نکاتِ معرفت

= تعلیم الاسلام کالج اولڈ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن برطانیہ کے ماہنامہ ’’المنار‘‘ اپریل 2011ء میں حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحبؓ کی یہ روایت درج ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے توحید باری تعالیٰ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بعض لوگ کسی کے احسان کرنے پر اَلْحَمْدُلِلہ کہنے کے بغیر ہی جَزَاکَ اللہ کہہ دیتے ہیں۔ حالانکہ بنظر غائر دیکھا جائے تو ازرُوئے معرفت… کیونکہ احسان کرنے والے کی ذات اور وہ چیز جس کے ذریعہ وہ محسن بنا ہے وہ بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں۔ اس لئے ممنونِ احسان کو چاہئے کہ وہ جَزَاکَ اللہ کہنے سے قبل اَلْحَمْدُلِلہ کہے۔
= اسی شمارہ میں یہ دلچسپ واقعہ بھی درج ہے کہ 1944ء میں کالج یونین کے عہدیداران کی خواہش پر پرنسپل حضرت مرزا ناصر احمد صاحبؒ نے یونین کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرنا قبول فرمالیا اور ازخود فرمایا کہ مَیں پندرہ منٹ کے لئے طلباء سے حسن و عشق کے موضوع پر خطاب کروں گا۔ موضوع سن کر طلباء مسکرانے لگے اور بوقتِ اجلاس کالج کا ہال سامعین سے کھچاکھچ بھرگیا۔ تقریر میں علم و عرفان کے گہرے نکات بیان کرتے ہوئے حضورؒ نے یہ بھی فرمایا کہ ’’ہر طالب علم میں خدا تعالیٰ نے ایک مخفی حسن کسی نہ کسی کمال یا استعداد کے لحاظ سے ودیعت کیا ہوتا ہے۔ حقیقی استاد وہ ہے جو اس حسن پر عاشق ہوکر ایک والہانہ جستجو اور سرگرمی کے ساتھ اس مخفی حسن کو اجاگر کرے اور پھر اس کی نشوونما کا سامان کرے‘‘۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/fj7jN]

اپنا تبصرہ بھیجیں