’’نشیمن‘‘

مجلس انصاراللہ برطانیہ کے رسالہ ’’انصارالدین‘‘ مئی جون 2011ء میں فرخ سلطان محمود کے قلم سے محترمہ امۃالباسط ایاز صاحبہ کی کتاب ’’نشیمن‘‘ کا تعارف شامل اشاعت ہے۔ اس دلچسپ کتاب میں مختصر لیکن نہایت سبق آموز اور ایمان افروز مضامین جمع کردیئے گئے ہیں۔ گویا جس طرح رنگ برنگے تنکوں، دھاگوں اور پھولوں کی پتیوں سے ایک پرندہ اپنا آشیانہ تعمیر کرتا ہے، اسی طرح مصنفہ نے نہایت قابلیت سے مختلف النوع کہانیوں کو ترتیب دے کر یہ نشیمن بنانے کی نہایت کامیاب کوشش کی ہے۔
علمی، ادبی، دینی اور معلوماتی مضامین کا یہ مجموعہ کئی سال پہلے شائع ہوا تھا اور اس میں مختلف النّوع دلچسپ مضامین میں سے بعض میں ایسے پہلوؤں کو مختلف انداز میں اجاگر کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے جن سے گھروں میں امن و سکون اور شادمانی کی فضا قائم ہوسکے۔ ایسے امور بھی بیان کئے گئے ہیں جنہیں مائیں اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہوئے پیش نظر رکھیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ اُن کی آئندہ نسل اُن کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گی۔ کئی بزرگوں کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کو احتیاط سے سپرد قلم کیا گیا ہے جو نہ صرف ایمان افروز ہیں بلکہ دوسروں کے لئے نمونہ بھی۔ بہت سے ایسے معلوماتی مضامین بھی اس میں شامل اشاعت ہیں جو گہرے ذاتی مشاہدات کا نتیجہ ہیں۔ مصنفہ نے اس کا انتساب اپنے بزرگ والد ’’خالد احمدیت‘‘ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے نام کیا ہے جو نہ صرف ایک عالم باعمل تھے بلکہ اُنہیں تقریر و تحریر میں بھی ایک خاص ملکہ حاصل تھا اور جن کی قلمی خدمات سے قیامت تک کی احمدی نسلیں فیضیاب ہوتی چلی جائیں گی۔
کتاب میں پچاس سے زیادہ مضامین شامل کئے گئے ہیں ۔ ذیل میں چند مضامین میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے۔
ز حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
کسی لڑکی کا نام جنت تھا۔ کسی شخص نے کہا کہ یہ نام اچھا نہیں کیونکہ بعض اوقات انسان آواز مارتا ہے کہ جنت گھر میں ہے؟ اور اگر وہ نہ ہو تو گویا اس سے ظاہر ہے کہ دوزخ ہی ہے یا کسی کا نام برکت ہو اور یہ کہا جائے کہ گھر میں برکت نہیں تو گویا نحوست ہوئی۔ یہ بات نہیں ہے۔ نام رکھنے سے کوئی حرج نہیں ہوتا اور اگر کوئی کہے کہ برکت اندر نہیں ہے تو مطلب یہ ہے کہ وہ اندر نہیں ہے نہ یہ کہ برکت نہیں ہے۔ یا اگر کہے کہ جنت نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنت نہیں ہے اور دوزخ ہے بلکہ یہ کہ وہ انسان اندر نہیں ہے جس کا نام جنت ہے۔ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ 180)
٭ بعض لوگ ناموں سے اس قدر متأثر ہوتے ہیں کہ کسی کو مصیبت میں دیکھ کر کہہ دیں گے کہ اپنا نام ہاجرہ سے بدل لو کیونکہ ہاجرہ ؑنے بڑے مصائب دیکھے تھے۔
٭ بچہ تو معصوم اور بے گناہ پیدا ہوتا ہے۔ نام کے بارہ میں وثوق سے یہ کہنا کہ سو فیصدی بچے پر اثر پڑتا ہے، یہ بات مانی نہیں جاسکتی۔ ورنہ دولت بی بی کو گھروں میں صفائی کرکے اپنا پیٹ نہ پالنا پڑتا۔
٭ Cook Islands میں کسی باپ کے ہاں پہلا بیٹا پیدا ہوا تو اُس کا نام رکھا گیا ’’آکاٹاکا ٹیموٹاٹا‘‘ یعنی Start of the Engine۔ ساری فیملی خوش تھی کہ یہ بہت اچھا نام ہے۔ ایک ملک Samoa Island کے ایک اخبار میں خبر چھپی کہ ہسپتال ڈیلیوری کے لئے جارہے تھے۔ رش کی وجہ سے بچہ گاڑی میں ہی پیدا ہوگیا تو ماں باپ نے اُس کا نام ’’آسولیاگا‘‘ رکھ لیا یعنی Bad Day۔ اسی طرح وہاں Sea Cucumber یعنی سمندری کھیرا اور Dog’s Eye یعنی کتے کی آنکھ جیسے نام بھی رکھ لیتے ہیں۔ ایک بچہ جو وقت سے پہلے پیدا ہوگیا اُس کا نام ’’ٹانے آؤنا‘‘ یعنی Had to come tomorrow رکھ دیا گیا۔ ایک لڑکی کا نام رکھنا تھا، باپ فون کے پاس بیٹھا تھا، اُس کا نام ٹیلیفون ہی رکھ دیا گیا۔ یہ سب کچھ میرے مشاہدے میں ہے۔
٭ جزیرہ طوالو پر ایک بچی کا نام تھا ’’لوئی ماتا‘‘ یعنی آنسو۔ وجہ یہ تھی کہ اُس کے پیدا ہونے پر ماں مرگئی تھی اور سب رو رہے تھے۔ جب نام تجویز کرنے کا خیال آیا تو یہی نام مناسب معلوم ہوا۔
٭ مشرقی افریقہ میں ایک ہمارا ملازم تھا جس کا نام ہی Christian تھا۔ کئی بچوں کا نام ہفتے کے مختلف دنوں پر رکھا ہوا بھی نظر آیا۔ یعنی جس دن بچہ پیدا ہوا وہی دن اُس کا نام بن گیا۔ اسی طرح مہینوں کے ناموں پر نام رکھنا بھی کوئی تعجب کی بات نہیں۔
٭ نیوزی لینڈ میں بھی کسی کے نام کی کوئی اہمیت نہیں۔ کسی کے ہاں دو بیٹیاں پیدا ہوں تو ایک کا نام پاؤنڈی اور دوسری کا شلنگ رکھ لیا۔ کسی بستی میں جڑواں بچے پیدا ہوئے تو باپ نے سمندر میں سے گزرتے ہوئے دو بحری جہازوں کے نام اپنے بیٹوں کو دیدیئے۔ طوالو اور ٹونگا جزائر میں تو بعض لوگوں نے بچوں کو گنتی کے نام بھی دے رکھے ہیں۔ یعنی پہلے کا نام ایک دوسرے کا دو تیسرے کا تین ۔
کبھی کبھی تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد جو چیز پہلے نظر آئی وہی بچے کا نام بھی بن گئی۔
٭ یورپ میں کتوں، بلوں اور پرندوں کے علاوہ دکانوں کے بھی عجیب و غریب نام دیکھنے میں آتے ہیں۔ برطانیہ میں شاپنگ سینٹر Sainsbury دراصل ایک شخص کا نام ہے جس نے اِس سٹور کا آغاز کیا۔ اسی طرح JhonLouis اور Lipstick بھی لندن میں دکانوں کے نام ہیں۔
٭ ہمارے معاشرہ میں بچہ کو اچھا بامعنی نام دینے کا رواج ہے تاکہ اُس کے اچھے اثرات بچے کی ساری زندگی میں نظر آسکیں۔ ایک بار کسی نے MTA پر ہی حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ سے اپنے نام کی تبدیلی کی درخواست کی جو حضور رحمہ اللہ نے منظور فرمائی اور نیا نام بھی تجویز فرمادیا۔
٭ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسمائے حسنیٰ ہی بہترین اور مبارک نام ہیں۔طوالو میں جب پہلے عیسائی نے احمدیت قبول کی تو حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ نے اُس کا نام عبدالاوّل رکھا۔ پاکستان میں بھی ایک خاندان میں جب چھٹی بیٹی کا نام رکھنے کے لئے حضورؒ سے درخواست کی گئی تو اُسے امۃالآخر کا نام عطا ہوا۔ مذکورہ دونوں ناموں سے ان کی برکت ہی مقصود تھی۔
٭ حضورؒ نے ایک بار ہومیوپیتھی ناموں سے متعلق یہ دلچسپ بات بھی بتائی کہ ایک بچی جس کو سلیشیا موافق آتی تھی، اُس کو اسی نام سے بلاتے تھے اور دوسری بہن کو برائیونیا کے نام سے بلاتے تھے۔
٭ بعض خاندانوں میں اوپرتلے تین چار بیٹیوں کی پیدائش پر بیٹے کی خواہش قدرتی امر ہے۔ ایک فیملی نے چوتھی بیٹی کا نام بشریٰ رکھ لیا کہ اب کی بار بیٹا ہی ہوگا مگر پھر بیٹی ہوگئی تو اُس کا نام بھی بشریٰ ہی رکھ دیا۔ چونکہ دونوں کے نام ایک ہی تھے اس لئے ایک کے ساتھ بڑی اور دوسری کے ساتھ چھوٹی کا اضافہ کرکے اُنہیں بلایا جاتا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے دو بیٹے بھی عطا فرمائے۔
ز نیوزی لینڈ آسٹریلیا سے 1600 کلومیٹر جنوب مشرق میں ہے۔ کُل آبادی 33 لاکھ ہے۔ یہاں پہلے پہل پولی نیشن لوگ آئے۔ جلد بعد عیسائی مشنری 1814ء میں پہنچے۔ سب سے پہلے ایک شخص Kupe تھا جس نے اس ملک کو دریافت کیا اور اسے Aoteora کا نام دیا یعنی Land of long white cloud۔ بعض مؤرخین نے کیپٹن کُک کو یہ اعزاز دیا کہ اُس نے یہ ملک دریافت کیا ہے کیونکہ دارالحکومت ولنگٹن میں ملک کا سب سے بڑا پہاڑ بھی Mount Cook کہلاتا ہے۔ یہ پہاڑ اتنا بڑا ہے کہ سارا سوئٹزرلینڈ اس پہاڑ میں چھپ جائے۔
آک لینڈ شہر تجارت کے لئے بڑا مشہور ہے جو جہازوں اور کشتیوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔ اس شہر کو City of Sail بھی کہتے ہیں۔ کشتی قریباً ہر شخص کے پا س ہوتی ہے جسے وہ اپنی مقررہ جگہ پارک کرتا ہے۔ غلط پارکنگ پر جرمانہ کے علاوہ کشتی چلانے کا لائسنس بھی ضبط کرلیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی کشتی چور کشتیاں چرا بھی لیتے ہیں جنہیں بعض اوقات پولیس بازیاب بھی کروالیتی ہے۔ کشتی رانی اور مچھلی پکڑنے کے مقابلے یہاں کے پسندیدہ کھیل ہیں۔
ملک کی شروع کی آبادی میں عیسائیوں نے اپنی تعلیم کے لئے چرچ بناکر صرف عیسائیت کی تعلیم دینی شروع کی لیکن بعد میں ان کے اپنے قبائل کے سرداروں نے اپنی مذہبی تعلیم کو رائج کرنا ضروری سمجھا اور اپنے الگ الگ گرجے بنائے اور عبادتگاہیں بنائیں جن کو Marai کہتے ہیں۔ ان کے اعتقاد میں روحوں کا زندہ انسانوں سے باتیں کرنا بہت یقینی حد تک پہنچ گیا ہے۔ یہ توہّم پرست لوگ ہیں۔
ز یہ کہانی شہر مکہ سے شروع ہوتی ہے جہاں ایک غریب نوجوان رہتا تھا جس کا نام ابوبکر محمد تھا۔ یہ نوجوان اس قدر غریب تھا کہ کئی کئی وقت کھانے کو روٹی نہ ملتی تھی لیکن ایماندار اور نیک اس قدر تھا کہ کسی کی چیز کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی نہ دیکھتا تھا۔ ایک دن اُسے بازار میں کسی کی گری ہوئی پوٹلی دکھائی دی۔ اُس نے اُسے کھول کر دیکھا تو اندر سے ایک قیمتی ہار نکلا جو کسی امیر عورت کا معلوم ہوتا تھا۔ یہ نوجوان اِس ہار کو فروخت کرکے امیر بن سکتا تھا لیکن اسلامی تعلیم کے مطابق اُسے اِس ہار کے مالک کو تلاش کرنا تھا اور کم از کم ایک سال تک اسے بطور امانت اپنے پاس رکھنا تھا۔ تاہم ہار کا مالک جو ایک شریف بوڑھا تھا، اُسے جلد ہی مل گیا جس نے ہار کی نشانیاں بتاکر وہ ہار ابوبکر محمد سے حاصل کیا اور انعام کے طور پر چند اشرفیاں اُسے دینا چاہیں۔ لیکن ابوبکر محمد اگرچہ اُس وقت بے حد ضرورتمند تھا لیکن اُس نے اشرفیاں لینے سے انکار کردیا۔
کچھ عرصہ بعد ابوبکر محمد نے اپنی غربت سے تنگ آکر کسی دوسرے ملک میں جاکر قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ ایک روز وہ کشتی میں سوار ہوکر روانہ ہوا لیکن دوران سفر ایک طوفان نے اس کشتی کو تباہ کردیا۔ ابوبکر محمد نے بھی ٹوٹی ہوئی کشتی کا ایک تختہ پکڑلیا۔ چند نوجوان کسی نہ کسی طرح تیرتے ہوئے تختوں کی مدد سے ایک قریبی جزیرے پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے جن میں ابوبکر محمد بھی شامل تھا۔ جزیرے والوں نے ان کا بہت خیال رکھا اور جلد ہی ابوبکر محمد اپنی محنت اور دیانت سے باعزت زندگی گزارنے کے قابل ہوگیا۔ پھر اُس کی خوبیوں کو دیکھتے ہوئے وہاں کے لوگوں نے آپس میں مشورہ کیا اور چند بوڑھے اُس کے پاس آکر کہنے لگے کہ ہمارے جزیرہ میں ایک بہت ہی نیک انسان رہتا تھا، کچھ ہی دن ہوئے اس کا انتقال ہوا ہے اور اب اُس کی اکلوتی بیٹی جو خوبصورت اور سلیقہ مند ہے، اکیلی رہ گئی ہے، اگر آپ پسند کریں تو آپ کا نکاح اُس کے ساتھ کردیا جائے۔
ابوبکر محمد کی رضامندی سے اُس کا نکاح اُس لڑکی سے ہوگیا۔ شادی کے بعد اُس نے اپنی بیوی کو دیکھا تو حیرت سے اُس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس لئے کہ اُس نے اپنے گلے میں وہی ہار پہن رکھا تھا جو مکہ کے بازار میں ابوبکر محمد کو ملا تھا۔ اُس کے پوچھنے پر بیوی نے بتایا کہ یہ ہار میرے اباجان نے میرے لئے خریدا تھا۔ اُس نے اس ہار کی گمشدگی اور پھر ملنے کا قصہ بھی سنایا اور بتایا کہ جس ایماندار نوجوان نے یہ ہار واپس کیا تھا، میرے والد ہمیشہ اُسے دعاؤں میں یاد رکھتے تھے ۔ ابوبکر یہ سن کر سوچنے لگا کہ شاید انہوںنے یہ دعا بھی کی ہو کہ وہ نوجوان اس بیٹی کا نصیب بن جائے۔ پھر اُس نے سارا واقعہ اپنی بیوی کو بتایا۔ بعد میں یہی ابوبکر محمد بہت بڑا عالم بنا اور تاریخ میں اُن کا نام قاضی ابوبکر محمد بن عبدالباقی انصاری کے طور پر محفوظ چلا آتا ہے۔

پرنٹ کریں
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [http://mahmoodmalik.zindgi.uk/nxpj6]

اپنا تبصرہ بھیجیں