ہانیمن کا قبول اسلام

ہومیوپیتھی کے بانی ہانیمن کی زندگی کے بارہ میں قبل ازیں ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 17؍مئی 1996ء کے اِسی کالم میں ذکر کیا جاچکا ہے۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30؍جولائی 2007ء میں اخبار ’’نوائے وقت‘‘ کے حوالہ سے ایک اقتباس مکرم پروفیسر راجا نصراللہ خانصاحب کے مرسلہ مضمون میں شامل ہے جو ہانیمن کے قبول اسلام کے بارہ میں ہے۔
ہانیمن مسلمان ہوگیا تھا۔ 1777ء تک وہ جرمن، لاطینی، یونانی، انگریزی اور ہسپانوی بولنے اور لکھنے کے قابل ہوگیا تھا۔ پھر عربی بھی سیکھنے لگا تاکہ مسلمانوں کی طبّی خدمات جان سکے۔ اُس نے قرآن کریم کا بھی مطالعہ کیا اور اسلام قبول کرلیا۔ اس پر اُس کو مخالفت اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا چنانچہ اُس نے اپنی جائیداد اپنے خاندان میں ہی تقسیم کردی اور خود فرانس ہجرت کرگیا۔ اُس کا پیدائشی نام سیموئیل بھی تھا جو بنی اسرائیل کے ایک نبی کا نام ہے۔ مسلمان ہونے کے بعد اُس نے اِسی نام کو استعمال کیا اور کرسچین نام فریڈرک کبھی استعمال نہیں کیا۔ لندن میں واقع ہانیمن میوزیم میں اُس کی روزمرہ استعمال کی چیزوں میں جائے نماز کے علاوہ تسبیح اور ترکی ٹوپی بھی شامل ہیں۔ کتب کے ذخیرے میں قرآن کریم بھی شامل ہے۔
ہانیمن نے مسلمان ہونے کے بعد کبھی تثلیث کی اصطلاح استعمال نہیں کی بلکہ ہمیشہ خالق کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اُس نے اپنے ایک مریض کو خط لکھتے ہوئے بھی بے پناہ رحم دینے والی ایک ہستی کا محبت سے ذکر کیا ہے۔ ہانیمن کی محفوظ وصیت کے مطابق اُس کی تدفین کی رسومات میں صرف مسلمانوں کو مدعو کیا گیا تھا چنانچہ اِسی وجہ سے اُس کی تدفین انتقال کے نو روز بعد ماؤنٹ میریٹری کے ایک گمنام قبرستان میں عمل میں آسکی۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/xcxo2]

اپنا تبصرہ بھیجیں