نونہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے (نمبر8)

(مطبوعہ رسالہ اسماعیل اپریل تا جون 2014ء)

نونہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے (نمبر8)
(کاوش: فرخ سلطان محمود)

سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے واقفین نو بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے مختلف پہلوؤں سے اُن کی راہنمائی کا سلسلہ جاری فرمایا ہوا ہے۔ اس میں اجتماعات اور اجلاسات سے خطابات، پیغامات کے ذریعہ ہدایات، رسائل کا اجراء اور وقف نو کلاسوں کا انعقاد بھی شامل ہے۔ مستقبل کے احمدی نونہالوں کی تعلیم و تربیت کا یہ سلسلہ اُس وقت بھی جاری رہتا ہے جب حضور انور کسی ملک کے دورہ پر تشریف لے جاتے ہیں۔ وہاں کے واقفین نو بھی یہ سعادت حاصل کرتے ہیں کہ براہ راست حضور انور کی رہنمائی سے فیض حاصل کرسکیں۔ ان واقفین نو کو کلاسوں کے دوران حضورانور جن نہایت اہم نصائح سے نوازتے ہیں اور جو زرّیں ہدایات ارشاد فرماتے ہیں وہ دراصل دنیا بھر میں پھیلے ہوئے واقفین نو کے لئے بیش بہا رہنمائی کے خزانے رکھتی ہیں۔ حضور انور کی واقفین نو کے ساتھ کلاسوں میں سے ایسے چند حصے آئندہ صفحات میں پیش کئے جارہے ہیں جنہیں واقفین نو کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

واقفین نو جرمنی کے ساتھ کلاس
(23؍ جون 2013ء بمقام بیت السبوح فرینکفرٹ)

پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم اور اس کے اردو ترجمہ سے ہوا۔ پھر یہ حدیث پیش کی گئی: ’’حضرت معاویہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اللہ تعالیٰ بھلائی اور ترقی دینا چاہتا ہے اس کو دین کی سمجھ دے دیتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری۔ کتاب العلم)
اس کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ ا لصلوٰۃ و السلام کا جو اقتباس پیش کیا گیا ، وہ اسی شمارہ کے صفحہ 5 پر درج ہے۔
پھر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا یہ منظوم کلام خوش الحانی سے پڑھا گیا:

غم اپنے دوستوں کا بھی کھانا پڑے ہمیں
اغیار کا بھی بوجھ اٹھانا پڑے ہمیں

اس کے بعد جامعہ احمدیہ کے قیام، غرض و غایت، جامعہ میں پڑھائے جانے والے علوم اور جامعہ کی اہمیت و ضرورت پر مشتمل مضامین پیش کئے گئے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے
جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بارہ میں ارشادات

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 18جنوری 2013ء کے خطبۂ جمعہ میں واقفین نو کو مخاطب کرتے ہوئے جامعہ احمدیہ میں دینی تعلیم حاصل کرنے کی طرف متوجہ کیا۔ پیارے آقا نے فرمایا:
’’ دین کی تعلیم کے لئے جو جماعتی دینی ادارے ہیں اُن میں جانا ضروری ہے۔ جامعہ احمدیہ میں جانے والوں کی تعداد واقفینِ نَو میں کافی زیادہ ہونی چاہئے۔… ہمارے سامنے تو تمام دنیا کا میدان ہے۔ ایشیا، افریقہ، یورپ، امریکہ، آسٹریلیا، جزائر، ہر جگہ ہم نے پہنچنا ہے۔ہر جگہ ہر براعظم میں نہیں، ہر ملک میں نہیں، ہر شہر میں نہیں بلکہ ہر قصبہ میں، ہر گاؤں میں، دنیا کے ہر فرد تک اسلام کے خوبصورت پیغام کو پہنچانا ہے۔ اس کے لئے چند ایک مبلغین کام کو انجام نہیں دے سکتے۔‘‘
’’تبلیغ کا کام بہت وسیع کام ہے۔ اور یہ باقاعدہ تربیت یافتہ مبلغین سے ہی زیادہ بہتر طور پر ہو سکتا ہے۔ اس لئے واقفینِ نَو کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو جامعہ احمدیہ میں آنا چاہئے۔ … جب تک کل وقتی معلمین اور مبلغین نہیں ہوں گے انقلابی تبدیلی اور انقلابی تبلیغی پروگرام بہت مشکل ہے۔‘‘
’’ بچوں میں وقفِ نَو ہونے کی جو خوشی ہوتی ہے بچپن میں تو اُس کا اظہار بہت ہو رہا ہوتا ہے۔ لیکن اس یورپی معاشرے میں ماں باپ کی صحیح توجہ نہ ہونے کی وجہ سے،دنیاوی تعلیم سے متأثر ہوجانے کی وجہ سے یا اپنے دوستوں کی مجلسوں میں بیٹھنے کی وجہ سے جامعہ کے بجائے دوسرے مضامین پڑھنے کی طرف توجہ زیادہ ہوتی ہے۔ بعض بچپن میں تو کہتے ہیں جامعہ میں جانا ہے لیکن GCSC پاس کرتے ہیں، سیکنڈری سکولز پاس کرتے ہیں تو پھر ترجیحات بدل جاتی ہیں۔‘‘؛ ’’جماعتیں مبلغین اور مربیان کا مطالبہ کرتی ہیں تو پھر واقفینِ نَو کو جامعہ میں پڑھنے کے لئے تیار بھی کریں۔‘‘
’’ مَیں دوبارہ اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ دنیا میں دین کے پھیلانے کے لئے دینی علم کی ضرورت ہے اور یہ علم سب سے زیادہ ایسے ادارہ سے ہی مل سکتا ہے جس کا مقصد ہی دینی علم سکھانا ہو۔ اور یہ ادارہ جماعت احمدیہ میں جامعہ احمدیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ‘‘
’’جہاں تک پڑھائی کا سوال ہے، جو علم دیا جا رہا ہے، وہ بہت وسیع علم ہے جو جامعہ کے طلباء اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل کر رہے ہیں۔‘‘
جامعہ احمدیہ میں پڑھائے جانے والے علوم
یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس خاص زمانے میں پیدا کیا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی پیشگوئیوں کے مطابق وہ حَکم و عدل امام الزماں تشریف لائے جنہوں نے ایمان کو ثریّا ستارے سے اتار کر دوبارہ دنیا میں قائم کیا۔ وہ قرآنی تعلیم جس پر مرورِ زمانہ کے ساتھ دھول پڑ گئی تھی اسے اس کی اصل حالت میں ہمیں دکھایا اور سکھایا۔ پھر ہماری خوش نصیبی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام کے بعد بھی خلافت کی برکت سے وہی تعلیم اپنی اصل حالت میں جاری ہے اور جامعہ احمدیہ وہ عظیم درسگاہ ہے جس میں اس تعلیم کو پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے۔ اس کے سِوا آج دنیا بھر میں کوئی بھی ایسی درسگاہ نہیں ہے جس میں اسلام کی ایسی صحیح اور سچی تعلیم دی جاتی ہو۔
خدا تعالیٰ کے فضل سے جامعہ احمدیہ کی تعلیم دوسری یونیورسٹیوں کی تعلیم سے کسی لحاظ سے بھی کم نہیں، کیونکہ یہاں خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ امام الزماں اور سلطان القلم کی جاری کردہ تعلیم، خلیفۂ وقت کی براہ راست نگرانی میں سکھائی جاتی ہے۔ جامعہ احمدیہ کا نصاب دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور یہ ایک ایسی بنیاد فراہم کرتا ہے کہ جس کے اوپر جس ڈیزائن کی عمارت تعمیر کرنا چاہیں مضبوط اور خوبصورت ہو گی۔ جماعت کو جہاں جہاں اور جس جس فیلڈ میں ضرورت محسوس ہوئی وہاں وہاں جامعہ سے فارغ ہونے والے مربیانِ سلسلہ نے اعلیٰ قابلیت کا مظاہرہ بھی کیا۔ کئی مربیان نے نہ صرف مختلف زبانیں سیکھیں بلکہ ان میں سے بعض نے پی ایچ ڈی بھی کی۔ اسی طرح کئی مربیان نے اعلیٰ دنیاوی تعلیم بھی مکمل کی۔
اس عظیم درسگاہ کا کورس 7 سالوں پر محیط ہے جسے پاس کرنے والے مربیان و مبلغین کو ’شاہد‘ کی ڈگری دی جاتی ہے۔ دنیا بھر کے تمام جامعات کا نصاب اور طریقۂ تعلیم ایک جیسا ہے جو خلیفۂ وقت کی زیر نگرانی تیار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح امتحانات بھی انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق ہوتے ہیں اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بذاتِ خود ہر طالبِ علم کے رزلٹ کا جائزہ لیتے ہیں۔
جامعہ کے نصاب میں قرآن کریم ناظرہ، باترجمہ، تفاسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، سیرت، کلام، تصوّف، موازنۂ مذاہب کے علاوہ مختلف زبانیں بھی شامل ہیں۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر فرمودہ کتب کا مطالعہ بھی نصاب کا لازمی حصہ ہے۔ پہلے دو سالوں میں قرآن کریم ناظرہ اور کچھ حصہ ترجمہ کے علاوہ زیادہ تر زبانوں پر توجہ دی جاتی ہے۔ اردو اور عربی پر خصوصاً توجہ دی جاتی ہے۔ اسی طرح جرمن اور انگلش بھی پڑھائی جاتی ہیں۔ جرمنی میں داخلے کے وقت کئی طلباء کو اردو لکھنی پڑھنی نہیں آتی لیکن پہلے دو سالوں میں خدا کے فضل سے تقریباً تمام طلباء اردو لکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح طلباء مختلف موضوعات پر عربی، اردو اور انگلش میں تقاریر کی پریکٹس بھی کرتے ہیں۔ تیسرے سال میں کچھ مزید مضامین کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ مثلاً قرآن کریم کا ترجمہ، حدیث ، تاریخ و سیرت، کلام وغیرہ ۔ جبکہ عربی، اردو، انگلش اور جرمن زبانیں بھی ساتھ ساتھ جاری رہتی ہیں۔
چوتھے اور پانچویں سال میں کچھ اور مضامین کا اضافہ بھی ہو جاتا ہے۔ جیسے تفسیرالقرآن (اس میں حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت مصلح موعودؓ کے علاوہ گزشتہ مفسرین کی تفاسیر بھی پڑھائی جاتی ہیں)۔ موازنہ مذاہب (اس میں عیسائیت، یہودیت، ہندو ازم، سکھ ازم، بدھ ازم، بہائیت جیسے مذاہب کا تعارف اور ان کے بنیادی عقائد کے بارہ میں بتایا جاتا ہے۔ نیز ان کی تعلیم کا اسلام کی تعلیم سے موازنہ کیا جاتا ہے)۔ اس کے علاوہ تاریخ اور تصوف وغیرہ شامل ہیں۔ چھٹے سال میں بعض اور مضامین جیسے فقہ احمدیہ اور فارسی زبان وغیرہ شامل ہو جاتے ہیں۔
ساتویں اور آخری سال میں ایک سمیسٹر میں پڑھائی ہوتی ہے۔ اور دوسرے سمیسٹرمیں طلباء کو ایک تحقیقی مقالہ لکھنے کے لئے دیا جاتا ہے۔ ہر طالب علم کو جامعہ احمدیہ کے آخری سال میں ایک تحقیقی مقالہ لکھنا ہوتا ہے۔ جس کا عنوان بعد از منظوری حضرت خلیفۃ المسیح چوتھے سال میں ہی ہر طالبعلم کو دے دیا جاتا ہے۔ اس مقالے کا ایک نگران اور ایک چیک کرنے والا مقرر کیا جاتا ہے۔ ہر طالبعلم سے اس مقالہ کے بارہ میں ایک بورڈ تفصیلی انٹرویو لیتا ہے۔ دوسرے مضامین کے ساتھ ساتھ مقالہ میں بھی پاس ہونا لازمی ہے۔
طلباء کو قرآن کریم کے بعض مخصوص حصے حفظ کرنا ہوتے ہیں اسی طرح بعض احادیث، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض عربی قصائد، عرب شعراء کے بعض قصائد، ضرب الامثال اور چند دعائیں وغیرہ ہر طالبعلم کو ہر سال کے ہر سمیسٹر کے آخر پر یاد کرنا ضروری ہوتے ہیں۔ اسی طرح لازمی مطالعہ میں روحانی خزائن، خلفاء کی بعض کتب و تفاسیر، اسی طرح گزشتہ تفاسیر جیسے کشّاف، تفسیر ابن کثیر وغیرہ۔ نیز عربی ادب کی چند کتب اور تاریخ وغیرہ کا مطالعہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت کا بھی خیال رکھا جاتا ہے اور ہر روز سپورٹس ہوتی ہیں جس میں ہر طالب علم کو روزانہ ایک گھنٹہ لازمی کھیلنا ہوتا ہے۔
طلباء میں مسابقت کی روح پیدا کرنے کے لئے مختلف علمی و ورزشی مقابلہ جات کروائے جاتے ہیں۔ جس کے لئے مجلسِ علمی اور مجلسِ صحت قائم ہیں۔ طلباء میں سے ہی ان مجالس کے صدر اور سیکرٹری مقرر ہوتے ہیں۔
سات سال چونکہ تمام طلباء ہوسٹل میں رہتے ہیں اس طرح انہیں اپنی روحانی تربیت کے مواقع ملتے رہتے ہیں۔ جس میں صبح تہجد ادا کرنا، پنجوقتہ نمازیں با جماعت ادا کرنا، باقاعدگی سے تلاوتِ قرآن کریم کرنا، مطالعہ کتب کرنا اور اس طرح پورا دن ایک مقررہ ٹائم ٹیبل کے مطابق گزارنا۔
شاہد کا امتحان وکالت تعلیم لیتی ہے جو سات سالہ کورس میں سے ہوتا ہے۔ پرچوں کی تیاری اور چیکنگ بھی وکالت تعلیم کے تحت ہوتی ہے۔ اور نتیجہ کی آخری منظوری حضرت خلیفۃ المسیح فرماتے ہیں۔
اس طرح جامعہ دنیاوی معیار کے لحاظ سے بھی کسی یونیورسٹی کے معیار سے کم نہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس عظیم درسگاہ سے تعلیم حاصل کر کے اسلام احمدیت کی اعلیٰ خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
جامعہ احمدیہ کی اہمیت اور ضرورت
جامعہ احمدیہ جیسی عظیم درسگاہ سو سال سے زائد عرصے سے مبلغین اور مربیان کو تیار کررہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے نونہالانِ جماعت کی تعلیم و تربیت اور اسلام کی خوبیاں سکھانے کے لئے مدرسہ تعلیم الاسلام 3جنوری 1898ء میں قائم فرمایا جو 1903ء میں کالج بن گیا۔ 1905ء میں دو عظیم بزرگوں حضرت مولوی عبدالکریمؓ اور حضرت برہان الدین جہلمی ؓ کی وفات کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے لئے حضرت اقدس نے اس مدرسہ میں جنوری 1906ء میں دینیات کی شاخ جاری کی۔ اور اس سلسلہ میں فرمایا: ’’ مدرسہ کی سلسلۂ جنبانی کی بھی اگر کوئی غرض ہے تو یہی ہے۔ اس لئے میں نے کہا تھا کہ اس کے متعلق غور کیا جائے کہ یہ مدرسہ اشاعت اسلام کا ایک ذریعہ ہو اور اس سے ایسے عالم اور زندگی وقف کرنے والے لڑکے نکلیں جو دنیا کی نو کریوں اور مقاصد کو چھوڑ کے خدمت دین کو اختیار کریں… ۔ایک طرف ضرورت ہے ایسے لوگوں کی جو عربی اور دینیات میں تو غّل رکھتے ہوں (یعنی پوری مشق رکھتے ہوں) اور دوسری طرف ایسے لوگوں کی بھی ضرورت ہے جو آجکل کے طرزِ مناظرات میں پکے ہوں۔ علومِ جدیدہ سے بھی واقف ہوں۔ کسی مجلس میں کوئی سوال پیش آجائے تو جواب دے سکیں اور کبھی ضرورت کے وقت عیسائیوں سے یا کسی اور مذہب والوں سے انہیں اسلام کی طرف سے مناظرہ کرنا پڑے تو ہتک کا باعث نہ ہوں بلکہ وہ اسلام کی خوبیوں اور کمالات کو پُر زور اور پُر شوکت الفاظ میں ظاہر کر سکیں…۔ مَیں جب اسلام کی حالت کو مشاہدہ کرتا ہوں تو میرے دل پر چوٹ لگتی ہے اور دل چاہتا ہے کہ ایسے لوگ میری زندگی میں تیار ہو جائیں جو اسلام کی خدمت کر سکیں…۔ چند سال میں ایسے نو جوان نکل آویں جن میں علمی قابلیت ہو اور وہ غیر زبان کی واقفیت بھی رکھتے ہوں اور پورے طور پر تقریر کر کے اسلام کی خوبیاں دوسروں کے ذہن نشین کرسکیں۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 618)
1909ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نے مدرسہ احمد یہ کی بنیاد رکھی جو ترقی کرتے کرتے 1928ء میں عربی کالج بن گیا۔ 20مئی 1928ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے جامعہ احمدیہ کا باقاعدہ افتتاح فرمایا۔ اس موقع پر آپؓ نے فرمایا: ’’بظاہر یہ باتیں خواب و خیال نظر آتی ہیں مگر ہم اس قسم کی خوابوں کا پورا ہونا اتنی بار دیکھ چکے ہیں کہ دوسرے لوگوں کو ظاہری باتوں کے پورے ہونے پر جس قدر اعتماد ہے اس سے بڑھ کر ہمیں ان خوابوں کے پورا ہونے پر یقین ہے…۔ ابھی تو ہم اس کی بنیاد رکھ رہے ہیں …آج وہ خیال پورا ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ یہی چھوٹی سی بنیاد ترقی کر کے دنیا کے سب سے بڑے کالجوں میں شمار ہو گی۔‘‘ (تاریخ احمدیت جلد 6 صفحہ 28)
آج وہ خواب حقیقت بن چکا ہے ۔ آج یہ جامعات قادیان اور ربوہ کے علاوہ غانا، انڈونیشیا، کینیڈا، برطانیہ اور جرمنی میں بھی قائم ہوچکے ہیں۔
جرمنی میں جامعہ احمدیہ کا افتتاح کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا: ’’انشاء اللہ دنیا میں جامعات کھلتے چلے جائیں گے جہاں دینی علم حاصل کرنے والے پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔ آئندہ ضرورت کے پیشِ نظر ہو سکتا ہے کہ جب تعداد بڑھے تو یورپ کے اور ملکوں میں بھی جامعہ کھلیں۔ امریکہ، کینیڈا اور ساؤتھ امریکہ وغیرہ کے علاقوں میں اور جامعہ کھلیں۔ جزائر میں جامعات کھلیں۔ تو یہ تو کھلتے چلیں جائیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اور دین کے خادم پیدا ہوتے چلے جائیںگے۔‘‘
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا: ’’دیکھو مَیں آدمی ہوں اور جو میرے بعد ہو گا وہ بھی آدمی ہی ہو گا۔ جس کے زمانے میں فتوحات ہوں گی وہ اکیلا سب کو نہیں سکھا سکے گا۔ تم ہی لوگ ان کے معلّم بنو گے۔ پس اس وقت تم خود سیکھو تا ان کو سکھا سکو۔ خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ دنیا کے لئے پروفیسر بنا دئیے جاؤ گے۔ اس لئے تمہارے لئے ضروری ہے اور بہت ضروری ہے کہ تم خود پڑھو تا آنے والوں کے لئے استاد بن سکو۔ اگر تم نے خود نہ پڑھا تو ان کو کیا پڑھاؤ گے۔ ‘‘ (انوار خلافت)
نیز فرمایا: ’’زندگی کی علامت یہ ہے کہ تم میں سے ہر شخص اپنی جان لے کر آگے آئے اور کہے کہ اے امیر المومنین! یہ خدا اور اس کے رسول اور اس کے دین اور اس کے اسلام کے لئے حاضر ہیں۔ جس دن سے تم نے محض دل میں ہی یہ نہ سمجھ لیا بلکہ اس کے مطابق کام بھی شروع کر دیا اُس دن تم کہہ سکو گے کہ تم زندہ جماعت ہو۔ ‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ 11جنوری 1935ئ)
سیدی پیارے آقا! حضورنے خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جنوری 2013ء میں فرمایا تھا کہ جرمنی سے کسی نے جامعہ احمدیہ کے طریقِ تعلیم پر اعتراض اٹھایا ہے۔ جان سے پیارے آقا! ہم جرمنی کے واقفین نو اس پر شرمندہ ہیں اور پیارے آقا سے معافی کے خواستگار ہیں۔ اور ایک بار پھر اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہمارے جان، مال، وقت اور عزت ہر لمحہ خلیفۂ وقت کے قدموں میں حاضر ہیں۔ پیارے آقا ہمیں جب اور جہاں بھی جانے کا ارشاد فرمائیں گے ہم پورے شرح صدر کے ساتھ وہاں جانے میں اپنی سعادت سمجھیں گے۔ حضور پُر نور سے دعا کی درخواست ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اپنے عَہدوں کو پورا کرنے اور اپنی رضا کی راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا چلا جائے۔ آمین
………………………
پھر ’’جامعہ احمدیہ‘‘ کے حوالہ سے یہ نظم خوش الحانی سے پڑھی گئی:

آسماں کے بول سے لکھی کتاب جامعہ
نور میں ڈھلتا گیا پھر آفتابِ جامعہ
تو ہمیشہ قائم و دائم رہے اس شان سے
ایک دنیا فیض پائے تجھ سے آبِ جامعہ
روح کی بنجر زمینیں تَر کریں گے نور سے
گود سے تیری جو نکلے ہیں سحاب جامعہ
واقفین نَو کی خوشبو پھیل جائے ہر طرف
ساری دنیا میں یہ پھیلائیں گلابِ جامعہ
تم سے دکھلائے خدا تعبیر ایسی شان سے
جیسے دیکھا مہدیٔ دوراں نے خواب جامعہ

نظم کے بعد حضور انور نے واقف نو بچوں سے دریافت فرمایا کہ جو امسال جامعہ احمدیہ میں داخلہ لینا چاہتے ہیں وہ ہاتھ کھڑا کریں۔ اسی طرح حضور انور کے دریافت فرمانے پر جو بچے آئندہ سال اور پھر اس سے اگلے سال جامعہ میں داخلہ لینے کے خواہشمند تھے انہوں نے ہاتھ کھڑے کئے۔
حضور انور نے فرمایا: جامعہ جرمنی میں ہر سال جرمنی سے کم از کم 20 طلباء داخل ہونے چاہئیں۔ آپ کی جو ضروریات ہیں، جو تقاضے ہیں، وہ پورے کرنے ہیں تو پھر کم از کم اتنی تعداد ہونی ضروری ہے۔ جو طلباء اس وقت Real میں ہیں اور Abitur میں ہیں وہ اس بارہ میں سوچیں۔ صرف وقف نو کا ٹائٹل لگا کر سافٹ وئیر انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس میں جانے کی بجائے پہلی ترجیح جامعہ میں جانے کی ہونی چاہئے۔ اس کے بعد ڈاکٹرز، انجینئرز یا کسی دوسری فیلڈ میں جانے کا سوچیں۔ دنیاداری کی طرف سوچیں زیادہ لگ گئی ہیں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ مجلس سوال و جواب

اس کے بعد حضور انور کی اجازت سے بچوں نے سوالات کئے۔
٭…ایک واقفِ نو نے سوال کیا کہ بعض اوقات جب بچہ ابتدائی دور میں ہو، یعنی cells کی حالت میں ہو تو میڈیکل ریسرچ کے لئے اس پر کچھ تجربات کئے جاتے ہیں۔ اس بارہ میں اسلام کی کیا تعلیم ہے؟
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایااگر یہ تجربات اس دنیا کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہیں کہ آئندہ جو بچے پیدا ہوں گے، ان میں pregnancy کے دوران جو مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، ان کا پتہ چل جائے۔ اس لحاظ سے یہ تجربہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ ماں کے پیٹ میں چلا جاتا ہے اور جسم کی growthشروع ہو جاتی ہے تو اس وقت اس کو مارنا جائز نہیں ہے۔
٭…ایک واقفِ نو نے سوال کیا کہجب امام نماز پڑھا رہا ہو، مثلاً تین رکعات کی بجائے دو پڑھا دے تو کیا کرنا چاہئے؟
حضور انور نے فرمایا’’سُبْحَانَ اللّٰہ‘‘ ایک دفعہ کہہ دو۔ اگر امام نے سن لیا تو ٹھیک ہے۔ نہیں تو خاموش رہو اور بار بار نہ کہو۔ یہ نہیں کہ پہلے پہلی صف اور پھر دوسری صف والے ’’سبحان اللہ‘‘ کہنا شروع ہو جائیں اور پھر تیسری صف شروع کر دے۔ اس طرح بار بار کے کہنے سے امام کو بھول ہی جاتا ہے کہ میں نے کرنا کیا ہے، کیا غلطی ہو گئی ہے، وہ نما زمیں کچھ کہہ نہیں سکتا، کچھ کہنے کی اجازت نہیں ہے۔ تو اس لئے ایک دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہ کہنا کافی ہے۔ امام کو سمجھ آگیا تو ٹھیک ہے، نہیں یاد آتا تو خاموش رہو اور جب امام سلام پھیر دے تو اس کو یاد کروا دو کہ آپ نے دو رکعتیں پڑھی تھیں، پوری تین رکعات نہیں پڑھ سکے۔ تو امام سلام پھیرنے کے بعد پھر کھڑا ہو گا اور ایک رکعت پڑھا دے گا۔ سارے اس کے ساتھ پڑھیں گے اور رکعت کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کے دو سجدے کرے گا ۔ بس ایک دفعہ امام کو یاد کروا دو۔ بعض دفعہ امام confuse بھی ہو جاتے ہیں۔ مجھے بھی بعض دفعہ لوگ ’’سُبْحَانَ اللّٰہ‘‘ اس طرح کہنے لگتے ہیں کہ پتہ ہی نہیں لگتا کہ غلطی کیا کی ہے۔
ایک دفعہ ایسا اتفاق ہو چکا ہے کہ کوئی کچھ نہیں بولا اور میں نے دو رکعات مغرب کی نماز کے بعد سلام پھیر دیا تو پھر نمازیوں نے کہا کہ آپ نے تو دو رکعتیں پڑھی ہیں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے، پھر ایک رکعت اور پڑھ لیتے ہیں۔ تو یہ ہو جاتا ہے، ہر ایک سے ہو جاتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ایک دفعہ چار کی بجائے پانچ رکعات پڑھا دی تھیں۔ صحابہ ؓ نے کچھ نہیں کہا۔ بعد میں کسی نے کہا کہ کیا نماز کے بارے میں نیا حکم آگیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے بتایا کہ نہیں۔ تو کہا گیا کہ آپؐ نے تو پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ تو آپؐ نے فرمایاکہ مجھے ’’ سُبْحَانَ اللّٰہ‘‘ کہہ کر یاد کروا دینا تھا۔ بھول تو ہر ایک سکتا ہے۔ لیکن اگر امام کو یاد آجائے تو ٹھیک ہے ورنہ وہ سلام پھیرنے کے بعد نماز کا جو حصہ رہ گیا ہے، وہ پورا کر لے گا۔
٭…ایک واقفِ نو نے سوال کیا کہ میں سِول انجینئرنگ کر رہا ہوں اور اگلے سال انشاء اللہ مکمل ہوجائے گی۔ کیا میں اب ماسٹرز کر سکتا ہوں؟
حضور انور نے فرمایا: بالکل کر لو، لیکن کس چیز میں کروگے؟
اس پر واقفِ نو نے عرض کی کہ سِول انجینئرنگ میں، کنسٹرکشن میں سپیشلائزیشن کرنی تھی۔ مسجدیں اور بلڈنگز وغیرہ بنانی ہوتی ہیں۔
حضور انور نے فرمایا: اچھی بات ہے کریں۔ جرمنی میں جو مسجدیں پانچ سال میں بنانی تھیں اس میں سے ابھی بیس سالوں میں پچاس بھی نہیں بنیں۔ ابھی بہت وقت ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی بناتے رہنا ہے۔ ایسا ڈیزائن کرو، جو سستا بھی ہو۔ بلکہ یہ بھی ریسرچ کرنی چاہئے کہ کون سے Material استعمال کئے جائیں، جو دیر پا بھی ہوں۔ ابھی یہ Pre-Fabricated material استعمال کر رہے ہیں جس سے مسجدوں کی cost آدھی رہ گئی ہے۔ لیکن مزید دیکھنا چاہئے کہ اس کی مضبوطی کیسی ہے، لائف کتنی ہے؟ اور مزید ریسرچ بھی کرنی چاہئے کہ کس طرح ہم کم خرچ پر زیادہ سے زیادہ مسجدیں بناسکتے ہیں۔
٭…ایک واقفِ نو نے سوال کیا کہ میں دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں، پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے والد صاحب ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی کام کرنا ہو تو خلیفۂ وقت سے ضروراجازت لیں۔
حضور انور نے فرمایا:آپ تو ویسے وقفِ نو ہیں، آپ کے لئے تو ویسے ہی ضروری ہے لیکن باقی عام آدمی کے لئے ضروری نہیں ہے۔
پھر نوجوان نے عرض کیا کہ مَیں ٹیچنگ کی فیلڈ میں تربیت حاصل کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے صوبہ ہیسن میں جماعت کا تیارکردہ نصاب اب سکولوں میں پڑھایا جائے گا۔ میرا شوق ہے کہ اسلامک سٹڈیز پڑھوں۔
حضور انور نے فرمایا: ٹھیک ہے اسلامک سٹڈی کریں اور اس کے بعد بتادیں کہ میں نے یہ پڑھائی مکمل کر لی ہے اور اب کیا مجھے اجازت مل سکتی ہے کہ یہاں اگر سکولوں میں جگہ ملے تو اِدھر ہی پڑھا لوں۔ یا ابھی تو جماعت کا کوئی سکول نہیں ہے، لیکن جب جماعت سکول کھولے گی تو وہاں پڑھالیں۔
اس واقفِ نو کا جسم کچھ بھاری تھا۔ حضور انور نے فرمایا بھاگ دوڑ کیا کریں، ورزش کیا کریں۔ 24سال تمہاری عمر ہے، تمہیں ورزش کی زیادہ ضرورت ہے۔
٭…ایک واقفِ نو نے عرض کیا کہ نماز قصر کس صورت میں ہوسکتی ہے اور کتنے دن تک ہم لگاتار قصر نماز پڑھ سکتے ہیں؟
حضور انور نے فرمایا:اگرآپ سفر پر ہیں تو آپ نماز قصر کریں گے۔ جیسے میں آجکل سفر پر ہوں تو اس لئے میں بھی نماز قصر کر رہا ہوں۔ 14سے15دن تک آپ قصر کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو مدت کا پتہ نہیں ہے۔ مثلاً آپ چار دن تک سفر پر ہوں اور پھر مزید چار دن کسی کام کی وجہ سے ٹھہرنا پڑ جائے، تو آپ قصر کریں گے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ایک بار ایسا واقعہ ہوا کہ چند دن کا سفر تھا اور آپ نماز قصر فرماتے رہے۔ وہ مدت دو مہینے تک طویل ہو گئی اور آپ نے قصر کر کے نماز ادا کی۔ تو یہ اس صورتِ حال میں ہے کہ آپ سفر میں ہیں۔ سفر کی نیت سے نکلے ہیں تو پھر قصر کر لیں۔ ہاں اگر سفر میں قیام 14دن سے زیادہ ہو تو پھر مَیں قصر نہیں کرتا۔
٭…ایک واقفِ نو نے عرض کیا کہ حضور سے دعا کی درخواست ہے کہ Baden-Württembergکے صوبہ میں کیس کا انکار ہو رہا ہے۔
اس پرحضور انور نے فرمایا: جن کے rejectہو رہے ہیںتو ان سے کہو کہ صدقہ دیں، دعا کریں اور سچ بولیں۔ سچائی پر قائم رہ کر اپنے کیس کا بیان دیں۔ جو سچی سٹیٹمنٹ پہلے دی ہے اس پر قائم رہیں۔ ان لوگوں میں ہمدردی کا جذبہ بہرحال ہے۔ اگر انہیں بتایا جائے کہ ہمارے حالات وہاں پر ایسے ہیں اور یہ ضروری نہیں ہے کہ کوئی کیس بنا ہوا ہو۔ بلکہ اردگرد کا ماحول ایسا بن چکا ہے اور ہم پر Mental Troture ہے۔ Jobsبھی بعض اوقات نہیں ملتیں، یا Jobsسے بعض دفعہ نکال دیا جاتا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ Life Threat ہو یا مقدمہ ہی ہمارے خلاف بنا ہو۔ تو یہ جو Mental Trotureہ ے یہ ہماری برداشت سے باہر ہو گیا ہے اس لئے ہم یہاں آگئے ہیں تاکہ ہمیں سکون ملے۔ اگر مستقل نہیں تو ہمیں 5سال کا ہی ویزہ دے دیں۔ 5سال تو ہمارے اچھے گزر جائیں اور اگر حالات اچھے ہوں تو ہم واپس بھی جاسکتے ہیں۔ اگرا نہیں یہ یقین دلا دیا جائے کہ آپ کے کیسز سچائی پر مبنی ہیں تو مَیں نے دیکھا ہے کہ عموماً80فیصد کیس پاس ہو جاتے ہیں۔
پھر فرمایا:جماعت بھی انہیں ثبوت دیتی ہے اور بتاتی ہے کہ کیا کچھ ہو رہا ہے اور ایمبیسیز کے ذریعے بھی بتایا جارہا ہے اور سیاستدانوں کو بھی بتایا جاتا ہے۔ میں بھی اپنے سفروں میں بتاتا رہتا ہوں۔ دنیا کو تو ہر جگہ پتہ ہے۔ Human Rightsوالوں کو بھی سب کچھ پتہ ہے، UNOکی جو کانفرنس ہوتی ہے تو وہاں بھی جماعت کا مؤقف پیش کیا جاتا ہے۔ جو کوششیں ہیں، وہ تو ہم کرتے ہیں۔ تو کیسز اس طرح پیش کرنے چاہئیں کہ ان کے ہمدردی کے جذبات ابھریں اور یہ کیسز سچائی پر مبنی ہوں۔ یہی میں خطبہ میں کہہ چکا ہوں۔
٭…ایک واقفِ نو نے سوال کیا کہ فجر، مغرب اور عشاء کی نماز میں امام تلاوت اونچی آواز میں پڑھتا ہے۔ تو دوسری نمازوں میں اونچی آواز میں تلاوت کیوں نہیں پڑھی جاتی؟
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:ایک وجہ تو یہ ہے کہ اسی طرح آنحضرت ﷺ نے ہمیں کر کے دکھایا ہے۔ آپؐ کی جو سنت تھی، اسی کے مطابق ہم کرتے ہیں۔ دوسری حکمت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وقت کے مطابق جو صورتِ حال ہے اِسی طرح پڑھتے ہیں۔ جیسے ظہر یا عصر کی نماز کا جو وقت ہوتا ہے وہ ایسا وقت ہوتا ہے جس میں خاموشی طاری ہوئی ہوتی ہے اور اس خاموشی میں عبادت کا جو ایک ماحول ہوتا ہے، یعنی بغیر اونچی آواز کے تو اس عبادت میں زیادہ سکون ہوتا ہے، یعنی انسانی فطرت کے مطابق یہ دونوں عمل ہو رہے ہیں۔ قدرت کا جو ایک ماحول ہے، یہ اس کے مطابق ہے۔
٭…ایک واقفِ نو نے عرض کیا کہ پچھلی کلاس میں مَیں نے بتایا تھا کہ مَیں نے سکول میں ہستی باری تعالیٰ کے بارہ میں تقریر کرنی تھی تو الحمدللہ بہت کامیاب رہی ہے۔ پہلے کلاس فیلوز کو خدا کے بارے میں یقین نہیں تھا لیکن تقریر کے بعد کئی طلباء نے اس کا اظہار کیا کہ انہیں خدا پر یقین آگیا ہے۔
حضور انور نے فرمایا:ماشاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے۔ آئندہ بھی ایسے کام کیا کرو۔ پہلے تو دنیا کو یہ بتاؤ کہ خداتعالیٰ کی ہستی ہے۔ پھر دین کی طرف بلاؤ۔
٭…اسی واقفِ نو نے سوال کیا کہ:یہاں انڈیا کی تقسیم کے بارہ میں بات ہوتی ہے تو اساتذہ کہتے ہیں کہ یہ انسانوں کے لئے بہت نقصان دہ تھا کیونکہ 50لاکھ انسانوں کو قتل کیا گیا تھا، تو اگر لوگ باتیں کریں تو ان کوکیا بتایا جائے؟
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب پارٹیشن نہیں ہوئی تھی تو اس وقت بھی ہندو اور مسلمان کا فساد کھڑا ہو چکا تھا۔ کانگریس لیگ تھی، ہندو بھی تھے، مسلمان بھی تھے، یہ اگر اکٹھے ہو کر رہتے تو ٹھیک تھا۔ لیکن اس وقت جو حالا ت پیدا ہوگئے تھے، ایسے تھے کہ ہر ایک کو نظر آرہا تھا کہ اب یہ حالات مزید بگڑیں گے۔ مار دھاڑ، قتل و غارت اُس وقت بھی شروع ہو گئی تھی۔ دشمنیاں اندر اندر پنپ رہی تھیں۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ جب پارٹیشن ہوئی تو دشمنی ایک دم نکل کر باہر آگئی اور قتل و غارت اسی وجہ سے ہوئی اور جتنے مسلمان مارے گئے اس کے مقابلہ پر ہندو اور سکھ نہیں مارے گئے۔ انہوں نے مسلمانوں کو زیادہ مارا ہے۔ مسلمانوں نے بھی ظلم کئے ہیں لیکن ہندوؤں کے مقابلہ میں کم تھے۔ جو بھی مسلمان تھے وہ شروع میں یہ نہیں چاہتے تھے کہ اس طرح پارٹیشن ہو۔ پھر جب سارے حالات دیکھے تو آخر مجبور ہو کر یہ فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ملک ہونا چاہئے۔ لیکن ساتھ یہ گارنٹی دی کہ جو مسلمانوں کا ملک پاکستان ہو گا، اس کی جو سیاسی بنیاد ہے وہ تو مذہب کے اوپر نہیں ہو گی بلکہ ہر ایک شخص پاکستان کا شہری ہے۔ مسلمان مسلمان کہلائے گا اور ہندو ہندو کہلائے گا، عیسائی عیسائی کہلائے گا، ہر ایک آزاد طور پر ایک شہری کی حیثیت سے یہاں رہے گا اور اُسے مکمل مذہبی آزادی ہو گی۔ لیکن پاکستان بننے کے بعد یہاں مذہبی بنیاد پر ظلم شروع ہوئے۔ احمدیوں پر بھی ظلم ہو رہے ہیں اور باقی اقلیتوں پر بھی ظلم ہورہے ہیں۔ یہ حالات جو اُس وقت تھے تو اس وقت کے مطابق یہ فیصلہ بالکل صحیح تھا۔ اور اُس وقت جو نتائج نکلے تھے ہو سکتا ہے کہ اس سے بھی زیادہ خطرناک نکلتے۔ یہ جو قتل و غارت ہوئی ہے، یہ دلوں کے اندرجو لاوا پک رہا تھا، وہ پھٹا ہے، تو قتل و غارت ہوئی ہے۔ اگر پارٹیشن نہ ہوتی تو قتل و غارت کسی اَور رنگ میں ہو جانی تھی۔
٭…ایک واقفِ نو نے عرض کیا کہ میں بہت تبلیغ کرتا ہوں۔ کچھ مسلمان یہ سوال کرتے ہیں کہ جو سچے نبی ہیں ان کے چہرہ پر تو نور ہوتا ہے۔ آپ کے جو نبی ہیں ان کے چہرہ پر نور ہوتا تو سب ایمان لے آتے۔
حضور انور نے فرمایا:آنحضرت ﷺکے چہرہ سے زیادہ نور تو کسی کے چہرہ پر نہیں تھا۔ وہ نور بلالؓ کو تو نظر آگیا، ابوبکرؓ کو نظر آگیا لیکن ابوجہل کو نظر نہیں آیا۔ حضر ت عمرؓ کو بھی فوری طورپر نظر نہیں آیا، قرآنِ کریم کی تلاوت سنی، اِس کی تعلیم دیکھی تو اُس تعلیم نے جھنجھوڑا کہ نور تلاش کرو۔ تو اِس تعلیم میں نور نظر آیا تو پھر آنحضرت ﷺ میں بھی نور نظر آگیا۔ اس لئے تم ان سے کہو کہ جب آپ دل صاف کرکے، پاک کرکے اللہ تعالیٰ سے

’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘

کی دعا مانگیں اور حضر ت مسیحِ موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کو پڑھیں کہ وہ کہتے کیا ہیں۔ آپؑ تو آنحضرت ﷺ کے ساتھ عشق اور خداتعالیٰ کی وحدانیت کی تعلیم دیتے ہیں۔ جب اس پر غور کر کے آپ دیکھیں گے تو پھر آپ کو جب اس تعلیم میں نور نظرا ٓئے گا تو اس تعلیم کو پیش کرنے والے شخص میں بھی نور نظر آجائے گا۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی آپ کے دشمن تھے۔ تو اُس وقت وہ سارے کیوں نہیں اسلام لائے، چند غریب لوگ ہی ایمان لائے۔
٭…ایک واقفِ نو نے عرض کیا کہمیں ڈیڑھ سال قبل پاکستان سے جرمنی آیا ہوں۔ کافی احمدی لوگ یہ خیال رکھ کر آئے تھے کہ جلد کیس پاس ہو جائے گا اور سٹڈی وغیرہ جاری کر سکیں گے۔
حضور انور نے فرمایا:اگر تو جرمن گورنمنٹ سے کوئی معاہدہ کرکے آئے تھے تو پھر تو امید ہونی چاہئے۔ اگر اس لئے آئے تھے کہ ہم وہاں مشکلات میںہیں اور اِس سے آسانی اور چھٹکارا پانا ہے اور جا کر قسمت آزمائی کرلیتے ہیں اور پھر اس کے بعد دعا اور صدقات پر بھی زور دیا تو کام ہوجاتا ہے۔ بعض ایسے کیسز مَیں نے دیکھے ہیں جنہوں نے آتے ہی قرآنِ کریم پکڑا اور مصلّی پکڑااور اُس وقت بیٹھ گئے اور دعائیں اور نفل اور صدقے کرتے رہے۔ ان کے 15دن میں کیس پاس ہو گئے۔ جو بظاہر نیک لوگ تھے، دعائیں بھی کرتے تھے لیکن ان کے ابھی نہیں ہوئے۔ تو بعضوں سے اللہ تعالیٰ مزید امتحان بھی لیتا ہے۔ کچھ کے کیس لمبے ہوجاتے ہیں، کچھ کے جلدی ہو جاتے ہیں۔ دعائوں کی طرف اگر توجہ ہو تو اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا چاہئے۔ آدمی کو مشکلات آتی ہیں تو ان مشکلات میں تو سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
٭…ایک واقفِ نوَ نوجوان نے عرض کیا کہ اتنی دیر لگتی ہے کہ پہلے زبان سیکھیں اور پھر سٹڈی کریں۔ تو اس سے جماعت کو یہ تو نہیں ہو گا کہ ضرورت سے کافی زیادہ وقت ہماری تعلیم پر لگ رہا ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا:آپ فکر نہ کریں۔ آپ اب FScکرنے کے بعد یہاں پر آئے ہیں۔ آپ کا کیس پاس ہو جاتاہے تو اس کے بعد دیکھیں اور exploreکریں کہ مختلف optionsکیا ہیں؟ جو بھی optionsہوںوہ پھر لکھ کر مجھے پوچھیں تو میں آپ کو بتائوں گا کہ ان optionsمیں سے آپ کے لئے اور جماعت کے لئے کونسا بہتر ہے۔ تاکہ آپ کا وقت بھی ضائع نہ ہو اور نہ جماعت کا وقت ضائع ہو۔
٭…ایک واقفِ نو نے عرض کیا کہجسمانی ورزش کس حدتک کرنی چاہئے؟
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:جس حد تک آپ سمارٹ رہیں۔ اور آپ بڑے سمارٹ ہیں ماشاء اللہ۔ ورزش تو صحت قائم رکھنے کے لئے کرنی چاہئے۔ کسی کو مارنے کے لئے نہیں کرنی چاہئے۔
٭…ایک واقفِ نو نے سوال کیا کہجمعہ کے دن جب امام خطبہ شروع کردے تو سنتیں کب ادا کرنی چاہئیں؟
حضور انور نے فرمایا:جب بھی آپ جمعہ کے لئے مسجد میں آتے ہیں آپ کو سنتیں پڑھنی چاہئیں۔ بعض لوگ یہ کرتے ہیں کہ خطبہ اردو میں سُن لیتے ہیں اور جو مسنون خطبہ ہے، اس میں توجہ نہیں دیتے اور کھڑے ہو کر سنتیں پڑھتے ہیں، یہ غلط طریق ہے۔ آکر پہلے سنتیں پڑھیں او رپھر خطبہ سنیں۔ درمیان میں جو وقفہ ہوتا ہے وہ اتنا تھوڑا ہوتا ہے کہ اس میں پھر ٹکریں ہی مارتے ہیں۔ تو یہ غلط ہے۔ اگر تو کسی کو موقع ہے کہ وہ گھر سے سنتیں پڑھ کر آئے تو پڑھ کر آنی چاہئیں۔ مسجد میں آکر پڑھنی ہیں تو وہاں آکر پڑھ لیں۔ لیکن جب بھی آپ مسجد میں داخل ہوتے ہیں اُسی وقت پڑھیں۔ لیکن یہ جو روایت بن گئی ہے کہ عربی خطبہ شروع ہوا تو سنتیں پڑھنی شروع کر دیں، یہ غلط ہے۔
٭…ایک واقفِ نو نے عرض کیا کہمیں اکثر دیکھتا ہوں کہ جب میں نماز باجماعت پڑھ رہاہوتا ہوں تو امام صاحب جب سلام پھیرتے ہیں توسنتوں کی ادائیگی کے لئے مصلّی سے کبھی دائیں اور کبھی بائیں طرف کھڑے ہوتے ہیں۔ اسی طرح لوگ بھی اپنی جگہ سے ہٹ کر آگے یا پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
اس پر حضور انور نے فرمایا:یہ ایک طرح کی سنت ہی ہے کہ اپنی جو نمازوں کی جگہ ہے، اسے بدل لو۔ اگر آپ کے پاس جگہ ہے تو اسے بدل کر دو قدم ادھر ہوجائو تاکہ مسجد کی ہر جگہ کا حصہ، اگر تو اس سے کوئی برکت وابستہ ہے، تو وہ آپ کو مل جائے۔ اور آپ اپنے گھر میں بھی مختلف حصوں میں نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں اور نماز میں دعا کر رہے ہوتے ہیں، وہ بھی اس وجہ سے ہے کہ گھر میں نماز پڑھنے کی جگہ کو نماز پڑھنے کی وجہ سے برکت مل جائے۔
پھر فرمایا:ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ صفوں میں کوئی جگہ نہیں ہے تو دھکا مار کر کسی کو پیچھے ہٹا دیںاور خود آگے آجائیں کہ میں نے جگہ بدلنی ہے۔ اور جب کوئی پوچھے تو کہیں کہ سنت ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس طرح جگہ بدل لو تو بہتر ہوتا ہے۔ تو آپ کہیں کہ بہتر ہوتا ہے تو مجھے حق مل گیا ہے کہ میں اُسے دھکا مار کر پیچھے کر دوں۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ جگہ ہے تو بدل لو، ورنہ جہاں جگہ ملتی ہے، وہاں پڑھ لو۔
٭…ایک واقفِ نو نے عرض کیا کہ ہمیں کچھ ہفتوں میں چھٹیاں ہونے والی ہیں تو کیا ہمیں چھٹیوں میں کام کرنے کی اجازت ہے؟
اس پر حضور انور نے فرمایا:اگر تو آپ کو پیسوں کی ضرورت ہے تو کام کریں ورنہ پھر وقفِ عارضی کریں اور جماعت کے کام کریں۔ اور اگر اپنی فیلڈ میں کوئی ٹیکنیکل skillسیکھنے کے لئے کوئی کام کرنا ہے تو ٹھیک ہے، کرلیں کوئی حرج نہیں ہے۔ ماں باپ کا خرچہ کم کرنے کے لئے اور ان کا ہاتھ بٹانے کے لئے اگر کوئی ہُنر سیکھنے کے لئے ضرورت ہے تو آپ تھوڑی دیر کے لئے کام کرلیں۔ لیکن چھٹیوں میں ہر وقفِ نو کو یہ کوشش ضرور کرنی چاہئے کہ کم از کم دو ہفتوں کے لئے وقفِ عارضی کرے اور جو وقفِ عارضی کا نظام ہے ان کو کہیں کہ وہ آپ کو کسی جماعت میں بھیج دیں جہاں آپ نمازوں کی طرف توجہ دے کر، قرآنِ کریم پڑھنے کی طرف توجہ دے کر اپنا دینی علم بڑھانے کی طرف توجہ دے کر اپنی تربیت بھی کریں۔ اور جس جماعت میں جائیں تو وہاں کے بچوں کو بھی تعلیم دیں اور خدام کو بھی تعلیم دیں اور پڑھائیں۔ اس کے علاوہ آپ کو جو باقی وقت ملتاہے اس میں اپنا کام کرلیں۔ ٹھیک ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا:واقفینِ نو جو پندرہ سال سے اوپر ہیں اگر وہ اپنے سکولوں کی چھٹیوں میں وقفِ عارضی کریں تو آپ کے شعبہ وقفِ عارضی کے لئے، جن کا وقفِ عارضی کا ٹارگٹ بھی پورا نہیں ہوتا، ایک ہزار واقفینِ عارضی یہاں ہی سے پورے ہو جائیں گے۔
٭…ایک واقفِ نو نے عرض کیا کہ اگلے سال میں نے کالج میں جانا ہے اور اس کیلئے مجھے اچھے مارکس چاہئیں۔ دعا کی درخواست ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے فرمایا:اللہ تعالیٰ فضل فرمائے۔ اس کے لئے دعا پہلے خود بھی کرنی چاہئے۔ پہلے خود پانچوں نمازوں کی پابندی کرو، خود اپنے لئے دعا کرو، پھر دوسرے کو دعا کے لئے کہو، تو پھر دعا قبول ہوتی ہے۔ یہ نہیں کہ خود آدمی نمازیں نہ پڑھ رہا ہو، نہ اپنے لئے دعائیں کر رہا ہو اور نہ محنت کر رہا ہو اور پھر دوسروں کو کہے کہ دعا کرو۔
حضور انور نے فرمایا:ہمارے ایک صاحب ہوتے تھے۔ ایک بزرگ نے ان کی طرف سے الفضل میں اعلان شائع کروادیا کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اعلیٰ کامیابیوں سے نوازے، انہوں نے میٹرک کا امتحان دیا ہوا ہے۔ تو بعد میں پتہ لگا کہ میٹرک کی اعلیٰ کامیابیاں کیا لینی ہیں، انہوں نے میٹرک کے تین پیپر ہی نہیں دیے تھے۔ تواس طرح بزرگوں کو کہہ کر یہ ظاہر نہ کریں کہ لوگ سمجھیں کہ بزرگوں کی دعائیں، جماعت کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ پہلے خود کچھ ہمت کرو اور پڑھائی پوری کرو، خود دعا کرو، نمازوں کی طرف توجہ کرو تو اللہ تعالیٰ خود مدد کرتا ہے اور پھر دوسروں کی دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں۔
٭…ایک واقفِ نو نے عرض کیا جب نماز میں صفیں درست کرنے کا کہتے ہیں تو ایڑھیوں کو ملنا چاہئے یا کندھوں کو او رجب ایک رکعت گزرنے کے بعد صف خراب ہو جاتی ہے تو پھر کیا کرنا چاہئے؟
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اگر آپ کی ایڑھیاں ملی ہوں گی تو آپ کے کندھے خود بخود مل جائیں گے۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ نماز پڑھتے ہوئے صف کیوں خراب ہوتی ہے۔ جب تک مَیں صفوں میں نمازیں پڑھتا رہا ہوں مجھے تو نہیں یاد کہ میری ایڑھی کبھی ہلی ہو۔ اتفاق سے کبھی ایسا ہو بھی جاتا ہے لیکن اگر ہل جائے تو ایڑھی کو سیدھا کرلیں۔ اس سے یہ فائدہ ہے کہ ایڑھی سیدھی کرنے کی وجہ سے کندھے تو مل جاتے ہیں۔ اور اگر آپ کی ایڑھیاں کچھ پیچھے چلی جاتی ہیں تو پیچھے صف میں نمازی جب سجدہ میں جائے گا تو آپ کو ٹکر مارے گا۔ آپ اس کو سجدہ نہیں کرنے دیں گے اوراگر وہ زیادہ conscious ہے تو وہ سکڑنے کی کوشش کرے گا۔ اس لئے اگر آپ ایڑھیوں کو سیدھا کرلیں تو کندھے بھی مل جاتے ہیں۔
حضورانورنے اس نوجوان کے ساتھ ایک دوسرے نوجوان کو کھڑا کیا اور ان دونوں کی ایڑھیاں ملوائیں اور فرمایا کہ دیکھوکندھے خود بخود مل گئے ہیں۔
٭…اسی واقفِ نو نے عرض کیا کہ میں ابھی ڈیڑھ مہینہ پہلے پاکستان سے آیا ہوں۔ اور میں آج اس طرح حضور کے سامنے کھڑا ہوں۔ یہ میرا پہلا موقعہ ہے اور مجھے آج یہ محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستانی کس نعمت سے محروم ہیں۔ پاکستان کو یہ نعمت کب نصیب ہوگی؟
حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:دعائیں کریں، دعائیں کریں، صدقہ کریں۔ اسی لئے میں کہتا رہتا ہوں اور عموماً توجہ دلاتا رہتا ہوں کہ جو باہر آئے ہیں ان کو بھی کہتا رہتا ہوں کہ دعائیں کریں۔ جوپاکستانی ہیں ان کو بھی کہتا ہوں کہ دعائیں کریں، روزہ رکھیں، صدقات دیں۔ اللہ تعالیٰ یہ جو مشکل کے دن ہیں، ان کو آسان فرمائے۔ آمین۔
٭…ایک واقفِ نو نے عرض کیا کہ میں نے اپنا ڈپلومہ کر لیا ہے اور اب میں میڈیکل ٹیکنیک میں جانا چاہتاہوں۔ کیا مجھے اس کی اجازت ہے؟ میڈیکل فیلڈ میں جو مشینیں اور سسٹم ہوتے ہیں، ان کا ٹیکنیشن بننا چاہتا ہوں۔
حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان مشینوں کی جو ٹیکنیکل سائیڈ ہے۔ جو ٹیکنیکل سٹاف ہوتا ہے وہ کورس کرنا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے کرلو۔
٭…ایک سوال ہوا کہ حضور نے ایک سال قبل مختلف ممالک کے سربراہان کو امن کے خطوط لکھے تھے، ان میں سے کتنے سربراہان کا جواب آیا تھا؟
حضور انور نے فرمایا:کینیڈا کے وزیرِ اعظم کی طرف سے جواب آیا تھا۔ اسی طرح UK کے وزیرِ اعظم سے بھی جواب آیا تھا۔ پہلے تو ایسا جواب تھا جو ہلکا پھلکا ساتھا لیکن بعد میں اس نے کہا تھا کہ ہم امن کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ والوں نے جواب نہیں دیا۔ اتفاق سے ان کا ایک سٹاف ممبر مجھے ایک میٹنگ میں ملا۔ تو میں نے اسے کہہ دیا تھا کہ اگر اوباما صاحب جواب نہیں دے سکتے تو نہ بھیجیں۔ کیونکہ یہ مجھے پتہ چلا تھا کہ اوباما صاحب بہت مشکل میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ جواب کس طرح دیں۔ لیکن اس نمائندہ نے مجھے کہاکہ میں جواب دلواؤں گا۔ پھر جب ہمارے کسی آدمی نے رابطہ کیا تو اس نے کہا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ جواب نہ دو۔ لیکن ان میں توجہ پیدا ہوئی ہے۔ ورنہ تو اس وقت تک نیت تھی اسرائیل کی اور حالات بھی کشیدہ تھے اور جنگ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اسکی ایک وجہ تو یہ بھی ہے کہ شام کی جنگ میں کچھ رشیا کاپریشر ہے، جس کی وجہ سے وہ رُکے ہوئے ہیں اور معلوم ہوتاہے کہ ان خطوط کا اثر ہوا ہے اور انہیں خود بھی خیال آیا ہے کہ جنگوں کی طرف نہ جائیں تو بہتر ہے۔
٭…ایک واقفِ نو نے سوال کیا کہ حضر ت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے فرمایا تھا کہ حضرت مسیح موعودؑ کے جو کپڑے ہیں، تبرک ہیں، وہ یورپ میں، امریکہ میں کسی محفوظ جگہ پہنچا دیے جائیں گے۔ وہاں پر وہ زیادہ دیر تک، آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے اور بادشاہوں کے لئے تبرک کا باعث بنیں گے۔
اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:تبرک تو اتنے زیادہ لوگوں کے پاس ہیں۔ انہوں نے ان کپڑوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے اور دھاگے دھاگے کرکے خاندانوں میں بانٹ لئے ہیں۔ اب محفوظ کس طرح کرنا ہے۔ ہاں بعض تبرکات ہیں، جیسے کوٹ ہے جو میں عالمی بیعت میں پہنتا ہوں۔ اس کے علاوہ میری پھوپھی ہیں، ان کے پاس حضرت اقدس مسیحِ موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک کوٹ تھا، وہ بھی انہوں نے مجھے بھیج دیا ہے۔ وہ بھی اب میرے پاس ہے۔ میرے پاس اب دو کوٹ ہو گئے ہیں۔ دو تبرکات ہوگئے ہیں۔ باقی جو پرائیویٹ لوگوں کے پاس ہیں، وہ انہوں نے بانٹ دیے ہیں۔ باقی تبرک یہی ہے کہ آپ کی جو تعلیم ہے اسے پھیلاؤ۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/tNytN]

اپنا تبصرہ بھیجیں