرکانہ خیالات کا دخل شروع ہوجاتا ہے اور بعض اوقات ان مشرکانہ عقائد کا ایسا غلبہ ہوجاتا ہے کہ خدا کا عقیدہ پسِ پشت ڈالا جاکر آہستہ آہستہ بالکل نظروں سے اوجھل اور بالآخر مفقود ہوجاتا ہے۔ پس جب ایسی مثالیں موجود ہیں تو انصاف کا یہ تقاضا ہے کہ اوائل زمانہ کی جن اقوام میں ہمیں سوائے مشرکانہ عقائد کے اَور کچھ نظر نہیں آتا اور ان کی ابتدائی تاریخ بھی ہمارے پاس محفوظ نہیں ہے تو ان کے متعلق ہم یہی قیاس کریں کہ ابتداء ً وہ خدا کے عقیدہ پر قائم ہوں گی لیکن آہستہ آہستہ خُدا کا عقیدہ بالکل مفقود ہوگیا اور اس کی جگہ خالصتاً مشرکانہ خیالات قائم ہوگئے۔
پس مشرکانہ عقائد کبھی بھی محض جہالت اور خوف اور توہم پرستی کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہوسکتے بلکہ اس کیلئے خدا کا عقیدہ پہلے موجود ہونا ضروری ہے۔ بے شک یہ ایک فطری تقاضا ہے کہ جب ایک شخص کسی ایسی چیز کو دیکھتا ہے جو اُس سے زیادہ طاقتور یا زیادہ مہیب یا زیادہ شاندار یا زیادہ نفع رساں ہوتی ہے تو وہ اُس کے سامنے مرعوب ہوجاتا ہے اور اس کو ایک بڑی چیز سمجھنے لگ جاتا ہے لیکن اگر ایسا شخص عبودیت کے تصّور سے ناآشنا ہے تو یہ بات قطعاً ناممکن ہے کہ وہ محض رُعب یا خوف کی وجہ سے کسی چیز کو اپنا معبود بنا لے اور اپنا خالق ومالک سمجھنے لگ جائے۔ معبودیت کا خیال بہر حال اس بات کا متقاضی ہے کہ خیال کرنے والے شخص کے دماغ میں اس سے پہلے کوئی تصّورِ معبودیت موجود ہو۔ پس جب ہر قوم کے عقائد میں کسی نہ کسی صورت میں عابد ومعبود کا مفہوم پایا جاتا ہے تو لامحالہ اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہر قوم اپنے اصل کے لحاظ سے خدا کے عقیدہ کو قبول کرتی ہے۔
یقین کے تین درجے
ہستیٔ باری تعالیٰ کے متعلق ایک اور دلیل خدا کے متعلق ’’ہونا چاہئے‘‘ والے مرتبہ سے تعلق رکھتی ہے۔ دراصل خدا کے متعلق ’’ہونا چاہئے‘‘ کا مرتبہ بھی ایک یقین کا مرتبہ ہے جس طرح کہ ’’ہے‘‘ کا مرتبہ ایک یقین کا مرتبہ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ’’ہونا چاہئے‘‘ کے مرتبہ میں وہ یقین کامل، اطمینان اور تسکین کی صورت حاصل نہیں ہوسکتی جو ’’ہے‘‘ کے مرتبہ میں حاصل ہوتی ہے۔
دراصل یقین کے مختلف مراتب ہیں۔ قرآن شریف کی اصطلاح میں ’’علم الیقین‘‘ وہ ہے جس میں براہِ راست مشاہدہ کا دخل نہ ہو جیسے کہیں دھواں دیکھ کر اندازہ لگالیا جائے کہ وہاں آگ لگی ہوئی ہے۔ مگر جب ہم آگ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے یا اُس کی مخصوص صفت سوزش کا عملاً تجربہ کر لیتے ہیں تو پھر یہ ’’ہونا چاہئے‘‘ والا یقین ’’ہے‘‘ والے پختہ اور قطعی یقین میں بدل جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ’’ہونا چاہئے‘‘ اور ’’ہے‘‘ کے مرتبوں میں جو فرق ہے اس کو اس طرح ظاہر کرسکتے ہیں کہ ’’ہونا چاہئے‘‘ والے مرتبہ میں تو ہم خدا کی ذات پر دلائل کی مدد سے ایمان لاتے ہیں اور ’’ہے‘‘ والے مرتبہ میں دلائل کا واسطہ نہیں رہتا بلکہ گویا مشاہدہ کا رنگ پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ ’’حق الیقین ‘‘ کہلاتا ہے۔ مذکورہ دونوں درجوں کے درمیان ایک مرتبہ ’’عین الیقین‘‘ کا ہے یعنی ایسا یقین حاصل ہوجاتا ہے جو براہِ راست رؤیت سے پیدا ہوتا ہے اور اس میں استدلال کا دخل نہیں ہوتا۔
(باقی آئندہ انشاء اللّٰہ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین جولائی اگست 2016ء)

انصار کو خداتعالیٰ کی ہستی کے عقلی دلائل سے لیس کرنے کے لئے ایک نہایت عمدہ کتاب ’’ہمارا خدا‘‘ (جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کی تصنیف ہے) کے منتخب مضامین سے تلخیص کا سلسلہ گزشتہ چند شماروں سے شامل اشاعت کیا جارہا ہے۔
ذیل میں اس کتاب کے صفحات 129 تا 161 کی تلخیص ہدیۂ قارئین ہے:
(انتخاب و تلخیص: محمود احمد ملک)
……………………………………
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ تحریر فرماتے ہیں:
غلبۂ رُسل کی دلیل
جب کبھی بھی خدا پر ایمان لانے والوں اور خدا کا انکار کرنے والوں کا (خواہ وہ انکار عقیدہ کا ہو یاعملی ہو) مقابلہ ہوا ہے تو غلبہ ہمیشہ ایمان لانے والوں کا ہوا ہے خواہ وہ بظاہر کمزور اور بے سروسامان ہی نظر آئیں۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ ایمان لانے والوں کی نصرت میں کوئی غیبی ہاتھ کام کرتا ہے۔
پس جب بھی کوئی راستباز شخص اس دعویٰ کے ساتھ دنیا میں کھڑا ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے میری زندگی کا مشن ایمان کو دُنیا میں قائم کرنا ہے۔ تو پھر وہ ضرور اپنے مشن میں کامیاب ہو کر رہتا ہے جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے: اللہ تعالیٰ نے یہ مقدّر کر رکھا ہے کہ وہ اور اُس کے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے۔ (المجادلۃ:22)
دوسری طرف دنیا کی تاریخ میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ مومنوں کے مقابلہ میں دہریہ (خدا کے منکر یا صرف رسمی طور پر ایمان لانے والے) کو فتح نصیب ہوئی ہو۔ چنانچہ حضرت کرشن اور رام چندر جی کے کارناموں کو دیکھ لو۔ اُن کے مخالف آریہ ورت آج اُن کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔
ابوالانبیاء حضرت ابراہیمؑ کے حالاتِ زندگی پر نظر ڈالو۔ وہ آگ میں ڈالے جانے پر بھی ثابت قدم رہے کیونکہ خدا کا وعدہ تھا کہ جس طرح آسمان کے ستاروں کا شمار ناممکن ہے اسی طرح ابراہیم ؑکی آل واولاد بھی آسمانِ ہدایت کے ستارے بن کر چمکے گی اور گِنی نہیں جائے گی۔ اور آج دنیا میں جتنے حضرت ابراہیم ؑ کے نام لیوا موجود ہیں وہ کسی اور نبی کو میّسر نہیں مگر آپؑ کے مخالف کہاں ہیں؟
پھر حضرت موسیٰؑ ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے جنہیں ان کے گھر والوں نے فرعون کے ڈر سے صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دیا۔ پھر فرعون کے گھر میں اُن کی پرورش ہوئی۔ جب بڑے ہوئے تو ایک جُرم کی سزا سے خائف ہو کر وطن سے بھاگ نکلے۔ آخر ایک نیک انسان کی خدمت اختیار کی۔ دس سالہ خدمت کے بعد شادی ہوئی۔ پھر نبوّت عطا ہوئی تو واپس آئے اور سرِدربار کھڑے ہوکر فرعون کے مُنہ پر کہا کہ ’’میں اُس خدا کا ایلچی ہوں جو تیرا اور میرا سب کا خالق و مالک ہے میرے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کر دو ورنہ انجام ٹھیک نہیں ہوگا۔‘‘ فرعون حکومت کے نشے میں مخمور تھا تیوری چڑھا کر جواب دیا کہ ’’اے موسیٰ! تُو جو میرے گھر کے ٹکڑوں پر پلا ہے ذرا ہوش میں آکر بات کر۔‘‘ حضرت موسیٰؑ سمجھ جاتے ہیں کہ اس بدمست دیو کا خمار یُوں اُترتا نظر نہیں آتا۔ چنانچہ حکمت عملی سے خفیہ طور پر بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر نکل جاتے ہیں۔ فرعون کو علم ہوتا ہے تو غیظ وغضب میں آپے سے باہر ہؤا جاتا ہے اور جرار لشکر کو ساتھ لے کر اُن کا تعاقب کرتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے اُن کو جالیتا ہے۔ بنواسرائیل جن کو برسوں کی غلامی نے نامردوں سے بدتر بنا رکھا تھا یہ نظارہ دیکھ کر سہمے جاتے ہیں۔ اُن کے عقب میں فرعون کا جرارلشکر ہے اور سامنے مہیب سمندر ہے۔ گھبرا کر کہتے ہیں کہ موسیٰ! اب کیا ہوگا؟ مگر حضرت موسیٰؑ ہیں کہ چٹان کی طرح قائم ہیں۔ فرماتے ہیں: کَلَّا اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ۔ ’’خبردار گھبرانے کی کوئی بات نہیں میرے ساتھ میرا خدا ہے۔ دیکھو وہ ابھی ہمارے لئے رستہ بنائے دیتا ہے‘‘ (الشعراء:63)۔
یہ وہی حضرت موسیٰؑ ہیں جو چند برس پہلے مصر کی پولیس سے ڈر کر وطن سے بھاگ نکلے تھے۔ اب فرعون کا لاؤ لشکر سامنے ہے اور حضرت موسیٰؑ کے ماتھے پر بَل تک نہیں آتا! پھر نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ حضرت موسیٰؑ کے لئے سمندر پھٹ کر راستہ بنا دیتا ہے مگر فرعون مع اپنے لشکر اور سازوسامان کے غرق ہوجاتا ہے۔ اور آج حضرت ابراہیم ؑ کی طرح حضرت موسیٰؑ کے نام لیوا بھی شمار سے باہر ہیں اور فرعون کو کوئی جانتا تک نہیں البتہ اس کا مُردہ جسم لوگوں کی عبرتگاہ بنا ہؤا ہے۔
حضرت مسیحؑ ناصری کو دیکھو۔ بنو اسرائیل کی ایک غریب بے بیاہی لڑکی کے گھر میں لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ بدباطن یہود چہ میگوئیاں کرتے ہیں اور یہ بات بُھول جاتے ہیں کہ یہ پیدائش ایک سابقہ پیشگوئی کے مطابق تھی ۔ (یسعیاہ باب 7آیت 14) اور اس بات کو بھی بُھول جاتے ہیں کہ مسیحؑ کی کم ازکم ماں تو موجود ہے۔ حضرت آدمؑ کا تو اُن کے خیال کے مطابق نہ باپ تھا نہ ماں۔ خیر یہ بے باپ کا لڑکا بڑا ہوتا ہے اور پھر روح القدس کی تائید پا کر وہی پُرانی آواز بلند کرتا ہے جو حضرت کرشن ؑ نے ہندوستان میں، حضرت ابراہیم ؑ نے شام میں اور حضرت موسیٰؑ نے مصر میں بلند کی تھی۔ مگر یہود جو پہلے سے ہی اُسے کج آنکھوں سے دیکھ رہے تھے غیظ وغضب سے بھر جاتے ہیں اور آخر نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ یہود کی سازش سے مسیحؑ کو صلیب پر لٹکا دیا جاتا ہے اور یہود خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے میدان مار لیا۔ لیکن مسیحؑ کے پیچھے کسی اَور کا ہاتھ تھا۔ وہ اپنے نام لیوا کی مدد کو آتا ہے اور اُسے اس ذلّت کی موت کے مُونہہ سے نکال لیتا ہے اور اپنے محبت کے کلام سے یُوں تسلّی دیتا ہے کہ ’’آج میری ایک مصلحت سے یہود نے تجھ پر ایک عارضی تسلّط پایا ہے۔ لیکن مَیں تیرا وفادار آقا ہوں اب قیامت تک یہ یہود تیرے حلقہ بگوشوں کے پاؤں کے نیچے رہیں گے۔ اور دُنیا دیکھ لے گی کہ دراصل تُونے فتح پائی ہے نہ کہ اِن یہود نے‘‘۔ آج دُنیا کیا نظارہ دیکھتی ہے؟ کیا مسیح کے خادم ساری دُنیا پر ایک سیل عظیم کی طرح نہیں چھارہے؟ اور وہی یہود جو ایک دن مسیحؑ کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھتے تھے اور تمسخر کے ساتھ کہتے تھے کہ دیکھو یہ ہمارا ’’بادشاہ‘‘ ہے، آج مسیح کے خادم رحم کھا کر اُن کے سروں پر ارضِ مقدس کی بادشاہت کا تاج رکھنا چاہتے ہیں مگر کوئی رکھنے نہیں دیتا اور بنی اسرائیل کی قوم مسیحؑ کو صرف چند گھنٹوں کیلئے سولی پر لٹکانے کی وجہ سے گویا اُنیس سو سال سے خود سولی پر لٹکی ہوئی ہے۔ خدا کی بھی کیسی عبرتناک پکڑ ہے۔
پھر سب کے سردار محمد مصطفیٰ ﷺ (فداہ نفسی) کے وجود باجود کی طرف نگاہ کرو۔ قریش کے ایک معزّز مگر غریب گھرانے کے لڑکے کی شادی ایک حیاپرور لڑکی سے ہوتی ہے۔ خاوند اور بیوی بہت تھوڑا عرصہ اکٹھا رہ پاتے ہیں کہ اس لڑکی کے سر سے خاوند کا سایہ اُٹھ جاتا ہے۔ وہ لڑکی اس وقت حمل سے ہے اور اُس کے پیٹ کا بچّہ اس کے خاوند کی یاد کو اس کے معصوم دل میں اَور بھی زیادہ دردناک طور پر تازہ رکھ رہا ہے۔ خیر وہ بچّہ پیدا ہوتا ہے۔ ماں اُسے قریش کی رسم کے مطابق کسی بدوی دایہ کے سُپرد کرنا چاہتی ہے۔ مگر یتیم بچّے کو کون لے؟ آخر بڑی تلاش کے بعد ایک دایہ ملتی ہے اور اس طرح یہ نبیوں کا سرتاج عرب کے صحرائی جھونپڑوں میں اپنی زندگی کے ابتدائی دن گزارتا ہے۔ جب عمر ذرا بڑی ہوتی ہے تو یہ بچہ اپنی ماں کے پاس واپس آجاتا ہے۔ مگر زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ ماں بھی وفات پاجاتی ہے اور اور یہ بچہ بغیر ماں باپ کے، بعض رشتہ داروں کی آغوشِ تربیت میں جوان ہوتا ہے اور بڑا ہو کر دوسرے قریش کی طرح تجارت میں مصروف ہوجاتا ہے۔ وہ اَن پڑھ اور اُمّی ہے مگر اپنے اخلاقِ فاضلہ سے خاص عزّت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور لوگ اُسے ’’امین‘‘ کے لقب سے پکارتے ہیں۔ چالیس سال کی عمر سے پہلے ہی اُس کی طبیعت خلوت گزینی کی طرف مائل ہوجاتی ہے اور قریش کے عادات ورسوم اور اُن کا مذہب اس کی سلیم فطرت کو قابلِ نفرت نظر آتے ہیں۔ مکّہ کے پاس ایک ویران پہاڑ میں ایک ویران غار ہے۔ یہ جگہ اُسے اپنی خلوت نشینی کے لئے پسند آتی ہے اور وہ دن رات اُسی کے اندر بیٹھا ایک ایسی نامعلوم ہستی کی یاد میں محو رہتا ہے جو اُس کے بے چین دل کو تسکین دے سکے۔ اس کی بوڑھی بیوی جو مکّہ میں رہتی ہے اور اپنے خاوند کو پریشان دیکھ کر خود پریشان ہوئی جارہی ہے۔ اسی طرح وقت گزرتا جاتا ہے اور آخر وہ وقت آتا ہے کہ اُس نامعلوم ہستی کی ضیاء پاش کرنیں جس کی تلاش میں وہ سرگردان ہے اُس کے قلبِ صافی پر گرنی شروع ہوتی ہیں اور عالمِ رُوحانی کا وسیع منظر اُس کی نیم باز آنکھوں کے سامنے کُھلنا شروع ہوتا ہے۔
پھر زیادہ عرصہ نہیں گزرتا کہ وہ پردۂ مستوریت سے باہر آکر اپنے خُداداد منصب کو قریش کے سامنے پیش کرتا ہے اور ان کو اُس خُدا کی طرف بُلاتا ہے جو اس دُنیا کا خالق ومالک ہے۔ سردارانِ قریش اُس کی بات سُن کر ہنس دیتے ہیں اور اُسے قابلِ التفات نہیں سمجھتے ۔ مگر وہ اپنے کام میں لگا رہتا ہے اور آخر چند سمجھدار وفاشعار لوگ اس کے گرد جمع ہوجاتے ہیں۔ اب قوم محسوس کرنے لگتی ہے کہ یہ آواز صرف ہنس کر ٹال دینے والی نہیں بلکہ اگر اس کی روک تھام نہ کی گئی تو یہ آواز قوم میں پھوٹ پیدا کر دے گی۔ چنانچہ اس عظیم الشان اور بے نظیر مذہبی جنگ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس نے ملک بھر میں ایک ایسی آگ لگادی جو اُس وقت تک نہیں بجھی جب تک کہ سارا ملک ایک واحد خُدا کے جھنڈے کے نیچے جمع نہیں ہوگیا۔
پہلے تو قریش نے مسلمانوں کی اس مُٹھی بھر جماعت پر ایسے ایسے مظالم ڈھائے جن کا حال پڑھ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بلالؓ ایک حبشی غلام تھے۔ اُن کا آقا اُمیّہ بن خلف ایک بڑا رئیس تھا۔ وہ بد بخت دوپہر کے وقت جبکہ اوپر سے آگ برستی تھی اور مکّہ کا پتھریلا میدان بھٹی کی طرح تپتا تھا اُن کو ننگا کرکے ریت پر لِٹا دیتا اور گرم پتھر اُن کے سینے پر رکھ کر خود اوپر چڑھ بیٹھتا اور اسلام سے منحرف ہوجانے کو کہتا۔ بلالؓ زیادہ عربی نہیں جانتے تھے۔ آسمان کی طرف دیکھتے اور کہتے: احد، احد۔ یعنی ’’خُدا ایک ہے، خدا ایک ہے۔‘‘ پھر یہ ظالم ان کو رسّی سے باندھ کر شریر لڑکوں کے حوالے کر دیتا اور وہ ان کو مکّے کی پتھریلی گلیوں میں گھسیٹتے پھرتے جس سے اُن کا ننگا بدن زخمی ہوکر خون سے تر بہ تر ہوجاتا اور اُمیّہ پھر اُن سے پوچھتا کہ بلالؓ ! اب بتا کیا کہتا ہے؟ بلالؓ کے مُنہ سے پھر وہی آواز نکلتی کہ احد، احد۔ اور ظالم لڑکے اُمیّہ کا اشارہ پاکر اُن کو پھر سے گرم پتھروں پر گھسیٹنا شروع کر دیتے۔ ایک اَور مسلمان خبابؓ لوہار تھے۔ قریش کے شریر نوجوانوں نے غصّہ میں آکر اُن کو اُن کی بھٹی کے دہکتے ہوئے کوئلوں کے اوپر لٹا دیا اور ایک شخص ان کی چھاتی پر چڑھ بیٹھا تاکہ وہ کروٹ نہ بدل سکیں حتّٰی کہ وہ کوئلے اسی طرح جل جل کر اُن کی پیٹھ کے نیچے ٹھنڈے ہوگئے مگر اس وفادار بندہ نے خدا کا دامن نہ چھوڑا۔ سمیّہؓ ایک غریب مسلمان عورت تھی۔ ابوجہل نے اُن پر بے شمار ظلم ڈھائے مگر وہ خدا کی بندی اسلام پر قائم رہی۔ آخر اُس بدباطن نے ان کی شرمگاہ میں نیزہ مار کر انہیں مکّہ کے تپتے ہوئے میدان میں شہید کردیا۔ یہ اس مذہبی جنگ کے ابتدائی کارناموں کی چند مثالیں ہیں جو قریش مکّہ کی طرف سے غریب اور بیکس مسلمانوں کے خلاف وقوع میں آئے۔
خود مسلمانوں کے آقا اور سردار (فداہ نفسی) پر طائف کے شریر لوگوں نے پتھر برسادئیے حتّٰی کہ آپؐ کا بدن زخموں سے چھلنی ہوگیا اور خون سے آپؐ کی جوتیاں بھر گئیں۔ اور خود مکّہ کے اندر آپ کا بائیکاٹ کر کے آپ کو ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔ آخر جب یہ مظالم انتہا کو پہنچ گئے اور بالآخر قریش نے یہ فیصلہ کر لیا کہ محمد ﷺ کو جان سے ماردینا چاہئے تا کہ اس سلسلہ کا خاتمہ ہو۔ تو آپؐ مع اپنے چند ساتھیوں کے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے تاکہ شائد اسی طرح قریش کا غصّہ فروہوجائے۔ مگر اس بات نے قریش کی آتشِ غضب کو اَور بھی بھڑکادیا اور اُن کے رُؤسانے سارے ملک میں چکّر لگا لگا کر تمام عرب قبائل کو مسلمانوں کے خلاف اُکسانا شروع کر دیا۔ اُس وقت مسلمانوں کی تعداد چند گنتی کے آدمیوں سے زیادہ نہ تھی۔ اور وہ بھی عموماً حد درجہ غریب اور کمزور اور بے سروسامان تھے۔ اور دوسری طرف ملک بھر کی متحدہ طاقتیں اپنے بے انداز سروسامان سے جمع ہوکر ایک سیلِ عظیم کی طرح اُمڈی چلی آتی تھیں تاکہ خدا کی نام لیوا اس مٹھی بھر جماعت کوہمیشہ کیلئے صفحۂ دُنیا سے مٹا دیں۔
اس بے نظیر جنگ میں جو جو قربانیاں آنحضرت ﷺ اور آپؐ کے صحابہ کو کرنی پڑیں وہ تاریخ میں مذکور ہیں۔ مگر ایک واقعہ ایسا ہے کہ جسے مَیں اس جگہ نظرانداز نہیں کر سکتا۔ آنحضرت ﷺ ایک بڑی جماعت کے ساتھ حجاز کی ایک وادی میں سے گزر رہے تھے کہ اچانک سامنے سے ایک دشمن قبیلہ نے تیروں کی ایک باڑ ماری اور مسلمانوں کے حلیف اس غیر متوقع حملہ سے گھبرا کر پیچھے ہٹے۔ سارے اسلامی فوج میں کھلبلی مچ گئی۔ دشمن نے بھاگتے ہوئے مسلمانوں پر تیروں کا مینہ برسانا شروع کر دیا۔ آنحضرت ﷺ نے اپنے اِردگِرد نظر ڈالی تو نہ مکّہ کے نومسلم نظر آئے، نہ مدینہ کے وفا شعار انصار اور نہ پُرانے مہاجر صحابہ۔ اور اگر کوئی نظر آیاتو صرف دشمن ہے جو اُمڈا چلا آتا ہے اور تیروں کی بارش ہے کہ الامان! مگر آپ ایک پہاڑ کی طرح اپنی جگہ پر قائم رہتے ہیں اور اپنے ایک سہمے ہوئے ساتھی سے فرماتے ہیں کہ ذرا میرے گھوڑے کی لگام مضبوطی سے تھام لو۔ پھر اپنے گھوڑے کو زور کے ساتھ ایڑ لگا کر یہ للکارتے ہوئے دشمن کی طرف بڑھتے ہیں کہ :انا النّبیُّ لاکذب۔ انا ابن عبدالمطلب یعنی میں اللہ کا نبی ہوں، جھوٹا نہیں ہوں۔
نمعلوم اس آواز میںکیا جادو بھرا تھا کہ جن جن مسلمانوں کے کانوں تک یہ آواز پہنچتی ہے وہ گرتے پڑتے پھر اپنے آقا کے گرد جمع ہوجاتے ہیں اور آن کی آن میں دشمن کی بڑھتی ہوئی صفوں کو بکھیر کر رکھ دیتے ہیں۔ الغرض یہ جنگ ہوئی اور غارِ حرا کے اس خلوت پسند کو مدینہ میں پناہ لئے ابھی نو سال کا عرصہ نہ گزرا تھا کہ نو لاکھ مربع میل کے رقبہ پر مشتمل عرب کا وسیع ملک تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھا۔
عرب نے خود مسلمانوں کے خلاف تلوار اُٹھائی اور اُس وقت اپنی تلوار واپس نیام میں ڈالی جب یہ سمجھ لیا کہ محمد ﷺ کے پیچھے کسی ایسی طاقتور ہستی کا ہاتھ ہے جس کے سامنے دُنیا کے سازوسامان ایک پَر پشّہ کی بھی حقیقت نہیں رکھتے۔ پس بیشک انہوں نے ڈر کر اسلام قبول کیا لیکن تلوار سے نہیں بلکہ خُدا سے ڈر کر۔ اور بیشک انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے بتوں کو توڑا لیکن مسلمانوں کی طاقت کا خوف کھا کر نہیں بلکہ خود اُن بتوں کو ذلیل اور بے بس پاکر۔ چنانچہ فتح مکّہ کے موقعہ پر مکّہ کے بعض رئیس اُن بتوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر اِن بتوں میں کچھ بھی طاقت ہوتی تو آج عرب کی متکبّر گردنیں محمدؐکے سامنے نہ جُھکتیں۔ (تاریخ الخمیس)
الغرض آنحضرت ﷺ کی یہ بے نظیر کامیابی اس بات کا ایک بیّن ثبوت ہے کہ آپکی نصرت میں ایک طاقتور ہستی کام کررہی تھی اور وہ وہی ہے جسے ہم خدا کہتے ہیں۔
آنحضرت ﷺ (فداہ نفسی) کے خادم اور ظلِّ کامل حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کی ذاتِ والا صفات بھی اسی سِلسلہ کی ایک مقدس کڑی ہے۔ ایک گمنام گاؤں کے اندر ایک بچہ پیدا ہوتا ہے۔ ماں باپ کے سایہ کے نیچے وہ بڑھتا ہے مگر خلوت پسند طبیعت کی وجہ سے اپنے گاؤں کی محدود سوسائٹی سے بھی الگ رہتا ہے۔ باپ اپنی شفقتِ پدری کی وجہ سے اُسے پیغام بھیجتا ہے کہ فلاں اعلیٰ افسر میرے ساتھ خاص دوستی کا تعلّق رکھتا ہے چلو مَیں اُسے کہہ کر تمہارے واسطے معقول ملازمت کا انتظام کرادیتا ہوں۔ جواب آتا ہے کہ ’’آپ میرے لئے فکرمند نہ ہوں مَیں نے جہاں نوکر ہونا تھا، ہوچکا ہوں۔‘‘ یعنی میں خدا کی نوکری سے مشرف ہوچکا ہوں، مجھے دُنیا کی نوکریوں کی ضرورت نہیں۔
حضرت مرزا صاحبؑ نے 1884ء میں مجددیّت کا دعویٰ دُنیا کے سامنے پیش کیا۔ مگر اس دعویٰ میں کوئی ایسی بات نہ تھی جو مسلمانوں کو خاص طور پر چونکا دیتی کیونکہ اسلام میں کئی مجدّد ظاہر ہوچکے ہیں۔ اور عموماً اسلامی دنیا اسلام کی تائید میں آپؑ کی خدمات کی وجہ سے محسوس کرتی تھی کہ اگر آج مسلمانوں کے اندر کوئی شخص اس بات کا اہل ہے کہ مخالفین کے مقابلہ میں عزّت اور کامیابی کے ساتھ عہدہ برآہوسکے تو وہ صرف آپ ہی ہیں۔ مگر آپؑ کی اسلامی خدمات نے مخالفینِ اسلام یعنی ہندوؤں اور عیسائیوں کے اندر عداوت کی خطرناک آگ مشتعل کر دی تھی۔
پھر ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ حضرت مرزا صاحبؑ نے خدا تعالیٰ سے حکم پاکر اپنا یہ دعویٰ شائع کیا کہ آخری زمانہ کے متعلق مسیحؑ کے نزول اور مہدی کے ظہور کی جو پیشگوئی تھی اس کا مصداق مَیں ہوں اور حضرت مسیح ناصریؑ فوت ہوچکے ہیں۔ بلکہ آپؑ نے یہ بھی دعویٰ فرمایا کہ مَیں ہی وہ موعود ہوں جس کا جملہ ادیان میں وعدہ دیا گیا تھا اور جس کے ہاتھ پر اسلام کی آخری اور عالمگیر فتح مقدر ہے۔
اس دعویٰ نے جو طوفان بے تمیزی مخالفت کا برپا کیا اور جس طرح تمام مذاہب ایک جان ہوکر آپ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے وہ اپنی نظیر آپ ہی ہے۔ کیا دوسرے مسلمان اور کیا عیسائی کیا ہندو اور کیا آریہ اور کیا جینی اور کیا سکھ۔ پھر کیا برہمو اور کیا دیوسماجی وغیرہ وغیرہ سب کے سب اپنے پورے زور کے ساتھ ایک اکیلے اور بے سروسامان شخص کے خلاف میدان میںاُتر آئے۔ اکثر مسلمان علماء نے آپ کو کافر، ملحد ضال، مضل ،بلکہ دجّال قرار دیا اور ایک باقاعدہ شرعی فتویٰ کے ذریعہ تمام اسلامی دنیا میں یہ اعلان کر دیا کہ یہ شخص کافر اور دائرہ اسلام سے خارج بلکہ اسلام کا بدترین دشمن ہے اور جو اس کے ساتھ کسی قسم کا تعلق رکھے گا وہ بھی اسلام سے خارج ہوجائے گا۔ یہ بھی شائع کیا گیا کہ اس شخص کو ہر ممکن طریق سے نقصان پہنچانا نہ صرف جائز بلکہ کارِ ثواب ہے۔ اور بعض نے تو یہاں تک فتویٰ دیا کہ اسلامی شریعت کی رُو سے یہ شخص واجب القتل ہے اور اس کے قتل کرنے والا ثواب کا حقدار ہے۔ اور اس قولی مخالفت کے علاوہ عملی طور پر بھی ہر طریق سے آپ کو ذلیل و رُسوا کرنے کی کوشش کی گئی۔ سلسلہ احمدیہ کی ابتدائی تاریخ ایک دردناک کہانی ہے جس کے مطالعہ سے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ایک اکیلا شخص جس کے پاس بظاہر کوئی جتھہ، مال و دولت اور نام ونمود نہیں۔ صرف ایک رُوحانی جھنڈا ہے جس پر کسی ایک غیر ارضی روشنائی میں لکھے ہوئے یہ الفاظ چمک رہے ہیں کہ : ’’دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خُدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کردے گا‘‘۔ (براہینِ احمدیہّ حصہ چہارم مصنفہ 1884ء)
دشمن کا حملہ خطرناک صورت اختیار کرتا جاتا ہے لیکن منکرین کی افواج کے سپاہی اپنی صفوں کو چھوڑ چھوڑ کر اس جھنڈے کی طرف کھچے چلے آتے ہیں۔ مخالف گروہ ان لوگوں کو ہر ممکن طریق سے تنگ کرتا ہے، تمدنی سزائیں دیتا ہے، اُن کے مال و دولت کوچھین لیتا ہے، ان کے بیوی بچوں کو اُن سے جُدا کر دیتا ہے، ان کو مارتا پیٹتا ہے، قابو پاتا ہے تو قتل کردینے سے دریغ نہیں کرتا، ان کے مُردوں کو اپنے مقبروں میں دفن کرنے سے روکتا ہے مگر لوگ ہیں کہ بے خود ہوکر کھچے چلے آتے ہیں اور اپنی ظاہری آزادی کے تخت سے اُتر اُتر کر اس بے نام ونمود شخص کی غلامی کا طوق اپنی گردنوں میں پہننے کے واسطے بے چین ہوئے جاتے ہیں۔
کیا یہ کسی انسانی ہاتھ کا کام ہے؟ ہرگز نہیں۔ انسانی ہاتھ کا کام اسباب اور ماحول کا محتاج ہوتا ہے مگر یہاں جتنے بھی اسباب تھے وہ دشمن کے ہاتھ میں تھے اور آپؑ کے ہاتھ میں کچھ بھی نہ تھا۔ مگر جب 1908ء میں آپؑ کو خدا کی طرف سے پیغامِ وصال آیا تو چار لاکھ جاںنثار، وفاشعار خادم آپؑ کے جھنڈے کے نیچے جمع تھا۔ اور اب آپؑ کے نام لیوا اسلام کی تبلیغ کیلئے دُنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اور خدا کے رستہ میں اپنی بے نظیر قربانیوں سے دنیا کی نظروں کو حیرت میں ڈال رہے ہیں۔ کیا یہ خارق عادت کامیابی بغیر کسی غیبی نصرت و تائید کے ممکن تھی؟ یہ اس بات کا ایک بیّن ثبوت ہے کہ کوئی غیبی طاقت جو دُنیا کی تمام طاقتوں پر غالب اور حکمران ہے آپؑ کی تائید میں کام کر رہی ہے اور اسی کا نام ہم خُدا رکھتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ جب کبھی بھی کوئی راستباز خدا کی طرف سے حکم پاکر خدا کے نام پر کھڑا ہؤا ہے تو اُسے خواہ کیسے بھی حالات پیش آئے ہیں وہ بالآخر غالب اور بامراد ہوکر رہا ہے اور اس کے دشمنوں کو باوجود اپنی گوناگوں طاقت اور بے انداز سازوسامان کے ہمیشہ ذلّت کا مُنہ دیکھنا پڑا ہے۔ آپؑ کیا خوب فرماتے ہیں :

قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت
اُس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے
جس بات کو کہے کہ کروں گا میں یہ ضرور
ٹلتی نہیں وہ بات خُدائی یہی تو ہے

شہادتِ صالحین کی دلیل
ہستیٔ باری تعالیٰ کے متعلق ایک عقلی دلیل شہادتِ صالحین سے تعلّق رکھتی ہے۔ یعنی بہت سے ایسے لوگ جن کی راست گفتاری مسلّم ہے اور اُن کے صحیح الدماغ ہونے میں بھی کوئی کلام نہیں اس بات کی ذاتی شہادت پیش کرتے ہیں کہ واقعی ہمارا ایک خُدا ہے جسے ہم نے اُسی طرح دیکھا اور پہچانا ہے جس طرح ہم دوسری غیر مرئی چیزوں کو دیکھتے اور پہچانتے ہیں۔
حصولِ علم کے ذرائع میں سے شہادت بھی ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ ہماری معلومات کا بیشتر حصّہ ایسا ہے جو ہمیں خود براہِ راست حاصل نہیں ہؤا بلکہ دوسرے معتبر لوگوں کی روایت یا کُتبِ صحیحہ کے مطالعہ یا اخبارات وغیرہ کے دیکھنے سے حاصل ہؤا ہے اور ہمیں خود کبھی بھی اسے اپنے ذاتی مشاہدہ یا تجربہ میں لانے کا موقعہ نہیں ملا۔ لیکن ہمیں ان معلومات کے متعلق قریباً قریباً ایسا ہی پختہ یقین ہے جیسا کہ اپنے مشاہدہ یا تجربہ کے ذریعہ حاصل شدہ معلومات کے متعلق ہے۔ الغرض شہادت کے اصل کا انکار کر کے ہم کسی علم کے بھی قائل نہیں رہ سکتے۔
اگرچہ بعض اوقات شہادت غلط بھی ہوتی ہے اور بعض اوقات گواہ دروغگو تو نہیں ہوتا لیکن بوجہ ناقص الفہم ہونے کے اُس کی شہادت قابلِ قبول نہیں رہتی۔ لیکن اس احتمال کی وجہ سے شہادت کا دروازہ حصولِ علم کے واسطے ہرگز بند نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی خراب دوائی کے استعمال سے کسی مریض کو نقصان پہنچ جائے تو کیا اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ وہ دوائی اپنی ذات میں غیر مفید اور ضرر رساں ہے؟ اسی طرح جھوٹے اور ناقص الفہم شاہد کی شہادت سے یہ نتیجہ ہرگز نہیں نکالا جاسکتا کہ شہادت کا اُصول ہی باطل ہے۔ اس سے تو صرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ: ’’اگر تمہارے پاس کوئی جھوٹا شخص ایک خبر لاتا ہے تو اُسے یُونہی بلا تحقیق نہ مان لیا کرو بلکہ تحقیق کے بعد اگر درست ثابت ہوتو تب مانا کرو۔‘‘ (الحجرات:7)
مذکورہ بالا اصول کے ماتحت ہم ہستیٔ باری تعالیٰ کے عقیدہ پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ عقیدہ دنیا کی مضبوط ترین شہادت سے پایۂ ثبوت کو پہنچا ہؤا نظر آتا ہے۔ دُنیا میں جتنے بھی رسول آئے ہیں خواہ وہ کسی ملک یا کسی قوم یا کسی زمانہ میں مبعوث ہوئے ہوں ہمارے سامنے یہ شہادت پیش کرتے ہیں کہ دُنیا کا ایک خُدا ہے جو اس تمام کارخانۂ عالم کا خالق ومالک و متصرف ہے۔ اور وہ محض کسی سُنی سُنائی بات کی بِنا پر ایسا نہیں کہتے بلکہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے اُس خدا کو اُسی طرح پہچانا ہے جس طرح ہم دنیا کی دوسری غیر مادی چیزوں کو پہچانتے ہیں اور اس خدا کے ساتھ ہمارے ذاتی تعلّقات قائم ہیں اور یہ کہ خدا ہم سے کلام کرتا ہے اور ہماری باتوں کو سنتا اور ان کا جواب دیتا ہے اور ضرورت کے وقت ہماری نصرت فرماتا ہے۔
اور یہ دعویٰ وہ لوگ کرتے ہیں جن کی راست گفتاری اور دیانت وامانت دوست و دشمن میں مسلّم ہے۔ یعنی دشمن بھی اس بات کو مانتا ہے کہ خواہ ان کا لایا ہؤا مذہب ہم قبول کریں یا نہ کریں لیکن اس میں کلام نہیں کہ یہ سب لوگ اپنی ذات میں راستباز اور صادق القول ہیں۔ اور پھر یہ لوگ مجنون یاناقص الفہم یا مخبوط الحواس بھی نہیں ہیں بلکہ اُن لوگوں میں شمار کئے جاتے ہیں جو دل ودماغ کی اعلیٰ ترین طاقتیں لے کر دُنیا میں آئے تھے۔ پس اگر یہ شہادت قابل قبول نہیں تو دنیا میں کوئی شہادت بھی ایسی نہیں ہو سکتی جو قابلِ قبول ہو۔
اور اگر انبیاء اور رُسل کے ساتھ دنیا کی مختلف قوموں کے صلحاء اور اولیاء کو بھی شامل کر لیا جائے تو پھر یہ شہادت ایسی وزن دار ہوجاتی ہے کہ اس کا انکار قریباً قریباً جنون کے حکم میں آجاتا ہے۔ ہر اُمّت میں لاکھوں صلحاء اور اولیاء گذرے ہیں جو اپنے اپنے حلقہ میں اپنی بزرگی اور عقل و دانش کی وجہ سے لوگوں کے قلوب پر حکومت کرتے رہے ہیں اور اُن کی راست گفتاری اور امانت و دیانت لوگوں کے واسطے نمونہ رہی ہے۔ یہ لوگ بھی اس بات کی شہادت دیتے رہے ہیں کہ دنیا کا ایک خُدا ہے جس کے قبضہ تصّرف کے ماتحت یہ سارا کارخانہ ٔ عالم چل رہا ہے۔ اور یہ کوئی سنی سنائی شہادت نہیں بلکہ انبیاء کی طرح ان لوگوں کے ذاتی مشاہدہ پر مبنی ہے۔
اے دوستو! یہ رستہ تمہارے لئے بھی کُھلا ہے کیونکہ جو لوگ خدا تک پہنچنے کے مدعی ہیں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر تم اس طریق کو اختیار کرو جو وہ بتاتے ہیں تو تم بھی خدا کے ساتھ تعلّق پیدا کر سکتے ہو۔ اور یہ اُن کا خالی دعویٰ ہی نہیں ہے بلکہ بے شمار لوگوں نے ان کی پیروی اختیار کر کے واقعی خدا کا عرفان حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ مگر افسوس کہ دُنیا کے مقاصد کے متعلق تو لوگ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہر مقصد کے حصول کا ایک معیّن طریق ہے جسے اختیار کئے بغیر وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا اور ہر مقصد کا حصول کچھ وقت بھی چاہتا ہے۔ لیکن روحانی مقاصد کے متعلق یہ اُمید رکھتے ہیں کہ وہ صرف خواہش کرنے سے ہی فوراً حاصل ہوجایا کریں۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ جتنا اعلیٰ مقصد ہوتا ہے اُتنا ہی اس کے واسطے زیادہ وقت صرف کرنا پڑتا ہے، زیادہ توجہ دینی پڑتی ہے، زیادہ محنت اُٹھانی پڑتی ہے، زیادہ قربانی کرنی پڑتی ہے، زیادہ لمبے ضابطۂ عمل میں سے گزرنا پڑتا ہے، تب جا کر وہ مقصد حاصل ہوتا ہے۔ مگر تم ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بغیر کچھ کئے کے یہ اُمید رکھتے ہو کہ اگر کوئی خُدا ہے تو وہ ہمیں مل جائے۔ خدا کی قسم تم اس طرح خدا کو کبھی نہیں پاؤگے۔
ہاں اگر سچی تڑپ اور دلی آرزو اور پوری توجہ اور واجبی محنت کے ساتھ اس طریق کو اختیار کرو جو خدا تک پہنچنے کا طریق ہے اور پھر بھی خدا کو نہ پاؤ تو تب یہ کہنے کا حق رکھو گے کہ ہم نے خدا کو تلاش کیا مگر نہ پایا۔ مگر یہ ناممکن ہے کہ تم ٹھیک راستہ پر چل کر خدا کو تلاش کرو اور پھر بھی خدا تمہیں نہ ملے۔ کروڑوں انسانوں نے جو تمہاری طرح کے انسان تھے اور تمہاری طرح کا دل و دماغ رکھتے تھے خدا کو تلاش کیا اور آخر اُس کو پالیا اور ان لوگوں کی ذاتی اور عینی شہادت واضح طور پر موجود ہے۔ تم میں سے کوئی شخص یہ جرأت نہیں کر سکتا کہ اُن کی شہادت کے متعلق کسی قسم کے شک کا احتمال پیدا کر سکے۔ تم اُن کو دھوکہ باز یا ناقص العقل نہیں کہہ سکتے۔ تم ان کے متعلق یہ شبہ نہیں کر سکتے کہ انہوں نے باہم مل کر ایک بات بنا لی ہے۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ تم اُن کی شہادت کو محض اپنے دماغ کے فرضی تخیّلات کی بِنا پر ردّ کردو۔
اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ہم ان لوگوں کو دھوکے باز یا ناقص العقل نہیں کہتے بلکہ دھوکہ خوردہ کہتے ہیں اور دھوکہ ہر انسان کو کم و بیش لگ سکتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک اس بات کا امکان ہے کہ ایک فہمیدہ آدمی کو بھی کبھی دھوکہ لگ جائے لیکن کسی بات کے امکان ہونے کے یہ معنے نہیں ہیں کہ وہ بات عملاً وقوع میں بھی آگئی ہے۔ پس جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ یہ سب لوگ اس معاملہ میں واقعی دھوکہ خوردہ تھے اُس وقت تک محض دھوکا لگنے کا امکان بیان کر دینے سے مطلب حل نہیں ہوسکتا۔ وہ کونسی بات ہے جس میں دھوکے کا امکان نہیں ہے؟ تو کیا اس وجہ سے دنیا کی ساری باتوں کو مشکوک قرار دیا جاسکتا ہے؟ اس طرح تو توہم پرستی کا ایسا دروازہ کُھل جاتا ہے کہ کوئی بات بھی یقینی نہیں رہتی۔
شہادت دینے والوں نے شہادت واضح اور غیر مشکوک الفاظ میں دی ہے اور کوئی سُنی سنائی شہادت نہیں دی بلکہ اپنا ذاتی اور عینی مشاہدہ پیش کیا ہے اور یہ شہادت دینے والے سب کے سب راستباز اور صحیح الدماغ انسان ہیں اور پھر تعداد میں بھی وہ کم از کم لاکھوں ہیں اور ہر قوم اور ہر ملک اور ہر زمانہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں صرف اتنا کہہ دینے سے کہ دھوکہ لگنے کا امکان ہے یہ سمجھ لینا کہ بس یہ شہادت مشکوک ہوگئی ایک مجنونانہ فعل ہے۔
پھر دھوکہ لگنے کے بھی مواقع اور حالات ہوتے ہیں۔ ایک عاقل کے لئے دھوکا لگنے کا امکان صرف اُن صورتوں میں ہوسکتا ہے کہ جہاں رائے اور خیال کا دخل ہو اور دلائل کی بِنا پر فیصلہ کرنا ہو۔ مثلاً ایک علمی مسئلہ میں یہ امکان ہے کہ دو شخص دومختلف خیال رکھتے ہوں اور دونوں صحیح الدماغ بھی ہوں۔ کیونکہ جہاں رائے اور استدلال کا دخل ہے وہاں اس بات کا امکان ہوسکتا ہے کہ کسی غلط فہمی کی وجہ سے غلطی لگ جائے۔ لیکن جہاں مشاہدہ کا سوال ہے وہاں ایک صحیح الحواس شخص کے واسطے دھوکے کا امکان نہیں رہتا ۔ پس انبیاء وصلحاء کی شہادت بھی دھوکا لگنے کے امکان سے بالا تسلیم کرنی پڑتی ہے کیونکہ وہ یہ نہیں کہتے کہ ہم نے عقلی دلائل سے خدا کی ہستی پر اطلاع پالی ہے۔ بلکہ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے واقعی خدا کو پالیا ہے اور اس کے ساتھ ہمارا ذاتی تعلق قائم ہوگیا ہے اور وہ ہم سے کلام کرتا اور ہماری باتوں کو سنتا اور اُن کا جواب دیتا ہے اور ضرورت کے وقت اپنی زبردست طاقتوں کے ساتھ ہماری نصرت فرماتا ہے۔ اور پھر وہ اپنے اس مشاہدہ کو اپنی عمر کے کسی خاص حصہ کی طرف منسوب نہیں کرتے بلکہ ساری عمر اسی مشاہدہ میں گزارتے ہیں۔ گویا ان کا یہ مشاہدہ ایک غیر منقطع عرصہ کی صورت میں سالہاسا ل پر پھیلا ہؤا ہے۔ اور اُن کے مشاہدہ کے عملی نتائج بھی دنیا کے سامنے ہیں۔ ایسی صورت میں کوئی عقلمند آدمی ان کے متعلق یہ خیال نہیں کر سکتا کہ انہیں دھوکا لگا ہوگا۔
پھر یہ شہادت کسی ایک فرد کی نہیں ہے، کسی ایک قوم کے لوگوں یا کسی ایک ملک کے باشندوں کی نہیں ہے، اور کسی ایک زمانہ کے لوگوں کی بھی نہیں ہے۔ بلکہ لاکھوں انسانوں کی ہے جو دنیا کے ہر ملک، ہر قوم، ہر ملّت اور ہر زمانہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ پس تم کِس کِس کو دھوکا خوردہ قرار دو گے ؟۔ قرآن شریف نے بھی اِس شہادت کے اصول کو پیش کیا ہے بلکہ اسی اصل کے ماتحت انبیاء کا ایک نام قرآن شریف میں شاہد رکھا گیا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے: ’’اے لوگو! ہم نے تمہاری طرف محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا ہے تاکہ وہ تمہارے لئے شاہد یعنی گواہ کا کام دیں جیسا کہ ہم نے فرعون کی طرف موسیٰ رسول کو شاہد بنا کر بھیجا تھا‘‘۔ (المزّمّل: 16)
الغرض رُسل وصالحین کی جماعت کی طرف سے خدا تعالیٰ کی ہستی کی شہادت کی دلیل ایسی زبردست دلیل ہے کہ کوئی سمجھدار شخص اِس کا انکار نہیں کر سکتا۔ باقی حقیقی اطمینان اور عین الیقین تو ذاتی تجربہ اور مشاہدہ سے ہی حاصل ہوسکتا ہے جس کے لئے انبیاء و اولیاء کی زندگیوں کا مطالعہ کرنا اور ان کے رستہ پر گامزن ہونا ضروری ہے۔
(باقی آئندہ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین ستمبر اکتوبر 2016ء)

انصار کو خداتعالیٰ کی ہستی کے عقلی دلائل سے لیس کرنے کے لئے ایک نہایت عمدہ کتاب ’’ہمارا خدا‘‘ (جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کی تصنیف ہے) کے منتخب مضامین سے تلخیص کا سلسلہ گزشتہ چند شماروں سے شامل اشاعت کیا جارہا ہے۔
ذیل میں اس کتاب کے صفحات 162 تا 200 کی تلخیص ہدیۂ قارئین ہے:
(انتخاب و تلخیص: محمود احمد ملک)
……………………………………
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ تحریر فرماتے ہیں:
ایمان باللہ کے عظیم الشان فوائد
خدا پر ایمان لانا اپنے اندر بعض ایسے اہم فوائد رکھتا ہے جو بغیر اُس پر ایمان لانے کے کسی اَور طریق سے پوری طرح حاصل نہیں ہوسکتے۔ ظاہر ہے کہ دنیا میں کوئی چیز اسی اُصول پر اختیار کی جاتی ہے کہ وہ کس حد تک مفید ہے۔ پس اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ خدا پر ایمان لانا نسلِ انسانی کیلئے نفع بخش ہے تو اس صورت میں خدا کے عقیدہ کو ترک نہیں کرنا چاہئے۔ بیشک ان دلائل سے یہ استدلال نہیں ہوسکتا کہ کوئی خدا ہے یا ہونا چاہئے۔ یہاں اُن عظیم الشان فوائد سے بحث نہیں جو رُوحانی طور پر ایمان باللہ اور تعلق باللہ سے انسان کو حاصل ہوتے ہیں۔ مثلاً خدا کے ساتھ ذاتی تعلق۔ اُس کی تائید ونصرت کا حصول۔ علم و عرفان کی ترقی۔ اُخروی نجات وغیرہ۔ بلکہ یہاں صرف اُن اُصولی فوائد کا ذکر ہے جو خدا تعالیٰ پر معقولی طور پر ایمان لانے کے نتیجہ میں بنی نوع انسان کو عام طور پر حاصل ہوسکتے ہیں۔
وحدت اور اخوّت کا جذبہ
سب سے پہلا فائدہ ایمان باللہ کا وحدت و اخوّت کے جذبات کا پیدا کرنا ہے۔ دنیا کے امن اور اقوامِ عالم کی ترقی و بہبود کے لئے یہ بات لازمی ہے کہ مختلف اقوام ایک دوسرے کے خلاف تعصّب کو اپنے دل میں جگہ نہ دیں بلکہ حتّی الوسع دوسروں کے متعلق ہمدردی اور قربانی اور ایثار کا طریق اختیار کریں اور اسی طرح افراد کیلئے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے متعلق محبّت و اخوت اور ہمدردی و تعاون کی روح پیدا کریں تاکہ دنیا میں امن کا قیام اور نسل انسانی کی ترقی ہو۔
یہ عقیدہ کہ ہم سب لوگ ایک واحد قادر خدا کی مخلوق و مملوک ہیں اور ہم سب کا ملجاء وماویٰ وہی یکتا ہستی ہے جس کے قبضۂ تصرف سے دُنیا کی کوئی چیز باہر نہیں۔ یہ عقیدہ جس مضبوطی اور وضاحت کے ساتھ ہمارے دلوں میں باہم محبّت و وحدت و اخوت کے جذبات پیدا کردیتا ہے وہ اپنی نظیر نہیں رکھتا۔ بیشک ایک ملک کا باشندہ ہونا یا ایک قوم سے تعلق رکھنا وغیر ہ، سب ایسی باتیں ہیں جو کم و بیش وحدت واخوت پیدا کرنے کا موجب ہوتی ہیں لیکن واحد خالق کی مخلوق ہونے پر ایمان، بلکہ یہ خیال کہ ہمارا یہ مالک و آقا زندہ سلامت ہمارے سر پر موجود ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ یہ ایمان تمام بنی نوع آدم کو فوراً بھائی بھائی بنادیتا ہے اور اس یقین کے پیدا ہوتے ہی باہم بغض وعداوت کے خیالات کافور ہوکر اُن کی جگہ محبّت و اخوّت اور ایک دوسرے کیلئے ہمدردی اور قربانی کے جذبات پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ خدا پر ایمان لانا بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ اپنے آپ کو ایک ماں باپ کی اولاد سمجھنا۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ہر شخص جو خدا پر ایمان لانے کا مدّعی ہے باہم اخوّت و وحدت کے جذبات اپنے دل میں رکھتا ہے کیونکہ دُنیا میں ہزاروں چیزیں انسان کی حالت پر اثر ڈالتی رہتی ہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی آدمی کے دل میں خدا کا خیال ایک ایسا کمزور خیال ہو جو اس کے دل و دماغ پر اتنا اثر پیدا نہ کر سکے کہ جو اخوّت و وحدت کے جذبات پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ اُصولی طور پر خدا کا عقیدہ ان جذبات کے پیدا کرنے والے موجبات میں سب سے اہم اور بڑا ہے۔ اور اگر کوئی دوسرے موانع نہ پیش آجائیں تو یقینا ایک مومن باللہ ایک کافر باللہ کی نسبت نسلِ انسانی کا زیادہ ہمدرد اور زیادہ خیر خواہ ہوتا ہے۔
انگریزی کی مثل ہے کہ اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو میرے کُتّے سے بھی محبت کرو۔ یعنی جن چیزوں کا میرے ساتھ تعلق ہے ان کو بھی اپنی محبت میں شریک کرو۔ یہ مثل فطرتِ انسانی کے صحیح مطالعہ پر مبنی ہے۔ پس اگر ہمیں خدا پر ایمان اور خدا کے ساتھ تعلق ہے تو پھر یہ قطعاً ناممکن ہے کہ ہمارا دل مخلوقات اور خصوصاً انسان کی محبّت سے خالی رہ سکے۔ تاریخ عالم پر نظر ڈالنے سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ جو لوگ سب سے زیادہ پختگی اور یقین کے ساتھ ایمان باللہ پر قائم ہوئے ہیں وہی لوگ ہمدردیٔ خلق کے جذبات میں سب سے اعلیٰ مرتبہ پر تسلیم کئے جاتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ خُدا کے منکرین بھی بسااوقات دوسروں کے ساتھ محبت و ہمدردی کا سلوک کرتے اور رفاہِ عام کے کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ ویسے ہم نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ یہ جذبات سوائے ایمان باللہ کے اَور کسی ذریعہ سے پیدا نہیں ہوسکتے بلکہ ہم تو اس بات کے قائل ہیں کہ بنی نوع آدم میں اکمل صورت میں یہ جذبات صرف ایمان باللہ کے نتیجہ میں ہی پیدا ہوسکتے ہیں اور باقی ذرائع اپنی کیفیت اور کمیّت میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ دراصل خدا کا وجود وہ مرکزی نقطہ ہے جہاں پہنچ کر تمام مخلوقات بالآخر جمع ہوجاتی ہے اور وحدت اور جمعیّت کا خیال اس نقطہ کے ساتھ لازم وملزوم کے طور پر لگاہؤا ہے۔ کیا ایک باپ کی اولاد ہونے کی نسبت مختلف باپوں کی اولاد ہونا وحدت واخوّت کا زیادہ موجب ہوتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
ایک دہریہ کے بنی نوع کے لئے ہمدردانہ جذبات رکھنے کی دو وجوہات ہیں۔ اوّل یہ کہ وہ اپنے اردگرد کے مذاہب کی تعلیم سے محسوس طور پر یا غیر محسوس طور پر متأثر ہو کر انسانی ہمدردی کو ایک مستحسن فعل سمجھتا ہے۔ اور پھر دانستہ یا نا دانستہ وہ کوشش کرتا ہے کہ ایسے فعل میں جو مسلّمہ طور پر مستحسن سمجھا جاتا ہے وہ اُن لوگوں سے پیچھے نہ رہے جو خدا کے قائل ہیں۔ گویا مقابلہ کا خیال اور بدنامی کا ڈر اس سے یہ کام کرواتے ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ اس صورت میںا س کے اندر کبھی بھی یہ جذبات اعلیٰ اور اکمل صورت میں ظاہر نہیں ہوسکتے اور وہ بے لوث اور طبعی رنگ پیدا نہیں ہوسکتا جو ایک خدا پر ایمان لانے والے میں پایا جاتا ہے۔ دہریہ کی محبت ایسی ہوتی ہے جیسا کہ ایک سوتیلی ماں اپنے خاوند کو خوش کرنے کیلئے یا محلہ والوں میں بدنامی سے بچنے کیلئے اپنے سوتیلے بچوں سے کرتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ دہریہ بھی اس بات کو سمجھتا ہے کہ نسلِ انسانی کی ترقی و بہبودی کی بنیاد لوگوں کا باہمی محبّت اور سلوک سے رہنا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ صورت بھی ایک ضابطہ اور معاملہ کا رنگ رکھتی ہے اور وہ طبعی اور جذباتی رشتہ پیدا نہیں کر سکتی جو ایمان باللہ کا عقیدہ پیدا کرتا ہے۔
پس دہریہ کے دل میں انسانی ہمدردی کے خیالات جن وجوہات سے پیدا ہوتے ہیں وہ اُسے قطعاً اس اعلیٰ اور اشرف مقام تک نہیں پہنچا سکتے جو ایمان باللہ کے نتیجہ میں انسان کو حاصل ہوسکتا ہے۔ نیز جو دیگر وجوہات ہمدردی اور محبت کے خیالات پیدا کرنے کی ایک دہریہ کے لئے ہیں اُن سے ایک مومن باللہ بھی اُسی طرح فائدہ اُٹھا سکتا ہے لیکن ایمان باللہ کے نتیجہ میں جو جذبات پیدا ہوتے ہیں وہ صرف مومنوں کے ساتھ مخصوص ہیں اُن سے ایک دہریہ متمتع نہیں ہوسکتا۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ اَور جتنے بھی موجباتِ وحدت ہیں وہ گو ایک حد تک تعاون اور ہمدردی اور قربانی کی رُوح پیدا کر دیں، لیکن اخوّتِ انسانی کا جذبہ وہ کسی صورت میں بھی پیدا نہیں کرسکتے کیونکہ اخوّت کا جذبہ یعنی یہ خیال کہ سب انسان بھائی بھائی ہیں سوائے اس کے اَور کسی صورت میں پیدا نہیں ہوسکتا کہ انسان کے اوپر ایک واحد خالق ومالک و آقا کے وجود کو تسلیم کیا جائے کیونکہ اخوّت کے معنے ہی یہ ہیں کہ ہم سب ایک منبع سے نکلی ہوئی ہستیاں ہیں۔ پس اس لحاظ سے بھی ایمان باللہ کی ضرورت اور اس کا مفید ہونا ثابت ہے۔ کیونکہ جب تک اخوت کا جذبہ فطری طور پر پیدا نہ ہوجائے اس وقت تک ظاہری اتحاد پر کوئی اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ یہ اندیشہ رہے گا کہ جب کبھی بھی کسی کی مرضی کے خلاف کوئی بات ہوگی تو فوراً خود غرضی کے خیالات غالب آکر بغض و عداوت کا رنگ پیدا کر دیں گے۔ پس دنیا کا امن یقینا اس وقت تک خطرہ میں ہے جب تک کہ لوگ یہ ایمان قائم نہ کرلیں کہ ہمارے اوپر ایک واحد خدا ہے جو ہمارا خالق و مالک ہے اور اسی لئے ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ اور اگر کبھی باہم اختلاف پیدا ہو تو ہمیں انصاف کو ہاتھ سے نہ دینا چاہئے بلکہ دوسرے کی خاطر قربانی اور ایثار کرنا چاہئے۔
دراصل ضابطہ اور معاملہ کے تعلقات (قوانین اور معاہدات) محض خود غرضی پر مبنی ہوتے ہیں کیونکہ انسان محسوس کرتا ہے کہ اگر میں دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات نہ رکھوں گا تو دوسرے بھی میرے ساتھ اچھی طرح پیش نہ آئیں گے۔
کیامذہب دنیا میں جنگ وجدال کا موجب ہے؟
ایک شبہ بعض لوگوں کی طرف سے یہ پیدا کیا جاتا ہے کہ دنیا میں مذہب کا وجود باہم فتنہ وفساد اور فرقہ بندیوں کا موجب ہے کیونکہ مذہب انسان کے اندر تنگ خیالی اور کم حوصلگی پیدا کرتا ہے۔ دراصل یہ اعتراض محض قلّتِ تدبّر کے نتیجہ میں پیدا ہؤا ہے۔ مگر اِس اعتراض کو درست مان لینے سے بھی یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ اس دُنیا کا کوئی خالق نہیں ہے۔ لیکن اگر واقعی کوئی خدا موجود ہے تو پھر اُس کا ماننا خواہ کچھ بھی نتیجہ پیدا کرے ہمیں یہ حق نہیں دیتا کہ ہم اس کی موجودگی سے ہی انکار کر دیں۔
حق یہ ہے کہ مذہب فتنہ وفساد کا موجب نہیں ہوتا۔ بلکہ جیسا کہ پہلے ثابت کیا جاچکا ہے کہ خدا کا خیال فطرتاً لوگوں کے دلوں میں باہم محبت و اخوّت کے جذبات پیدا کرتا ہے اور تمام قومی اور ملکی اور نسلی تعصبات کو مٹاکر ایک عالمگیر اخوتِ انسانی کا خیال قائم کرنے کا موجب ہے۔ بدقسمتی سے مذہب پر تنگ خیالی کا یہ اعتراض کرنے والے مذاہب کی تعلیمات سے بے خبر ہیں کیونکہ تمام مذاہب کے متبعین بھی اپنے مذاہب کی حقیقت سے دُور پڑے ہوئے ہیں اور خود مذاہب کی شکل و صورت بھی انسانی دست بُرد سے بُری طرح مسخ ہوچکی ہے۔
دراصل دُنیا میں قیام امن اور نسلِ انسانی کی دماغی روشنی کیلئے مذہب سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ کسی مذہب کے اُس زمانہ کو لے لو جس میں اس کے متبعین اس مذہب کی حقیقت پر قائم نظر آتے ہیں اور پھر تم دیکھو گے کہ وہ لوگ کیسے عالی حوصلہ اور وسیع خیال اور ہمدرد بنی نوع انسان اور امن اور صلح کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ لیکن جس زمانہ کے متبعین اپنے مذہب کی حقیقت سے دُور ہوگئے ہوں تو اُن میں تنگ خیالی، کم حوصلگی، بیجا تعصباتِ ملّی، معمولی اختلافات پر لڑائی کا خیال اور امن شکنی کی طرف میلان نظر آئے گا۔ چنانچہ آجکل دوسری قوموں کی طرح مسلمان کہلانے والے بھی تنگ خیالی کے مہلک مرض میں مبتلا ہیں اور بے جا تعصباتِ ملّی نے ان کی انسانیت کے اعلیٰ اور اشرف جذبات کو مغلوب کر رکھا ہے اور بات بات میں بیہودہ اختلافات پیدا کر کے امن شکنی کی طرف مائل ہوجانا ان کی عادت میں داخل ہوگیا ہے۔ مگر کیا یہ اسلام کا قصور ہے؟ ہرگز نہیں۔ جب مسلمان اسلام پر قائم تھے اور اسلامی رُوح ان کے اندر زندہ تھی اس وقت وہ ایک روشن خیال، وسیع حوصلہ، دوسروں کے ہمدرد، امن پسند اور دوسروں کی خاطر ایثار دکھانے والی قوم تھے۔
اسی طرح دوسری قوموں کا حال ہے۔ عیسائیت جب قائم ہوئی تو اس کے متبعین نے قربانی وایثار اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کا بہت اچھا نمونہ دکھایا۔ لیکن جب مسیحی لوگ عیسائیت کی اصل تعلیم اور مسیحی رُوح سے دُور جا پڑے تو پھر انہوں نے بھی دُنیا میں ظلم وستم کا طوفان برپا کر دیا۔ چنانچہ Reformation کے زمانہ کی تاریخ ہمارے دعویٰ کا کافی ثبوت ہے۔ ہندو اور سکھ اور دوسرے مذاہب کی تاریخیں بھی کم وبیش یہی نظارہ پیش کرتی ہیں بلکہ بعض لحاظ سے ہندوؤں اور سکھوں میں یہ منظر زیادہ بھیانک صورت میں نظر آتا ہے۔ پس جو الزام مذہب پر لگایا جاتا ہے وہ مذہب پر نہیں پڑتا بلکہ وہ مذہب کی رُوح سے دُور جاپڑنے کا نتیجہ ہے۔
چونکہ بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کی تمام اقوامِ عالَم مذہب کی رُوح کو ضائع کرچکی ہیں اس لئے کوتہ بین نکتہ چینوں کو اعتراض کرنے کا اچھا موقعہ مِل گیا ہے۔ اسی لئے خداوند قدوس نے کمال شفقت سے اپنے ایک پاک بندہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو اِس زمانہ میں ہدایتِ خلق کے لئے مبعوث فرمایا ہے تاکہ اُن اعتراضات کا ازالہ ہو جو لوگوں کی بداعمالی کی وجہ سے مذہب پر پڑتے تھے ، اور لوگ اپنے آسمانی آقا کو پہچان کر پھر بھائی بھائی بن جائیں۔ مگر افسوس ہے کہ لوگوں نے اس مصلح ربّانی کے خادموں کے ساتھ بھی وہی جاہلانہ اور متعصّبانہ طریق اختیار کر رکھا ہے جو ان لوگوں کا شیوہ ہے۔ چنانچہ کئی بے گناہ احمدی نہایت ظالمانہ طور پر شہید کردئیے گئے اور اس طرح غیروں کو یہ اعتراض کرنے کا موقعہ مل گیا کہ اسلام جبرو تشدّد اور بے جا تعصّب کی تعلیم دیتا ہے۔
دوسرا جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ مذہب جغرافیائی حدود یا نسلی قیود میں محصور نہیں ہوتا بلکہ مذہب اُن عقائد، خیالات اور ضابطۂ عمل کا نام ہے جو کوئی شخص حقوق اللہ اور حقوق العباد کے متعلق رکھتا ہے اور جسے وہ حق سمجھ کر دوسروں تک وسیع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پس مذہب وہ عمارت ہے جس کے اندر ہر شخص داخل ہوسکتا ہے خواہ وہ کسی قوم یا کسی ملک سے تعلق رکھتا ہو۔ بلکہ جس کے اندر داخل ہونے کی دعوت ہر مذہبی شخص دوسروں کو دیتا ہے۔ اندریں حالات کوئی شخص جو حقیقی طور پر مذہب کی غرض کو پورا کرنا چاہتا ہے کسی صورت میں بھی تنگ خیالی یا فتنہ وفساد کا مرتکب نہیں ہوسکتا بلکہ برخلاف اس کے ایسے شخص کی یہ انتہائی کوشش ہوگی کہ وہ اپنے حُسنِ اخلاق اور پُرامن تبلیغ و تلقین سے دوسروں کو اپنا ہم خیال بنالے۔
تیسرا جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ اگر بعض اوقات مذہب جنگ وجدال کا موجب ہوتا ہے تو کیا دیگر چیزیں اس کا موجب نہیں ہوتیں؟ ملکی، قومی اور سیاسی اختلافات۔ تجارتی اور اقتصادی امور وغیرہ دُنیا میں بیسیوں باتیں اقوام و افراد کے درمیان فساد کا موجب ہوجاتی ہیں تو کیا اس وجہ سے اُن سب کو ترک کر دیا جائے؟ یعنی گویا زندگی کے تمام شعبوں کو ترک کر کے ہر شخص رہبانیت اختیار کر لے تاکہ دوسروں کے ساتھ اختلاف کی کوئی صورت ہی پیدا نہ ہو۔
پس یہ سب نادانی اور جہالت کی باتیںہیں۔ مذہب کو ہرگز کوئی خاص رشتہ تنگ خیالی یا جنگ وجدال سے نہیں ہے بلکہ جس طرح اَور باتیں اقوام و افراد کے درمیان امن شکنی کا موجب ہوجاتی ہیں اسی طرح (گو درجہ میں ان سے بہت کم) کبھی کبھی مذہبی اختلاف بھی اس کا موجب اُس وقت ہوجاتا ہے جبکہ لوگ مذہب کی حقیقت سے دُور جاپڑتے ہیں۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں یہود اور مشرکین نے مذہب کی حقیقت کو نہ سمجھتے ہوئے محض ظلم اور تعدّی کے طور پر بیگناہ مسلمانوں کے خلاف جنگ برپا کردی تو پھر مسلمانوں کو بھی خود حفاظتی کی خاطر تلوار کا جواب تلوار سے دینا پڑا ۔ اس کے ذمہ وار کلیتہً مذہب کی حقیقت کو نہ سمجھنے والے مشرکین ویہود تھے اور مسلمانوں کی طرف سے یہ جنگ صرف قیامِ امن کی خاطر تھی۔
چوتھا جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ معترضین نے مذہب کے معنے سمجھنے میں بھی غلطی کھائی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مذہب صرف خدا کے عقیدہ کا نام ہے اور جب کوئی یہ عقیدہ ترک کر دے تو اُس نے گویا مذہب کو چھوڑ دیا۔ حالانکہ گوعرفی طور پر خدا کے عقیدہ کا تارک لامذہب کہلاتا ہے، لیکن اگر مذہب کے معنوں پر غور کیا جائے تو پتہ لگتا ہے کہ کسی انسان کے لئے یہ قطعاً ناممکن ہے کہ مذہب کی قید سے مطلقاً آزاد ہوسکے۔ کیونکہ درحقیقت مذہب ان خیالات و عقائد اور طریقِ عمل کا نام ہے جو انسان موت وحیات کے متعلق اپنی زندگی میں اختیار کرتا ہے۔ پس یہ سوال تو پیدا ہوسکتا ہے کہ ہم یہ مذہب پسند نہیں کرتے یا وہ مذہب پسند نہیں کرتے لیکن جب تک انسان زندہ ہے اُسے فلسفۂ موت وحیات کے متعلق کچھ خیالات وعقائدرکھنے پڑیں گے۔ چنانچہ اگر کوئی معروف الہامی مذاہب سے منحرف ہوکر اپنے لئے خود اپنے دماغ سے کوئی نیا طریق نکال لے تو بھی ایسا شخص حقیقتاً لامذہب نہیں کہلاسکتا بلکہ جو طریقِ عمل بھی وہ اپنے لئے پسند کرے گا وہی اس کا مذہب ہوگا۔
پھر یہ کہ تم خدا کو یا تو مانو گے یا انکار کروگے۔ اگر مانو گے تو اس کی کوئی نہ کوئی صفات بھی تسلیم کرو گے۔ اگر انکار کرو گے تو اس عالم کی ابتداء اور حیات کے آغاز کے متعلق تمہیں کوئی نہ کوئی عقیدہ قائم کرنا پڑے گا۔ پھر مختلف لوگوں یعنی دوست، دشمن، رشتہ دار، غیر رشتہ دار، خاوند، بیوی، خادم، آقا، بادشاہ، رعایا وغیرہ وغیرہ کے ساتھ معاملہ کرنے میں تمہیں کوئی نہ کوئی طریق عمل اختیار کرنا ہوگا اور یہی خیالات اور یہی طریق عمل تمہارا مذہب کہلائے گا۔ خلاصہ کلام یہ کہ کوئی شخص مذہب کی قید سے مطلقاً آزاد نہیں ہوسکتا اور کسی کے لامذہب ہونے کا صرف یہ معنی ہے کہ وہ کسی معروف الہامی مذہب کا پیرو نہیں۔ پس یہ اعتراض کہ مذہب جنگ وجدال اور تنگ خیالی پیدا کرتا ہے ایک مضحکہ خیز بات ہے۔
علاوہ ازیں اگر لوگ الہامی مذاہب کی پیروی سے آزاد بھی ہوجائیں تو پھر بھی اُن کے اندر مذہبی خیالات موجود رہیں گے بلکہ اس صورت میں دُنیا میں مذاہب کی تعداد یقینا موجودہ تعداد سے بھی بہت زیادہ بڑھ جائے گی کیونکہ ہر شخص اور ہر گروہ اپنے خیالات کی بنیاد پر اپنا مذہب بنالے گا۔ اور ظاہر ہے کہ اس طرح اختلافات کی کثرت ہوگی جس سے آئے دن مذہب کے نام پر فتنہ و فساد ہؤا کرے گا۔
اور اگر یہ کہا جائے کہ فتنہ وفساد اور تنگ خیالی کا موجب صرف الہامی مذاہب ہوسکتے ہیں جن کا مرکزی نقطہ خدا کی ذات اور جزا سزا کا عقیدہ ہیں۔ کیونکہ ہر فرقہ اپنے آپ کو نجات یافتہ سمجھتا ہے اور دوسروں کو جہنمی قرار دیتا ہے چنانچہ ایک دوسرے کے خلاف نفرت وحقارت کے جذبات رکھتا ہے۔جبکہ غیر الہامی مذاہب خدا اور جزاسزا کا عقیدہ نہ رکھنے کی وجہ سے باہم نفرت کا موجب نہیں ہوسکتے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ شبہ فطرتِ انسانی کے بالکل خلاف ہے۔ کیونکہ دوسرے کو خطرہ کی حالت میں دیکھنے کا طبعی اور فطرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُس کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور اس کے بچانے کے واسطے کوشش کا خیال دل میں آتا ہے اور یہ بالکل غیر طبعی ہے کہ ایسے موقع پر نفرت اور حقارت کے خیالات پیدا ہوں۔ کیا اگر کوئی کسی کو دریا میں ڈوبتا ہؤا دیکھے تو اس کے دل میں نفرت و عداوت کا خیال آئے گا یا یہ کہ وہ اس کے بچانے کی کوشش کرے گا؟ اگر وہ ڈوبنے والے کو حقارت سے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو وہ انسانیت سے گِرا ہوا شخص سمجھا جائے گا اور اُس کی فطرت مُردہ قرار دی جائے گی۔ اسی طرح جو شخص اپنے مذہب کو نجات کا رستہ سمجھنے کی وجہ سے دوسروں سے نفرت کرتا ہے اور ان کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتا ہے اُس شخص کے متعلق یہ نہیں سمجھا جاسکتا کہ وہ مذہب کی حقیقت پر قائم ہے۔
علاوہ ازیں مذہب کے انعامات اور افضال مادی مال کی طرح نہیں ہیں کہ اُن کا وارث اس بات سے خائف ہوکہ اگر وہ کسی دوسرے کو مل گئے تو مَیں اس سے محروم ہوجاؤں گا۔ بلکہ وہ ایک ایسی چیز ہے کہ جو دوسروں کو بتانے سے ترقی کرتی ہے۔ پس ایک لامذہب سے اس وجہ سے نفرت کرنا بھی خارج از سوال ہے۔
پس کسی جہت سے بھی دیکھا جائے خدا کا عقیدہ یا مذہب کسی صورت میں بھی تنگ خیالی اور فتنہ و فساد کا موجب نہیں ہوسکتا۔ اور اگر کوئی شخص باوجود ایک مذہبی آدمی کہلانے اور خدا پر ایمان لانے کا دعویٰ رکھنے کے، تنگ خیالی اور مذہب کے نام پر فتنہ و فساد کا موجب ہوتا ہے اور بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی کی بجائے کینہ وعداوت کے خیالات رکھتا ہے تو وہ ہر گز حقیقی معنوں میں مذہبی آدمی نہیں کہلاسکتا اور اس کا جسم یقینا مذہب کی مقدّس روح خالی ہے۔ اور اس کا خُدا پر ایمان لانے کا دعویٰ صرف ایک زبانی دعویٰ ہے۔
یہ درست ہے کہ ایک حقیقی مومن باللہ کے ہاتھ سے بھی بعض اوقات دوسروں کو تکلیف پہنچ جاتی ہے لیکن وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک مہربان ڈاکٹر اپنے مریض کو ایک کڑوی دوا پینے پر مجبور کرتا ہے۔ اور بے شک ایک رُوحانی آدمی بھی بعض اوقات جنگ میں بعض لوگوں کے قتل کئے جانے کا موجب ہوجاتا ہے، لیکن اس کا یہ فعل ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک ہمدرد جراح کسی بیمار کی جان بچانے کے لئے اُس کا کوئی عضو کاٹ کر الگ کر دیتا ہے۔ گویا وہ ایک دردمند دل کے ساتھ زیادہ قیمتی چیز کے بچانے کے لئے کم قیمتی چیز کو قربان کر دیتا ہے۔
خُدا کا عقیدہ بدی کے ارتکاب سے روکتا ہے
دوسرا بڑا فائدہ جو خدا پر ایمان لانے کے نتیجہ میں دنیا کو عمومی طور پر حاصل ہوسکتا ہے یہ ہے کہ خدا پر ایمان لانا انسان کو بدی کے ارتکاب سے روکتا ہے۔
دراصل گناہ اور جُرم سے باز رہنے کا خیال انسان کو امکاناً تین طرح پیدا ہوسکتا ہے۔ اوّل یہ کہ انسان کو یہ خیال ہوکہ اگر مَیں بدی سے باز رہا تو مجھے اس کے بدلے میں کوئی انعام حاصل ہوگا۔ دوسرے یہ کہ اگر مَیں گناہ کا مرتکب ہؤا تو مجھے اس کے بدلے میں کوئی سزا بھگتنی پڑے گی۔ اور تیسرے یہ کہ کسی شخص کا علم و عرفان ہی ایسا ترقی کر جائے کہ وہ بدی سے محض اس وجہ سے اجتناب کرے کہ وہ بدی ہے۔
اِن تینوں میں سے تیسری روک صرف خاص لوگوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور گو اس روک سے فائدہ اُٹھانے میں بھی ایک مومن باللہ ایک غیر مومن پر یقینا فوقیت رکھتا ہے مگر باقی دو روکیں تو بالبداہت ایسی ہیں کہ خدا کا عقیدہ اُن میں بہت بڑا دخل رکھتا ہے کیونکہ جو کوئی بھی خدا پر ایمان لاتا ہے وہ اس بات پر بھی یقین رکھتا ہے کہ نیکی کرنے کی صورت میں خدا مجھ سے خوش ہوگا اور بدی کرنے پر ناراض ہوگا۔ پس جس شخص کا ایمان محض دکھاوے کا ایمان نہیں وہ یقینا دوسروں کی نسبت گناہ سے زیادہ بچا ہؤا ہوگا بلکہ جتنا جتنا وہ اپنے ایمان میں زیادہ پختہ اور زیادہ کامل ہوگا اتنا ہی وہ گناہ اور جرائم سے زیادہ دُور اور زیادہ متنفر رہے گا۔
علاوہ ازیں خدا پر ایمان لانے والا خُدا کو حاضر و ناظر اور عالم الغیب بھی یقین کرتا ہے۔ اور یقینا یہ خیال کہ میرا خدا مجھے دیکھ رہا ہے اُسے بدی کے ارتکاب سے باز رکھے گا۔ اور اگر کبھی کسی غفلت کی حالت میں ایسا شخص گناہ کا مرتکب بھی ہوگا تو فوراً اس کا ایمان اُسے نادم کر کے آئندہ کے لئے ہوشیار کر دے گا۔
یہ اعتراض کہ خدا پر ایمان لانے والے بھی تو بدی کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔ لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ لوگ وہی ہوتے ہیں جو اپنے ایمان میں کمزور ہوتے ہیں یا جو صرف نام کا ایمان ورثہ میں پاتے ہیں اور اس ایمان کے اندر زندگی کی رُوح نہیں ہوتی۔ واِلّا حقیقی طور پر ایمان لانے والے لوگ یقینا گناہوں سے بہت بچے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور اگر کبھی وہ ٹھوکر کھاتے ہیں تو یہ ٹھوکر محض عارضی ہوتی ہے جس کے بعد وہ فوراً سنبھل کر ہوشیار ہوجاتے ہیں۔
خُدا کا عقیدہ نیکی کی طرف رغبت پیدا کرتا ہے
تیسرا بڑا فائدہ جو ایمان باللہ سے دُنیا کو حاصل ہوسکتا ہے یہ ہے کہ خدا کا عقیدہ نیکی کی طرف رغبت پیدا کرتا ہے۔
خُدا کا عقیدہ حقائق الاشیاء کی تحقیق میں ممد ہے
چوتھا بڑا فائدہ جو ایمان باللہ سے دنیا کو حاصل ہوتا ہے یہ ہے کہ خدا کا عقیدہ حقائق الاشیاء کی تحقیق میں بہت ممد ومعاون ہے۔ کیونکہ جو شخص اس دُنیا کو بغیر کسی خالق و مالک ہستی کے یقین کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ دُنیا محض کسی اتفاق کا نتیجہ اور ارتقاء کے اندھے قانون کے ماتحت اپنی موجودہ شکل و صورت کو پہنچی ہے وہ کبھی بھی حقائق الاشیاء اور قانونِ نیچر کی دریافت میں اس شوق اور اُمید کے ساتھ منہمک نہیں ہو سکتا جو اس معاملہ میں ایک مومن باللہ کو حاصل ہوسکتا ہے۔ مومن باللہ کا دل اس یقین سے پُر ہوتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز میرے خدا نے ایک خاص غرض و غایت کے ماتحت پیدا کی ہے اس لئے کوئی چیز بھی عبث اور باطل نہیں بلکہ اپنی خلقت کی غرض و غایت کے ماتحت اپنے مفوّضہ کام کو سر انجام دے رہی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ یقین حقائق الاشیاء کی تحقیق کے معاملہ میں انسان کے اندر ایک خاص ذوق و شوق اور اُمید ورجا کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے جو بغیر اس کے کبھی بھی حاصل نہیں ہوسکتی۔ اور یہ کیفیت دُنیا کی علمی ترقی کے لئے ایک عظیم الشان سہارے کا کام دیتی ہے۔
اگر کوئی معترض کہے کہ علمی محققین زیادہ تر مغرب میں پائے جاتے ہیں جہاں دہریت کے خیالات بلادِ مشرقی کی نسبت زیادہ رونما ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خیال سراسر دھوکہ ہے کیونکہ مغرب کے لوگ مذہباً دہریہ نہیں ہیں اور خواہ ان کا ایمان کیسا ہی کمزور سمجھا جائے وہ بہرحال خدا کے منکر نہیں سمجھے جاسکتے اور یہ بات ان کے مسلّمہ معتقدات میں داخل ہے کہ ہر چیز خدا کی پیدا کردہ ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ چونکہ مغرب کے لوگ ظاہری علوم میں زیادہ ترقی یافتہ ہیں اس لئے اُن کے، انفرادی یا قومی، سارے خیالات دنیا کے سامنے آجاتے ہیں۔ لیکن مشرقی ممالک میں بوجہ تعلیم کی کمی کے لوگوں کے انفرادی خیالات دنیا کے سامنے بہت کم آتے ہیں۔ اور علم النفس کے مسئلہ کے ماتحت یہ بھی ممکن ہے کہ بعض صورتوں میں مشرقی لوگ خود بھی اپنے خیالات کو اچھی طرح نہ سمجھتے ہوں کیونکہ تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان لوگوں میں ذہنی محاسبہ کی عادت بہت کم ہے۔ نیز مغربی ممالک میں دہریت کے خیالات علمی ترقی کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ پس زیادہ سے زیادہ یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ علمی ترقی دہریت کا باعث ہوئی ہے نہ یہ کہ دہریت کے اثر نے علمی ترقی کی طرف میلان پیدا کیا ہے۔
لیکن علمی ترقی دہریت کا باعث نہیں ہوسکتی۔ بلکہ اس کے نتیجہ میں لازماً ایک بیداری پیدا ہوتی ہے اور وہ جمود جو جہالت کا نتیجہ ہؤا کرتا ہے زندگی کی حرکت سے بدلنا شروع ہوجاتا ہے جس کے نتیجہ میں بعض لوگ جن کی ذہنی نشو ونما صحیح راستہ پر ترقی یافتہ نہیں ہوتی وہ گردوپیش کے حالات سے متأثر ہوکر یا کسی غلط فہمی میں مبتلا ہوکر غلط رستہ پر چل پڑتے ہیں، اُن کے واسطے یہی علمی بیداری ٹھوکر کا موجب ہوجاتی ہے۔ مگر جہالت کی تاریکیوں میں گھرے ہوئے لوگ، بوجہ اپنے جمود کے، ایک ہی جگہ ٹھہرے رہتے ہیں اس لئے ان کو غلط رستہ پر چلنے کا موقع ہی پیش ہی نہیں آتا۔ کسی شاعر نے خوب کہا ہے کہ ؎

گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں
وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ شہسوار کی شہسواری اُسے گراتی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ چونکہ شہسوار کو ہی گِرنے کا موقع پیش آسکتا ہے اسلئے وہ کبھی کبھی گِر بھی جاتا ہے۔
اور یہ سوال کہ دہریوں میں بھی حقائق الاشیاء کی تحقیق کا شوق رکھنے والے پائے جاتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس قسم کی علمی تحقیق کا شوق صرف خدا کے عقیدہ سے ہی پیدا ہوسکتا ہے اور دُنیا کی اَور کوئی چیز اس کا باعث نہیں ہوتی۔ ہمارا دعویٰ تو صرف یہ ہے کہ خدا کا عقیدہ حقائق الاشیاء کی تحقیق میں خاص طور پر ممدومعاون ہوتا ہے اور اگر دیگر حالات برابر ہوں تو ایک مومن باللہ یقینا ایک کافر باللہ کی نسبت حقائق الاشیاء کی دریافت میں زیادہ طبعی جوش رکھنے والا، زیادہ شائق، زیادہ پُر اُمید اور زیادہ مستقل مزاج ثابت ہوگا۔
خُدا کا عقیدہ اطمینانِ قلب پیدا کرتا ہے
پانچواں بڑا فائدہ جو خدا کے عقیدہ سے دُنیا کو حاصل ہوسکتا ہے یہ ہے کہ خُدا پر ایمان لانا انسان کے دل میں ایک گونہ اطمینان کی حالت پیدا کردیتا ہے۔ اور یہ اطمینانِ قلب زندگی کے ہر شعبہ میں انسان کے کام آتا ہے۔ جبکہ ایک دہریہ کا دل ہمیشہ بے اطمینانی اور بے چینی اور عدم یقین کے خیالات کا شکار رہتا ہے کہ ممکن ہے میری تحقیق غلط ہو اور میرے اوپر واقعی کوئی خالق و مالک موجود ہو۔
دراصل دہریت محض ایک منفی علم ہے اور اس کی بنیاد کسی اثباتی دلائل پر قائم نہیں یعنی عموماً ایک دہریہ یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ میں نے یقینا معلوم کرلیا ہے کہ کوئی خُدا نہیں ہے۔ بلکہ وہ صرف اس حد تک رہتا ہے کہ میرے پاس خُدا کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں۔ اور نیز اس کی فطرت بھی اپنی گہرائیوں میں دہریت کو قبول نہیں کرتی اس لئے اس کے دل میں اپنے عقیدہ کے متعلق یقین اور اطمینان کی حالت کبھی بھی پیدا نہیں ہوتی اور اس کی فطرت اور نورِ عقل اور گردوپیش کے حالات اس کے دل میںایک بے چینی کی کیفیت پیدا رکھتے ہیں۔ اور یہ بے چینی اس کی زندگی کو مضطرب اور اس کے خیالات کو پریشان کردیتی ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دُنیا کے کسی کام میں بھی یکسوئی اور اطمینان نہیں پاتا۔ اس کے مقابلہ میں خُدا کا عقیدہ چونکہ ایک زبردست اثباتی بنیاد پر قائم ہے اور فطرتِ انسانی بھی اس میں اطمینان پاتی ہے اس لئے ایک مومن باللہ کو نسبتاً زیادہ جمعیت ِخاطر اور یکسوئی حاصل رہتی ہے اور وہ اپنے ہر کام میں اپنی حالتِ مطمئنہ سے فائدہ اُٹھاتا ہے۔
علاوہ ازیں ایک دہریہ کو یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ شاید کوئی خُدا ہو اور مَیں اس کا انکار کر کے یُونہی نقصان اُٹھاؤں اور یہ اندیشہ اس کے دل کو مضطرب رکھتا ہے۔ لیکن اگر بالفرض ایک مومن باللہ کو یہ خیال پیدا بھی ہوکہ شاید کوئی خدا نہ ہوتو پھر بھی اس کے اندر کوئی اضطراب پیدا نہیں ہوسکتا۔ الغرض ہر طرح خدا کا عقیدہ اطمینانِ قلب کا موجب ہوتا ہے اور خدا کا انکار بے چینی کا باعث۔ اسی لئے فرمایا: اَلَا بِذِکْرِاللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (الرّعد:29) یعنی اے لوگو! خوب اچھی طرح سُن لو کہ دل کا اطمینان صرف خدا کے تصور اور اس کے ذکر سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔
اور چونکہ انسان کے ہر کام میں اطمینان قلب کی ضرورت ہے اس لئے ثابت ہؤا کہ خدا کا عقیدہ اس رنگ میں بھی دُنیا کی ترقی وبہبود میں بہت دخل رکھتا ہے۔
خُدا کے عقیدہ سے اخلاق کا معیار قائم ہوتا ہے
چھٹا بڑا فائدہ جو خدا پر ایمان لانے کے نتیجہ میں دنیا کو حاصل ہوسکتا ہے یہ ہے کہ خُدا کا عقیدہ دُنیا میں اخلاق کا معیار قائم کرنے کا موجب ہے۔ علم الاخلاق (Ethics) کے جاننے والے اِس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اخلاق کا کوئی معیار قائم کرنا کس قدر مشکل کام ہے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ اس فن کے ماہرین نے بڑی بڑی بحثوں کے بعد جو تعریف نیکی کی کی ہے اور جومعیار اخلاق کا قائم کیا ہے اس میں اس قدر اختلاف ہے کہ عقل حیران ہوتی ہے۔ لیکن اس کے مقابلہ میں اگر ہم ایمان باللہ کے دائرہ میں داخل ہوکر غور کریں تو بات بالکل صاف ہوجاتی ہے اور وہ یہ کہ انسان ایک بالاہستی کا پیدا کردہ ہے اور اس کے اخلاق کا معیار سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اپنے آپ کو اپنے خالق و مالک کی صفات کے رنگ میں رنگین کرے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ: تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللّٰہِ یعنی ’’اے لوگو! تم اپنے اخلاق کو خدا کے اخلاق کے مطابق بناؤ۔‘‘
اسی لئے اسلام یہ بھی تعلیم دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی صفات کا ظلّ بنا کر پیدا کیا ہے اور جملہ صفات (سوائے ان صفات کے جو الوہیت کیلئے مخصوص ہیں) انسان کی فطرت کے اندر بطور تخم کے ودیعت کردی ہیں۔ ان فطری تخموں کی صحیح آبپاشی اور ترقی کیلئے اس نے اپنے پاک بندوں کے ذریعہ وقتاً فوقتاً ایک ضابطۂ عمل نازل فرمایا ہے جسے شریعت کہتے ہیں اور یہی وہ معیارِ اخلاق ہے جو دُنیا کی حقیقی اصلاح اور ترقی کا موجب ہوسکتا ہے۔ پس اخلاق کا کوئی صحیح معیار اس طرح قائم کیا جاسکتا کہ انسان اپنے خالق و مالک کی صفات و اخلاق کے ساتھ اپنے آپ کو متصف کرے۔ جس کی عملی صورت یہ ہے کہ جو فطری جذبات انسان کے اندر پائے جاتے ہیں اور انہیں احکامِ شریعت کے مطابق صحیح طریق پر استعمال کر کے خدا کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کرے۔ مثلاً محبت ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا صحیح استعمال یعنی ایسا استعمال جو خدا کے رنگ میںانسان کو رنگین کر دے ایک اعلیٰ خلق ہے، وفاداری ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا صحیح استعمال ایک اعلیٰ خلق ہے، رحم ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا صحیح استعمال ایک اعلیٰ خلق ہے، غضب ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا صحیح استعمال ایک اعلیٰ خلق ہے، غیرت ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا صحیح استعمال ایک اعلیٰ خلق ہے، اور اسی طرح اور بہت سے فطری جذبات ہیں جن کا صحیح استعمال ایک اعلیٰ خلق ہے۔ اور یہ سب جذبات فطرتِ انسانی کے اندر خالقِ فطرت کی طرف سے ودیعت کئے گئے ہیں اور جہاں تک انسان کا تعلق ہے یہ سب جذبات اپنی ذات میں نہ اچھے ہیں اور نہ بُرے بلکہ محض سادہ فطری جذبات ہیں اور صرف ان کا صحیح یا غلط استعمال ان کو اچھا یا بُرا خلق بناتا ہے اور اس صحیح اور غلط استعمال کا معیار یہ ہے کہ انسان کے ان فطری جذبات کا اظہار خدائی صفات کے رنگ میں ہو جس کے علم کا ذریعہ خدا کا فعل یعنی نیچر اور خدا کا قول یعنی شریعت ہے اور اس کے سوا علم الاخلاق کی پیچیدہ گتھیوں کا اَور کوئی حل نہیں۔ اور یہ عظیم الشان فائدہ ایمان باللہ سے ہی دُنیا کو حاصل ہوسکتا ہے۔ (باقی آئندہ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین نومبر دسمبر 2016ء)

انصار کو خداتعالیٰ کی ہستی کے عقلی دلائل سے لیس کرنے کے لئے ایک نہایت عمدہ کتاب ’’ہمارا خدا‘‘ (جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کی تصنیف ہے) کے منتخب مضامین سے تلخیص کا سلسلہ گزشتہ چند شماروں سے شامل اشاعت کیا جارہا ہے۔ ذیل میں اس کتاب کے صفحات 201 تا 230 کی تلخیص ہدیۂ قارئین ہے:
(انتخاب و تلخیص: فرخ سلطان محمود)
……………………………………
تین قسم کی دہریت
دُنیا میں دہریہ خیال کے لوگ تین قسم کے ہیں: اوّل وہ دہریہ جو صرف یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا کا موجود ہونا ثابت نہیں ہے۔ انہی لوگوں کی کثرت ہے۔
دوسرے وہ دہریہ جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہستی باری تعالیٰ کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو دلائل کے ساتھ ثابت ہو ہی نہیں سکتا۔ ایسے لوگ بھی عملاً خدا کو نہیں مانتے۔
تیسرے وہ دہریہ جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا کا موجود نہ ہونا بعض دلائل وقرائن سے ثابت ہے۔ مگر یہ لوگ بہت ہی تھوڑے ہیں۔
گویا پہلی قسم کے دہریوں کے عقیدہ کا خلاصہ ’’عدم تسلیم بوجہ عدم ثبوت‘‘ ہے۔ دوسری قسم کے عقیدہ کا خلاصہ ’’عدم تسلیم و انکار بوجہ عدم امکانِ ثبوت و انکار‘‘ ہے اور تیسری قسم کے دہریوں کے عقیدہ کا خلاصہ ’’انکار بوجہ وجوہ انکار‘‘ ہے۔
یورپ و امریکہ کے دہریوں نے جو نام اپنے لئے پسند کیا ہے وہ اگناسٹک (Agnostic) ہے جس کے معنے نہ جاننے والے کے ہیں۔ یعنی انہوں نے اپنی پوزیشن صرف یہ رکھی ہے کہ اُن کے پاس خدا کے موجود ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔
پہلی دو اقسام کے دہریوں کے تمام اعتراضات کا جواب گزشتہ صفحات میں کئی پہلوؤں سے آچکا ہے۔ ذیل میں صرف تیسری قسم کے لوگوں کے خیالات کی تردید ہے جن کا دعویٰ ہے کہ بعض دلائل اور قرائن سے خدا کا نہ ہونا ثابت ہے۔
دہریت کی پہلی دلیل اور اُس کا ردّ
پہلی دلیل جو یہ دہریہ اپنے عقیدہ کی تائید میں پیش کرتے ہیں یہ ہے کہ اس کائنات کے متعلق امکاناً دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اسے کسی بالاہستی نے پیدا کیا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ خود بخود اپنے کسی اندرونی قانون کے ماتحت ہمیشہ سے یا کسی خاص زمانہ سے چلتی چلی آرہی ہے۔ ان دو صورتوں کے علاوہ اور کوئی صورت عقلِ انسانی تجویز نہیں کرتی اور گویہ دونوں صورتیں عقل انسانی کے ادراک سے بالا ہیں۔ لیکن دوسری صورت کو تسلیم کر لینا زیادہ آسان ہے بہ نسبت اس کے کہ اس کائنات کے اوپر کسی بالاہستی کو مان کر پھر اس کے متعلق یہی صورت تسلیم کی جائے کہ وہ خود بخود ہمیشہ سے ہے۔
قبل ازیں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ یہ کارخانۂ عالم اور ذاتِ باری تعالیٰ اپنے حالات وصفات کے اختلاف کی وجہ سے ایک حکم میں نہیں آسکتے اور نہ یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ دونوں کو ہمیشہ سے خود بخود ماننا ایک ہی رنگ رکھتا ہے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ جہاں خدا اپنے صفاتِ الوہیّت کی وجہ سے اس بات کو چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہو اور اس کے اوپر کوئی بالاہستی نہ ہو وہاں یہ دُنیا ومافیہا اپنے حالات سے یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ خود بخود ہمیشہ سے نہیں ہیں اور نہ اس بات میں کوئی امر مانع ہے کہ ان کے اوپر کوئی اور بالا ہستی موجود ہو۔ پس یہ بالکل غلط ہے کہ دُنیا کو ہمیشہ سے ماننا نسبتاً زیادہ آسان اور زیادہ سادہ اور محفوظ ہے بلکہ دُنیا کو ہمیشہ سے ماننے میں اس قدر اشکال پیش آتے ہیں کہ جن کا کوئی حل نہیں ہوسکتا۔ ہاں البتہ دُنیا کو مخلوق مان کر اُس کے خالق کو ہمیشہ سے ماننایقینا زیادہ سادہ اور زیادہ محفوظ امر ہے۔
دہریت کی دوسری دلیل اور اُس کا ردّ
ہستی باری تعالیٰ کے انکار کی دوسری دلیل ان دہریوں کی طرف سے یہ پیش کی جاتی ہے کہ قانونِ قدرت اس قدر کامل ومکمل ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے قطعاً کسی بالاہستی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اور بلاضرورت کسی بالاہستی کو ماننا ایک وہم ہے۔ اس دلیل کے ردّ میں پہلے بتایا گیا تھا کہ کس طرح مکمل قانونِ قدرت کے باوجود ایک بالاہستی کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ اور باوجود اس سِلسلۂ اسباب و علل کے اس دُنیا میں ایک خاص غرض وغایت اور ایک خاص منشاء حیات کا پایا جانا ایک صانع ومتصرّف ہستی پر دلالت کررہا ہے۔ دراصل یہ نہیں سوچا گیا کہ گو اسباب و علل اپنی ذات میں بھی ایک صانع اور نگران ہستی کو چاہتے ہیں لیکن اگر ایسا نہ بھی سمجھا جائے تو پھر بھی وہ ایسے اوزار کی حیثیت تو بہرحال ضرور رکھتے ہیں جن سے ایک کاریگر کوئی چیز تیار کرتا ہے اور کاریگر کا وجود اُسی نتیجہ سے ظاہر ہؤا کرتا ہے۔ پس حق یہ ہے کہ ان اسباب کا وجود اور ان کا نتیجہ جو اس کائنات کے ایک خاص غرض و غایت کے ماتحت چلنے سے ظاہر ہورہا ہے ایک بالاہستی کی موجودگی کا بیّن ثبوت ہے۔
دہریت کی تیسری دلیل اور اُس کا ردّ
تیسری دلیل جو بعض دہریوں کی طرف سے خدا کی ہستی کے خلاف پیش کی جاتی ہے ، وہ ارتقاء کی تھیوری ہے۔ یعنی دُنیا میں نظر آنے والی چیزوں کی صورت اور حالت ابتداء میں ادنیٰ درجہ کی تھی جو آہستہ آہستہ ارتقاء کر کے اپنی موجودہ شکل و صورت کو پہنچی ہیں۔ یعنی ہر چیز اپنے ماحول کے مناسب حال صورت اختیار کرتی گئی اور جو چیز ماحول کے مطابق تغیّر پذیر نہیں ہوسکی وہ آہستہ آہستہ ضائع ہوگئی۔ اس سے دہریہ استدلال کرتے ہیں کہ اس عالم میں کوئی Design or Plan نہیں ہے بلکہ موجودہ کائنات محض اتفاقی حالات کا نتیجہ ہے۔
اِس دلیل کا اصولی ردّ بھی پہلے ہوچکا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ماحول کے مناسب حال نہ ہونے کی وجہ سے بعض چیزوں کا ضائع ہوجانا اور بعض کا اپنے آپ کو ماحول کے مطابق ڈھال لینا اس حکمت کا نتیجہ ہے کہ خالقِ کائنات اپنے باغ کی ترقی کیلئے درختوں کی کانٹ چھانٹ کرتا رہتا ہے اور جو پودے کسی نقص کی وجہ سے اپنی پیدائش کی غرض کو پورا کرنے سے قاصر رہتے ہیں انہیں کاٹ کر گراتا جاتا ہے تاکہ دیگر پودے زیادہ آزادی کے ساتھ نشوونماپائیں۔
اور اگر یہ کہا جائے کہ جب خدا کو یہ علم تھا کہ باغِ کائنات کا فلاں فلاں پودا کمزور رہے گا اور اپنی پیدائش کی غرض کو پورا نہیں کر سکے گا تو اُس نے اُسے پیدا ہی کیوں کیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا نے تو تمام چیزوں کو ایک خاص غرض وغایت کے ماتحت پیدا کیا ہے اور اس کا یہی منشا ہے کہ وہ اس غرض و غایت کو پُورا کریں۔ لیکن اگر کوئی چیز اپنے اندر کوئی نقص پیدا کر لتی ہے اور زندگی کے میدان میں اپنی خلقت کی غرض کو پورا کرنے سے قاصر رہتی ہے تو قانونِ قدرت کے ماتحت ہی وہ گرجاتی ہے۔ گویا کہ دونوں قانون خدا ہی کے بنائے ہوئے ہیں۔
اسی طرح ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے رُوحانی اور مادی ترقی کے لئے پیدا کیا ہے لیکن بعض انسان اپنے اعمال کی وجہ سے اس غرض کو پورا نہیں کرتے اور پھر وہ بوسیدہ شاخوں کی طرح کاٹ دئیے جاتے ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جو چیزیں ضائع ہوجاتی ہیں بعض صورتوں میں اُن کی پیدائش کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک عرصہ تک قائم رہ کر دوسری چیزوں کی ترقی میں امداد دیں۔ جیسا کہ زراعت میں بھی بعض اوقات بعض پودے لگاتے ہوئے بعض دوسرے پودے لگائے جاتے ہیں جنہیں Fillers کہتے ہیں اور پھر جب اصل پودے اچھی طرح مستحکم ہوجاتے ہیں تو یہ زائد پودے ضائع کر دئیے جاتے ہیں کیونکہ اب اِن کی پیدائش کی غرض پوری ہوچکی ہوتی ہے۔
علاوہ ازیں سائنس سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ بعض چیزوں کا مرنا ہی اپنی ذات میں دوسری چیزوں کی زندگی اور استحکام اور ترقی کا موجب ہوتا ہے اور اس لئے ان کی پیدائش کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ خود مر کر دوسروں کی زندگی اور ترقی کا باعث بنیں۔ الغرض بعض چیزوں کا ایک وقت تک چل کر ضائع ہوجانا اور بعض کا قائم رہنا اور ترقی کرجانا یہی ثابت کرتا ہے کہ اس دُنیا کے اوپر ایک مُدْرک بالارادہ حکیم وعلیم ہستی موجود ہے جو حکیمانہ طور پر دُنیا کے کارخانہ کو چلا رہی ہے۔
دہریت کی چوتھی دلیل اور اس کا ردّ
چوتھی دلیل جو دہریوں کی طرف سے ہستی باری تعالیٰ کے خلاف پیش کی جاتی ہے وہ بھی مسئلہ ارتقاء پر مبنی ہے۔ یعنی کہا جاتا ہے خلقِ عالَم اور خلقِ آدم کے متعلق مذہبی تعلیم مسئلہ ارتقاء کی روشنی میں غلط ثابت ہوگئی ہے پس جب مذاہب کی تعلیم باطل ہوگئی تو مذاہب میں موجود خدا کا عقیدہ بھی خود بخود باطل اور غلط ثابت ہوگیا۔
اس دلیل کے متعلق بھی مفصّل بحث کی جاچکی ہے کہ مسئلہ ارتقاء جس صورت میں ڈارون نے پیش کیا ہے اس کی تفصیلات سے بہت سے سائنسدان اتفاق نہیں کرتے بلکہ یہ تھیوری اپنی موجودہ صورت میں بالکل ردّ ہی کی جاچکی ہے۔
دہریت کی پانچوں دلیل اور اُس کا ردّ
پانچویں دلیل دہریوں کی طرف سے یہ پیش کی جاتی ہے کہ قانونِ نیچر بعض صورتوں اور بعض حالات میں اس طرح اندھا دھند طریق پر چلتا ہے کہ گویا یہ کسی صاحب شعور ہستی کا پیدا کردہ نہیں ہے بلکہ کسی اندرونی تغیر یا سِلسلۂ اسباب وعلل کے نتیجہ میں یہ سب کچھ چل رہا ہے۔ مثلاً بعض اوقات غیرمعمولی حادثات کا پیش آنا اور اُس کے نتیجہ میں بے گناہ لوگوں کا نقصان اُٹھانا۔ وباؤں اور بیماریوں کا پھیلنا۔ مصائب و آلام کا پیش آنا۔ بعض بچوں کا معذور پیدا ہونا۔ یہ سب باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دُنیا کے اوپر کوئی خدا وغیرہ نہیں ہے ورنہ یہ اندھیرنگری اور مصائب ہرگز نہ ہوتے۔ اس اعتراض کا جواب ذیل میں دیا جاتا ہے۔
قانونِ نیچر اور قانون شریعت میں امتیاز کرنا ضروری ہے
دراصل معترضین نے ان دوقسم کے قوانین پر غور نہیں کیا جو خدا کی طرف سے اِس دُنیا میں جاری ہیں اور یہی سمجھ رکھا ہے کہ دُنیا کا سارا کاروبار ایک ہی قانون کے ماتحت چل رہا ہے۔ ایک قانونِ نیچر ہے جو نظامِ عالم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور سلسلۂ اسباب و علل اور خواص الاشیاء کے ماتحت جاری ہے اور جس کے اثرات و نتائج اسی دُنیا میں ساتھ ساتھ رُونما ہوتے جاتے ہیں۔ دوسرا قانونِ شریعت ہے جو انسان کے اخلاق و رُوحانیات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور انبیاء ومرسلین کے ذریعہ دُنیا میں نازل ہوتا رہا ہے اور جس کی جزا سزا کے لئے بعد الموت کا وقت مقرر ہے۔ مندرجہ بالا اعتراض ان دو قوانین کو مِلاجُلا دینے کے نتیجہ میں پیدا ہؤا ہے۔
قانونِ نیچر یہ ہے کہ دُنیا کی ہر چیز اور عمل میں ایک معیّن فطری تاثیر رکھی گئی ہے جو اس کے طبعی نتیجہ کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ مثلاً یہ بات قانونِ نیچر کا حصہّ ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی زہر کسی جاندار چیز کے اندر اُس مقدار میں جائے گا جو اُسے مار دینے کیلئے کافی ہے تو اُس کا طبعی نتیجہ رونما ہوگا سوائے اس کے کہ قانونِ نیچر کا ہی کوئی دوسرا قانون جو اُس کا اثر کے مٹانے کیلئے مقرر ہے دخل انداز ہو کر اس کے اثر کو مٹادے۔ اسی طرح یہ بات قانونِ نیچر کا حصہ ہے کہ اگر کسی چھت کی کمزوری کسی وقت اس حد کو پہنچ جائے کہ وہ قائم نہ رہ سکے تو وہ گِر جائے گی۔ اور یہ بات بھی اسی قانونِ نیچر کا حصّہ ہے کہ گرنے والی چھت کے نیچے اگر کوئی شخص آئے گا تو وہ مر جائے گا سوائے اس کے کہ اس قانون کے اثر کو مٹادینے والا کوئی اَور قانون درمیان میں دخل انداز ہوجائے۔ اسی طرح جو شخص غرقاب پانی کے اندر جاتا ہے اور وہ تیرنا نہیں جانتا وہ ڈوب جائے گا سوائے اس کے کہ کوئی اور قانون اُسے بچالے۔ یعنی اس عظیم الشان مشین (کائنات) کے پہئے ہر وقت حرکت میں ہیں اور ان کے لئے اپنے اور بیگانے کا کوئی سوال نہیں ہے (اگرچہ مستثنیات کو الگ رکھ کر جن کے لئے ایک الگ مستقل اُصول ہے جو خدا کی تقدیر خاص سے تعلّق رکھتے ہیں اور عموماً انبیاء واولیاء کے ذریعہ دُعاؤں کی قبولیت اور معجزات وغیرہ کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں)۔
برخلاف اس کے قانون شریعت وہ ضابطۂ عمل ہے جو کوئی مذہب اپنے متبعین کے سامنے خدا کی طرف سے پیش کرتا ہے تاکہ وہ اس پر عمل پیرا ہو کر اپنے اخلاق کو درست کریں اور خُدا کا قرب حاصل کر کے اُن فیوض و برکات سے حصہ پاویں جو خُدا کے پاک بندوں کے لئے مقدّر ہیں۔ مگر اس قانون کے ماتحت ہر شخص کو اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو اس قانون کی پابندی اختیار کرے اور چاہے تو نہ کرے۔ اور اس کی جزا سزا کے لئے موت کے بعد کا وقت مقرر ہے (سوائے بعض خاص خاص نیم مخفی اثرات کے جو اسی دُنیا میں رونما ہوجاتے ہیں)۔ اسی لئے مذہبی لوگوں میں عام مقولہ ہے کہ دُنیا دارالعمل ہے اور اگلا جہان دارالجزاء ہے۔ مگر قانونِ نیچر کے لئے یہی دنیا دارالعمل ہے اور یہی دارالجزاء ہے۔ اور یہ دونوںقانون سوائے استثنائی حالات کے کبھی ایک دوسرے کے دائرہ عمل میں دخل انداز نہیں ہوتے۔
پس اگر کوئی شخص نیچر کے کسی قانون کی زَد میں آجائے تو ایسا نہیں ہوتا کہ پھر وہ اس کے اثر سے صرف اس وجہ سے محفوظ رہے کہ وہ قانون شریعت کے لحاظ سے مجرم نہیں ہے۔ مثلاً اگر کوئی متقی آدمی غرقاب پانی میں داخل ہوجاتا ہے اور وہ تیرنا نہیں جانتا تو اس کی نیکی اُسے ڈوبنے سے نہیں بچا سکے گی۔ پس ایک دہریہ کا اپنے عقیدہ کی تائید میں یہ کہنا بالکل فضول ہے کہ فلاں نیک آدمی تھا اور اس کے چھوٹے بچے تھے وہ دریا پر نہاتے ہوئے ڈوب کر مر گیا۔ جبکہ اُسی وقت ایک آوارہ مزاج آدمی دریا پر نہاکر صحیح سلامت گھر واپس آگیا۔ یا فلاں نیک سیرت بچہ چھت کے نیچے دب جانے سے مرگیا حالانکہ ایک شریر لڑکا چھت کے گرنے سے تھوڑی دیر پہلے کمرہ سے نکل گیا تھا اور وہ بچ گیا۔ وغیرہ۔
پس یہ کوئی اندھیر نگری نہیں بلکہ یہ تو نیچر کی سیاست کا ایک طبعی نتیجہ ہے جو سب کے لئے برابر ہے۔ اندھیر تو تب ہوتا کہ اگر کوئی نیچر کا قانون نہ ٹوٹتا اور پھر بھی نیچر سزا دیتی۔ یا یہ کہ قانون شریعت کا ٹوٹتا مگر سزا نیچر دیتی۔ یا یہ کہ قانون نیچر کا ٹوٹتا اور سزا شریعت دیتی۔ مگر ایسا نہیں ہوتا بلکہ سزا وہی دیتا ہے جس کا قانون توڑا جاتا ہے (سوائے مستثنیات کے)۔ دراصل بدقسمتی سے سارادھوکا یہ لگا ہے کہ واقعہ تو قانونِ نیچر کے ماتحت پیش آتا ہے اور اس کی وجہ قانونِ شریعت میں تلاش کی جاتی ہے۔
یاد رکھو کہ نیچر اور شریعت دو الگ الگ حکومتیں ہیں جو مہذّب سلطنتوں کی طرح ایک دوسرے کے نظام میں دخل نہیں دیتیں سوائے اس کے کہ خدا کی مرکزی حکومت کسی اشد ضرورت کے وقت ایک ملک کی فوج کو دوسرے ملک کی امداد کے لئے جانے کا حکم دے۔ جیسا کہ انبیاء و مرسلین کی بعثت کے وقت جبکہ دنیا کی اِصلاح کے لئے آسمان پر ایک خاص جوش ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں قانونِ نیچر کی طاقتوں کو قانونِ شریعت کی خدمت میں لگا دیا جاتا ہے چنانچہ معجزات وخوارق اسی استثنائی قانون کی قدرت نمائی کا کرشمہ ہوتے ہیں۔ مگر عام قاعدہ یہی ہے کہ قانون نیچر اور قانونِ شریعت ایک دوسرے کے دائرہ میں دخل نہیں دیتے۔ الغرض یہ سارا دھوکہ ان دونوں قانونوں کے امتیاز کو ملحوظ نہ رکھنے کے نتیجہ میں پیدا ہؤا ہے۔
تناسخ کا عقیدہ
تناسخ (Transmigration of Soul) یعنی اواگون کا عقیدہ بھی اسی غلطی پر مبنی ہے۔ کیونکہ تناسخ کے ماننے والے بھی یہی دلیل دیتے ہیں کہ بچّے دُنیا میں مختلف حالات کے ماتحت پیدا ہوتے ہیں یعنی کوئی بچّہ تندرست پیدا ہوتا ہے تو کوئی کمزور۔ کوئی آنکھوں والا تو کوئی نابینا۔ کوئی امیر کے گھر تو کوئی غریب کے گھر۔ اُن کے بقول اس سے ثابت ہؤا کہ موجودہ زندگی سے پہلے کوئی اَور زندگی بھی گزر چکی ہے جس کے اعمال کی پاداش میں بچّوں کی حالت مختلف ہوگئی ہے۔
دراصل ان لوگوں نے بھی قانونِ شریعت اور قانونِ نیچر کے امتیاز کو بُھلا کر ایک ہی قانون سے سارے واقعات کو ناپنا چاہا ہے اور یہ نہیں سوچا کہ پیدائش کے وقت کا اختلاف قانونِ شریعت کے ماتحت نہیں ہے کہ اس کے لئے گزشتہ اعمال دیکھے جائیں بلکہ یہ قانونِ نیچر کے ماتحت ہے یعنی والدین بلکہ اجداد کی جسمانی اور اقتصادی اور اخلاقی حالت سے بچہ حصّہ پاتا ہے۔ علمِ طبّ نے (جو قانونِ نیچر کا حصّہ ہے) یہ بات ثابت کر دی ہے کہ اگر والدین تندرست ہوں گے تو بچہّ بھی تندرست ہوگا اور اگر والدین کمزور ہوں گے تو بچہّ بھی کمزور ہوگا۔ حتیٰ کہ یہاں تک ثابت ہوچکا ہے کہ جس وقت مرد اور عورت مخصوص تعلق کی غرض سے اکٹھے ہوتے ہیں تو اُن کی اُس وقت کی حالت بھی پیدا ہونے والے بچہّ پر ایک گہرا اثر پیدا کرتی ہے اور اسی لئے شریعت اسلامی نے کمال حکمت سے اس بات کا حکم دیا ہے کہ مرد اور عورت جب اکٹھے ہونے لگیں تو انہیں چاہئے کہ اپنے دل کے خیالات کو پاک و صاف بنا لیں تا کہ بچہّ اُن کی اس ذہنی نیکی سے حصہّ پائے۔ قرآن شریف نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ ہر چیز اپنے دائیں بائیں اثر ڈالتی ہے (النحل:49)۔
الغرض دہریوں اور تناسخ ماننے والوں کا عقیدہ ایک ہی غلطی پر مبنی ہے۔
انسانی ترقی کیلئے قانونِ نیچر کا قانونِ شریعت سے جُدا رہنا ضروری ہے
اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ قانونِ نیچر کیوں قانونِ شریعت کا احترام نہیں کرتا یعنی ایساکیوں نہیں ہوتاکہ جب ایک شخص نیکی اور تقویٰ اختیار کرتا ہے تو وہ حادثاتِ قضاء وقدر سے بھی محفوظ ہوجائے تو اس کا پہلا جواب تو یہی ہے کہ ایسا اس لئے نہیں ہوتا کہ دونوں قوانین مختلف ہیں اور دونوں کا الگ الگ کام ہے۔
دوسرا اور حقیقی جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دو قوانین انسان کی دو قسم کی ترقیوں کے لئے جاری فرمائے ہیں۔ یعنی قانونِ نیچر انسان کی مادی ترقی کے لئے اور قانونِ شریعت اس کی اخلاقی اور رُوحانی ترقی کے لئے ہے اور خدا کا منشاء یہ ہے کہ انسان ہر جہت سے ترقی کرے۔ چنانچہ اگر ایسا ہوکہ کوئی شخص محض قانونِ شریعت کی پابندی اختیار کرنے کی وجہ سے قانونِ نیچر کا جرم کرتے ہوئے بھی اُس کے بداثرات سے بچ جائے تو یقینا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان کی مادی ترقی کا دروازہ بالکل مسدود ہوجائے گا۔ مثلاً اگر انسان کو اس کا نیک ہونا پانی کی غرقابی یا آگ کی سوزش یا بجلی کی تباہی سے بچا لے تو انسان کو کیا ضرورت ہے کہ وہ اِن چیزوں کے خواص کا مطالعہ کر کے ان کی ماہیت کو سمجھنے اور ان کو قابو میں لانے کی کوشش کرے۔ اور یقینا نتیجہ یہ ہو کہ انسان کی مادی ترقی بالکل رُک جائے ۔
پس ان دونوں قوانین کا ایک دوسرے کے کام میں دخل انداز نہ ہونا خدا کی طرف سے ایک عین رحمت کا فعل ہے۔ اور حادثات وغیرہ بھی اسی رحمت کا پیش خیمہ ہیں کیونکہ اگر دُنیا میں کسی ایک فرد پر کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اس کے نتیجہ میں جو بیداری اور اس قسم کے حادثات سے بچنے کا علاج دریافت کرنے کی طرف جو توجہ پیدا ہوتی ہے وہ آئندہ کے لئے کروڑوں انسانوں کو فائدہ پہنچا جاتی ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جو نیک اور متقی لوگ حادثات کے نتیجہ میں یا کسی اور طرح قانونِ نیچر کی زَد میں آکر بظاہر بے وقت موت کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان کے لواحقین کو بھی اُن کی اِس رنگ کی موت سے غیر معمولی صدمہ یا نقصان پہنچتا ہے اُن کے لئے اسلامی تعلیم سے ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ اُن کے واسطے اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے بعض دوسرے ذرائع رحمت کے پیدا کر دیتا ہے کیونکہ اگر خدا ایک طرف دُنیا کی بہبودی اور ترقی کے خیال سے اپنے قانون کا احترام کرواتا ہے تو دوسری طرف وہ اپنے نیک بندوں کے لئے ازحد مہربان بھی ہے اور اپنے تعلق میں سب وفاداروں سے بڑھ کر وفادار ہے اس لیے وہ ضرور ایسے موقع پر کسی اور ذریعہ سے ان کے نقصان کی تلافی کر دیتا ہے۔ مثلاً دنیوی مصیبت کی وجہ سے آخرت میں ان کو خاص انعام و اکرام کا وارث بنا دیتا ہے یا ان کے پسماندگان کو دنیا کی برکات سے حصہّ و افردے دیتا ہے یا اور کوئی ایسا طریق اختیار کرتا ہے جسے وہ اپنے رحم اور انصاف کے مطابق مناسب سمجھے اور جس سے کسی دوسرے کا حق بھی ضائع نہ ہو۔
اسی طرح جو بچیّ قانونِ نیچر کی وجہ سے کمزور پیدا ہوتے ہیں تو اس کے متعلق بھی اسلام کی یہی تعلیم ہے کہ شرعی جزا سزا کے وقت خدا تعالیٰ ان کی اس معذوری کو ضرور ملحوظ رکھے گا اور ان نقائص کی وجہ سے جن کا ازالہ ان کی طاقت سے باہر تھا ان پر مؤاخذہ نہیں کرے گا اور نہ ان کے اعمال کی جزا کو ان کی کسی خلقی کمزوری کی وجہ سے کم ہونے دے گا۔
دُنیا میں گناہ کا وجود کیوں پایا جاتا ہے؟
اس جگہ ایک اور شُبہ کا ازالہ بھی ضروری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی خُدا ہوتا تو لوگ ہرگز اس طرح گناہ اور ظُلم و ستم میں مبتلا نہ ہوتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ معترضین نے قانونِ شریعت کی حقیقت اور غرض و غایت اور حکمت کو نہیں سمجھا۔ قانونِ شریعت اس اصل پر مبنی ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ایک ضابطۂ عمل پیش کرکے ان کو سمجھا دیتا ہے کہ تمہاری اخلاقی اور رُوحانی ترقی اس کے بغیر ممکن نہیں۔ لیکن اس سمجھا دینے کے بعد وہ لوگوں کو اختیار دے دیتا ہے کہ اب تم چاہو تو اس ضابطۂ عمل کو اختیار کرو اور چاہو تو اُسے ردّ کر دو اور پھر جو اسے اختیار کرتا ہے اورجس حد تک اختیار کرتا ہے وہ اس حد تک اُس کے برکات اور نیک اثرات سے مستفیض ہوتا ہے اور اپنے خدا کا قُرب حاصل کرتا ہے۔ اور جو اسے اختیار نہیں کرتا وہ ان باتوں سے محروم رہتا ہے ۔اور اس کی یہ محرومی ہی گناہ اور جرم کہلاتی ہے۔ پس گناہ کا وجود خُدا کا پیدا کردہ نہیں ہے بلکہ وہ انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔
خُدا نے تو انسان کی فطرت میں نیکی کا تخم ودیعت کیا اور پھر اس تخم کی آبپاشی اور پرورش اور ترقی کیلئے شریعت نازل فرمائی اور نشانات و آیات کے ذریعہ لوگوں پر حجت پوری کی کہ قانونِ شریعت کی پابندی میں ہی ان کی نجات اور فلاح ہے۔ باوجود اس کے اگر پھر بھی کوئی شخص شریعت پر عمل پیرانہ ہو تو یہ اس کا اپنا قصور ہؤا نہ کہ خُدا کا۔ اور اس کی محرومی خود اس کے اپنے فعل کا نتیجہ ہوئی نہ کہ خدا کے فعل کا۔
گناہ کیا ہے؟ یہی کہ انسان خدا کے حکم کی نافرمانی کرے۔ پس گناہ انسان کے اپنے فعل کا نتیجہ ہے نہ کہ خدا کا۔ کیا خدا اس وجہ سے ہمیں ہدایت کا رستہ بتانے سے باز رہتا کہ بعض لوگ اس ہدایت کو نہیں مانیں گے؟ کیا ایک باپ اپنے بیٹے کو نصیحت کرنے سے صرف اس وجہ سے باز رہ سکتا ہے کہ شائد وہ میری نافرمانی کرکے مجرم بن جائے؟ یہ نادانی اور جہالت کی باتیں ہیں۔
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ خدا نے شریعت کا قانون ایسا کیوں نہیں بنایا کہ سب لوگ اس کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہوتے اور اس طرح گناہ کا وجود دُنیا میں پیدا ہی نہ ہوسکتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایسا ہوتا تو انسان کے پیدا کرنے کی غرض ہی باطل چلی جاتی۔ جو یہ ہے کہ انسان اپنی کوشش اور جدوجہد سے اپنے لئے اعلیٰ ترقیات کے دروازے کھولے اور اپنے اعمال سے اس کا قرب حاصل کرے۔ انعام کا حقدار بننے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انسان صاحبِ اختیار ہو۔ لیکن اگر انسان مجبور ہوتو پھر اچھے بُرے میں کوئی امتیاز نہ رہتا۔ اسی طرح جو ترقی باہمی مسابقت کے خیال کی وجہ سے حاصل ہورہی ہے وہ بھی سب رُک جاتی اور انسان گویا ایک فرشتہ کی طرح ہوجاتا جس کی نیکی دراصل کوئی نیکی کہلانے کی حقدار نہیں کیونکہ وہ اپنی خلقت سے مجبور ہے ۔ اسی لئے قرآن کریم نے بھی انسان کے متعلق فرمایا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمِ (التین:5) یعنی ’’ہم نے انسان کو جملہ مخلوقات میں سے بہترین فطرت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔‘‘
الغرض انسان کا اپنے اعمال میں صاحبِ اختیار ہونا اس کے کمال کی علامت ہے اور گناہ کا وجود اس اختیار کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔ پس گناہ خدا کا پیدا کردہ نہیں ہے بلکہ خدا کی رحمت کے انکار کا ثمرہ ہے۔ لہٰذا اس کا وجود خدا کی ہستی کے خلاف ہرگز بطور دلیل کے پیش نہیں کیا جاسکتا۔
دہریت کی چھٹی دلیل اور اُس کا ردّ
چھٹی دلیل جو دہریوں کی طرف سے ہستیٔ باری تعالیٰ کے خلاف پیش کی جاتی ہے وہ بھی فرضی اندھیر پر مبنی ہے۔ اور وہ یہ کہ اگر کوئی خدا ہوتا تو دنیا میں مہلک چیزیں پیدا نہ کرتا۔ یہ اعتراض بھی جہالت کا نتیجہ ہے کیونکہ اگر غور سے کام لیا جائے تو ذرّہ بھر شک نہیں رہتا کہ دُنیا کی کوئی چیز بھی بغیر کسی فائدہ اور غرض و غایت کے نہیں ہے اور یہ صرف انسان کے اپنے علم کی کمی ہے کہ وہ بعض چیزوں کی غرض و غایت کو نہیں سمجھتا اور ان کے فائدہ سے محروم رہتا ہے۔ جو لوگ حقائق الاشیاء کی تحقیق میں بڑھے ہوئے ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں کہ ہرچیز اپنے اندر کوئی نہ کوئی فائدہ رکھتی ہے۔ اور اسی لئے اگر اُن کو کسی چیز میں ایک وقت تک کوئی فائدہ نظر نہیں بھی آتا تو وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ اس کا وجود محض فضول اور باطل ہے۔ بلکہ وہ اس یقین پر قائم رہتے ہیں کہ زیادہ گہرے مطالعہ سے آئندہ کسی وقت اس کے اندر بھی کوئی حکمت اور کوئی فائدہ معلوم ہوجائے گا۔ مزید یہ کہ جدید علوم کی روشنی میں یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ بعض اشیاء کی ضرررسانی بالواسطہ طور پر نسل انسانی کے لئے مفید ہے۔ حتیٰ کہ سانپ اور بچھو اور مہلک بیماریوں کے جراثیم اور مختلف اقسام کے خطرناک زہر وغیرہ بھی اس خدمتِ انسانی سے باہر نہیں اور کوئی دن ایسا نہیں چڑھتا جس میں قرآن شریف کے اس قول کی صداقت ثابت نہ ہوتی ہو کہ خدا نے زمین و آسمان کی کسی چیز کو باطل نہیں پیدا کیا (صٓ: 28)۔
یہ اعتراض کہ چیزوں کے ضرررساں پہلو کیوں رکھے گئے ہیں؟
اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ خالقِ فطرت نے جس طرح مناسب سمجھا اس طرح کیا اور ہمارا یہ کام نہیں کہ نیچر کے افعال کی تفاصیل کو زیر تنقید لائیں اور نہ ہم اس کے اہل ہیں بلکہ ہمارا کام صرف یہ دیکھنا ہے کہ آیا جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے وہ اُصولی اور مجموعی طور پر حق وانصاف اور رحم وعدل پر مبنی ہے یا نہیں؟ لہٰذا جب یہ ثابت ہے کہ دُنیا کی کوئی چیز محض ضرررساں نہیں ہے بلکہ اس کے اندر یقینی فوائد مخفی ہیں اور جو چیزیں بے فائدہ اور محض ضرررساں نظر آتی ہیں وہ بھی درحقیقت ہمارے علم کی کمی کی وجہ سے ہمیں ایسی نظر آتی ہیں۔
اصل جواب مذکورہ اعتراض کا یہ ہے کہ بعض اشیاء کی ضرررسانی بعض مفید نتائج پیدا کرنے میں ممد ہوتی ہے اور اس سے بنی نوع انسان کی اخلاقی اصلاح اور مادی ترقی میں بھی بالواسطہ طور پر بڑی مدد ملتی ہے۔ ہر عقلمند میرے ساتھ اس بات میں اتفاق کرے گا کہ کبھی کبھی تکالیف اور دُکھوں کا پیش آنا انسان کے اخلاقِ حسنہ کی عمارت کی تکمیل کے لئے ازبس ضروری ہے
اور اگر کسی کو یہ شُبہ گزرے کہ اگر یہ ضرررساں جانور وغیرہ واقعی مفید ہیں تو ان کو ہلاک کیوں کیا جاتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں خود مذہب انسان کو یہ حکم دیتا ہے کہ فلاں فلاں چیز کو ہلاک کرتے رہنا چاہئے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قانونِ نیچر کا ایک عام قاعدہ توازن کا قیام ہے۔ پس ضرررساں چیزوں کا دُنیا میں حدِّ اعتدال سے بڑھ جانا بمقابلہ اُن کے فائدہ کے نقصان کا زیادہ موجب ہوسکتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے کمال حکمت سے ایک طرف تو ان چیزوں کو دنیا میں پیدا کر دیا اور دوسری طرف انسان کی طبیعت میں یہ بات ڈال دی اور بعض صورتوں میں صراحتًا حکم بھی دے دیا کہ اِن چیزوں کو دُنیا میں زیادہ نہ پھیلنے دو۔ اور اس طرح نیچر کا فطری توازن قائم کر لیا گیا۔ (باقی آئندہ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین جنوری فروری 2017ء)

انصار کو خداتعالیٰ کی ہستی کے عقلی دلائل سے لیس کرنے کے لئے ایک نہایت عمدہ کتاب ’’ہمارا خدا‘‘ (جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کی تصنیف ہے) کی تلخیص کا سلسلہ گزشتہ چند شماروں سے شامل اشاعت کیا جارہا ہے۔ ذیل میں اس کتاب کے صفحات 231 تا 255 (آخر تک) کی تلخیص ہدیۂ قارئین ہے:
(انتخاب و تلخیص: فرخ سلطان محمود)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ تحریر فرماتے ہیں:
دہریت کی ساتویں دلیل اور اس کا ردّ
فرائیڈ کے ایک نظریہّ کا بطلان

ساتویں دلیل جو بعض دہریوں کی طرف سے خُدا کی ہستی کے خلاف پیش کی جاتی ہے وہ یورپ کے بعض جدید محققین کے اس نظریہ پر مبنی ہے کہ خدا کا خیال انسانی دماغ کا ایک ردِّ عمل ہے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ ایک بچہ جہاں ایک طرف اپنے باپ کے ساتھ محبت کی مضبوط زنجیروں سے جکڑا ہوا ہوتا ہے اور اُسے اپنی حفاظت کا ذریعہ سمجھتا ہے وہاں وہ بچپن میں باپ سے ڈرتا بھی ہے۔ تو اس کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ بڑے ہو کر جب وہ باپ کے ابتدائی اثر سے باہر نکلتا ہے تو وہ اپنے ذہن میں ایک خلا محسوس کرتا ہے۔ یہی خلا اُسے بالآخر ایک ایسی خیالی ہستی کی طرف لے جاتا ہے جو اس کیلئے باپ کے تصوّر کی قائم مقام بن سکے اور یہی خیالی ہستی آخرکار اس کے ذہن میں ایک بالاہستی یعنی خدا کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔
یہ نظریہ زیادہ تر یورپ کے مشہور فلاسفر اور نامور سائنس دان سگمنڈ فرائیڈ کا پیش کردہ ہے جو 1856ء میں آسٹریا کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہؤا اور بالآخر انگلستان چلا گیا جہاں 1954ء میں فوت ہوگیا۔ فرائیڈ بہت سی کتابوں کا مصنّف اور علم النفس کے مضمون میں خصوصیّت کے ساتھ ماہر سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ خدا کے تصور اور خوابوں وغیرہ کے فلسفہ کے متعلق اس نے اسی جہت سے اعتراضات کئے ہیں۔ گو فرائیڈ کے اس نظریہّ کو خود کئی دوسرے مغربی محققین نے قابلِ قبول نہیں سمجھا مگر ضروری ہے کہ ہم اس اعتراض کا اُصولی جواب دیدیں۔
ہمارے نزدیک یہ نظریہّ دراصل احساس کمتری (Inferioirity Complex) کے نظریے کی ایک فرع ہے۔ یعنی کسی زیادہ طاقتور ہستی کے مقابل پر اپنی کمزوری اور اُس طاقتور ہستی کی برتری کا احساس۔
مگر فرائیڈ کے متعلق یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اگرچہ وہ یہودی تھا مگر اُس کی زندگی مسیحیت کے ماحول میں گزری اور یہ خیال بھی مسیحیت کی تعلیم سے پیدا شدہ معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح ناصریؑ کی تعلیم میں خدا کو استعارۃً باپ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے اور بعد میں آنے والے مسیحیوں نے تو سچ مچ خُدا کو باپ قرار دے کر مسیحؑ کو نعوذ باللہ اُس کا خود زادہ جنسی بیٹا تسلیم کیا ہے۔
بعض اوقات سمجھدار لوگ بھی ’’امکان ‘‘ اور ’’واقعہ‘‘ میں فرق نہیں کرتے۔ حالانکہ دُنیا میں لاکھوں باتوں کا امکان موجود ہے، مگر اُن میں سے کتنی ہیں جو عملاً بھی اسی طرح وقوع میں آتی ہیں۔ لہٰذا پہلا جواب تو مذکورہ اعتراض کا یہ ہے کہ اگر بالفرض یہ بات مان بھی لی جائے کہ ایک بیٹے کے دل میں کبھی کبھی غیر محسوس طور پر اپنے باپ کے متعلق ایسے جذبات پیدا ہوسکتے ہیں جن کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا ذہنی خلا اُسے کسی بالاہستی کے تصوّر کی طرف لے جاسکتا ہے تو اس سے یہ بات کیسے ثابت ہوگئی کہ دُنیا کی تمام قوموں میں جو دُنیا کے مختلف حصوں اور مختلف زمانوں میں گزری ہیں اور جو ابتدائی زمانہ میں ایک دوسرے سے انتہائی حجاب اور دُوری کی حالت میں پڑی ہوئی تھیں، ہمیشہ بلااستثناء یہی امکانی صورت عملاً بھی وقوع میں آتی رہی ہے؟ نیز ہمارا عملی تجربہ اس پر شاہد ہے کہ بیٹے کی باپ سے متعلق رقابت کی صورت نہایت درجہ شاذ طور پر پیدا ہوتی ہے اور طبعی طریق یہی ہے کہ بیٹا ہر حال میں اپنے باپ کا محب اور وفا دار رہتا ہے اور اگر وہ علمی یا عملی میدان میں اپنے باپ سے آگے بھی نکل جاتا ہے تو پھر بھی اس کی فطری محبّت ہمیشہ غالب رہتی ہے۔
پس صاف نظر آرہا ہے کہ جن لوگوں نے یہ دلیلیں پیش کی ہیں انہوں نے اپنے مادی ماحول میں خُدا کی ہستی کا انکار پہلے کیا ہے اور دلیلیں بعد میں سوچی ہیں۔
حق یہ ہے کہ جس احساسِ کمتری کو بعض محققین نے ہستی باری تعالیٰ کے خلاف دلیل قرار دیا ہے وہ دراصل خدا کی ہستی کی ایک بھاری دلیل ہے جسے مسلمان محقق اوائل سے خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت میں پیش کرتے آئے ہیں۔ چنانچہ حضرت علیؓ کا مشہور قول ہے کہ: عَرَفْتُ رَبِّیْ بِفَسْخِ الْعَزَائِمِ یعنی میں نے اپنے خُدا کو بڑے پختہ ارادوں اور مضبوط تدبیروں کے ٹوٹنے کے ذریعہ سے پہچانا ہے۔
حضرت علیؓ کے اس قول میں احساس کمتری کا ہی فلسفہ مخفی ہے۔ یعنی انسان بعض اوقات اپنے کسی مقصد کے حصول کیلئے بڑے پختہ ارادے قائم کرتا ہے اور مضبوط ترین تدبیروں کے ذریعہ تمام اُن اسباب کو جمع کر لیتا ہے جو کامیابی کیلئے بظاہر ضروری ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ سمجھتا ہے کہ بس اب مجھے یہ مقصد حاصل ہوگیا کہ اچانک پردۂ غیب سے ایسے حالات ظاہر ہوتے ہیں جو اس کی پختہ تدبیروں کے تارپود کو بکھیر کر رکھ دیتے ہیں۔ اس وقت عقلمند انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس دنیا میں انسانی تدبیروں سے بالا اور اس کے عزائم سے مضبوط تر ایک اَور ہستی بھی ہے جس کے سامنے انسان ایک مُردہ کیڑے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اور یہی وہ احساس ہے جس سے دُنیا کے سمجھدار لوگ ہمیشہ خدا کی طرف رہنمائی پاتے رہے ہیں۔ مگر افسوس کہ اسی سے مغرب کے بعض مادہ پرست محققین نے اپنے لئے ٹھوکر کا سامان مہیّا کر رکھا ہے۔
دراصل انسان فطرۃً ایک بالا اور زیادہ طاقتور ہستی کا متلاشی ہے جس کے غالب علم اور غالب قدرت کے سامنے وہ مرعوب ہو اور اسے اپنی حفاظت کا ذریعہ سمجھے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ دلیل ہستی باری تعالیٰ کے حق میں ہے نہ کہ اس کے خلاف۔ اسی لئے قرآن شریف نے بھی اس دلیل کو فطری دلیل کی صورت میں خدا کی ہستی کے ثبوت میں پیش کیا ہے ۔
مذکورہ وہ سات اُصولی دلیلیں ہیں جو دہریوں کی طرف سے عام طور پر اپنے عقیدہ کی تائید میں پیش کی جاتی ہیں مگر مختلف الخیال لوگوں کی طرف سے پیش کی جانے کی وجہ سے ان میں سے بعض ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔ یعنی ایک کے قبول کرنے سے دوسری کو ردّ کرنا پڑتا ہے۔ دراصل دہریوں کے ہاتھ میں کوئی دلیل نہیں ہے اور ان کے انکار کی اصل بنیاد صرف اس بات پر ہے کہ اُن کے خیال میں ابھی تک اُن کے سامنے ہستی باری تعالیٰ کی کوئی ایسی دلیل نہیں آئی جو ان کے دل میں یقین اور اطمینان پیدا کر سکے۔ لیکن جو لوگ میرے اس مضمون کو نیک نیتی سے پڑھیں گے وہ ضرور سمجھ جائیں گے کہ عقلی دلائل کے دائرہ میں بھی کوئی عقلمند انسان کم از کم خدا کی ہستی کا منکر نہیں رہ سکتا۔ مگر کامل اور قطعی یقین حاصل کرنے کے لئے دوسری قسم کے دلائل کی ضرورت ہے جو تجربہ اور مشاہدہ سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کا علم ہمیں انبیاء اور صلحاء کے معجزات اور نشانات سے حاصل ہوتا ہے۔
کمیونزم اور خُدا کا عقیدہ
بعض لوگ کمیونزم یعنی روس کے موجودہ اشتراکی نظام کو بھی دہریت کی ایک شاخ اور ہستی باری تعالیٰ کے انکاری ثبوتوں میں سے ایک ثبوت قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ محض ایک اقتصادی نظام ہے، جسے حقیقۃً خدا کے موجود ہونے یا نہ ہونے کے سوال کے ساتھ کوئی طبعی تعلق نہیں ہے۔ مگر جس طرح مسئلہ ارتقاء کو بعض جلد باز لوگوں نے ہستی باری تعالیٰ کے خلاف قرار دے لیا تھا اسی طرح کمیونزم کو بھی بعض کوتہ اندیش لوگ خدا کی ہستی کے خلاف سمجھنے لگ گئے ہیں۔
کمیونزم وہ اقتصادی نظام ہے جس کے ذریعہ روس کی حکومت نے ذرائع آمدو پیداوار کو اپنے ہاتھ میں لے کر، اس دولت کی منصفانہ رنگ میں تقسیم کرنے کی ناکام کوشش کی ہے ۔ اشتراکی نظام میں آئے دن کی تبدیلیاں اس ناکامی پر شاہد ہیں۔ پس یہ محض ایک اقتصادی نظام ہے جسے وجود باری تعالیٰ کے سوال کے ساتھ کوئی تعلّق نہیں مگر چونکہ اس نظام نے ملک میں موجود بعض ایسے نظاموں کو توڑ کر اپنی جگہ بنائی ہے جو مختلف مذاہب کی طرف منسوب ہوتے ہیں اس لئے اس نظام کا بظاہر مذاہب کی تعلیم کے ساتھ ٹکراؤ پیدا ہوگیا ہے۔
اس ٹکراؤ کی دوسری وجہ یہ ہوئی کہ کمیونسٹ لیڈروں نے روسی بچوں کے دماغوں کو کمیونزم کے اثر سے پوری طرح متأثر کرنے کے لئے اپنے سکولوں میں مذہبی تعلیم کو بالکل ہی اُڑا دیا تاکہ کوئی بچہ ایسے خیالات سے متأثر نہ ہوسکے جو کسی رنگ میں بھی اشتراکیت کے اُصول کے خلاف ہوں۔ نتیجۃً ملک میں دہریت کا دَوردَورہ شروع ہوگیا مگر یہ دہریت کمیونزم کا حصہ نہیں ہے بلکہ حالات کا ایک طبعی نتیجہ ہے۔ اور بہرحال فی ذاتہٖ کمیونزم کے اندر کوئی ایسی بات نہیں جو ہستیٔ باری تعالیٰ کے خلاف براہِ راست دلیل کا رنگ رکھتی ہو۔ بیشک موجودہ اشتراکیت کا نظام اپنی کئی اصولی باتوں میں معروف مذاہب کی تعلیم کے خلاف ہے مگر بہرحال اشتراکیت کا بنیادی اُصول اقتصادی ہے نہ کہ رُوحانی یا مذہبی۔
دراصل سینکڑوں سال سے یورپ کا اقتصادی نظام ایسے راستہ پر چل رہا تھا کہ قوموں اور ملکوں کی دولت سمٹ کر ایک خاص سرمایہ دار طبقہ کے ہاتھوں میں جمع ہوگئی تھی اور آبادیوں کا بقیہ حصہ افلاس کے بھنور میں پھنس کر ایسی حالت کو پہنچ گیا تھا کہ جب تک موجودہ نظام کو کسی دلیرانہ اقدام کے ساتھ بدلا نہ جاتا اُن کی زندگی جانوروں سے بہتر نہیں تھی۔ یہ حالت سب سے زیادہ بھیانک صورت میں روس میں رونما تھی جہاں زاروں کی استبدادی حکومت اور امیروں کے تعیش نے غریبوں کا گویا گلا گھونٹ رکھا تھا۔ پس جیسا کہ ہر لمبے ظالمانہ نظام کا ایک ردِّعمل ہؤا کرتا ہے جو قائم شدہ نظام کے خلاف بغاوت کا رنگ رکھتا ہے اسی طرح روس میں سابقہ ظالمانہ نظام کا ردِّعمل اشتراکیت کی صورت میں ظاہر ہؤا جس نے ملک کے اندر ایک خطرناک انقلاب پیدا کر کے ایک نئے نظام کی بنیاد قائم کر دی۔ مگر جس طرح ہر ردِّعمل اور ہر بغاوت کے فعل میں دوسری انتہا کی طرف جھک جانے کا میلان ہوا کرتا ہے اسی طرح اشتراکیت والا ردِّعمل بھی ایک انتہا سے باغی ہو کر دوسری انتہا کو پہنچ گیا ہے۔مگر یہ انتہا بھی بھاری خطرات سے معمور ہے۔ مثلاً
1۔ کمیونزم نے دولت اور دولت پیدا کرنے کے ذرائع کو کلیتہً حکومت کے ہاتھ میں دے کر انفرادی جدوجہد کے سب سے بڑے محرّک کو تباہ کر دیا ہے۔ دراصل فطرتِ انسانی کا یہ جذبہ ہے کہ انسان اپنی محنت کا پھل خود براہِ راست بھی کھائے لیکن یہ جذبہ اشتراکیت کے نظام نے بالکل کُچل ڈالا ہے۔ بیشک ہر انسان میں دوسروں کی اپنے مال اور وقت سے مدد کا جذبہ بھی ضرور ہونا چاہئے۔ اور اسلام نے تو اِس جذبہ پر بہت زیادہ زور دیاہے۔ مگر پھر بھی یہ خیال کہ کسی انسان کی محنت کا پھل زیادہ تر خود اُسی کو حاصل ہوگا اُس انسان کے لئے کام کرنے کا بہت بڑا فطری محرّک ہے۔ مگر اشتراکیت نے اِس محرّک کو تباہ کر کے انسانی ترقی کی رفتار کو سُست کرنے کا رستہ کھول دیا ہے۔
2۔ کمیونزم کے نظام میں چونکہ دولت پیدا کرنے کے ذرائع حکومت کے ہاتھ میں چلے گئے ہیں اس لئے لوگوں میں مقابلہ کی رُوح کمزور ہوگئی ہے۔ اور چونکہ انسانی ترقی میں مسابقت کی رُوح کو بھاری دخل ہے اس لئے اس تبدیلی کا لازمی نتیجہ قومی تنزل کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ مثلاً جہاں کئی کمپنیاں یا کئی لوگ الگ الگ کارخانے جاری کر کے اور الگ الگ محنت اور دماغ سوزی کر کے صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کریں گے اور اُن کے درمیان جائز رقابت اور مسابقت کی روح بھی قائم ہوگی اور ساتھ ساتھ اس صنعت کا کچھ حصہ حکومت کے ہاتھ میں بھی ہوگا وہاں لازماً یہ صنعت بہت زیادہ ترقی کر جائے گی۔
3۔ مذکورہ دونوں باتوں کا لازمی نتیجہ یہ بھی ہوگا کہ اس قسم کے اشتراکی نظام میں قوم کی دماغی ترقی اور ذہنی نشوونما کی رفتار آہستہ آہستہ دھیمی ہونی شروع ہوجائے گی اور بالآخر انسانی دماغ ترقی کرنے والی چیز کی بجائے محض مشین ہوکر رہ جائے گا۔
4۔ کمیونزم کے نظام میں انفرادی ہمدردی کے جذبات کو بھی کچلا گیا ہے کیونکہ غرباء کی اعانت صرف حکومت کے ہاتھ میں ہوگی۔ اور کسی کے پاس کوئی ایسا فالتو روپیہ بھی نہ ہوگا جس سے وہ کسی مستحق کی امداد کر سکے یا کسی عزیز کو تحفہ ہی دے سکے تو لازماً انسانیت کے وہ اعلیٰ اخلاق جو محبت و ہمدردی اور قربانی اور مہمانوازی اور غریب پروری اور صلہ رحمی اور خدمتِ ہمسایہ کے ساتھ تعلّق رکھتے ہیں، آہستہ آہستہ مرنے شروع ہوجائیں گے اور انسانی سوسائٹی بھی مشین بن جائے گی۔
5۔ کمیونزم میں یہ نقص بھی ہے کہ اس میں انسانی دماغ کی ارفع طاقتوں کی کوئی زائد قیمت نہیں لگائی گئی اور اُسے بھی اُسی سطح پر رکھا گیا ہے جس پر کہ ہاتھ پاؤں کی عام محنت اور مزدوری کو رکھا گیا ہے۔ ایسے نظام کا آخری نتیجہ قوم کے ذہنی دیوالیہ پن کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا، لیکن ایسے نتیجے کچھ عرصہ کے بعد نکلا کرتے ہیں۔
بہر حال اشتراکیت کا نظام روس کے قدیم ظالمانہ نظام کا ایک طبعی ردِّعمل ہے۔ مگر یہ ردِّعمل اعتدال کی صورت میں ظاہر ہونے کی بجائے دوسری انتہا کی صورت میں ظاہر ہؤا ہے اور عملی نتیجہ یہ ہے کہ قوم کو ایک گڑھے (سرمایہ داری) سے نکال کر دوسرے گڑھے (اشتراکیت) میں دھکیلا جارہا ہے۔
اسلام میں دولت کی منصفانہ تقسیم کا انتظام
اسلام نے جو صحیح فطرت کا اور خالقِ فطرت کا بھیجا ہؤا مذہب ہے اپنی حکیمانہ شریعت میں دونوں طرف کی انتہا سے بچتے ہوئے کامل اعتدال اور میانہ روی کی تعلیم دی ہے۔ وہ ایک طرف تو انسان کو انفرادی جدوجہد کے سب سے بڑے فطری محرک یعنی اپنی ذاتی محنت کے پھل کھانے کا حق دیتا ہے اور نہ ہی دوسری طرف سرمایہ داری کی طرح ملک وقوم کی دولت کے چند ہاتھوں میں جمع ہونے کا راستہ کھولتا ہے۔ اور اس کے لئے نہایت حکیمانہ بنیادی احکام جاری کرتا ہے۔ مثلاً:
اوّل: اسلام نے تقسیم ورثہ کا ایسا قانون بنایا ہے کہ اس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں ملک کی دولت خود بخود منصفانہ رنگ میں تقسیم ہوتی رہتی ہے۔ کیونکہ اسلام نے صرف بڑے لڑکے یا صرف نرینہ اولاد کو ہی وارث قرار نہیں دیا بلکہ ساری اولاد کے لئے ورثہ میں حصہ رکھا ہے اور اولاد کے علاوہ بیوی اور خاوند اور ماں اور باپ اور بعض صورتوں میں بہن بھائی اور دوسرے قریبی عزیزوں کو بھی محروم نہیں کیا۔
دوسرے اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے جو اپنی دوسری خرابیوں کے علاوہ دولت کی ناواجب تقسیم کا ایک بھاری ذریعہ ہے اس لئے اس حرمت کے نتیجہ میں بھی ملکی دولت کے چند ہاتھوں میں جمع ہونے کا رستہ خود بخود بند ہوجاتا ہے۔ بیشک موجودہ زمانہ میں سود کا جال وسیع ہوجانے کی وجہ سے بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ شاید سود کے بغیر گزارہ نہیں چل سکتا مگر یہ صرف نظر کا دھوکا ہے جو موجودہ ماحول کی وجہ سے پیدا ہؤا ہے ورنہ جب مسلمان نصف دنیا سے زائد حصہ پر حکمران تھے اس وقت سود کے بغیر ہی ساری تجارتیں چلتی تھیں اور انشاء اللہ آئندہ پھر چلیں گی۔
تیسرے اسلام نے جوئے کو بھی حرام قرار دیا ہے کیونکہ اس لغو عادت کے ذریعہ محنت اور کوشش اور ہنر کے ذریعہ روزی کمانے کی بجائے وقت کو بیہودہ طور پر ضائع کرنے اور محض اتفاق پر اپنی آمد کی بنیاد رکھنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔
چوتھے اسلام نے دولت کو خزانوں کی صورت میں جمع کرنے سے بھی روکا ہے تاکہ یہ اموال ملکی صنعت وتجارت میں لگ کر بیکاروں کی روزگار کا ذریعہ بن سکے۔
پانچویں اسلام نے ہر مالدار کی دولت پر زکوٰۃ کی صورت میں بھاری ٹیکس لگایا ہے اور حکم دیا ہے کہ زکوٰۃ نہ صرف غریبوں اور محتاجوں وغیرہ میں تقسیم کیاجائے بلکہ ایسے بیکار لوگوں کی امداد میں بھی خرچ کی جائے جو کوئی ہنر تو رکھتے ہیں مگر اس ہنر سے فائدہ اُٹھانے کے ذرائع نہیں رکھتے۔ اور اسلام نے زکوٰۃ کے نظام کی غرض و غایت یہ بیان کی ہے کہ: زکوٰۃ کا صحیح مصرف یہ ہے کہ امیروں کی دولت کو کاٹ کر اُسے غریبوں اور محتاجوں میں پھیلایا جائے۔ (بخاری کتاب الزکوٰۃ)
اسی طرح وہ دفینے جو پرائیویٹ جگہوں میں سے برآمد ہوں اُن پر بھی اسلام نے بیس فیصدی کا بھاری ٹیکس لگا کر غریبوں کی امداد کا رستہ کھولا ہے۔
چھٹے اسلام نے مسلمانوں کو تاکیدی احکام دئیے ہیں کہ وہ اپنے مالوں میں سے غریبوں کی امداد کیلئے عام صدقہ بھی نکالا کریں تاکہ زکوٰۃ کے علاوہ جو حکومت کے ذریعہ وصول ہوکر تقسیم ہوتی ہے لوگوں کو خود انفرادی طور پر بھی اپنے غریب بھائیوں اور ہمسایوں کی امداد کا احساس رہے اور باہم اخوّت کی رُوح ترقی کرے۔
ساتویں: اسلام نے حکم دیا ہے کہ اگر اوپر کے بیان کردہ ذرائع کے نتیجہ میں تمام غرباء کی خاطر خواہ امداد کا انتظام نہ ہوسکے تو اس صورت میں حکومت کا فرض ہے کہ خود اپنے خزانوں سے محتاجوں کی امداد کا انتظام کرے تا کہ ہرفرد کو اس کی بنیادی ضروریات لازماً پہنچتی رہیں۔
(اسلام اور اشتراکیت کی تفصیلی بحث کے لئے حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تصنیف ’’اسلام کا اقتصادی نظام‘‘ اور خاکسار کے رسالہ ’’اشتراکیت اور اسلام‘‘ کا مطالعہ فرمائیں)۔
خلاصہ کلام یہ کہ روسی اشتراکیت کو اپنے بنیادی اُصولوں کے لحاظ سے دہریت کے ساتھ کوئی براہ راست تعلّق نہیں ہے بلکہ یہ محض ایک اقتصادی نظام ہے جس نے صرف اپنی مضبوطی کیلئے موجود مذاہب کی تعلیم پر بالواسطہ حملہ کیا ہے۔ مگر یہ حملہ صرف ایک کورانہ ردِّعمل کی حیثیت رکھتا ہے جو لوگوں کو ایک انتہا سے ہٹا کر دوسری انتہا کی طرف لے جارہا ہے اور اس ردِّعمل میں ہی اس کی آخری تباہی کا بیج مخفی ہے۔ لیکن اس کے مقابل پر جو تعلیم اسلام نے دی ہے وہ پورے اعتدال اور حق و انصاف کی تعلیم ہے اور یقینا جب روس اپنے موجودہ ردِّعمل کے خمار سے جاگے گا تو اُسے اسلام کے فطری مذہب کے سوا اَور کوئی امن کی جگہ نہیں ملے گی۔
خاتمہ
مَیں نے اس مضمون میں باریک علمی بحثوں سے احتراز کیا ہے اور صرف موٹی موٹی باتوں کو کسی قدر تصریح کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ مگر مَیں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ مَیں نے لکھا ہے وہ ایک صاف دل انسان کے لئے کافی ہے۔ باقی ایسے شخص کا علاج کسی کے پاس نہیں ہے جو خواہ نخواہ کجروی کا طریق اختیار کرکے اپنے آپ کو شبہات کے بھنور سے نکالنا نہیں چاہتا۔ ایسے لوگوں کا علاج صرف خدا کے پاس ہے اور مَیں دعا کرتا ہوں کہ وہ اُن کے دل کی کجی کو دُور کر ے اور اُن کی آنکھوں کی پٹّی اتارے اور اپنے فضل خاص سے ایسا انتظام فرمائے کہ اس کا کوئی بندہ بھی ایسی حالت میں دُنیا سے رخصت نہ ہو کہ وہ اپنے خالق و مالک کو نہ پہنچاتا ہو۔ کیونکہ اس سے بڑھ کر انسان کے لئے کوئی بدقسمتی اور محرومی نہیں کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے اور اپنی زندگی کے سہارے اور اپنی ساری طاقتوں کے منبع وماخذ کی شناخت کے بغیر دُنیا سے رخصت ہوجائے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’کیا بدبخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خُدا ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ ہماری اعلیٰ لذّات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اُس کو دیکھا اور ہر ایک خُوبصورتی اُس میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے ۔اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔ یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ مَیں کیا کروں اور کس طرح یہ خوشخبری دلوں میں بٹھا دوں اور کس دَف سے مَیں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خُدا ہے تا لوگ سُن لیں اور کس دَوا سے علاج کروں تا سُننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں‘‘۔ (کشتی نوح)
تتمّہ
ہستی باری تعالیٰ کے متعلق عقلی دلائل کسی انسان کو صرف اس ایمان تک لے جاتے ہیں کہ اس کارخانہ عالم کا ضرور کوئی خالق و مالک ہونا چاہئے۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ ’ہونا چاہئے‘ والا ایمان صرف ایک پختہ قیاس کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ ’ہے‘ والے ایمان کو معین مشاہدہ کا درجہ حاصل ہے جس کے بعد انسان گویا خدا کو عملاً دیکھ لیتا ہے اور کسی امکانی شک وشبہ کی گنجائش بھی باقی نہیں رہتی۔یہ وہی نظارہ ہے جو مختلف انبیاء نے اپنے وقت میں لوگوں کو دکھایا اور آج حضرت مسیح موعود علیہ السلام لوگوں کو دکھارہے ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
’’آؤ! مَیں تمہیں دکھاتا ہوں کہ خدا ہے اور وہ علیم ہے کیونکہ مَیں ایک انسان ہونے کی وجہ سے علم کامل نہیں رکھتا لیکن خدا مجھے کہتا ہے کہ یہ چیز یوں ظاہر ہوگی اور پھر باوجود ہزاروں پردوں کے پیچھے مستور ہونے کے بالآخر وہ چیز اسی طرح ظاہر ہوتی ہے جس طرح خدا نے کہا تھا۔ آؤ اور اس کا امتحان کر لو۔ مَیں تمہیں دکھاتا ہوںکہ خُدا ہے اور وہ قدیر ہے۔ کیونکہ مَیں بوجہ بشر ہونے کے قدرتِ کاملہ نہیں رکھتا لیکن خدا مجھے کہتا ہے کہ مَیں فلاں کام اس اس طرح پر کروں گا۔ اور وہ کام انسانی طاقت سے اس طرح پر نہیں ہوسکتا اور اس کے رستہ میں ہزاروں روکیں حائل ہوتی ہیں مگر پھر بھی وہ اسی طرح ہوجاتا ہے جس طرح خدا فرماتا ہے۔ آؤ اور اس کا امتحان کر لو۔ مَیں تمہیں دکھاتا ہوں کہ خدا ہے اور وہ سمیع ہے اور اپنے بندوں کی دُعاؤں کو سُنتا ہے۔ کیونکہ مَیں خدا سے ایسے کاموں کے متعلق دُعا مانگتا ہوں جو ظاہر میں بالکل اَنْہو نے نظر آتے ہیں مگر خدا میری دُعا سے ان کاموں کو پورا کردیتا ہے۔ آؤ اور اس کا امتحان کر لو۔ مَیں تمہیں دکھاتا ہوں کہ خدا ہے اور وہ نصیر ہے کیونکہ جب اس کے نیک بندے چاروں طرف سے مصائب اور عداوت کی آگ میں گِھر جاتے ہیں تو وہ اپنی نصرت سے خود اُن کے لئے مخلصی کا رستہ کھولتا ہے۔ آؤ اور اس کا امتحان کر لو۔ مَیں تمہیں دکھاتا ہوں کہ خدا ہے اور وہ خالق ہے کیونکہ مَیں بوجہ بشر ہونے کے خلق کی طاقت نہیں رکھتا مگر وہ میرے ذریعہ اپنی خالقیت کے جلوے دکھاتا ہے جیسا کہ اس نے بغیر کسی مادہ کے اور بغیر کسی آلہ کے میرے کُرتے پر اپنی روشنائی کے چھینٹے ڈالے۔ آؤ اور اس کا امتحان کر لو۔ مَیں تمہیں دکھاتا ہوں کہ خدا ہے اور وہ مکلّم ہے اور اپنے خاص بندوں سے محبت اور شفقت کا کلام کرتا ہے جیسا کہ اُس نے مجھ سے کیا۔ آؤ اور اس کا امتحان کر لو۔ مَیں تمہیں دکھاتا ہوں کہ خدا ہے اور وہ ربّ العالمین ہے اور کوئی چیز اس کی ربوبیّت سے باہر نہیں۔ کیونکہ جب وہ کسی چیز کی ربوبیّت کو چھوڑتا ہے تو پھر وہ چیز خواہ وہ کوئی ہو قائم نہیں رہ سکتی۔ آؤ اور اس کا امتحان کر لو۔ پھر مَیں تمہیں دکھاتا ہوں کہ خُدا ہے اور وہ مالک ہے۔ کیونکہ مخلوقات میں سے کوئی چیز اس کی حکم عدولی نہیں کر سکتی۔ اور وہ جس چیز پر جو تصرّف بھی کرنا چاہے کرسکتا ہے۔ پس آؤ کہ مَیں تمہیں آسمان پر اس کے تصرفات دکھاؤں اور آؤ کہ مَیں تمہیں زمین پر اس کے تصرفات دکھاؤں اور آؤ کہ مَیں تمہیں ہوا پر اس کے تصرفات دکھاؤں اور آؤ کہ میں تمہیں پانیوں پر اُس کے تصرفات دکھاؤں اور آؤ کہ مَیں تمہیں پہاڑوں پر اُس کے تصرفات دکھاؤں اور آؤ کہ مَیں تمہیں قوموں پر اُس کے تصرفات دکھاؤں۔ اور آؤ کہ میں تمہیں حکومتوں پر اس کے تصرفات دکھاؤں اور آؤ کہ مَیں تمہیں دلوں پر اس کے تصرفات دکھاؤں۔ پس آؤ اور امتحان کر لو‘‘۔ (تفصیل کے لئے دیکھو ’’حقیقۃ الوحی‘‘ اور ’’نزول المسیح‘‘ وغیرہ)
یہ ایک بہت بڑا دعویٰ ہے، لیکن سوچو کہ اگر یہ دعویٰ ثابت ہوجائے تو کیا دہریت قائم رہ سکتی ہے؟ مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان پر خدا کی طرف سے جاری کی ہوئی باتیں اب بھی پوری ہورہی ہیں۔ مثلاً اپنے خداداد مشن کی ترقی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی تحدّی کے ساتھ فرماتے ہیں: ’’اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔ وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کی رُو سے سب پر اُن کو غلبہ بخشے گا۔ وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دُنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزّت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ خدا اِس مذہب اور اِس سلسلہ میں نہایت درجہ اور فوق العادت برکت ڈالے گا۔ اور ہر ایک کو جو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہے نامُراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی … میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔ سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا۔ اور اب وہ بڑھے گا اور پُھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔‘‘ (تذکرۃ الشہادتین صفحہ 64 و 65)
پھر فرماتے ہیں:
’’خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا۔ اور میرے سِلسلہ کو تمام دُنیا میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا۔ اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم و معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نُور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رُو سے سب کا مُنہ بند کر دیں گے۔ اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پیئے گی۔ اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پُھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہوجاوے گا… اور خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ ’’میں تجھے برکت پر برکت دُوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ۔ سو اے سُننے والو! اِن باتوں کو یاد رکھو اور اِن پیش خبریوں کو اپنے صندوقوں میں محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوگا‘‘۔ (تجلّیات الٰہیہ صفحہ 17-18)
اور اسلام کی عالمگیرترقی کے متعلق جس کی خدمت کے لئے آپ مبعوث ہوئے تھے فرماتے ہیں:’’اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو سچیّ خدا کا پتہ لگے گا… قریب ہے کہ سب ملّتیں ہلاک ہونگی مگر اسلام۔ اور سب حربے ٹوٹ جائیں گے مگر اسلام کا آسمانی حربہ کہ وہ نہ ٹوٹے گا نہ کُند ہوگا جب تک دجّالیت کو پاش پاش نہ کردے۔ وہ وقت قریب ہے کہ خدا کی سچیّ توحید جس کو بیابانوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں ملکوں میں پھیلے گی۔ اُس دن نہ کوئی مصنوعی کفّارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا۔ اور خدا کا ایک ہی ہاتھ کفر کی سب تدبیروں کو باطل کردے گا لیکن نہ کسی تلوار سے اور نہ بندوق سے بلکہ مستعد رُوحوں کو روشنی عطا کرنے سے اور پاک دلوں پر ایک نُور اُتارنے سے۔ تب یہ باتیں جو مَیں کہتا ہوں سمجھ میں آئیں گی‘‘۔ (تذکرہ صفحہ 286, 285)
کیا جماعتِ احمدیہ کی موجودہ حالت اس عظیم الشان مستقبل کی کوئی اُمید پیدا کرتی ہے؟ اگر نہیں اور ہر گز نہیں تو پھر اگر یہ سب کچھ اِسی طرح وقوع میں آگیا جس طرح کہ پیشگوئی میں بتایا گیا ہے تو کیا یہ ثابت نہ ہوگا کہ اس دنیا کے اوپر ایک علیم و قدیر خُدا ہے جو اپنے طاقتور ہاتھوں میں قضاء وقدر کی تاروں کو تھامے ہوئے ہے۔

پرنٹ
The short URL of the present article is: http://mahmoodmalik.zindgi.uk/N4sco

اپنا تبصرہ بھیجیں