پاکیزہ و مطہر سیرت رسولﷺ کے مقدس نقوش

(مطبوعہ اسماعیل لندن اپریل تا جون 2014ء)

’’شمائل النبی ﷺ‘‘ حضرت سید ولد آدم فخرِ کائنات سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا نہایت ہی دلکش ، دلربا اور دلچسپ مجموعہ ہے۔ اس میں حضور ﷺ کی سیرت کے ہر پہلو کو خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔یہ مضمون بھی انہی پُرکشش اور دل نشین روایات و احادیث کا مجموعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان اخلاقِ حسنہ اور اعمال صالحہ کے بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
حضور ؐ شاعر تو نہیں تھے مگر بعض دفعہ بے اختیار آپ کی زبان مبارک پر اشعار جاری ہوجاتے۔ حضرت جندب بن سفیان بَجَلیؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک پتھر رسول اللہ ﷺکی انگلی پر لگا جس سے وہ زخمی ہو گئی آپ ؐ نے فرمایا:

ہَلۡ اَنۡتِ اِلَّا اِصۡبُعٌ دَمِیۡتِ
وَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ مَا لَقِیۡتِ

تُو تو محض ایک انگلی ہے تجھ سے خون بہہ رہا ہے۔ جو تجھے تکلیف پہنچی ہے وہ اللہ کے رستے میں ہے۔
اسی طرح حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے انہوںنے کہا کہ ایک شخص نے ان سے کہا اے ابو عمارہ! ( یہ ان کی کنیت تھی) کیا تم رسول اللہ ﷺکو چھوڑ کر ( جنگ حنین کے دن) بھاگ گئے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺہر گز پیچھے نہیں ہٹے بلکہ جلد باز لوگ جب کہ اُن پر ہوازن نے تیر برسائے واپس پلٹ گئے اور رسول اللہ ؐ اپنے خچر پرسوار تھے اور ابو سفیان بن حارثؓ بن عبدالمطلب اس خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور رسول اللہ ﷺفرما رہے تھے۔

اَنَا النَّبِيُّ لَا کَذِبْ
اَنَا ابۡنُ عَبۡدِالۡمُطَّلِبْ

مَیں نبی ہوں یہ ہر گز جھوٹ نہیں۔ مَیں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔
حضوردوسروں سے اچھے شعراء کے شاعرانہ کلام کو سننا بھی پسند فرماتے۔ حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ عمرۃ القضاء کے موقعہ پر نبی کریم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو آپؐ کے آگے ابن رواحہؓ چل رہے تھے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے: ’’ اے کفار کے بیٹو! آپؐ کا رستہ چھوڑ دو ورنہ آج ہم تمہیں خدا کے کلام کے اترنے کی بناء پر ایسی مار ماریں گے جو کھوپڑی کو اس کی جگہ سے جدا کردے گی اور ایک دوست کو اس کا دوست بھلا دے گی‘‘۔
اس پرحضرت عمرؓ نے انہیں کہا: اے ابن رواحہ! رسول اللہ ﷺ کے سامنے اوراللہ کے حرم میں تم شعر کہہ رہے ہو؟اس پر نبی کریم ﷺنے فرمایا:
’اے عمرؓ! اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ ان پر تیر پھینکنے سے زیادہ تیز اثر کرتے ہیں‘۔
عمرو بن شرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار تھا توآپؐ نے فرمایا: کیا امیہ بن صلت کے شعروں میں سے تمہیں کچھ یاد ہے؟ مَیں نے عرض کی جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: سناؤ میں نے ایک شعر سنایا۔ آپؐ نے فرمایا اور سناؤ۔ پھر فرمایا اور سناؤ یہاں تک کہ میں نے آپؐ کو امیہ بن ابی الصلت کے ایک سو شعر سنائے۔ میں جب بھی کوئی شعر سناتا نبی کریم ﷺ مجھے فرماتے اور سناؤ یہاں تک کہ میں نے سو شعر سنائے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قریب تھا کہ وہ اسلام لے آتا۔
حضورؐ اپنے اشعار سے اسلام کا دفاع کرنے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ حسان بن ثابتؓ کے لئے مسجد میں منبر رکھواتے جس پروہ کھڑے ہوکر اللہ کے رسول ﷺ کی عظمت کا بیان کرتے یا یہ کہا کہ وہ رسول اللہ ﷺکی مدافعت میں شعر کہتے اور رسول اللہ ﷺ فرماتے: اللہ تعالیٰ روح القدس کے ساتھ حسّان کی تائید فرماتا ہے اس میں جو وہ اللہ کے رسول ﷺکی اشعار کے ذریعہ مدافعت کرتا ہے یا آپ ؐ کی عظمت بیان کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ جب سونے کے لئے بستر پر آتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھ لیتے اور یہ دعا کرتے اے میرے رب مجھے اس دن اپنے عذاب سے بچانا جب تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا اور یہ دعا بھی کرتے اے میرے اللہ! تیرے نام کے ساتھ میں مرتا ہوں اور زندہ ہوتا ہوں اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے تمام تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیااور اسی کی طرف ہمارا لوٹ کر جانا ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہر رات رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو ملالیتے۔ ان میں پھونک مارتے اور قل ہو اللّہ احد اور قل اعوذ بربّ الفلق اور قل اعوذ بربّ الناس پڑھتے اور جس قدر ممکن ہوتا اپنے جسم پر دونوں ہاتھ پھیرتے اور اپنے سر سے شروع کرتے اور بدن کے اگلے حصے پر پھیرتے آپ ؐتین بار ایسا کرتے۔
رسول اللہ ﷺ کا بستر جس پر آپ سوتے تھے چمڑے کا تھا اس میں کچھ کھجور کے ریشے بھرے ہوئے تھے۔ ایک دفعہ حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ ﷺ کا بستر کیسا ہوتا تھا۔ آپؓ نے فرمایا وہ چمڑے کا تھاجس میں کھجور کے ریشے بھرے تھے۔حضرت حفصہؓ سے پوچھاگیا کہ آپؓ کے گھر میں رسول اللہ ﷺکا بسترکیسا ہوتا تھا؟ انہوں نے فرمایا وہ پشم کا تھا میں اس کی دو تہیںلگا دیتی حضور ﷺاس پر سوتے تھے۔ ایک رات میں نے سوچا کیوں نہ اس کی چار تہیں لگا دو ں تو وہ آپؐ کے لئے زیادہ آرام دہ ہو جائے گا۔چنانچہ ہم نے اس کی چار تہیں لگا دیں۔ جب صبح ہوئی تو آپؐ نے فرمایاتم نے رات میرے لئے کیا بچھایا تھا؟ حضرت حفصہؓ کہتی ہیں میں نے عرض کی وہ آپؐ کا ہی بستر تھا۔ صرف ہم نے اس کی چار تہیں لگا دی تھیں تاکہ وہ آپؐ کے لئے زیادہ آرام دہ ہو جائے۔آپؐ نے فرمایا: اُسے پہلے جیسا ہی رہنے دو کیونکہ اس کی نرمی میرے لئے رات نماز میں روک بن رہی تھی۔
حضرت امام حسینؓ فرماتے ہیں میں نے اپنے والد سے رسول اللہ ﷺکے گھر میں داخل ہونے کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا کہ جب حضور ﷺاپنے گھر تشریف لاتے تو گھر کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم فرماتے۔ ایک حصہ اللہ جلّشانہ کے لئے وقف فرماتے ایک حصہ اپنے اہل کے لئے اور ایک حصہ خود اپنے لئے۔ پھر اپنے حصہ کو بھی اپنے اور لوگوں کے درمیان بانٹ لیتے اور اس میں خاص صحابہؓ کے ذریعہ عام لوگوں تک (دین کی باتیں) پہنچاتے اوران سے کوئی بات بچا نہ رکھتے اور آپؐ کی سیرت میں امت کے حصّہ کی تقسیم کاطریق کار یہ تھا کہ ملاقات کے لئے اجازت دینے میں امت کے اہلِ فضل لوگوں کو ترجیح دیتے اور دین میں فضیلت کے لحاظ سے ان کی تقسیم ہوتی تھی۔اُن میں سے بعض کو ایک حاجت ہوتی بعض کو دو اور بعض کو کئی حاجتیں ہوتیں۔ آپؐ اُن کی حاجت روائی میں اُن کے ساتھ مصروف رہتے اور ان کے سوالات پر انہیں ایسے کاموں میں مصروف کرتے جو ان کی اور امت کی اصلاح کریں اور ایسی باتوں سے آگاہ کرتے جو اُن کے لئے مفید ہوتیں۔ اور فرماتے جو تم میں سے حاضر ہیں وہ غیر حاضروں تک یہ باتیں پہنچائیں اورمجھ تک اُس شخص کی حاجت پہنچاؤ جو اپنی حاجت پہنچا نہیں سکتا کیونکہ جو کسی ایسے شخص کی حاجت حاکم تک پہنچائے جسے وہ خود پہنچانے کی استطاعت نہیں رکھتا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُسے ثبات قدم بخشے گا۔آپؐ کے پاس ایسی ہی باتوں کا تذکرہ ہوتا۔ اور اُن کے سوا کسی سے کوئی (بات) قبول نہ فرماتے۔ لوگ آپؐؐ کے پاس سائل بن کر آتے اور بغیر کچھ حاصل کئے واپس نہ جاتے اور خیر کی طرف ہدایت کرنے والے بن کر نکلتے۔ وہ (حضرت امام حسینؓ) کہتے ہیں پھر میں نے(اپنے والد سے) آنحضور ﷺ کے گھر سے باہر نکلنے کے بارے میں پوچھا کہ اس دوران کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ بامقصد بات کے سوا کلام نہ فرماتے۔
آ پؐ صحابہ کی تالیف قلب فرماتے،انہیں متنفر نہ کرتے۔ ہر قوم کے معزز فرد کی عزت کرتے اور اُسے اُن پر والی بنا دیتے۔ لوگوں کو ہوشیار کرتے اور اُن سے محتاط رہتے بغیر اس کے ان سے آپؐ کی خندہ پیشانی اور خوش خلقی میں کوئی فرق آئے۔آپؐ اپنے صحابہؓ پر نظر رکھتے اور لوگوں سے لوگوں کے احوال دریافت فرماتے۔ اچھی بات کی تعریف کرتے اور اُسے تقویت دیتے اور بُری بات کی بُرائی بیان کرتے اور اُس کا زور توڑتے۔
آپؐ ہر امر میں میانہ رو تھے۔ تضاد سے پاک تھے۔آپؐ غافل نہ ہوتے مبادا لوگ غافل ہو جائیںیا تھک جائیں۔ آپ ؐہرقسم کی صورت حال کے لئے تیار رہتے۔ آپؐ حق سے پیچھے رہتے نہ اس سے آگے بڑھتے۔ لوگوں میں سے آپؐ کے قریب وہ ہوتے جو سب سے بہترین ہوتے۔ آپؐ کے نزدیک سب سے افضل وہ ہوتا جو سب سے زیادہ خیر خواہی میں بڑھا ہوا ہوتا اور آپؐ کے نزدیک درجہ میں سب سے بڑا وہ ہوتاجو ہمدردی اور معاونت میں دوسروں سے سب سے اچھا ہوتا۔ اور (حضرت امام حسینؓ ) کہتے ہیں پھر میں نے آنحضور ﷺ کی مجلس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا۔ آپؐ اُٹھتے وقت بھی ذکرِ الٰہی کرتے اور بیٹھتے وقت بھی ذکر الٰہی کرتے اور جب کسی قوم کے پاس جاتے تو جہاں مجلس ختم ہوتی وہیں تشریف رکھتے اور یہی ارشاد فرماتے۔ آپؐ ہر ہم نشین کو اس کا حق دیتے کوئی یہ گمان نہ کرتا کہ کوئی دوسرا اُس سے زیادہ معزز ہے۔ جو آپؐ کے پاس بیٹھتا اور آپ ؐکے پاس اپنی کوئی ضرورت بیان کرتاتو آپؐ اس کے ساتھ رہتے اور اس کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش فرماتے اور جو آپؐ سے اپنی حاجت طلب کرتا آپؐ اُسے بغیر دئیے یا نرمی سے بات کے بغیرواپس نہ کرتے۔ آپؐ کی خندہ پیشانی، سخاوت اور حسن خلق سب کے لئے تھی آپؐ اُن کے لئے باپ ہو گئے تھے۔ حقوق کے لحاظ سے آپؐکے نزدیک سب برابر تھے۔
آپؐ کی مجلس علم اور حیا اور صبر اور امانت کی مجلس ہوتی۔ نہ اُس میں آوازیں بلند ہوتیں نہ قابلِ احترام چیزوں کی بے حرمتی ہوتی نہ کسی کی کمزوریوں کو بیان کیا جاتا۔سب آپس میں برابر ہوتے اور تقویٰ کے سبب وہ ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے۔ ایک دوسرے سے انکساری سے پیش آتے۔ بڑے کی عزت کرتے اور چھوٹے پر رحم کرتے اور ضرورت مند کو ترجیح دیتے اور اجنبی کا خیال رکھتے۔
حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا:حضور ﷺبھی دوسروں کی طرح ایک بشر تھے آپؐ اپنا کپڑا خود صاف کرلیتے اور اپنی بکری کا دودھ دوہ لیتے اور اپنے کام خود ہی کر لیتے۔
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے رسول اللہ ﷺکے اپنے ہم نشینوں سے طرز عمل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ ہمیشہ خندہ پیشانی سے پیش آتے۔ آپؐ خوش خلق اور نرم مزاج تھے۔ نہ تند خو اور نہ ہی سخت دل تھے۔نہ شور کرنے والے تھے نہ ہی بد گوئی کرنے والے نہ ہی عیب لگانے والے تھے اور نہ ہی بخیل و حریص تھے۔جس چیز کی آپؐ کو رغبت ہوتی اس سے بھی تغافل فرماتے مگر (دوسروں کو) اس سے مایوس نہ کرتے اور نہ ہی اس کو اس سے محروم رکھتے۔
تین باتوں سے اپنے آپؐ کوبچا کر رکھتے۔ لڑائی جھگڑے سے اور تکبر سے اور جن باتوں سے آپؐ کا تعلق نہ ہوتااور تین باتوں سے لوگوں کو بچا رکھا تھا یعنی آپؐ کسی کی مذمت نہ فرماتے نہ ہی اس کے عیب نکالتے نہ اس کی پوشیدہ کمزوریوں کو تلاش کرتے آپؐ ایسی گفتگو فرماتے جس میں ثواب کی امید ہو۔ جب آپؐ گفتگو فرماتے تو حاضرین مجلس یوں خامو ش ہو کر نگاہیں جھکا لیتے کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ جب آپؐ خاموش ہوتے تو وہ گفتگو کرتے۔ آپؐ کے پاس وہ کسی بات پر آپس میںتکرار نہ کرتے اور جوکوئی بھی آپؐ کے سامنے بات کرتاتو باقی سب خاموش ہو جاتے یہاں تک کہ وہ اپنی بات مکمل کر لیتا۔آپؐ کی مجلس میں ہر ایک کی گفتگو اس طرح ہوتی جیسے پہلے شخص کی گفتگو ہو۔(یعنی ہر شخص کو بات کرنے کا پورا موقعہ ملتا)آپؐ ان باتوں پر خوشی کا اظہارفرماتے جن پر صحابہؓ خوش ہوتے اور آپؐ پسند فرماتے جن کو وہ پسند فرماتے۔
آپؐ اجنبی شخص کے گفتگو اور سوال میں تلخی پر صبر فرماتے یہاں تک کہ آپؐ کے صحابہ ؓ ایسے لوگوں کے آنے کی تمنا کرتے تھے۔ آپؐ فرمایا کرتے کہ جب تم کسی حاجت مند کو دیکھو کہ وہ سوال کر رہا ہے تو اس کی مدد کرو۔
آپؐ تعریف قبول نہ فرماتے سوائے اس کے جو (تعریف میں) مبالغہ آرائی نہ کرنے والا ہواور آپؐ کسی کی بات نہ کاٹتے جب تک کہ وہ حد سے تجاوز نہ کرے تب منع کر کے اس بات سے روک دیتے یا اُٹھ کھڑے ہوتے۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نہ بدخلق تھے نہ بد گو ،نہ بازاروں میں شور کرنے والے تھے نہ بدی کا بدلہ بدی سے دیتے بلکہ آپؐ معاف فرما دیتے تھے اور در گزر فرماتے تھے۔

اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّد
پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/GtPNC]

اپنا تبصرہ بھیجیں