نونہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے (نمبر6)

(مطبوعہ رسالہ اسماعیل جولائی تا ستمبر 2013ء)

نونہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے (نمبر6)
(کاوش: فرخ سلطان محمود)

سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے واقفین نو بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے مختلف پہلوؤں سے اُن کی راہنمائی کا سلسلہ جاری فرمایا ہوا ہے۔ اس میں اجتماعات اور اجلاسات سے خطابات، پیغامات کے ذریعہ ہدایات، رسائل کا اجراء اور وقف نو کلاسوں کا انعقاد بھی شامل ہے۔ مستقبل کے احمدی نونہالوں کی تعلیم و تربیت کا یہ سلسلہ اُس وقت بھی جاری رہتا ہے جب حضور انور کسی ملک کے دورہ پر تشریف لے جاتے ہیں۔ وہاں کے واقفین نو بھی یہ سعادت حاصل کرتے ہیں کہ براہ راست حضور انور کی رہنمائی سے فیض حاصل کرسکیں۔ ان واقفین نو کو کلاسوں کے دوران حضورانور جن نہایت اہم نصائح سے نوازتے ہیں اور جو زرّیں ہدایات ارشاد فرماتے ہیں وہ دراصل دنیا بھر میں پھیلے ہوئے واقفین نو کے لئے بیش بہا رہنمائی کے خزانے رکھتی ہیں۔ حضور انور کی واقفین نو کے ساتھ کلاسوں میں سے ایسے چند حصے آئندہ صفحات میں پیش کئے جارہے ہیں جنہیں واقفین نو کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

طلباء جامعہ احمدیہ جرمنی کے ساتھ نشست
(کلاس منعقدہ 26 مئی 2012ء میں سے انتخاب)

بیت السبوح میں منعقد ہونے والی اس کلاس میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے دریافت فرمانے پر پرنسپل صاحب جامعہ احمدیہ جرمنی نے بتایا کہ طلباء کی کل تعداد 73 ہے۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا اور بعدازاں اس کا اردو اور جرمن زبان میں ترجمہ پیش کیا گیا۔ پھر درج ذیل حدیث مبارکہ پیش کی گئی:
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ہم آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ آنحضرت ﷺ پر سورۃ جمعہ نازل ہوئی جس میں یہ آیت بھی تھی

وآخرین منھم لما یلحقوابھم۔

حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ یارسول اللہ یہ کون لوگ ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے۔ آنحضور ﷺ نے اس سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔ حتیٰ کہ حضور ﷺ سے تین دفعہ پوچھا گیا۔ اسی مجلس میں سلمان فارسیؓ بھی بیٹھے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے اپنا ہاتھ حضرت سلمان فارسیؓ پر رکھ کر فرمایا! کہ اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوگا تو ان (اہل فارس) میں سے ایک شخص یا ایک سے زیادہ اشخاص اس کو پالیں گے۔ (صحیح بخاری کتاب التفسیر سورۃ الجمعہ)
اس کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود کے درج ذیل منظوم کلام میں سے چند اشعار خوش الحانی کے ساتھ پڑھ کر سنائے گئے:

مسیح وقت اب دنیا میں آیا
خدا نے عہد کا دن ہے دکھایا

بعدازاں حضرت مسیح موعودؑ کا درج ذیل اقتباس پیش کیا گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تصنیف رسالہ ’’الوصیت‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’سو اے عزیزو! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خداتعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کرکے دکھلاوے۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ خداتعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جاؤں۔ لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔ سو ضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے۔ وہ ہمارا خدا وعدوں کاسچا اور وفادار اور صادق خدا ہے۔ وہ سب کچھ تمہیں دکھائے گا جس کا اس نے وعدہ فرمایا اگرچہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی۔ میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔ سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو اور چاہئے کہ ہر ایک صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھاوے کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے۔ اپنی موت کو قریب سمجھو تم نہیں جانتے کہ کس وقت وہ گھڑی آجائے گی۔
اور چاہئے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں۔ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا۔ ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔ یہی خداتعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے اور جب تک کوئی خدا سے روح القدس پا کر کھڑا نہ ہو سب میرے بعد مل کر کام کرو۔‘‘ (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد20 ص305 تا307)
اس کے بعد خلافت کی اہمیت و برکات کے عنوان پر تقریر ہوئی۔ تقریر کے آخر پر حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا درج ذیل ارشاد پیش کیا گیا جو ہمارے لئے مشعل راہ ہے:
’’قدرت ثانیہ خدا کی طرف سے ایک بڑا انعام ہے۔ اگر قدرت ثانیہ نہ ہو تو … کبھی ترقی نہیں کرسکتا بس اس قدرت کے ساتھ کامل اخلاص و محبت اور وفا اور عقیدت کا تعلق رکھیں اور خلافت کی اطاعت کے جذبے کو دائمی بنائیں اور اس کے ساتھ محبت کے جذبے کو اس قدر بڑھائیں کہ اس محبت کے بالمقابل دوسرے تمام رشتے کمتر نظر آئیں امام سے وابستگی میں ہی سب برکتیں ہیں اور وہی آپ کے لئے ہر قسم کے فتنوں اور ابتلاؤں کے مقابلہ کے لئے ایک ڈھال ہے۔(الفضل 3 مئی 2003ء)
اس کے بعد درج ذیل ترانہ پیش کیا گیا۔ ؎

جرمن کی سرزمین تو کر شکر صد ہزار
ملتا خلافتوں کا تجھے بار بار پیار
آیا ہے ہم میں پھر سے ہمارا یہ شہر یار
لگ جائے اس کو عمر ہماری یہ کردگار
ہم ہیں خدائی فوج کے ادنیٰ سے شہسوار
لیکن خدا کا شیر ہمارا سپہ سالار
تجدید عہد کرتے ہیں راہ خدا میں ہم
قربان جان و مال کریں گے ہزار بار
عاشق ہیں تیرے گرد ہی کرتے ہیں ہم طواف
چلتا ہے سانس تجھ سے ہی اے خوشبوئے نگار
جرمن کی سرزمین تو کر شکر صد ہزار
ملتا خلافتوں کا تجھے بار بار پیار

آخر پر خلافت اتحاد کی ضامن کے موضوع پر مضمون پیش کیا گیا۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہدایات و نصائح

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے پرنسپل صاحب سے جامعہ کی لائبریری کے بارہ میں دریافت فرمایا۔ پرنسپل صاحب نے بتایا کہ جامعہ کی اپنی لائبریری نہیں ہے۔ جو یہاں بیت السبوح میں مرکزی لائبریری ہے۔ طلباء جامعہ اس سے ہی استفادہ کرتے ہیں۔ لیکن اب وہاں بعض وجوہات کی وجہ سے بیٹھ کر مطالعہ نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن طلباء کتاب Issue کرواسکتے ہیں۔ اس پر حضور انور نے فرمایا کہ جو نیا جامعہ بن رہا ہے اس میں اپنی لائبریری بنائیں۔ وہاں کامن روم وغیرہ بھی ہوگا۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے طلباء سے دریافت فرمایا کہ کتنے ہیں جو روز اخبار پڑھتے ہیں۔ آجکل اخبار میں روز آتا ہے۔ یوروکرائسز (Eurocrisis) یہ کیا چیز ہے۔ ان کا Euro اب قائم رہے گا یا نہیں۔ یونان (Greece) کے مسائل کافی بڑھ رہے ہیں اور دوسرے ممالک کے بھی مسائل ہیں جس کی وجہ سے ان لوگوں کو Euro کے بارہ میں پریشانی ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا TV پر خبروں کی دو منٹ کی Headline ہی سن لیا کرو۔ حالات کا پتہ ہونا چاہئے۔ دنیا میں کیا ہورہا ہے اس کی خبر رہنی چاہئے۔ آپ کی جرمن چانسلر جو پچھلے دنوں فرانس جاتی رہی ہے اور وہاں سے لوگ ادھر آتے رہے ہیں۔ امریکہ میں G8 کی کانفرنسیں ہوتی رہی ہیں۔ اس بارہ میں آپ لوگوں کو پتہ ہے کہ یہ کیا ہے۔ اپنے اپنے ملک کے بارہ میں تو معلومات ہونی چاہئیں۔ تبھی تو پھر یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم لوگ انٹگریٹ نہیں ہوتے ہمارے اندر سموئے نہیں جاتے۔ جذب نہیں ہوتے۔
ایک طالبعلم نے عرض کیا کہ وہ انٹگریٹ سے یہ بھی مراد لیتے ہیں کہ ہماری جو عورتیں ہیں پردہ وغیرہ نہ لیا کریں۔ جیسا کہ بیلجیم میں پچھلے دنوں یہ مسئلہ ہوا تھا۔ اس پر حضور انور نے فرمایا اس کو پھر انٹگریشن نہیں کہنا چاہئے۔ اس کو بے حیائی کہنا چاہئے۔ اگر ان کو Realize کرواؤ۔ ان سے پوچھو کہ تم انٹگریشن کو کس طرح Define کرتے ہو تو پھر یہ لوگ شرمندہ ہو جاتے ہیں۔ مان بھی جاتے ہیں۔ ہم لوگوں کو بیان کرنا نہیں آتا۔ ان سے ملتے نہیں ہیں۔ میل جول نہیں ہے۔ ہم علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ Isolate ہو کر بیٹھے ہوئے ہیں۔
ایک طالبعلم نے عرض کیا کہ ان لوگوں کی طرف سے یہ بھی اعتراض ہوتا ہے کہ جو باہر سے آئے ہیں وہ زبان نہیں سیکھتے۔ اس وجہ سے اور ملک کے حالات کا ان کو علم نہیں ہوتا۔ اس پر حضور انور نے فرمایا ملک کے حالات کا علم ہونا چاہئے۔ زبان سیکھنی چاہئے۔ جو اچھی چیزیں ہیں وہ اپناؤ۔ ہر قوم کی اچھی چیزیں بھی ہوتی ہیں۔ بری بھی ہوتی ہیں۔
حضور انور نے فرمایا میں نے یہاں پہلے بھی برلن کا جو میئر ہے یا گورنر ہے اسے بتایا تھا۔ اس کو میں نے کہا کہ ہمیں تو یہ تعلیم ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر جو اچھی چیز ہے وہ مومن کی گمی ہوئی میراث ہے تو اس کو حاصل کرنا چاہئے تو ہم تو اس اصول پہ چلتے ہیں۔ تو اس پر اس نے کہا کہ اگر یہ اصول تم لوگوں کے ہیں تو پھر تم لوگ بہت جلدی دنیا پر قبضہ کرلو گے۔ تو انٹگریشن یہ ہے۔ باقی بے حیائی تو ان کو کوئی نہیں کہ ننگے ہو جاؤ۔ ان کو بتاؤ کہ کوئی ضابطہ اخلاق بھی ہوتا ہے۔ حجاب اتارنے سے یا مختلف لباس پہننے سے کیا فائدہ ہوگا۔ اصل انٹگریشن یہ ہے کہ ملک کی بھلائی کے لئے، خیرخواہی کے لئے تم لوگوں کے پاس کیا منصوبہ ہے، تم ملک کو کیا دیتے ہو، جب ان کو سمجھایا جائے تو ان کو سمجھ آجاتی ہے۔
حضور انور نے فرمایا کہ کم ازکم میرے سے جس نے بھی بات کی ہے تو میرے سمجھانے پر وہ سمجھ گئے ہیں۔ چاہے وہ تکلفاً خاموش ہوگئے ہیں۔ لیکن بعض تکلفاً خاموش ہونے والے نہیں ہوتے۔ خاموش ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بات ٹھیک ہے۔ اس لئے آپ لوگوں کو اپنے ماحول میں، اپنے دوستوں کو بتانا چاہئے۔ ان سے بات کرنی چاہئے یہ نہیں کہ آپ جامعہ میں آگئے ہیں تو دوسروں سے بالکل ہی علیحدہ ہو جاؤ۔ جو سکول کے سٹوڈنٹس ہیں، پرانے واقف ہیں، اپنے ماحول میں پھر ہمسائے ہیں۔ ان سے رابطہ رکھو اور یہ رابطہ جب بڑھتا رہے گا تو ایک وقت میں آکے اسی سے پھر نیک فطرت نکل آئیں گے۔ جرمنی میں رہنے والے جرمنی میں اور دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے اپنے اپنے ملکوں میں اپنے ساتھی طلباء اور دوستوں سے رابطہ رکھیں اور تعلق رکھیں۔ رابطہ اس طرح بھی ہوسکتا ہے کہ ان کی کرسمس کے موقعہ پر ان کو خطوط لکھ دیئے۔ اپنی عید کے موقع پر خط لکھ دیا اور ان کو بتایا کہ ہماری عید ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔ نئے سال کی مبارکباد دے دی، تو اسی طرح تعلقات بڑھتے ہیں۔ تم لوگ علیحدہ ہوجاتے ہو تو پھر اسی پر ان کو اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ دیکھو یہ ہمارے ساتھ انٹگریٹ نہیں ہوتے۔
حضور انور کے دریافت فرمانے پر ایک طالبعلم نے بتایا کہ بریمن سے ہوں اور وہاں سکول سے Abitur کیا ہوا ہے اور میرا وہاں اپنے سکول کے دوستوں کے ساتھ رابطہ ہے۔ جب رخصتوں میں جانے کا موقع ملتا ہے تو ان سے بات چیت ہوتی ہے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا ٹھیک ہے پرانے دوستوں سے رابطہ توڑنا نہیں چاہئے۔ تمہارے پاس جو اچھی چیز ہے وہ تو کم ازکم ان کوبتاؤ۔ اگر تمہاری دوستی ہے تو دوست کے لئے تمہیں وہ چیز پسند کرنی چاہئے جو اپنے لئے پسند کرتے ہو بلکہ ہر ایک کے لئے کرنی چاہئے تو اسی طرح رابطے بڑھیں گے اور تم لوگوں کو عادت پڑے گی۔
ایک بلغارین طالبعلم سے حضور انور نے دریافت فرمایا کہ کیا مضمون مشکل ہے جس پر موصوف نے بتایا کہ انگریزی مشکل ہے۔ حضورانور نے فرمایا تمہیں بلغارین تو آتی ہے تو بس پھر ٹھیک ہے۔ موصوف نے یہ بھی بتایا کہ قرآن کریم بھی مشکل لگتا ہے۔ اس پر حضور انور نے فرمایا یہ خواہ مشکل ہو یا آسان یہ تو پڑھنا ہی ہے۔ جو بلغارین ترجمہ ہے وہ پڑھا کرو اور اس پر غور کیا کرو۔
قرآن کریم کے حوالہ سے حضور انور نے فرمایا آجکل یہاں آپ کی بڑی Controversy چل رہی ہے۔ قرآن کریم کے ایک لفظ پر کافر اور منکر کے ترجمہ میں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مختلف پہلوؤں سے جرمن ترجمہ کا جائزہ لیا اور اس بارہ میں انتظامیہ کو ہدایات دیں۔
نیز حضور انور نے طلباء جامعہ کے حوالہ سے فرمایا کہ اگلے پانچ سال میں ان میں سے کچھ اگر زبان دان بہتر ہو گئے یا موجودہ لڑکے جو یوکے جامعہ سے نکل رہے ہیں۔ بشرطیکہ ان کو عربی صحیح طرح آجائے اور وہ اس میں عبور حاصل کرلیں تو اس کے بعد پھر دوبارہ کسی وقت یہ ترجمہ Revise ہو یا بہتر طور پر اس کا مشورہ دیا جاسکے۔ بہرحال عربی زبان کے مقابلہ میں کوئی بھی زبان نہیں ہے جو متبادل پیش کرسکے۔ پوری طرح اس کا حق ادا کرسکے۔ جب حق ادا نہیں ہوسکتا تو پھر جو قریب ترین ہے اس کے، وہیں آپ نے رہنا ہے۔

…٭…٭…٭…٭…

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/g3Nky]

اپنا تبصرہ بھیجیں