نونہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے (نمبر1)

(مطبوعہ رسالہ اسماعیل اپریل تا جون 2012ء)

نونہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے (نمبر1)
(کاوش: فرخ سلطان محمود)

سیدنا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے واقفین نو بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے مختلف پہلوؤں سے اُن کی راہنمائی کا سلسلہ جاری فرمایا ہوا ہے۔ اس میں اجتماعات اور اجلاسات سے خطابات، پیغامات کے ذریعہ ہدایات، رسائل کا اجراءاور وقف نو کلاسوں کا انعقاد بھی شامل ہے۔ مستقبل کے احمدی نونہالوں کی تعلیم و تربیت کا یہ سلسلہ اُس وقت بھی جاری رہتا ہے جب حضور انور کسی ملک کے دورہ پر تشریف لے جاتے ہیں۔ وہاں کے واقفین نو بھی یہ سعادت حاصل کرتے ہیں کہ براہ راست حضور انور کی رہنمائی سے فیض حاصل کرسکیں۔ ان واقفین نو کو کلاسوں کے دوران حضور انور جن نہایت اہم نصائح سے نوازتے ہیں اور جو زرّیں ہدایات ارشاد فرماتے ہیں وہ دراصل دنیا بھر میں پھیلے ہوئے واقفین نو کے لئے بیش بہا رہنمائی کے خزانے رکھتی ہیں۔ حضور انور کی واقفین نو کے ساتھ کلاسوں میں سے ایسے چند حصے آئندہ صفحات میں پیش کئے جارہے ہیں جنہیں واقفین نو کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ (بشکریہ رپورٹس از مکرم عبدالماجد طاہر صاحب ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن- یہ مستقل سلسلہ آئندہ شماروں میں بھی جاری رہے گا۔ انشاءاللہ)

ناروے کے واقفینِ نَو کے ساتھ کلاس

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے تشریف لانے پر پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ جس کے بعد یہ حدیث پیش کی گئی:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر کسی کے دروازے کے پاس سے نہر گزر رہی ہو اور وہ اس میں دن میں پانچ بار نہائے تو اس کے جسم پر کوئی میل رہ جائے گی؟ صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کوئی میل نہیں رہے گی۔ آپؐ نے فرمایا: یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے، اللہ تعالیٰ اُن کے ذریعے گناہ معاف کرتا ہے اور کمزوریاں دُور کردیتا ہے۔
اس کے بعد نماز کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا درج ذیل اقتباس پیش پڑھا گیا:
’’نماز کیا چیز ہے۔ نماز اصل میں ربّ العزّت سے دعا ہے جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور نہ عافیت اور خوشی کا سامان مل سکتا ہے۔ جب خدا تعالیٰ اس پر اپنا فضل کرے گا اس وقت اسے حقیقی سرور اور راحت ملے گی۔ اس وقت سے اس کو نمازوں میں لذّت اور ذوق آنے لگے گا۔ جس طرح لذیذ غذاؤں کے کھانے میں مزہ آتا ہے۔ اسی طرح پھر گریہ اور پکار کی لذّت آئے گی۔ اور یہ حالت جو نمازی کی ہے پیدا ہوجائے گی۔ اس سے پہلے جیسے کڑوی دوا کو کھاتا ہے تاکہ صحت حاصل ہو اسی طرح اس بے ذوقی نماز کو پڑھنا اور دعائیں مانگنا ضروری ہے۔ اس بے ذوقی کی حالت میں یہ فرض کرکے کہ اس سے لذّت اور ذوق پیدا ہو یہ دعا کرے کہ: ’’اے اللہ! تُو مجھے دیکھتا ہے کہ مَیں کیسا اندھا اور نابینا ہوں اور مَیں اس وقت بالکل مردہ حالت میں ہوں ۔ مَیں جانتا ہوں کہ تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز آئے گی تو مَیں تیری طرف آجاؤں گا ، اُس وقت مجھے کوئی روک نہ سکے گا لیکن میرا دل اندھا اور ناشناسا ہے۔ تُو ایسا شعلہ نور اس پر نازل کر کہ تیرا اُنس اور شوق اس میں پیدا ہو جائے ۔ تُو ایسا فضل کر کہ مَیں نابینا نہ اٹھوں اور اندھوں میں نہ جاملوں‘‘۔ ’’جب اس قسم کی دعا مانگے گا اور اس پر دوام اختیار کرے گا تو وہ دیکھے گا کہ ایک وقت اس پر ایسا آئے گا کہ اس بے ذوقی کی نماز میں ایک چیز آسمان سے اس پر گرے گی جو رقّت پیدا کردے گی۔‘‘ (ملفوظات جلد چہارم۔ صفحہ 321-322)
بعدازاں بچوں کے ایک گروپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس عربی قصیدہ سے چند اشعار پیش کئے

یَا عَیْنَ فَیضِ اللّٰہ وَالْعِرْفَانٖ
یَسْعٰی اِلَیْکَ الْخَلْق کَالظَّمْاٰنٖ

اس کے بعد نماز کے قیام اور اس کی اہمیت کے بارہ میں ایک تقریر ہوئی۔
پھر ایک مضمون بعنوان ’’ہم احمدی مسلمان کیوں ہیں؟‘‘ پیش کیا گیا جسے حضور انور نے بھی پسند فرمایا۔ چنانچہ یہ مضمون ذیل میں پیش کیا جارہا ہے:
ہم احمدی مسلمان کیوں ہیں؟
حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے اطلاع پاکر جہاں امّت مسلمہ کے عروج کے بارے میں عظیم الشان پیش خبریاں دی تھیں وہاں آخری زمانہ میں امّت مسلمہ پر آنے والے تنزّل کی بھی بڑے واضح الفاظ میں پیشگوئی فرمائی تھی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امّت پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ اسلام صرف نام کا رہ جائے گا اور قرآن صرف الفاظ میں رہ جائے گا۔ ان کی مسجدیں بظاہر آباد ہوں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماءآسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔
(مشکوٰۃ کتاب العلم، فصل الثالث صفحہ 38)
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’آخری زمانہ میں عابد جاہل ہوں گے اور قاری فاسق ہوں گے۔ مسجدوں میں شور ہوگا۔ عالم اس لئے علم سیکھیں گے کہ روپیہ کماسکیں۔ قرآن کو تجارت ٹھہراویں گے۔ لوگ مسجدوں میں بیٹھ کر دنیا کی باتیں کریں گے۔ خطباءبہت ہوں گے۔ امر بالمعروف کم ہوں گے، بے گناہ قتل ہوں گے‘‘۔ (اقتراب الساعۃ صفحہ 38)
ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں امّت کے تنزّل کی پیشگوئی فرمائی تھی وہاں آپؐ نے امّت مسلمہ کو یہ خوشخبری بھی دی تھی کہ اس تنزّل کے بعد پھر میری امّت پر بہار کا زمانہ آئے گا اور اسلام اپنی کھوئی ہوئی شان و شوکت کو پھر حاصل کرے گا۔ فرمایا:

’’کَیْفَ تَھْلِکُ اُمَّۃٌ اَنَا اَوَّلُھَا وَ عِیْسٰی ابْنُ مَرْیَمَ اٰخِرُھَا‘‘۔ (کنزالعمال جلد 7 صفحہ 203)

کہ میری امّت کبھی تباہ نہیں ہوسکتی جس کے اوّل میں خدا نے مجھے بھیجا اور جس کی حفاظت اور حمایت کے لئے آخر میں مسیح ابن مریم آئے گا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے یہ بھی واضح ہے کہ خداتعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود کا آنا ایسے زمانہ میں مقدّر تھا جو امّت محمدیہ کے لئے انتہائی خطرناک زمانہ تھا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انذاری پیشگوئی کے مطابق تمام علامات ظاہر ہوچکی ہیں اور ان ہی ایام میں مسیح موعود کے ظہور کی خبر رسول کریم ﷺ نے دی تھی۔ چنانچہ 23 مارچ 1889ءمیں حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی بنیاد رکھی اور اللہ تعالیٰ سے اذن پاکر اعلان کیا کہ اس آخری زمانہ میں آنے والا مسیح اور مہدی مَیں ہی ہوں اور مَیں ہی وہی مسیح اور مہدی ہوں جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ:
’’خدا تعالیٰ نے زمانہ کی موجودہ حالت کو دیکھ کر اور زمین کو طرح طرح کے فسق اور معصیت اور گمراہی سے بھرا ہوا پاکر مجھے تبلیغ حق اور اصلاح کے لئے مامور فرمایا‘‘۔ (تذکرۃالشہادین۔ صفحہ1)
پس آج ہم اسی لئے احمدی ہیں کہ اس آخری زمانہ میں آنے والے مسیح موعود علیہ السلام کو ہم نے پہچانا ہے۔ خدا تعالیٰ نے ہمارے آباؤاجداد کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند کو پہچاننے کی توفیق دی اور انہوں نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام آپؐ کے روحانی فرزند مہدی علیہ السلام تک پہنچایا اور آج دنیا کے سارے احمدی مشرق اور مغرب میں رہنے والے، شمال اور جنوب میں رہنے والے تمام کے تمام دن رات اس کوشش میں مصروف ہیں کہ ساری دنیا کو بتایا جائے کہ ہم احمدی کیوں ہیںا ور احمدیت کیا چیز ہے۔ تا لوگ اپنی نجات کا راستہ تلاش کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر لبیک کہتے ہوئے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو آپؐ کا سلام پہنچائیں اور آخرین کی جماعت میں شامل ہوکر

اللّٰہُ اَکْبَرْ اور لَآ اِلٰہَ اِلّااللّٰہ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہ

کے نعروں سے اس زمین پر ارتعاش پیدا کردیں۔
ہم احمدی اس لئے ہیں کہ ہم نے احمدی ہوکر زندہ خدا کو پایا۔ ہم نے اتحاد و یگانگت کا درس سیکھا۔ ہم نے اللہ کی راہ میں ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کیا۔ ہم نے عبادت کے گُر سیکھے، ہم نے محبت کرنا سیکھا۔ ہم نے خلافت کی عظیم الشان نعمت کو پایا اور دنیا کو درس دیا کہ محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں۔ ہم ہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ

’’کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ‘‘ (آل عمران:111)

پس ہم احمدی کیوں ہیں!؟ ہم احمدی اس لئے ہیں کہ ہم نے تمام دنیا کو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے۔ ہم نے زمین کے چپّہ چپّہ پر انسانوں کو باخدا انسان بنانا ہے اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لانا ہے۔ یہ ہے ہمارا کام۔ اسی لئے ہم احمدی ہیں کہ ہم نے ظلم و استبداد کو ختم کرکے ہر طرف امن پیار محبت کے نعرے بلند کرنے ہیں۔ پس آج روئے زمین پر جماعت احمدیہ ہی ایک ایسی جماعت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ خلافت موجود ہے جس کی برکت سے اتحاد و یکجہتی کی عظیم نعمت ہم احمدیوں کو حاصل ہے اور ہم احمدی ہی ہیں جو ساری دنیا میں خلافت کے سائے تلے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرتے چلے جارہے ہیں۔ اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ناکام نہیں کرسکتی کیونکہ ہم احمدیوں کی تمام ترقیات ، تمام عزتیں اور ہمارا جینا مرنا، اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا غرض کہ ہماری ہر حرکت خلافت احمدیہ سے وابستہ ہے۔ ہم احمدیوں کو خدا نے ایک آقا عطا فرمایا ہے جو خدا کا محبوب خلیفہ ہے۔ ہم احمدیوں کو اپنی جان سے زیادہ پیارے خلیفہ کے ساتھ ایسا گہرا تعلق ہے کہ ہم اپنے آقا کے ایک ادنیٰ اشارے پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہماری ہر تکلیف ہر دکھ میں ہمارے حضور ہمارے ساتھ ہوتے ہیں، ہمارے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ ہمیں جب کوئی مصیبت ہو، پریشانی ہو، ہم اسی وقت پیارے آقا کی خدمت اقدس میں دعا کے لئے لکھتے ہیں اور پھر ہمیں اللہ کی طرف سے ایک سکون نصیب ہوتا ہے اور ہماری تمام پریشانیاں دُور ہوجاتی ہیں کیونکہ پیارے آقا ہر احمدی کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: ’’تمہارے لئے ایک شخص تمہارا درد رکھنے والا ہے اور تمہاری محبت رکھنے والا اور تمہارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا اور تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا اور تمہارے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا۔ تمہارا اسے فکر ہے، درد ہے اور وہ تمہارے لئے اپنے مولیٰ کے حضور دعائیں کرنے والا ہے۔ تمہارا اُسے فکر ہے، درد ہے اور وہ تمہارے لئے اپنے مولیٰ کے حضور تڑپتا ہے‘‘۔ (برکات خلافت)
اس تقریر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا منظوم کلام

اک نہ اک دن پیش ہوگا تُو فنا کے سامنے
چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے

خوش الحانی سے پیش کیا گیا۔ جس کے بعد دو بچوں نے مل کر ناروے کے شمالی علاقہ Nordkapp پر ایک معلوماتی مضمون پیش کیا۔
واقفینِ نَو بچوں کو حضور انور کی نصائح
بعد ازاں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے واقفین نَو بچوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا:
آپ لوگوں نے بڑے اچھے عناوین چنے ہیں۔ پہلے نماز کی اہمیت کے بارہ میں مضمون تھا۔ لیکن مَیں نے جائزہ لیا ہے مضمون تو پڑھ لیتے ہیں لیکن جب پوچھا جائے کہ پانچ نمازیں کس کس نے پڑھی ہیں تو بہت کم ہوتے ہیں پڑھنے والے۔ نمازوں میں سستی کرتے ہیں۔ صرف مضمون پڑھنے سے فرض پورا نہیں ہوجاتا۔
حضور انور نے فرمایا کہ واقفین نَو کو اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے۔ سونے سے قبل اپنا جائزہ لیں کہ کیا ہم نے پانچ نمازیں ادا کرلی ہیں۔ اس طرح آپ کو خود پتہ لگ جائے گا کہ ہم کس حد تک پابندی کررہے ہیں۔
حضور انور نے فرمایا: نماز برائی سے روکتی ہے لیکن بہت سے نمازیں پڑھنے والے ایسے لوگ ہیں، مسلمانوں کے بچے ہیں جو آکر مسجد پر پتھر، گند اور گندے پمفلٹ وغیرہ پھینک جاتے ہیں۔ اب ان کو نماز برائی سے نہیں روک رہی۔ اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ خالص ہوکر میرے پاس آؤ۔ مَیں تمہارا ہر کام، ہر فعل دیکھ رہا ہوں۔ ہر حرکت دیکھ رہا ہوں۔ تو صاف دل اور خلوص نیت کے ساتھ پڑھی جانے والی نمازیں برائیوں سے روکتی ہیں۔
حضور انور نے فرمایا: جن کاموں سے منع کیا ہے اُن سے رُک جاؤ تو تب فائدہ ہوگا۔ کسی کی تقریر کرنے، یا ایک سال بعد مضمون پڑھنے پر فائدہ نہیں ہوگا۔
حضور انور نے فرمایا: جو دس سال سے اوپر ہیں ان سب پر نماز فرض ہے۔ اگر وہ نماز نہیں پڑھتے اور ان کے ماں باپ ان کو جگاتے ہیں اور یہ آگے سے ہُوں ہاں کرکے سو جاتے ہیں تو یہ غلط چیز ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اتنے رحمدل تھے کہ آپ سے کسی کی کوئی تکلیف برداشت نہ ہوتی تھی تو آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ جو لوگ نمازوں پر نہیں آتے، میرا دل چاہتا ہے کہ لکڑیوں کا ایک گٹھا لوں اور اُن کے گھروں کو آگ لگادوں۔ اُس زمانہ میں بھی بعض لوگ مسجد میں نہیں آتے تھے۔ مجلسیں لگاتے تھے تو نمازیں رہ جاتی تھیں۔ آج کل بھی TV ہے، ڈرامے ہیں، انٹرنیٹ ہے، رات دیر تک یہ چیزیں دیکھتے رہتے ہیں اور پھر فجر پر آنکھ نہیں کھلتی۔
حضور انور نے فرمایا کہ آپ سب کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ آپ وہ لوگ ہیں جن کے ماں باپ نے پیدائش سے قبل وقف کیا تھا تاکہ جماعت کو خوبصورت تحفہ پیش کریں جو جماعت کی خدمت کرنے والا ہو۔ قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے والا ہو۔ اگر یہ احساس آپ لوگوں میں پیدا نہیں ہوتا، اگر یہ جذبہ پیدا نہیں ہوتا تو وقف نَو کے ٹائٹل لگ جانے سے تو کوئی فائدہ نہیں۔
حضور انور نے فرمایا: دوسرا مضمون یہ پڑھا گیا ہے کہ ہم احمدی کیوں ہیں؟ اصل یہ ہے کہ آپ اپنے عملی نمونے دکھائیں۔ آپ کے باپ، دادا کو توفیق مل گئی، والدین کو توفیق مل گئی تو انہوں نے مان لیا، لیکن وقف نَو میں سے تو کوئی ایسا نہیں ہوسکتا جس نے قبول کیا ہو۔ پس یہ احسان جو ماں باپ، باپ داداکا ہے ہمیشہ یاد رکھیں کہ انہوں نے احمدیت قبول کی اور احمدیت پر قائم رہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ہمیں ان نمونوں پر چلنا ہوگا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائے۔ عرب کے بگڑے ہوئے لوگ چور تھے، ڈاکو تھے، قاتل تھے، شرابی تھے لیکن وہ ایسے نیک بن گئے کہ ہر برائی چھوڑ دی اور سچائی کو ایسا اختیار کرلیا کہ ان کے ہر قول و فعل میں سچائی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو سچ نہیں بولتے اور جھوٹ بولتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو خدا پر یقین نہیں ہے۔ جھوٹ سے کام لینے والا شرک کرنے والا ہے، خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ سارے گناہ بخش سکتا ہوں لیکن شرک نہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ وقف نَو والے گہرائی میں جاکر سوچیں کہ کس طرح ہم نے زندگی گزارنی ہے۔ کس طرح دین کا پیغام پہنچانا ہے۔ بہت سارے ایسے ہیں جو جامعہ میں نہیں جاسکیں گے اور دوسرے فیلڈز میں جائیں گے۔ آپ نے پڑھائی مکمل کرکے اپنے آپ کو جماعت کے لئے پیش کرنا ہے۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے جماعت سے یہ پوچھنا ہے کہ ہم نے اپنی پڑھائی مکمل کرلی ہے، اب ہمارے لئے کیا ہدایت ہے، ہم اپنے آپ کو جماعت کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد مرکز آپ کو ہدایت دے گا کہ آپ نے آئندہ کیا کرنا ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ اگر کوئی یہ کہے کہ مَیں نے پائلٹ بننا ہے تو جماعت کو تو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں اگر کسی کو بہت شوق ہے تو باقاعدہ اجازت لے لے۔ جب جماعت کے جہاز ہوں گے تو ضرورت ہوگی لیکن اب ضرورت نہیں ہے۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے بزنس کرنا ہے۔ لیکن اس کا فیصلہ خلیفۂ وقت کرے گا کہ آیا آپ نے جماعت کی خدمت کرنی ہے یا کوئی دوسرا کام کرنا ہے، کس کمپنی میں کام کرنا ہے۔
حضور انور نے فرمایا: ہر لیول پر آپ کو پوچھنا چاہئے کہ کیا کرنا ہے۔ جماعت کو ڈاکٹرز، ٹیچرز، انجینئرز، میڈیا اور مختلف زبانوں میں ٹرانسلیشن کے کام کرنے والوں کی ضرورت ہے۔ آپ کو فائدہ اُسی تعلیم کا ہوگا جو جماعت کی مرضی سے آپ حاصل کریں گے۔
حضور انور نے فرمایا کہ ناروے کے واقفین نَو یاد رکھیں کہ اگر ان کے ذہن میں ہے کہ ناروے کے واقفین، ناروے میں ہی رہیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔ جہاں جماعت کو ضرورت ہوگی وہاں بھیج دیا جائے گا۔ اس چیز کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں۔

ہالینڈ کے واقفین نَوکے ساتھ کلاس

پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ کے بعد حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا درج ذیل اقتباس پیش کیا:
’’اے تمام وہ لوگوجو زمین پر رہتے ہو اور اے تمام وہ انسانی روحو جو مشرق اورمغرب میں آبا د ہو ،مَیں پورے زورکے ساتھ آپ کو اس طرف دعو ت کرتاہوں کہ اب زمین پر سچا مذہب صرف اسلام ہے اورسچا خدا بھی وہی خداہے جوقرآن نے بیان کیاہے اور ہمیشہ کی روحانی زندگی دینے والا نبی اور جلال اورتقدس کے تخت پر بیٹھنے والا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کی روحانی زندگی اور پاک جلال کا ہمیں یہ ثبوت ملاہے کہ اس کی پیروی اورمحبت سے ہم روح القدس اور خدا کے مکالمہ اور آسمانی نشانوں کے انعام پاتے ہیں ‘‘۔ (تریاق القلوب ۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 141)
اس کے بعد حضرت مسیح موعودؑ کے عربی قصیدہ کے چند اشعار پڑھے گئے اور بعدازاں ’’احمدیت اورہالینڈ‘‘ کے موضوع پرایک مضمون پیش کیا گیا جس میں جماعت احمدیہ ہالینڈ کی مختصر تاریخ بتائی گئی۔
ہالینڈ میں سب سے پہلے احمدیت کاپیغام 1926ءمیں پہنچا۔ جب لندن سے مبلغ سلسلہ حضرت مولانا عبدالرحیم درد صاحب ؓ ہالینڈ تشریف لائے اورآپ نے ہالینڈ کی مختلف سوسائٹیوں میں اسلام کے بارہ میں لیکچردئے اورآپ کے تیار کردہ دوکتابوں کاڈچ زبان میں ترجمہ ہوا۔ اورآپ نے پندرہ روزہ رسالہ بھی جاری کیا۔
دسمبر 1929ءمیں ایک پادری Mr.Cramer ہالینڈسے جاوا جاتے ہوئے قادیان میں رکے اور حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کاشرف پایا۔ 1930ءمیں ہالینڈ سے ایک ڈچ کونسلر Mr. Andreas قادیان آئے اور انہوں نے واپس آکرحضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ کو خط میں لکھاکہ مَیں نے قادیان میں نیکی کے سوا کچھ نہیں پایا۔
1947ءمیں حضر ت مصلح موعودؓ نے مکرم حافظ قدرت اللہ صاحب کو ہالینڈ کے پہلے مبلغ کے طورپر بھجوایا۔ 1948ءمیں ہالینڈ میں جماعت کا پہلا باقاعدہ رسالہ ’’الاسلام‘‘ ڈچ زبان میں شروع ہوا۔ ڈچ زبان میں قرآ ن کریم کا ترجمہ 1953ءمیں ہوا۔ ہالینڈ میں تعمیر ہونے والی جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد ’’مسجد مبارک‘‘ کا سنگ بنیاد حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ نے ہیگ شہر میں رکھا۔ اس مسجد کی تعمیر میں لجنہ ا ماءاللہ پاکستان نے ایک بڑی مالی قربانی پیش کی۔ 1955ءمیں حضرت مصلح موعودؓ اپنے علاج کے سلسلہ میں جب یورپ تشریف لائے توسفر کے دوران ہالینڈ بھی تشریف لائے اوراس زیر تعمیرمسجد کے معائنہ کے دوران ہال والی جگہ میں کھڑے ہو کرایک لمبی پُر سوز دعا کروائی ۔
1968ءمیں لجنہ اماءاللہ اور 1974ءمیں خدام الاحمدیہ کا قیام عمل میں آیا۔ 1980ءمیں ہالینڈ کا سب سے پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔ 1981ءمیں مجلس انصاراللہ کا قیام عمل میں آیا۔
1985ءمیں نن سپیٹ کے علاقہ میں جماعت کا یہ دوسرا مرکز خریدا گیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کا نام ’’بیت النور‘‘رکھا اور ستمبر 1985ءمیں اپنے دورہ ہالینڈ کے دوران اس کا افتتاح فرمایا۔ 1987ءمیں خدام الاحمدیہ کاچوتھایورپین اجتماع یہاں ننسپیٹ میں ہوا۔
1989ءمیں مسجد مبارک ہیگ کوبعض نامعلوم افراد نے آگ لگا کر نقصان پہنچایا ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے 1996ءکے دورہ ہالینڈکے دوران اس مسجد کی توسیع کے کام کا سنگ بنیاد رکھا۔ 1998ءمیں یہ توسیع مکمل ہوئی اورامیر جماعت ہالینڈ مکرم ھبۃ النور فرحاخن صاحب نے اس کا افتتاح کیا۔ مسجد مبارک ہیگ کی تعمیر پر پچاس سالہ جوبلی کی تقریبات کے حوالے سے 2005ءمیں مسجد کے ساتھ ایک مینارتعمیر کیا گیا اور جوبلی کی ا یک تقریب میں دوجون 2006ءکوہالینڈ کی ملکہ Beatrix Queen شامل ہوئیں۔
2008ءمیں خلافت جوبلی کے موقع پر ایمسٹرڈیم شہر میں جماعت نے اپنا تیسرا سینٹر خریدا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ا س کا نام ’’بیت المحمود‘‘ رکھا۔ ہالینڈ میں اس وقت تک درج ذیل مبلغین کرام کو خدمت کی توفیق مل چکی ہے: مکرم حافظ قدرت اللہ صاحب، مکرم چوہدری عبداللطیف صاحب، مکرم غلام احمد بشیر صاحب ،مکرم ابوبکر ایوب صاحب(آپ انڈونیشین تھے او رہیگ ہالینڈ میں مدفون ہیں۔)،مکرم عبدالحکیم اکمل صاحب ، مکرم صلاح الدین صاحب، مکرم ناصر احمد شمس صاحب ،مکرم چوہدری اللہ بخش صادق صاحب، مکرم عبدالرشید تبسم صا حب،مکرم صداقت احمد صاحب ،مکرم حامد کریم محمود صاحب، مکرم نعیم احمد وڑائچ صاحب ۔(مؤخرالذکردونوں مبلغین اس وقت ہالینڈ میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں)۔
اس مضمون کے بعد حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا درج ذیل منظوم کلام پیش کیا گیا ؎

اسلام سے نہ بھاگو راہ ہدیٰ یہی ہے
اے سونے والوجاگو شمس الضحیٰ یہی ہے

حضور انور کی واقفینِ نَو کو نصائح
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے بچوں سے دریافت فرمایا کہ روزانہ پا نچ نمازیںپڑھنے والے کتنے ہیں؟حضورانور نے فرمایا کہ سردیوں میں دن چھوٹے ہوتے ہیں اورنمازظہرو عصر کاوقت بہت کم رہ جاتاہے تو آپ کس طرح یہ نمازیں ادا کرتے ہیں؟ جس پر بعض بچوں نے کہا کہ ہم گھر واپس آتے ہیںتو ٹرین میں پڑھ لیتے ہیں ۔ اس پر حضورانور نے فرمایا کہ سکول میں پڑھ لیا کرو اورباقاعد ہ سکول انتظامیہ سے اجاز ت لے لیا کرو۔
حضورانور ایدہ اللہ نے بچوں سے دریافت فرمایا کہ کس کو انگریزی زبان سمجھ آتی ہے۔ا س پر بعض بچوں نے اپنے ہاتھ کھڑے کئے ۔حضورانور نے فرمایا ابھی گزشتہ دنوں لندن میں وقفِ نَوبچوں کااجتماع ہو اہے ۔ اس میں مَیں نے بچوں کو ہدایات دی ہیں ۔یہ پروگرام ایم ٹی اے پر آئے گا۔سب بچے اس کو دیکھیں اور سنیں۔ حضور انونے فرمایا کہ ہفتہ اتوارآپ کا جلسہ سالانہ ہے آئندہ دنوں میں دیکھیں۔حضور نے انتظامیہ کو ہدایت فرمائی کہ یہ پروگرام تین چارمرتبہ لگایا جائے تاکہ کسی ایک ویک اینڈ پر بچے سن لیں۔
ایک بچے نے عرض کیا کہ مَیں کام کے ساتھ ساتھ سول انجینئرنگ میں ماسٹرکرنا چاہتاہوں۔حضور انور نے فرمایاکہ اگر تم تعلیم کے اخراجات مہیا کرسکتے ہو توصرف پڑھائی کرو۔اورماسٹرمکمل کرو۔ورنہ کام کے ساتھ ساتھ کرلو۔ حضور انور کے دریافت فرمانے پربچے نے بتایا کہ پڑھائی کی تکمیل کے بعد جماعت کا ہی کام کرنا ہے۔
ا س کلاس میں پندرہ سال کی عمر کے دو بچے موجود تھے۔ایک اپنے قداور صحت کے لحاظ سے بڑا اورموٹا تھا۔ دوسرا قدکے لحاظ سے بھی چھوٹا اور کمزور تھا۔ حضور انور نے ازراہ شفقت دونوں کو اپنے پاس بلایا اور دونوں کو ساتھ کھڑا کیا اور فرمایا: دونوں پندرہ سال کے ہیں ان میں فرق دیکھو۔ حضور انورنے کمزور صحت والے کو ہدایت فرمائی کہ کھایا پیا کرواوراپنی صحت کا خیال رکھو۔
ایک چھوٹی عمر کے بچے نے سوا ل کیا کہ کیا قادیان میں خانہ کعبہ ہے؟ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ خانہ کعبہ صر ف ایک ہی ہے جوخدا کا گھرہے۔ہم ایک ہی خدا کو ماننے والے ہیں اور ایک ہی خانہ کعبہ کو ماننے والے ہیں ۔ایک کلمہلَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ ،ایک خدا ، ایک رسول اور ایک خدا کا گھر، وہی گھر جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بنایا تھا اوردعائیں کی تھیں کہ اس شہر کوسلامتی والا اور امن دینے والا بنادے۔ اوران میں ایسا رسول مبعوث کر جوان پر تیری آیا ت تلاوت کرے اور انہیں کتاب کی تعلیم دے ، حکمت بھی سکھائے اوران کا تزکیہ کردے۔
حضورانورنے فرمایا کہ یہاں کتاب کی تعلیم سے مراد قرآن کریم ہی ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم دے اورقرآن سکھائے۔
حضور انور نے فرمایاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے ساتھ اسلام کادین مکمل ہوگیا۔ اسلام سے بڑا کوئی دین نہیں۔ خانہ کعبہ سے بڑا کوئی گھر نہیں۔ جو ہماری مساجد ہیں وہ اس کے نمونہ پر بنتی ہیں۔
حضورانور نے فرمایا کہ قادیان میں اس زمانے میں حضرت اقد س مسیح موعودعلیہ السلام تشریف لائے ۔ قرآن کریم میں آپ کے بارہ میں پیشگوئی تھی کہ

وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (الجمعۃ:4)

اورانہی میں سے دوسروں کی طرف بھی اُسے مبعوث کیاہے جوابھی اُن سے نہیں ملے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے آنے کے بارہ میں پیشگوئی فرمائی تھی کہ آخری زمانہ میںایک نبی آئے گا۔ میرے اور اس کے درمیان کوئی نبی نہیں۔ اس کے آنے کا زمانہ وہ ہے جب لوگ اسلام کی تعلیم بھلا چکے ہوں گے۔ وہ اسلام کی حقیقی تعلیم کو پیش کرے گا اوریہودیوں اور عیسائیوں ،ہندوئوں اور لامذہبوں کو اسلام کا پیغام پہنچائے گااور ان کو مسلمان بنائے گا۔ وہ مسیح موعود قادیان میں پیدا ہوا۔ اس وجہ سے قادیان کی اہمیت ہے۔ سب سے پہلے مکّہ ہے جہاں خانہ کعبہ ہے۔جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دعویٰ نبوت کے بعد 13سال گزارے۔ پھرمدینہ ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس سال رہے ۔پھر وہاں کی مسجد نبوی سب سے بڑی مسجد ہے جہاں آپ ؐ نے نمازیں پڑھیں۔ آپ ؐ ہجرت کرکے جب مدینہ تشریف لائے توسب سے پہلے قبا کے مقام پرمسجد بنائی۔ پھر مسجد نبوی بنائی۔آپ مدینہ میں فوت ہوئے اوروہیں دفن ہوئے۔یہاں آپ کا روضۂ مبارک ہے۔ تو خانہ کعبہ مکّہ کے بعد دوسرا اہم مقام مدینہ ہے۔ اورتیسرا قادیان اس لئے اہم ہے کہ وہاں امام مہدی علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اور وہاں سے اسلام کی تبلیغ کی ۔ دنیا کو اسلام کے بارہ میں بتایا۔ اور پھر وہاں فوت ہوئے اور قادیان میں آپ کا مزار ہے۔ تو اس طر ح اس زمانے میں اسلام کی تبلیغ کا مرکز حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی وجہ سے قادیان بنا۔ اب دنیا میں بسنے والا ہراحمدی اور ہر جماعت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلتے ہوئے اسلام کی تبلیغ کرتی ہے۔
حضور انور نے فرمایا:اب آپ کو فرق کا پتہ چل گیاہوگا۔ خانہ کعبہ حضرت ابراہیم ؑ اور حضر ت اسماعیل ؑ نے بنایا۔ کئی ہزار سال بعد مکّہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیداہوئے اور وہاں سے دین اسلام کاآغاز ہوا۔ اور اسلام پھیلا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے اور اسلام کاایک نیا دور شروع ہوا۔ احیائے اسلام ہوا اور ساری دنیا میں اسلام کاپیغام پہنچا۔ پس احمدیوں کے لئے اوّل خانہ کعبہ ہی ہے۔ احمدی حج پر جاتے ہیں۔ مدینہ میں بھی جاتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار پر دعا کرتے ہیں۔
حضور انور نے منتظمین کو ہدایت فرمائی کہ کلاسز میں بچوں کوبتایا کریں۔ پھر حضور انور نے بچوں کومخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ اپنے والدین سے پوچھا کریں۔ پھر فرمایا: خانہ کعبہ مکّہ میں ہے اور مکہّ سعودی عرب میں ہے۔ مدینہ بھی سعودی عرب میں ہے۔ جہاں آنحضرت ﷺ نے ہجرت کی اور آپ وہاں دفن ہوئے ۔ مکّہ سے مدینہ کا فاصلہ قریباً 300میل ہے ۔ قادیان انڈیا میں ہے جوکہ سعودی عرب سے ایک بہت بڑے فاصلہ پر ہے۔
ایک واقفِ نَو طالبعلم نے سوال کیاکہ کیلیگرافی میں جماعت کی خدمت ہوسکتی ہے؟ اس پر حضورانور نے فرمایا کہ خدمت یہی ہے کہ مسجد میں آیات ، دعائیں لکھی جاتی ہیں ۔اسمائے الٰہی لکھے جاتے ہیں ، وہ لکھ سکتے ہیں ۔اگر شوق ہے تو یہ خدمت ہوسکتی ہے۔
حضورانور نے فرمایا: یہ زائد چیز ہونی چاہئے اس کے علاوہ تمہارا کوئی پروفیشن ہونا چاہئے۔
حضور انورنے فرمایاکیلی گرافی کے ذریعہ خداتعالیٰ کے ناموں سے نمائش لگائی جاسکتی ہے۔ خداتعالیٰ کے ناموں کا مطلب، مفہوم بتایا جاسکتا ہے۔ اس طرح تبلیغ بھی ہو سکتی ہے۔
ایک واقف نَو بچے نے سوا ل کیا کہ ہم ہالینڈ میں کس طرح بہتر رنگ میں تبلیغ کرسکتے ہیں؟
حضورانورنے فرمایااپنے ذاتی رابطے اور تعلق بڑھائیں۔ One to One رابطے کریں، پمفلٹس تقسیم کریں۔ وِلڈر کی وجہ سے اسلام کا جو غلط تصور پیدا ہوگیا ہے اس کوزائل کریں۔ اسلام کا امن کا ،محبت کا اورصلح و آشتی کا پیغام دیں۔ ہالینڈ تواتنا چھوٹا سا ملک ہے کہ اب تک ہرگھر تک پیغام پہنچ جانا چاہئے تھا۔ پھر اپنا عملی نمونہ بھی ظاہر کریں۔ آپ میں اور دوسرے مسلمانوں میں جو فرق ہے وہ آپ کے عمل سے ،آپ کے اخلاق سے ظاہرہو۔
حضورانور نے فرمایاجب اسلام کاامن کا پیغام پہنچ جائے تو پھر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی آمد کے بار ہ میں بتائیں کہ آپؑ آنحضرتﷺ کی تعلیم کے مطابق تشریف لائے ۔ یہ بھی پیشگوئی تھی کہ اسلام بگڑ جائے گا۔ لوگ اسلام کی تعلیم پر عمل نہیں کریں گے ۔ تویہ اسلام کی صحیح اورحقیقی تعلیم حضر ت مسیح موعود علیہ السلام نے دی ہے اس کے بروشر تقسیم کریں۔
مختلف قسم کے لوگ ہیں۔ جو لوگ دہریہ ہیں، خدا کے قائل نہیں ،ان کو پہلے توحید کا پیغام دیں۔ تاوہ خدا کے قائل ہوں۔ پھربعد میں دوسرے بروشر تقسیم کریں ۔ ہر ایک کے مزاج کے مطابق بروشرتیار ہونے چاہئیں ۔
حضور انور نے فرمایا : اگرآپ میں سے ہر لڑکا یہ عہد کرے کہ وہ دس لڑکوں کو بتائے گا۔ احمدیت کاپیغام پہنچائے گا۔ تو آپ جو 25 بیٹھے ہیں 250 کوتو بتاسکتے ہیں ۔ اس طرح جب ان دس تک پیغام پہنچ جائے تو پھردوسرے دس کو پہنچائیں۔ ا س طرح تعداد بڑھتی رہے گی۔ صر ف جماعتی پروگرام بنا لیا اورمربی صاحب کو بلالیا اور پروگرام کرلیا یا کسی جگہ بکسٹال لگا لیا ،یہ کافی نہیں۔ نئے نئے راستے نکالیں۔ کوئی پاکٹ لے لیں ۔ کسی علاقہ کاانتخاب کرلیں اورپھر سروے کریں اور دیکھیں کہ کس طرح ان لوگوں کو احمدیت کاپیغام پہنچانا ہے۔ عام روایتی تبلیغ سے کام نہیں چلے گا۔ اس لئے خاص پروگرام بنائیں اورنئے راستے دیکھیں اور پھر مجھے بتائیں ۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/aH30Q]

اپنا تبصرہ بھیجیں