نواں T20 انٹرنیشنل مسرور کرکٹ ٹورنامنٹ

جماعت احمدیہ برطانیہ کی مجلس صحت کے زیراہتمام
نویں T20 انٹرنیشنل مسرور کرکٹ ٹورنامنٹ کا کامیاب انعقاد
سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ کی تقریبِ عشائیہ میں بابرکت شمولیت نیز فائنل میچ کے دوران تشریف آوری اور کھلاڑیوں میں انعامات کی تقسیم

کینیڈا کی ٹیم نے اپنے اعزاز کا کامیاب دفاع کرتے ہوئے ٹرافی حاصل کی۔ یوکے کی ٹیم دوم اور عمیر الیون سوم رہی۔

(مطبوعہ احمدیہ گزٹ کینیڈا ستمبر 2017ء
و الفضل انٹرنیشنل 23 جون 2017ء)

(رپورٹ : محمود احمد ملک میڈیا کوآرڈینیٹر مجلس صحت یوکے)

سیّدناحضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری سے مئی 2009ء میں مجلس صحت برطانیہ کے زیراہتمام پہلے انٹرنیشنل مسرور T/20 کرکٹ ٹورنامنٹ کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا تھا۔ بتدریج ترقی کی منازل طے کرنے والا اِس وقت عالمگیر جماعت احمدیہ میں یہ واحد بین الاقوامی ٹورنامنٹ ہے جسے خواص و عام میں یکساں پذیرائی حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کا انعقاد ایک مستقل فیچر کے طور پر قرار پاچکا ہے۔ دراصل دنیا کے کناروں سے طویل سفر کرکے لندن پہنچنے والے احمدی کھلاڑیوں کے ولولے کے علاوہ شائقین کے ذوق نے بھی اس ٹورنامنٹ کے مستقل انعقاد کی راہ ہموار کئے رکھی ہے۔ لیکن امرواقعہ یہ بھی ہے کہ دُوردراز کے ممالک سے آنے والے احمدی کھلاڑی اپنے محبوب آقا کی زیارت اور شرف ملاقات سے فیضیاب ہونے کے لئے سفر کی تکالیف بخوشی برداشت کرتے ہیں۔ نیز بلاشبہ اتنے بڑے ٹورنامنٹ کا ہر سال اپنی تمام تر عظیم روایات کے ساتھ خوش اسلوبی سے انعقاد کرتے چلے جانا منتظمین کی محنت شاقّہ اور لگن کا آئینہ دار بھی ہے۔
خداتعالیٰ کے فضل سے امسال 17 تا 21مئی 2017ء کو نہایت کامیابی سے منعقد ہونے والا یہ نواں انٹرنیشنل مسرور کرکٹ ٹورنامنٹ تھا جس کی افتتاحی تقریب 17؍مئی کی شام ساڑھے سات بجے طاہر ہال (مسجد بیت الفتوح مورڈن) میں مکرم رفیق احمد حیات صاحب امیر جماعت احمدیہ برطانیہ کی زیرصدارت منعقد ہوئی۔ تلاوت قرآن کریم کے بعد مکرم مرزا عبدالرشید صاحب صدر مجلس صحت برطانیہ نے امسال ٹورنامنٹ میں شامل ہونے کے لئے تشریف لانے والے کھلاڑیوں اور ٹیموں کے نمائندگان کو خوش آمدید کہا اور اُن ممالک کے نام پڑھ کر سنائے جن کی نمائندگی میں 22 ٹیمیں اس ٹورنامنٹ میں شریک ہورہی تھیں۔
تقریب کے اختتام سے قبل مکرم امیر صاحب نے اپنی مختصر تقریر میں امید ظاہر کی کہ امسال کھلاڑیوں کے کھیل اور انتظامات کا معیار پہلے سے بہتر دیکھنے میں آئے گا اور اچھے دوستانہ ماحول میں یہ ٹورنامنٹ کھیلا جائے گا۔ آپ نے کہا کہ کرکٹ کھیلنے کے علاوہ آنے والے کھلاڑیوں کا بڑا مقصد حضور انور ایدہ اللہ سے ملاقات کرکے برکت حاصل کرنا بھی ہے۔ تاہم بعض لوگ ویزا نہ ملنے کی وجہ سے ٹورنامنٹ میں شامل نہیں ہوسکے۔
مکرم امیر صاحب نے بیان کیا کہ اس ٹورنامنٹ کا معیار بہت عمدہ ہے چنانچہ گزشتہ دنوں جب انہیں UAE جانے کا موقع ملا تو معلوم ہوا کہ وہاں کی احمدیہ کرکٹ ٹیم اس ٹورنامنٹ کی تیاری کے لئے باقاعدہ پیشہ وارانہ کوچنگ سے استفادہ کررہی ہے۔ اگرچہ ویزا نہ ملنے کی وجہ سے وہ بھی امسال ٹورنامنٹ میں شرکت سے محروم رہے ہیں۔
مکرم امیر صاحب نے کہا کہ آپ ایک کھلاڑی ہی نہیں ہیں بلکہ ایک احمدی کھلاڑی ہیں اور یہ بات سارے ٹورنامنٹ میں اپنے پیش نظر رکھیں۔ بعض اوقات امپائر کا فیصلہ آپ کے مطابق درست نہیں بھی ہوتا، تاہم اُس وقت ہی آپ کو اپنے رویّے پر نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
قریباً ایک گھنٹہ جاری رہنے والی اس افتتاحی تقریب کے دوران تمام کھلاڑی نظم و ضبط کے ساتھ سٹیج کے سامنے نصب کی جانے والی اُس تختی کے پیچھے کھڑے رہے جس پر اُن کی ٹیم کا نام تحریر تھا۔ جبکہ منتظمین اور تقریب کے مدعووین سٹیج کے اطراف میں کرسیوں پر تشریف فرما تھے۔ ان مہمانوں کے پیچھے (سٹیج کے اطراف میں) گزشتہ ٹورنامنٹس کی بڑے سائز کی تاریخی تصاویر نہایت خوبصورتی سے آویزاں کی گئی تھیں جو اس تقریب کے حسن کو دوبالا کر رہی تھیں۔ دعا کے ساتھ یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی جس کے بعد حاضرین کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔
مجلس صحت برطانیہ کا قیام قریباً پندرہ سال قبل عمل میں لایا گیا تھا۔ اس مجلس کے صدر مکرم مرزا عبدالرشید صاحب اور سیکرٹری مکرم مرزا حفیظ احمد صاحب ہیں۔ اس مجلس کی زیرنگرانی مختلف کھیلوں کے قومی ٹورنامنٹس سارا سال ہی منعقد کئے جاتے ہیں۔ تاہم انٹرنیشنل مسرور کرکٹ ٹورنامنٹ کی کامیابی کے لئے یکصد سے زائد کارکنان قریباً سارا سال ہی بھرپور محنت کرتے ہیں اور خداتعالیٰ کے فضل سے واقعۃً یہ ٹورنامنٹ بتدریج نمایاں طور پر کامیابی سے ہمکنار ہوکر ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔ الحمدللہ علیٰ ذالک
خداتعالیٰ کے فضل سے امسال 15 ممالک کی 22 ٹیموں نے اس ٹورنامنٹ میں شرکت کی۔ ان ممالک میں برطانیہ کے علاوہ آئرلینڈ، جرمنی، ہالینڈ، کینیڈا، امریکہ، آسٹریلیا، بیلجیم، فِن لینڈ، اٹلی، فرانس، ناروے، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔
امسال میچز کے انعقاد کے لئے کُل بارہ گراؤنڈز حاصل کی گئی تھیں جن میں سے 10 گراؤنڈز مقامی مرٹن کونسل کی ملکیت تھیں۔ باقاعدہ میچز کا آغاز 18؍مئی سے ہوا۔ دو دن میں لیگ میچز مکمل ہونے کے بعد جو آٹھ ٹیمیں کوارٹرفائنل میچز کھیلنے کے لئے منتخب ہوئیں اُن میں انگلینڈ، انگلینڈ اے، امریکہ، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، جرمنی، عمیر الیون اور آسٹریلیا شامل تھیں۔
20؍ مئی کی شام مسجد بیت الفتوح مورڈن کے احاطہ میں نصب کی جانے والی ایک خوبصورت مارکی میں ٹورنامنٹ میں شامل ہونے والے کھلاڑیوں اور منتظمین کے اعزاز میں ایک عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب میں سیّدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی ازراہ شفقت شرکت فرمائی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی تشریف آوری قریباً ساڑھے سات بجے شام ہوئی۔ اس موقع پر سب سے پہلے حضورانور ایدہ اللہ نے اجتماعی دعا کروائی جس کے بعد عشائیہ پیش کیا گیا۔ بعدازاں حضورانور ایدہ اللہ کی اجازت سے تمام ٹیموں نے باری باری اپنے محبوب آقا کے ہمراہ تصاویر بنوانے کا شرف حاصل کیا۔ اس روز نماز عشاء بھی کھلاڑیوں نے حضور انور ایدہ اللہ کی اقتداء میں مسجد بیت الفتوح مورڈن میں ادا کی۔ جس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ واپس تشریف لے گئے۔
امسال ٹورنامنٹ کے دونوں سیمی فائنل کنگسٹن یونیورسٹی کی سپورٹس گراؤنڈ میں کھیلے گئے۔ پہلے میچ میں کینیڈا کی ٹیم نے انگلینڈ اے کو 6 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل کے لئے کیوالیفائی کرلیا۔ اس میچ کی خاص بات کینیڈا کی ٹیم کے کیپٹن رضا رحمٰن کے 47 رنز (ناٹ آؤٹ) تھے۔ انہیں Man of the Match بھی قرار دیا گیا۔ جبکہ انگلینڈ اے کے مبارک جوئیہ نےعمدہ گیندیں کرواتے ہوئے 18 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں۔
دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ کی ٹیم نے عمیرالیون کو 54 رنز سے شکست دے دی۔ اس میچ کی خاص بات عمیر الیون کے ذیشان کا صرف 2 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کرنا جبکہ انگلینڈ کی ٹیم کے بلال نے 19 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں۔ Man of the Match کا اعزاز خالد ظفر نے حاصل کیا۔
امسال ٹورنامنٹ کا فائنل میچ Abbey Recreation Ground میں دوپہر کے بعد کھیلا گیا۔ یہ میچ دفاعی چیمپئن کینیڈا اور انگلینڈ کی ٹیموں کے مابین تھا۔ انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلتے ہوئے 7وکٹوں کے نقصان پر 121 رنز بنائے جس میں ظافر بٹ کے 45 رنز شامل تھے۔ کینیڈا کے انصر بھروانہ نے 4 اوورز میں 26 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ سکندر زبیر نے بھی 26 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ دوسری اننگ میں کینیڈا کی ٹیم کے اوپنرز شیراز اور انجم نے 3اوورز میں 35 رنز بناکر اپنی ٹیم کو مستحکم بنیاد مہیا کردی لیکن اس کے بعد انگلینڈ کی طرف سے وسیم احمد نے 4 اوورز میں صرف 8 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں اور اسی طرح خالد ظفر اور شاکر احمد نے 24، 24 رنز کے عوض دو دو وکٹیں حاصل کرکے کینیڈا کی ٹیم کے لئے شدید مشکلات پیدا کردیں۔ کچھ دیر کے لئے انگلینڈ کی ٹیم کا پلّہ بھاری نظر آتا تھا۔ تاہم کینیڈا کی ٹیم کے کیپٹن رضا رحمٰن (جو کینیڈا کی نیشنل کرکٹ ٹیم کے رُکن بھی ہیں) نے شاندار بلّے بازی کا مظاہرہ کیا اور کئی عمدہ شاٹس کھیلیں۔ میچ اُس وقت بہت دلچسپ رُخ اختیار کرچکا تھا جب کینیڈا کی ٹیم کو آخری اوور میں میچ جیتنے کے لئے 9 رنز درکار تھے۔ رضا نے آخری اوور کی پہلی دو گیندوں پر دو چوکے لگائے اور تیسری گیند پر ایک سکور کرکے فائنل میچ جیت لیا۔ رضا رحمٰن کا انفرادی سکور 47 رنز تھا، وہ ناٹ آؤٹ رہے اور Man of the Match بھی قرار پائے۔
2009 ء میں منعقد ہونے والا پہلا انٹرنیشنل مسرور T/20 کرکٹ ٹورنامنٹ جیتنے والی ٹیم بھی کینیڈا کی ہی تھی جبکہ جرمنی کی ٹیم دوسرے اور انگلینڈ بلیو تیسرے نمبر پر رہی تھی۔ 2010ء میں دوسرا ٹورنامنٹ جرمنی کی ٹیم نے انگلینڈ کی ٹیم کو ہراکر جیت لیا۔ 2011ء میں فائنل میچ میں کینیڈا کی ٹیم نے انگلینڈ کی ٹیم کو شکست دی۔ 2012ء میں کینیڈا کی ٹیم نے آسٹریلیا کی ٹیم کو ہراکر اپنا اعزاز برقرار رکھا۔ 2013ء میں انگلینڈ وائٹ نے امریکہ کو ہراکر پہلی بار یہ ٹورنامنٹ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا تھا اور 2014ء میں انگلینڈ اور کینیڈا کی ٹیموں کو مشترکہ طور پر ٹرافی کا حقدار قرار دیا گیا۔ 2015ء میں انگلینڈ نے جرمنی کو ہراکر یہ اعزاز مسلسل تیسری مرتبہ حاصل کیا۔ گزشتہ سال 2016ء میں کینیڈا کی ٹیم نے نے عمیر الیون کو ہراکر ٹرافی ایک بار پھر اپنے نام کرلی اور امسال 2017ء میں اپنے ٹائٹل کا کامیاب دفاع کرنے کا اعزاز حاصل کیا جبکہ انگلینڈ کی ٹیم دوسرے نمبر پر رہی جبکہ تیسری پوزیشن عمیرالیون نے حاصل کی۔ اس طرح کینیڈا کی ٹیم اب تک 9 میں سے 6 ٹورنامنٹ جیت کر نمایاں ہے۔
مکرم فہیم احمد بٹ صاحب نے حالیہ ٹورنامنٹ کے بعض کوائف بیان کرتے ہوئے بتایا کہ امسال پہلے ہی روز جرمنی کی ٹیم کے کھلاڑی حسنین کبیر نے ٹورنامنٹ کی تیزترین سنچری بنانے کا نیا ریکارڈقائم کیا تھا۔ انہوں نے 34 گیندوں پر اپنی سنچری سکور کی۔ اسی طرح انگلینڈ اے کے کپتان عمران نوری نے اس ٹورنامنٹ کی واحد ’’ہیٹ ٹرک‘‘ (Hat trick) بھی کی۔
امسال انفرادی طور پر نمایاں باؤلر کینیڈا کے انصربھروانہ رہے جنہوں نے مجموعی طور پر 18 اوورز میں 99 رنز دے کر 12 وکٹیں حاصل کیں۔ بہترین بلّے باز کا اعزاز جرمنی کے حسنین کبیر کو ملا جنہوں نے مجموعی طور پر 5 اننگز میں 207 رنز سکور کئے۔ بہترین فیلڈر ہونے کا اعزاز انگلینڈ کے شاکر احمد نے حاصل کیا۔ رضا رحمٰن آف کینیڈا کو ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جنہوںنے 6اننگز میں 205 رنز سکور کئے اور 23 اوورز میں 124 رنز دے کر 14 وکٹیں بھی حاصل کیں۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال پہلی مرتبہ مسرور کرکٹ ٹورنامنٹ کے چند منتخب میچوں اور اختتامی تقریب کی براہ راست کوریج (Live Streaming) شروع کی گئی تھی۔ امسال مکرم شیخ نصیر احمد صاحب نے اس شعبے کو مزید فعّال بنایا جس کے نتیجہ میں نہ صرف Live Streaming کی کوالٹی زیادہ بہتر ہوگئی بلکہ شائقین کی تعداد میں بھی قابل قدر اضافہ ہوا۔ چنانچہ YouTube چینل کے ذریعہ امسال فائنل میچ دیکھنے والوں کی تعداد 10620 رہی جبکہ ٹورنامنٹ کی Live Streaming سے استفادہ کرنے والوں کی کُل تعداد 20076 تھی۔ اسی طرح FaceBook کے ذریعہ فائنل میچ 95300 افراد نے دیکھا جبکہ ٹورنامنٹ کے حوالہ سے 2لاکھ 20 ہزار 137 افراد نے FaceBook سے استفادہ کیا۔
فائنل میچ کے دوران گراؤنڈ میں موجود شائقین کی تعداد قریباً چار ہزار تھی۔ گراؤنڈ کا ایک حصہ مارکی لگاکر خواتین کے لئے مخصوص کردیا گیا تھا۔
فائنل میچ شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد سیّدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بھی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ازراہ شفقت گراؤنڈ میں تشریف لے آئے اور سٹیج پر تشریف فرما ہوکر بقیہ میچ ملاحظہ فرمایا۔ اپنے آقا کی آمد کے ساتھ ہی شائقین کے علاوہ کھلاڑیوں میں بھی بھرپور ولولہ دیکھنے میں آیا۔ مورڈن اور ومبلڈن کے علاقوں میں رہنے والے بعض لوگ جو اپنے کمپیوٹرز پر Live Streamingکے ذریعہ میچ دیکھ رہے تھے وہ بھی حضورانور کی آمد کی اطلاع پاکر کشاں کشاں گراؤنڈ کی طرف کھچے چلے آئے۔
قریباً پونے سات بجے فائنل میچ کے اختتام پر اختتامی تقریب کا انعقاد ہوا۔ اس موقعہ پر ٹورنامنٹ میں شریک ہونے والی ٹیموں کے کھلاڑی سٹیج کے سامنے ترتیب سے کھڑے تھے۔ ہر ٹیم کے سامنے نصب تختی پر اُس ٹیم کا نام تحریر تھا۔
اختتامی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جس کے بعد مکرم مرزا عبدالرشید صاحب صدر مجلس صحت برطانیہ نے ٹورنامنٹ کی مختصر رپورٹ پیش کی۔ پھر حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ٹورنامنٹ میں اوّل آنے والی کینیڈا کی ٹیم کے کیپٹن رضارحمٰن کو ٹرافی عطا فرمائی۔ نیز پوزیشن حاصل کرنے والی دیگر ٹیموں اور انفرادی طور پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم فرمائے۔ اس کے علاوہ ٹورنامنٹ میں شامل ہونے والے تمام کھلاڑیوں اور آفیشلز کو یادگاری میڈلز سےبھی نوازا۔
نویں مسرور T20 کرکٹ ٹورنامنٹ 2017ء کی اس فائنل تقریب کا اختتام دعا کے ساتھ ہوا جو حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے کروائی۔ دعا کے بعد سیّدنا حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز واپس تشریف لے گئے۔
قارئین سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ٹورنامنٹ میں شمولیت کے لئے تشریف لانے والے تمام کھلاڑیوں، آفیشلز اور کارکنان کو جزائے خیر سے نوازے۔ اور اس ٹورنامنٹ کے بہترین نتائج ظاہر فرمائے۔ آمین

(نوٹ : رپورٹ میں تصاویر بھی شامل اشاعت ہیں)

پرنٹ
The short URL of the present article is: http://mahmoodmalik.zindgi.uk/vbzhj

نواں T20 انٹرنیشنل مسرور کرکٹ ٹورنامنٹ” ایک تبصرہ

  1. Aduerience نے کہا:

    Pression arterielle est comment dur votre sang pousse contre les parois de vos arteres lorsque votre coeur essence pompe le sang. Arteres sont les tubes qui transportent perseverent b gerer offre sang loin de votre coeur. Chaque temps votre manque de sensibilite bat, il pompe le sang par de vos arteres a la flanerie de votre corps.
    https://www.cialispascherfr24.com/cialis-vidal-prix/

اپنا تبصرہ بھیجیں