چمگادڑ

دنیا بھر میں چمگادڑ کی آٹھ سو سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ چھوٹی چمگادڑ کا سائز ایک بھنورے جتنا ہوتا ہے جبکہ بڑی کے پروں کی لمبائی پانچ فٹ تک جا پہنچتی ہے۔ ان کی شکلیں بے شمار ہوتی ہیں اور بعض اتنی خوفناک ہوتی ہیں کہ لوگوں نے ان سے توہمات وابستہ کر رکھے ہیں۔ لیکن صرف ایک قسم ویمپائر کے سوا باقی سب بے ضرر ہوتی ہیں اور عموماً انسانوں سے دُور رہنا ہی پسند کرتی ہیں۔ ویمپائر سوئے ہوئے گھوڑے، بیل یا انسان سے چمٹ جاتی ہے اور اپنے تیز دانتوں سے زخم لگاکر خون چوستی ہے۔ اگرچہ یہ زخم معمولی سا ہوتا ہے لیکن اس سے Rabies کی بیماری کا خطرہ ہوتا ہے یعنی وہی بیماری جو پاگل کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔ ویسے ہر قسم کی چمگادڑ میں اس بیماری کے جراثیم موجود ہوتے ہیں اس لئے انہیں ہاتھ میں نہیں پکڑنا چاہئے۔
چمگادڑ کی چونچ نہیں ہوتی بلکہ کتے بلی جیسا بڑا سا منہ ہوتا ہے جس میں تیز دانت ہوتے ہیں۔ لمبے لمبے کان اس کو پرندوں سے جدا کر دیتے ہیں اور اس کے پَر جلد کی دوہری تہہ سے بنے ہوتے ہیں اور یہ جھلی بازوؤں اور ٹانگوں کو آپس میں ملا دیتی ہے۔ ہر بازو میں پانچ پانچ انگلیاں ہوتی ہیں جن کی لمبائی تمام جسم کی لمبائی کے برابر ہوتی ہے۔ ہر انگلی کے آگے تیز اور لمبا ناخن ہوتا ہے اور پروں کے درمیان میں بھی ایک خمدار ناخن ہوتا ہے۔ اسی لئے چمگادڑ اپنے پنجوں اور پَروں سے بھی لٹک سکتی ہے۔
چمگادڑ آرام کرنے کیلئے درختوں ، غاروں اور ویران مکانوں میں چھتوں سے لٹکی رہتی ہے۔ ایک بڑے غار میں ہزاروں بلکہ لاکھوں بھی ہوسکتی ہیں۔ اکثر اقسام موسم شدید ہونے پر نقل مکانی کرتی ہیں اور موسم بدلنے پر سینکڑوں میل سے بھی واپس پرانی جگہ آ جاتی ہیں۔ کچھ اقسام Hibernate کرتی ہیں۔ بعض چمگادڑیں درختوں پر باقاعدہ ٹینٹ بناکر اُن میں لٹکتی ہیں۔ عموماً نر اور مادہ ایک دوسرے سے میلوں دور الگ الگ کالونیاں بناکر رہتے ہیں اور صرف خاص موسم میں ہی قریب آتے ہیں۔ مادہ نر سے ملنے کے کئی ماہ بعد امید سے ہوتی ہے اور بچوں کی پیدائش کے بعد انہیں دودھ پلاتی ہے۔ بچہ ماں سے ہی چمٹا رہتا ہے اور قریباً ایک ماہ بعد کسی اَور جگہ لٹکنے اور شکار کے قابل ہو جاتا ہے۔ چمگادڑ کی اوسط عمر 15؍سال ہے۔
چمگادڑ تقریباً ہر قسم کی چیز کھا لیتی ہے اور براہ راست پانی میں سے مچھلیاں بھی پکڑتی ہے۔ چمگادڑ عموماً رات کو شکار کے لئے نکلتی ہے اور اندھیرے میں اپنی آنکھوں کی بجائے اپنے منہ اور کانوں سے کام لیتی ہے۔ چنانچہ یہ اپنے منہ سے مسلسل انتہائی بلند فریکوئنسی کی آوازیں نکالتی ہے جنہیں انسانی کان نہیں سن سکتے۔ یہ آوازیں جب کسی چیز سے ٹکرا کر واپس آتی ہیں تو چمگادڑ کو ہر چیز کے بارہ میں اس کی سمت اور جسامت سمیت پورا علم ہو جاتا ہے اور یہ آسانی سے اپنے شکار کو پکڑ لیتی ہے۔ ایک جگہ پر اگر ہزاروں چمگادڑیں بھی اڑ رہی ہوں تو ہر چمگادڑ مختلف فریکوئنسی کی آوازیں نکالتی ہے اور اپنی آواز پہچانتی ہے۔ اور پھر یہ کہ ہزاروں چمگادڑیں کسی چھوٹی سی جگہ پر اڑنے کے باوجود بھی آپس میں نہیں ٹکراتیں۔ پھر یہ بھی کہ چونکہ انسان یہ آوازیں نہیں سُن سکتا اس لئے ایسے غار جن میں ہزاروں چمگادڑیں اُڑ رہی ہوں وہ انسان کیلئے ویران اور خاموش غار کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ پھر چمگادڑ وہ واحد جانور ہے جس کے کان میں اللہ تعالیٰ نے ایک زائد عصب پیدا کیا ہے جو اس کے کان کے پردہ کو آوازوں کے بے پناہ شور سے کوئی نقصان پہنچنے سے محفوظ رکھتا ہے۔ یہ معلوماتی مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍مئی 1999ء میں مکرم طاہر احمد نسیم صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/FxOkX]

اپنا تبصرہ بھیجیں