نونہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے (نمبر5)

(مطبوعہ رسالہ اسماعیل اپریل تا جون 2013ء)

نونہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے (نمبر5)
(کاوش: فرخ سلطان محمود)

سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے واقفین نو بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے مختلف پہلوؤں سے اُن کی راہنمائی کا سلسلہ جاری فرمایا ہوا ہے۔ اس میں اجتماعات اور اجلاسات سے خطابات، پیغامات کے ذریعہ ہدایات، رسائل کا اجراء اور وقف نو کلاسوں کا انعقاد بھی شامل ہے۔ مستقبل کے احمدی نونہالوں کی تعلیم و تربیت کا یہ سلسلہ اُس وقت بھی جاری رہتا ہے جب حضور انور کسی ملک کے دورہ پر تشریف لے جاتے ہیں۔ وہاں کے واقفین نو بھی یہ سعادت حاصل کرتے ہیں کہ براہ راست حضور انور کی رہنمائی سے فیض حاصل کرسکیں۔ ان واقفین نو کو کلاسوں کے دوران حضورانور جن نہایت اہم نصائح سے نوازتے ہیں اور جو زرّیں ہدایات ارشاد فرماتے ہیں وہ دراصل دنیا بھر میں پھیلے ہوئے واقفین نو کے لئے بیش بہا رہنمائی کے خزانے رکھتی ہیں۔ حضور انور کی واقفین نو کے ساتھ کلاسوں میں سے ایسے چند حصے آئندہ صفحات میں پیش کئے جارہے ہیں جنہیں واقفین نو کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

جرمنی کے واقفینِ نَو کے ساتھ کلاس
(انتخاب از کلاس منعقدہ 8 ؍دسمبر 2012ء بمقام ہمبرگ)

واقفین نَو کی اس کلاس میں 12 سا ل سے بڑے 210واقفین نے شمولیت کی سعادت پائی۔
تلاوت قرآن کریم اور اس کے اردو ترجمہ کے بعد یہ حدیثِ مبارکہ پیش کی گئی کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ چٹائی پر لیٹنے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کے جسم پر نشانات تھے۔ مَیں نے یہ دیکھ کر عرض کیا: ہماری جان آپؐ پر فدا ہو اگر آپؐ اجازت دیں تو ہم اس چٹائی پر کوئی گدیلا وغیرہ بچھا دیں جو آپؐ کو اس کے کھردرے پن سے بچائے۔ یہ سن کر آنحضور ﷺ نے فرمایا:

’’مَا اَنَا وَالدُّنْیَا‘‘

مجھے دنیاوی لذتوں سے کیا غرض؟ مَیں تو صرف ایک مسافر کی طرح ہوں جو کچھ دیر سستانے کی غرض سے سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ جاتا ہے اور پھر اسے چھوڑ کر اپنے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔ (ابن ماجہ)
=…بعد ازاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ اقتباس پیش کیا گیا جو اِس شمارہ کے صفحہ 5 پر درج ہے۔ اور پھر حضرت مصلح موعود ؓکی یہ نظم پڑھی گئی:

حالات پر زمانے کے کچھ تو دھیاں کرو
بے فائدہ نہ عمر کو یوں رائیگاں کرو
شیطاں ہے ایک عرصہ سے دنیا پہ حکمراں
اٹھو اور اٹھ کے خاک میں اس کو نِہاں کرو
دکھلاؤ پھر صحابہ سا جوش و خروش تم
دنیا پہ اپنی قوتِ بازو عیاں کرو
پھر آزماؤ اپنے ارادوں کی پختگی
پھر تم دلوں کی طاقتوں کا امتحاں کرو
پھر تم اٹھاؤ رنج و تَعَبْ دیں کے واسطے
قربان راہِ دینِ محمدؐ میں جاں کرو
ہاں ہاں اُسی حبیبؐ سے پھر دل لگاؤ تم
پھر منعمین لوگوں کے انعام پاؤ تم

=… اس کے بعد درج ذیل مضمون پیش کیا گیا:

تحریک وقف نو کے پچیس سال

خدا کی راہ میں زندگیاں وقف کرنے کی تاریخ مذاہب کی دنیا میں بہت پرانی ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے بڑی مثال تو خود انبیاء علیہم السلام نے اور ان کی اتباع میں ان کے خلفاء اور صحابہ کرام نے قائم کی۔ جماعت احمدیہ کے آغاز سے ہی بہت سے صحابہؓ کو اسلام احمدیت کے لئے زندگیاں وقف کرنے کی توفیق ملی۔ بعد ازاں مختلف ادوار میں اس مبارک راہ کی طرف توجہ دلانے کے لئے خدا تعالیٰ کے حکم سے خلفاء کرام نے کئی تحریکیں جاری فرمائیں جن میں وقف زندگی، وقف عارضی، وقف اولاد اور وقف بعد از ریٹائرمنٹ جیسی تحریکات شامل تھیں۔ ان تمام تحریکات میں ہزاروں احمدیوں کو شامل ہو کر خداتعالیٰ کے انعامات سے حصہ پانے کی سعادت حاصل ہوئی۔
جماعت احمدیہ کی دوسری صدی کے آغاز سے قبل آئندہ ہونے والی جماعتی ترقیات کی تیاری کیلئے خدا تعالیٰ نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی توجہ ایک اہم تحریک کی طرف مبذول کروائی۔ آپؒ نے 3؍اپریل 1987ء کو تحریک وقف نَو کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:
’’ مجھے خدا نے یہ توجہ دلائی ہے کہ مَیں آپ کو بتا دوں کہ آئندہ دو سال کے اندر یہ عہد کرلیں کہ جس کو بھی جو اولاد نصیب ہو گی وہ خدا کے حضور پیش کر دے‘‘۔
نیز فرمایا: ’’اگلی صدی میں واقفین زندگی کی شدید ضرورت ہے کہ جماعت کے ہر طبقہ سے لکھوکھہا کی تعداد میں واقفین زندگی اِس صدی کے ساتھ ہم دراصل خدا کے حضور تحفہ پیش کر رہے ہوں گے لیکن استعمال تو اُس صدی کے لوگوں نے کرنا ہے بہر حال۔ تو یہ تحفہ ہم اس صدی کو دینے والے ہیں اِس لئے جن کو بھی توفیق ہے وہ اِس تحفے کے لئے بھی تیار ہو جائیں۔‘‘
اس تحریک کا مقصد بیان کرتے ہوئے حضورؒ نے فرمایا: ’’آئندہ صدی میں ایک عظیم الشان واقفین بچوں کی فوج ساری دنیا سے اِس طرح داخل ہورہی ہو کہ وہ دنیا سے آزاد ہو رہی ہو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کی غلام بن کے اس صدی میں داخل ہو رہی ہو۔ چھوٹے چھوٹے بچے ہم خدا کے حضور تحفہ کے طور پر پیش کر رہے ہوں۔ اور اِس وقف کی شدید ضرورت ہے۔ آئندہ سوسالوں میں جس کثرت سے اسلام نے ہر جگہ پھیلنا ہے وہاں تربیت یافتہ غلام چاہئیں جو محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کے غلام ہوں۔ واقفین زندگی چاہئیں کثرت کے ساتھ اور ہر طبقۂ زندگی سے واقفین زندگی چاہئیں۔ ہر ملک سے واقفین زندگی چاہئیں۔‘‘
اس عظیم الشان تحریک کے آغاز سے ہی حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اپنی خدا داد فراست سے اس تحریک میں شامل ہونے والے بچوں کی دینی و دنیاوی تعلیم و تربیت کے لئے تفصیلی ہدایات فرمائیں۔ چنانچہ 1989ء میں چار خطباتِ جمعہ (10 فروری، 17 فروری، 8 ستمبر اور یکم دسمبر کو) ارشاد فرمائے جن میں ان بچوں کی پیدائش سے بہت پہلے سے لے کرآئندہ کے تمام تربیتی مراحل کے لئے تفصیلی نصائح فرمائیں۔ نیز انتظامی لحاظ سے جماعت میں وقف نو کا شعبہ بھی قائم فرمایا جس کے انچارج مکرم چوہدری محمد علی صاحب کو مقرر فرمایا۔ 1992ء میں باقاعدہ وکالتِ وقف نَو کا قیام عمل میں آیا اور محترم چوہدری محمد علی صاحب ہی پہلے وکیل وقف نو مقرر ہوئے۔ آج کل مکرم سید قمر سلیمان صاحب وکیل وقف نَو ہیں اور لندن میں اس مرکزی شعبہ کے انچارج مکرم ڈاکٹر شمیم احمد صاحب ہیں۔ یہ تحریک شروع میں صرف دو سال کے لئے تھی لیکن احباب جماعت کی خواہش پر اس میں مزید دو سال کا اضافہ فرما دیا اور بعد میں حضورؒ نے اس تحریک کو مستقل حیثیت دے دی۔
خلافت خامسہ کے آغاز میں یہ تحریک اپنی عمر کے 16 سال پورے کر چکی تھی۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ پیارے آقا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آغاز خلافت سے ہی واقفین و واقفات نَو پراپنا دستِ شفقت رکھا اور وقف نَو کلاسز کا آغاز فرمایا۔ آپ نے نہ صرف ایم ٹی اے پر واقفین نَو کے لئے کلاسز جاری فرمائیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں جہاں بھی آپ دورہ پر تشریف لے گئے وہاں واقفین نَو و واقفات نَو پر شفقت فرماتے ہوئے انہیں اپنے ساتھ کلاسز میں شامل ہونے کے اعزاز سے نوازا۔
حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 27؍ جون 2003ء اور 22؍ اکتوبر 2010ء کو وقف نو کے موضوع پر خطبات جمعہ بھی ارشاد فرمائے۔ جن میں والدین کو تربیت اولاد کی طرف متوجہ کیا اور واقفین اور واقفات نو کو اُن کی ذمہ داریوں سے آگاہ فرمایا۔ وقف نَو کلاسز میں آپ نے نہ صرف پنجوقتہ نماز، تلاوت قرآن کریم ، مطالعہ کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دوسرے تربیتی امور کی طرف توجہ دلائی بلکہ ان کی دنیاوی تعلیم کے بارہ میں بھی رہنمائی کی کہ اُن کو کونسے مضامین اختیار کرنے چاہئیں اور کونسی تعلیم حاصل کرنی چاہئے۔
آج تقریباً پچاس ہزار واقفین نَو کی ایک بڑی تعداد پوری دنیا میں مختلف ممالک میں پھیلی ہوئی ہے اور پچیس سال گزرنے کے بعد ایک نسل جوان ہو کر خدمت دین کے میدان میں اتر رہی ہے۔ الحمدللہ علیٰ ذالک۔
اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پیارے آقا کی ہدایات کو حرزِ جان بنائیں۔ اب ہم اپنی عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں تعلیم سے فارغ ہوکر جلد ہی خدمت دین کے میدان میں اترنے والے ہیں۔اب وہ وقت آرہا ہے جب ہمیں نظام جماعت کی توقعات اور والدین کی خواہشات پر پورا اترنا ہے۔اب ہمیں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی طرح نہ صرف یہ کہنا ہے کہ یٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَاتُؤْمَرُ (الصفت:103) بلکہ ان کی سنت پر چلتے ہوئے اسے عمل میں بھی ڈھالنا ہے۔ اللہ کرے کہ ہم میں سے ہر ایک اس قابل ہو سکے کہ وہ اسلام احمدیت کی اعلیٰ خدمت بجا لانے والا ہو۔
=…اس کے بعد درج ذیل مضمون پیش کیا گیا:

واقفین نَو اور خدمت دین

حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒ نے تحریک وقف نَو کا مقصد یہ بیان فرمایا تھا کہ ’’آئندہ سوسالوں میں جس کثرت سے اسلام نے ہر جگہ پھیلنا ہے وہاں تربیت یافتہ غلام چاہئیں جو محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کے غلام ہوں‘‘۔ الحمدللہ کہ احبابِ جماعت احمدیہ جرمنی کو بھی تحریک کے آغاز سے ہی اپنی اولاد خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کرنے کی توفیق حاصل ہوئی۔ اور اب خداتعالیٰ کے فضل سے محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کے ان غلاموں کی تعداد ساڑھے چار ہزارسے زائد ہو چکی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ میری خواہش ہے کہ پوری دنیا سے ایک پانچ ہزاری فوج تیار ہو جائے۔ آج خدا تعالیٰ نے پوری دنیا میں اس پانچ ہزار کو جہاں پچاس ہزار میں بدل دیا ہے وہاں صرف ایک ملک جرمنی میں ہی پانچ ہزاری فوج تیار ہونے والی ہے۔

ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ (المائدہ:54)

خلافت کے پروانوں یعنی جرمنی کے احباب جماعت کو ہر سال تقریباً 180 بچے خلیفۂ وقت کے حضور پیش کرنے کی سعادت مل رہی ہے۔ اس طرح اس وقت جرمنی میں شعبہ وقف نو کی تجنید 4592 ہو چکی ہے جن میں1968 واقفات نواور 2624 واقفین نو ہیں۔ ان واقفین نَو میں 1085 خدام شامل ہیں۔ اس وقت 70 سے زائد واقفین نَو کو جرمنی ، یوکے اور کینیڈا کے جامعاتِ احمدیہ میں تعلیم حاصل کرنے کی توفیق مل رہی ہے اور ان میں سے چند ایک تو خدمت کے عملی میدان میں بھی قدم رکھ رہے ہیں۔ اس طرح دو سو سے زائد واقفین نَو یونیورسٹیز میں مختلف مضامین میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن میں 16 میڈیکل کی تعلیم، 39 انجینئرنگ ، 13سائنس، 42 کامرس، 21 کمپیوٹر، 10 لائ، 7 آرکیٹیکٹ، اسی طرح 7 میڈیا، 8 اسلامک سٹڈی، 4 ٹیچنگ اوراسی طرح بہت سے دوسرے مضامین میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ نیز تقریباً 160 واقفین نَو مختلف قسم کی ٹیکنیکل تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
اِن ہزار سے زائد خدام میں سے نوّے فیصدی سے زائدواقفین نَو تجدید وقف کر کے والدین کے عہد کو نبھاتے ہوئے خود آزادانہ فیصلہ کے ساتھ خدا اور محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا جُوآ اپنی گردنوں میں ڈال چکے ہیں۔ اور اس بات کا عہد کر چکے ہیں کہ خلیفۂ وقت جو بھی اور جہاں بھی خدمت کے لئے فرمائیں گے وہ اسے اپنی سعادت مندی سمجھیں گے۔
اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ بہت سے واقفین نو کو جماعتی اور ذیلی تنظیم میں خدمت دین کی توفیق مل رہی ہے جن میں نمایاں موجودہ صدر خدام الاحمدیہ، نائب صدر اور نیشنل عاملہ کے تین ممبران کے علاوہ بہت سے قائدین مجالس اور ناظمین شامل ہیں۔ پھر واقفین نَو کی ایک بڑی تعداد دینی تعلیم کی طرف بھی توجہ کر رہی ہے۔ 4 سال سے بڑے واقفین نو سے مقررہ نصاب کا ہر سال جائزہ لیا جاتا ہے۔ امسال سالانہ جائزہ میں 985 واقفین نَو نے شرکت کی۔
دنیا بھر میں ہونے والی وقف نو کلاسز ایم ٹی اے پر نشر ہوتی ہیں۔ ان میں حضورپر نور ہم واقفین نو کے لئے ہدایات فرماتے رہتے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان نصائح کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں اور ان پر عمل کرنے والے ہوں۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی واقفین نو کو ہدایات

اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے واقفین نَو کو مخاطب ہوتے ہوئے بعض ہدایات سے نوازا اور اُن کے سوالا ت کے جوابا ت بھی عطا فرمائے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا پروگرام تو بڑا اچھا تھا لیکن میرا خیال ہے کہ سمجھ کم لوگو ں کو ہی آئی ہوگی کیونکہ اُردو میں سمجھ نہیں آتی۔ پہلی بات تو یہ کہ جو تلاوت کی گئی ہے اس میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی مثال بچپن کی دی گئی کہ انہوں نے اپنے ابّا یعنی باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ کہا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میری قربانی کرو اسی طرح کر دو۔ اب یہ قربانی کا جذبہ ہر بچے میں اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب آپ لوگ کچھ تھوڑی سی تاریخ سے بھی واقفیت رکھیں اور تاریخ پڑھیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایاکہ: کن کن بچوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی کہانی پڑھی ہے۔اس پر بچوں نے ہاتھ کھڑے کئے تو حضور انور نے فرمایا:
چار پانچ نے پڑھی ہے تو پتہ کیا لگے گا۔ بہرحال پہلی بات تو یہ ہے کہ اس وقت وقف نَو کے لئے مرکزی طور پر مَیں نے ’’اسماعیل‘‘ نام سے رسالہ شروع کروایا ہے اور اس کا’’اسماعیل‘‘ نام اسی وجہ سے رکھا ہے۔ اب تو اس کا تیسرا ایڈیشن بھی آرہا ہے۔ وہ رسالہ یہاں آنا چاہئے اور اس کے مضامین منگوا کر یہاں بھی شائع کرنا چاہئیں۔ آدھا حصہ جرمن زبان میں اور باقی حصہ اُردو زبان میں شائع ہو، تاکہ اِن بچوں کو بھی پتہ لگے کہ واقفین نو کی کیا اہمیت ہے۔ یہ رسالہ صرف U.K کے لئے نہیں بلکہ مَیں نے کہا ہے کہ ساری دنیا کو بھیجا کریں۔
حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا: یہ جو سارا آج پروگرام تھا پہلے تو قرآن کریم کی تلاوت تھی اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانیوں کا ذکر ہے خاص طور پہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا ذکر ہے۔ پھر حدیث پیش ہوئی جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرا حال تو یہ ہے جس طرح ایک انسان ایک مسافر پیدل جارہا ہو سفر کر رہا ہو۔ آجکل تو سفر کے بہت ذریعے ہیں کار میں بیٹھ جاتے ہو، جہاز میں بیٹھ جاتے ہو، ٹرین پر بیٹھ جاتے ہو۔ پرانے زمانے میں یا گھوڑوں پر سفر کرتے تھے یا اونٹوں پر سفر کرتے تھے اور وہ بھی ریگستان میں دور دور تک درخت کوئی نہیں ہوتا تھا۔ عربوں کی یہی مثال دی ہے کہیں درخت نظر آجاتا تھا سایہ ہوتا تھا تو وہاں سفر کرتے کرتے اس سائے میں بیٹھ کے سستا لیتے تھے۔ تمہارے یہاں سردیاں ہوں برف پڑ رہی ہو تو ہیٹنگ آن کر لیتے ہو۔ گرمیاں آئیں تو ایئر کنڈیشن آن ہو جاتے ہیں، پنکھے چل جاتے ہیں لیکن اس زمانہ میں پنکھے نہ تھے تو اُس زمانہ کی مثال آنحضرت ﷺ نے دی ہے کہ دیکھو تم سفرکر رہے ہو دھوپ تیز ہو Desert (صحرا) ہو ریت کی گرمی ہو اور تم تھکے ہوئے ہوتو جب کوئی درخت نظر آتا ہے تو اس کے سائے کے نیچے تھوڑا سا آرام کرتے ہو پھر چل پڑتے ہو۔ تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری زندگی تو ایسے ہے میں تو دنیا کی جو چیزیں ہیں دنیا کے آرام اور آسائشیں ہیں سہولتیں ہیں ان سے میرا کوئی تعلق نہیں اس لئے مَیں تو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے کے لئے دنیا میں آیا ہوں۔ انسان کو محبت و پیار سکھانے کے لئے دنیا میں آیا ہوں اور یہ میرا مسلسل سفر ہے۔ رات کو سوتا ہوں آرام کرتا ہوں دوپہر کو بیٹھتا ہوں تو یہ اسی طرح ہے جس طرح ایک مسافر چلتے چلتے تھوڑی دیر درخت کے نیچے آرام کرے اور پھر آگے روانہ ہو جائے۔
حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا: تو یہ چیزیں ذہن میں رکھنی چاہئیں کہ آنحضرت ﷺ نے کس طرح اپنی جان کو لوگوں کی ہدایت کے لئے ہلکان کیا۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے ہلاک نہ کر اپنی جان کو کہ یہ ایمان نہیں لاتے۔ آنحضرت ﷺ کی ایسی حالت ہو گئی تھی اور آپ کی یہ خواہش تھی کہ ساری دنیا اللہ تعالیٰ کو ماننے والی ہو جائے، عبادت کرنے والی ہو جائے نمازیں پڑھنے والی ہو جائے، بتوں کو چھوڑ دے تو اس کی خاطر بے چین ہوتے تھے دعائیں کرتے تھے اور کوشش کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ کسی کو ہدایت دینا میرا کام ہے، تمہارا کام صرف تبلیغ کرنا ہے ۔ ہاں بے شک تبلیغ کرو لیکن اتنی بھی فکر نہ کرو کہ اپنے آپ کو ہلاک کر لو ،مار ہی لو کہ یہ کیوں مسلمان نہیں ہوتے۔
حضور انور نے فرمایا: تو یہ اب واقفین زندگی کا بھی کام ہے۔ تمہاری خاص Percentage ایسے لوگوں کی ہونی چاہئے جو جامعہ میں جانے والے ہوں۔ مبلغین بھی بنیں۔ ایک تو عمومی طور یہ واقفین زندگی ہیں واقفین نَو ہیں جس میں سے انجینئر بھی بن رہے ہیں ڈاکٹر بھی بن رہے ہیں ،لائرز بھی بن رہے ہیں لیکن کچھ لوگ جامعہ میں جانے والے ہونے چاہئیں۔ اب آہستہ آہستہ جامعہ میں جانے والوں کی تعداد کم ہو رہی ہے جبکہ مبلغین کی ہمیں زیادہ سے زیادہ تعداد چاہئے ۔جرمنی میں کتنے شہر ہیں؟ کتنے قصبے ہیں؟ ہزاروں میں ہوں گے۔ اب ہر جگہ ایک مبلغ بھیجنا ہو تو ہم نہیں بھیج سکتے۔ ہمارے پاس زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس مبلغ ہیں۔ ایک ریجن میں ایک مبلغ بیٹھا ہوتا ہے۔ ہمبرگ میں مبلغ ہیں تو سارے علاقے کو cover کر رہے ہیں حالانکہ یہاں سے مہدی آباد تک جائو تو تین شہر راستہ میں آجاتے ہیں۔ ہر جگہ ایک مربی بیٹھنا چاہئے مبلغ ہونا چاہئے اور صرف جرمنی نہیں ساری دنیا کا ہمارا میدان ہے۔ کوشش کرو کم از کم 20 فیصد جو واقفین نَوہیں وہ جامعہ میں جانے والے ہوں۔ اسی طرح ڈاکٹر ہیں ان کی بھی ایک خاص پرسنٹیج ہونی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ تمہارے میں سے ایسے لوگ ہو نے چاہئیں جو دین کا علم حاصل کریں اور دین کا علم حاصل کرکے پھر اس کو اپنے اپنے علاقے میں پھیلائیں یا ویسے تبلیغ کریں۔ تو یہ تبلیغ کا ایک بہت بڑا کام ہے جو ہمارے سپرد ہے۔ اس طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔ نہیں تو آٹھ دس لڑکے ہر سال جامعہ میں آتے ہیں تو فائدہ کوئی نہیں ہوگا۔
واقفین زندگی کی سب سے بڑی چیز وفا ہے
حضور انور نے فرمایا:پھر آگے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اقتباس پڑھا گیا جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی اور وفاداری کی مثال دی گئی ہے کہ سب سے بڑی چیز وفاداری ہے۔ قرآن کریم میں لکھا ہے:

اِبْرَاہِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی۔

ابراہیم وہ تھا جس نے وفا کی۔ وفا کیا ہے؟ وفا یہ ہے کہ جو وعدہ کیا ہے اس کو پورا کرو۔ وفا یہ ہے کہ اب اس زمانے میں خداتعالیٰ کا اتنا بڑا انعام ہے۔ مَیں نے بتایا ہے کہ پرانے زمانے میں نہ کوئی سہولت تھی نہ کوئی پانی ہوتا تھا ،نہ بجلی تھی، نہ پنکھا تھا، نہ ہیٹنگ تھی سردی ہے تو اس میں آگ جلانی پڑتی تھی لکڑیاں اکٹھی کرکے اگر وہ بھی مل جائیں اور گرمیاں ہوں تو جیسا بھی پانی ملے وہ بڑی نعمت لگا کرتی تھی۔ آجکل اتنا سب کچھ ہے، اللہ تعالیٰ سے وفاداری کا تقاضا ہے کہ ان نعمتوں کا بھی شکر ادا کرو۔ اور سب سے زیادہ ہر احمدی کو ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہئے اور یہ وفاداری واقفین نو کی یہ ہے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنی کبھی نہ بھولیں۔ پھر جس مقصد کے لئے ماں باپ نے وقف کیا ہے اس کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ اس دنیا میں رہتے ہوئے یہاں کی سہولتوں کو، آرام کو آسائش کو دیکھ کے بھول نہ جائیں کہ ہمارے کچھ اللہ تعالیٰ سے وعدے بھی ہیں ان کی وفا کرنی ہے۔ بلکہ ہر جو سہولت ملتی ہے، ہر آرام جو تم دیکھتے ہو، پڑھائی میں اگر اچھے ہو سکولوں میں پڑھ رہے ہو، تعلیم میں آگے جار ہے ہو۔ اللہ تعالیٰ کا مزید شکر کرتے ہوئے دین کی طرف زیادہ لگائو ہونا چاہئے بجائے اس کے کہ دنیا کی طرف لگائو ہو۔ واقفین زندگی کی سب سے بڑی چیز وفا ہے۔
پھر نظم یہاں پڑھی گئی جس میں حضرت مصلح موعود ؓ نے کہا کہ زمانہ کے حالات بڑے مشکل ہیں۔ آپ کی ایک اور نظم ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ ؎

جدھر دیکھو ابر گنہ چھا رہا ہے
گناہوں میں چھوٹا بڑا مبتلا ہے

پس اتنا زیادہ گناہ ہے دنیا میں، میڈیا ہے، انٹرنیٹ ہے، ٹی وی کے پروگرام ہیں، چیٹنگ ہے، ویب سائیٹس ہیں، Facebook ہے اور بھی بہت ساری چیزیں ہیں ان سب میں نیکی کی کم تعلیم ہوتی ہے گناہوں کی زیادہ باتیں ہوتی ہیں۔ تو ان چیزوں سے خود بھی بچنا اور دوسروں کو بچانا واقفین نَو کا کام ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا ہے کہ شیطان ایک عرصے سے حکمران ہو رہا ہے۔ اب تمہارا کام ہے جو احمدی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو مان لیا ہے اس شیطان سے اپنے آپ کو بھی بچائو اور دنیا کو بھی بچائو۔ یہ بہت بڑا کام ہے بہت بڑی ذمہ داری ہے جو واقفین نَو کی لگائی گئی ہے۔
پھر واقفین نَو کے حوالہ سے جو باقی مضامین ہیں مختصر یہ کہ ہر واقف نَو یہ عہد کرے کہ مَیں نے ایک تو اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ وفا کرنی ہے اور وفا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لئے مجھے پیدا کیا ہے وہ کیا ہے؟ اس کی عبادت کرنا۔ کبھی اپنی پانچ نمازیں نہیں چھوڑنی۔ میرے سامنے جتنے بچے بیٹھے ہوئے ہیں دس سال سے بڑی عمر کے ہیں۔ جو چھوٹے سے چھوٹا ہے وہ بھی دس سال سے اوپر ہے۔ اور دس سال کی عمر وہ ہے جس میں نمازیں فرض ہو جاتی ہیں۔ اور اس میں توکوئی رعایت نہیں ہے بلکہ دس سال کے بعد سختی کرنے کا حکم ہے ایک دو سال تک ماں باپ کوئی ایک آدھ چپیڑ مار بھی دیں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی تو برداشت کر لیا کرو۔ اور جو جوان ہیں انہیں خود ہوش ہونی چاہئے۔ بارہ سال کے جو ہو جاتے ہیں پانچ نمازیں جو فرض ہیں ان کو پڑھنا ضروری ہے۔سکول میں جاتے ہو آجکل سردیاں ہیں اور وقت نہیں ملتا یا تو سکول والوں سے کہو کہ ایک ڈیڑھ بجے جو بریک ہوتی ہے اس میں وقت دے دیں کہ ہم نماز پڑھ لیں۔ سکول میں دونوں نمازیں جمع کر لیا کرو کیونکہ ساڑھے تین پونے چار کے بعد تو نماز کا وقت ہی نہیں رہتا۔ اس لئے نمازوں کو کبھی نہ چھوڑو۔ پانچوں نمازیں پوری پڑھنی ہیں۔
دوسرے وفا کا تقاضا ہے کہ دین کا علم سیکھو اور دین کا علم قرآن کریم پڑھنے سے آتا ہے۔ جو بڑے ہوگئے ہیں وہ بھی ہمیشہ یاد رکھیں کہ گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہئے جب تک آپ قرآن کریم کی تلاوت نہ کر لیں۔ کم از کم ایک رکوع ہر روز پڑھا کریں چاہے تھوڑا وقت ہی ہو۔ پھر وفا کا تقاضا یہ ہے کہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا ہے ان سے ایک مضبوط تعلق پیدا کرو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ تمام دنیاوی رشتوں سے زیادہ میرے سے رشتۂ محبت پیدا کرو۔ اور اس کا طریقہ یہی ہے کہ آپؑ کی کتابیں پڑھو۔ جو کتابیں جرمن میں ترجمہ ہو گئی ہیں ان کو پڑھو، جو نہیں ہیں وہ ماں باپ سے کہو کہ پڑھ کر سنائیں۔ تمہارے ساتھ ساتھ ماں باپ کو بھی پڑھنے کا شوق پیدا ہو جائے گا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے یہ بہت خوبصورت بات کہی ہوئی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام وہ شخص ہیں جن پر فرشتے اترتے تھے اور آپؑ کی کتابیں وہ ہیں جو اس طرح فرشتوں کی راہنمائی میں لکھی گئیں، اللہ تعالیٰ کی راہنمائی میں مکمل کی گئیں ۔آپؑ پر فرشتے اترتے تھے اور جو لوگ ان کو پڑھتے ہیں اگر سنجیدہ ہو کر پڑھیں تو ان پر بھی فرشتے اترنے لگ جاتے ہیں یعنی ان کو نیکیوں کی طرف تلقین کرتے ہیں۔ پس جو اثر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی کتابوں کا ہے وہ کسی اَور کا نہیں ہوسکتا۔
حضور انور نے فرمایا:آپ لوگ بڑے ہو گئے ہیں۔ آپ میں سے ہر ایک کو سو فیصد کورس (نصاب) مکمل کرنا چاہئے۔ اور وہ معمولی سا کورس ہے۔ اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھیں۔ قرآن کریم کی کمنٹری ہے۔ انگلش جن کو پڑھنی آتی ہے وہ انگلش میں Volum 5 کمنٹری پڑھیں۔ چھو ٹے بچے جو ہیں وہ ترجمہ سیکھنے کی کوشش کریں۔ مَیں نے وقف نو U.K کے اجتماع میں کافی ساری ہدایات دی تھیں وہ بھی جرمن میں اوراُردو میں پرنٹ کرواکر آپ کو سامنے رکھنے چاہئیں۔ دو مختلف اجتماعوں میں ہدایات دے چکا ہوں۔ پس ان پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔
جس طرح آپ بڑے ہوتے جا رہے ہیں آپ لوگوں کی ذمہ داریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ وفا کا معیار جو ہے وہ بڑھتا چلا جانا چاہئے۔
=… ایک واقف نو نے کہا کہ آئندہ میں ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں۔ میرے لئے دعا کریں۔ اس پر حضور انور نے فرمایا: ماشاء اللہ۔ ڈاکٹر بننے کے لئے کیمسٹری اور بائیالوجی میں دلچسپی ہونی چاہئے۔
=…ایک بچے کی طرف سے یورپین پارلیمنٹ میں کئے جانے والے خطاب سے متعلق تأثرات کے بارہ میں سوال پر جواب دیتے ہوئے حضورانور نے فرمایا: مَیں خطاب کرنے کے بعد نکل کر سیدھا جرمنی میں آگیا۔ لیکن بہرحال جو دو تین مجھے پتہ لگے ہیں وہ یہی ہیں کہ انہوں نے کہا ہے کہ بڑاا چھا ہے۔ ایک تأثر یہ بھی تھا کہ یہ Message جو یورپ کو دیا ہے بڑا Bold Message ہے ہمت والا Message ہے اور اس کی ضرورت بھی تھی۔ جو تین Message تھے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے ا س بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ دنیا متحد ہوجائے۔ کرنسی اور فری بزنس اور ٹریڈ میں بھی دنیا کو ایک ہونا چاہئے۔ اور امیگریشن میں بھی ایسی پالیسیاں بنیں کہ دنیا ایک ہوجائے۔ CNN نے اپنی ویب سائٹ پر یہ تینوں باتیں لکھ کر ساتھ نام لکھ کر اور میری تصویر دے کر اس پر لکھ دیا ہے Quote of the day اتنی اہمیت دی ہے۔ تو باقی تأثرات لوگوں کے اچھے ہی ہیں۔
=…ایک بچے کے مالی بحران کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: جو کوششیں ہو رہی ہیں ان میں یہ لوگ کتنے Sincere ہیں اس کو میں نے Capitol Hill امریکہ میں ان کی کانگرس کے لیڈرز کے سامنے جو ایڈریس کیا تھا اس میں ان کو کہا تھا کہ تمہاری جو طاقتوں کی کوششیں ہیں ٹھیک نہیں ہیں۔ اسی طرح تھوڑا سا اشارہ میں نے یورپین پارلیمنٹ میں بھی کیا۔ ان کو بھی میں نے کہا تھا کہ تمہاری کوششیں کیا ہیں۔ تم لوگ صحیح طرح کسی کی مدد نہیں کرتے۔ مجھے بتائو اگر تم اپنی کوششوں میںSincere ہوتے تو امریکہ میں مَیں نے ان کو یہ کہا تھا کہ کوئی ایک غریب ملک مجھے دکھائو جس کو تم نے ا س کی Economy کو بہتر کرنے کی سنجیدگی سے کوشش کی ہو اور وہ Developed Nation میں تمہارے مقابل پر آگئی ہو۔ کوششیں اسی طرح کرتے ہیں، عراق میں Development ہو رہی تھی، عراق بڑی ترقی کر رہا تھا تو وہاں بمبارمنٹ کرکے تباہ کر دیا ۔تیل پر قبضہ ہو گیا۔ لبنان اس سے پہلے ترقی کر رہا تھا، بیروت ترقی کے لحاظ سے پیرس بن جاتا۔ ٹھیک ہے بے حیائی کے لحاظ سے نہ بنتا۔ تو اس کو تباہ کر دیا اس سے پہلے ۔پھرقاہرہ ترقی کر رہا تھا اس کو بھی تباہ کردیا۔ جو غریب ملک ترقی کر رہے ہیں ان کو ترقی کرنے نہیں دیتے۔ اسی طرح میں نے ان کو یہ بھی کہا تھا کہ یہ بتائو کہ تم لوگ کہتے ہو کہ وہاں کی حکومتیں کرپٹ ہیں ٹھیک ہے حکومتیں بھی کرپٹ ہیں جو صحیح نہیں کرتیں لیکن تم ان حکومتوں کی کرپشن کو دیکھتے ہوئے بھی کہ وہ کرپٹ ہیں پھر بھی ان کی مدد کرتے رہے۔ جب تک تمہاری ڈکٹیشن پر وہ چلتے رہے تمہاری مرضی سے وہ چلتے رہے تم ان کی مدد کرتے رہے جب انہوں نے تمہاری مرضی قبول کرنی بند کر دی توچھوڑ دیا۔ یہی حال اب Syria (شام) میں ہو رہا ہے۔ یہ لوگ تو Sincere ہیں ہی نہیں۔ باقی بات وہی ہے جو آپ نے کی ہے کہ جب ایسی باتیں ہوں فساد بھی ہوں تو پھر تباہیاں آیا کرتی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے مسلمان بھی تو اسی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ تو یہ جو تباہی آئے گی وہ ساری دنیا کے لئے آئے گی۔ اور پھر انشاء اللہ دین کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔ اور وہ دین کی طرف توجہ جو پیدا ہوگی وہ زمانے کے امام کی اسلام کی صحیح تعلیم ہے اس تعلیم کی طرف توجہ پیدا ہوگی۔ اس لئے آپ واقفین نَو کی زیادہ ذمہ داری ہے کہ آئندہ جو زمانہ آنے والا ہے اس میں آپ لوگوں نے دنیا کو صحیح گائیڈ کرنا ہے۔
=…ایران اور شام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا: یہ بھی مَیں Capitol Hill امریکہ میں کانگریس مَین کو بیان کر چکا ہوں کہ بلاک بن رہے ہیں۔ Peace کے بارے میں ایڈریس کئے ہوئے ہیں وہ پڑھ لو۔ اور یہ بلاک جو بن رہے ہیں اس میں پھر یہی ہوگا کہ جنگ عظیم ہوگی۔ صرف ایران نہیں، ایران سے ابھی کیونکہ وہ دُور ہے، کچھ گھرا ہوا ہے، کچھ اور مسائل ہیں۔ اس لئے ایران سے پہلے Syria پر حملہ کرنا چاہیں گے۔ حملہ بھی کریں گے مسلمان ملکوں کے ذریعے سے۔ ترکی کے ذریعے سے Syria پر حملہ کروائیں گے پھر جنگ شروع ہوگی۔ یہ جنگ پھیلے گی ایران کی طرف آئے گی۔ رشیا اور چین ایران کی سائیڈ لیں گے۔ امریکہ اور یورپ دوسرے ممالک کی سائیڈ لے گا۔ دو بلاک بن جائیں گے۔ جس طرح یہ Claim کرتے ہیں کہ ایران کے پاس ایٹم بم ہے اور ایران اس کا انکار کرتا ہے کہ ہمارے پاس ایٹم بم نہیں ہے۔ اگر بالفرض ہے تو پھر وہ جو مر رہا ہو Frustrated ہو یہ نہیں دیکھتا کہ آگے کون ہے اور کون نہیں۔ جو دل میں آتی ہے کر جاتا ہے۔ تو وہی حال ہوگا ان ملکوں کا۔ تو میں اس لئے ان کو کہتا ہوں کہ تم لوگ کچھ عقل کرو۔ کیونکہ پہلے امریکہ ایک تھا جس کے پاس ایٹم بم تھا۔ اس نے جاپان کے اوپر Second World War میں دو ایٹم بم گرائے اور لاکھوں لوگوں کو مار دیا ہے۔ میں نے وہ ہیروشیماکا علاقہ جاکر دیکھا ہے وہاں انہوں نے ایک گھر Preserve کیا ہوا ہے۔ کنکریٹ کا سارا گھر پگھل کر نیچے آیا ہوا ہے۔ وہ اتنی طاقت کا بھی بم نہیں تھا۔ اب ہر چھوٹے ملک کے پاس بھی بم ہے اور ایسے ملکوں کے بھی پاس ہے جن میں عقل بھی نہیں ہے۔ اندازہ کر لو کہ پھر کیا خوفناک نتیجہ نکلے گا۔ دنیا اپنے آپ کو خود تباہ کر رہی ہے اس لئے دعا کرو کہ تباہی سے بچ جائیں اور اگر یہ خدانخواستہ ہو گیا تو اس کے بعد جو نیک لوگ ہوں گے وہ بہرحال بچ جائیں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ؎

آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے
جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار

اس لئے تم لوگوں سے کہتا ہوں کہ نیکیوں کی طرف آؤ، نمازوں کی طرف آؤ، اللہ سے دل لگاؤ تاکہ نیک لوگ بچ کر پھر دنیا کی اصلاح کا کام کریں۔
=…ایک واقف نو بچے نے بتایا : مَیں لندن ایک لڑکے کے ساتھ حضور سے ملنے آیا تھا حضور نے فرمایا تھا کہ وہ مسلمان ہو جائے گا۔ وہ الحمدللہ مسلمان ہو گیا ہے۔ اس کو دو خوابیں بھی آئی ہیں۔ اب احمدیت کی طرف نہیں آرہا۔ اُس کے لئے دعا کریں۔ وہ خود کہتا ہے اَور کوئی اسلام ہے ہی نہیں۔
اس پر حضور نے فرمایا: اس سے کہو کہ تم مسلمان کس لئے ہوئے ہو؟ احمدیوں سے متأثر ہو کر مسلمان ہوئے ہو! اسلام اگر اَور کہیں نہیں ہے تو پھر جس رستے کو دکھایا اس طرف چل پڑے ہو اور آدھے رستے میں آکر رک گئے ہو! اصل عقلمند تو وہ ہوتا ہے جو اپنی منزل پر پہنچنے کی کوشش کرے۔ یہ نہیں کہ آدھے راستے میں رُک کر دُور سے کہے کہ میں نے دیکھ لیا، وہ منزل نظر آرہی ہے، بڑا اچھا ہے۔ اس کو سمجھاؤ کہ عقل تمہیں احمدیت نے دی اب اپنی منزل تک پہنچو۔
حضور انور نے فرمایا بیلجیم میں ایک دہریہ شخص تھا اس کو خدا پر یقین احمدیوں نے دلوایا۔ جب اس کو Existence of God کا پتہ لگ گیا تو کہنے لگا مَیں اب کسی اور جگہ جاؤں تو اُس سے بہتر ہے کہ مَیں احمدی ہوتا ہوں۔ عقل کا تقاضا یہ ہے اس سے بھی کہو کہ جنہوں نے تمہیں عقل دی اس سے تم پرے ہٹ رہے ہو۔ اس لئے کہ بعض پابندیاں جماعت احمدیہ میں ہیں۔ہوسکتا ہے کہ اِس کے قریبی احمدی لوگ ہوں جو اس پر اچھا اثر نہ ڈالتے ہوں۔ لیکن تعلیم اس کو اچھی لگی۔ اِس سے کہو اگر تم باہر جاکر دیکھو گے تو اگر احمدیوں میں 20 فیصداچھے نہیں ہیں تو باہر جاکر تمہیں 80فیصد ایسے لوگ نظر آئیں گے جو غلط کام کر رہے ہیں اس لئے احمدیت کی طرف ہی آنا پڑے گا۔ اور اسلام یہ ہے کہ اس کو پورا مانا جائے۔ اور پورا ماننے کے لئے اگر آنحضرت ﷺ کو مانا ہے تو آنحضرتﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح موعود ؑ ، مہدی معہود کی جماعت میں شامل ہو جانا۔ اس کو جاکر میرا سلام کہنا۔ تو یہ سلام دُور دُور سے کہہ دینا ٹھیک نہیں۔ سلام پہنچانا ہے تو اُس کو قبول کرکے سلام پہنچاؤ۔
(بشکریہ رپورٹس از مکرم عبدالماجد طاہر صاحب ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن)

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/pPFIq]

اپنا تبصرہ بھیجیں