گذشتہ نصف صدی کی 10 اہم ٹیکنالوجیز

ماہنامہ ’’خالد‘‘ نومبر 2004ء میں جناب پال باؤن کے ایک انگریزی مضمون کا اردو ترجمہ مکرم مجدالدین مجد صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے جس میں گذشتہ پچاس سال میں دس ایسی اہم ٹیکنالوجیز کا ذکر کیا گیا جن سے روز مرہ کی انسانی زندگی میں انقلاب برپا ہوگیا ہے اور غالباً ترقی یافتہ ممالک میں ان ٹیکنالوجیز کے بغیر انسانی زندگی کا تصور بھی محال ہے۔
10…اعضاء کی پیوندکاری
1954ء میں Dr. Joseph Murray نے ایک انسانی مریض کو دوسرے انسان کا گردہ پہلی بار لگایا۔ جسے گردہ لگایا گیا تھا، اس کے جسم نے اسے کوئی بیرونی عضو سمجھنے کی بجائے باآسانی قبول کر لیا۔ یہ ایک بہت ماہرانہ سرجری تھی اور اس کے لئے دوجڑواں بھائیوں، رونالڈہیرک اور رچرڈ کو منتخب کیا گیا تھا تاکہ ایک جیسی جینیاتی خصوصیات کے باعث کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں۔ بہت جلد کئی محققین نے ایسی دوائیں بھی تیار کر لیں جو پیوند شدہ عضو کو جلد نئے جسم کا کار آمد حصہ بنا سکیں۔ آج صرف امریکہ میں ہر سال پچیس ہزار مریضوں کو نیا دل، گردہ، پھیپھڑہ یا کوئی اور عضو لگایا جاتا ہے۔
9…روبوٹس اور مصنوعی ذہانت
چیکو سلواکیہ کے کہانی نگارKarel Capek نے روبوٹ کی اصطلاح متعارف کروائی تھی۔ چیک زبان میں ’’روبوٹا ‘‘ (Robota)کے معنی انتھک محنت کے ہیں۔ لیکن ایک جیتا جاگتا روبوٹ جو انڈسٹری میں فائدہ دے، 1954ء میں George Devolنے بنایا۔ آج دنیا بھر میں اشیاء کی Assembling کا کام روبوٹس بہت بہتر، تیز اور انسانوں سے سستے داموں سرانجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح ایک سال میں اندازاً 8ملین امریکی جہازوں کی آمدو رفت کو ایک سپر کمپیوٹر کی مدد سے کنٹرول کیا جارہا ہے۔
8… الیکٹرانک ذریعہ سے رقوم کی منتقلی
سان فرانسسکو کے Federal Reserve Bank نے 1972ء میں اپنی لاس اینجلس کی برانچ کے لئے ایک الیکٹرانک نظام متعارف کروایا جس کے ذریعہ بغیر کسی کاغذ کے (Paperless) بنکاری کا آغاز ہوا۔ ایک دہائی کے اندر اندر بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے مابین کروڑوں ڈالرز اس طریق سے منتقل ہونے لگے۔ اسی ٹیکنالوجی کا نتیجہ ہے کہ ہم دنیا بھر میں کریڈٹ کارڈ کی مدد سے خریداری کر سکتے ہیں۔
7… نیوکلیائی قوت
نیوکلئیرری ایکڑ کے ذریعہ سستی اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک بجلی کا حصول تب شروع ہوا جب 1952ء میں ملکہ برطانیہ نے اپنے ہاتھوں سے پہلے نیوکلئیر پاور پلانٹ کا لندن کے قریب Calder Hall میں افتتاح کیا۔ امریکہ میں اس وقت سو سے زائد ایسے پلانٹ کام کر رہے ہیں جو امریکہ کی بیس فی صد بجلی پیدا کر رہے ہیں۔
6… موبائل فون
موبائل فون کا خیال اگرچہ 1947ء میں پیش کیا گیا تھا مگر ایسے کسی فون کا پہلی بار استعمال 1973ء میں Motrola کے ایک محقق مارٹن کوپر نے کیا۔ آج قریباً 30سال بعد امریکہ کی نصف سے زائد آبادی کے پاس موبائل فون ہے اور موبائل فون کے نیٹ ورک کے انٹرنیٹ سے مل جانے کے بعد یہ مزید کارآمد ہوگیا ہے۔
5…خلائی سفر
60تا 70کی دہائی میں روس اور امریکہ کے درمیان خلائی دوڑ نے بہت سی ایجادات کو جنم دیا جن میں مصنوعی فائبر اور کمپیوٹر چپس (Chips)شامل ہیں۔
4… پرسنل کمپیوٹر (PC)
جب تک IBMنے 1983ء میں Desktop Computer اور Apple نامی کمپنی نے ایک سال بعد آسان استعمال والے Macintosh کمپیوٹر متعارف نہیں کروائے، تب تک Mini Computer سے مراد وہ کمپیوٹر تھا جو کم ازکم واشنگ مشین کے سائز کا تھا اور ائیر کنڈیشنر کے بغیر نہیں چلتا تھا۔
3… ڈیجیٹل میڈیا
’’کیمرہ جھوٹ نہیں بولتا‘‘۔یہ کہاوت غلط قرار دینے کا سہرا 1990ء میں متعارف کروائے گئے کمپیوٹر سافٹ وئیر Photoshop کے سر ہے۔ اب اس جیسے ان گنت سافٹ وئیر ڈیجیٹل میڈیا پر آواز، تصویریں، فلمیں اور تحریریں نہ صرف محفوظ کر سکتے ہیں بلکہ انسان کی مرضی سے ان میں ردّوبدل بھی کر سکتے ہیں۔ پھر ڈیجیٹل میڈیا پر محفوظ یہ Data دنیا میں کسی بھی جگہ چند لمحوں میں پہنچ سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ وقت گزرنے کے ساتھ خراب بھی نہیں ہوتا۔
2… جینیٹک انجینئرنگ
Watson اور Crick دو سائنسدانوں نے 1953ء میں DNAکے راز پر سے پردہ اٹھایا تھا۔ لیکن Boyer اور Cohen نے 1973ء میں دو مختلف اقسام (Species)کے DNAکو آپس میں کامیابی سے ملایا تھا۔ انہوں نے اس DNA کو ایک بیکٹیریا میں بدلا تھا اور اس DNAنے کئی نسلوں کا سفر بھی کیا تھا۔ آج خوراک کا 70فیصدی حصہ ایسا ہے جو زیادہ فصل دینے کے لئے جینیاتی طور پر تبدیل کیا جاتا ہے جیسے سویا بین اور مکئی وغیرہ۔ انسانوں میں اس دریافت کے ذریعہ کچھ پیدائشی نقائص اور بیماریاں دُور کی جاسکتی ہیں۔
1…انٹرنیٹ
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ کی کوئی حد نہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی مفت لائبریری ہے، دنیا بھر کی خبریں پہنچاتا ہے، سوشل کلب کا کردار ادا کرتا ہے، تحقیق کے لئے مواد مہیا کرتا ہے، خریداری کے مواقع مہیا کرتا ہے، سب سے سستا ذریعہ مواصلات ہے اور شاید بہت سے لوگوں کو مشکلات میں بھی مبتلا کرتا ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/aNYc5]

اپنا تبصرہ بھیجیں