پیشگوئی بابت لیکھرام کا ظہور

حضرت مسیح موعودؑ کی لیکھرام کی ہلاکت کے بارہ میں پیشگوئی سے متعلق معلومات قبل ازیں 9؍مئی 1997ء کے شمارہ کے الفضل ڈائجسٹ میں تفصیل سے بیان کی جاچکی ہیں۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5؍مارچ 2004ء میں مکرم چوہدری عبد الواحد صاحب نے اپنے مضمون میں لیکھرام کے بارہ میں حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئی کے ظہور کی تفصیل بیان کی ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ نے اسلام پر کئے گئے اعتراضات کے مدلل جوابات پر مشتمل ’’براہین احمدیہ‘‘ تصنیف فرمائی اور دس ہزار روپیہ اس کو دینے کا اعلان فرمایا جو اس میں مندرج دلائل کو غلط ثابت کر دکھائے یا اپنے مذہب کی صداقت کے دلائل اپنی مذہبی کتاب سے پیش کرے۔ نیز فرمایا کہ اسلام کی حقانیت اور قرآن کی سچائی پر عقلی دلائل کے علاوہ آسمانی نشان بھی پائے جاتے ہیں اور اگر کسی قوم کا معزز یا سربراہ ان کا مشاہدہ کرنا چاہے وہ قادیان آکر میری صحبت میں ایک سال رہ کر بچشم خود مشاہدہ کرسکتا ہے اور ایسے شخص کو دوسو روپیہ ماہوار خرچ خوراک وغیرہ بھی دیا جائے گا۔
یکم مارچ 1886ء کو حضورؑ نے اپنی بعض پیشگوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے لیکھرام کے بارہ میں ایک وحشت ناک اطلاع ملنے کی بھی خبر دی اور فرمایا کہ اگر لیکھرام چاہے تو اِس خبر کو شائع نہ کیا جائے۔ اس پر بعض معاندین کے اکسانے پر لیکھرام قادیان میں آیا اور ایک سال کے اخراجات کے لئے 2400 روپے کا مطالبہ کیا۔ حضور اقدسؑ نے جواب دیا کہ یہ تو قوم کے سربراہ اور شرفاء کے لئے وعدہ ہے اگر تم ثابت کردو کہ تم کسی قوم کے سربراہ اور معزز شریف ہو تو ہم یہ رقم ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔
لیکھرام نہایت درجہ کا بدگو اور بدزبان شخص تھا اور اس کا اقرار اس کے عقیدت مند بھی کرتے تھے کہ اس کے کلام میں شائستگی نہ تھی- جو اس کے منہ میں آجاتا کہہ دیتا تھا۔وہ حد درجہ مغلوب الغضب بھی تھا۔ اس کے بارہ میں حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں: ’’اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کی سخت بے ادبیاں کی ہیں جن کے تصور سے بدن کانپتا ہے۔ اس کی کتابیں عجیب طور پر تحقیر اور توہین اور دشنام دہی سے بھری ہوئی ہیں۔‘‘
چونکہ اس کی نیت محض شرارت تھی، تحقیق حق نہ تھی۔ اس لئے قادیان سے جاتے ہوئے ایک نہایت گستاخانہ کارڈ حضور کی خدمت میں لکھا کہ: ’’آسمانی نشان تو دکھائیں۔ اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو رب العرش خیر الماکرین سے میری نسبت کوئی آسمانی نشان مانگیں تا فیصلہ ہو‘‘۔
اس پرحضور اقدس نے لکھا: ’’آپ کی زبان بد زبانی سے نہیں رکتی، … نشان خدا کے پاس ہیں۔ وہ قادر ہے جو آپ کو دکھلاوے‘‘۔
لیکن لیکھرام نے لکھا کہ: ’’میں آپ کی پیشگوئی کو واہیات سمجھتا ہوں۔ میرے حق میں چاہو اور جو مرضی ہو شائع کر دو۔ میری طرف سے اجازت ہے۔ میں ان باتوں سے ڈرنے والا نہیں‘‘۔
حضرت اقدسؑ نے جب اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تو الہاماً بتایا گیا کہ یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے جس کے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے۔ اور اس کیلئے ان گستاخیوں اور بدزبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب کا مقدر ہے جس میں یہ آج کی تاریخ سے چھ برس میں مبتلا ہو جائے گا۔ اس کے بعد ایک اشتہار میں حضورؑ نے فرمایا کہ ایک ہیبت ناک فرشتہ مجھے دکھایا گیا ہے جو لیکھرام کو سزا دینے پر مامور کیا گیا ہے۔ پھر ایک اَور اشتہار میں حضورؑ نے لیکھرام کے عذاب کے نزدیک آنے کا اعلان بھی کیا اور فرمایا: ’’اگر میں اس پیشگوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوں‘‘۔
ان پیشگوئیوں کے جواب میں لیکھرام نے بھی پیشگوئی کی کہ آپؑ کا تین سال میں مکمل خاتمہ ہوجائے گا اور اولاد تباہ ہوجائے گی۔
لیکھرام کے آباؤ اجداد کہوٹہ ضلع راولپنڈی کے رہنے والے تھے۔ اس کے پرداد اپنا آبائی وطن چھوڑ کر سید پور میں آبسے تھے۔ اس کا چچا گنگارام (یا گنڈارام) نے جو پشاور میں پولیس میں ملازم تھا، اس کو پڑھانے کے لئے اپنے پاس بلالیا۔ لیکن یہ استادوں کو تنگ کیا کرتا تھا کہ کوئی بھی اسے پڑھانے کے لئے رضامند نہ ہوتا۔ جب چچا کا تبادلہ ہو گیا تو لیکھرام کو واپس گاؤں آکر دیہاتی سکول میں داخل ہونا پڑا۔ پھر چچا نے اسے17سال کی عمر میں پولیس میں بھرتی کرادیا۔ 25 روپے ماہوار تنخواہ اور ایک روپیہ ترقی اڑھائی سال بعد ہوتی۔ دوران ملازمت ایک سکھ سپاہی کے زیر اثر گیتا کا پاٹھ کرتا، ماتھے پر تلک لگاتا، ہاتھ میں مالا رکھتا، کرشن لیلائیں دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ نوکری چھوڑ کر برندا بن جانے کا ارادہ کر لیا۔ ویدانت مذہب اختیار کر لیا۔ شادی سے انکار کر دیا تو اس کی منگیتر کی شادی اس کے چھوٹے بھائی طوطارام سے کردی گئی۔ پھر لیکھرام ویدانت دھرم ترک کر کے دیانند سرسوتی کا عقیدت مند ہو گیا اور پشاور میں آریہ سماج کی بنیاد ڈالی۔ ان دنوں ’’لیکھو‘‘ کہلاتا تھا اور وہاں مائی رنجی کی سرائے میں رہتا تھا۔
مئی1880ء میں سوامی دیانند سے ملنے اجمیر گیا۔ واپس آکر سوامی کی نصائح کے مطابق آریہ مذہب کے پر چار کی طرف توجہ دی اور ماہوار رسالہ ’’دھرم پرچارک‘‘جاری کیا۔ جو مالی تنگی کی وجہ سے جاری نہ رکھا جا سکا۔
سپرنٹنڈنٹ پولیس پشاور مسٹر کرسٹی سے اس کے دوستانہ مراسم تھے۔ وہ اپنے ڈپٹی ریڈر وزیرعلی سے اس کے مباحثے کراتا رہتا۔ مسٹر کرسٹی کا تبادلہ ہو گیا تو لیکھو کو بھی صوابی بھیج دیا گیا۔ ایک انسپکٹر نے صوابی تھانہ کا معائنہ کیا تو اس کے خلاف رپورٹ کر دی۔ جس پر اسے چھ ماہ کے لئے ڈی گریڈ کر کے تھانہ کالوخان میں بھیج دیا گیا۔ وہاں اس نے بحث ومباحثے شروع کر دئیے تو پھر اس کا ایک درجہ گھٹا کر پشاور میں لائن حاضر کر دیا گیا۔ اس پر اس نے استعفیٰ دیدیا۔
صوابی میں اسے ’’براہین احمدیہ‘‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس کا جواب اس نے لکھنا شروع کیا۔ یہ مسودہ گورادسپور آریہ سماج کے جلسہ میں پڑھ کر سنایا گیا۔ اکتوبر1883ء میں سوامی دیانند کا انتقال ہوا۔ ساڑے چار سال بعد دیانند صاحب کے حالات زندگی جمع کرنے کا کام لیکھرام کے سپرد کیا گیا۔ اس غرض کے لئے اس نے ملک کے طول و عرض کا سفر کیا۔ 1893ء میں اپنے گاؤں کہوٹہ گیا اور مری کے پاس بھن نامی ایک گاؤں کی ایک لڑکی لکشمی دیوی سے شادی کر لی۔
15؍فروری 1897ء کو لالہ ہنسراج پرنسپل DAV کالج لاہور کے پاس ایک آدمی آیا اور لیکھرام کے بارہ میں دریافت کیا۔ اگلے دن اسے کالج ہال میں لیکھرام کو تلاش کرتے دیکھا گیا۔ جب وہ لیکھرام سے ملا تو کہنے لگا کہ میں کچھ دن پہلے ہندو تھا۔ پھر مسلمان ہو گیا۔ اب دوبارہ اپنے اصلی مذہب میں آنا چاہتا ہوں۔ پنڈت جی نے کہا ’’اچھی بات ہے۔ میں تجھے ضرور ہی شدھ کروں گا‘‘۔
اس شخص کا ڈیل ڈول عام لوگوں کی نسبت چھوٹا تھا۔ رنگ کالا ۔ چہرہ پر ماتا کے داغ، ناک بیٹھی ہوئی، سر کے بال چھوٹے چھوٹے، آنکھیں اندر کی طرف گھسی ہوئیں۔ عمر قریباً25سال۔لیکھرام اس کو اپنے ساتھ رکھتا تو لوگ لیکھرام کو متنبہ کرتے لیکن لیکھرام مصر رہا بلکہ اجنبی کا پتہ ٹھکانہ بھی نہ پوچھا اور اپنے پاس رہنے کی اجازت دیدی۔ کئی لوگوں نے اس کا اتہ پتہ لگانے کی کوشش بھی کی مگر اس نے کبھی کسی کو صاف جواب نہ دیا۔ اپنے آپ کو بنگالی بتاتا۔ مگر بنگالی زبان نہ جانتا تھا۔ شکل سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ کوئی بوچڑ ہے۔ اسے لیکھرام کے مکان پر کھانا کھاتے بھی دیکھا گیا۔ دن کو پنڈت جی کے ساتھ مگر رات کہاں اس کا کسی کو بھی علم نہ تھا۔ پندرہ سولہ دن سایہ کی طرح لیکھرام کے ساتھ رہا۔
یکم مارچ1897ء کو لیکھرام ملتان آریہ سماج کے جلسہ پر گیا،8مارچ کے بعد سکھر جانے کا تار آیا مگر وہاں پلیگ کی وجہ سے ملتان والوں نے جانے سے روک دیا۔پھر مظفر گڑھ جانے کی تیاریاں کی گئیں مگر وہاں کا جانا بھی ملتوی ہوگیا۔ 6مارچ کی دوپہر کو لاہور پہنچا 5مارچ کو عید کا دن تھا۔ قاتل نے اس دن اس کے دفتر اور اسٹیشن کے کئی چکر لگائے۔ وہ 6؍مارچ کی صبح لیکھرام کے مکان پر پہنچا۔ پھر سبھا کے دفتر میں گیا۔ لیکھرام آچکا تھا۔ قاتل گلی کی طرف منہ کر کے ایک کھڑکی میں بیٹھ گیا، وہ ٹھہر ٹھہر کر تھوکتا اور گھومتا تھا۔ کسی نے کہا: ’’پنڈت جی یہ جگہ خراب کرتا ہے‘‘۔ لیکھرام بولا ’’رہنے دو تمہارا کیا بگاڑتا ہے‘‘۔قاتل اس دن خلاف معمول اپنا سارا جسم کمبل سے ڈھکے ہوئے تھا۔ لیکھرام نے پوچھا ’’بخار تو نہیں ہے؟‘‘۔ بولا: ’’ہاں کچھ درد بھی ہے‘‘۔ لیکھرام اس کو ڈاکٹر دشنوداس کے پاس لے گیا۔ اس نے نبض دیکھ کر کہا: ’’بخار تو نہیں معلوم ہوتا اگر درد ہے تو پلستر لگا دیا جائے‘‘۔ قاتل بولا: ’’لگانے کی نہیں کھا نے یا پینے کی دوائی دلوادیجئے۔ ‘‘
پھر لیکھرام نے بزاز کی دکان سے کپڑا لیا اور پسند کرانے قاتل کے ہاتھ اپنی ماں کے پاس بھیجا۔ اس کے چلے جانے کے بعد بزاز نے کہا: پنڈت جی! یہ منشی تو موت کی تصویر دکھائی دیتا ہے۔ لیکھرام بولا: ’’ایسا مت کہو، یہ دھرماتما آدمی ہے۔ شدھ ہونے آیا ہے‘‘۔
جب لیکھرام چارپائی ڈال کر سوامی دیانند کی سوانح حیات کو ترتیب دینے کے کام میں لگ گیا تو ان کی دائیں طرف ایک ہوئی ایک کرسی پر وہ قاتل بیٹھ گیا۔ شام 6 بجے دو آدمی اگلے روز لیکھرام سے ایک لیکچر دینے کا وعدہ لے کر چلے گئے۔ لیکھرام کی ماں رسوئی میں تھی، بیوی دوسرے کمرہ میں بیٹھی تھی۔ لیکھرام نے قاتل سے کہا کہ اب دیر ہو رہی ہے تم بھی آرام کر لو مگر قاتل نہ ہلا۔ دس منٹ بعد ماں نے آواز دے کر کہا۔ ’’پتر ! تیل نہیں آیا‘‘۔ ماں کی آواز سن کر کاغذ میز پر رکھنے کے بعد لیکھرام انگڑائی لیتے ہوئے بولا: ’’اف۔ آہ۔ بھول ہی گیا‘‘۔
انگڑائی کے وقت لیکھرام نے چھاتی تانی ہی تھی کہ قاتل نے ایک دم تیز چھری اس کے پیٹ میں گھسیڑ دی۔ اور اسے ایسے گھمایا کہ آٹھ دس گھاؤ پیٹ کے اندر ایک دم ہو گئے۔ اور انتڑیاں باہر نکل پڑیں۔ اتنے میں قاتل سیڑھیوں سے اتر کر نہ جانے کدھر غائب ہو گیا۔
لیکھرام کو چارپائی پر ڈال کر ہسپتال لے جایا گیا۔ انتڑیاں ہاتھ سے دبائی ہوئیں، خون کا دھارا بہہ رہا تھا۔ پونے دو گھنٹے بعد ڈاکٹر پیری آئے۔ انتڑیوں کو ٹانکے لگانا شروع کیا۔ انتڑیوں کے آٹھ بڑے اور کئی چھوٹے ٹکڑے ہو گئے تھے۔ ڈاکٹر پیری نے کہا: ’’اگر بچ گیا تو معجزہ ہو گا‘‘۔ رات دوبجے لیکھرام موت کے منہ میں چلا گیا۔
اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے لیکھرام کو کئی دکھوں میں پے درپے مبتلا کیا۔ چنانچہ 12؍جون 1895ء کو اس کا چھوٹا بھائی طوطا رام مر گیا۔ 4؍مارچ 1896ء کو باپ مر گیا۔ 28؍اگست 1896ء کو اکلوتا بیٹا مر گیا۔ آخر 6؍مارچ 1897 ء کو خود قتل ہوا۔ جس کے بعد بیوی کو اس کے سسرال والوں نے طعنے دے دے کر پریشان کر دیا جس سے اسے ٹی بی ہو گئی اور وہ بیچاری کسپمرسی کی حالت میں مرگئی۔ لیکھرام نے خیر الماکرین سے فیصلہ کن نشان مانگا تھا۔ چنانچہ فیصلہ کن نشان اسے دیدیا گیا۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا تھا کہ لیکھرام پر وہی چھری چلی جو زبان کی چھری آنحضرت ﷺ کی شان میں چلایا کرتا تھا۔
آپؑ مولوی محمد حسین بٹالوی کا ذکر کرکے فرماتے ہیں کہ جب یہ نشان پورا ہوگیااور لاکھوں انسانوں نے پیشگوئی کی صداقت کو تسلیم کر لیا وہ کہتا ہے کہ جماعت کے کسی آدمی نے قتل کر دیا ہو گا۔ افسوس یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ وہ مرید کیسا خوش اعتقاد ہوگا جو ایسے پیر پر بھی اعتقاد رکھ سکتا ہے جو اسے قتل کی ترغیب دے اور اپنی پیشگوئیوں کو اپنی صداقت کا معیار قائم کرکے اور پھر ان کو پورا کرنے کے لئے مریدوں کو ناجائز وسائل اختیار کرنے کی تعلیم دے۔ شرم ہے ایسے خیالات پر۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/V5G7y]

اپنا تبصرہ بھیجیں