نیویارک (امریکہ)

(مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 25 اکتوبر 2019ء)

امریکہ کا سب سے بڑا شہر نیویارک اقوام متحدہ کے صدر دفتر کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے۔ ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ جون 2011ء میں مکرم فطین طیب صدیقی صاحب کے قلم سے ایک معلوماتی مضمون شامل اشاعت ہے۔
نیویارک شہر کو اطالوی باشندے Giovanni da Verrazzanoنے دریافت کیا تھا لیکن وہ نیویارک کی بندرگاہ تک نہیں پہنچ پایا اور واپس بحراوقیانوس میں داخل ہوگیا۔ پہلی بار انگلستان کے ہنری ہڈسن نے 11؍ستمبر 1609ء کو دریا میں سفر کرتے ہوئے نیویارک کے جزیرے Manhattan کو دریافت کیا۔ یہ شہر کا کاروباری مرکز ہے اور نیویارک کی بلندوبالا عمارات اسی میں واقع ہیں۔ ہڈسن جس دریا میں سفر کر رہا تھا، وہ دریائے ہڈسن کہلایا۔ ہڈسن‘ڈَچ ایسٹ انڈیا کمپنی’کے لیے کام کرتا تھا اس لیے 1613ء میں ولندیزیوں نے یہاں شہر کی بنیاد رکھی جسے نیوایمسٹرڈیم کا نام دیا۔ 1652ء میں اس شہر نے خودمختاری حاصل کرلی لیکن برطانیہ نے ستمبر 1664ء میں اس پر قبضہ کرکے اسے (نیویارک کے مرکز) البانی اور ڈیوک آف یارک کے حوالہ سے نیویارک کا نام دیا۔
ولندیزیوں نے اگست 1673ء میں شہر پر دوبارہ قبضہ کرکے اسے نیواورنج کا نام دیا لیکن نومبر 1674ء میں برطانیہ نے پھر اس پر قبضہ کرلیا جو ایک صدی سے زائد جاری رہا۔ انقلابی جنگ کے خاتمے پر 1783ء میں یہ امریکہ کی آخری بندرگاہ تھی جسے برطانوی جہازوں نے چھوڑا۔
1785ء سے 1790ء تک نیویارک نوتشکیل شدہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کا دارالحکومت رہا۔ پھر اقتصادی ترقی کی وجہ سے اہمیت اختیار کرنے لگا اور 1904ء میں یہاں زمین دوز ریلوے کا منصوبہ شروع ہوا جس کی پٹڑیوں کی لمبائی اس وقت 1056؍کلومیٹر ہے۔ 1925ء میں اس شہر نے لندن کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہونے کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔ جنگ عظیم دوم میں تجارت و صنعت میں بھی دنیا کا عظیم ملک بننے کے بعد یہاں کی وال اسٹریٹ نے عالمی اقتصادیات پر امریکہ کی برتری قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1952ء میں اقوام متحدہ کے دفاتر یہاں قائم ہونے کے بعد شہر کو عالمی سیاسی برتری بھی حاصل ہوگئی۔
11؍ستمبر 2001ء کو نیویارک کے ورلڈٹریڈ سینٹر پر حملوں نے دنیا کے حالات پر دیرپا اثرات چھوڑے۔ اس سینٹر کی تباہی کے نتیجے میں قریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ بعدازاں اس کی جگہ 1776فٹ بلند فریڈم ٹاور تعمیر کیا گیا ہے۔
شہر قریباً چالیس جزائر پر مشتمل ہے جن میں سے تین اہم ہیں یعنی Manhattan، Staten اور Western Long۔ یہ شہر سیاحت کا بھی عظیم مرکز ہے اور سالانہ چالیس ملین سے زیادہ سیاح یہاں آتے ہیں۔ یہاں کی بسوں اور ریل کا نظام شمالی امریکہ کا سب سے بڑا نظام ہے۔ شہر کے گردونواح میں تین بڑے ہوائی اڈّے ہیں جن میں جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، لاگارڈیا ایئرپورٹ اور نیویارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ شامل ہیں۔
نیویارک دنیابھر کے ذرائع ابلاغ کا دارالحکومت کہلاتا ہے جہاں کئی معروف اشاعتی ادارے، دو سو سے زائد اخبارات اور 350؍جرائد کے دفاتر موجود ہیں۔ کتب کی اشاعت کی صنعت سے 13ہزار افراد وابستہ ہیں۔ دنیابھر کی آزاد فلموں میں سے ایک تہائی صرف نیویارک میں پیش کی جاتی ہیں۔
نیویارک کو تجارت کے تین عالمی مراکز میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ دیگر دو مراکز لندن اور ٹوکیو ہیں۔ امریکہ میں سب سے زیادہ پوسٹ گریجوایٹ ڈگریاں نیویارک میں دی جاتی ہیں۔ 40 ہزار سندیافتہ طبیبوں اور 127؍نوبل انعام یافتگان نے اسی شہر میں تعلیم حاصل کی۔ نیویارک پبلک لائبریری امریکہ کی سب سے بڑی سرکاری لائبریری ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/WVgaY]

اپنا تبصرہ بھیجیں