کیتوایکواڈور کی پہلی احمدی خاتون

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍جنوری 2011ء میں مکرم محبوب الرحمن شفیق صاحب مبلغ سلسلہ کے قلم سے محترمہ Silvia Soledad Gaete صاحبہ کا ذکرخیر شائع ہوا ہے جنہیں ایکواڈور (جنوبی امریکہ) کی پہلی احمدی خاتون ہونے کا شرف حاصل تھا۔
محترمہ Silvia Soledad Gaete صاحبہ 31؍اکتوبر 2010ء کو بعمر 52 سال بوجہ کینسر وفات پاگئیں ۔ آپ اپنی فیملی میں اکیلی احمدی تھیں ۔ آپ کے والدین اور تین بھائی کیتھولک عیسائی ہیں ۔ آپ کے پہلے خاوند کا تعلق کولمبیا سے تھا جو ایک حادثہ میں فوت ہوگئے۔ اُن سے آپ کی ایک بیٹی محترمہ Erica ہیں جو عیسائی ہیں ۔ تاہم آپ کی دو نواسیاں بھی ہیں جن میں سے ایک مسلمان ہیں اور اُس بچی کو بچپن سے ہی آ پ نے نماز وغیرہ سکھادی تھی۔ آپ کی دوسری شادی ایک عراقی مسلمان کرد کے ساتھ ہوئی۔
جب کینیڈا سے مکرم خالد مجید ملک صاحب ایکواڈور تشریف لائے تو مرحومہ سپینش ترجمان کے طور پر اُن کے ساتھ رہیں ۔ اس طرح آپ کو جماعت کا تعارف ہونا شروع ہوا۔ محترم خالد صاحب نے واپسی سے قبل آپ کو بھی سپینش زبان میں طبع شدہ بیعت فارم دیا جسے پڑھنے کے فوراً بعد آپ نے قبول کرلیا۔ پھر خود بھی اپنی دوستوں میں دعوت الی اللہ شروع کردی اور تین بیعتیں کروائیں ۔
جولائی 2009ء میں احمدیت قبول کرنے کے بعد آپ نے باقاعدہ برقع پہن کر پردہ کرنا بھی شروع کردیا۔ آپ نہایت خوش اخلاق تھیں اور دعوت الی اللہ کا بہت شوق رکھتی تھیں ۔ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنے پر آمادہ رہتیں ۔ کئی لوگوں نے دھوکہ دے کر آپ سے رقم حاصل کی۔ اس بات پر بہت دکھ کا اظہار کرتیں کیونکہ اس کی وجہ سے آپ کئی ہزار ڈالرز کی مقروض بھی ہوگئی تھیں ۔ جب بھی کسی جماعتی کام کے لئے آپ کی ضرورت پڑتی تو اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے مدد کرتیں ۔ آپ ایکواڈور میں جماعت کی رجسٹریشن کے سلسلہ میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی صدر بھی تھیں ۔ مشن ہاؤس کی صفائی کا خیال رکھتیں اور اپنی طرف سے عام استعمال کا سامان پردے اور ٹی وی وغیرہ مشن کے لئے بطور تحفہ پیش کرتی رہتیں ۔
آپ بیماری کا علم ہونے پر علاج سے بہت ڈرتی تھیں ۔ علاج کے لئے رقم بھی نہیں تھی۔ مرحومہ کے علاج کے لئے جماعت نے ایک ہزار ڈالر بھی دیئے۔ تاہم بیماری اتنی بڑھ گئی تھی کہ بہت جلد آپ کی وفات ہوگئی۔ وفات سے تین ماہ قبل آپ نے خواب دیکھا کہ آپ کی دادی جان آپ کو ساتھ لے جانے کے لئے آئی ہیں ۔ آپ نے کہا کہ مَیں ابھی نہیں جانا چاہتی۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ بیٹی مَیں اب کچھ نہیں کرسکتی۔
مرحومہ کا جنازہ احمدیوں کے علاوہ دیگر مسلمانوں کے دو گروہوں نے بھی ادا کیا جبکہ مرحومہ کے عیسائی والدین نے بھی اپنے طریق کے مطابق رسوم ادا کیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور آپ کی اسلام کے لئے خدمات کو قبول فرمائے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/OmdFf]

اپنا تبصرہ بھیجیں