گلہری اور اس کی اقسام

گلہری کا خاندان بہت بڑا ہے اور یہ آسٹریلیا، جنوبی امریکہ اور مڈغاسکر کے علاوہ ساری دنیا میں پائی جاتی ہیں۔ ان کا ایک گروہ درختوں پر بسیرا کرتا ہے۔ اس گروہ میں گلہریوں کی دو سو اقسام ہیں۔ یہ درختوں کے کھوکھلے تنوں میں اپنا گھر بناتی ہیں یا پرندوں کی طرح سوکھی ٹہنیوں اور تنکوں کی مدد سے گھونسلہ بناتی ہیں۔ ان کی جسامت اور رنگ مختلف ہوتا ہے لیکن عادات ملتی جلتی ہیں۔ عموماً پھل، کونپلیں اور کیڑے مکوڑے کھاتی ہیں لیکن بعض پرندوں کے انڈے بھی کھا جاتی ہیں اور چند ایک درختوں کی چھال اتار کر گودے میں سے رس چوستی ہیں اور اس طرح وہ درخت پنپ نہیں پاتے۔ یہ گلہریاں اپنی پچھلی ٹانگوں پر بیٹھ کر اگلی ٹانگوں کو ہاتھوں کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔
جبکہ گلہریوں کا دوسرا گروہ زمین میں بِل بناکر رہتی ہے۔ یہ براعظم افریقہ میں بکثرت ملتی ہیں۔ جسامت میں بڑی ہوتی ہیں۔ سخت سردی یا گرمی کے موسم میں کچھ عرصہ سو کر گزارتی ہیں اور اس عرصہ میں اُسی خوراک پر گزارہ کرتی ہیں جو انہوں نے اس مقصد کیلئے جمع کی ہوتی ہے۔ سب سے مختصر جسامت کی گلہری جس کا وزن پندرہ گرام اور لمبائی آٹھ سینٹی میٹر ہوتی ہے مغربی افریقہ میں پائی جاتی ہے۔
گرم ممالک میں بسنے والی گلہریاں سال میں کئی مرتبہ بچے دیتی ہیں جبکہ سرد علاقوں والی ایک یا دو مرتبہ بچے دیتی ہیں۔ یہ عام طور پر دو سے چھ تک بچوں کو جنم دیتی ہیں۔ بچہ کے جسم پر بال نہیں ہوتے اور آنکھیں چند ہفتے تک بند رہتی ہیں۔ پانچ سے آٹھ ہفتوں کے بعد گلہری خود شکار کی تلاش میں نکلتی ہے۔ اس کی عمر دو سے چھ سال تک ہوتی ہے۔ تاہم بعض پندرہ سال تک بھی زندہ رہی ہیں۔
برطانیہ میں دو قسم کی گلہریاں پائی جاتی ہیں۔ سرخ رنگ کی اور سیاہی مائل۔ سرخ رنگ کی گلہری انگلستان کی اصل باشندہ ہے جبکہ سیاہی مائل 1876ء کے لگ بھگ امریکہ سے یہاں لائی گئی تھی۔ مشاہدہ ہے کہ یہ دونوں اقسام ایک دوسرے کو زیادہ پسند نہیں کرتیں اور لڑ کر اپنے علاقہ سے دوسرے کو بھگا دیتی ہیں۔ سرخ رنگ کی گلہری انسانوں سے زیادہ مانوس ہے اور بعض دفعہ آپ کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چیز بھی کھانے کے لئے آ جاتی ہے۔
برطانیہ میں محکمہ جنگلات جلد ہی سیاہی مائل گلہریوں کے خلاف اقدامات کرنے والا ہے کیونکہ وہ درختوں کو تباہ کر رہی ہیں اور پانچ ملین پاؤنڈ کا نقصان ہر سال کر رہی ہیں۔
یہ مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22؍دسمبر 1998ء میں ہفت روزہ ’’لاہور‘‘ کی ایک اشاعت سے منقول ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/gMiXQ]

اپنا تبصرہ بھیجیں