واقفین زندگی کے ساتھ الٰہی تائیدات و نصرت

واقفین زندگی کے ساتھ الٰہی تائیدات و نصرت کے ایمان افروز واقعات کا تذکرہ

(انتخاب: ناصر محمود پاشا)

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین نومبر دسمبر 2014ء)

واقفین زندگی کے ایمان افروز واقعات کے حوالہ سے محترم ڈاکٹر افتخار احمد ایاز صاحب کی کتاب میں شامل اُس باب سے انتخاب پیش ہے جس میں خلفاء عظّام کی پاکیزہ زندگیوں سے روح پرور واقعات شامل ہیں۔ امرواقعہ یہ ہے کہ خلفاء کرام کی قوّت قدسیہ کے طفیل خلافتِ احمدیہ کے غلاموں کے حق میں قبولیتِ دعا کے اعجازی واقعات اور افضالِ خداوندی کا نہایت غیرمعمولی حالات میں نزول ہمہ وقت جاری و ساری ہے جس کی گواہی ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے اپنے اور غیر دیتے چلے آئے ہیں۔ یہ باب ایسے ہی ایمان افروز واقعات کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے اور اس گلدستہ میں سے چند خوش رنگ، خوشبودار اور سدا بہار پھول قارئین کی نذر ہیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کا تعلق ارادت 1884ء سے قائم ہوا جو روزبروز بڑھتا چلا گیا اور 23؍مارچ 1889ء کو سب سے پہلے آپؓ نے ہی لدھیانہ میں شرف بیعت حاصل کیا۔ اس کے بعد تو فدائیت کا یہ عالم رہا کہ حضور علیہ السلام کے وصال پرآپؓ کو بالاتفاق خلیفۃالمسیح منتخب کیا گیا اور نہایت کامیابی اور کامرانی کے ساتھ اپنا چھ سالہ دَورِ خلافت پورا کرکے 13؍مارچ 1914ء کو آپؓ نے وفات پائی۔
٭ حضورؑ کی کتاب ’’فتح اسلام‘‘ ابھی آپؓ کی خدمت میں نہیں پہنچی تھی کہ کسی مخالف کے پاس پہنچ گئی اور اُس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اب مَیں حکیم نورالدین کو مرزا صاحب سے علیحدہ کئے دیتا ہوں۔ چنانچہ وہ آپؓ سے کہنے لگا کہ کیا نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوسکتا ہے؟ آپؓ نے فرمایا: نہیں۔ اُس نے کہا کہ اگر کوئی نبوّت کا دعویٰ کرے تو پھر!۔ آپؓ نے فرمایا تو پھر ہم دیکھیں گے کہ وہ صادق اور راستباز ہے یا نہیں۔ اگر صادق ہے تو بہرحال اس کی بات کو قبول کرلیں گے۔ آپؓ کا جواب سن کر وہ بولا: واہ مولوی صاحب! آپ قابو ہی نہ آئے۔
٭ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کی خدمت میں میاں خدابخش صاحب اور میاں غلام رسول صاحب پٹواری نے لکھا کہ چونکہ آپ کے تقویٰ و طہارت پر ہم کو پورا یقین ہے اس لئے اگر آپ حلفیہ اپنی دستخطی یہ تحریر کرکے بھیج دیں کہ مرزا صاحب موصوف وہی مہدی و مسیح موعود ہیں جن کی بابت ہمارے نبی آخر الزمان جناب رسول مقبول ﷺ نے پیشگوئی فرمائی ہے اور بے شمار احادیث میں جن کا ذکر ہے تو ہم محض اسی بِنا پر سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوجاویں گے۔ … آپؓ نے جواب میں لکھا: أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر یہ چند حروف لکھتا ہوں کہ مرزا غلام احمد پسر مرزا غلام مرتضیٰ ساکن قادیان ضلع گورداسپور اپنے د عویٰ مسیح و مہدی و مجددیت میں میرے نزدیک سچا تھا۔ اس کے دعاوی کی تکذیب میں کوئی آیت قرآنیہ اور کوئی صحیح حدیث کسی کتاب میں نہیں دیکھی۔
٭ حضورؓ بیان فرماتے ہیں کہ ’’ایک مرتبہ مہاراجہ کشمیر نے مجھ سے کہا کہ کیوں مولوی جی! تم ہم کو کہتے ہو کہ تم سٔور کھاتے ہو۔ اس لئے بے جا حملہ کر بیٹھتے ہو۔ بھلا یہ تو بتلائو کہ انگریز بھی سٔور کھاتے ہیں وہ کیوں اس طرح ناعاقبت اندیشی سے حملہ نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ و ہ ساتھ ہی گائے کا گوشت بھی کھاتے رہتے ہیں۔ اس سے اصلاح ہوجاتی ہے۔ سن کر خاموش ہی ہوگئے اور پھر دو برس تک مجھ سے کوئی مذہبی مباحثہ نہیں کیا۔‘‘
٭ آپؓ فرمایا کرتے تھے کہ کشمیر میں ایک بوڑھے آدمی تھے۔ انہوں نے بہت علوم و فنون کی حدود یعنی تعریفیں یاد کر رکھی تھیں۔ بڑے بڑے عالموں سے کسی علم کی تعریف دریافت کرتے۔ وہ جو کچھ بیان کرتے یہ اس میں کوئی نہ کوئی نقص نکال دیتے کیونکہ الفاظ تعریفوں کے یاد تھے۔ اس طرح ہر شخص پر اپنا رُعب بٹھانے کی کوشش کرتے۔ ایک دن سرِدربار مجھ سے دریافت کیا کہ مولوی صاحب! حکمت کس کو کہتے ہیں؟ مَیں نے کہا کہ شرک سے لے کر عام بداخلاقی تک سے بچنے کا نام حکمت ہے۔ وہ حیرت سے دریافت کرنے لگے کہ یہ تعریف حکمت کی کس نے لکھی ہے؟ مَیں نے دہلی کے ایک حکیم سے، جو حافظ بھی تھے، کہا کہ حکیم صاحب! ان کو سورۂ بنی اسرائیل کے چوتھے رکوع کا ترجمہ سنادو جس میں آتا ہے ذٰلِکَ مِمَّا اُوْحٰی رَبُّکَ مِنَ الْحِکْمَۃِ۔ پھر تو وہ بہت ہی حیرت زدہ ہوئے۔
٭ کچھ آریہ آپؓ سے ملنے کے لئے آئے جن میں سے ایک پلیڈر تھا اور اس نے دعویٰ کیا تھا کہ مولوی صاحب کو مَیں چند منٹ میں تناسخ کے مسئلہ پر گفتگو کرکے ہرا دوں گا۔ جب وہ لوگ بیٹھ گئے تو اُن میں سے ایک نے کہا کہ مولوی صاحب! یہ پلیڈر صاحب آپ سے تناسخ کے متعلق گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے اپنی جیب سے دو روپے نکالے اور پلیڈر کے سامنے رکھ دئیے اور کہا کہ جناب! پہلے ان دونوں روپوں میں سے ایک روپیہ اٹھالیں، بعد ازاں میں آپ سے بات کروں گا۔ پلیڈر صاحب نے ان روپوں کو دیکھنا شروع کیا اور اسی حالتِ خاموشی میں آدھ گھنٹہ کے قریب گزر گیا۔ حاضرین نے کہا کہ آپ دونوں صاحب تو خاموشی کی زبان میں مباحثہ کررہے ہیں، ہم پاس یونہی بیٹھے ہیں، اگر کچھ بولیں تو ہمیں بھی فائدہ ہو۔
پلیڈر نے کہا کہ مَیں تو مشکل میں پھنس گیا۔ اگر اِن روپوں میں سے ایک اٹھالوں تو یہ سوال کریں گے کہ تم نے دوسرے کو کیوں نہ اٹھایا؟ یا ایک کو دوسرے پر بلاوجہ ترجیح کیوں دی؟ اس اعتراض کے بعد تناسخ کی تائید میں میرا یہ اعتراض باطل ہوجائے گا کہ خدا نے ایک کو امیر اور ایک کو غریب کیوں بنایا۔ یہ مجھ سے پوچھیں گے کہ تم ایک روپیہ کو اٹھاسکتے ہو اور دوسرے کو چھوڑ سکتے ہو تو پھر خدا کیوں ایک کو بڑا اور دوسرے کو چھوٹا نہیں کرسکتا۔
٭ ایک سکھ نے حضورؓ کی خدمت میں عرض کی کہ گوروگرنتھ صاحب ایک ایسی کتاب ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ اس میں صرف توحید اور اخلاقی باتوں کا ذکر ہے۔ آپ کو چاہئے کہ آپ اس مذہب میں داخل ہوجائیں۔
آپؓ نے فرمایا: بیشک ہم تو ہر ایک راستی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ آپ اپنی ماں یا بہن سے شادی کریں، اس شادی کے جلسہ میں ہم بھی شامل ہوکر اسی جگہ پوہل لے لیں گے (یعنی سکھ بن جائیں گے)۔
وہ حیران ہوا کہ یہ کیا جواب ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ سچا اور عالمگیر مذہب وہ ہوسکتا ہے جو صرف اخلاق ہی کو بیان نہ کرے بلکہ تمام قواعد شریعت متعلق عقائد، اخلاق اور تمدّن بھی بیان کرے۔ جب گوروگرنتھ صاحب آپ کے نزدیک کامل کتاب ہے اور اس میں یہ نہیں لکھا کہ ماں بہن کے ساتھ نکاح ناجائز ہے تو اس کی رُو سے تو جائز ہوا۔ سردار صاحب نے کہا کہ یہ بات اَور مذہب والوں سے لے لیں گے۔ حضرت مولوی صاحب نے فرمایا: پھر ایسے مذہب کو قبول کرنا نامناسب ہے جو دوسرے مذہب کا محتاج ہو۔
٭…٭…٭…٭…٭
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اﷲ عنہ
حضرت مصلح موعودؓ اپنے خود نوشت حالات زندگی میں فرماتے ہیں: مَیں ابھی نوجوان تھا قریباً بیس سال کی عمر تھی کہ میں تبدیلی آب و ہوا کے لئے ڈلہوزی گیا۔ وہاں ایک مشہور پادری آئے ہوئے تھے جن کا نام غالباً فرگوسن تھا۔ انہوں نے سینکڑوں عیسائی بنا لئے تھے اور وہ پہاڑ پر بھی اپنے ٹریکٹ تقسیم کرتے اور عیسائیت کی تعلیم پھیلاتے رہتے تھے۔ کچھ غیرت مند مسلمان مولویوں کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ اس فتنہ کا مقابلہ کریں مگر انہوں نے جواب دیا کہ ہم سے تو مقابلہ نہیں ہوسکتا۔ آخر وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے آپ چلیں اور اُن سے بات کریں ہم لوگ بڑے شرمندہ ہیں۔ مَیں ابھی چھوٹی عمر کا ہی تھا۔ اور میری دینی تعلیم ایسی نہ تھی لیکن مَیںان کے کہنے پر تیا رہو گیا اور ہم چندآدمی مل کر ان کی کوٹھی کی طرف چل پڑے وہاں جا کر مَیں نے اُن سے کہا کہ پادری صاحب! مَیں آپ سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں۔ اس وقت ہم میز پر بیٹھے ہوئے تھے اور میرے سامنے ایک پنسل پڑی ہوئی تھی۔ مَیں نے کہا فرمائیے اگر یہ پنسل اُٹھانے کی ضرورت ہو اور آپ اس وقت مجھے بھی آواز دیں کہ آئو اور میری مدد کرو۔ اپنے ساتھیوں کو بھی آوازیں دینی شروع کریں۔ اپنے بیرے کو بھی بلائیں۔ اپنے باورچی کو بھی بلائیں۔ اپنے ارد گرد کے ہمسائیوں کو بھی بلائیں اور جب سارا محلہ اکٹھا ہو جائے تو آپ اُن سے یہ کہیں کہ یہ پنسل میز پر سے اُٹھا کر میرے ہاتھ میں دے دو تو وہ آپ کے متعلق کیا خیال کریں گے؟ کہنے لگا: پاگل سمجھیں گے۔ مَیں نے کہا: اب یہ بتائیے کہ باپ خدا میںاکیلے دنیا کو پیدا کرنے کی طاقت تھی یا نہیں؟ کہنے لگا: تھی۔ مَیں نے کہا: بیٹے خدا میں اکیلے دنیا کو پیدا کرنے کی طاقت تھی یا نہیں؟ کہنے لگا: تھی۔ مَیں نے کہا: رُوح القدس خدا میں اکیلے دنیا کوپیدا کرنے کی طاقت تھی یا نہیں؟ کہنے لگا: تھی۔ میں نے کہا: پھر یہ وہی پنسل والی بات ہو گئی کہ تینوں میں ایک جیسی طاقت ہے اور اس کام کے کرنے کے قابل ہیں۔ مگر تینوں بیٹھے وقت ضائع کررہے ہیں حالانکہ وہ اکیلے اکیلے بھی دنیا کو پیدا کر سکتے تھے۔ مَیں نے کہا آپ یہ بتائیں کیا دنیا میں کوئی کام ایسا ہے جو باپ خدا کر سکتا ہے۔ اور بیٹا خدا نہیں کر سکتا۔ یا بیٹا خدا کر سکتا ہے اور روح القدس خدا نہیں کر سکتا۔ یا رُوح القدس خدا کر سکتا ہے اور باپ خدا نہیں کرسکتا یا بیٹا خدا کر سکتا اور باپ خدا نہیں کر سکتا؟ کہنے لگا کوئی نہیں۔ میں نے کہا یہ تو بڑی مصیبت ہے کہ دو خدا کام تو کر سکتے ہیں مگر فارغ بیٹھے وقت ضائع کر رہے ہیں اور اگر ایک کام کو تینوں مل کر کرتے ہیں حالانکہ ان تینوں میں سے ہر ایک اکیلا اکیلا بھی وہ کام کر سکتا ہے تو یہ جنون کی علامت ہے۔ اس پر وہ گھبرا کر کہنے لگا کہ عیسائیت کی اصل بنیاد کفّارہ کے مسئلہ پر ہے تثلیث کا مسئلہ تو ایمان کے بعد سمجھ میں آتا ہے۔ مَیں نے کہا جب تک تثلیث سمجھ میں نہ آئے انسان ایمان نہیں لا سکتا۔ اور جب تک ایمان نہ لائے تثلیث سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ تو یہ تو دَورِ تسلسل ہو گیا جس کو تمام منطقی ناممکن قرار دیتے ہیں اس پر وہ کہنے لگا کہ آپ مجھے معاف کریں اور کفارہ پر بات کریں۔
٭ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ انسانی فطرت بھی بعض چیزوں کو گناہ قرار دیتی ہے بغیر اس کے کہ شریعت انسان کی رہنمائی کرے۔ حضرت خلیفہ اوّل رضی اﷲ عنہ کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک چور آپؓ کے پاس علاج کے لئے آیا۔ آپؓ نے اُسے نصیحت کی کہ تم لوگوں کا مال لوٹ لیتے ہو تمہیں اس قسم کی حرام کمائی سے بچنا چاہئے۔ اس نصیحت کو سن کر وہ کہنے لگا: واہ مولوی صاحب! آپ نے بھی مولویوں والی ہی بات کی۔ بھلا ہمارے جیسا بھی کوئی حلال مال کماتا ہے۔ آپ تو تھوڑی دیر نبض پر ہاتھ رکھ کر فیس وصول کر لیتے ہیں اور ہم سردی کے موسم میں ٹھٹھرتے ہوئے اور اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھے ہوئے جاتے ہیں، پولیس کا ڈر ہوتا ہے، پکڑے جانے کا خوف ہوتا ہے مگر ہم تمام مصیبتوں کو برداشت کرنے کے بعد جاتے ہیں اور اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈال کر روپیہ لاتے ہیں۔ بھلا ہم سے زیادہ حلال کمائی اور کس کی ہو سکتی ہے؟
یہ سن کر آپؓ نے اُسے اَور باتوں میں لگا دیا اور پھر تھوڑی دیر کے بعد اس سے پوچھا کہ تم چوری کس طرح کرتے ہو؟ وہ کہنے لگا ہم سات آٹھ آدمی مل کر چوری کرتے ہیں ایک گھر کی ٹوہ لگانے والا ہوتا ہے جوبتاتا ہے کہ فلاں گھر میں اتنا مال ہے۔ ایک سیدہ لگانے کا مشّاق ہوتا ہے۔ ایک باہرکھڑا پہرہ دیتا رہتا ہے دو آدمی گلی کے سروں پر کھڑے رہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ادھر آئے تو وہ فوراً بتادیں۔ ایک آدمی اندر جانے والا ہوتا ہے اور ایک آدمی اچھا لباس پہن کر دُور کھڑا ہوتا ہے جس کے پاس تمام مال ہم جمع کرتے جاتے ہیں تا کہ اگر کوئی دیکھ بھی لے تو شبہ نہ کرے بلکہ سمجھے کہ یہ کوئی شریف آدمی ہے جو اپنا مال لئے کھڑا ہے۔ باقیوں نے اپنے جسم پر تیل ملا ہوا ہوتا ہے اور وہ لنگوٹ باندھ کر اپنی اپنی ڈیوٹی ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر ایک سُنار ہوتا ہے جس کو ہم تمام زیورات دے دیتے ہیں وہ سونا گلا کر ہمیں دے دیتا ہے اور ہم سب آپس میں ملکر تقسیم کر لیتے ہیں جب وہ یہاں تک پہنچا تو حضرت خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ فرماتے تھے مَیں نے کہا اگر وہ سُنار سارا مال لے جائے اور تمہیں کچھ نہ دے تو پھر تم کیا کرو؟ اس پر وہ بے اختیار کہنے لگا کیا وہ اتنا بے ایمان ہو جائے گا کہ دوسروں کا مال کھا جائے؟ آپؓ نے کہا معلوم ہوتا ہے تمہاری نگاہ میں بھی ایمان اور بے ایمانی میں کچھ فرق ضرور ہے ۔ اور تمہاری فطرت سمجھتی ہے کہ فلاں فعل بے ایمانی ہے اور فلاں فعل نیکی ہے۔
٭ مجھے یاد ہے مَیں چھوٹا تھا سترہ اٹھارہ سال میری عمر ہوگی کہ مَیں لاہور گیا۔ اور مجھے شوق پیدا ہوا کہ میں کسی پادری سے گفتگو کروں۔ لاہور کا سب سے بڑا پادری جوبعد میں مشنری کالج سہارنپور کا پرنسپل مقرر ہو گیا تھا۔ مَیں اس سے ملنے چلا گیا اور اُس سے سوال کیا کہ پہلے لوگ کس طرح نجات پاتے تھے؟ وہ کہنے لگا وہ بھی مسیحؑ پر ایمان رکھتے تھے اور اس ایمان کی وجہ سے ہی انہوںنے نجات پائی۔ مَیں نے کہا اگر مَیں کہہ دوں کہ مجھ پر ایمان لا کر انہوں نے نجات پائی ہے تو پھر اس کا کیا حل ہو گا؟ وہ کہنے لگا پیشگوئی بھی تو ہونی چاہئے۔ مَیں نے کہا یہ ٹھیک ہے۔ پھر میرے پوچھنے پر اُس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئی پیش کی۔ میں نے کہا آپ ابراہیم علیہ السلام کی ساری پیشگوئیاں نکال لیں اگر ان میں ایک طرف یہ ذکر آتاہے کہ میں اسحاقؑ کی اولاد کو یوں برکت دوں گا تو ساتھ ہی اسماعیلؑ کی اولاد کا بھی ذکر ہے۔ اگر آپ کا یہ حق ہے کہ آپ اس پیشگوئی کو مسیحؑ پر چسپاں کریں تو ہمیں کیوں یہ حق حاصل نہیں کہ ہم اس پیشگوئی کو محمد رسول اﷲ ﷺ پر چسپاں کرلیں؟
پھر میں نے کہا کہ کفارہ کی بنیاد اس بات پر ہے کہ مسیح خدا کا بیٹا تھا اگر وہ ابراہیمؑ کا بیٹا تھا تو کفارہ نہیں ہو سکتا ۔ اس سوال پر اس نے بڑے چکر کھائے۔ آخر گھنٹہ بھر کی بحث کے بعد وہ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا مجھے معاف فرمائیں، یونانی میں ایک مثل ہے کہ ہر بیوقوف سوال کر سکتا ہے مگر جواب دینے کے لئے عقلمند انسان چاہئے۔ گویا اس نے مجھے بیوقوف بنایا اور اپنے متعلق کہا کہ میں اتنا عقلمند نہیں کہ ہر بیوقوف کا جواب دے سکوں۔ میرا بھی اس وقت جوانی کا زمانہ تھا۔ مَیں نے کہا مجھے بڑا افسوس ہے مَیں آپ کو عقلمند سمجھ کر ہی آیا تھا۔
اس پادری کا نام غالباً وُڈ تھا۔ مَیں نے اس سے کہا۔ پادری صاحب! آپ یہ بتائیں کہ ٹھنڈے پانی اور گرم پانی کو اگر آپس میں ملائیں تو کیا ہو گا۔ وہ کہنے لگا کچھ گرم پانی کی گرمی کم ہو جائے گی اور کچھ سرد پانی کی سردی کم ہوکر ایک درمیانی سی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔ مَیں نے کہا اب یہ بتائیے شیطان پہلے آدم کے پاس گیا تھا یا حوّا کے پاس ؟ کہنے لگا حوّا کے پاس۔ مَیں نے کہا شیطان کا مقصود کیا تھا۔ کیا حوّا کو بگاڑنا مقصود تھا یا آدمؑ کو بگاڑنا مقصود تھا؟ کہنے لگا شیطان کا مقصود تو آدم کو بگاڑنا تھا۔ مَیں نے کہا جب آدم مقصود تھا تو وہ براہِ راست آدم کے پاس کیوں نہیں گیا۔ راستے میں چکر کاٹنے کی اُسے کیا ضرورت تھی۔ اس نے کہا وہ براہ راست آدم کے پاس اس لئے نہیں گیا کہ اُس نے سمجھا حوّا کمزور ہے اور مَیں آسانی سے ورغلا لوں گا اس کے بعد آدم کو یہ حوا خود بخود ورغلالے گی۔ میری ضرورت نہیں رہے گی۔ مَیں نے کہا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ حوّا آدم سے کمزور تھی۔ کہنے لگا ہاں۔ مَیں نے کہا جب حوّا آدم سے کمزور تھی اور گناہ کا ارتکاب پہلے اُسی نے کیا اور اُسی نے آدم کو ورغلایا تو وہ وجود جو صرف حوّا سے پیدا ہوا وہ بے گناہ کس طرح ہو گیا؟ مَیں نے کہا آپ گرم اور ٹھنڈے پانی کی مثال کو مدّ نظر رکھتے ہوئے یوں سمجھ لیں کہ آدم کی مثال ٹھنڈے پانی کی سی تھی اور حوا کی مثال گرم پانی کی سی تھی۔ ان دونوں کے ملنے سے جو اولاد پیدا ہوئی وہ لازماً اتنی گنہگارنہیں ہو سکتی جتنی وہ اولاد گنہگار ہو سکتی ہے جو صرف حوّا سے پید اہوئی۔ پس مسیحؑ جو حوّا سے پیدا ہوا وہ دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ گنہگار تھا۔ کہنے لگا۔ کیا مٹی میں سے سونا نہیں نکلتا؟ میں نے کہا ہمارا اور آپ کا سارا جھگڑا ہی یہی ہے اگر مٹی میں سے سونا نکل سکتا ہے تو پھر آدمؑ کو آپ بے شک گنہگار کہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی مانیں کہ اس کی اولاد نیک ہو سکتی ہے۔ ضروری نہیںکہ وہ گنہگار ہی ہو۔ اب جو میں نے اس طرح پکڑ ا تو کہنے لگے مٹی میں سے سونا نہیں نکلتا، سونے میں سے سونا نکلتا ہے۔ آدم چونکہ گنہگار تھا اس لئے اس کی اولاد بھی ضرور گنہگار ہو گی وہ نیک نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ سونے میں سے سونا نکلتا ہے مَیں نے کہا تو پھر حوا کا بیٹا دوسروں سے زیادہ گنہگار ماننا پڑے گا۔ کیونکہ حوا آد م سے زیادہ گنہگار تھی۔ اس نے نہ صرف خود درخت کا پھل کھایا بلکہ آدم کو بھی کھلایا اور اس طرح وہ دوہری گنہگاربنی۔ اس پر وہ پھر جھنجلا کر کہنے لگا۔ مٹی کی کان میں سے سونا نہیں نکلتا۔ کان مٹی کی ہوتی ہے مگر اندر سے سونا نکل آتا ہے میں نے کہا تو پھر آدمؑ کے متعلق بھی یہی نظریہ تسلیم کرلیں کہ گو وہ گنہگار تھا۔ مگراس کی اولاد میں سے ایسے لوگ بھی پیدا ہو سکتے ہیں جو نیک ہوں اور ہر قسم کے عیوب سے پاک ہوں۔
٭ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ سید احمد نور صاحب نبوت کا دعویٰ کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک دوست کہنے لگے کہ اُن کی ایک دلیل کو مَیں ردّ نہیں کر سکا اور وہ یہ کہ انہوں نے کہا تم لوگ مجھے پاگل کہتے ہو حالانکہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ جتنے نبی آئے سب کو لوگ پاگل کہا کرتے تھے پس تمہارا مجھے پاگل کہنا میری صداقت کی دلیل ہے۔ مَیں نے کہا کہ نبی کو اس کے دعویٰ کے بعد محض اُس کے دعویٰ کی وجہ سے لوگ پاگل کہتے ہیں لیکن سید احمد نور صاحب نے تو ابھی دعویٰ بھی نہیں کیا تھا کہ ہم اُن کو رسیوں سے باندھاکرتے تھے۔ پس ایک پاگل کا اپنے آپ کو نبی کہنا اور چیز ہے اور نبی کو لوگوں کا پاگل کہنا بالکل اور چیز ہے۔
٭ حضورؓ فرماتے ہیں کہ میاں نظام الدین صاحب ابھی بیعت میں شامل نہیں تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پا س آئے اور کہنے لگے کہ اگر مَیں قرآن کریم کی سو آیتیں ایسی نکلوا کر لے آئوں جن سے حیات مسیح ثابت ہوتی ہو تو کیا آپ مان جائیں گے کہ حضرت عیسیٰ زندہ ہیں۔ آپؑ نے فرمایا: آپ ایک آیت ہی پیش کردیں تو مَیں ماننے کے لئے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں دس آیتیں تو ضرور لاکر آپ کو دکھائوں گا۔ اور یہ کہہ کر خوش خوش مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے پاس گئے اور کہا کہ مَیں مرزا صاحب کو منواکر آیا ہوں کہ اگر میں قرآن سے دس آیتیں ایسی نکلوا کر لے آئوں جن سے حیات مسیح ثابت ہوتی ہو تو وہ اپنے عقیدہ کو ترک کردیں گے آپ مہربانی فرماکر مجھے جلدی سے ایسی دس آیتیں قرآن سے لکھ دیں تاکہ میں مرزا صاحب کے سامنے پیش کروں۔ مولوی صاحب کے تو یہ بات سنتے ہی حواس اڑگئے اور جوش میں کہنے لگے تجھے کس پاگل اور جاہل نے کہا تھا کہ تُو اس معاملہ میں دخل دیتا۔ میں دو مہینے بحث کرکرکے مولوی نورالدین کو حدیث کی طرف لایا تھا تُو پھر اس مسئلہ کو قرآن کی طرف لے گیا ہے۔ یہ اتنا گندہ فقرہ تھا کہ میاں نظام الدین صاحب جو اپنے دل میں اسلام سے محبت رکھتے تھے اسے برداشت نہ کرسکے۔ تھوڑی دیر تک حیرت سے ان کا منہ دیکھتے رہے اور پھر کہنے لگے: اگر یہی بات ہے تو پھر جدھر قرآن ہے اُدھر ہی مَیں ہوں۔ چنانچہ وہ وہاں سے واپس آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں شامل ہوگئے۔
٭…٭…٭…٭…٭
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اﷲ تعالیٰ
٭ آپؒ کے ساتھ بچپن سے اللہ تعالیٰ کا سلوک امتیازی تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ دریا پر کچھ دوست میرے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔ کہ میرے لڑکے ناصر احمد نے اپنے بچپن کے لحاظ سے کہا کہ اگر اس وقت ہمارے پاس مچھلی بھی ہوتی تو بڑا مزہ آتا۔ مَیں نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ پانیوں میں خواجہ خضر کی حکومت ہے۔ اگر خواجہ خضر کوئی مچھلی ہماری طرف پھینک دیں تو تمہاری یہ خواہش پوری ہو سکتی ہے۔ جب مَیں نے یہ فقرہ کہا تو بھائی عبدالرحیم صاحب جھنجھلا کر کہنے لگے کہ آپ کیسی باتیں کرتے ہیں، اس سے بچے کی عقل ماری جائے گی۔ میں نے کہا ہمارے خدا میں تو سب طاقتیں ہیں وہ چاہے تو ابھی مچھلی بھجوا دے۔ مَیں نے یہ فقرہ ابھی ختم ہی کیا تھا کہ یکدم پانی کی ایک لہر اٹھی اور ایک بڑی سی مچھلی کود کر ہماری کشتی میں آگری۔ مَیں نے کہا۔ دیکھ لیجئے خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت نمائی کر دی۔ خواجہ خضر بیشک وفات پاچکے ہیں مگر ہمارا خدا جو ہمارا خالق اور مالک ہے اور سمیع الدعا ہے وہ تو زندہ ہے اور وہ ہمارے جذبات کو جانتا ہے اس نے اس خواہش کو دیکھا اور میری بات کو پورا کر دیا۔
٭ آپؒ کی صاحبزادی امتہ الشکور صاحبہ بیان کرتی ہیں: 1953ء کے فسادات میں ایک دن فجر کی نماز کے وقت فوج رتن باغ لاہور (جہاں ہمارا قیام تھا) پہنچ گئی۔ فرمانے لگے: اُن سے کہو انتظار کریں، مَیں نماز پڑھ کر آیا۔ امی اُن دنوں بیمار تھیں اور ہسپتال میں داخل تھیں۔ فوج کے آنے کی خبر بالکل پُرسکون انداز میں اس طرح سنی جیسے پہلے ہی جانتے تھے۔ خیر فوج نے تلاشی وغیرہ لی صرف ایک چھوٹا سا پرانا تاریخی خنجر اسے ملا جو کہ امی کو جہیز میں ملا تھا اور حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ کے آبائو اجداد کے وقت کا چلا آ رہا تھا۔ اس پر ابا کو لے گئے۔ بہت کڑا وقت تھا۔ ہم بچے ایک لائن میں کھڑے تھے۔ آنکھوں سے آنسو، دل کی عجیب حالت۔ ہمارے پاس آئے۔ سب کو ملے۔ پھر میرے چہرے پر تھپکی دے کر بولے: ’مسکرائو مسکرائو‘۔ وہ پہلا سبق تھا جو مشکل وقت میں مسکرانے کا ابا نے دیا۔ آپؒ بھی مسکرا رہے تھے اور ہمیں بھی مسکرانے کا کہہ رہے تھے‘‘۔
بعد ازاں حضورؒ نے ایک مجلس عرفان میں اپنی گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اُس وقت صاحبزادہ مرزالقمان احمد پیداہونے والے تھے اورآپ اپنی بیگم سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ کوہسپتال داخل کرواکرآئے۔ تہجدکی نمازپڑھ کرتکیے پر سر رکھا ہی تھا کہ الہاماً بتایاگیاکہ گرفتاری ہونے والی ہے اور اس سے چندہی لمحوںکے بعدملٹری آگئی اور اس نے تلاشی لینا چاہی۔ آپ نے فرمایا کہ جب وہ آپ کی شیروانی کی جیبوں میں ہاتھ ڈالنے لگے جو الماری میںکھونٹی کے ساتھ لٹک رہی تھی تواس کی ایک جیب میں حضرت مرزابشیراحمدصاحبؓ کا ایک خط تھاجس میں اگرچہ کوئی ایسی بات نہیںتھی جس سے کوئی خطرہ لاحق ہوتا لیکن آپ پسندنہیںکرتے تھے کہ تلاشی لینے والا افسر وہ خط پڑھے۔ جب تلاشی لینے والے افسرنے ایک جیب کی تلاشی لی اوراپناہاتھ دوسری جیب میں ڈالنا چاہا جس کے اندرخط تھاتوشیروانی جیسے گھوم گئی اوراس کاہاتھ پھر پہلی جیب میں چلا گیا اور اس طرح دوتین مرتبہ ہوااوراللہ تعالیٰ کی حکمت سے وہ خط اُن کے ہاتھ نہ لگا۔
جلسہ سالانہ 1969ء کے ایک خطاب میں حضورؒ نے فرمایا کہ: ’’جب ایک موقع پر ظالمانہ طور پر ہمیں بھی قید میں بھیج دیا گیا۔ گرمیوں کے دن تھے اور مجھے پہلی رات اس تنگ کوٹھڑی میں رکھا گیا جس میں ہوا کا کوئی گزر نہیں تھا اور اس قسم کی کوٹھڑیوں میں ان لوگوں کو رکھا جاتا ہے جنہیں اگلے دن پھانسی پر لٹکایا جانا ہو۔ زمین پر سوتا تھا۔ اوڑھنے کے لئے ایک بوسیدہ کمبل تھا اور سرہانے رکھنے کے لئے اپنی اچکن تھی۔ بڑی تکلیف تھی۔ میں نے اس وقت دعا کی … میری آنکھیں بند تھیں۔ مَیں بلا مبالغہ آپ کو بتاتا ہوں کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے نزدیک ایک ائیرکنڈیشنر لگا ہوا ہے اور اس سے ایک نہایت ٹھنڈی ہوا نکل کر پڑنی شروع ہوئی اور میں سو گیا۔ غرض ہر دکھ کے وقت، ہر مصیبت کے وقت میں جب عظیم منصوبے بنائے گئے، ان اوقات میں اللہ تعالیٰ کا پیار آسمان سے آیا اور اس نے ہمیں اپنے احاطہ میں لے لیا اور ہمیں تکلیفوں اور دکھوں سے بچایا اور ایسی لذت اور سرور کے سامان پیدا کئے کہ دنیا اس سے ناواقف ہی نہیں اس کی اہل بھی نہیں ہے‘‘۔
٭ 1953ء کے مارشل لاء کے دوران لاہور سے جن احمدیوں کو گرفتار کیا گیا ان میں مکرم محمد بشیر صاحب زیروی بھی تھے وہ لکھتے ہیں: جب ہمیں ایک ٹرک پر بٹھاکر جیل کی طرف لے گئے۔ تو حضرت میاں ناصر احمد صاحب نے ٹرک میں بیٹھتے ہی بلند آواز میں لَآ اِلٰہَ اِلّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ کا ورد شروع کردیا جس سے دلوں میں سکینت و اطمینان کی لہر دوڑنا شروع ہوگئی۔
حضرت میاں شریف احمد صاحب ہم سب میں بڑے تھے اور صحت کے لحاظ سے بھی کمزور مگر حوصلہ کے اعتبار سے ازحد مضبوط و مستحکم۔ ہمیں اپنے مخصوص انداز میں ہر آنے والے وقت کے لئے تیار کرتے رہتے۔ جب ہم میں سے ایک نوجوان نے اپنے بیان میں کسی قدر جھوٹ ملایا تو حضرت میاں صاحبؓ بیتاب ہوکر بار بار فرماتے کہ ’’اب یہ سزا سے نہیں بچ سکتا۔ اس نے اپنا ثواب بھی ضائع کرلیا‘‘ اور پھر ہمیں فرماتے: ’’بیٹا! ہم خدا کی خاطریہاں آئے ہیں۔ یہ ہمارے ایمانوں کی آزمائش ہے۔ اگر ہم آزمائش میں پورے نہ اترے تو (ہم) جیسا بد نصیب کوئی نہ ہوگا اور اگر اس آزمائش میں کامیاب ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں گے۔ اگر ہم نے جھوٹ بولا تو اُس کی نصرت سے محروم ہو جائیں گے۔ خواہ کتنی بڑی سزا مل جائے مگر سچ کا دامن کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑنا‘‘ ۔
جیل میں پہلی رات نہایت ہی کرب میں گزری۔ صبح ہوئی، ہمیں ان کوٹھڑیوں سے باہر نکالا گیا۔ ہم ضروری حاجات سے فارغ ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہوئے اور باہر اپنے کمبل بچھا کر بیٹھ گئے۔ حضرت میاں ناصر احمد صاحبؒ نے میری اداسی دیکھ کر فرمایا: سورۃ ملک یاد ہے؟ چنانچہ اس عاجز نے سورۃ ملک سنائی۔ پھر فرمایا: کوئی خواب آئی ہے؟ مَیں نے گزشتہ رات دیکھی ہوئی اپنی خواب عرض کی تو آپؒ نے فرمایا کہ آپ تو Interrogation میں ہی رہا ہو جائیں گے مگر اس سے آگے آپ خاموش ہوگئے۔ اتنے میں ناشتے کا وقت ہو گیا۔ ناشتہ اُبلے ہوئے چنوں کا تھا۔ میں نے ان چنوں کی طرف کچھ ترچھی سی نگاہوں سے دیکھاتو آپؒ میرے چہرے کے تأثرات ہی سے میرے دل کی کیفیت بھانپ گئے اور اُن کو چادر پر ہاتھ سے بکھیرنے کے بعد انہیں خود مزے مزے لے لے کر کھانا شروع کر دیا اور ساتھ فرماتے بھی جاتے: ’’یہ تو بے حد لذیذ ہیں‘‘۔ غالباً اسی دن دوپہر سے آپؒ کے گھر سے کھانا شروع ہو گیا جو اس قدر ہوتا تھا کہ ہم سب سیر ہو کر کھا لیتے تو پھر بھی بچ جاتا تھا۔ میری دلجوئی کی خاطر آپؒ سارا کھانا میرے سپرد فرما دیتے اور فرماتے ’’اسے تقسیم کریں‘‘۔ اور خود میرے گھر سے آیا ہوا کھانا لے بیٹھتے کہ میں تو یہ کھائوں گا۔ جو نہایت ہی سادہ ہوتا تھا۔ میرے اصرار کے باوجود میرا وہ سادہ سا کھانا حضور خود تناول فرماتے اور رتن باغ سے آیا ہوا کھانا ہم کھاتے۔ حضورؒ اور حضرت صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحبؓ جب تک ہمارے پاس رہے ایک لمحہ کے لئے بھی ہمیں اداس اور غمگین نہیں ہونے دیااور ہمیں واقعات سنا سنا کر ہمارے حوصلے بلند فرماتے رہے گویا جیل میں بھی ہر روز مجلس علم و عرفان جمی رہیں۔
ایک دن مجھے پریشان دیکھ کر نہایت ہی بے تکلّفی سے فرمانے لگے: تمہیں پانچ سال قید ہو گی۔ عرض کیا: میرے حق میں اس پاکیزہ منہ سے تو کلمہ خیر ارشاد فرمائیں۔ فرمانے لگے: ’’میرا مطلب ہے Think of the worst ۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی دن خواب میں ظاہر فرما دیا تھا۔ عین اسی کے مطابق یہ عاجز تو انیٹروگیشن (Interrogation) ہی میں رہائی پاگیا اور حضرت میاں صاحبان چند ماہ بعد رہا ہو گئے‘‘۔
٭ مکرم چوہدری محمد علی صاحب لکھتے ہیں: جب ربوہ کالج کے حضورؒ پرنسپل تھے اور کالج ہال کا لنٹل ڈالنے کے لئے کثیر مقدار میں سیمنٹ اور مصالحہ بھگو کر تیار کیا جا چکا تھا تو سیاہ بادل گھر کر چھا گیا۔ حضورؒ نے ہاتھ اٹھا کر بادل کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ یہ غریب جماعت کی خرچ کی ہوئی رقم ہے۔ اگر تُو برسا تو یہ رقم ضائع ہو جائے گی۔ جا یہاں سے چلا جا۔ دراصل آپ کی اللہ کے حضور یہ ایک رنگ میں فریاد تھی جو قبول ہوئی اور جس طرح ابر آیا تھا اُسی طرح چلا گیا۔
٭ آپؒ نے ایک بار بیان فرمایا کہ اگرچہ آپ بطور پرنسپل تو اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا کر لیتے تھے لیکن غیرمعمولی جماعتی مصروفیات کی وجہ سے اپنی کلاس کو پورا وقت نہ دے سکتے تھے اور اس طرح پورا سلیبس ختم نہیں ہوسکتا تھا۔ آپؒ نے فرمایا کہ دعا کے نتیجے میں اکثر اوقات ایسا ہوتا کہ آپؒ کو رئویا میں اس سال کا یونیورسٹی کا پرچہ نظر آ جاتا اور آپؒ کلاس کو بتائے بغیر ان سوالات پر مشتمل جامع نوٹس تیار کر کے چند لیکچروں میں اس مضمون کے متعلقہ حصے پڑھا لیتے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ آپ کے مضمون میں کلاس کا نتیجہ ہمیشہ باقی مضامین سے بہتر ہوتا۔
٭ 1944ء میں جو جلسہ مصلح موعود دہلی میں منعقد ہوا اُس جلسہ پر قریباً چالیس ہزار مخالفین نے حملہ کر دیا۔ آپؒ بطور صدر مجلس خدام الاحمدیہ حفاظت کی ڈیوٹی پر متعین تھے۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ مَیں 70 رضاکار لے کر حفاظت پر مامور تھا۔ ہم سے غفلت یہ ہوئی کہ عورتیں جلسہ میں شامل ہوئی تھیں اور ڈبل قنات لگائی ہوئی تھی۔ اچانک میری نظر پڑی تو میں نے دیکھا کہ وہاں ہمارا کوئی رضاکار نہیں اور ایک پہلوان تین چار من کا بڑا مضبوط، سیدھا عورتوں پر حملہ کرنے کے لئے دوڑا چلا جا رہا ہے۔ بڑی استغفار کی کہ غفلت ہو گئی۔ وہاں وہ قنات کے پاس گیا اور جھکا اور قنات کے بانس کو اکھاڑا اور ہمیں دُور سے یہ نظر آیا کہ کسی نے اندر سے اس کے سر پر سوٹی ماری ہے اور وہ واپس بھاگا۔ مَیں حیران تھا۔ جب جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس نے جھٹکے کے ساتھ بانس کو زمیں سے باہر نکالا تھا۔ وہ دیمک خوردہ تھا۔ جھٹکے سے وہ اپنے نصف سے ٹوٹا اور اسی بانس کا اوپر کا نصف اس کے سر پر پڑا اور اس طرح وہ بھاگ گیا۔
٭ محترم ثاقب زیروی صاحب لکھتے ہیں: 1948ء میں حضورؒ کے ساتھ فرقان فورس کے جوانوں سے ملنے کشمیر گیا۔ ایک رات پیدل سفر میں ہمارا گائید چلتے چلتے ایک دم ایک جگہ بیٹھ کر اپنا دایاں ٹخنہ پکڑ کر کراہنے لگا۔ معلوم ہوا کہ اسے بچھو نے ڈس لیا ہے۔ حضورؒ نے اسے تسلی دی اور اس کے سامنے بیٹھ کر بِسْمِ اللّٰہ اور ھُوَالشَّافِیْ پڑھ کر اس کے ٹخنے کو سہلانے لگے۔ یہ عمل کوئی دو یا تین منٹ تک جاری رہا۔ اس کے بعد اس شخص کے چہرے پر رونق ابھرنے لگی یہاں تک کہ وہ ہشاش بشاش اچھل کر کھڑا ہو گیا اور قافلہ پھر روانہ ہوگیا۔ اُس نے مجھ سے کہا: آپ کے صاحب تو ’’بڑے کرنی والے‘‘ ہیں۔ یہ سنتے ہی آپؒ نے فرمایا : دیکھو اس میں کسی کرامت کا دخل نہیں ہے، اگر چاہو تو میرے جیسے کرنی والے تم بھی بن سکتے ہو۔ بس اتنا کیا کرو کہ جب آموں کو بُور آجائے تو موسم میں اس بُور کو اچھی طرح اپنے ہاتھوں میں رگڑ رگڑ کر مل لیا کرو۔ اس بُور کا کم از کم سال بھر اثر ضرور رہتا ہے۔ پھر مجھے مخاطب کرکے فرمایا: شرک ہمیشہ باریک در باریک راہوں سے انسانی جذبات و محسوسات پر وار کرتا ہے، اسے اس کا موقع نہیں دینا چاہئے۔
٭ 1974ء کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے حضورؒ نے ایک بار فرمایا کہ 1947ء میں سکھوں اور ہندوؤں نے ہماری املاک اور اشیاء لُوٹ لیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں بعد میں اُس سے بھی بڑھ کر عطا فرمادیا۔ چنانچہ اب بھی ایسے احمدی ہیں جن کا لاکھوں کا نقصان کیا گیا لیکن لوگوں کی ان حرکتوں سے خدا کے خزانے تو خالی نہیں ہوسکتے۔ اگر خدا کے خزانے خالی نہیں اور جو کچھ ملا تھا وہ اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے ملا تھا تو اب انشاء اﷲ اس سے بھی زیادہ ملے گا۔ اگر خدا کے خزانے خالی ہو جائیں یا انسان نے خدا کی رحمتوں کے علاوہ کسی اَور گھر سے کچھ لیا ہو تو اس کو فکر ہو سکتی ہے۔
٭ حضورؒ فرماتے ہیں کہ 1974ء میں جس دن قومی اسمبلی کے سارے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی بنی اور اعلان ہوا کہ اس کمیٹی کا اجلاس خفیہ ہو گا تو اس اطلاع کے ملنے کے بعد سے لے کر اگلے دن صبح چار بجے تک مَیں بہت پریشان رہا اور مَیں نے بڑی دُعائیں کیں۔ یہ بھی دُعا کی کہ اے خُدا! خفیہ اجلاس ہے پتہ نہیں ہمارے خلاف کیا تدبیر کی جائے۔ تیرا حُکم ہے کہ مَیں مقابلہ میںتدبیر کروں۔ بتائیں کیا کروں۔ سورۂ فاتحہ بہت پڑھی۔ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ بہت پڑھا۔ ان الفاظ میں دُعا بہت کی اور صبح اللہ تعالیٰ نے بڑے پیار سے مجھے یہ کہا وَسِّعْ مَکَانَکَ۔ اِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَھْزئِیْنَ کہ ہمارے مہمانوں کا تم خیال کرو اور اپنے مکانوں میں مہمانوں کی خاطر وسعت پیدا کرو اور جو یہ منصوبے جماعت کے خلاف ہیں ان منصوبوں کے دفاع کے لئے تیرے لئے ہم کافی ہیں تو تسلی ہوئی۔ (باقی آئندہ شمارہ میں)
………………………………

(انتخاب: ناصر محمود پاشا)
(مطبوعہ رسالہ انصارالدین جنوری فروری 2015ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ

٭ 26؍اپریل 1984ء کو ضیاء الحق نے خلافِ شرع آرڈیننس جاری کیا تو حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ پاکستان سے ہجرت کرنا پڑی۔ آپ پہلے بذریعہ کار کراچی پہنچے۔ وہاں سے بذریعہ ہوائی جہاز انگلستان پہنچنے کا پروگرام تھا۔ آپ کی فلائٹ پہلے ہی ایمسٹرڈم جانے والے KLM کے جہاز پر 30؍اپریل کے لئے مخصوص ہو چکی تھی۔ جہاز کی پرواز کے وقت اعلان ہوا کہ جہاز کی روانگی میں تاخیر ہو گئی ہے۔ اس تاخیر کی وجہ سے جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا، جنرل ضیاء الحق کا اپنے ہاتھوں کا لکھا ہوا ایک حکم نامہ تھا، جس کا مفہوم سمجھنے کی ائر پورٹ کا حفاظتی عملہ ناکام کو شش کر رہا تھا۔ آخر قریباً دو گھنٹوں کی تاخیر کے بعد جہاز کو پرواز کی اجازت دیدی گئی۔ اور یوں وہ جہاز اپنی متاعِ عزیز کو لے کر خراماں خراماں پرواز کرتا ہوا اپنی یورپی منزلِ مقصود کی طرف روانہ ہوگیا۔
جنرل ضیاء الحق کا وہ حکم نامہ کیا تھا اور وہ کس طرح کراچی ائر پورٹ کے حفاظتی عملہ کے لئے عقدۂ لاینحل بنا رہا، اس کی پوری کیفیت کا ادراک کرنے کیلئے اس کے پس منظر میں جانا ضروری ہے۔
جنرل ضیاء نے آرڈیننس کے اجراء کے فوراً بعد نہ صرف حضرت امام جماعت احمدیہ کی نقل و حرکت پر کڑی نگرانی شروع کر دی بلکہ اس نے ایک ایسا خفیہ حکم بھی جاری کر دیا جس کے مطابق آپ کے لئے پاکستان سے باہر جانے کے تمام بری، بحری اور ہوائی راستے بند کر دئیے گئے۔ یہ وہی حکم نامہ تھا، جو اُس وقت جب کہ آپ ملک کو چھوڑ کر باہر جا رہے تھے ، کراچی ائرپورٹ کے حفاظتی عملہ کے لئے ایک عقدۂ لاینحل بن گیا۔ بات یہ ہوئی کہ جنرل ضیاء الحق سے وہ حکم نامہ لکھتے وقت ایک بہت بڑی فرو گزاشت ہو گئی۔ اس نے حکم نامہ کی عبارت یہ لکھی: ’’مرزا ناصر احمد کو جو اپنے آپ کو جماعت احمدیہ کا خلیفہ کہتے ہیں، پاکستان چھوڑنے کی ہرگز اجازت نہیں‘‘۔
ہر کوئی یہ جانتا تھا کہ ’مرزا ناصر احمد‘ دو سال قبل وفات پا چکے تھے۔ موجودہ خلیفہ کا نام ’مرزا طاہر احمد‘ تھا۔ کراچی ائر پورٹ پر متعین عملہ اس الجھن میں پڑ گیا اور اس پر کافی لے دے ہوتی رہی کہ آیا وہ اس حکم نامہ کے رو سے حضرت مرزا طاہر احمد صاحب (خلیفۃ المسیح الرابع) کو روک سکتے ہیں یا نہیں۔ اس الجھن کے حل کے لئے بالآخر انہوں نے رات اسلام آباد فون بھی کیا تاکہ ضیاء الحق سے اس کی وضاحت کروائی جائے۔ مگر وہاں سے جواب ملا کہ جنرل صاحب محو استراحت ہیں اور ان سے رابطہ نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ اس حکم نامے کو کسی پرانے اور زائد المیعاد حکم پر محمول کرتے ہوئے ہوائی جہاز کو پرواز کی اجازت دیدی گئی۔
جب جنرل ضیاء الحق کو علم ہوا کہ اس کا ’شکار‘ اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، تو وہ غصے سے بائولا ہو گیا۔
بہرحال اب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ حضرت امام جماعت احمدیہ اﷲ تعالیٰ کی حفاظت میں پاکستان سے باہر آ چکے تھے اور اس طرح پر ایک ظالم اور سفاک ڈکٹیٹر کی دست برد سے آزا دہو چکے تھے۔ اس کے جلد بعد ہی خدائے غیور کے غضب کی لاٹھی خود اس (ظالم ڈکٹیٹر) کے اُوپر چل گئی اور وہ اپنے بیس جرنیلوں کو بھی ساتھ لیتا ہوا اس حاکم ازلی کی عدالت میں حاضر ہو گیا، جس کے آگے بڑے بڑے خودسروں اور فرعونوں کی گردنیں جھک جاتی ہیں۔
٭٭٭٭٭

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 22؍ اپریل 2003ء کو مسند خلافت پر متمکّن ہوئے۔ اس سے قبل بطور واقف زندگی آپ نے گھانا میں بھی کئی سال خدمات سرانجام دیں۔ آپ کو گھانا کے لئے روانہ کرتے وقت حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے فرمایا تھا کہ دیکھو اللہ سے بے وفائی نہیں کرنی اور یہ بھی فرمایا کہ آپ کی وجہ سے کسی کو ٹھوکر نہیں لگنی چاہیے۔
مکرم عبدالرزاق بٹ صاحب بیان کرتے ہیں کہ غانا میں قیام کے دوران ایک رات گیارہ بارہ بجے کے قریب حضور انور کی اور میری فیملی سفر کررہی تھی کہ ایک جگہ ہماری گاڑی کا پچھلا پہیہ نکل کر جنگل میں غائب ہوگیا گاڑی گھسٹتی گھسٹتی کھڑی ہوگئی ۔ فرمانے لگے میرا خیال ہے کہ ان جھاڑیوں کے پیچھے ایک گائوں ہے۔ اس گائوں کا ایک لڑکا میرے سکول میں پڑھتا ہے۔ میں جاکر اسے ڈھونڈ لاتا ہوں۔آپ گئے۔ اندھیرا تھا بجلی وغیرہ کا تو کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ تقریباً پونے گھنٹے بعد اُس لڑکے کے ہمراہ واپس آئے۔ مَیں حیران تھا کہ سکول کے اکثر لڑکوں کے نام آپ کو یاد تھے بلکہ اُن کے گائوں کا نام اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ گائوں کی Location آپ کو رات کے اندھیرے میں بھی یاد تھی۔ حالانکہ اکثر عیسائی لڑکے تھے۔
٭ مکرم مولاناسلطان محمود انورصاحب تحریر کرتے ہیں: ایک دفعہ خاکسار کی طبیعت خراب تھی۔ حضور انور کو دعا کے لئے خط لکھا۔ لندن میں کسی تقریب کے موقع پر حضور انور تشریف لائے تو وہاں میرے بیٹے نعمان محمود کو فرمایا کہ ’’مولوی صاحب سے کہیں لندن آ جائیں صحت بالکل ٹھیک ہو جائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ‘‘۔ چنانچہ خاکسار جلسہ سالانہ یوکے 2004ء کے موقع پر لندن چلا گیا۔ جلسہ میں شمولیت کی سعادت ملی۔ جلسہ کے بعد اگلے جمعہ خاکسار کو دل کی تکلیف اچانک شروع ہوگئی جو پہلے ساری زندگی کبھی بھی نہیں ہوئی تھی۔ فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا اور ایمرجنسی میں ایک گھنٹہ کے اندر اندر اینجیوپلاسٹی کر کے مجھے وارڈ میں بھجوا دیا گیا۔ ایک ڈاکٹر بار بار میرے بیٹے کو کہتا تھا کہ تمہارا باپ بہت خوش قسمت ہے کہ اس کو آتے ہی چار ڈاکٹرز فارغ مل گئے۔ ورنہ ہم تو ایسے مریضوں کو پندرہ پندرہ دن کا وقت دیا کرتے ہیں۔
حضور انور جب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی تھے ایک دن میرے ایک ہم زلف میرے پاس دفتر آئے اور کہنے لگے کہ ہمیں اچانک کھاریاں جانا پڑ رہا ہے۔ آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں شام تک انشاء اللہ تعالیٰ واپس ربوہ آ جائیں گے۔ چنانچہ مَیں نے محترم میاں صاحب کو اپنے پروگرام کا بتایا تو فرمایا: ٹھیک ہے چلے جائیں۔ مَیں نے عرض کی کہ میاں صاحب میں اجازت نہیں بلکہ مشورہ مانگ رہا ہوں۔ اس پر آپ فرمانے لگے کہ پھر نہ جائیں۔ خاکسار یہ الفاظ سن کر واپس آگیا اورمیرے ہم زلف کار میں روانہ ہوگئے۔ شام کو اطلاع ملی کہ کار کے ڈرائیور کو ڈرائیونگ کے دوران ہارٹ اٹیک ہو گیا جس کی وجہ سے حادثہ ہوا اور ڈرائیور موقع پر ہی فوت ہو گیا اور باقیوں کو گہری چوٹیں آئیں۔ میرے ہم زلف کا کولہا ٹوٹ گیا اور وہ آخری وقت تک معذور رہے۔
٭ مکرم محمداقبال صاحب تحریرکرتے ہیں: 1998ء میں مجھے عرق النساء کی شدید تکلیف ہوئی۔ علاج شروع کیا مگر مجھے بے یقینی تھی۔ خاکسار نے ربوہ فون کرکے حضرت میاں صاحب کو بیماری کا بتایا اور جذبات میں آکر رونے لگا تو میاں صاحب نے تسلّی دی اور فرمایا جو بھی دوست یا بزرگ میرے پاس آئے گا میں اُسے درخواست دعا کروں گا اور ازراہ شفقت رسٹاکس+ آرنیکا 1000 طاقت میں لینے کا ارشاد فرمایا۔ میری بیماری کو دیکھ کر ڈاکٹر بھی پریشان تھے اور لنگڑا پن پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کررہے تھے۔ اگلے دن میاں صاحب کا تسلّی آمیز فون آیا۔اُس وقت خاکسار چل پھر نہ سکتا تھا اور نہ بیٹھ سکتا تھا۔ میرا یقین و ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل اور میاں صاحب کی دعاؤں کی وجہ سے مجھے ٹھیک ٹھاک کر دیا۔
خاکسار 2003ء میں ربوہ گیا۔ دو سال سے کھانسی اور ٹی بی کے مرض میں مبتلا تھا جس کی وجہ سے بے حد کمزور اور لاغر ہوچکا تھا۔ چلنا پھرنا مشکل ہو گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ لاپرواہی کی وجہ سے بہت بُری حالت ہوچکی ہے۔ پھر حضرت میاں صاحب کے پاس حاضر ہوکر صورتحال بتائی اور عرض کیا کہ پتہ نہیں زندگی ہے کہ نہیں میں آپ سے ملنے آیا ہوں کیونکہ ڈاکٹر صاحبان کے بقول خاکسار لاعلاج ہے۔ آپ نے بڑے پیار اور شفقت سے فرمایا کہ ڈاکٹر نوری صاحب سے چیک کروائیں۔ ڈاکٹر صاحب نے چیک کرنے کے بعد ایک سال کی دوائی لکھ دی۔ خاکسار بہت زیادہ مایوس تھا۔ چیک اَپ کروانے کے بعد مَیںمیاں صاحب کے پاس حاضر ہوا اور تفصیل بتاکر خدشہ ظاہر کیا کہ شاید کینسر ہے کیونکہ آٹھ دس سال قبل خاکسار کثرت سے سگریٹ نوشی کرتا تھا۔ آپ نے اگلے روز مجھے اپنے گھر آنے کا ارشاد فرمایا۔ پہلے ابلے ہوئے دو انڈے اور ایک دودھ کا گلاس دیا اور پھر فرمایا ایک اُبلا ہوا انڈہ روز استعمال کرنا ہے۔ کہیں زیادہ انڈے نہ کھالیں یرقان ہو جائے گا۔ فرمایا میں نے ڈاکٹر نوری صاحب سے پوچھا تھا کہ کوئی کینسر تو نہیں ہے۔ آپ فکر مت کیا کریں۔ مَیں نے کہا کہ رات کو اکثر میرا سانس کھانسی کی وجہ سے اُکھڑ جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ پانی گرم کرکے بھاپ لیا کریں اس سے سانس درست ہو جاتا ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور حضور انور کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ خاکسار ٹی بی کی بیماری سے ایک سال کے اندر اندر ٹھیک ہوگیا۔
٭ 1998ء میں ملّاؤں نے چار افراد کے خلاف قرآنی آیات کی بے حرمتی کا جھوٹا مقدمہ درج کروادیا جن میں حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی ربوہ، کرنل ایاز محمود احمد خان صاحب صدر عمومی ربوہ، ماسٹر محمد حسین صاحب صدر محلہ ناصر آباد شرقی ربوہ اور مکرم محمد اکبر بھٹہ صاحب انچارج ایمرجنسی سنٹر دفتر صدر عمومی ربوہ شامل تھے۔ ایڈیشنل سیشن جج چنیوٹ نے چاروں کی ضمانت منسوخ کردی۔
مکرم محمد اکبر بھٹہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ کسی بھی قائد کو پرکھنے کا زمانہ مصائب کا دور ہوتا ہے۔ آپ میں وہ تمام خوبیاں ہیں جو کسی بھی بہترین قائد میں ہونی چاہئیں۔ جب ضمانت نہ ہوسکی تو ہمارے وکیل نے حضرت میاں صاحب کو وہاں سے خفیہ طور پر چلے جانے کا مشورہ دیا جس پر میاں صاحب نے ان کی طرف بڑے غصہ سے دیکھا اور کہا کیوں؟ اور پھر بڑے اطمینان سے باہر آئے اور ہمارے ساتھ ہی ہاتھ آگے کردیئے۔ ایڈیشنل ایس ایچ او نے ہمیں ہتھکڑیاں لگادیں اور آپ سے کہا کہ آپ رہنے دیں۔ میاں صاحب نے کہا کہ آپ اپنا فرض پورا کریں لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔
جیل میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کسی تنگ سی جگہ پر ڈھیر ساری بھیڑ بکریوں کو بند کر رکھا ہو۔ ہر آدمی بڑے فخر سے بتاتا کہ اس نے قتل کیا ہے یا ڈاکہ ڈالا ہے۔ خطرناک قیدیوں کو بیڑیاں لگی ہوئی تھیں اور ان کے آنے جانے سے چھن چھن کی آوازیں آتی تھیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے یہ فضل کیا کہ کوشش کرنے اللہ تعالیٰ نے وہ ساری بیرک احمدی اسیران کو دے دی اور دیگر قیدیوں کو احتجاج کرنے کے باوجود وہاں سے منتقل کردیا گیا۔ پھر انتظامیہ نے صفائی کے لئے آدمی بھی بھجوا دئیے جنہوں نے ساری بیرک پانی سے دھوئی اور صحن میں پانی کا چھڑکاؤ کیا۔ دونوں غسل خانے اور لیٹرینیں سفیدی کر دیں۔
احمدی احباب کی طرف سے وافر مقدار میں فروٹ اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء آتی تھیں۔ محترم میاں صاحب نے کو حکم دیا کہ ضرورت سے زیادہ سامان سٹاک نہیں رکھنا جو زیادہ سامان ہو وہ قیدیوں اور عملہ میں بانٹ دیا کرو۔ میاں صاحب نے خاص طور پر قرآن مجید، درثمین،کلام محمود اور درّعدن منگوائیں۔ آپ ہمارے حوصلے بلند رکھنے اور مصروف رکھنے کی غرض سے فارغ اوقات میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کے دلچسپ اور ایمان افروز واقعات سناتے رہتے۔ ایک دن بیت بازی کا مقابلہ بھی کیا۔
ایک رات کرنل صاحب کو خواب میں سیدہ آپا طاہرہ صدیقہ صاحبہ ملیں اور کہا کہ میں آپ لوگوں کی شہادت دینے آئی ہوں۔ میاں صاحب نے خواب سن کر فرمایا کہ انشاء اللہ ہماری بے گناہی ثابت ہوگی۔ ایک خاتون نے ملاقات کے دوران محترم میاں صاحب کو بتایا کہ رات مَیں بہت دعا کرتے کرتے سو گئی تو خواب میں یہ مصرعہ سنائی دیا: ’’خدا رسوا کرے گا تم کو میں اعزاز پاؤں گا‘‘۔
ایک صبح محترم میاں صاحب کے چہرے پر بہت زیادہ اطمینان اور اعتماد کے ساتھ ساتھ ہلکی ہلکی مسکراہٹ بھی تھی۔ پوچھنے پر فرمایا کہ رات مجھے خواب میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ، حضرت خلیفۃ المسیح الرابع اور حضرت مرزا منصور احمد صاحب ملے ہیں۔چند خواب لوگوں نے بھی لکھ کر بھیجے تھے جن سے علم ہوتا تھا کہ سوموار کو رہائی ہوگی۔ ایک خواب کی تعبیر میاں صاحب نے یہ کی تھی کہ تم (خاکسار) ہمارے ساتھ جاتے نظر نہیں آتے اور مجھے ایک دعا سکھائی کہ یہ دعا کثرت سے پڑھا کرو۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پہلی سوموار میاں صاحب اور کرنل صاحب کی رہائی ہوئی اور دیگر دو اسیران کی اگلے روز رہائی عمل میں آئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مندرجہ بالا واقعات محترم ڈاکٹر افتخار احمد ایاز صاحب کی کتاب میں شامل خلفاء کرام کے ایمان افروز واقعات کے حوالہ سے مرتّب کردہ باب سے اخذ کئے گئے ہیں۔اس مضمون کا پہلا حصّہ گزشتہ شمارہ میں شامل اشاعت کیا گیا تھا۔

پرنٹ
The short URL of the present article is: http://mahmoodmalik.zindgi.uk/uwv8E

اپنا تبصرہ بھیجیں