ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒکےچند اوصاف)

جماعت احمدیہ برطانیہ کے سیدنا طاہر نمبر میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒکے
اوصافِ کریمانہ پر مبنی ایک مضمون
ہر نقش پا بلند ہے دیوار کی طرح
(مرتّبہ: محمود احمد ملک)

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی پاکیزہ حیات جہد مسلسل سے عبارت ہے اور اس حیات جاوداں کا احاطہ چند خصوصی شماروں میں یقینا نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک ایسا مسلسل مضمون ہے جو آئندہ صدیوں تک جاری رہے گا۔
حضورؒ کی بابرکت پیدائش سے لے کر وفات کے آخری لمحات تک آپؒ نے جس طرح ایک بھرپور اور کامیاب زندگی گزاری، اس کے کچھ نقوش ذیل میں پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگرچہ اب بھی کئی ایک پہلو بے شک تشنہ رہ جائیں گے تاہم حضورؒ کی مطہر حیات کے بہت سے نئے گوشے قارئین کے سامنے بے نقاب ہوں گے۔
امر واقعہ یہی ہے کہ ہر ذیلی عنوان کے تحت پیش کئے جانے والے مختصر واقعات محض ایک انتخاب ہیں ورنہ ہر ذیلی عنوان ایک تفصیلی مضمون کی شکل میں قلمبند کیا جاسکتا ہے۔
معصوم بچپن
٭ محترمہ صاحبزادی امۃالباسط صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ حضورؒ بچپن سے ہی بہت نڈر اور بہادر تھے۔ ایک بار چڑیا گھر کی سیر کے دوران چھلانگ لگاکر شیر کے جنگلے میں چلے گئے۔ حضرت مصلح موعودؓ کے پہرہ دار مکرم عبدالاحد خان صاحب نے دوڑ کر آپؒ کو باہر نکالا۔ سب گھبرائے ہوئے تھے لیکن آپؒ کے چہرہ پر خوف کے کوئی آثار نہ تھے۔ پھر آپؒ اتنے شرارتی تھے کہ جب ہم لڑکیاں اپنے گڈے گڑیا کی شادی کرتیں تو آپ اپنے دوستوں کے ساتھ آتے اور ہمارا پکا ہوا کھانا کھا جایا کرتے۔ ایک روز ہم نے کمرہ بند کرکے شادی کا اہتمام کیا تاکہ لڑکوں کی مداخلت کا امکان نہ رہے۔ ابھی کھانا شروع کرنا ہی تھا کہ یوں محسوس ہوا کہ دروازہ پر حضرت مصلح موعودؓ تشریف لائے ہیں۔ ہم نے کنڈی کھول دی۔ دیکھا تو حضورؒ تھے۔ آپؒ نے ایک بکرا پکڑا ہوا تھا جس سے ڈر کر لڑکیاں بھاگ گئیں اور حضورؒ نے اپنے دوستوں کے ساتھ شادی کے کھانے مزے سے کھائے۔
٭ محترمہ صاحبزادی امۃالنصیر صاحبہ نے بیان فرمایا کہ میرا اور حضورؒ کا صرف چار ماہ کا فرق تھا۔ آپؒ چھوٹی بہنوں کے ساتھ خوب کھیلتے، مذاق بھی کرتے لیکن مجھے یاد نہیں کہ کبھی لڑائی کی ہو یا کسی کی دلآزاری کی ہو۔ شعر و شاعری میں دلچسپی تھی اور جب سب مل کر شعر سناتے تو آپؒ کئی بار فی البدیہہ مزاحیہ شعر کہہ دیتے۔ بڑی بہنوں کا بہت احترام کرتے۔کبھی وقت ضائع نہ کرتے۔
٭ حضورؒ بچپن ہی سے جماعتی کاموں میں بھی حصہ لیا کرتے تھے فرمایا: ’’جب مَیں اطفال میں تھا تو جو بھی اطفال کا کام میرے سپرد ہوتا تھا، مَیں کیا کرتا تھا اور ہم وقارعمل بھی کیا کرتے تھے اور مَیں اطفال میں دس بچوں کا سائق بھی بن گیا تھا‘‘۔
٭ محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے اور حضورؒ نے بچپن میں حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر کئی ماہ تک حضرت غلام رسول صاحب افغانؓ سے فن تجوید سیکھا تھا۔
شفیق باپ کے اصولِ تربیت
محترمہ صاحبزادی فائزہ لقمان صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضورؒ کی جماعتی مصروفیات خلافت سے پہلے بھی بہت زیادہ تھیں۔ لیکن جب بھی آپؒ گھر ہوتے تو ہمارے ذہن اور عمر کے مطابق ہر چیز ہم سے Share کرتے، کھیلتے بھی تھے، ہماری دلچسپی کی بات میں حصہ لیتے۔ مجھے بچپن سے شاعری سے لگاؤ تھا، آپؒ نے مختلف شاعروں کی کئی غزلیں مجھے سنائیں اور ہر شعر کی تشریح بھی فرمائی (اکثر تشریح شعر سے بھی خوبصورت ہوتی)۔ بہت بچپن میں مَیںنے ایک شعرکہا جو میری عمر کے لحاظ سے بالکل بچوں والا تھا۔ میری بہن نے اُسے کوئلہ سے کمرہ کی دیوار پر سفید پینٹ پر لکھ دیا۔ حضورؒ نے دیکھا تو بہت انجوائے کیا۔ بعد میں پانچ چھ سال تک (جب تک ہمارا نیا گھر نہیں بنا) حضورؒ نے اُس دیوار پر پینٹ نہیں کروایا۔
کئی بار دبے پاؤں آکر آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیتے اور انتظار کرتے کہ دوسرا بوجھ لے۔ ہمیں ساتھ لے کر زمینوں پر جاتے تو فصلوں وغیرہ کے بارہ میں بتاتے۔ رات کو قرآن کریم سے اخذ کی ہوئی کہانیاں سناتے۔ ہمیں حضورؒ نے خود تیرنا، سائیکل چلانا اور گھوڑ سواری سکھائی۔ پردہ کی حدود میں رہتے ہوئے خواہش رکھتے کہ ہم ہر سرگرمی میں حصہ لیں۔
حضورؒ کی طبیعت میں سادگی اور سچی انکساری تھی۔ اپنے ذاتی کام خود کرتے۔ خلافت سے پہلے بعض دفعہ اپنے کپڑے بھی دھو لیتے۔ اپنا ناشتہ آخری بیماری شروع ہونے تک خود ہی بناتے رہے۔گھر کی چھوٹی چھوٹی چیزیں خود مرمت کرلیتے۔ آپؒ کو ہر شخص کی صلاحیتوں کو ابھارنے اور ان سے استفادہ کرنے کا خاص ملکہ تھا۔ بچپن میں مَیں آپ کی ڈاک کے کاغذات چھیڑتی تو آپ مجھے ڈانٹ کر اٹھا دینے کی بجائے فرماتے کہ میری پرائیویٹ سیکرٹری بن جاؤ اور جس طرح مَیں کہوں اُس طرح میرے کاغذات ترتیب دیا کرو۔ اس طرح مجھ میں احساس ذمہ داری بھی پیدا کردیتے اور خوش بھی کردیتے۔
میری بہن مونا کی پیدائش سے پہلے ابا کو فطری خواہش تھی کہ بیٹا ہو۔ مجھے نماز کیلئے اٹھاتے تو کہتے کہ بھائی کیلئے دعا کرنا۔ لیکن جب مونا پیدا ہوئی تو ابا نے بے حد خوشی کا اظہار کیا اور اس کے عقیقہ کے دو بکرے ذبح کروائے تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ بیٹی پیدا ہونے پر اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی بیٹا پیدا ہونے پر ہوتی۔ آپ ہمارا بے حد خیال رکھتے۔ میری بہن شوکی دمہ کی وجہ سے بیمار ہوجایا کرتی تو ابا ساری ساری رات اس کے لئے جاگتے۔ کبھی میری آنکھ کھلتی تو آپؒ شوکی کو اٹھائے ٹہلتے نظر آتے۔
حضورؒ نے ہمارے دلوں میں سچ سے محبت پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ یہاں تک کہ فرضی کہانیاں سننا یا سنانا بھی ناپسند کرتے تھے۔ ہمیشہ کہتے: میری بیٹیاں جھوٹ نہیں بولتیں۔
صاحبزادی محترمہ شوکت جہاں صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ اباجان نے بچپن سے ہی دو باتوں پر خصوصی توجہ فرمائی۔ ایک تو سچ بولنا، جھوٹ کسی صورت میں نہیں بولنا اور دوسرا نمازوں کی پابندی۔ باجماعت نمازیں پڑھاتے۔ خود ہمیں نماز کے آداب و طریق سکھائے۔ تلاوت قرآن کریم کی تاکید فرماتے کہ کبھی نہ چھوڑنا۔ خود اونچی آواز میں قرآن کریم پڑھتے۔ اُن کی اس پیاری آواز کی ہمیں عادت پڑگئی تھی، ہم چھوٹی تھیں، بظاہر پاس سو رہی ہوتیں مگر اُن کی تلاوت سن رہی ہوتی تھیں۔
ذوق عبادت (نماز اور تہجد)
حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’(حضرت مصلح موعودؓ) نے بچوں کو نماز کی بہت اہمیت سکھائی۔ نماز کے معاملہ میں چھوٹے بچوں کو وہ مارا بھی کرتے تھے تاکہ یاد رہے۔ نماز کی اہمیت ہی نہیں سکھائی، نماز باجماعت کی اہمیت سکھائی۔ جو باجماعت نماز نہ پڑھے اور پکڑا جائے تو آپ اس کو سزا دیا کرتے تھے۔ سب سے زیادہ جو انہوں نے اپنے بچوں پر احسان کیا ہے، وہ نماز کی اہمیت ہے‘‘۔
ایک بار فرمایا: ’’مَیںنے ایک دفعہ باقاعدہ حساب لگاکر دیکھا تھا کہ گزشتہ تینوں خلفاء سے زیادہ مَیں نے باجماعت نمازیں پڑھائی ہیں اور یہ حسابی بات ہے اس میں کوئی شک کی بات نہیں۔ انتہائی بیماری کے وقت بھی بعض دفعہ نزلہ سے آواز نہیں نکل رہی ہوتی تھی مگر نماز باجماعت کی مجھے اتنی عادت تھی، بچپن سے تھی‘‘۔
اسی طرح فرمایا: ’’مجھے تو چھوٹی عمر سے شوق تھا۔ … بچپن سے ہی خدا نے دل میں ڈال دیا تھا کہ تہجد ضرور پڑھنی چاہئے اور اس کو مَیں نے آج تک حتی المقدور برقرار رکھا ہے‘‘۔
پھر اپنا ایک تجربہ یوں بیان فرمایا: نئے سال کے آغاز کے وقت جب لندن میں عید کا سماں تھا تو اتفاق سے مجھے وہ رات یوسٹن سٹیشن پر آئی۔ مَیں نے وہاں اخبار کے کاغذ بچھائے اور دو نفل پڑھنے لگا۔
حضورؒ کی بیٹی محترمہ صاحبزادی فائزہ لقمان صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ جب سے مَیں نے ہوش سنبھالا، ابا کو بہت پابندی سے نماز تہجد ادا کرنے والا پایا۔ … نماز تو خیر اُن کی روح کی غذا تھی۔ اسی لئے بچپن میں ہی ہمیں احساس تھا کہ اگر ہم نماز پڑھ لیں تو باقی بچپن کی نادانیاں اور شرارتیں قابل معافی ہیں۔ صبح کی نماز کے لئے ہمیشہ خود مجھے اٹھایا۔ اگر دوبارہ سوجاتی تو پھر اُسی پیار سے اٹھاتے۔ مجھے یاد نہیں کہ کبھی اس بات پر چڑ کر ڈانٹا ہو البتہ نماز کا پابند بنانے کے لئے ضرور ڈانٹ پڑی۔ کبھی نماز تہجد یا نماز فجر کے لئے اٹھاتے تو بتاتے کہ کیا کیا دعائیں مانگو۔ یہ دعائیں انسانیت کی بہتری، تمام انبیاء، آنحضورﷺ، آپؐ کے صحابہؓ، خلفاءؓ، تمام عالم اسلام، حضرت مسیح موعودؑ، آپؑ کے خلفاء، شہداء، تمام قربانی کرنے والے، واقفین زندگی اور ان کے خاندان، یتیموں، بیواؤں، اسیروں، بیماروں، غرباء کے بعد اپنے بزرگوں، خاندان، ماں باپ، بہن بھائیوں کے بعد فرماتے’’پھر اپنے لئے دعا کرنا‘‘۔
دعا کی عادت کے بارہ میں حضورؒ نے ایک بار خود فرمایا تھا کہ : حضرت مصلح موعودؓ کا طریق تھا کہ آڑے وقت میں ہم بچوں سے بھی فرماتے کہ آؤ بچو! دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ میری مدد فرمائے۔ جب مَیں بچپن میں بھی دعا کرتا تو اسے قبولیت کا شرف حاصل ہوجاتا۔ پھر میری عاجزانہ دعائیں کثرت سے قبول ہونے لگیں حتیٰ کہ وہ وقت بھی آن پہنچا جب خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے براہ راست اپنے الہام کے انعام سے سرفراز فرمادیا۔
محترمہ صاحبزادی امۃالباسط صاحبہ بیان کرتی ہیںکہ خصوصاً نماز پڑھنے کا حضورؒ کو بہت خیال رہتا۔ اگر کبھی مسجد میں نماز باجماعت نہ پڑھ سکتے تو کئی بار ہمارے ہاں آجاتے اور ہمیں شامل کرکے نماز باجماعت پڑھتے۔
مکرم بشیر احمد صاحب آف لندن چھوٹی عمر میں ہی حضورؒ کے ہاں آگئے اور یہیں پلے بڑھے اور حضورؒ کی تربیت اور شفقتوں سے فیض پایا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ حضورؒ کسی بھی موسم کی پرواہ کئے بغیر نماز مسجد میں جاکر ادا کرتے اور جاتے ہوئے مجھے خاص طور پر مسجد آنے کی تاکید فرماتے۔ فجر کی نماز کے لئے اپنی سائیکل پر بٹھاکر مسجد لے جاتے اور نماز کی پابندی نہ کرنے پر خوب ڈانٹتے۔ سفر میں یا زمینوں پر جاتے تو نماز کا وقت ہوتے ہی وہیں نماز باجماعت ادا فرماتے۔ اس بات سے بے نیاز ہوتے کہ کھیتوں کی گیلی زمین کپڑے خراب کردے گی۔ اس قدر نماز سے عشق تھا کہ عام انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔ نماز تہجد کا بھی اہتمام فرماتے۔ بیماری میں کمزوری کے باوجود بھی کھڑے ہوکر نماز ادا کرتے۔ ہماری درخواست کے باوجود گھر پر نماز ادا نہیں کرتے تھے بلکہ مسجد جاتے۔
مکرم مسعود احمد خان صاحب دہلوی رقمطراز ہیں کہ مسجد بشارت سپین کے افتتاح کے موقع پر حضورؒ اور قافلہ کے اراکین ایک ہوٹل میں قیام رکھتے تھے۔ پہلے دن حضورؒ اپنے کمرہ میں جانے سے قبل دیگر افراد کے کمروں میں تشریف لے گئے، محل وقوع کا جائزہ لیا اور کمرہ کا نمبر اپنی زبان مبارک سے دہرایا۔ اس کا راز اگلے روز صبح فجر کی نماز سے پہلے کھلا جب دروازہ پر دستک ہوئی اور پوچھنے پر حضورؒ نے باجماعت نماز کھڑی ہونے کی اطلاع دی۔ اس واقعہ میں نماز باجماعت کے لئے حضورؒ کی خواہش کا بھی اظہار ہوتا ہے۔
مکرم نعیم اللہ خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضورؒ کو عبادت کا بے حد شغف تھا۔ کراچی میں میرے پاس تشریف لاتے تو فرماتے کہ نماز کی امامت کرواؤ۔ مجھے ہچکچاہٹ ہوتی تو فرماتے کہ اگر تم نہیں پڑھاؤگے تو مسافر ہونے کی وجہ سے آدھی پڑھوں گا۔
قرآن کریم سے عشق
ترجمہ قرآن کریم کے بارہ میں حضورؒ نے ایک بار فرمایا : ’’یہ تو مَیں نے خود ہی پڑھا ہے۔ کلاس میں تو ہم پڑھا کرتے تھے، استاد بھی پڑھایا کرتے تھے مگر اصل ترجمہ مَیںنے خود ہی پڑھا ہے‘‘۔
خدمت قرآن کے حوالہ سے حضورؒ کا عہد بلاشبہ ایک زریں عہد تھا جس میںآپ نے محبت قرآن کا عملی نمونہ پیش فرماتے ہوئے خدمت قرآن کا کوئی میدان باقی نہیں چھوڑا اور اپنے علم اور عملی نمونہ سے جماعت کو رہنما اصول فراہم کئے۔ دین و دنیا کا کوئی بھی مسئلہ ہو اُسے قرآن کریم کی روشنی میں حل فرماتے۔ جدید انکشافات و ایجادات کے علم سے مزین عصر حاضر کے گھمبیر مسائل کے حل کے حوالہ سے زمانہ کے تقاضوں کے موافق ایسی اچھوتی تفسیر فرماتے کہ جوسنتانہ صرف اپنے سوال اور درپیش مسائل کا اطمینان بخش حل پاتا بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ مزید فہمِ قرآن کے لئے دل ودماغ روشن ہوتے چلے جاتے۔ قرآن کریم کے اصل مدعا اور مغزکو واضح کرتی ہوئی مدلل تفسیر ہو یا متن کے الفاظ کے قریب تر رہ کر با محاورہ فصیح ترجمہ قرآن، تلاوت قرآن میں باقاعدگی اختیار کرنے کا مضمون ہو یا اسے صحت تلفظ کی رعایت سے پڑھنے کا، اشاعت قرآن کا میدان ہو یا دنیا کی مختلف زبانوں میں معیاری مستند تراجم قرآن کی تیاری کا ، غرضیکہ اس عاشق نے خدمت معشوق کا کوئی میدان باقی نہ چھوڑا ،کوئی پہلو تشنہ نہ چھوڑا۔
تلاوت قرآن کریم یقینا ایک بنیادی امر ہے۔ جو شخص قرآن سے محبت کا دعویٰ کرتا ہو مگر قرآن مجید کی تلاوت نہ کرتا ہو تو وہ اپنی محبت اور ایمان بالقرآن کے دعویٰ کے بنیادی ثبوت سے ہی محروم ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اس بنیادی امرکی طرف بارہا جماعت کو متوجہ فرمایا۔ چنانچہ ایک خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا کہ ’’…ہر گھر والے کا فرض ہے کہ وہ قرآن کی طرف توجہ دے۔ قرآن کے معانی کی طرف توجہ دے۔ ایک بھی گھر کا فرد ایسا نہ ہو جو روزانہ قرآن کے پڑھنے کی عادت نہ رکھتا ہو۔‘‘
اور پھر اپنی دلی تڑپ کا اظہار یوں فرمایا کہ: میں چاہتا ہوں کے اس صدی سے پہلے پہلے (یعنی بیسیویں صدی کے اختتام سے قبل۔ ناقل) ہر گھر نمازیوں سے بھر جائے اور ہر گھر میں روزانہ تلاوت قرآن کریم ہو۔ کوئی بچہ نہ ہو جسے تلاوت کی عادت نہ ہو۔ اس کو کہیں کہ تم ناشتہ چھوڑ دیا کرو مگر سکول سے پہلے تلاوت ضرور کرنی ہے اور تلاوت کے وقت کچھ ترجمہ ضرور پڑھو۔خالی تلاوت نہیں کرنی۔‘‘
خود حضورؒ کی زندگی کاخلاصہ اپنے مولا سے پیار، اس کی عبادت اور اس کے پاک کلام سے محبت و وفاہے، بچپن سے وفات تک یہی طرۂ امتیاز رہا۔ چنانچہ آپ کی صاحبزادی محترمہ فائزہ لقمان صاحبہ فرماتی ہیں:
’’ ہر صبح ابا کی بہت پیاری خوبصورت تلاوت قرآن کریم ہمارے گھر کو روشن کر دیتی تھی‘‘۔ حضور رحمہ اللہ کا یہ عمل زندگی بھر رہا کہ آپ صبح کے وقت بلند آواز میں تلاوت قرآن کریم سے فارغ ہونے کے بعد دیگر امور کی طرف توجہ فرماتے۔
حسن اتفاق ہے کہ حیات مبارکہ کا آخری عمل بھی یہی تھا۔ اور اس طرح آپ نے اپنے آخری عمل سے احمدیوں کو جو آخری پیغام اور سبق دیا وہ اپنے مولا کی عبادت اور اس کے کلام سے عشق ہی تھا۔ چنانچہ حضور انور نے نماز فجر اپنے وقت پر گھر میں ادا کی جس کے بعد کافی بلند آواز سے قراء ت کے ساتھ معمول سے زیادہ لمبی تلاوت قرآن کریم کرتے رہے۔
جولائی 1991ء میں جلسہ سالانہ برطانیہ کے بعد انٹرنیشنل شوریٰ میں ایک تجویز پیش کی گئی جس میں افراد جماعت میں درست تلاوت قرآن کریم کی اہلیت پیدا کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی درخواست کی گئی۔ حضورؒ نے اس تجویز پر تفصیلی ہدایات ارشاد فرمائیں۔ لیکن حضور نے صرف عربی متن پر ہی زور نہیں دیا بلکہ معانی اور معارف میں دسترس پیدا کرنے کی بھی تلقین فرمائی۔ چنانچہ فرمایا: ’’نمازیوں کا آغاز نمازوں کے برتن قائم کرنے سے ہوتا ہے۔ تلاوت کا آغاز تلاوت کے برتن قائم کرنے سے ہوتا ہے اوربرتن سے میری مراد یہ کہ شروع کردیں تلاوت۔ پھر رفتہ رفتہ علم بڑھائیں اور تلاوت کو معارف سے بھرنے کی کوشش ضرور کریں‘‘۔
حضور نے اپنے کئی خطبات کے ذریعہ جماعت میں یہ یقین راسخ فرمایا کہ : ’’ہماری نسلوں کو اگر سنبھالنا ہے تو قرآن کریم نے سنبھالنا ہے۔ جب تک یہ کتاب قریب نہ آئے اس دنیا کے مسائل حل نہیں ہو سکتے اور نہ ہماری تربیت ہو سکتی ہے‘‘۔ چنانچہ تربیت کی بنیادی ضروریات پوری کرنے اور قرآن کریم سے راہنمائی حاصل کرنے کا طریق سکھانے کے لئے آپ نے ایک ترجمۃ القرآن کلاس کا آغاز فرمایا۔ ان کلاسز کا اجراء 15 جولائی 1994ء سے ہوا اور مکمل ترجمہ قرآن پر مشتمل 305 کلاسز کے ذریعہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اپنے شاگردوں کو فہم قرآن اور عشق قرآن کے اسلوب سمجھائے۔ ان کلاسز کے اتنے لمبے عرصہ پر پھیلے ہوئے اتنے طویل سلسلہ کو جس باقاعدگی ،لگن اور عزم واستقلال سے جاری رکھا اور تکمیل کو پہنچایاوہ ایک عاشق حقیقی کے سوا کسی اور کا نصیبہ ہو سکتا ہی نہیں۔
اس کے علاوہ کلاس کے علاوہ علمی تحقیقات سے مزین دروس القرآن کا آغاز رمضان المبارک 1984ء میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر سے ہوا۔ ابتدائی سالوں میں بعض معین دنوں میں بزبان انگریزی یہ درس ہوتا تھا۔ پھر MTA کے آغاز کے بعد رمضان المبارک فروری 1993ء سے رمضان المبارک 2001ء تک مسلسل یہ درس بزبان اردو براہ راست نشر ہوتا رہا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خدمات قرآن کے حوالہ سے ایک عظیم الشان خدمت اور تاریخ اسلام میںسنہری حروف سے لکھا جانے والا امر آپ کا وہ معرکۃ ا لآراء ترجمۃ القرآن ہے جو متن کے قریب تر ایسا با محاورہ ترجمہ ہے جو اردو زبان کے محاسن سے بھی مرصع ہے۔ اس ترجمہ کو خوب سے خوب تر بنانے میں آپ نے ایسی والہانہ اور انتھک محنت کی کہ جس کی نظیر نہیں ملتی ۔ اس ترجمہ میں سورتوں کے آغاز میں ان کے مضامین پر مشتمل تعارفی نوٹس اس ترجمہ کو چارچاند لگادیتے ہیں۔
حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے قرآن مجید کے دیگر زبانوں میں معیاری مستند تراجم کا بے حد شوق اور جذبہ سے اہتمام کروایا۔آپ کے دورِ خلافت میں ان تراجم کی کل تعداد 57ہو چکی ہے۔ اسی طرح 117زبانوں میں مختلف مضامین پر مشتمل منتخب آیات کے تراجم بھی شائع کئے گئے۔
عشق رسول مقبولﷺ
آنحضورﷺ سے حضورؒ کے والہانہ عشق نے جہاں آپؒ کی نظم و نثر میں ایسے پھول پرودیئے جن کی خوشبو سے آپؒ کی پاکیزہ حیات کا ہر پہلو خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف محبت کا ایسا اظہار تھا کہ جیسے ہی زبان پر اسمِ مبارک آیا تو دل گداز ہوگیا اور آنکھیں چھلک اٹھیں۔ اور دوسری طرف جہاں کسی بدبخت نے قرآن اور محمد رسول اللہﷺ کے نور کو گدلانے کی کوشش کی، آپؒ نے اس ظالم کے ظلم کے سر کو ایسا کچلا کہ دوسروں کو بھی عبرت ہو۔ ایک بار اپنے عشق وغیرت کا یوں بر ملا اظہار فرمایا:-
’’(وہ ) عظیم الشان نبی تھا۔ اس کا رحم، اس کا فیض نہ مشرق کے لئے رہا نہ مغرب کے لئے ، سب جہان کے لئے جیسے سورج برابرچمکتا ہے، اس طرح اس کا فیض تمام جہانوں پر برابر چمکتا رہا…… قرآن – محمد رسول اللہؐ کے جس کردار کو پیش کرتا ہے اس کردار کشی کے لئے چاہے ہزار بہانے بنا لیں ، ہزار آیتیں اکٹھی کردیں لیکن محمد رسول اللہ کی ذات ان معنوں کو ردّ کر دے گی اور دھتکار دے گی۔ اور معنوں کے پیش کرنے والوں کو مردود قرار دے گی۔ پس محمد رسول اللہ ﷺ ان کی دلیلوں کو توڑ کر پارہ پارہ کر رہا ہے، قرآن سے بھی میں ایسی قطعی دلیلیں آپ کے سامنے رکھوں گا اور احادیث سے بھی کہ ان کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ … آج اللہ تعالیٰ نے قرآن کی عظمت کی خاطر قرآنی دلائل کی تلوار میرے ہاتھ میں تھمائی ہے۔ میں قرآن پر حملہ نہیں ہونے دوں گا۔ محمدرسول اللہ اور آپؐ کے ساتھیوں پر حملہ نہیں ہونے دوں گا۔ جس طرف سے آئیں۔ جس بھیس میں آئیں ۔ان کے مقدر میں شکست اور نامرادی لکھی جاچکی ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ دوبارہ قرآن کریم کی عظمت کے گیت گانے کے جو دن آئے ہیں، آج یہ ذمہ داری مسیح موعود کی غلامی میں میرے سپرد ہے۔ اس لئے جب تک میں حق ادا نہ کرلوں ان آیات پر ٹھہرا رہوں گا یہاں تک کہ آپ پر اور سب پر، ہر ذی عقل پر ثابت ہو جائے گا کہ یہ جھوٹے عقیدے ہیں‘‘۔
حضرت مسیح موعودؑ سے محبت
حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کو حضرت اقدس مسیح موعودؑ سے ایک خاص نسبت تھی۔ آپؒ کا دورِ خلافت بھی حضرت اقدسؑ کے دعویٰ بعثت سے مناسبت رکھتا تھا جس کا اظہار آپ نے بارہا فرمایا۔
حضور انورؒ نے خلافت سے قبل بھی اور خلیفہ بننے کے بعد بھی، اپنی نجی محفلوں میں بھی اور عالمی سطح پر ہونے والی مجالس میں بھی، حضرت اقدس مسیح موعودؑ پر ہونے والے ہر قسم کے اعتراضات کا جس طرح مدلل جواب دیا اور اپنے آقا کا بھرپور دفاع کرنے کی توفیق پائی، اُس کی مثال تاریخ احمدیت میں اس سے پہلے نظر نہیں آتی۔ آپؒ فرماتے ہیں: ’’بچپن میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لٹریچر آنحضرتﷺ اور اسلام کے ڈیفنس میں پڑھا کرتا تھا تو مَیں خدا تعالیٰ سے دعا کیا کرتا تھا کہ اے خدا! جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آقا اور مطاع حضرت محمدﷺ کی عزت کی حفاظت میں سینہ سپر ہوجاتے ہیں، مجھے بھی یہ توفیق دے کہ مَیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ڈیفنس اسی طرح کروں۔ مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ نے میری دعاؤں کو قبول کیا اور مَیں جو بھی کہتا ہوں آپ کی مدافعت اور ڈیفنس میں کہتا ہوں۔‘‘
نیز حضرت مسیح موعودؑ کے بعثت کے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے آپؒ نے انتہائی محنت اور عرقریزی سے اپنی تمام تر استعدادوں کو استعمال کرتے ہوئے ایسے اہم اور عظیم الشان اقدامات کئے جن کی بدولت جماعت احمدیہ کو عالمی سطح پر ایک وقار اور مرتبہ حاصل ہوا اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا عالمگیر پیغام ہمہ وقت دنیا کے کونے کونے میں نشر ہونے لگا اور حضرت مسیح موعودؑ کے بہت الہامات آپؒ کی ذات کے حوالہ سے بھی پورے ہوئے۔
خلافت کی اطاعت
حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ خلافت کا بے حد احترام فرماتے اور خلیفہ وقت کی بے مثال اطاعت کا مظاہرہ فرماتے۔ چنانچہ آپؒ نے ایک بار بیان فرمایا: حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے ایک کام میرے سپرد کیا اور حکم دیا فوری طور پر مشرقی بنگال (اب بنگلہ دیش) چلے جاؤ۔ مَیں نے پتہ کروایا تو ساری سیٹیں بُک تھیں۔ معلوم ہوا کہ بیس آدمی چانس پر مجھ سے پہلے ہیں۔ مَیں نے کہا کوئی اَور جائے یا نہ جائے، مَیں ضرور جاؤں گا کیونکہ مجھے حکم آگیا ہے۔ ایرپورٹ پر لمبی قطار تھی۔ کچھ دیر بعد لوگوں کو کہا گیا کہ جہاز چل پڑا ہے۔ اس اعلان کے بعد سب چلے گئے لیکن مَیں وہاں کھڑا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ مَیں ضرور جاؤں گا۔ اچانک ڈیسک سے آواز آئی کہ ایک مسافر کی جگہ ہے، کسی کے پاس ٹکٹ ہے۔ مَیں نے کہا: میرے پاس ہے۔ انہوں نے کہا: دوڑو، جہاز ایک مسافر کا انتظار کر رہا ہے۔
مکرم سید شمشاد احمد ناصر صاحب مربی سلسلہ رقمطراز ہیں کہ حضورؒ خلافت کا بہت احترام فرماتے تھے۔ خود خلیفہ بننے سے قبل حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے ارشادات کی فوری تعمیل کی خواہش رکھتے۔ ایک بار جب آپ نے کار بیچ کر جیپ خریدی تو کسی دوست نے بے تکلّفی سے کہا کہ آپ نے اچھی بھلی کار فروخت کرکے یہ جیپ خرید لی!۔ جواباً فرمایا: اس میں ایک ٹی وی اور ایک VCR رکھوں گا اور گاؤں گاؤں جاکر حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے خطبات سنایا کروں گا۔
مکر م چودھری محمد ابراہیم صاحب بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۷۹ء میں جب حضورؒ مجلس انصاراللہ کے صدر بنے تو سب سے پہلے حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے خطبات کی کیسٹس تیار کرنے کے نظام کو عملی جامہ پہنانے پر زور دیا اور اس کے لئے یورپ سے کیسٹس کی کاپیاں جلدی تیار کرنے والے Duplicator منگوائے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے ایک بار خود فرمایا: ’’ربوہ میں جب حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کا خطبہ ہوا کرتا تھا تو مَیں کسی کونہ میں بیٹھتا تاکہ نماز ختم ہوتے ہی نکل سکوں اور سنتیں گھر میں ادا کیا کرتا۔ طبیعت میں ایسی نفرت تھی اس بات سے کہ خلیفۃالمسیح کی موجودگی میں میری کوئی الگ مجلس لگ رہی ہو‘‘۔
محترمہ صاحبزادی امۃالباسط صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی آخری بیماری میں اسلام آباد( پاکستان) کے گیسٹ ہاؤس میں حضرت مرزا طاہر احمد صاحبؒ سارا دن شدید گرمی کے باوجود ایک دری بچھاکے اُس پر پڑے رہتے تھے۔ کھانے پینے کا بھی ہوش نہ رہا تھا اور کہیں جاتے بھی نہیں تھے کہ کہیں حضورؒ کو کوئی ضرورت پڑے اور مَیں موجود نہ ہوں۔
مکرم ضیاء الرحمن صاحب کارکن دفتر وقف جدید بیان کرتے ہیں کہ حضورؒ کے دل میں خلافت کا غیرمعمولی احترام تھا۔ بارہا کسی ضروری کام میں مصروف ہوتے کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کا فون آجاتا تو بلاتوقف آپؒ تشریف لے جاتے۔ جو چیز بھی حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے لئے بازار سے خریدنا ہوتی تو آپؒ خود جاکر نہایت اعلیٰ اور پائیدار چیز خریدتے۔ اگر مجھے خریدکر لانے کے لئے کہتے تو یہ ہدایت خاص طور پر فرماتے کہ سب سے عمدہ اور اعلیٰ چیز خریدنی ہے۔
مکرم ڈاکٹر مسعود الحسن نوری صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت منصورہ بیگم صاحبہ (حرم حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ) کی آخری بیماری میں مَیں ربوہ میں حاضر تھا۔ اُن دنوں اکثر حضورؒ فرماتے کہ مرزا طاہر احمد کو بلائیں۔ تو ایک مرتبہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ حضورؒ نے فرمایا ہو اور فوری طور پر مرزا طاہر احمد صاحب وہاں نہ پہنچے ہوں۔ آپؒ فوراً وہاں آگئے اور جس حالت میں بھی ہوتے اور جو وقت بھی ہوتا، آجاتے۔ اور باوجود یہ کہ کمرے میں تخت پوش اور کرسیاں موجود ہوتیں، لیکن آپؒ حضورؒ کے بالکل پاس آکر زمین پر چوکڑی مار کر بیٹھ جاتے۔ نہایت ادب سے بیماری کی علامات حضورؒ سے پوچھ کر پھر دوا تجویز کرتے اور خود جاکر دوائی لاتے۔ نہ یہ کہ کسی اَور کے ہاتھ بھیجتے۔ نو دس دنوں میں کوئی تیس چالیس مرتبہ آپؒ آئے اور ہر دفعہ یہی طریق کار آپ کا ہوتا۔ انکساری کا یہ ایک آپؒ کا ایک خاص انداز تھا۔
خدمت خلق
ایک بار حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے فرمایا کہ ’’مَیں مریضوں کیلئے مختلف وقت مقرر کرتا۔ آتے بھی بہت کثرت سے تھے۔ کبھی مغرب کے معاً بعد اپنے گھر میں مریضوں کا مجمع لگالیا کرتا لیکن ایک ادنیٰ بھی شوق نہیں تھا کہ مریض میرے گرد اکٹھے ہوں۔ ایک خدانے دل میں جذبہ پیدا کیا تھا کہ غریب لوگ باہر سے علاج نہیں کرواسکتے اس لئے وہ بے تکلّفی سے آ جایا کریں‘‘۔
حضورؒ کی ایک بچی جلسہ سالانہ کے آخری دن وفات پاگئی۔ آپؒ جلسہ کی ڈیوٹیوں سے فارغ ہوکر لوگوں کو دوائیں دیتے رہے۔ پھر حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب نے آکر فرمایا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ جنازہ پر آپؒ کا انتظار کر رہے ہیں۔ لوگ یہ سن کر شرمندہ ہوئے لیکن آپؒ کو خیال تھا کہ بچی تو فوت ہو ہی گئی ہے مگر جو لوگ دُور دُور سے آئے ہیں، اُن کو دوائیں ضرور دینی ہیں۔
محترمہ صاحبزادی فائزہ لقمان صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ غرباء سے شروع سے پیار بھرا شفقت کا سلوک تھا۔ ہمیں نصیحت فرماتے کہ وہی خدا ان کا بھی خالق ہے جو ہمارا ہے، ان کی محرومی کی وجہ سے خود کو ان سے بہتر نہ سمجھنا، جن نعمتوں سے خدا نے تمہیں نوازا ہے، غرباء کا بھی ان میں حق ہے (اللہ تعالیٰ نے بھی ہماری املاک میں ضرورتمندوں کے لئے حق کا لفظ استعمال فرمایا ہے، حصہ کا نہیں)۔ خلافت کے بعد تو ابا نے ہر احمدی سے بے اندازہ محبت کی۔ امی نے مجھے ایک دفعہ بتایا کہ تمہارے ابا روزانہ (رات کی تنہائی میں) اس طرح تڑپ تڑپ کر دعائیں کرتے ہیں کہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ کئی دفعہ دل چاہتا ہے کہ ان کو روک دوں کہ اپنی جان پر اتنا بوجھ نہ لیں۔ ابا کی وفات کے بعد کسی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا مجھے کبھی حضورؒ کی شخصیت میں کوئی کمزور پہلو محسوس ہوا؟ مَیں نے جواب دیا کہ آپؒ میں کوئی کمزوری کا پہلو تو نہیں دیکھا لیکن ایک چیز جو ہمیں بہت تکلیف دیا کرتی تھی وہ یہ تھی کہ آپ اپنی جان پر بے انتہا ظلم کرنے والے تھے اور مخلوق خدا کی ہمدردی میں اپنی جان کے ہر حق کو پس پشت ڈالنے والے انسان تھے۔ ہمیشہ مجھے یہ احساس ہوتا کہ ابا جتنا پیار مجھ سے کرتے ہیں، شاید اتنا یا اس سے بھی زیادہ ہر احمدی بچی سے کرتے ہیں۔ ان کے دکھوں کو دُور کرنے کے لئے دعائیں بھی کرتے اور عملاً کوشش بھی کرتے۔ جن بچیوں سے کوئی کام لیتے تو وہ آپؒ کی خاص توجہ اور محبت کی حقدار بن جاتیں۔ بہت باریک بینی سے اُن کی تربیت فرماتے اور اُن کی ضروریات کا خیال رکھتے۔ اپنی آخری عمر میں ’’مریم فنڈ‘‘ بھی اسی لئے جاری فرمایا کہ کوئی احمدی بچی جہیز کی وجہ سے زیادتی کا شکار نہ ہو۔
مکرم عبدالباری ملک صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضورؒ غرباء سے بہت شفقت اور ہمدردی سے پیش آتے۔ ایک بار رحمت بازار ربوہ کے سارے موچیوں کو میرے والد صاحب کے ذریعہ کچھ رقم بھجوائی۔ ایک موچی کو جب رقم ملی تو اُس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور اُس نے بتایا کہ اُس کی بیوی کے ہاں بچہ کی پیدائش آئندہ چند گھنٹوں میں ہونے والی ہے اور گھر میں کھانے کے لئے کچھ بھی نہیں۔
مکرم ضیاء الرحمن صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک بار حضورؒ نے مجھے ہدایت فرمائی کہ فلاں شخص کو جوتے خرید دیں۔ مَیں نے بازار میں اُس دوست کو دیکھا تو اُن کے جوتے مکمل طور پر خستہ ہوکر پھٹ چکے تھے۔ مَیں نے اُسی وقت انہیں جوتے خرید دیئے۔
مکرم منظور احمد سعید صاحب کارکن وقف جدید بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک آدمی نے حضورؒ سے عرض کی کہ مجھے کوئی پرانا سائیکل لے دیں۔ حضورؒ نے مجھے ہدایت فرمائی کہ اُسے پرانا سائیکل لے دوں۔ بازار سے پتہ کیا لیکن سائیکل نہ مل سکا۔ حضورؒ کو علم ہوا تو فرمایا کہ پھر میرا یہ سائیکل اس کو دیدیں۔ جو دیدیا گیا۔ اسی طرح ایک دوست نے کہا کہ اُن کی بیٹی کا برقع پرانا ہے۔ حضورؒ نے فرمایا کہ اُن کی بچی کو نیا برقع بھی لے دیں، نیا یونیفارم اور نئے بوٹ بھی دلوادیں۔ کئی بوڑھی عورتیں جب ڈسپنسری سے دوائی لینے آتیں تو آپؒ مجھے فرماتے کہ سردی ہے، انہیں گرم چادر لے دیں۔
آپ مزید بیان کرتے ہیں کہ حضورؒ جب ناظم ارشاد وقف جدید تھے تو ایک غریب حجام سے حجامت بنواتے تھے جو بوڑھا تھا اور اُس کی نظر بھی کمزور تھی۔ پھر اُسے کبھی دس اور کبھی بیس روپے دیدیتے جبکہ اُس وقت حجامت ایک دو روپے میں ہوتی تھی۔ یہ محض اس کی مدد کا بہانہ تھا تاکہ اُس کی عزت نفس بھی قائم رہے۔ اسی طرح جب میرے پاس سائیکل نہیں تھی تو حضورؒ اگر راستہ میں ملتے تو مجھے اپنے ساتھ سائیکل پر بٹھالیتے اور میرے اصرار پر بھی سائیکل مجھے نہ چلانے دیتے۔
آپ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز حضور نے مجھے دیکھا تو پوچھا کہاں سے آرہے ہو؟ مَیں نے کہا بازار سے دودھ لارہا ہوں۔ پوچھا: بازار سے اچھا دودھ مل جاتا ہے؟ عرض کی: لینا تو ہے ہی۔ پوچھا: کتنا دودھ لائے ہو؟ مَیں نے کہا: ایک کلو۔ یہ سن کر آپ خاموش ہوگئے۔ اگلے روز صبح حضورؒ نے اپنا باورچی بھجوایا جو ایک کلو دودھ لایا۔ اور پھر دودھ روزانہ آنے لگا۔ ایک ماہ بعد مَیں نے ایک مہینہ کے دودھ کے پیسے آپؒ کی خدمت میں پیش کئے تو فرمایا: ہم کوئی دودھ بیچتے ہیں!!۔ چنانچہ پھر دودھ روزانہ آتا رہا۔ ایک روز حضورؒ خود دودھ لے کر آگئے اور فرمایا کہ باورچی چھٹی پر تھا اس لئے مَیں خود ہی آگیا۔ پھر ایک روز باورچی نے کہا کہ کل سے اپنا دودھ کا انتظام خود کرلینا۔ لیکن اگلے دن جب وہ پھر دودھ لایا تو بتانے لگا کہ کل گھر میں بیگم صاحبہ نے کہا تھا کہ دودھ کم ہے اور گھر میں ہی ضرورت ہے۔ لیکن میاں صاحب نے فرمایا کہ منظور کو دودھ ضرور بھیجنا ہے خود بے شک بازار سے منگوانا پڑے۔ چنانچہ احسان کا یہ سلسلہ پینتیس سال سے جاری ہے۔
نوجوانوں کی حوصلہ افزائی
مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ لکھتے ہیں کہ حضورؒ کی لندن میں آمد کے ساتھ ہی لندن مسجد کے خوابیدہ علاقہ میں یکدم سرگرمی اور جوش آگیا۔ اُن دنوں حضورؒ ہر روز مجلس عرفان فرماتے۔ اس طرح احباب جماعت اور حضورؒ کے درمیان ایک گہرا رشتہ پیدا ہوگیا۔ ۱۹۸۷ء میں حضورؒ نے مجھے مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ کا نیشنل قائد مقرر فرمایا تو یہ تقرری مجھے حضورؒ کے بہت قریب لے آئی۔ حضورؒ نہ صرف میری حوصلہ افزائی فرماتے بلکہ جماعت کے نوجوانوں میں بہت دلچسپی لیتے اور ہماری تربیت کی خاطر ہر تقریب میں شرکت فرماتے۔ حضورؒ سکواش کے ایک مشّاق کھلاڑی تھے اور ہمارے ٹورنامنٹ میں شرکت کرکے خود بھی کھیل میں حصہ لیتے۔ ہاکی اور کرکٹ کے میچز دیکھنے کے لئے بھی تشریف لاتے۔ ہاکی کی ٹیم ’’ایم ٹی اے‘‘ (مسلم ٹائیگرز احمدیہ) بنانے میں بھی حوصلہ افزائی فرمائی جس نے کئی قومی اور عالمی ٹورنامنٹس میں حصہ لیا۔ حضورؒ ایک ماہر نشانہ باز تھے۔ مارشل آرٹ کی نمائش سے بھی محظوظ ہوتے۔ کبڈی بھی پسندیدہ کھیل تھا۔ سادگی اور بے تکلّفی سے آپؒ نوجوانوں کے ساتھ گھل مل جاتے۔ اس کے ساتھ ساتھ تربیتی امور پر گہری نظر تھی۔ نماز اور قرآن کریم کی تعلیم پر بہت زور دیتے۔ حضورؒ کے ارشاد پر ہی اطفال ریلی کا انعقاد شروع ہوا۔ آپؒ کے ارشاد پر پر ریسرچ ٹیمیں تشکیل پائیں جنہیں تحقیق کرنے کا طریق آپؒ نے ہی سکھایا اور بعض اوقات کئی کئی گھنٹے روزانہ ملاقات کا شرف عطا فرماتے رہے۔ مسلم ٹیلی وژن احمدیہ کے آغاز کے لئے آپؒ نے قدم قدم پر ہدایات سے نوازا۔ اور ہماری معمولی خدمات کی بہت قدر فرمائی۔
بچوں سے شفقت
مکرم عبدالصمد قریشی صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب حضورؒ لنگرخانہ نمبر ۲ (واقع دارالرحمت غربی) کے ناظم ہوا کرتے تھے۔ ہم چار پانچ اطفال بطور معاون کام کرتے تھے۔ آپؒ ہمارا بہت خیال رکھتے۔ ایک رات غالباً بارہ بجے ہم دفتر میں ایک جانب لیٹے ہوئے تھے کہ کوئی صاحب گرم گرم جلیبیاں لائے جن کی خوشبو سارے کمرہ میں پھیل گئی۔ ہمارے منہ میں بھی پانی بھر آیا لیکن کسی نے ہماری طرف توجہ نہ دی۔ اسی وقت کسی نے آواز دی کہ میاں صاحب تشریف لا رہے ہیں۔ وہاں موجود افراد نے حضورؒ سے عرض کیا کہ آپؒ ابتدا فرمائیں۔ مگر آپؒ کی نظر اُس جانب گئی جہاں ہم اطفال لیٹے ہوئے تھے اور جلیبیوں کی آمد کے بعد خود کو سویا ہوا ظاہر کر رہے تھے۔ حضورؒ نے خاصی جلیبیاں ایک پلیٹ میں ڈالیں اور خود یہ کہتے ہوئے ہماری جانب آئے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کمرہ میں تازہ جلیبیوں کی مہک پھیلی ہو اور ہمارے یہ شیر بچے سوئے ہوئے ہوں۔ چنانچہ حضورؒ اپنے دست مبارک سے ہمیں محبتوں کا یہ تحفہ عنایت کرکے واپس تشریف لے گئے۔
خدام کی دلداری
مکرم عبدالباری ملک صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضورؒ کی اپنے خدام سے شفقت کا یہ عالم تھا کہ ایک بار سوئٹزرلینڈ کے دورہ کے دوران جب دعوت کے لئے مکرم شیخ ناصر احمد صاحب کے ہاں پہنچے تو اپنے باورچی مکرم شیر محمد صاحب کو فرمایا کہ میرے ساتھ صوفہ پر بیٹھیں۔ ساری شام اور پھر کھانے کے دوران بھی وہ حضورؒ کے ساتھ ہی صوفہ پر بیٹھے رہے۔ ایک اَور موقع پر جب حضورؒ سے ایک سائنس دان ملاقات کے لئے آئے تو مجھے کافی اور لوازمات پیش کرنے کی سعادت ملی۔ مہمان کے جانے کے بعد حضورؒ نے فرمایا کہ تم نے بہت اچھی سروس دی ہے، اب تم بیٹھ کر کافی پیو اور مَیں برتن دھوتا ہوں۔ مَیں نے عرض کیا کہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ آپؒ برتن دھوئیں۔ اس پر فرمایا کہ اچھا تم برتن دھولو، مَیں تمہارے لئے کافی بناتا ہوں۔ چنانچہ حضورؒ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے میرے لئے کافی بنائی، ایک گھونٹ پیا اور پھر وہ کپ اور کیک خاکسار کو دیدیا۔
مکرمہ امۃالقدیر ارشاد صاحبہ اپنے مضمون میں بیان کرتی ہیں کہ مجھے ایک لمبا عرصہ حضورؒ کی ہمسائیگی میں رہنے کا شرف حاصل رہا۔ آپؒ ایک بہترین ہمسائے تھے۔ ہمیشہ بہت خیال رکھا۔ آپ ؒ بہت بلند اخلاق کے مالک تھے۔ ایک بار جب میرے داماد ربوہ آئے تو انہوں نے حضورؒ کے صحن میں کار کھڑی کرنے کے لئے آپؒ سے اجازت طلب کی تو آپؒ نے بخوشی اجازت دیدی۔ لیکن اُس رات جب وہ ایک بجے گھر پہنچے تو آپؒ کو جگانا مناسب نہ سمجھا اور گلی میں دیوار کے ساتھ ہی کار لگادی۔ واپسی کے لئے ابھی چند قدم ہی چلے تھے کہ حضورؒ کی آواز آئی کہ مَیں تو جاگ رہا تھا، تمہارا انتظار کر رہا تھا، کار اندر کھڑی کردو۔
آپ مزید بیان کرتی ہیں کہ ایک بار مجھے مغرب کی نماز کے بعد دل کی تکلیف ہوئی۔ آپؒ کو اطلاع ہوئی تو فوراً دوائی بھیجی اور ہسپتال میں فون کرکے ECG کا سامان منگوایا اور اپنی نگرانی میں ECG کروائی۔ پھر بازار سے دوائی منگواکر دی اور اس طرح حق ہمسائیگی کو کمال تک پہنچادیا۔
مکرم چودھری محمد ابراہیم صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضورؒ کی زمینوں پر کام کرنے والے محمد سلیم صاحب کی بچی کی شادی اُن کے ڈیرہ پر تھی۔ انہوں نے اُس روز حضورؒ سے نکاح پڑھانے کی درخواست کی۔ اُسی روز ضلع سرگودھا میں انصاراللہ کا ایک پروگرام بھی تھا۔ دونوں پروگراموں میں شرکت کا مصمم ارادہ کرکے حضورؒ گھر سے نکلے تو بارش کا سماں ہونے کی وجہ سے ہاتھ میں چھتری تھی۔ ڈیرہ پر پہنچنے کے لئے کافی دُور پیدل کچے راستہ پر جانا پڑتا تھا۔ ہم احمدنگر پہنچے تو بارش شروع ہوگئی۔ حضورؒ نے کپڑے کس لئے اور چھتری تان کر ڈیرہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ وہاں پہنچ کر نکاح پڑھایا، مبارکباد دی اور کھانا کی پیشکش پر فرمایا کہ اس پر وقت لگے گا اور انصاراللہ کا پروگرام متأثر نہ ہوجائے۔ اس لئے اسی وقت واپس تشریف لے آئے اور پھر انصاراللہ کے پروگرام میں شرکت کے لئے روانہ ہوگئے۔
مکرم شیخ محمد عامر صاحب رقمطراز ہیں کہ ایک بار ہالینڈ میں حضورؒ کے ساتھ صبح کی سیر کا موقع ملتا رہا۔ صبح بہت ٹھنڈ ہوتی تھی۔ مَیں نے ایک عدد دستانہ کی جوڑی حضورؒ کو تحفۃً پیش کی۔ حضورؒ نے محبت سے قبول فرمائی۔ پھر کچھ دیر بعد اندر سے رقم لاکر مجھے دی اور فرمایا کہ میرے ساتھ جو لوگ ہوتے ہیں اُن کیلئے بھی ایک ایک جوڑی لے آؤ۔ مَیں نے پیسوں کا انکار کرنا چاہا تو فرمایا: یہ مَیں منگوا رہا ہوں، پہلا تم نے دیا ہے۔
مکرم مسعود احمد خانصاحب دہلوی رقمطراز ہیں کہحضورؒ جب آسٹریا میں ایک ہوٹل میںقیام فرما تھے تو روانگی سے ایک روز قبل عملہ کے ارکان اجازت کے ساتھ بازار گئے تاکہ وہاں سے اپنے بچوں کے لئے سویٹر خرید لیں۔ رات کو عشاء کی نماز کے بعد حضورؒ نے سب سے فرمایا کہ اپنے سویٹر لاکر دکھاؤ۔ سب سویٹروں کے ڈیزائن، معیار اور نرماہٹ کا جائزہ لیا اور ایک کے علاوہ باقی سارے سویٹر پسند فرمائے۔ ناپسند کیا جانے والا سویٹر ایک کارکن نے اپنی بچی کے لئے خریدا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ سویٹر پاکر تو بچی کا دل میلا ہوگا، کل روانگی سے قبل اسے بدل کر زیادہ عمدہ سویٹر خرید لیا جائے۔ کسی نے عرض کیا کہ ہماری روانگی بازار کھلنے سے ایک گھنٹہ پہلے ہے۔ حضورؒ نے روانگی کو بازار کھلنے اور سویٹر خریدنے کے بعد تک کے لئے ملتوی کردیا تاکہ ایک خادم کی بچی کے لئے اچھی چیز کی خرید ممکن ہوسکے۔
مکرم صفدر علی وڑائچ صاحب لکھتے ہیں کہ میرے والد مکرم محمد شریف وڑائچ صاحب کے چچازاد بھائی کو ۱۷؍جون ۱۹۸۲ء کو زمین پر قبضہ کرنے کی خاطر دشمن نے قتل کردیا۔ میرے والد اس مقدمہ میں مدعی تھے لیکن نومبر میں وہ بھی وفات پاگئے۔ ان صدمات نے مجھے دو تین ماہ تک سمجھ ہی نہ آنے دی۔ آخر ساری صورتحال حضورؒ کی خدمت میں لکھ دی تو حضورؒ نے دادا جان (مکرم چودھری مرزا خان صاحب) کے ساتھ مجھے ملاقات پر بلایا، سینے سے لگایا اور ساری تفصیل مقدمہ کی سنی جو مَیں نے برستی آنکھوں سے بیان کی اور آخر میں بے ساختہ میرے منہ سے نکلا کہ اب ہمارے خاندان میں اس مقدمہ کی پیروی کرنے والا بھی کوئی نہیں رہا۔ میری عمر اُس وقت ۲۳ سال تھی۔ حضورؒ نے فرمایا: آپ کیوں گھبراتے ہیں، کیس کی پیروی مَیں کروں گا۔ پھر میرے دادا نے دعا کی درخواست کی تو فرمایا: مَیں دعا کروں گا، بہت دعا کروں گا، چوکھی دعا کروں گا۔ پھر مقدمہ کے سلسلہ میں ہدایات دیں۔ اس کے بعد مقدمہ کی ہر پیشی کی اطلاع اور کارروائی کی تفصیل مَیں حضورؒ کی خدمت میں بھجواتا رہا اور حضورؒ کی دعاؤں کا اثر بار بار محسوس کیا۔
غیروں پر احسان
مکرم فہیم احمد خادم صاحب مربی سلسلہ بیان کرتے ہیں کہ قریباً اکیس سال قبل جماعت احمدیہ غانا کا ہیڈکوارٹر سالٹ پانڈ میں تھا۔ مکرم مولانا عبدالوہاب بن آدم صاحب امیر و مبلغ انچارج تھے۔ کسی ملازمہ کی غلطی سے ایک روز اُن کے گھر کے باورچی خانہ میں آگ لگ گئی۔ باوجود اس کے کہ دو سلنڈر جل رہے تھے، باورچی خانہ لکڑی کا بنا ہوا تھا، مشن ہاؤس سے ملحقہ ایک پٹرول پمپ بھی تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے آگ پر قابو پالیا گیا البتہ ملازمہ کے جسم کا کچھ حصہ جھلس گیا۔ اُسے ہسپتال میں داخل کرواکر علاج کروایا گیا اور بعد میں اسے سلائی مشین اور کچھ نقدی دے کر راضی خوشی رخصت کردیا گیا۔ ۲۰۰۰ء میں ۲۰ سال بعد اُسی ملازمہ نے اچانک جماعت کے خلاف ہرجانہ کا دعویٰ کردیا۔ اگرچہ غانا کے ملکی قانون کے مطابق اتنے عرصہ بعد مقدمہ درج نہیں ہوسکتا تھا لیکن ظاہر ایسے ہوتا تھا کہ عورت کی کوئی چال ہے یا وہ کسی کے اشاروں پر کھیل رہی ہے۔ بہرحال عدالت نے کچھ عرصہ بعد مقدمہ کا فیصلہ جماعت کے حق میں کردیا اور اُس عورت کو ہدایت جاری کی کہ وہ ایک لاکھ سیڈیز جرمانہ جماعت کو ادا کرے۔ جب اس مقدمہ کی تفصیل حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی خدمت میں بھجوائی گئی تو آپؒ نے ازراہ شفقت تحریر فرمایا: ’’اس لڑکی سے حسن سلوک کریں۔ وہ غریب پہلے جل گئی اور اب مقدمہ ہار گئی ہے تو جو جرمانہ اس پر پڑے وہ اس سے وصول نہ کریں، وہی جماعت کی طرف سے صدقہ ہوجائے گا۔‘‘
مکرم ضیاء الرحمن صاحب کارکن دفتر وقف جدید بیان کرتے ہیں کہ ایک ضرورتمند نے حضورؒ سے امداد مانگی تو آپؒ نے ایک چِٹ پر کچھ رقم لکھ کر اُسے میری طرف بھجوادیا۔ اُس نے راستہ میں رقم تبدیل کرکے زیادہ لکھ دی۔ مجھے شک گزرا تو مَیں نے آپؒ سے ماجرا عرض کیا۔ آپؒ نے فرمایا کہ یہ اضافہ اُس نے خود ہی کیا ہے لیکن اب اس کو اتنا ہی دیدو ، ہوسکتا ہے اسے اتنی ہی رقم کی ضرورت ہو۔
علم کا سمندر
مکرم چودھری غلام احمد صاحب مرحوم سابق امیر جماعت بہاولپور محکمہ آبپاشی میں ریونیو آفیسر تھے۔ بہاولپور میں ایک مجلس سوال و جواب کا اہتمام کیا گیا تو محکمہ آبپاشی کے چیف انجینئر کو مہمان خصوصی بنایا گیا۔ جب حضورؒ سے اُن کا تعارف ہوا تو حضورؒ نے آبپاشی کے بارہ میں باتیں شروع کیں۔ کچھ ہی دیر میں چیف انجینئر صاحب گھبراگئے تو حضورؒ نے اُن کی حالت کا اندازہ کرکے مجلس سوال و جواب شروع کردی۔ اگلے روز چیف انجینئر صاحب نے مکرم چودھری صاحب کو بلاکر کہا کہ مَیں تو سمجھا تھا کہ ربوہ سے تمہارا کوئی مولوی آئے گا لیکن وہ صاحب تو علم کا کوئی سمندر تھے، مَیں محکمہ میں رہ کر وہ کچھ نہیں جانتا جو وہ جانتے تھے۔
محترمہ صاحبزادی امتہ الباسط صاحبہ نے خلیفہ بننے سے قبل سوال و جواب کی مجالس کے حوالہ سے حضورؒ سے پوچھا کہ کبھی پھنسے بھی ہو؟۔ فرمایا: ایک بار پھنسنے لگا تھا جب ایک آدمی نے کہا کہ آپ جو کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تین دن کے بعد سولی سے زندہ اُتر آئے تو آپ اپنا ایک آدمی ہمارے سپرد کردیں۔ ہم اُسے ایک گھنٹہ کے لئے سولی پر لٹکادیں گے، اگر وہ زندہ اُتر آیا تو آپ کو سچا مان لیں گے۔ یہ سن کر پہلے مَیں گھبرایا لیکن اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور مَیں نے کہا کہ آپ مانتے ہیں کہ حضرت یونسؑ مچھلی کے پیٹ میں تین دن تک رہے۔ آپ اپنا ایک آدمی دیدیں، ہم اُسے مچھلی کو کھلواتے ہیں، اگر وہ زندہ بچ گیا تو ہم تمہیں سچا مان لیں گے۔
مکرم ارشاد احمد خان صاحب مربی سلسلہ بیان کرتے ہیں کہ جامعہ کے شاہد کے امتحان میں موازنہ مذاہب کے مضمون میں کمیونزم بہت مشکل تھا۔ اس بارہ میں ہماری کلاس نے حضورؒ سے مدد مانگی تو حضورؒ نے گزشتہ دس سالوں کے پرچے نکلواکر اُن کے منتخب سوالات پر دو دن لیکچر دیا جو دفتر سے چھٹی ہونے کے بعد شروع ہوتا اور دیر تک جاری رہتا۔ اور اس طرح ہمارے سارے سوالوں کے جواب دے دیئے۔
آپ مزید بیان کرتے ہیں کہ جب حضورؒ نے صفات باری تعالیٰ پر خطبات دیئے تو مَیں نوشہرہ کینٹ میں مربی تھا۔ وہاں ایک غیراحمدی پروفیسر نے ایک خطبہ سن کر کہا کہ وہ گزشتہ پینتیس سال سے یہ مضمون سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ آج خطبہ سن کر اسے سمجھ سکا ہے۔
سادگی و انکساری
حضورؒ کی طبیعت بہت سادہ تھی اور مزاج فقیرانہ تھا۔ آپؒ نے ایک بار اپنے پسندیدہ مشروب کے بارہ میں فرمایا: سب سے اچھا ڈرنک ٹھنڈا پانی ہوتا ہے۔ دوسرا ٹھنڈا دودھ اور اگر شہد ملادیں تو بہت اچھا ڈرنک بن جاتا ہے۔ پھر ناریل کے اندر کا پانی بھی بہت اچھا ہوتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کا ایک اخبار لکھتا ہے: حضرت مرزا طاہر احمد بہت خلیق اور ملنسار ہیں آپ اپنی ذات کے بارہ میں بات کرنے کی بجائے اپنے فرائض منصبی اور جماعت کے بارہ میں بات کرنازیادہ پسند کرتے ہیں۔ (روزنامہ وائن لینڈ ٹاگ بلٹ زیورک سوئٹزر لینڈ۔ 3؍ ستمبر1982ء)
ایک دوسرا اخبار لکھتا ہے: مرز اطاہر احمد اس وقت تو خوب کھل کر بات کرتے تھے جب آپ کی جماعت کے عقائد کے متعلق کچھ دریافت کیا جاتا لیکن جب آپکی ذات کے متعلق کچھ دریافت کیا جاتا تو آپ کھل کر بات کرنے سے کسی قدر اجتناب فرماتے۔ آپ نے بتایا کہ آپ ایک سادہ اور عاجز انسان ہیں بقول آپ کے آپ نے کوئی خاص قابل لحاظ تعلیم حاصل نہیں کی ۔آپ سکول میں پچھلے بنچوں پر بیٹھنے والوں میں سے تھے۔ آپ خود اس امر پر حیران تھے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو جماعت احمدیہ کا سر براہ چن لیا…آپ بات کو مزاح کا رنگ دینے کی طرف طبعی میلان رکھتے ہیں۔ (Neue Zurcher Zettung Zurich 31؍اگست 1982 )
محترمہ صاحبزادی امۃالباسط صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی بیماری کے دوران مَیں بھی اسلام آباد میں تھی۔ حضرت مرزا طاہر احمد صاحبؒ بھی وہاں تھے۔ آپؒ کو اپنا کچھ ہوش نہ تھا، شدید گرمی میں ڈرائینگ روم کے ایک طرف ایک تکیہ لے کر سوجاتے۔ کھانے کو کچھ مل جاتا تو کھا لیتے، خود نہ مانگتے۔ شیخوپورہ کے ایک غیرازجماعت گھرانہ میں ٹھہرے تو اُن کے گھر والی نے کہا کہ اس نے بہت بڑا آدمی بننا ہے کیونکہ اتنی سادہ طبیعت بڑے آدمیوں کی ہی ہوسکتی ہے۔ اسی طرح پاکستان بننے کے بعد جب ہمارا رتن باغ میں قیام تھا تو جودھا مَل بلڈنگ کے میدان میں مہاجرین کے خیمے لگے ہوئے تھے۔ ایک مرتبہ جمعداروں نے ہڑتال کردی تو حضرت مصلح موعودؓ نے خدام کو حکم دیا کہ خود لوگوں کے گھروںکی صفائی کردیں تاکہ بیماریاں نہ پھیلیں۔ حضورؒ اس کام میں پیش پیش تھے۔ ایک مہاجر عورت کہنے لگی: بچے! تُو تے بڑے گھر دا لگدا ایں، تیرے اُتے کی آفت آئی اے؟
مکرم نعیم اللہ خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضورؒ کی سادگی ایسی تھی کہ میرے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر ہی سفر کرلیتے اور کار کے لئے کسی کو تکلیف نہ دیتے۔ دوران سفر چھوٹے ہوٹلوں پر بھی کھانا کھالیتے اور تکلّف نہ کرتے۔ ہمیشہ کھانے کی تعریف کرتے۔
حضورؒ کے عجزوفروتنی کے بعض واقعات حضرت مرزا عبدالحق صاحب بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضورؒ خلیفہ بننے سے قبل بعض ایسے اجلاسات میں شامل ہوتے جن میں مَیں بھی شامل ہوتا تو اجلاس کے بعد مجھے بس پر چڑھانے کے لئے تشریف لے آتے اور پھر سارا وقت سڑک کے کنارے کھڑے رہتے۔
آپ مزید بیان فرماتے ہیں کہ کسی مجلس میں مرکزی جگہ کی بجائے حضورؒ ایک طرف ہوکر بیٹھتے تھے۔ خلافت کے بعد صدارت کے مقام پر بیٹھنا مجبوری تھی لیکن لندن میں ایک بار آپ نے جلسہ کے چند مہمانوں کو کھانے پر بلایا جن میں حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب (ایدہ اللہ تعالیٰ) بھی شامل تھے۔ جب حضورؒ تشریف لائے تو میز کے ایک طرف بیٹھ گئے۔ مَیں نے گزارش کی کہ حضورؒ مرکزی جگہ پر تشریف لے آئیں تو فرمایا کہ میرا یہی مقام ہے اور وہاں حضرت مرزا منصور احمد صاحب بیٹھیں گے۔
مکرم مرزا خلیل احمد قمر صاحب کارکن دفتر وقف جدید بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی میں محضر نامہ پیش کرنے کی تیاری ہورہی تھی۔ دفتر میں کئی لوگ کام میں مصروف تھے، کھانے وغیرہ کا بھی انتظام تھا۔ حضورؒ مسودہ لے کر حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کو دکھانے جاتے۔ ایک بار واپس آئے تو پوچھا کچھ کھانے کو ہے۔ دیکھا تو تھوڑا سا سالن تھا لیکن روٹی بالکل نہیں تھی۔ حضورؒ نے میز پر پڑے ہوئے روٹی کے چند ٹکڑے دیکھے تو فرمایا کہ یہ روٹی تو ہے۔ پھر وہی ٹکڑے آپؒ نے ایک ایک کرکے کھالئے۔
اسی طرح مکرم ضیاء الرحمن صاحب کارکن دفتر وقف جدید بیان کرتے ہیں کہ جب حضورؒ لنگرخانہ تین کے ناظم تھے تو ایک روز جب ہم معاونین نے کھانا کھالیا تو پھر حضورؒ تشریف لائے۔ آپؒ نے ہم سے کھانے کا پوچھا اور پھر دسترخوان پر ہمارے بچائے ہوئے ٹکڑوں کو کھاکر ہمیں بھی سبق دیا کہ کفران نعمت نہیں کرنا چاہئے۔
محنت کی عادت
٭ حضورؒ غیرمعمولی محنت کے عادی تھے۔ آپؒ نے ایک بار خود فرمایا کہ ’’مَیں نے خود زمینداری کی ہوئی ہے۔ اکیلا ڈھائی من کی بوری اپنی پیٹھ پر اٹھاکر ٹرالی میں لادا کرتا تھا اور مسلسل لادا کرتا تھا تاکہ مزدوروں کو پتہ چلے کہ یہ کوئی کام ایسا نہیں جو مَیں ان کو دیتا ہوں اور آپ نہیں کرسکتا۔ بعض دفعہ فصل پکنے پر اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے زمینوں پر جاکر محنت کرتا تھا۔ یورپ میں بھی ایسی سخت محنت کی ہوئی ہے جس کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اخبار کے بہت بھاری پیکٹ گاڑیوں پر لادنے ہوتے تھے اور رات سے صبح تک پورے آٹھ گھنٹے مسلسل یہ کام کرنا پڑتا تھا۔ واپس گھر آکر بخار چڑھ جاتا… یہ نہ سمجھیں کہ مَیں محنت کی قیمت نہیں جانتا اور اپنے ہاتھ کی کمائی میں جو برکت ہے اس سے ناآشنا ہوں‘‘۔
٭ محترمہ صاحبزادی طاہرہ بیگم صاحبہ نے بیان فرماتی ہیں کہ حضورؒ بے حد محنتی انسان تھے لیکن اَنتھک محنت کرنے کے باوجود اتنے ہشاش بشاش ہوتے اور خوشدلی سے ملتے کہ اپنی تھکن کا اظہار تک نہ ہونے دیتے۔ جہلم میں ہمارے ہاں کبھی کبھی تشریف لاتے تو بہت جلدی میں ہوتے اور صرف چائے پی کر آگے روانہ ہوجاتے۔
آپ نے حضرت سیدہ آصفہ بیگم صاحبہؒ کے حوالہ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضورؒ کو mumps نکلے ہوئے تھے اور ۱۰۳ تک تیز بخار تھا لیکن میرے روکنے کے باوجود بھی خدام کے پروگرام میں شرکت کے لئے اسلام آباد چلے گئے۔ اپنی بالکل پرواہ نہیں کرتے تھے، ہر وقت کام کی دھن تھی۔
٭ مکرم چودھری محمد ابراہیم صاحب رقمطراز ہیں کہ حضورؓ انتھک محنت کے عادی تھے۔ ۱۹۸۰ء میں ملتان میں ایک مجلس سوال وجواب تھی جس کے لئے ربوہ سے روانہ ہوکر حضورؓ مغرب سے کچھ پہلے ملتان پہنچ گئے۔ رات گیارہ بجے مجلس ختم ہوئی تو سونے سے پہلے فرمایا کہ صبح آٹھ بجے بہاولپور کے لئے نکلنا ہے۔ صبح جب سفر شروع کیا تو راستہ میں مضمون نگار کی خواہش پر ان کی زرعی زمین پر کچھ دیر ٹھہرے اور دعا کی اور پھر روانہ ہوکر لودھراں میں ایک گاؤں میں مجلس سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ وہاں کھانا کھاکر شہر پہنچے تو وہاں بھی مجلس سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ جس کے بعد روانہ ہوکر بہاولپور پہنچے تو نمازوں کی ادائیگی اور کھانا کے بعد مجلس سوال و جواب منعقد ہوئی۔ رات گیارہ بجے جب مجلس ختم ہوئی تو ساتھ جانے والوں کا خیال تھا کہ رات وہیں بسر ہوگی لیکن حضورؒ نے فرمایا کہ مجھے فوراً ربوہ پہنچنا ہے کیونکہ صبح آٹھ بجے فضل عمر فاؤنڈیشن کی میٹنگ ہے۔ چنانچہ ساری رات خود ڈرائیونگ کرتے ہوئے حضورؒ صبح فجر کی اذان کے وقت ربوہ پہنچے۔ گھر سے وضو کرکے نماز کے لئے تشریف لے آئے۔ نماز کے بعد گھر پر گئے تو ناشتہ یا آرام کیا ہوگا لیکن ٹھیک آٹھ بجے میٹنگ میں تشریف لے آئے اور دو تین گھنٹے کی میٹنگ کے بعد دفتر میں تشریف لے آئے اور دفتر بند ہونے کے بعد کسی وقت گھر تشریف لے گئے۔
٭ مکرم نعیم اللہ خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضورؒ سے ۱۹۷۰ء میں انتخابات کے دوران تعارف کا موقع ملا جب مجھے مکرم چودھری انورحسین صاحب کے پاس شیخوپورہ بھجوایا گیا۔ حضورؒ ہمیں ہدایات دینے کے لئے رات کو آیا کرتے اور رات میں ہی واپس روانہ ہوجاتے۔نہ تھکنے والی شخصیت تھے۔
اسیران راہ مولیٰ کے ساتھ شفقت
۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء کو آمر ضیاء الحق کے آرڈیننس کے نفاذ کے ساتھ ہی پاکستان کے احمدیوں پر مصائب کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہوگیا۔ اس ظالمانہ قانون کے نتیجہ میں بے شمار احمدیوں نے جان و مال کی قربانیاں انتہائی بشاشت کے ساتھ پیش کیں۔ بہت سے بے گناہ احباب کو مختلف مقدمات میں ماخوذ کرکے کئی کئی سال پس دیوارِ زنداں رکھا گیا۔ انہی میں مکرم محمد الیاس منیر صاحب حال جرمنی اور مکرم رانا نعیم الدین صاحب آف لندن بھی ہیں جنہیں احمدیہ مسجد ساہیوال پر رات کو احراری مولویوں کے حملے کے موقعہ پر احمدیوں کے اپنے دفاع میں گولی چلانے کی پاداش میں دس دیگر احمدیوں کے ساتھ جھوٹا مقدمہ قائم کرکے قید کردیا گیا اور آخر پھانسی کی سزا کے اعلان کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان احمدیوں کو رہائی عطا فرمائی اور ایک نئی زندگی بخشی۔
یوں تو حضورؒ کا دل پاکستان کے ہر احمدی کے لئے ماہیٔ بے آب کی طرح تڑپتا تھا لیکن اسیرانِ راہ مولیٰ کا ذکر آتے ہی ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ جاتے۔ سانحہ ساہیوال کے بارہ میں جب حضورؒ کی خدمت میں رپورٹ بھجوائی گئی تو آپؒ نے ساری رات دعائیں کرتے ہوئے اضطراب میں گزار دی۔ ذرا سی دیر کو جو آپؒ کی آنکھ لگی تو آپؒ نے حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کو دیکھا جنہوں نے حضورؒ کو السلام علیکم کہا۔ اس خواب سے حضورؒ کو یقین ہوگیا کہ جماعت اِس طوفانِ مخالفت میں سلامتی اور کامیابی کے ساتھ گزر جائے گی۔ لیکن اس کے ساتھ اسیرانِ غم کو آپؒ نے اپنے اوپر پوری طرح حاوی کرلیا۔
مکرم الیاس منیر صاحب کے نام حضورؒ نے اپنے ایک خط میں تحریر فرمایا کہ: ’’مجھے تو بعض دفعہ لگتا ہے کہ میرا جسم آزاد مگر اسیران راہ مولا کے ساتھ قید میں رہتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ مَیں کہاں کہاں رہتا ہوں‘‘۔
ایک اَور خط میں آپؒ نے فرمایا: ’’آپ کے دورِ یوسفی میں ایک دن بھی مجھے ایسا یاد نہیں کہ آپ یاد نہ آئے ہوں۔ بارہا آستانہ الوہیت پر اس گداز دعا سے میرا دل پگھل پگھل کر بہا ہے کہ اے میرے پیارے ربّ! مجھے جلد تر اپنے پیاروں کی رہائی دکھاکر اس جان گسل غم سے رہائی بخش جس نے مجھے یرغمال بنا رکھا ہے اور جو میری آزادی کی خوشی میں ایسی تلخی گھولتا ہے کہ یہ آزادی جرم دکھائی دینے لگتی‘‘۔
حضورؒ نے اسیران کے لئے ایک لمبے عرصہ تک اس رنگ میں دعائیں کی کہ گویا ساری فضا میں شورِ قیامت برپا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر قربانی کے لئے اپنے ربّ کے حضور حاضر بھی دکھائی دیتے۔ چنانچہ اس کا حال یوں بیان فرماتے: ’’بعض اوقات اس درد کے ساتھ دل سے دعا نکلتی ہے کہ یقین نہیں آتا کہ رحمت باری اسے ٹھکراسکے گی لیکن وہ حکمتِ کُل ہے اور ہم نادان جاہل بندے۔ وہ ہماری فلاح اور بہبود کو ہم سے بہتر سمجھتا ہے۔ اگر اسلام کے احیائے نو کے لئے وہ ہم ناکارہ بندوں کو قربانی کی سعادت بخشنا چاہتا ہے تو ہم بسروچشم حاضر ہیں ۔ لیکن بڑے خوش نصیب وہ جنہیں اس کی نظر عنایت پھولوں کی طرح چُن لے لیکن اُن بے کسوں کا کیا حال ہوگا جن کے دل کے نصیبے میں اپنی محرومی کا احساس اور اپنے پیاروں کی یادوں کے کانٹے رہ جائیں‘‘۔
اپنے اشعار میں بھی حضورؒ نے اپنی محبت کا بے مثال اظہار کیا اور اپنی یہ نظم اپنی آواز ریکارڈ کرواکے اسیران کو جیل میں بھجوائی:

کیا تم کو خبر ہے رہِ مولیٰ کے اسیرو!
تم سے مجھے ایک رشتۂ جاں سب سے سوا ہے
کس دن مجھے تم یاد نہیں آئے مگر آج
کیا روزِ قیامت ہے کہ اک حشر بپا ہے

حضورؒ کو یہ بھی احساس تھا کہ ساری جماعت اپنے اسیر بھائیوں کے لئے دعا گو ہے۔ چنانچہ فرمایا: ’’اپنے دل کی کیفیت مزید کچھ نہیں لکھتا کہ تم بے چین نہ ہوجاؤ۔ کیا تمہیں علم نہیں کہ کروڑوں احمدیوں کے دلوں کا چین تم چند مظلوم احمدیوں کے دلوں سے وابستہ کردیا گیا ہے‘‘۔ پھر فرمایا: ’’تمہاری تو زندگی بھی زندگی اور موت بھی زندگی ہے۔ تم خاک بسر تھے، میرے مولا کی رضا نے تمہیں عرش نشین بنادیا، مسیح کی غلامی میں تم بھی زمین کے کناروں تک شہرت پاگئے۔ آج ایک کروڑ احمدیوں کے دھڑکتے ہوئے دل تمہیں دعائیں دے رہے ہیں اور دو کروڑ نمناک آنکھیں تم پر محبت اور رشک کے موتی نچھاور کر رہی ہیں۔ میرا دل بھی اُن دلوں میں شامل ہے ، میری آنکھیں بھی اُن آنکھوں میں گھل مل گئی ہیں‘‘۔
حضورؒ نے دورانِ اسیری تربیت کا پہلو بھی پیش نظر رکھا اور آئندہ آنے والے حالات کے لئے تیار فرماتے رہے۔ چنانچہ اسیران کو حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب ’’تذکرۃالشہادتین‘‘ کے مطالعہ کی تلقین فرمائی۔ یہی وجہ تھی کہ کسی اسیر راہ مولیٰ کا سر دنیا کی عدالت کے سامنے اور پھانسی کی سزا کے اعلان کے بعد صدر کے سامنے رحم کی اپیل کرنے کو نہیں جھکا۔ اس وقت حضورؒ نے ایک خطبہ میں فرمایا: ’’ہم تو اس صاحب جبروت خدا کو جانتے ہیں، کسی اَور کی خدائی کے قائل نہیں اس لئے احمدیوں کا سر ان ظالمانہ سزاؤں کے نتیجہ میں جھکے گا نہیں بلکہ اَور بلند ہوگا یہاں تک کہ خدا کی غیرت یہ فیصلہ کرے گی کہ دنیا میں سب سے زیادہ سربلندی احمدی کے سر کو نصیب ہوگی کیونکہ یہی وہ سر ہے جو خدا کے حضور سب سے زیادہ عاجزانہ طور پر جھکنے والا سر ہے‘‘۔ اسی طرح ایک مکتوب میں فرمایا: ’’یہ چار دن کی زندگی تو بہت سخت ناقابل اعتبار ہے اور یہ بھی پتہ نہیں کہ کیسے انجام کو پہنچتی ہے۔ ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ وہ ہم سے اتنی جلد جدا ہوں مگر مرضی مولا اگر یہی ہے تو اے خوش نصیبو! جو رضائے باری تعالیٰ کی لافانی زندگی پانے والے ہو اور آسمانِ احمدیت کے درخشندہ ستارے بن کر چمکنے والے ہو اور جو تاریخ احمدیت میں ہمیشہ محبت اور عظمت اور پیار اور احترام کے ساتھ یاد کئے جاؤ گے، دمِ واپسیں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی فتح اور غلبہ کی دعا کرنا اور اس عاجز ناکارہ انسان کی بخشش کی بھی دعا کرنا۔ تم تو ہر امتحان میں کامیاب و کامران ٹھہرے اور ہر ابتلاء سے سرخرو ہوکر نکلے۔ کاش میری بھی یہ فریاد قبول ہو کہ ربّنا توفّنا مَع الاَبرار‘‘۔
سزائے موت سنائے جانے کے بعد جب اسیران نے پھانسی کی کوٹھڑی کے حوالہ سے خط لکھا تو حضورؒ نے جواباً تحریر فرمایا: ’’تم تو کال کوٹھڑی کے نہیں حجرۂ نور کے مکین ہو۔ یہ تم نے کیا لکھ دیا۔ رضائے باری تعالیٰ کے قیدی تو جس زنداں میں بھی رہیں اسے بقعۂ نور بنا دیتے ہیں۔ ایک اَور بات بھی تم نے اپنے خط میں غلط لکھ دی۔ تم تو لافانی زندگی کے سزاوار ٹھہرائے گئے ہو۔ کون ہے جو تمہیں ’’سزائے موت‘‘ دے سکے۔ وہ تو خود مُردہ ہیں۔ کبھی مُردوں نے بھی زندوں کی شہ رگ پر پنجہ ڈالا ہے۔ اگر شہادت تمہارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے تو کسی ماں نے وہ بچہ نہیں جنا جو تمہیں مار سکے۔ شہادت کی دائمی زندگی موت کی منزل سے ہوکر نہیں گزرتی‘‘۔ اس کے بعد اسیران نے بظاہر تاریک کوٹھڑیوں کو ’’زندگی کی بقعۂ نُور کوٹھڑی‘‘ لکھنا شروع کردیا۔
حوصلہ افزائی کا انداز اس خط میں ملاحظہ کریں: ’’اگر خدا کی تقدیر آپ کو ایک عظیم شہادت کا مرتبہ عطا کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے تو یہ ایک سعادت ہے جو قیامت تک آپ کا نام دین و دنیا میں روشن رکھے گی اور آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے اور کوئی نہیں جو آپ کو مار سکے۔ قیامت تک آنے والی نسلیں آپ کے ذکر پر روتے ہوئے اور تڑپتے ہوئے آپ کے لئے دعائیں کیا کریں گی اور حسرت کیا کریں گی کہ کاش آپ کی جگہ وہ ہوتے۔ … مَیں نے اپنے دل کو ٹٹولا تو یہ معلوم کرکے میرا دل حمد اور شکر سے بھر گیا کہ اگر آپ کو بچانے کیلئے مجھے تختۂ دار پر لٹکا دیا جاتا تو مَیں بخوشی اپنے آپ کو اس کے لئے تیار پاتا‘‘۔
اسیران راہ مولیٰ کے خطوط کے حوالہ سے حضورؒ نے ایک بار لکھا: ’’محبت جب عقل و ذہن کو مغلوب کرلیتی ہے تو ایک پختہ کار انسان بھی بچوں کی سی حرکتیں کرنے لگتا ہے۔ یہی حال میرا ہوا جب مَیں نے آپ کا زندگی کی کوٹھڑی سے لکھا ہوا خط دیکھا۔ بے اختیار اسے چوما، اس کی پیشانی کے بوسے لئے اور اسے سر آنکھوں سے لگاکر عجیب روحانی تسکین حاصل کی‘‘۔
اپنے بے شمار خطوط میں حضورؒ نے اللہ تعالیٰ سے اسیران کی رہائی اور زندگی کی بھیک مانگی۔ کبھی فرمایا: ’’مَیں جانتا ہوں کہ شہادت اور پھر ایسی عظیم شہادت ایک قابل صد رشک سعادت ہے لیکن مَیں یہ بھی جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ظاہری جان لئے بغیر بھی لازوال زندگی عطا کرسکتا ہے‘‘۔
ایک خط میں عرض کیا: ’’اے اللہ! … انہیں موت کی تنگ راہ سے گزارے بغیر ابدالآباد کی زندگی عطا فرما اور اسی دنیا میں انہیں اہل بقا میں شمار فرمالے اور مجھے یہ خیر کی بھیک عطا کر کہ مَیں انہیں اپنے سینہ سے لگاکر ان کی پیشانی کو بوسہ دوں اور اپنے دل کی پیاس بجھاؤں‘‘۔
حضورؒ نے اسیران کو اپنے ہاتھ سے خطوط لکھنے کے علاوہ خطبات اور خطابات میں بار بار اُن کی قربانیوں کا ذکر فرمایا اور دعا کی تحریک فرمائی۔ حضورؒ کے خطاب جب اسیران تک پہنچتے تو جیل کی دیواروں میں بھی انہیں آزادی کا احساس ہونے لگتا۔ اسیران کی دلداری کے لئے حضورؒ ہر عید اور دیگر مواقع پر تحائف بھجواتے۔ دنیا بھر میں جماعت کو ملنے والی ترقیات کو شہداء اور اسیران کی قربانیوں کی طرف منسوب فرمادیتے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کسی اسیر کو ظالموں کی قید سے رہائی بخشتا تو حضورؒ اللہ کی حمد و ثناء کے گیت گاتے ہوئے جشن تشکر مناتے، مٹھائی تقسیم کی جاتی، ایم ٹی اے کی کلاسوں میں ذکر ہوتا اور خطوط میں مبارکباد دیتے ہوئے کچھ اس قسم کا اظہار ہوتا:
’’انسان کے ہاتھوں انسان کے قید ہونے کی تاریخ میں اور پھر اس کی رہائی میں ایسا واقعہ کہیں نہیں ہوا کہ ساری دنیا سے لوگوں کو پہلے قید پر غم لگا ہو اور پھر رہائی کی خوشیاں منائی ہوں۔ یہ سب اللہ کا احسان ہے‘‘۔
ایک تاریخی خطاب
حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒ نے خلافت کے نہایت ہی بابرکت منصب پر متمکن ہونے کے معاً بعد اراکین مجلس انتخاب خلافت سے خطاب کے دوران فرمایا:
’’مَیں سوائے اس کے کچھ نہیں کہنا چاہتا کہ اپنے لئے بھی دعائیں کریں اور میرے لئے بھی دعائیں کریں۔

رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَالَاطَاقَۃَ لَنَا بِہ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰنا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِین۔

یہ ذمہ داری اتنی سخت ہے، اتنی وسیع ہے اور اتنی دل ہلا دینے والی ہے کہ اس کے ساتھ حضرت عمرؓ کا بستر مرگ پر آخری سانس لینے کے قریب یہ فقرہ ذہن میں آجاتا ہے: اللّٰھُمَّ لَالِی وَلاعلَیَّ۔ یہ درست ہے کہ خلیفۂ وقت خدا بناتا ہے اور ہمیشہ سے میرا اسی پر ایمان ہے اور مرتے دم تک، اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس پر ایمان رہے گا۔ یہ درست ہے کہ اس میں کسی انسانی طاقت کا دخل نہیں اور اس لحاظ سے بحیثیت خلیفہ اب مَیں نہ آپ کے سامنے، نہ کسی کے سامنے جوابدہ ہوں۔ نہ جماعت کے کسی فرد کے سامنے جوابدہ ہوں۔ لیکن یہ کوئی آزادی نہیں کیونکہ مَیں براہ راست اپنے ربّ کے حضور جوابدہ ہوں۔ آپ تو میری غلطیوں سے غافل ہوسکتے ہیں، آپ کی میرے دل پر نظر نہیں۔ آپ شاہدوغائب کی باتوں کا علم نہیں جانتے۔ میرا ربّ میرے دل کی پاتال تک دیکھتا ہے۔ اگر جھوٹے عذر ہوں گے تو انہیں قبول نہیں فرمائے گا۔ اگر اخلاص اور پوری وفا کے ساتھ، تقویٰ کو مدّنظر رکھتے ہوئے مَیں نے کوئی فیصلہ کیا تو اس کے حضور صرف وہی پہنچے گا۔ اس لئے میری گردن کمزوروں سے آزاد ہوئی لیکن کائنات کی سب سے زیادہ طاقتور ہستی کے حضور جھک گئی اور اس کے ہاتھوں میں آئی ہے۔ یہ کوئی معمولی بوجھ نہیں۔ میرا سارا وجود اس کے تصور سے کانپ رہا ہے کہ میرا ربّ مجھ سے راضی رہے، اُس وقت تک زندہ رکھے جس وقت تک مَیں اس کی رضا پر چلنے کا اہل ہوں اور توفیق عطا فرمائے کہ ایک لمحہ بھی اس کی اطاعت کے بغیر مَیں نہ سوچ سکوں، نہ کرسکوں، وہم و گمان بھی مجھے اس کا پیدا نہ ہو۔ سب کے حقوق کا خیال رکھوں اور انصاف کو قائم کروں جیسا کہ اسلام کا تقاضا ہے کیونکہ مَیں جانتا ہوں کہ انصاف کے قیام کے بغیر احسان کا قیام ممکن نہیں اور احسان کے قیام کے بغیر وہ جنت کا معاشرہ وجود میں نہیں آسکتا جسے ایتاء ذی القربیٰ کا نام دیا گیا ہے۔…‘‘
دو زرّیں نصائح
حضورؒ نے اپنے دورِ خلافت میں جماعت کو بے شمار نصائح فرمائیں اور قرآن و سنت کی روشنی میں حدیث اور علم کلام کے حوالوں سے مزیّن زرّیں ہدایات سے نوازا۔ ذیل میں صرف دو نصائح درج ہیں جو ہمیں ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
ہر خلیفہ کا اپنا انفرادی رنگ ہے
حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے خطبہ جمعہ فرمودہ ۲؍جولائی ۱۹۸۲ء میں فرمایا کہ آنحضورﷺ کے خلفاء میں ہر ایک سنّت مصطفیﷺ پر چلنے والا تھا لیکن اس کا اپنا ایک انفرادی رنگ بھی تھا۔ جن لوگوں نے اس فرق کو ملحوظ نہیں رکھا، انہوں نے نادانی میں خلفاء کا ایک دوسرے سے مقابلہ شروع کردیا۔ حضرت عمرؓ کی زندگی میں کہنے لگے کہ حضرت ابوبکرؓ تو یوں کیا کرتے تھے اور حضرت علیؓ کے دور میں حضرت عثمانؓ کے ساتھ مقابلے شروع ہوگئے۔ حالانکہ نادان اور ناواقف نہیں سمجھتے کہ کسی نے کونسا عمل کیوں اختیار کیا۔ یہ اللہ ہی بہتر جانتا تھا۔ بندہ کا کام نہیں کہ وہاں زبان کھولے جہاں زبان کھولنے کے لئے اس کو مقرر نہیں کیا گیا۔ اس لئے مَیں جماعت احمدیہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ایسی لغو دلچسپیوں سے باز رہیں۔ کسی کے کہنے سے کسی خلیفہ کے مقام میں، اس کے منصب میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جو فرق پڑے گا اور پڑتا ہے وہ صرف اللہ کی نظر میں ہے۔ انسان کو کیا پتہ کہ کس کی استعداد کیا تھی اور کون خدا کی نظر میں اپنی استعدادوں کو کمال تک پہنچا کر ان کے نقطۂ منتہا تک پہنچ گیا۔
پس اپنی لاعلمی اور جہالت کو سمجھنا چاہئے اور یہی تقاضہ ہے انکساری کا۔ بندے کا کام یہ ہے کہ استغفار سے کام لے اور دعائیں کرے خلیفہ وقت کی کمزوریوں کی پردہ پوشی کی۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے اور جو استطاعت اُس کو بخشی ہے، اُس کے بہترین استعمال کا موقع اُس کو عطا فرمائے تاکہ اُس کی رضا کی نظر اُس پر پڑے۔
اگر آپ کے خلیفہ پر آپ کے اللہ کی رضا کی نظر پڑے گی تو مَیں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ساری جماعت پر اللہ کی رضا اور محبت اور پیار کی نظریں پڑیں گی۔
نومسلموں کی حفاظت
نومسلموں کی حفاظت کے لئے حضورؒ نے محترم سید میر محمود احمد ناصر صاحب کو اُس وقت ایک نصیحت تحریر فرمائی جب وہ سپین میں دعوت الی اللہ میں مصروف تھے۔ حضورؒ نے تحریر فرمایا:
’’میری تاکیدی نصیحت یہ ہے کہ نومسلموں کو کبھی سپرداری کے بغیر نہ چھوڑیں ورنہ وہ ضائع ہوجاتے ہیں۔ خصوصاً سپین میں تبلیغ اسلام کی گزشتہ تیس سالہ جدوجہد سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔ کیسا دردناک منظر ہے کہ اندر آنے اور باہر جانے کے دونوں راستے یکساں گزرگاہ بنے ہوئے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے کوئی شکاری خوفناک درندوں سے بھرے ہوئے جنگل میں ہرنوں اور بھیڑیوں کو زیردام لالاکر درختوں سے باندھتا ہوا گزرتا چلا جائے، اس امید پر کہ بعد فرصت کسی دن ان کے ریوڑ بناؤں گا۔ کیا ایسے شکاری کا ماحصل حسرت کے سوا کچھ ہوسکتا ہے؟
پس اسلام میں آنے والی کسی معصوم روح کو سپرداری کے بغیر مادہ پرستی کے ہولناک جنگل میں تنہا نہ چھوڑیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے بہتر اور کس کی سپرداری ہوسکتی ہے۔ اس وقت تک اُن کی تربیت کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے والے روح پرور واقعات انہیں سناتے رہیں۔ آنحضورﷺ اور دیگر انبیاء کی سیرت کا سب سے نمایاں پہلو یعنی اپنے ربّ کی محبت اُن کے سامنے بار بار پیش کریں۔ خود اُن سے دعائیں کروائیں اور ساتھ ہی اُن کے لئے دعاؤں میں لگ جائیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں قبولیت دعا کا چسکا ڈال دے، وہ اللہ سے محبت اور پیار کی باتیں کئے بغیر نہ رہ سکیں۔ دعا اُن کا اوڑھنا بچھونا، ان کی روح کی غذا، اُن کا مشروب بن جائے۔ تب آپ سمجھیں کہ سپرداری کا حق ادا ہوا۔‘‘
قبولیت دعا کا اعجاز
مکرمہ شمیم قادر صاحبہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی قبولیت دعا کے حوالہ سے بیان کرتی ہیں کہ میری شادی کے بعد کئی سال تک میں اولاد سے محروم رہی۔ ہر قسم کے علاج کروائے لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ماہر ڈاکٹروں نے جب مکمل ناامیدی اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے میرے اولاد ہونے کے لئے ناممکن کے لفظ بولے تو مَیں نے نہایت عاجزی سے حضورؒ کی خدمت میں سارا معاملہ عرض کرکے دعا کی درخواست کی۔ حضورؒ نے مجھے لکھا کہ ڈاکٹر نصرت جہاں صاحبہ سے رابطہ کروں اور دوسری طرف ڈاکٹر صاحبہ کو بھی لکھا کہ وہ مجھ سے رابطہ کریں۔ چنانچہ فضل عمر ہسپتال کی طرف سے بھی مجھے خط ملا اور مَیں نے ربوہ جاکر ساری رپورٹس دکھائیں۔ مکرمہ ڈاکٹر صاحبہ نے دعا کے ساتھ علاج شروع کیا۔ کئی ماہ بعد انہوں نے میرا علاج مکمل طور پر بند کردیا اور کہا کہ وہ لندن جارہی ہیں، وہاں اپنے سینئرز سے مشورہ کے بعد واپس آکر علاج دوبارہ شروع کریں گی۔ ابھی علاج بند ہوئے تین ماہ گزرے تھے کہ حمل ٹھہر گیا۔ اس غیرمتوقع خبر کی اطلاع انہیں لندن میں ہی دی گئی۔ انہوں نے واپس آکر ٹسٹ کروائے اور ہرممکن مدد کی۔ حضورؒ کی خدمت میں دعا کیلئے بھی عرض کیا جاتا رہا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بیٹے سے نوازا۔ کچھ عرصہ بعد دوبارہ حمل ٹھہرا اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے بیٹے سے نوازا۔ چنانچہ ایک ناممکن چیز کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضورؒ کی دعائیں قبول فرماتے ہوئے ممکن کردکھایا۔
مکرم شیخ محمد عامر صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے لئے حضورؒ نے جو دعا بھی کی وہ مَیں نے پوری ہوتے دیکھی۔ ایک بار مَیں نے عرض کیا کہ ہم پر بینک کا بہت بڑا قرض ہے جو ہم ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، نہ ہی کوئی صورت نظر آتی ہے۔ آپؒ نے فرمایا: اتر جائیگا، ہمت سے کام لو۔ چھ ماہ کے اندر بینک کے قوانین میں ایسی تبدیلی آئی کہ شرائط بہت نرم کردی گئیں اور ہمارا سارا قرض اتر گیا۔
ڈھاکہ میں ایک احمدی دوست اپنے کسی دوست کو تبلیغ کرتے تھے اور لٹریچر اور کیسٹس دیا کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ اُن کو جماعت سے دلچسپی پیدا ہوگئی ۔ اس دوران اُن کی آنکھوں کو ایسی بیماری لاحق ہوگئی کہ ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ بصارت ضائع ہوجائے گی اور اسے بچانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ اس پر اُن کے دوستوں نے اُنہیں طعن و تشنیع شروع کردی کہ یہ احمدیوں کی کتابیں پڑھنے کی سزا ہے۔ انہوں نے اس پریشانی کا ذکر اپنے احمدی دوست سے کیا جنہوں نے حضورؒ کو دعا کے لئے لکھا۔ چند ہی دن میں اللہ کے فضل سے سارا نور واپس آگیا اور ڈاکٹروں نے بتایا کہ بیماری کا نشان بھی باقی نہیں رہا۔
مکرم صفدر علی وڑائچ صاحب بیان کرتے ہیں کہ شادی کے چھ سال بعد تک مَیں اولادسے محروم رہا۔ جب حضورؒ نے وقف نو کی تحریک فرمائی تو میں بار بار دعا کیلئے لکھتا رہا۔ حضورؒ کی طرف سے وقف نو نمبر بھی الاٹ کردیا گیا۔ آخر حالات ایسے ہوئے کہ مجھے عقد ثانی کرنا پڑا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے دو بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا۔
مکرم منصور احمد صاحب آف حیدرآباد (پاکستان) کے گلے میں تکلیف ہوئی جو کئی مہینوں پر محیط ہوگئی۔ کسی علاج سے افاقہ نہ ہوا تو انہوں نے حضورؒ کی خدمت میں لکھا۔ حضورؒ نے دعا کے ساتھ ایک ہومیوپیتھک دوا لکھی جو وہ پہلے بھی استعمال کرچکے تھے اور اس کی ایک شیشی میں گھر میں بھی پڑی تھی۔ حضورؒ کا خط آنے پر دوبارہ وہی استعمال کرنا شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے صحت عطا فرمادی۔
ایران کی ڈاکٹر فاطمۃالزہرا نے اپنے اکلوتے بیٹے کے بارہ میں لکھا کہ اس کی ٹانگ میں اتنی کمزوری آگئی ہے کہ لنگڑا کر چلتا ہے اور ڈاکٹر کوئی تشخیص نہیں کرپارہے۔ جس دن انہوں نے دعا کا خط لکھا، اُسی دن سے وہ لاعلاج مریض روبصحت ہونے لگا اور بالکل صحت مند ہوگیا۔
مکرم نعیم اللہ خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد مَیں نے بھی حضورؒ کی تحریک پر لبیک کہا اور کاروبار کے لئے ازبکستان آگیا۔ لیکن کاروباری حالات خراب ہونے پر مجھے قرغزستان منتقل ہونا پڑا۔ اس موقع پر حضورؒ نے بہت حوصلہ دیا اور ایک خط میں فرمایا: ’’انشاء اللہ آپ کے تمام نقصانات پورے ہوجائیں گے‘‘۔ بعد میں حضورؒ کے الفاظ لفظ بلفظ پورے ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے کاروبار میں بہت برکت ڈالی۔
محترم ڈاکٹر سید برکات احمد صاحب انڈین فارن سروس میں رہے، کئی کتب لکھیں۔ مثانہ میں کینسر ہوا تو امریکہ میں آپریشن کروایا جو ناکام رہا اور ڈاکٹروں نے چار سے چھ ہفتے کی زندگی بتائی۔ آپ نے حضورؒ کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا تو جواب آیا: ’’نہایت عاجزانہ فقیرانہ دعا کی توفیق ملی اور ایک وقت اس دعا کے دوران ایسا آیا کہ میرے جسم پر لرزہ طاری ہوگیا۔ مَیں رحمت باری سے امید لگائے بیٹھا ہوں کہ یہ قبولیت کا نشان تھا‘‘۔ چنانچہ اس دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے چار سال تک فعال علمی اور تحقیقی زندگی گزاری جسے ڈاکٹر بھی معجزہ قرار دیتے تھے۔
لائبیریا کے مسٹر ماساکوئے صاحب کا دل بڑھ گیا اور پھیپھڑوں میں پانی پڑگیا۔ ڈاکٹر نے جو علاج بتایا، اُس پر فی خوراک چھ سو ڈالر خرچ آتا تھا۔ وہ پریشانی میں وہاں امیر جماعت کو ملے جنہوں نے حضورؒ کی خدمت میں دعا کے لئے خط لکھا اور ہومیوپیتھی کا نسخہ بناکر دیا تو اللہ تعالیٰ نے مکمل شفا عطا فرمائی۔
مکرمہ امۃالحفیظ صاحبہ (ربوہ) ۱۹۸۶ء میں شدید بیمار ہوگئیں۔ بہت سا علاج کروایا لیکن طبیعت بگڑتی ہی گئی۔ آخر حضورؒ کی خدمت میں بیماری کی تفصیل لکھ کر بھیجی گئی۔ وہ خدا کو گواہ بناکر بیان کرتی ہیں کہ خط لکھتے ہی بیماری میں کمی کا احساس ہونا شروع ہوا۔ دو ہفتہ بعد حضورؒ کا جواب ملا’’مَیں نے دعا بھی کی ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ آپ کو آرام آ جائے گا‘‘۔ یہ خط پڑھتے ہی مکمل شفایابی کا احساس ہونے لگا اور اس کے بعد آج تک ویسی تکلیف نہیں ہوئی۔
اپریل ۱۹۸۰ء میں حضورؒ بحیثیت صدر مجلس انصاراللہ ایک مجلس سوال و جواب کے لئے تشریف لے گئے جہاں ایک بااثر غیرازجماعت ملک نذیر حسین صاحب لنگڑیال نے دعا کی قبولیت کے بارہ میں استفسار کیا۔ حضورؒ نے دعا کے فلسفہ پر روشنی ڈالی۔ حضورؒ کو بتایا گیا کہ ملک صاحب کا بیٹا جوان ہوچکا ہے، ہائی سکول میں پڑھتا ہے مگر سخت لکنت کی وجہ سے کسی سے بات بھی نہیں کرسکتا۔ کسی علاج سے فائدہ نہیں ہوا۔ حضورؒ نے دعا کی حامی بھری اور ایک دوا بھی لکھ کر دی۔ اگرچہ ملک صاحب نے وہ دوا بازار سے منگوالی لیکن کھلانے سے پہلے ہی اُن کا بیٹا فر فر بول رہا تھا اور ساری لکنت غائب ہوچکی تھی۔
مکرم قریشی داؤد احمد ساجد صاحب مبلغ سلسلہ کی شادی کو سولہ سال ہوچکے تھے۔ کئی قسم کے علاج کروائے لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ۱۹۹۹ء میں انگلستان تقرر ہوا تو حضورؒ سے ملاقات کے دوران دعا کی درخواست کی اور اپنے طور پر ایک ہومیوپیتھی دوا کا استعمال جاری رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے شادی کے اٹھارہ سال بعد بیٹی عطا فرمائی۔
مکرم سیف اللہ چیمہ صاحب (نائیجیریا) اپنی بیوی کے ہمراہ حضورؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بتایا کہ ایک عرصہ شادی کو گزرچکا ہے لیکن کوئی اولاد نہیں ہے۔ حضورؒ نے بے اختیار فرمایا: ’’بشریٰ بیٹی آئندہ جب آؤ تو بیٹا لے کر آنا‘‘۔ پھر جلد ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں بیٹے سے نوازا۔
غانا کے ایک چیف نانااوجیفو صاحب نے عیسائیت سے توبہ کرکے حضورؒ کے دست مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔ جس کا محرک یہ بات تھی کہ اُن کی بیوی کا حمل ہر بار ضائع ہوجاتا تھا۔ عیسائی پادریوں اور دوسروں سے دَم کروائے مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ آخر انہوں نے امیر صاحب غانا کے ذریعہ حضورؒ کی خدمت میں دعا کی درخواست کی۔ حضورؒ نے جواباً لکھوایا: ’’آ پ کو بچہ نصیب ہوگا اور بہت ہی خوبصورت اور عمر پانے والا بچہ ہوگا‘‘۔ جب اُن کی بیوی کو حمل ٹھہرا تو ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ بچہ مر جائے گا اور حمل ضائع نہ کروایا گیا تو بیوی کی جان کو بھی شدید خطرہ ہے۔ لیکن چیف نے حضورؒ کے خط کا حوالہ دے کر ڈاکٹروں سے کہا کہ بچہ اور بیوی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ پھر وہ ہر ہفتے دعا کی یادکرواتے رہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نہایت ہی خوبصورت اور صحت مند بچہ عطا فرمایا اور اُن کی بیوی بھی بالکل ٹھیک رہیں۔
مکرم ملک نادر حسین کھوکھر صاحب کو غنڈوں نے پچاس لاکھ روپے تاوان کے بدلہ اغوا کرلیا۔ حضورؒ کی خدمت میں بار بار دعا کی یاددہانی کروائی گئی۔ آخر حضورؒ کی دعائیں مستجاب ہوئیں اور خلاف توقع نہ صرف ساتویں روز اُن کو رہائی مل گئی بلکہ وہ لوگ ایک سو معززین کا وفد لے کر معذرت کے لئے بھی آئے اور پچاس لاکھ روپے وصول شدہ تاوان بھی واپس کرگئے۔
مکرم نصیر احمد شاہ صاحب چیئرمین ایم۔ٹی۔اے لکھتے ہیں کہ امریکہ و کینیڈا کے لئے ڈیجیٹل سروس شروع کرتے وقت ایک کمپنی سے ریسیور تیار کرنے کا معاہدہ ہوا۔ قیمت اگرچہ زیادہ تھی لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ پھر اچانک اُن کا معذرت کا فون آگیا ۔ اس کی اطلاع ڈرتے ڈرتے حضورؒ کو دی گئی توفرمایا: ’’اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اے اللہ! روح القدس سے ہماری مدد فرما‘‘۔ اس واقعہ کے تیسرے دن ہی ایک اَور کمپنی نے جس کا ہمیں علم بھی نہیں تھا ازخود ریسیور بنانے کی پیشکش کی اور ان کی قیمت پہلی کمپنی سے ایک تہائی تھی۔
مکرم چودھری شبیر احمد صاحب وکیل المال اوّل تحریک جدید ربوہ بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۹۸ء میں جلسہ سالانہ یوکے میں شامل ہونے کے لئے جب مجھے دعوت ملی تو اُن دنوں مجھے نکسیر پھوٹنے کی شدید تکلیف لاحق تھی۔ مجھے ۲۴؍جولائی کی شام پانچ بجے لاہور کے لئے روانہ ہونا تھا لیکن خون زیادہ بہنے سے کمزوری بہت ہوگئی تھی۔ قریباً گیارہ بجے دوپہر مَیں نے حضورؒ کی خدمت میں دعا کی فیکس بھجوائی۔ کچھ ہی دیر بعد مجھے یقین ہوگیا کہ حضورؒ کی دعا نے اللہ تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لیا ہے۔ بہتے ہوئے خون کا یکدم بند ہوجانا بھی اعجازی نشان تھا لیکن کمزوری کا یکسر رفع ہوجانا اس سے بھی زیادہ اعجازی نشان تھا۔ پروگرام کے مطابق لاہور روانہ ہوا۔ وہاں پہنچ کر علم ہوا کہ جہاز چھ گھنٹہ لیٹ ہے۔ چنانچہ قریباً ساری رات ایئرپورٹ پر گزری لیکن کسی وقت نقاہت کا احساس تک نہ ہوا۔ سارا سفر بطیب خاطر طے ہوگیا۔ لندن پہنچے تو جلسہ انتظامات کا معائنہ فرمانے کے لئے حضورؒ تشریف لائے اور خاکسار کو دیکھتے ہی فرمایا: اب ٹھیک ہیں؟۔ اس کے بعد دوران جلسہ اپنی موجودگی میں نظم پڑھنے کی سعادت بھی عطا فرمائی۔
حضورؒ کو خلیفہ بننے سے قبل بھی بعض لوگ دعا کے لئے لکھتے تھے۔ اگر کبھی کوئی ’’سیدی‘‘ کا لفظ لکھ دیتا تو ناپسند فرماتے اور سمجھاتے کہ یہ لفظ صرف خلیفہ وقت کی ذات کو زیب دیتا ہے۔ بہاولپور کے ایک دوست حکیم محمد افضل صاحب نے ایک بار لکھا کہ اُن کو ایک باؤلے کتے نے کاٹ لیا ہے جس سے بہت پریشانی ہے۔ حضورؓ نے جواباً لکھا کہ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا اور آپ کو کتے کے کاٹنے سے ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ چنانچہ یہ دوست اب بھی زندہ ہیں۔
سلسلۂ خلافت
مکرمہ لئیقہ منیب صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ ۱۹۷۹ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے پاس مَیں اپنی بیٹیوں کے ساتھ ملاقات کے لئے گئی اور عرض کیا کہ میرے میاں گیمبیا میں ہیں اور ہم بھی اب اُن کے پاس جارہے ہیں۔ حضورؒ فرمانے لگے کہ کیوں نہ آپ لوگوں کو گیمبیا سے سیدھے یوگنڈا بھجوا دیا جائے۔ اس کے بعد بہت سی باتیں ہوئیں اور ہم واپس آگئے۔ پھر گیمبیا میں پانچ سال گزارے اور یہ بات قریباً بھول چکے تھے کہ خلافت رابعہ کے دَور میں اچانک مرکز سے ارشاد موصول ہوا کہ ہمیں گیمبیا سے یوگنڈا روانہ کردیا جائے۔ مجھے یہ اطلاع سن کر حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی بات یاد آگئی اور سخت حیرت ہوئی کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے ایک خلیفہ کی بات کو کئی سال کے بعد دوسرے خلیفہ کے ذریعہ من و عن پورا فرمادیا۔ اور عجیب بات یہ بھی تھی کہ اس سے قبل ہمارے گیمبیا سے تمام سفر براستہ لندن ہوا کرتے تھے لیکن یہ سفر براہ راست گیمبیا سے یوگنڈا کیلئے کیا گیا۔
غیروں کا خراج تحسین
٭ جرمنی کا ایک معروف اخبار حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے رقمطراز ہے:
ایک ’’سچے خلیفہ‘‘ کے ذریعہ مشرقی ہیرو کا ایک نیا تصور ابھرا ہے۔ احمدیہ مسلم جماعت کے سربراہ کیلئے ظاہری نہیں بلکہ باطنی روحانی دنیا اہمیت رکھتی ہے۔ … آپ کے پیغام میں سب سے متاثر کرنے والی بات یہ ہے کہ آپ امن کے شہزادے ہیں۔ دس ملین سے زیادہ پیروکاروں کے پیشوا نے کہا: ’’ہتھیار ہاتھ میں لے کر بنی نوع انسان کے دل فتح نہیں کئے جا سکتے اس طرح کے جہاد مقدس کا کوئی وجود نہیں‘‘۔
(NEUE PRESSEفرینکفرٹ 27؍ اکتوبر 1986ء)
٭ کوپن ہیگن کے ایک اخبار نے آپ کے بارہ میں لکھا:
خلیفۃ المسیح بلا شبہ پر اثر شخصیت کے مالک ہیں۔یہی نہیں بلکہ آپ مسلم فرقہ جماعت احمدیہ کے عالمی سربراہ بھی ہیں جس کے ممبران کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ ہے۔
(روزنامہ Aktulet بابت12؍اگست 1982 ء ص10)
٭ ڈنمارک کا ایک اخبار لکھتا ہے: گزشتہ شام ہمیں خلیفۃ المسیح سے پندرہ منٹ کی ملاقات کا موقع عنایت ہوا لیکن اعلیٰ صلاحیتوں کی مالک اس پر کشش شخصیت کے ساتھ جسے قدرت نے مزاح کی حس سے بھی حصہ وافر عطا کیا ہے ہماری ملاقات طول پکڑتی چلی گئی اور پندرہ منٹ کی بجائے پینتالیس منٹ تک جاری رہی۔
(روزنامہ ’’بی ٹی‘‘ 13؍اگست1982ء)
٭ آسٹریلیا کے معروف صحافی جیمز ایس مرے لکھتے ہیں:
احمدیہ جماعت کے سربراہ جو ایک منتخب خلیفہ کی حیثیت میں زبردست خود اعتمادی کے مالک ہیں، یہ بات کسی قسم کی چشم نمائی کا باعث نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ احمدیوں کو جس قسم کے جبرو تشدد کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اس سے ان کی مشابہت ابتدائی عیسائیوں سے ثابت ہوتی ہے اور آخرکار وہ بھی ان ہی کی طرح فتح حاصل کر کے رہیں گے۔
(دی آسٹریلین 29؍ستمبر1983ء)
٭ جلسہ سالانہ برطانیہ 1992ء کے موقع پر سیرالیون کے صدر کے ذاتی نمائندہ اور وزیر صحت ، سماجی امور و مذہبی امور مسٹر ایکن اے جبریل تشریف لائے اور حا ضرین جلسہ سے اپنے تاثرات میں کہا: ’’میں نے پہلی بار حضرت خلیفۃ المسیح الرابع سے ملاقات کی تو اس کا گہرا اثر میرے دل پر پڑا۔ میں حضرت امام جماعت احمدیہ سے بار بار ملنا چاہتا ہوں‘‘۔
(روزنامہ الفضل 4؍ اگست1992ء)
٭ ۱۹۸۶ء میں ایک کیتھولک پادری جناب شیل آرلد پولیستاد نے حضورؒ سے ناروے میں ملاقات کی اور وہاں کے اخبار “Stavanger Aftenbla” میں ستمبر ۱۹۸۶ء میں اپنے تاثرات میں انہوں نے بیان کیا:
امام جماعت احمدیہ بغیر کسی ظاہری شان وشوکت کے موجود تھے۔ مگر وہ طبعی وقار جو ایک حقیقی مذہبی رہنما کا طرہ ٔامتیاز ہے ان میں بدرجہ اتم نظر آرہاتھا۔ آپ سیاہ رنگ کی شیروانی اور سفید طرہ دارعمامہ میں ملبوس تھے۔
آپ کا سارا وجود ایک ایسی طمانیت کا مظہر تھاجس کی بنیاد خدا تعالیٰ کی ہستی پر گہرے ایمان سے نصیب ہوسکتی ہے۔ بلا شبہ یہ مقام طمانیت انہیں اسی راہ کو بہترین اور مسلسل طور پر اپنانے سے ملا ہے جسے وہ بر حق جانتے ہیں۔ہاں وہی مذہب جو کامل فرمانبرداری کا پیامبر ہے۔
(سوونیئر86۔87مجلس خدام الاحمدیہ کراچی صفحہ17)
٭ لارڈ ایرک ایو بری نے جلسہ سالانہ برطانیہ 2002ء کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا:
میں خاص طور پر آپ کے سربراہ حضرت مرزا طاہر احمد کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جن کی دانشمندانہ قیادت نے آپ کو مشکلات کے گرداب سے بچا لیا اور امید واثق ہے کہ ان کی قیادت جماعت احمدیہ کے لئے نہ صرف برطانیہ میں بلکہ پوری دنیا میں ایک روشن مستقبل پیدا کرے گی جس سے ساری انسانیت کو فائدہ ہو گا۔
(روزنامہ الفضل سالانہ نمبر2002ء ص66)
٭ جلسہ سالانہ برطانیہ 1994ء کے موقع پر کینیڈا میں بوسنیا ریلیف سنٹر کے ڈائریکٹر جناب محمود باثق نے کہا کہ میں نے حال ہی میں کروشیا اور زاغرب کا دورہ کیا ہے جہاں میری بوسینیا کے صدر علی جاہ عزت بیگوچ سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے میرے توسط سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع اور تمام احمدیوں کو سلام بھجوایاہے۔ مکرم محمود باثق صاحب نے دعا کی کہ:
حضورؒ ایسی قیادت بوسنیا کو بھی نصیب ہو۔
(روزنامہ الفضل 11؍اگست 1994ء)
٭ جناب کرشن ریلے چیف ایڈیٹر انڈیا لنکر لنڈن لکھتے ہیں:
’’میں ایک روحانی لیڈر کے بارہ میں مزید جاننے کا خواہش مند تھا جو چند دن پہلے اپنے مریدوں کے دس ہزار کے مجمع کو جلسہ سالانہ ٹلفورڈ (سرے) کے موقع پر اپنی تقریر سے مسحور کررہا تھا۔ہر شخص ان کی تقریر خاموشی کے ساتھ غور سے سن رہا تھاکہ جیسے ہر لفظ وحی کی طرح نازل ہورہا ہو۔ حضرت مرزا طاہر احمد ایک سکالر تھے۔ جنہوں نے اپنی زندگی کو نیک مقاصد کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ ان کی زندگی میں نظم وضبط تھا اور وہ فی زمانہ کی جدید سائنسی اور سوشل ترقیات سے بخوبی واقف تھے۔‘‘
(ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ لاہور۔ ۴؍اکتوبر ۲۰۰۳ء)
٭ برطانوی سیکنڈری سکولوںکے لئے شائع ہونے والی ایک کتاب Religion in Life میں اسلام کے سربرآوردہ لوگوں میں حضورؒ کا تعارف اور تصویر بھی شامل اشاعت کی گئی ہے۔
(ضمیمہ انصاراللہ۔ ستمبر ۱۹۸۷ء)
٭ ۱۹۸۷ء میں جب حضورؒ نے امریکہ کا دورہ فرمایا تو واشنگٹن ڈی سی میں ۷؍اکتوبر کا دن وہاں کے میئر نے آپ کے نام کرنے کا اعلان کیا۔ نیز امریکی سینیٹ کے نمائندہ جناب وینس ہارک نے ’’نشان امریکہ‘‘ کا اعزاز حضورؒ کی خدمت میں پیش کیا۔
(ضمیمہ مصباح فروری ۱۹۸۸ء)
٭ برطانوی ممبر آف پارلیمینٹ ٹام کاکس نے حضورؒ کی کتاب “Revelation, Rationality, Knowledge & Truth” پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
’’آپؒ ہمہ جہت صلاحیتوں کی مالک شخصیت ہیں اور مختلف النوع علوم کے ماہر ہیں۔ آپ ایک حاذق طبیب ہیں اور سائنسی علوم سے بہرہ ور ہیں، ایک جید فلاسفر اور منجھے ہوئے شاعر ہیں۔ دراصل آپ ابن سینا اور ابن رشد کی طرح علم کا بے پناہ خزانہ ہیں اور انواع و اقسام کے مضامین اور علم کی مختلف شاخوں پر خوب دسترس رکھتے ہیں۔ اس نہایت وسیع اور گہرے علم کے ساتھ ساتھ جو مختلف جہتوں سے آپ کو حاصل ہے، آپ اسلام کی تعلیمات کی حکمت اور عظمت کو سمجھنے میں دیگر تمام دنیا سے بلند ایک ممتاز مقام پر فائز ہیں۔ حقیقت کے منکر اور دہریوں کے خلاف آپ کے دلائل قاطع ہیں اور ایسے ہیں کہ انہیں اُن کے ناقابل فہم اور بعد از عقل خیالات کے بارہ میں دوبارہ سوچنے پر مجبور کردیں۔ اس کتاب کی سب سے اہم خصوصیت قرآن کا وہ گہرا اور عظیم علم ہے جو آپ کسی نظریئے کی تائید میں پیش فرماتے ہیں۔ دراصل مذہبی صحائف کا علم محض ذاتی مطالعہ کی بنا پر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تحفۂ خداوندی ہے جو صرف چند لوگوں کے حصہ میں آتا ہے اور مَیں یقین رکھتا ہوں کہ آپؒ ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جو الہام کی نعمت سے حصہ پاتے ہیں اور جنہیں خدا تعالیٰ اپنی جناب سے اس نعمت عظمیٰ کے لئے چن لیتا ہے۔ مَیں نہایت وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ اسلامی دنیا کے علم و فضل سے بہرہ ور لوگوں کے سردار ہیں اور مَیں آپ کی عظمت کو سلام کرتا ہوں‘‘۔
٭ متحدہ قومی موومنٹ کے بانی لیڈر جناب الطاف حسین نے حضورؒ کی وفات پر کہا:
’’ایک عظیم رہنما اور سکالر اس دنیا سے رخصت ہوا ہے اور اپنے پیچھے ایک بڑا خلا چھوڑ گیا ہے۔ ان کی یاد انمٹ اور ہمیشہ رہنے والی ہے‘‘۔
(محرر۔ ۲۰؍اپریل ۲۰۰۳ء)
اس کے علاوہ بھی حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کو دنیا بھر کی بے شمار علمی و ادبی شخصیات نے مختلف اوقات میں خراج تحسین پیش کیا۔ حضورؒ کو بہت سے شہروں کی چابیاں پیش کی گئیں اور مختلف دن آپؒ کے نام کے ساتھ مختص کئے گئے۔ دنیا بھر کے بے شمار اخبارات و جرائد نے حضورؒ کی پُرکشش شخصیت کے حوالہ سے مضامین لکھے اور آپؒ کے انٹرویوز اپنے رسالوں کی زینت بنائے۔ بہت سے نشریاتی اداروں نے خود حضور انور کے انٹرویوز ریکارڈ کئے۔ حضورؒ کی علمی، ادبی شخصیت کو خدمت انسانیت کے حوالہ سے بھی دنیا بھر میں سراہا گیا۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/WntBT]

اپنا تبصرہ بھیجیں