نیوٹن کے علمی مجادلے اور اہم ایجادات

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8ستمبر 2004ء میں مکرم محمد زکریا ورک صاحب کے قلم سے عظیم سائنسدان ڈاکٹر سر آئزک نیوٹن (1727-1642ء) کی علمی ترقیات کے حوالہ سے ایک مضمون شائع ہوا ہے۔
نیوٹن کا نام سنہری الفاظ میں لکھے جانے کی وجہ اُس کے دریافت کردہ قوانین ہیں یعنی قوانین حرکت، کشش ثقل کا آفاقی قانون، نیچر آف لائٹ (علم ناظر) اور کیلکولس کی ایجاد ہے۔ اسی طرح اس کی تین کتابیں بھی ہر لائبریری کی زینت ہیں یعنی پرنسپیا، ڈی اینالائیزی اور آپٹکس۔ یہ کتب فی الحقیقت روشنی کی قندیلیں ہیں۔
تاہم اُس کی پُر آشوب زندگی کے بعض پہلوؤں پر زیادہ روشنی نہیں ڈالی گئی یعنی اس کے مذہبی عقائد اور تین ناقابل فراموش علمی مجادلے۔ نیوٹن کا تعلق عیسائی فرقہ ایرین Arian سے تھا۔ اس نے بائبل کا گہرا مطالعہ کرکے نوٹس بھی تیار کئے تھے جو کنگز کالج کی لائبریری میں موجود ہیں۔ وہ بائبل میں بیان کردہ بعض باتوں (مثلاً پانی کو وائن میں بدلنا اور ورجن برتھ وغیرہ) کو ناقابل فہم سمجھتا تھا لیکن تثلیث کے عقیدہ کو قطعی طور پر خلاف منطق کہتا تھا اور اس عقیدہ کے باطل ہونے پر اس نے کئی دلائل بھی اکٹھے کئے تھے۔ یہ عقیدہ اس کے نزدیک خدا کی ہتک تھا جس کا آغاز 325میں کونسل آف نیسیا Niceaسے ہوا جس میں یہ طے پایا کہ خدا اور مسیح ایک ہی مادہ سے تخلیق ہیں۔ بعد میں یہ کیتھولک فرقہ کا بنیادی عقیدہ بن گیا۔
نیوٹن خدا کی ہستی پر مکمل یقین رکھتا تھا۔ اس کا ایمان تھا کہ خدا اور یسوع ایک ہی چیز سے تخلیق شدہ نہیں ہوسکتے بلکہ یسوع کو خدا نے بنایا تھا۔ نیوٹن کی طویل مذہبی تحقیق اُس کی وفات کے بعد 1733ء میں Observations upon the Prophecies of Daniel کے نام سے شائع ہوئی۔ اسی طرح اس نے ایک ضخیم مقالہ ’’ہسٹری آف چرچ‘‘ تیار کیا جس کا کچھ حصہ یونیورسٹی لائبریری یروشلم میں محفوظ ہے۔ اس نے بائبل کے ٹیکسٹ کو analyse کرنے کے لئے سائنسی اصولوں کی طرز پر پندرہ اصول وضع کئے۔ اس کو اینگلیکن چرچ کے عقائد سے بھی سخت اختلاف تھا لیکن اس کا اس نے اعلانیہ اظہار نہ کیا تاکہ اُس کو یونیورسٹی اور دیگر سائنسی اداروں سے نکال نہ دیا جائے۔
وہ بائبل میں مذکور تخلیقِ کائنات کی روداد پر مکمل یقین رکھتا تھا یعنی یہ کہ دنیا کی تخلیق خدا نے سات روز میں کی اگرچہ یہ دن ایک ہی مدت کے نہ تھے۔ اسی طرح بائبل میں مذکور تمام نسلوں کے ذکر کے پیش نظر اس کے حساب کے مطابق دنیا کی عمر پانچ ہزار سال تھی۔
اس کے نزدیک بائبل میں تحریف ہوچکی تھی۔ اُس کا اعتقاد تھا کہ صرف خدا ہی Supreme تھا اور یسوع مسیح خدا نہیں تھا۔ اس کے مذہبی عقائد کے مطابق خدا ہر چیز میں موجود ہے، خدا فطرت کا حصہ ہے اور خدا کے کلام اور اس کے کام (سائنس) میں تضاد نہیں ہے۔
وہ عبادت کے لئے چرچ نہ جاتا تھا۔ بائبل اور تھیالوجی کے موضوع پر اس نے ایک ملین الفاظ لکھے۔ اُس کے ایک ٹریکٹ کا عنوان تھا: Two Notable Corruptions of Scriptures۔ اس کے پاس تھیالوجی کے موضوع پر 416کتب تھیں۔
ٹرینیٹی کالج میں سارے سکالرز اور پروفیسر غیرشادی شدہ تھے، شاید ان پر پادریوں کا اثر تھا اس لئے نیوٹن نے بھی ساری عمر شادی نہ کی۔
نیوٹن کو کیمیا کے مطالعہ اور کیمیائی تجربات کرنے کا بہت شوق تھا۔ کیمیا کے مطالعہ کے دوران ہی اس نے کشش ثقل، حرکت اور علم بصریات کے قوانین وضع کئے۔
اس کا نفسیاتی مطالعہ بتلاتا ہے کہ اسے باپ کا پیار نہ ملا اور نہ ہی اس نے بدلہ میں کسی کو پیار دیا۔ جب وہ پچاس سال کی عمر میں Master of the Mint بن کر لندن گیا تو شہر میں اس وقت جعل ساز بہت تھے جو جعلی نوٹ بنا کر حکومت کو نقصان پہنچاتے تھے۔ ایسے مجرم گرفتار ہوکر جب پھانسی لگائے جاتے تو نیوٹن بھی وہاں موجود ہوتا تھا حالانکہ اس کی سرکاری ذمہ داریوں میں یہ شامل نہ تھا۔ وہ ظریف الطبع نہ تھا۔ زندگی میں وہ صرف ایک بار اونچی آواز میں قہقہہ لگا کر ہنسا جب کسی نے اس سے استفسار کیا کہ اقلیدس جیسے عظیم ہندسہ دان سے دنیا کو کیا فائدہ پہنچا؟
وہ فطرتاً تنہائی پسند تھا۔ کیمبرج یونیورسٹی میں اس نے سائنسی مضامین کا انتخاب ارادۃً اس بناء پر کیا تا وہ تنہائی میں وقت گزار سکے۔ ایک بار جب اس کی عظیم دریافتوں کے بارہ میں پوچھا گیا تو اس نے جواباً کہا:
Truth is the offspring of silence and unbroken meditation.
اس کے صرف دو جگری دوست تھے۔ پہلا John Wickensتھا اور دوسرا Fabio Nicholas جو اس سے عمر میں چھوٹا اور قابل ریاضی دان تھا۔ نیوٹن اور فابیو ، دونوں کو کیمسٹری سے شغف تھا اس لئے بہت سارے تجربات دونوں نے مل کر کئے۔ فابیو نے نیوٹن کے حق میں متعدد سائنسی مضامین بھی تحریر کئے۔
سائنسی انکشافات اور نئے حقائق کو اخفاء میں رکھنا نیوٹن کی فطرت میں ودیعت تھا چنانچہ بہت سے آئیڈیاز پر اس نے جو تحقیق کی، اس کا اظہار اس نے نہیں کیا۔ اس کو نزاع اور قضیہ کی ناپسندیدگی نے مغلوب الغضب بنا دیا تھا، تنہا رہنے سے اُسے مالیخولیا بھی ہوگیا تھا اس کے باوجود اُسکی قسمت کا ستارہ کیمبرج یونیورسٹی کے ٹرینٹی کالج میں خوب ہی چمکا۔ وہ نہایت ذہین و فطین انسان تھا جو رفتہ رفتہ ترقی کے زینہ پر چڑھتا رہا کیونکہ اس نے ایسے عمر رسیدہ سکالرز سے دوستی کی اور ان کو اپنی ذہانت سے متاثر کیا جو اُس کی قسمت کا فیصلہ کرنے پر قدرت رکھتے تھے۔ چنانچہ 1669ء میں صرف 27 سال کی عمر میں اسے Lucasian پروفیسر کا اعلیٰ عہدہ پیش کیا گیا۔
ایک بار جب کسی سائنسدان نے اپنے خیالات شائع کئے تو وہ نیوٹن کی ایسی تحقیق کے مطابق تھے جو اُس نے خفیہ رکھی ہوئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد وہ رائیل سوسائٹی کا 1672ء میں ممبر بن گیا تا دوسرے سکالرز کے آئیڈیاز سے خود کو آگاہ رکھ سکے کیونکہ اس سوسائٹی میں سکالرز اپنی ریسرچ پر کھلم کھلا بحث اور ایک دوسرے کے خیالات پر تنقید کیا کرتے تھے۔ لیکن اس کا منفی پہلو یہ تھا کہ نیوٹن نے بہت سے سائنسدانوں سے جھگڑے بھی مول لئے بلکہ تین عظیم سائنس دانوں سے دلچسپ علمی مجادلے بھی ہوئے۔
پہلا علمی مجادلہ رائل سوسائٹی کے کیوریٹر رابرٹ Hooke (1702ء 1635-ء) کے ساتھ ہوا۔ مسٹر ہک بھی نیوٹن کی طرح اپنے متعلق بہت اعلیٰ وارفع رائے رکھتا تھا۔ وہ نہایت مستعد اور محنتی شخص تھا۔ عمر میں نیوٹن سے سات سال بڑا تھا۔ اس میں تخلیقی وجدان تو تھا مگر بدقسمتی سے تجزیاتی استطاعت کم تھی۔ دیکھنے میں وہ بوڑھا لگتا تھا۔ اس کی طبیعت میں حسد بھی بہت تھا۔ وہ دل لگا کر ایک آئیڈیا پر کام نہ کر سکتا تھا۔ اس کے برعکس نیوٹن ایک آئیڈیا پر جب کام شروع کرتا تو کسی تکلیف کی پرواہ کئے بغیر مسلسل پوری دلجمعی سے کام کرتا تھا تاوقتیکہ وہ مطلوبہ نتائج سے بار آور ہوجاتا۔
نیوٹن اور رابرٹ ہک کے درمیان علمی جھگڑا اس وقت ہوا جب نیوٹن نے 1671ء میں رائل سوسائٹی کو چھ انچ والی جدید ریفلیکٹنگ ٹیلی سکوپ بڑے فخر سے پیش کی جو دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی ٹیلی سکوپ تھی۔ نیوٹن نے اس کا ڈیزائن خود بنایا تھا بلکہ اس کے لینز بھی خود Grindکئے تھے۔ اس نے اس کے ذریعہ عطارد اور اس کے چاند بھی دیکھے تھے اور مشتری بھی دیکھا تھا۔ اس پر ہک نے فوراً دعویٰ کیا کہ وہ چند سال قبل اس سے بہتر ٹیلی سکوپ بناچکا ہے۔ حالانکہ ایسا نہ تھا۔
کچھ عرصہ بعد جب نیوٹن نے سفید روشنی کے موضوع پر ایک مقالہ لکھا تو ہُک نے اُس مقالہ کا تجزیہ کرتے ہوئے نیوٹن کے خیالات ردّ کردیئے۔ نیوٹن کا خیال تھا کہ روشنی ذرّات پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ (فادر آف مائیکروسکوپی) ہُک کا کہنا تھا کہ روشنی لہروں پر مشتمل ہوتی ہے (نئی تحقیق کے مطابق دونوں نظریات صحیح ہیں)۔ اس اختلاف پر دونوں نے جی بھر کر زہر اُگلا۔ جب سوسائٹی نے دونوں کا مؤقف سنا تو ہُک کو مجبور کیا کہ وہ معافی مانگے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ تاہم اس کا نقصان یہ ہوا کہ نیوٹن نے اپنی کتاب Optics تیس سال کے بعد 1704ء میں شائع کی۔ اسی طرح کے کئی واقعات کے نتیجہ میں دونوں کے درمیان نفرت کی دیوار اونچی ہوتی گئی۔ ایک بار نیوٹن نے سوسائٹی سے استعفیٰ دینے کا بھی ارادہ کیا۔ افسوس ہُک نے 1702ء میں خود کو پھانسی لگا کر ختم کر لیا۔ دونوں کے درمیان تیس سال تک کشیدگی برقرار رہی۔ نیوٹن کا مشہور مقولہ If I have seen further, it is by standing on the shoulders of giants درحقیقت ہُک پر طنزتھا۔
کتاب پرنسپیا کی اشاعت کے بعد نیوٹن کی شہرت چاردانگ عالم میں پھیل گئی۔ اس دوران وہ کیمسٹری کے تجربات میں بھی دن رات مصروف رہا لیکن اس کے نتیجہ میں پارہ اور سیسہ کا زہر مسلسل اُس کے جسم میں جاتا رہا جس کی وجہ سے 1693ء میں اس کا نروس بریک ڈاؤن ہوگیا۔
تین سال بعد وہ کیمبرج سے نقل مکانی کر کے لندن آگیا اور سائنس سے کنارہ کش ہوگیا۔ دسمبر 1701ء میں پروفیسری سے استعفیٰ دے کر وہ رائل منٹ میں ملازم ہوگیا۔ 1705 ء میں وہ ماسٹر آف منٹ بنا دیا گیا۔ اس دوران وہ کیمبرج یونیورسٹی سے دوبارہ ممبر آف پارلیمنٹ بھی منتخب ہوا۔ 1705ء میں اُسے سر کا خطاب ملا اور 1703ء میں رائل سوسائٹی کا صدر بھی بن گیا یہ عہدہ تاوقت وفات اس کے پاس ہی رہا۔
دوسرا علمی مجادلہ برطانیہ کے اوّلین رائل اسٹرانومر جان فلیمسٹیڈ کے ساتھ ہوا۔ دونوں میں مذہبی اعتقادات اور ذاتی نظریات سمیت کئی چیزیں مشترک تھیں۔ دونوں رائل سوسائٹی کے رُکن تھے۔ 1694ء میں نیوٹن نے فلیمسٹیڈ سے اپنی Lunar Theory کیلئے اُس کے پچاس کے قریب مشاہدات کا ڈیٹا اس شرط پر حاصل کیا کہ نیوٹن اپنی تھیوری کا ماحصل سب سے پہلے فلیمسٹیڈ کو پیش کرے گا۔ کچھ سال بعد نیوٹن نے شکایت کی کہ اُسے غلط ڈیٹا دیا گیا ہے۔ فلیمسٹیڈ نے چیک کیا تو واقعی اُس سے غلطی ہوئی تھی۔ اس پر نیوٹن نے غصہ میں آکر نہ صرف فلیمسٹیڈ کے ڈیٹا کو دل کھول کر استعمال کیا بلکہ اُس کو کوئی کریڈٹ بھی نہ دیا۔ نیوٹن کا اثرورسوخ اتنا تھا کہ اُس نے فلیمسٹیڈ کو رائل سوسائٹی سے بھی نکلوادیا۔ 1719ء میں فلیمسٹیڈ کا انتقال ہوگیا۔
تیسرا علمی مجادلہ کیلکولس کی ایجاد کے سلسلہ میں جرمن ریاضی دان Leibniz کے ساتھ ہوا۔ دونوں عظیم سکالرز تسلیم کئے جاتے ہیں۔ دراصل نیوٹن 1665ء میں کیلکولس دریافت کرچکا تھا لیکن اسے خفیہ رکھا ہوا تھا۔ لائبنیز نے کسی کی مدد کے بغیر 1673ء میں کیلکولس کے فارمولے دریافت کئے۔ ایک پبلشر جان کولنز کے کہنے پر نیوٹن نے لائبنیز کو خطوط لکھے جس میں اپنی دریافت کی کچھ تفصیل بیان کی لیکن کیلکولس کا عمداً ذکر نہ کیا تاکہ کوئی اُس کے آئیڈیاز کو چُرا نہ لے۔ تاہم لائبنیز جلد ہی لندن آیا اور پبلشر جان کولنز کے پاس موجود نیوٹن کے مسودات سے دل کھول کر نوٹس تیار کئے۔ جب نیوٹن کو اس کا علم ہوا تو اُس نے لائبنیز پر سرقہ کا الزام لگایا لیکن لائبنیز کا کہنا تھا کہ اُس نے نیوٹن کے نتائج کو استعمال کیا ہے نہ کہ Method کو۔ دونوں نے اپنی ایجادات پہلے کئے جانے کے ثبوت پیش کئے۔ نیوٹن کا قول ہے: Second Inventor count for nothing. چنانچہ یہ نزاعی مسئلہ چالیس سال تک چلتا رہا۔ پھر نیوٹن نے اس کا فیصلہ کرنے کے لئے گیارہ افراد پر مشتمل کمیٹی قائم کی۔ کمیٹی کی رپورٹ جو نیوٹن کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تھی اور اس پر کسی اَور کے دستخط بھی نہیں تھے، جب سامنے آئی تو اس میں نیوٹن کو کیلکولس کا موجد قرار دیا گیا تھا۔ لائبنیز نے اس رپورٹ پر کسی غصہ کا اظہار کرنے کی بجائے اس کا مدلل جواب لکھا۔ پھر کئی لوگوں نے دونوں سائنسدانوں میں صلح کروانے کی کوشش کی لیکن نیوٹن کی طبیعت کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ اس پر 1716ء میں کنگ جارج نے نیوٹن کو حکم دیا کہ وہ لائبنیز کو صلح کا خط لکھے۔ نیوٹن نے خط تو لکھ دیا لیکن یہ بھی الزامات کا پلندہ ہی تھا۔ لائبنیز اُس وقت بیمار اور لاغر ہوچکا تھا اس لئے وہ جواب نہ لکھا سکا۔ اُسی سال گمنامی کی حالت میں اُس کا انتقال ہوگیا اور گمنامی میں ہی دفنادیا گیا۔ لیکن اس جھگڑے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ سائنسی آئیڈیاز شائع کرنے کا طریق کار طے کیا گیا۔ اب اشاعت کے لئے آنے والا ہر سائنسی مقالہ دو افراد کو بھیجا جاتا ہے جو اُس پر رائے دیتے ہیں۔ اگر وہ تائید کریں تو مقالہ مبسوط ریفرنسز کے ساتھ شائع ہوجاتا ہے ورنہ ردّ کردیا جاتا ہے۔ یوں علمی سرقہ کے چانسز کم ہوجاتے ہیں اور قطعی طور پر طے ہوجاتا ہے کہ کسی تھیوری کا پیش کرنے والا پہلا شخص کون تھا۔
نیوٹن کی وفات 20مارچ 1727ء کو ہوئی۔ جنازہ میں رؤسا، وزراء، سکالرز اور عوام شریک تھے۔ اُس کو بڑی تکریم سے ویسٹ منسٹر قبرستان میں دفن کیا گیا۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/Hq0K3]

اپنا تبصرہ بھیجیں