ڈاکٹر عبد السلام کے متعلق ایک انجینئر کی یادیں

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21 مئی 2005ء میں محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے بارہ میں جناب رمیض احمد ملک صاحب سابق چیف انجینئر محکمہ انہار پنجاب کا مضمون (مرسلہ: ظہور الدین بابر صاحب) شامل اشاعت ہے جو اُن کی کتاب سے لیا گیا ہے۔
مئی 1940ء میں میٹرک کے امتحان کا نتیجہ نکلا تو گورنمنٹ ہائی سکول جھنگ کا عبد السلام اول آیا۔ اُس وقت اُس کے والد محمد حسین (صاحب) قادیان میں تھے۔ وہ قادیانی عقیدہ رکھتے تھے اور قادیان کی زیارت کے لئے آئے ہوئے تھے۔ وہ انسپکٹر آف سکولز ملتان کے دفتر میں ہیڈ کلرک تھے۔ میرے والد صاحب ہائی سکول گوجرہ (ضلع لائلپور) میں سکول ماسٹر تھے اور وہ جھنگ کے ناطے سے میرے والد صاحب کو جانتے تھے۔ دسمبر 1945ء میں سول انجینئرنگ کرنے کے بعد میری تعیناتی بطور SDO محکمہ انہار ملتان ہوگئی اور محمد حسین صاحب سے اکثر ملنے کا اتفاق ہوا۔
محمد حسین صاحب کو جنون کی حد تک وہم تھا کہ بھینس کا دودھ بچوں کو کند ذہن بناتا ہے اور گائے کا دودھ ذہانت بڑھاتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے دو ذاتی گائیں پال رکھی تھیں۔ دودھ دینے والی گائے پاس رکھتے اور خشک گائے کسی کے پاس بھیج دیتے۔ خشک گائے رکھنے کی فرمائش اکثر مجھ سے ہوتی۔ میرے ماتحت ملتان سے پانچ میل دُور ایک نہری بنگلہ نواب پور تھا۔ میں خشک گائے کو وہاں بھجوا دیتا اس طرح عبدالسلام کو کئی مرتبہ ملتان میں ملنے کا موقع ملا۔
محمد حسین صاحب نے بتایا کہ عبد السلام جب چھٹی جماعت میں تھا تو اسے محرقہ بخار ہوگیا۔ ان دنوں اس کا کوئی علاج نہ تھا۔ مریض کو دودھ اور سوڈا واٹر دیا کرتے تھے اور 21دن میں بخار اترجاتا تھا۔ تپ محرقہ اترنے کے بعد مریض پر کوئی برا اثر چھوڑ جاتا لیکن عبدالسلام پر بخار کا اچھا اثر ہوا اور اس کا حافظہ غیرمعمولی تیز ہوگیا۔ اسے اردو اور انگریزی کی کتب زبانی ازبر ہوگئیں۔ حساب کی کتاب کے ہر سوال کا جواب زبانی یاد تھا۔ غیر معمولی حافظہ کی وجہ سے اس نے ورینکلر فائنل (آٹھویں جماعت) میں پنجاب میں اول پوزیشن حاصل کی۔ جب عبدالسلام نے میٹرک کا امتحان دیا تو اس کے اساتذہ اور والد کو یقین تھا کہ پنجاب میں نہ صرف اول آئے گا بلکہ ایک ایسا ریکارڈ قائم کرے گا جو مدتوں تک نہیں ٹوٹے گا۔ چنانچہ عبد السلام نے 850 سے 751 نمبر حاصل کر کے پچھلے ریکارڈ توڑ دئیے اور یہ ریکارڈ مدتوں تک قائم رہا۔
عبد السلام نے بی اے کے زمانہ کے دو دلچسپ واقعات سنائے۔ پہلا واقعہ مدراس کے مشہور راموناجن کے فارمولوں کے بارہ میں ہے۔ عبدالسلام نے بی اے میں حساب آنرز کے مضامین رکھے ہوئے تھے۔ راموناجن کہا کرتا تھا کہ اسے حساب کے فارمولوں کا الہام ہوتا تھا۔ چنانچہ اس کے کئی فارمولے عمومی طور پر صحیح تھے لیکن ان کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ عبدالسلام نے اس کے فارمولوں پر کام کرنا شروع کیا اور ایک فارمولے کا ثبوت پیش کر دیا۔ یہ کسی بھی حساب دان کے لئے بڑی کامیابی تھی۔ عبد السلام کے گورنمنٹ کالج لاہور کے پروفیسر بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اس کامیابی کی اطلاع کیمبرج اور آکسفورڈ یونیورسٹیوں کے حساب دانوں کو دی۔ ان کی حیرانی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ کامیابی ایک طالب علم نے حاصل کی ہے۔ وہ سب اس کی غیرمعمولی ذہانت سے بہت متاثر ہوئے۔
دوسرے واقعہ کا تعلق پروفیسر سراج سے تھا۔ جب عبد السلام گورنمنٹ کالج لاہور کے طالب علم تھے تو پروفیسر سراج وہاں پر انگریزی کے پروفیسر تھے۔ انہیں اپنی انگریزی پر بہت فخر تھا۔ ایک دن سراج نے کلاس میں فخریہ کہا کہ انہوں نے بی اے میں انگریزی آنرز کا ریکارڈ قائم کیا تھا جو آج تک نہیں ٹوٹا۔ اسی دن عبد السلام کو یہ بات پتہ لگی تو اگلے ہی روز انہوں نے بھی اپنا نام انگریزی آنرز کے لئے دے دیا۔ دوستوں نے سمجھایا کہ آپ نے پہلے سے حساب کی آنرز رکھی ہوئی ہے اور بی اے میں دو مضامین کی آنرز کو نبھانا مشکل ہوگا۔ عبد السلام نے کہا کہ وہ پروفیسر سراج کا چیلنج قبول کریں گے۔ پھر عبد السلام نے واقعی پروفیسر سراج کا انگریزی آنرز کا ریکارڈ تو ڑ دیا جو بہت عرصہ تک قائم رہا۔ انہوں نے بی اے میں حساب آنرز کا بھی نیا ریکارڈ قائم کیا۔
لیکن پروفیسر سراج اپنی شکست کو کبھی نہ بھولے اور عبدالسلام جب کیمبرج یونیورسٹی سے ٹرائی پاز کر کے واپس آئے تو اُن کو گورنمنٹ کالج لاہور میں حساب کا پروفیسر اور ہیڈ لگا دیا گیا۔ اس وقت کالج کا پرنسپل پروفیسر سراج تھا۔ ایک طرف حساب کے سینئر اساتذہ کے لئے عبد السلام کا ہیڈ بننا بہت ناگوار تھا اور دوسری طرف پروفیسر سراج اپنی شکست کو نہیں بھولے تھے۔ چنانچہ عبدالسلام کے خلاف سازشوں کا جال بُنا جانے لگا۔ جب بمبئی میں ایک تعلیمی بین الاقوامی کانفرنس کا دعوت نامہ ڈاکٹر عبد السلام کو ملا تو وہ پروفیسر سراج کی زبانی اجازت سے بمبئی چلے گئے اور چھٹی کے لئے عرضی دیدی۔ کانفرنس شروع ہوئی تو پرنسپل کی طرف سے انہیں ایک تار ملا کہ وزارت تعلیم کے سیکرٹری نے ان کی چھٹی منظور نہیں کی اس لئے وہ واپس آجائیں۔ عبدالسلام نے کانفرنس کو درمیان میں چھوڑ کر واپس جانا مناسب نہ سمجھا اور وہ کانفرنس کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد پاکستان آئے۔ انہیں سخت مایوسی اور حیرت ہوئی جب انہیں حکم عدولی کی بنا پر چارج شیٹ دیدیا گیا۔ چنانچہ انہوں نے بددل ہو کر کیمبرج یونیورسٹی کے اپنے پروفیسر کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کی طرف سے محمد علی بوگرہ وزیر اعظم پاکستان کو چٹھی لکھوائی کہ ڈاکٹر عبد السلام کو کیمبرج یونیورسٹی بھیج دیا جائے۔ محمد علی بوگرہ جب لاہور آئے تو ڈاکٹر عبد السلام سے مل کر بہت خوش ہوئے اور انہیں کیمبرج یونیورسٹی جانے کی اجازت دیدی۔
انگلینڈ آنے کے کچھ دنوں بعد ڈاکٹر عبدالسلام کو 35 سال کی عمر میں امپیریل کالج لندن میں ریاضی کا پروفیسر بنا دیا گیا۔ اتنی کم عمر میں اتنا بڑا اعزاز کسی انگریز کو بھی نہیں دیا گیا تھا۔ کسی پاکستانی کے لئے یہ بہت ہی قابل فخر اعزاز تھا۔
میں منگلا ڈیم کے ڈیزائن کے سلسلہ میں لندن میں دو سال مقیم رہا۔ اس دوران ڈاکٹر عبد السلام سے کئی مرتبہ ملاقات ہوئی۔ تین چار اسلامی تہواروں پر انہوں نے مجھے کھانے پر بھی مدعو کیا۔ وہاں پر سرظفراللہ اور کئی دوسرے معتبر پاکستانی عمائدین سے بھی ملاقات ہوئی۔
ڈاکٹر عبد السلام کے لندن کے اخبارات میں سائنسی موضوعات پر اکثر مضامین آتے تھے۔ ان کی انگریزی کی تحریر اتنی عمدہ ہوتی تھی کہ انگریز ایسے مضامین بہت شوق سے پڑھتے تھے۔
میرے لندن کے قیام کے دوران پاکستان کا واٹرڈیلی گیشن بھی وہاں پر تھا جو ہندوستان کے ساتھ پانی کے جھگڑے کے تصفیہ کے لئے کام کر رہا تھا۔ اس ڈیلی گیشن کی خواہش پر مَیں نے ڈاکٹر عبدالسلام کو ہوٹل میں کھانے پر مدعو کیا۔ کھانے کے دوران عبدالسلام نے بتایا کہ انہوں نے 1957ء میں ایک خاص موضوع پر کام کرنا شروع کیا اور اس بارے میں اپنے کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر سے مشورہ کیا۔ ان کے پروفیسر نے کہا کہ اس موضوع پر کام کرنے سے کچھ مفید نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ اس لئے اس پر وقت ضائع نہ کیا جائے۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے اس موضوع پر کام کرنا چھوڑ دیا مگر اس مضمون کو دو چینی امریکی سائنس دانوں نے پڑھا۔ انہوں نے اس پر مزید کام کیا اور فزکس میں نوبل پرائز لے گئے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگر وہ ڈاکٹر عبد السلام کا مضمون نہ پڑھتے تو اس موضوع پر کام کرکے نوبل انعام حاصل نہ کر سکتے۔ اس بات کا عبد السلام کو ہمیشہ افسوس رہا۔
ایک بار انہوں نے بتایا کہ 1959ء میں ایک دن لندن میں مقیم ہندوستانی سفیر نے ان کے پاس آکر پنڈت جواہر لال نہرو کی اس خواہش کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر صاحب ہندوستان جاکر وہاں سائنس کی تعلیم کی ترویج کے لئے کوئی لائحہ عمل تجویز کریں۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد وہ ہندوستانی سفیر کے ساتھ ہندوستان گئے تو دہلی میں ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ نہرو سے رسماً ملاقات میں ڈاکٹر صاحب نے ہندوستان کی چیدہ چیدہ یونیورسٹیوں کا معائنہ کرنے اور ان کے وائس چانسلروں سے تبادلہ خیال کرنے کی خواہش کا اظہار کیا چنانچہ انہیں بنارس، پٹنہ، بمبئی، مدراس اور کلکتہ جیسی بڑی یونیورسٹیاں دکھانے کے لئے مسلمان وزیر ہمایوں کبیر نے ایک پروٹوکول آفیسر ساتھ دیا۔ جب آپ واپس دہلی آئے تو قادیان کی زیارت کی خواہش ظاہر کی۔ چنانچہ اس پر فوراً عملدرآمد کیا گیا اور ایک چھوٹے ہوائی جہاز میں انہیں امرتسر لایا گیا۔ وہاں پر DC اور SP موجود تھے۔ وہ انہیں کار میں قادیان لے گئے۔
ڈاکٹر صاحب کی دہلی میں ہمایوں کبیر کی معیت میں وزیراعظم نہرو سے ملاقات ہوئی تو نہرو نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ انہیں ایک بہت اہم کام کے لئے بلایا گیا ہے جس کی تفاصیل ہمایوں کبیر بتائیں گے۔
ہمایوں کبیر نے ڈاکٹر صاحب کو اپنے دفتر لے جاکر بتایا کہ نہرو کی خواہش ہے کہ آپ ایٹم بم کی ریسرچ کے لئے ہندوستان آجائیں اور آپ کومندرجہ ذیل سہولتیں دی جائیں گی کہ آپ کا رتبہ وفاقی وزیر کے برابر ہوگا، آپ اپنی تنخواہ جتنی چاہیں خود مقرر کرلیں، آپ کے خرچ کا کوئی آڈٹ نہیں ہوگا۔ اگر آپ نے ایک کروڑ روپیہ خرچ کر دیا اور کوئی متوقع نتیجہ نہیں نکلا تو آپ سے ایک کروڑ روپیہ ضائع کرنے کے بارہ میں کچھ نہیں پوچھا جائے گا۔
ڈاکٹر صاحب نے اس اہم تجویز پر لندن جا کر غور کرنے کی مہلت طلب کی۔ اور لندن آکر یہ ساری کہانی پاکستان کے صدر محمد ایوب خان کو بھیج دی جنہوں نے اپنے ہاتھ سے خط کا جواب دیتے ہوئے آپ کے جذبہ حب الوطنی کی تعریف کی اور لکھا کہ اگلے ماہ وہ امریکہ جاتے ہوئے لندن میں دو دن کے لئے رکیں گے، اس دوران ڈاکٹر صاحب انہیں اپنی سہولت کے وقت پر ملیں۔ چنانچہ یہ ملاقات ہوئی تو صدر ایوب نے نہرو کی سہولتوں کی انہیں پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان جاکر وہاں ایٹم بم پر ریسرچ کریں۔ ڈاکٹر صاحب نے بجا طور پر جواب دیا کہ وہ سیاست میں ملوث نہیں ہونا چاہتے۔ پاکستان میں انہیں ہمیشہ ایوب کا آدمی تصور کیا جائے گا اور ان کے جانے کے بعد انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لندن میں رہ کر ایٹم بم کی ریسرچ کے لئے جو بھی خدمت ہو سکی، کریں گے۔ چنانچہ انہیں پاکستان کے لئے اعزازی چیف سائنٹفک ایڈوائزر بنایا گیا۔
ڈاکٹر عبد السلام کی نوبل پرائز حاصل کرنے کی خواہش 1979ء میں پوری ہوئی۔ کسی پاکستانی کے لئے یہ بہت بڑا اعزاز تھا۔ ڈاکٹر صاحب نوبل پرائز ملنے کے بعد پاکستان آئے ان کا شایان شان استقبال کیا گیا۔ وہ جھنگ بھی گئے اور خاص طور پر گورنمنٹ کالج گئے۔ اس کالج سے انہیں والہانہ عقیدت تھی کیونکہ اسی کالج سے انہوں نے شہرت کے زینے پر چڑھنا شروع کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جب قادیانی فرقے کو اقلیت قرار دیا تو اس کے بعد صرف ایک دفعہ پاکستان آئے وہ کہتے تھے کہ وہ پاکستان میں بطور سیکنڈ ریٹ شہری کے نہیں آنا چاہتے تھے۔
آخری عمر میں ڈاکٹر صاحب کو دماغی اختلاط کا عارضہ ہوگیا تھا اور اس کے ایک سال بعد وہ لندن میں ملک راہی عدم ہوئے۔ ان کا جسد خاکی پاکستان میں ربوہ لاکر دفن کیا گیا۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/nCGbl]

اپنا تبصرہ بھیجیں