پروفیسر کلیمنٹ لِنڈلے ریگ – احمدی ماہر موسمیات اور ماہر ہیئت دان

روزنامہ الفضل ربوہ 6 اور 7جنوری 2012ء میں مکرم طارق حیات صاحب کے قلم سے نیوزی لینڈ کے احمدی ماہر موسمیات اور ماہر ہیئت دان پروفیسر کلیمنٹ لِنڈلے ریگ (Clement Lindley Wragge) کے حالات زندگی شامل اشاعت ہیں۔
حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 24 جون 2011ء کو جرمنی کے یونیورسٹیز کے طلبا سے ایک نشست میں فرمایا کہ پروفیسر کلیمنٹ ریگ نے سونامی (Tsunami) کے نام رکھے ہیں اور اُنہی کے وقت سے چل رہے ہیں۔ …… یہ بنیادی طور پر نیوزی لینڈ کے تھے اور پھر وہیں ان کی تدفین ہوئی اور بحیثیت احمدی کے ان کی وفات ہوئی۔
پروفیسر کلیمنٹ ریگ اپنے دیگر معاصر سائنسدانوں سے کئی امور میں ممتاز نظر آتے ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات اور بعدازاں قبولِ احمدیت کے علاوہ یہ بھی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے پانچویں خلیفہ نے ان کی قبر پر جاکر دعا بھی کی جو Pompallier قبرستان کے ایک حصّہ Anglican قبرستان میں واقع ہے۔
حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دورہ نیوزی لینڈ کے دوران 6 مئی 2006ء کو ایک استقبالیہ تقریب کے بعد پروفیسر ریگ کے ایک پوتے اور پوتی کو شرفِ ملاقات بخشا۔ حضورانور کے دریافت فرمانے پر انہوں نے بتایا کہ وہ دونوں پروفیسر صاحب کی دوسری بیوی سے ہیں جو انڈین تھیں۔ نیز اُن کو اپنے دادا کے اسلام قبول کرنے کا علم ہے اور یہ بھی کہ اُن کی موت بھی اسلام کی حالت میں ہوئی تھی اور یہ بھی علم ہے کہ وہ بہت نیک سیرت اور بالکل جُدا اور مختلف آدمی تھے۔
پروفیسر کلیمنٹ ریگ 18 یا 19ستمبر 1852ء میں Stourbridge (ووسٹرشائر۔ انگلستان) میں پیدا ہوئے۔ صرف پانچ ماہ کی عمر میں والدہ کی شفقت سے محروم ہوئے۔ پانچ سال کے تھے تو آپ کے والد (Clement Ingleby Wragge) بھی وفات پاگئے۔ پھر آپ کی پرورش غالباً آپ کی دادی Emma Wragge نے کی جو Staffordshire کے گاؤں Oakamoor میں مقیم تھیں۔ وہیں آپ نے ابتدائی تعلیم Uttoxeter گرائمرسکول میں حاصل کی۔ 1865ء میں اپنی سرپرست کی وفات کے بعد آپ اپنے رشتہ داروں کے پاس لندن آگئے جہاں اپنے مرحوم والد کے تتبع میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے Lincoln’s Inn میں داخلہ لیا۔ مگر ساتھ ساتھ Navigation کی بھی تربیت حاصل کی۔ نیز میڈیکل کے طلباء کے ہمراہ St. Bartholomew’s Hospital میں آپریشن کے عمل کا مشاہدہ کرتے رہے۔
1874ء میں پروفیسر ریگ نے ایک تجارتی بحری جہاز پر سڈنی کا سفر کیا اور کئی ماہ تک آسٹریلیا کے علاقوں نیوساوتھ ویلز اور کوئنزلینڈ کے نیم آباد علاقوں میں تحقیق میں مصروف رہے۔ 1875ء میں سان فرانسسکو اور Salt Lake City کی سیاحت اور تحقیقی سفر کیا۔ اس دوران Mormon مذہب والوں سے متاثر بھی ہوئے اور اس فرقہ کے بارہ میں مضامین شائع کروائے۔
13ستمبر 1877ء کو پروفیسر ریگ نے محترمہ Leonora Edith Florence Eresby سے شادی کی۔ ان کے ہاں سات بچے پیدا ہوئے۔ آپ کے ایک بیٹے کی فوج میں خدمات کے دوران 1915ء میں زخمی ہوکر وفات ہوگئی تھی۔ جبکہ ایک چھوٹے بیٹے کا 1908ء میں ہندوستان کے سفر کے دوران لاہور میں اپنے والدین کے ہمراہ حضرت مسیح موعودؑ کے پاس حاضر ہونے کا ذکر ملتا ہے۔
آپ کی دوسری شادی ایک ہندوستانی خاتون سے ہوئی جن سے پیدا ہونے والے ایک بیٹے کے دو بچے Stewirt Wragge اور Catherine Wragge نیوزی لینڈ میں مقیم ہیں۔
پروفیسر ریگ کی محکمہ موسمیات میں ابتدائی ڈیوٹی ایک موسمیاتی مرکز میں تھی۔ پھر Scottish Meteorological Society کے سیکرٹری کی طرف سے آپ کو Ben Nevis کے مقام پر ایک موسمیاتی رصدگاہ قائم کرنے کا کہا گیا۔ آپ روزانہ پہاڑ کی چوٹی پر قائم اس مشاہدہ گاہ تک جاکر اعدادوشمار نوٹ کرتے اور آپ کی اہلیہ اُس دن کے سطح سمندر پر موسمیاتی اثرات حاصل کرتیں۔ پھر دونوں اپنے اعدادوشمار کا تقابل کرلیتے۔ یوں کئی ماہ تک بلاناغہ یہ اعدادوشمار اکٹھے کرنے پر سوسائٹی کی طرف سے آپ کو گولڈ میڈل دیا گیا۔
1883ء میں اپنی ایک مالدار خالہ کی وفات پر پروفیسر ریگ کو خاصی دولت ورثہ میں ملی۔ اس سے اگلے سال آپ آسٹریلیا کے شہر Adelaide کے پاس آباد ہوگئے اور Walkerville کے مقام پر Terrens Observatory قائم کی۔ دوسری مشاہدہ گاہ Mount Lofty کے مقام پر تھی۔ اسی طرح 1886ء میں آپ نے Royal Meteorological Society of Australia کی بنیاد رکھنے والے اہم ممبر کے طور پر کام کیا اور آسٹریلیا کے علاوہ سکاٹ لینڈ میں بھی موسمیاتی رصدگاہیں قائم کیں۔
1886ء میں آپ کو کوئنزلینڈ کی حکومت کی طرف سے موسمیات کے موضوع پر ایک اہم رپورٹ تیار کرنے کا منصوبہ سپرد کیا گیا جس کا مقصد طوفانوں کی صورت میں جہازوں کو پہنچنے والے نقصانات میں کمی لانا تھا۔ آپ کی رپورٹ اتنی عمدہ تھی کہ آپ کو کوئنزلینڈ کے لئے سرکاری میٹیریالوجسٹ مقرر کردیا گیا۔ 1890ء تک آپ نے کوئنزلینڈ میں رصدگاہوں اور موسمیاتی مراکز کا ایک جال بچھادیا۔ ایک شخص Inigo Owen Jones کی ٹریننگ بھی کی جس نے بعدازاں خوب نام کمایا۔
پروفیسر ریگ نے 1891ء میں میونخ (جرمنی) اور 1898ء اور 1900ء میں پیرس میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنسوں میں بھی شرکت کی۔ آپ کی اصل وجہ شہرت طوفانوں کے نام تجویز کرنا ہے۔ نیز آپ نے آسٹریلیا میں دریائی پانی کا رُخ موڑنے اور ضرورت کے مطابق پانی کے استعمال کا منصوبہ بھی پیش کیا جو موجودہ دَور میں Snowy Mountains Scheme کے تحت قابل عمل بنا۔
1990 میں شائع ہونے والی آسٹریلین ڈکشنری آف بایوگرافی کے مطابق آپ ایک طویل قامت، پتلے دبلے، پُرجوش طبیعت کے مالک اور ہمہ وقت کام میں مصروف رہنے والے انسان تھے۔
پروفیسر ریگ نے 1896ء میں سولہ صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ “Meteorology of Tasmania”شائع کیا۔ 1898ء سے آپ نے “Wragge’s Australian Weather Guide and Almanac” شائع کرنی شروع کی جس میں موسمیاتی معلومات کے علاوہ علم ارضیات، جھاڑیوں والے علاقہ میں رہنے کا فن (Bushcraft) زراعت، معدنیات، پانی کی فراہمی اور محکمہ ڈاک کی بابت بھی مفید معلومات ہوا کرتی تھیں۔ 1902ء میں آسٹریلیا کی خشک سالی کے سدّباب کے لئے پروفیسر ریگ نے متعدد Stiger Votex توپیں خریدیں تاکہ ان کی فائرنگ سے بادلوں سے پانی برسانے کا تجربہ کیا جائے۔ تاہم یہ تجربہ ناکام رہا۔
آپ کی ایک کتاب “The Romance of the South Seas” تین صد صفحات سے زیادہ ضخیم ہے جو لندن سے 1906ء میں شائع ہوئی ۔
1903ء میں پروفیسر ریگ نے کوئنزلینڈ میں اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کی ایک وجہ آپ کے اخراجات اور فنڈز میں کی جانے والی کمی تھی۔
کوئنزلینڈ کی حکومت سے معاہدہ مکمل ہونے پر پروفیسر ریگ نے کئی سال تک متعدد سفر اختیار کئے مثلاً 1904ء میں Cook Island، Celedonia اور Tahiti گئے اور مقامی جانداروں کا بغور مطالعہ کیا۔ نیز Rarotonga کی حکومت کے لئے مقامی کیڑوں مکوڑوں کے بارہ میں ایک مفصّل رپورٹ بھی تحریر کی۔
1908ء میں آپ نے کامن ویلتھ آسٹریلیا میں Bureau of Meteorology میں نوکری کی درخواست کی جو قبول نہ ہوسکی۔ تب آپ نیوزی لینڈ چلے آئے جہاں پہلے لمبا عرصہ Dunedin میں مقیم رہے اور پھر آک لینڈ میں Birkenhead کے علاقہ میں مقیم ہوگئے۔ یہاں آپ اپنی شریک حیات Louisa Emmeline Home کے علاوہ ایک اینگلوانڈین بیوی کے ساتھ رہتے رہے۔ دوسری اہلیہ کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ وہ Theosophist تھیں۔ یہاں آپ نے ریگ انسٹیٹیوٹ اور میوزیم بھی قائم کیا جس کو بعدازاں آتش زنی سے نقصان بھی پہنچا۔ نیز آپ نے کچھ باغات بھی “Waiata Tropical Gardens” کے نام سے قائم کئے۔
10 دسمبر 1922ء کو پروفیسر ریگ کی وفات اچانک دماغ کو خون کی فراہمی معطّل ہوجانے کے سبب ہوئی۔ آپ کے بعد آپ کا بیٹا Kismet K Wragge ریگ انسٹیٹیوٹ کا فرسٹ آفیسر بنا۔
پروفیسر ریگ 1908ء میں ہندوستان کی سیاحت پر تھے۔ آپ نے لاہور میں لیکچر دیا تو آپ کی گفتگو سے حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ کو احساس ہوا کہ آپ تعصّب سے پاک اور انصاف پسند ہیں۔ چنانچہ حضرت مفتی صاحبؓ نے آپ سے ملاقات کی اور پوچھا کہ آپ دنیا میں گھومے ہیں کیا کبھی کوئی خدا کا برگزیدہ بھی دیکھا؟ پھر حضرت مسیح موعودؑ کے دعاوی بتائے جس پر پروفیسر صاحب نے کہا کہ مَیں تو ایسے ہی آدمی کی تلاش میں ہوں اور پھر حضرت اقدسؑ سے ملاقات کا اشتیاق ظاہر کیا۔ چنانچہ 12 مئی کو قبل ظہر احمدیہ بلڈنگ لاہور میں پروفیسر صاحب کو شرفِ باریابی نصیب ہوا۔ آپ نے دورانِ ملاقات متعدد مسائل دریافت کئے جن کے نہایت لطیف، مسکت اور جامع جوابات سُن کر آپ نے حضورؑ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنے سوالات کا جواب کافی اور تسلّی بخش ملنے سے بہت خوشی ہوئی اور مجھے ہر طرح سے کامل اطمینان ہوگیا اور یہ اطمینان دلانا خدا کے نبی کے سوا کسی میں نہیں۔
مسٹر ریگ 18 مئی کو دوبارہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور روحانی امور سے متعلق مزید کئی سوالات کئے۔ حضورؑ نے ہر سوال کے جواب میں ایسی مختصر مگر جامع روشنی ڈالی کہ وہ وجد میں آکر کہنے لگے کہ مَیں تو خیال کرتا تھا کہ سائنس اور مذہب میں بڑا تضاد ہے مگر آپؑ نے تو اس تضاد کو بالکل اٹھادیا ہے۔ حضورؑ نے فرمایا کہ یہی تو ہم ثابت کررہے ہیں کہ مذہب بالکل سائنس کے مطابق ہے اور سائنس خواہ کتنا ہی عروج پکڑ جائے مگر قرآن کی تعلیم اور اسلام کے اصولوں کو ہرگز ہرگز نہ جھٹلاسکے گی۔
پروفیسر صاحب بعدازاں احمدی ہوگئے اور وفات تک احمدیت پر قائم رہے۔ ان کے خطوط حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے پاس آتے رہے۔ نیز حضورؑ سے ملنے کے بعد اُن کے لیکچروں میں ارتقائے انسانی اور حضرت مسیح علیہ السلام کے بارہ میں موجودہ عیسائی عقائد اور خیالات میں واضح تبدیلی نظر آنے لگی۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/piECD]

اپنا تبصرہ بھیجیں